05/07/2026
خامنہ ای کی لاش پہ عزت پاتا ایران۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای جنگ کے دوسرے دن اور دشمن کے پہلے ہی باقاعدہ حملے میں شہید ہو جاتے ہیں۔خاندان کے بہت سے افراد بھی گزر جاتے ہیں۔ایران سوگ میں ڈوب جاتا ہے۔دشمن خوشیاں مناتا ہے۔
ایران دکھی ہو جاتا ہے مگر صف ماتم نہیں بچھاتا۔قیادت فیصلہ کرتی ہے کہ آیت اللّه کو ابھی دفن نہیں کیا جاۓ گا۔ان کا جنازہ نہیں پڑھا جاۓ گا۔ان کے اور بہت سے کمانڈر اور لیڈر شہید ہوتے ہیں مگر ان کو دفن کر دیا جاتا ہے۔خامنہ ای کا جسد خاکی موجود رہتا ہے۔
شائد اس یقین کے ساتھ کہ ہم ایک دن فتح پا لیں گے اور رہبر کو کھلی فضا میں پورے غرور کے ساتھ خدا کے حوالے کریں گے۔یا شائد اس لیے کہ لڑتے جوانوں کو یاد رہے کہ دشمن نے ہمارا رہبر مارا ہے۔ یا شائد اس لیے کہ غم سے کشید کی گئی دلیری کے سامنے کوئی نہیں ٹک سکتا۔
اب ایران خامنہ ای کے جنازے کا اہتمام کر رہا ہے۔سو سے زیادہ ملکوں کے وفود، حکمران، تمام مسالک اور مذاہب کے نمائندگان،شعیہ، سنی، سکھ، عیسائی،یہودی، ہندو،بدھ مت خامنہ ای کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئیے ایران آرہے ہیں۔
وہ ایران جسے تنہا کرنے کے لئیے سپرپاور سمیت طاقتوروں نے پورا زور لگا لیا۔ اسے ایک مظلوم بزرگ کی لاش نے فتح دلا دی۔ آج پوری دنیا ایرانیوں کے سوگ اور فتح کے جشن میں شریک ہو رہی ہے۔
30/06/2026
آنکھیں حسِین لگتی ہیں اپنے مقام پہ
ماتھے پر آ گئیں تو کسی کام کی نہیں
09/06/2026
حاسدین عزیز، رشتہ دار جو گھر کا مضبوط فرد ہوتا ہے سب سے پہلے اسے گراتے ہیں!!!
09/06/2026
میں انسانی خواہشات کی تہہ تک گیا، میں نے دیکھا کہ جو بھی جس کے پاس ہے، اُسے اُس سے گِلہ ہے۔...🖤🙌
08/06/2026
لڑکیاں قبرستان نہیں جاتیں !
محترمہ رابعہ خرم درانی کی ایک ایسی تحریر جسے پڑھ کے آنکھیں بھیگ گئیں😭😭
مجھے بچپن ہی سے پتہ چل گیا کہ لڑکیاں قبرستان نہیں جاتیں۔جب میں نے اپنی ماں کو گاڑی میں بیٹھے بیٹھے فاتحہ پڑھتے دیکھا۔ ۔ ہم بچے تھے والدین کے ساتھ ددھیالی شہر قصور جاتے۔ ددھیالی گھر آنے سے پہلے رستے میں قبرستان آتا تھا جہاں دادی اماں اور دیگر عزیزوں کی قبریں تھیں وقت کے ساتھ ساتھ دادا تایا چچا اور چچی کی قبروں کا اضافہ ہوا ۔ قبرستان کے درمیان سے سڑک گزرتی تھی بالکل لاہور کے میانی صاحب کی طرح درمیان میں سڑک چل رہی ہے اور دائیں بائیں شہر خموشاں کی حدود ہیں۔ امی باآواز بلند "السلام علیکم یااہل القبور " پڑھتیں اور ہم سب دہرایا کرتے ۔
ابو راستے میں سائیڈ پر کار پارک کر دیتے ۔ دونوں بھائی ابو کے ساتھ کار سے اترتے اور سب سے پہلے جنت آشیانی دادی اماں کی قبر پر حاضری دیتے ۔ فاتحہ درود و سلام کے بعد باری باری تمام قبور پر حاضری ہوتی ۔ امی ڈھکے سر کے ساتھ کار میں ہی دعا و فاتحہ پڑھتیں۔ ہم چھوٹی چھوٹی بچیاں ڈوپٹہ نہیں لیتی تھیں لیکن قبرستان سے گزرتے ہوئے سر ڈھانپنا اور باادب خاموشی ہمیں سکھائی گئی تھی ۔ سو امی دعا کرتیں ہم ابو اور بھائیوں کو دیکھتے رہتے ۔ کیونکہ قبور بلندی پر ہیں اور سڑک گہرائی میں تو قبرستان باونڈری وال سے اونچا ہونے کی وجہ سے تمام نقل و حرکت واضح نظر آتی ۔
