30/09/2026
السلام علیکم!
*الوداع الوداع میرا پیارا گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول گداخیل۔*
جدائی پر ہی قائم ہے نظامِ زندگی اے دوست
بچھڑ جاتا ہے پانی بھی ساحل سے گلے مل مل کر۔
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ۔
آج دل بہت اداس اور آنکھیں نم ہیں۔ یہاں سے رخصت لیتے ہوئے مجھے افسوس بھی ہے اور خوشی بھی۔
*افسوس* اس لیے ہے کہ ہم نے یہ سکول کتنی محنتوں، مشقتوں اور دعاؤں سے بنایا تھا۔ جب ہم یہاں آئے تھے تو یہ ویران تھا، ہم نے دن رات محنت کر کے اسے آباد کیا۔ اس کی ایک ایک اینٹ، اس کا ایک ایک پودا، اس کی دیواروں پر لگی ہر تحریر ہماری محنت کی گواہ ہے۔ میرے ہاتھوں سے لگائے ہوئے پودے آج درخت بن گئے ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہ سکول اب آؤٹ سورس ہو گیا ہے۔ دل میں ایک ڈر ہے کہ پتہ نہیں نئے آنے والے اس چمن کو کیسے سنبھالیں گے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ اس سکول کو ہم سے بھی اچھے، محنتی اور ایماندار ٹیچر ملیں اور یہ سکول پہلے سے بھی زیادہ ترقی کرے۔ آمین۔
اور سب سے بڑا دکھ اپنے پھول جیسے بچوں کو چھوڑنے کا ہے۔ میرے پیارے سٹوڈنٹس! تم میرے بیٹوں جیسے ہو۔ میں نے تمہیں الف، ب لکھنا سکھایا تھا اور آج تم پھل دار بن گئے ہو۔ میری ساری محنت کا ثمر تم ہو۔ بس میری یہی دعا ہے کہ تمہارا یہ پھل ضائع نہ ہو، تم بڑے آدمی بنو اور اپنے والدین اور سکول کا نام روشن کرو۔
*اور خوشی* اس لیے ہے کہ الحمدللہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ترقی دی ہے اور میں اپنے مستقبل کے لیے ا یک اچھے ادارے میں جا رہا ہوں۔ میں اس سکول میں جا رہا ہوں جہاں سے میں نے خود میٹرک اور انٹر کیا تھا۔ جس کرسی پر بیٹھ کر میں نے سبق پڑھا تھا، آج انہیں کرسیوں پر کسی اور طالبعلموں کو سبق پڑھاؤں گا۔ میرے لیے اس سے بڑی اعزاز کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔
میں گداخیل کے تمام معزز بزرگوں، دوستوں، اساتذہ کرام اور میرے پیارے طلباء کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے مجھے اس عرصے میں بے پناہ عزت اور محبت دی۔
زندگی رہی تو ملاقاتیں رہیں گی۔ مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہو تو اپنا چھوٹا بھائی سمجھ کر معاف کر دیجیے گا۔
*الوداع گداخیل، الوداع میرے بچو۔*
*آپ کا اپنا استاد - دعاؤں کا طلبگار۔*