Muhammad shafi Tabassum

Muhammad shafi Tabassum general

27/10/2025

Celebrating my 2nd year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

ماشاءاللہ آ ج حضرت خواجہ غلام فرید آ ف کوٹ مٹھن کا سالانہ عرس مبارک شروع ہو گیا ہے جو بروز جمعہ المبارک جاری رہے گا سوان...
09/10/2024

ماشاءاللہ آ ج حضرت خواجہ غلام فرید آ ف کوٹ مٹھن کا سالانہ عرس مبارک شروع ہو گیا ہے جو بروز جمعہ المبارک جاری رہے گا
سوانح حیات مبارک
سلطان العاشقین ، شاعر ہفت زباں
حضرت خواجہ غلام فرید چاچڑوی چشتی رحمتہ اللہ علیہ

خصوصی اشاعت بسلسلہ عرس مبارک ، یوم وصال 7 ربیع الثانی

آپ کا اسم گرامی غلام فرید لقب حاجی پیر غریب نواز ، سلطان العاشقین تخلص فرید آپ کے والد محترم کا اسم گرامی حضرت خواجہ خدا بخش رحمتہ اللہ علیہ اور دادا محترم کا اسم گرامی حضرت خواجہ احمد علی رحمتہ اللہ علیہ (حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی رحمتہ اللہ علیہ کے استاد محترم)

حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت 23 ذوالحجہ 1261ھ بمطابق 26 نومبر 1845ء بروز منگل کو بہاولپور کے قصبہ چاچڑاں شریف میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے خاندان کا شجرہ نسب حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جا ملتا ہے
آپ کا خاندان برصغیر پاک و ہند میں کوریجہ مشہور ہوا آپ سے پہلے 34 پشتوں کے بعد آپکا نسب حضرت سیدنا امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے

حضرت خواجہ غلام فرید قدس سرہ
بن
حضرت خواجہ خدا بخش قدس سرہ
بن
حضرت خواجہ احمد علی قدس سرہ
بن
حضرت خواجہ قاضی محمد عاقل قدس سرہ
بن
حضرت مخدوم محمد شریف قدس سرہ
بن
حضرت مخدوم محمد یعقوب قدس سرہ
بن
حضرت مخدوم نور محمد قدس سرہ
بن
حضرت مخدوم محمد زکریا قدس سرہ
بن
حضرت شیخ حسین قدس سرہ
بن
حضرت شیخ پریا قدس سرہ
بن
حضرت حاجی قدس سرہ
بن
حضرت شیخ نونند قدس سرہ
بن
حضرت شیخ حاجی قدس سرہ
بن
حضرت شیخ صدرالدین قدس سرہ
بن
حضرت شیخ حاجی فضل اللہ قدس سرہ
بن
حضرت شیخ پریا قدس سرہ
بن
حضرت شیخ حسین قدس سرہ
بن
حضرت شیخ محمد قدس سرہ
بن
حضرت شیخ محسن قدس سرہ
بن
حضرت شیخ موسے قدس سرہ
بن
حضرت شیخ زید قدس سرہ
بن
حضرت شیخ ناصر قدس سرہ
بن
حضرت شیخ حسن قدس سرہ
بن
حضرت شیخ یوسف قدس سرہ
بن
حضرت عیسے قدس سرہ
بن
حضرت احمد قدس سرہ
بن
حضرت محمد قدس سرہ
بن
حضرت عبداللہ قدس سرہ
بن
حضرت منصور قدس سرہ
بن
حضرت مالک قدس سرہ
بن
حضرت یحیی قدس سرہ
بن
حضرت محمد قدس سرہ
بن
حضرت سلیمان قدس سرہ
بن
حضرت ناصر قدس سرہ
بن
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ
بن
حضرت امیرالمومنین سیدنا عمرفاروق ابن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ

حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ چار برس کے ہوئے تو آپ کی والدہ کا انتقال ہو گیا اور جب آپ کی عمر آٹھ برس ہوئی تو آپ کے والد بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے-
آپ نے قرآن کی تعلیم میاں صدرالدین اور میاں محمد محمد بخش سے حاصل کی ، آپ نے فارسی کی تعلیم میاں حافظ خواجہ جی اور میاں احمد یار خواجہ سے حاصل کی ۔

حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کے بزرگوں کے ایک مرید مٹھن خان جتوئی تھے ، جس کے نام سے قصبہ مٹھن کوٹ آباد ہوا ۔ جب مٹھن کوٹ پر قابض پنجاب کے سکھ حاکم مسلمانوں کو تنگ کرنے لگے تو آپ کے والد حضرت خواجہ خدا بخش اپنے خاندان کے ساتھ مٹھن کوٹ سے چاچڑاں شریف ، ریاست بہاول پور منتقل ہو گئے ۔
جب آپٌ نواب آف بہاول پور جس کانام نواب فتح محمد جو کہ آپٌ کے والد کے مرید خاص بھی تھے کے پاس رہائش پذیر تھے تو وہاں پر بھی اساتذہ کرام موجود رہتے تھے جو آپ کو تعلیم دیتے تھے- آپ شاہی محل میں تقریبا" چار سال رہے-
جب حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ تیرہ برس کے ہوئے تو آپٌ نے اپنے بڑے بھائی حضرت فخر جہاں رحمتہ اللہ علیہ کے دست اقدس پہ مرید ہوئے ۔ جب آپ کی عمر 27 برس تھی تو اس وقت آپ کے مرشد اور بڑے بھائی حضرت فخر جہاں کا انتقال ہو گیا پھر آپٌ سجادہ نشین بنے ۔
حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ بڑے سخی تھے ، آپ کے لنگر کا روزانہ کا خرچہ 12 من چاول اور 8 من گندم تھا- تقریبا" 100 سے 500 آدمی ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے تھے- آپ کے پاس جو کچھ آتا سب شام تک غرباء و مساکین میں بانٹ دیتے تھے-
جب آپٌ نواب صاحب کے ہاں دعوت پر جاتے تو نواب صاحب آپٌ کو آتے وقت پچیس تیس ہزار اور وہاں سے روانہ ہوتے وقت بھی تیس چالیس ہزار پیش کرتے- اتنی نذر نیاز حاصل ہوتے ہوئے بھی جب آپ چاچڑاں شریف آتے تو اکثر اوقات خرچ کے لیے قرض لے کر آتے-
حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کی جاگیر سے سالانہ آمدنی 35 ہزار روپے تھی ، آپٌ انتہائی سادہ تھے- آپٌ دن میں گندم کی ایک روٹی کھاتے اور رات کو گائے کا دودھ پیتے تھے ۔
حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ 18 برس روہی ( چولستان ) میں رہے- آپ ٌ نے اپنے مرید خاص نواب آف بہاولپور جس کا نام نواب صادق محمد رابع عباسی تھا کو نصیحت کی تھی کہ" زیر تھی ، زبر نہ بن ، متاں پیش امدی ہووی "
یعنی نرمی اختیار کرو ، سختی نہ کیا کرو ، ورنہ اللہ تعالٰی تم پر بھی سختی کر سکتے ہیں ۔

حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کو سات زبانوں پہ عبور حاصل تھا آپ نے شاعری بھی کی، اور آپ کا زیادہ تر کلام سرائیکی زبان میں ہے- جس کا نام " دیوان فرید " ہے اس کے علاوہ اردو ، عربی ، فارسی ، پوربی ، سندھی اور ہندی میں شاعری بھی کی ہے- اور آپٌ کا اردو دیوان بھی موجود ہے- آپٌ کے سرائیکی دیوان میں 272 کافیاں ہیں ۔

حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کے ارشادات
● اہل بیت سے مراد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اذواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنھن اور گھر کے دیگر افراد ۔
● شان و شوکت حق تعالیٰ کو زیب دیتی ہے کیونکہ کبریائی اس کی صفت ہے ۔
● عشق کی علامات واضح ہیں جسے یہ لاحق ہو جائے دکھ درد کا ایک ہجوم اس کے گرد جمع ہوجاتا ہے اور وہ کمزور پڑ جاتا ہے ۔
● عشق حقیقی تمام لذتوں کو بے مزہ کر دیتا ہے ۔
● میری رسوائی ہی شہرت کا باعث بنی ۔
● اے عاشق ! جان لے کہ محبوب حقیقی ہر جگہ موجود ہے ۔
● دنیا فانی اور عارضی قیام کی اک سرائے ہے ۔
● محبت کے ایک دکھ نے خوشی کے سینکڑوں مواقع ضائع کردیے ۔
● جب معشوق کا وصال ہو جاتا ہے اس وقت عشق کا ذوق اور اضطراب جاتا رہتا ہے ۔
● شیخ کی امداد اور اعانت سے ہی ہدایت و معرفت حاصل ہوتی ہے ۔
● ذات حق بے انتہا ہے اور اس کی تجلیات بھی لامحدود ہیں ۔
● ذات حق کے سوا کوئی اور وجود دیکھنا میرے لئے محال ہے اور چاروں جانب اسی کا حسن جمال چھایا ہوا ہے ۔
● عیب پوشی مردان خدا کا کام ہے ۔
● عشق دکھی دلوں کےلئے راحت کا سامان ہے ۔
● عشق کی منازل سخت اور مشکل ہیں اس کے راستے چکر دار اور فاصلے لمبے ہیں ۔
● عاشق کی روح ہمیشہ بے قرار اور اس کی آنکھیں آنسووں سے لبریز رہتی ہیں جب کہ اس کا دل عشق کی آگ سے جلتا رہتا ہے ۔
● عشق غضب کی اگ ہے جو جلا کر راکھ کر دیتی ہے ۔
● اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں وہ ضرور وصال محبوب کے اسباب پیدا کردے گا ۔
● وحدت ایک ایسا دریا ہے جو ختم نہیں ہوتا ۔
● دنیا کی بے شمار اشیاء کی مثال ایسی ہی ہے جس طرح بہتے دریا پر پانی کے بلبلے بنتے اور پھٹتے ہیں ۔

حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے وصال کے وقت تین حسرتوں ک اظہار کیا تھا-
(1) کاش کوئی مجھ سے کہتا فرید مجھے راستہ بتاو.
(2) کاش کوئی مجھ سے یکمشت ایک لاکھ روپے طلب کرتا .
(3) کاش کوئی مجھ سے کہتا فرید مجھے پانی پلاو
وفات کے وقت کلمہ شہادت سے پہلے حضرت خواجہ غلام فریدٌ نے کافی کا یہ بند پڑھا .
ٔآیا وقت فرید چلن دا
گزریا ویلھا کھلن ہسن دا
اوکھا پیندا یار ملن دا
جان لباں تے آندی اے

حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا وصال چاچڑاں شریف میں 7 ربیع الثانی 1319ھ بمطابق 24 جولائی 1901ء بروز بدھ کو ہوا اس وقت آپٌ کی عمر 56 برس تھی.
آپٌ کا ایک بیٹا حضرت خواجہ محمد بخش عرف نازک کریم اور ایک بیٹی تھیں
آپ کا مزار اقدس روضہ مبارک حضرت قاضی الحاجات خواجہ محمد عاقل رحمتہ اللہ علیہ کے اندر واقع ہے جو کہ کوٹ مٹھن شریف ( ضلع راجن پور ) میں موجود ہے ہر سال 5۔6۔7 ربیع الثانی کو آپ کا سالانہ عرس عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے .

الحمدللہ علیٰ ذلک

ماخذ کتاب ہفت اقطاب ، مقابیس المجالس ، حیات و تعلیمات حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ ، سیرت حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ ۔

طالب دعا

ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگیمیں ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھاانسان کے بنیادی طور پر دو لباس ہوتے ہیں. لباسِ حقیقت ما...
03/02/2024

ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی
میں ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا

انسان کے بنیادی طور پر دو لباس ہوتے ہیں. لباسِ حقیقت مادی معنوں میں ہوتا ہے. جو لباس انسان کی برائی اور ناپسندیدہ اعمال کو چھپا نہ سکے وہ لباسِ حقیقت ہوتا ہے. لباسِ حقیقت میں ہر ایک حال میں انسان کے وجود کا ننگ ظاہر ہوتا ہے. اس کے خمیر میں شامل شر موجود رہتا ہے. انسان لباسِ حقیقت میں اس وقت تک رہتا ہے جب تک وہ خالق سے دُور رہتا ہے اور اسے خالق کی پہچان نہیں ہوتی.
لباسِ مجاز ظاہر سے بعید لباس کو کہتے ہیں. لباسِ مجاز روحانی، غیر جسمانی، مقدّس اور پاکی کے معنوں میں ہوتا ہے. انسان جب اس لباس کو پہن لیتا ہے تو اسے خالق کی پہچان ہو جاتی ہے. انسان جب خالق کو پہچان لیتا ہے تو خالق کی قربت حاصل کر لیتا ہے جس کی وجہ سے اس کی ساری برائیاں اور خامیاں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں. اس لباس کو حاصل کرنے کے لیے انسان کو اپنے آپ کو مارنا ہوتا ہے. اپنے وجود کی نفی کرنا ہوتی ہے. اپنی اَنا، اپنی ذات اور شخصیت میں موجود خودی اور غرور کو ختم کرنا ہوتا ہے.
غالب نے لباسِ مجاز کو انسان کے مادی وجود کا کفن کہا ہے. فرماتے ہیں کہ جب تک میں نے اپنے ظاہری وجود کی نفی نہیں کی تھی، اپنی اَنا اور اپنی ذات کو مقدم رکھا تھا، میرے وجود کا ننگ موجود تھا یعنی شرمساری میرے وجود میں شامل تھی. جب میں نے اپنی اَنا، اپنی ذات، اپنی خودی اور اپنے غرور کو کفن پہنا دیا تو مجھے خالق و مالک کا عرفان حاصل ہو گیا. خالق نے مجھے لباسِ مجاز سے نواز دیا.

وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہویہ کناروں سے کھیلنے والے ڈوب جائیں توکیا تماشا ہوبندہ پرور جو ہم پہ...
31/01/2024

وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو
ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو

یہ کناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں توکیا تماشا ہو

بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے
ہم بتائیں توکیا تماشا ہو

آج ہم بھی تری وفاؤں پر
مسکرائیں توکیا تماشا ہو

تیری صورت جو اتفاق سے ہم
بھول جائیں توکیا تماشا ہو

وقت کی چند ساعتیں ساغر
لوٹ آئیں توکیا تماشا ہو

ساغر صدیقی

تم جو ہوتے تو ہمیں کتنا سہارا ہوتاہم نے اوروں کو نہ یوں دکھ میں پکارا ہوتاجتنی شدت سے میں وابستہ تھا تم سے فرحتکس طرح می...
30/01/2024

تم جو ہوتے تو ہمیں کتنا سہارا ہوتا
ہم نے اوروں کو نہ یوں دکھ میں پکارا ہوتا

جتنی شدت سے میں وابستہ تھا تم سے فرحت
کس طرح میرا ترے بعد گزارا ہوتا

مجھ کو یہ سوچ ہی کافی ہے جلانے کے لیے
میں نہ ہوتا تو کوئی اور تمہارا ہوتا

اور ہم بیٹھ کے خاموشی سے روئے جاتے
شام ہوتی، کسی دریا کا کنارا ہوتا

دل سے دیکھی نہیں جاتی تھی خموشی گھر کی
کس طرح اجڑا ہوا شہر گوارا ہوتا

چاند ہوتا کہ مری جان ستارہ ہوتا
ہم نے اک تیرے سوا دل سے اتارا ہوتا

تو نے سوچا ہے کبھی کتنا محبت کے بغیر
روح فرسا دل ویراں کا نظارا ہوتا

بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھناپروین شاکربادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا ...
28/01/2024

بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا
پروین شاکر

بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا
میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا

یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اس سے مگر
جاتے جاتے اس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا

کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند
اے شب ہجراں ذرا اپنا ستارہ دیکھنا

کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے
ان ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا

جب بنام دل گواہی سر کی مانگی جائے گی
خون میں ڈوبا ہوا پرچم ہمارا دیکھنا

جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے
ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا

آئنے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے
جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمہارا دیکھنا

ایک مشت خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے
زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا ..........................

28/01/2024

وہ خوشی تھا، امید تھا، اک احساس تھا !!!
بعد میں یہ گمان ہوا بس پل دو پل کا ساتھ تھا

رہتا ہے آج بھی انتظار اِس آنکھ کو کسی اپنے کا
وہ جا کر آج بھی ساتھ ہے جو کبھی ہمارے پاس تھا

حیرت ہے آج پھر سے وہی لوگ رو دیئے!جِن کو وصالِ یار سے سکھ بارہا مِلے!!ماتھے کو چوم لو، مری خوشبو سنبھال لو!ممکن ہے کل کی...
26/01/2024

حیرت ہے آج پھر سے وہی لوگ رو دیئے!
جِن کو وصالِ یار سے سکھ بارہا مِلے!!
ماتھے کو چوم لو، مری خوشبو سنبھال لو!
ممکن ہے کل کی صبح مری آنکھ نہ کُھلے!!
ایسا بھی کیا کہ سب ہی کہیں عمر ہو دراز!
تُجھ سے بچھڑ کے کوئی بتا کتنا اب جیے!!
آنکھوں پہ یہ سراب ہے یا کوئی اور چیز!
وہ ہو تو میرے پاس مگر دُور سا لگے!
جو تُم نے کر دیا ہے ہماری وفا کے ساتھ!
اب تو تُمہارے حق میں خُدا خیر ہی کرے!!

Address

Minchinabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad shafi Tabassum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Muhammad shafi Tabassum:

Shortcuts

Share