ایک دفعہ میں نے ابو سے پوچھا کہ آپ پہلے یہاں کیوں رکتے ہیں گھر کیوں نہیں جاتے بعد میں چچا کے ساتھ آ جایا کریں تو ابو نے کہا پہلے میں اپنی والدہ سے ملتا ہوں دعا لیتا ہوں پھر گھر جاتا ہوں
دوران سفر جتنی بھی طویل مسافت کیوں نہ ہوتی اگر راستے میں جنازہ نظر آ جاتا تو ابو کار روک دیتے ۔ دونوں بھائیوں کو ساتھ لیتے۔سر پر رومال باندھتے اور چالیس قدم تک جنازے کو کندھا دیتے ۔ اب یاد کر رہی ہوں تو کسی بالکل اجنبی مسلم کے جنازے کے سر والی بائیں سائیڈ کا بانس ابو کے بائیں کندھے پر نظر آ رہا ہے ۔ بھائی بھی چھوٹے تھے جزبز ہوتے گرمی سے ۔دھوپ سے یا تھکن سے تو امی پیار سے سمجھاتیں بیٹا یہ ایک مسلمان بھائی کا دوسرے مسلمان بھائی پر حق ہے ۔ جائیں بھائی کا حق انہیں دے کے آئیں۔
چالیس قدم کے بعد ابو اور بھائی واپس آتے امی تینوں کو باری باری واٹر کولر سے پانی پلاتیں اور دیر تک بھید بھری چپ کے ساتھ سفر طے کیا جاتا ۔
زندگی یونہی چلتی رہی قبرستان جانا میرے لیے ایک مکمل طور پر منع شدہ امر تھا جب تک میڈیکل کالج میں داخل نہ ہوئی ۔
میڈیکل کالج کے پہلے ہی دن ہماری تعلیم کی ابتدا ایک اہسے قبرستان میں ہوئی جہاں نعشیں قبور کے اندر نہیں بلکہ ٹیبلز کے اوپر موجود تھیں ۔ لیکن مجھے وہاں یہ بات کبھی یاد نہیں آئی کہ لڑکیاں قبرستان نہیں جاتیں اور مغرب کے بعد قبرستان جانا مکمل منع ہے ۔ وہ کالج تھا اور نعشیں ، باڈیز یا "کےڈےورز " کہلاتی تھیں ایناٹومی ہال جیتے جاگتے سفید اوور آل پہنے نوجوان، پر امید میڈیکل اسٹوڈنٹس سے بھرا ہوتا ہاں چند بےسانس نفوس بھی وہیں سفید چادروں میں لپٹے، لیٹے ہوتے یا شیشے کے مرتبانوں میں پائے جاتے ۔ کسی کا بازو کسی کے ہاتھ میں ہوتا تو کسی کی کھوپڑی کوئی لے کے بیٹھا ہوتا کہیں دماغ کا معائنہ چل رہا ہوتا ۔
بس قبرستان وہاں کہیں نہیں تھا
تھرڈ ائیر میں فارینزک میڈیسن میں موت کے طریقے اور چہرے دیکھے زہر، نشہ، تیزاب، گیس،ڈوبنا،جلنا، دم گھٹنا ،غرض ہر قسم کی طبعی اور غیر طبعی موت دیکھی، سیکھی اور سمجھی ۔موت کے بعد جسم میں در آنے والی تبدیلیاں جانیں ۔پوسٹ مارٹم دیکھے بھی کیے بھی ۔ پہلا پوسٹ مارٹم اپنی ہم نام بچی کا دیکھا جو بسنت پرہوائی فائرنگ کا نشانہ بنی تھی اس موت نے ذہن کے حساس گوشوں کو شدید متاثر کیا اور پہلا شعر سرزد ہوا۔ ے
اک ضرب خونچکاں سر پر
جاں لے گئی اک فرشتے کی
امیر نے منا لی اپنی بسنت
صف بچھ گئی فرشتے کی
وہاں موت تھی موت کی ارزانی تھی جسم تھے اور جسم کی بےبسی و بےوقعتی تھی بڑے بڑے سردمہر ڈیپ فریزرز اور اسٹیل ٹیبلز تھے لیکن قبرستان وہاں بھی نہیں تھا۔ کہ زندگی موت کے پہلو میں مسکراتی تھی۔
پھر ہم وہاں سے نکل آئے ۔ میو اسپتال اور لیڈی ولنگڈن اسپتال میں جیتے جاگتے انسانوں کو پلک جھپکتے میں نعشوں میں تبدیل ہوتے دیکھتے یا پریشان حال وارث زندگی کی امید میں ڈیڈ باڈیز لیے آتے اور ریسیوڈ ڈیڈ کاسرٹیفیکیٹ لے کے روتے بلکتے لوٹ جاتے۔ زندگی کی بھیک مانگتی چھ جوان بیٹیوں کی ماں کو سیپسس سے مرتے دیکھنا زندگی کو موت کی گود میں چھپتے دیکھنے کا میرا پہلا تجربہ تھا ۔حساس دل ہاوس سرجن تمام رات اس اجنبی عورت کی موت کا ماتم کرتی رہی ۔ وہاں بھی زندگی اور موت شانہ بشانہ چل رہی تھی ۔ لیکن زندگی کی طاقت زیادہ تھی۔ لمحہ پہلے جو بیڈ، ڈیڈ باڈی کے وجود سے بھرا ہوتا ،خالی ہوتے ہی کسی زندہ نفس کے زیر استعمال آ جاتا ۔ رش اور افراتفری میں تو کئی بار بیڈ شیٹ بھی تبدیل نہ کی جا سکتی ۔ لیکن قبرستان وہاں بھی نہیں تھا ۔
زندگی کچھ اور آگے بڑھی ۔میں پرائیویٹ پریکٹس میں آ گئی ۔ والدین پیچھے رہ گئے گھر بار ،شہر ،رشتے تبدیل ہو گئے ۔ والدین پکارتے اور میں پکار پر کھنچی چلی جاتی ۔ وقت کا کام چلنا ہے ۔رکنا اس کی سرشت میں نہیں ۔سو نہ یہ تھمتا ہے نہ سانس لیتے وجود کو آخری سانس لینے تک تھمنے دیتا ہے ۔
کبھی رات دو بجے اطلاع ملتی ڈاکٹر صاحب ایمرجنسی آئی ہے ۔ بھاگم بھاگ معمر مریضہ تک پہنچتے ابھی یہ جملہ میرے منہ میں ہے "جی ماں جی آج اس وقت کیسے آنا ہوا ؟" ماں جی مجھے دیکھتی ہیں مسکراتی ہیں اور جوان بیٹے کے ہاتھوں میں بیٹھے بیٹھے ڈھلک جاتی ہیں ۔
بہو کے چیک اپ کے لیے ساتھ آئی ساس اٹینڈنٹ چیئر پر بیٹھی ہیں۔ بات کرتے کرتے ہچکی لے کر خاموش ہو جاتی ہیں ۔ بہو ڈرتی ہے۔ڈاکٹر ساس کو دیکھتی ہے تو بی پی لیس۔ پلس لیس ۔ سی پی آر ہوتا ہے دل کو جھٹکا لگایا جاتا ہے اور ساس واپس آ جاتی ہیں ٹوٹا سلسلۂ کلام جوڑتی ہیں" جی تو میں یہ کہہ رہی تھی کہ میری بہو کچھ کھاتی پیتی نہیں "۔ انہیں کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کس آسمان تک پرواز کر کے واپس آئی ہیں ۔۔
ہاں ایک روز جب میں اپنے کولیگ اور اسسٹنٹ کے ساتھ ایمرجنسی سی پی آر کر رہی تھی۔ مریض جانبر نہ ہو پایا تو کولیگ روم سے باہر اٹینڈنٹس کو صورتحال بتانے کے لیے گئے ۔ تب میں نے اسسٹنٹ سے بس اتنا کہا ۔۔ ابھی ابھی اس کمرے میں عزرائیل ع تشریف لائے تھے بس ان کے پاس پروانہ ہمارے نام کا نہیں تھا ۔ اس جملے پر ہم دونوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ لیکن قبرستان کی فیلنگ یہاں بھی نہیں تھی کہ زندگی موت سے زیادہ دلچسپ اور مضبوط جذبہ ہے ۔
پھر14 ستمبر 2009 کا چاند نکلا ۔ ابو کافی روز سے طبیعت کی گرانی اور وزن میں کمی کی شکایت کر رہے تھے ۔ انہیں الٹرا ساونڈ کروانے کا کہا تھا اس روز رات گئے ان کا فون آیا ۔ میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ راونڈ پر تھی ۔ ابو فون پر رپورٹ سنا رہے تھے اور میری جان نکل رہی تھی ۔ میں نے فون ڈاکٹر صاحب کو دے دیا ۔ رپورٹ سن کر ڈاکٹر صاحب نے مجھے بس اتنا کہا رابعہ تم صبح لاہور چلی جاو ۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور آنسو ضبط کرنے لگی ۔ انسٹھ دنوں کی ایک تیز ترین رولرکوسٹر رائڈ شروع ہوئی جس میں امید و بیم، بےبسی ،رنج، دکھ، غم، دھوکا اور خودغرض فطرت انسانی کے انگنت رخ وا ہوئے ۔۔
یہ زندگی تھی یہی زندگی ہے جو ہمہ دم موت کے مدمقابل رہتی ہے۔
پھر ابو چلے گئے اور ان کی شہزادی بیٹی تنہا رہ گئی بھرے میلے میں تنہا اور سہمی ہوئی جسے صبر نہیں آتا تھا ۔ لڑکیاں قبرستان نہیں جاتیں سو میں کبھی قبرستان نہیں گئی تھی لیکن جب مجھے صبر آتا نظر نہ آیا تب بالآخر مجھے میرے پیارے ابو سے ملانے کے لیے قبرستان لے جایا گیا ۔ قبرستان میں سفیدے کے اونچے درخت لہرا رہے تھے سنہری دھوپ تھی دسمبر یا شاید جنوری کا موسم تھا ۔ میں ابو کی قبر پر گئی ۔ جی چاہتا تھا کہ ابو کے پہلو میں لیٹ کر ان سے لپٹ کر سو جاوں ۔ لیکن میں بس جھک کر ان کی قبر کو چھو سکی ۔ اور بلک دی ۔ وہ میرے دل میں پہلی قبر تھی۔ آج تک وہ پہلی قبر میرے دل موجود ہے ۔ اس کے ساتھ اب امی کی قبر بھی ہے مام (ساس) کی قبر بھی ۔ چند اور پیارے بھی یہیں مدفون ہیں۔
لڑکیاں قبرستان نہیں جاتیں لیکن اپنے بچھڑنے والے پیاروں کا قبرستان اپنے دل میں بسا لیتی ہیں ۔
ڈاکٹر رابعہ خرم درانی
06/06/2026
صبح کے وقت مشورے صائب ہوتے ہیں ،
اور رات بہت سے ارادوں کو بدل دیتی ہے ۔
04/06/2026
تاریخ اسلام کا ایک یادگار دن
18 ذوالحجۃ
من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ
28/04/2026
اپ کا کوئی اپنا انتقال کرگیا ،ضرور پوسٹ لگائیں لیکن ناک میں روئی ڈلی ہوئی زوم ان کردہ تصویر لگانا بند کیجیے ، اگر ضروری ہی ہو تو مرحوم کی زندگی کی کوئی پیاری تصویر بھی پوسٹ کی جاسکتی ہے
نمبر دو
اگر زخم لگ گیا ہے تو خدا کی قسم ہمیں اپ کی بات کا یقین ہے، کھلے زخم کی پایوڈین لگی تصاویر لگانا بند کیجیے
نمبر تین
بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو دو چار دن تک اسکے خدوخال بڑے پھیلے ہوئے سے ہوتے ہیں اور عموما رنگ بھی متغیر سا ہوتا ہے ،آپ اگر کچھ دن صبر کرکے بچے کی تصویر اپلوڈ کریں تو بھی ہم آپ کی بات کا یقین کرلیں گے کہ بچہ واقعی پیدا ہوچکا ہے
شکریہ
سکندر حیات بابا
28/04/2026
لکھنؤ میں پہلی بار بلدیہ کے انتخابات ہوئے تو اپنے وقت کی مشہور طوائف "دلرُبا جان" چوک سے امیدوار بنی۔
اس کے خلاف الیکشن لڑنے کو کوئی تیار نہیں تھا۔ ان دنوں ایک مشہور طبیب تھے، حکیم شمس الدین۔ چوک میں ان کا مطب تھا۔ بڑے باعزت و نیک نام تھے۔ دوستوں نے انھیں زبردستی الیکشن میں "دلربا جان" کے مقابلے میں کھڑا کر دیا۔
"دلربا جان" کی انتخابی مہم نے زور پکڑا۔ روزانہ سر شام چوک میں محفلیں سجنے لگیں۔ جدن بائی جیسی اپنے زمانے کی مشہور رقاصاؤں کے پروگرام ہونے لگے اور محفلوں میں بےتحاشہ بھیڑ ہونے لگی۔ اس وقت حکیم صاحب کے ساتھ چند دوست ہی ہوا کرتے تھے جنہوں نے انھیں الیکشن میں جھونک دیا تھا۔
اب حکیم صاحب کو غصہ آیا کہ تم لوگوں نے مجھے مار دیا، میری شکست یقینی ہے۔ دوستوں نے ہمت نہیں ہاری اور نعرہ دیا:
"ہے ہدایت چوک کے ہر ووٹر شوقین کو
"دل دیجئے دلربا کو، ووٹ شمس الدین کو"
جواب میں "دلربا جان" نے یہ نعرہ دیا:
" ہے ہدایت چوک کے ہر ووٹر شوقین کو
دلربا کو ووٹ دیجئےنبض شمس الدین کو
خوش قسمتی سے حکیم صاحب کا نعرہ کامیاب ہوا اور وہ الیکشن جیت گئے۔
لکھنؤ کی تہذیب کے مطابق دلربا جان نے حکیم صاحب کو گھر پر جاکر مبارکباد دیتے ہوئے کہا:
" میں الیکشن ہار گئی، آپ جیت گئے، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر آپ کی جیت سے ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ لکھنؤ میں مرد کم اور مریض زیادہ ہیں"
یونس خان
28/04/2026
پنجاب کے ایک گاؤں نے جنازے کی رسم کو بدل کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ جہاں ایک غریب شخص کا جنازہ جب جنازہ گاہ پہنچا اور صفیں درست ہوئیں، تو امام صاحب نے شرکاء سے مخاطب ہو کر ایک دل سوز اعلان کیا: یہ میت جس کا ہم جنازہ پڑھنے لگے ہیں، اپنے گھر کا واحد کفیل اور سہارا تھا۔ سوگواران میں صرف ایک بیوہ اور تین چھوٹے بچے ہیں۔ عدت کے ایام میں ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ لہذا، جنازہ گاہ کے مرکزی دروازے پر ایک چادر بچھا دی گئی ہے۔ جو بھی صاحبِ توفیق بغیر کسی دکھلاوے کے، اللہ کی رضا کے لیے ایک روپے سے لے کر اپنی حیثیت کے مطابق جتنی رقم دے سکتا ہے، وہ وہاں ڈال دے۔ جنازے کے بعد جب چادر سے رقم جمع کی گئی تو وہ ایک لاکھ روپے سے زائد کی تھی۔ کسی کے 10 روپے تھے تو کسی کے 100، لیکن اس مشترکہ ہمدردی نے یتیم بچوں کے لیے کئی مہینوں کا معاشی سکون فراہم کر دیا۔ تعزیت صرف ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا نام نہیں، بلکہ دکھ کی گھڑی میں عملی سہارا بننے کا نام ہے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر کوئی پودا لگائے اور اس سے کسی انسان، پرندے یا جانور کو فائدہ پہنچے، تو لگانے والے کو اس کا بھی ثواب ملتا رہتا ہے۔ جنت کا آسان راستہ خلقِ خدا کی خدمت میں چھپا ھوا ہے۔ آئیں اس روایت کو ہر گاؤں اور شہر میں زندہ کریں۔ جب بھی کسی ایسے غریب کا جنازہ ہو جو گھر کا واحد کفیل تھا، تو وہاں کے علماءِ کرام پانچ منٹ ادھر اُدھر کی بات کرنے کے بجائے یہ اعلان کریں کہ "مرحوم کے بچوں کے لیے اپنا حصہ ڈالیں"۔ تاکہ اس کے خاندان کو معاشی پریشانی سے بچایا جا سکے اور آپ کا یہ عمل آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن جائے۔