02/12/2025
*تعلیم کا سفررائز گرائمر اسکول پڑنگ آباد کے دس سال۔۔۔۔*
*ایک دہائی کی روشنی، ثقافت، محنت اور کامیابیوں کا جشن۔۔۔*
*پڑنگ آباد مستونگ کے گردونواح میں واقع یہ چھوٹا سا علاقہ شاید نقشے میں معمولی سا دِکھائی دے، مگر یہاں سے پھوٹتی ہوئی امید کی ایک کرن نے گزشتہ دس سال میں بے شمار زندگیوں کو بدل دیا۔ یہ کرن ہے رائز گرائمر اسکول ایک ایسا تعلیمی چراغ جو آج اپنے قیام کے دس سال مکمل ہونے پر پہلے سے بھی زیادہ روشن نظر آتا ہے۔۔*
*گزشتہ دنوں اسی اسکول کی جانب سے ایک شان دار، پروقار اور رنگا رنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ یہ صرف ایک تقریب نہ تھی یہ ایک سفر کا جشن تھا ایک ایسے عزم کی خوشی جس نے علاقے میں تعلیم کی کمی کے اندھیروں میں راستہ بنایا۔*
*ایک روحانی آغاز ایمان کی خوشبو سے مہکتی تقریب۔۔۔سرد ہوا کے جھونکوں میں، وسیع میدان میں لگے اسٹیج پر جب ایک کمسن بچے نے پُرسوز آواز میں تلاوت قرآن پاک شروع کی تو فضا یکدم گہری خاموشی میں ڈوب گئی۔۔۔سامعین کے چہروں پر سکون، ہونٹوں پر دُعائیں اور دلوں میں ایک ہی احساس تھا تعلیم اور تربیت کی یہ روشنی ہمیں بہت دور تک لے جائے گی۔۔۔۔محنت کا احترام اماں آمنہ کو ملنے والا اعزازتقریب کا سب سے دل چھو لینے والا منظر تب پیدا ہوا جب اسٹیج پر آنے کے لیے مہمان خصوصی کا نام پکارا گیا،اور یہ نام کسی ایم پی اے ایم این اے ، سردار ، نواب یا سرکاری افسر کا نہیں بلکہ اسکول کی صفائی کرنے والی محنت کش خاتون اماں آمنہ کا تھا۔۔۔۔اماں آمنہ اسٹیج کی طرف بڑھیں تو ان کے قدموں کے ساتھ تالیاں بھی بڑھتی گئیں۔*
*یہ وہ لمحہ تھا جب ایک پورےمعاشرے نے اپنی اجتماعی سوچ بدلتے دیکھی۔۔۔*
*یہ اعزاز ثابت ہوا کہ معاشرے کی تعمیر میں ہر کردار اہم ہے۔۔اسکول کے بچوں نے مختلف موضوعات پر ایسی پُراعتماد تقاریر کیں کہ سننے والے حیران رہ گئے۔۔۔*
*تقریب میں گورنمنٹ ہائی سکول پڑنگ آباد کے پرنسپل سعید احمد صاحب ، ماہر تعلیم پروفیسر قدیر صاحب،پروفیسر بلال صاحب،پروفیسر عامر صاحب،آفتاب صاحب ایڈوکیٹ منیر احمد بنگلزئی ، محمد مراد ، رائز سکول کے میڈم فوزیہ صاحبہ میم شگفتہ صاحبہ ، رائز سکول کے ڈائریکٹر علی احمد دہوار صاحب بھی موجود تھے*
*چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں پکڑے کاغذ اور بڑی بڑی باتیں کسی نے تعلیم کی اہمیت بتائی،کسی نے والدین کے احترام کی وکالت کی تو کسی نے معاشرتی اصلاح کا پیغام دیا*
*ہر تقریر میں ایک بات مشترک تھی یہ بچے کسی عام قصبے کے نہیں مستقبل کی قیادت کے نمائندے تھے۔۔۔ٹیبلو تہذیب، اخلاق اور احساس کے رنگ تقریب کا اگلا حصہ ٹیبلو پر مشتمل تھا، اور یوں لگا جیسے اسٹیج کسی تھیٹر میں بدل گیا ہو بچوں نے سماجی موضوعات پر مناظر پیش کیےکہیں دوستی تھی، کہیں بھائی چارہ۔۔۔*
*کہیں اخلاقی سبق تھا اور کہیں ۔والدین نے موبائل فون اٹھا لیے کوئی لمحہ ضائع کرنا گوارا نہ تھا۔*
*بلوچی اور پشتو چاپ ثقافت کا دلکش امتزاج پھر وہ لمحہ آیا جس نے تقریب کو پوری طرح جلا بخشی۔اسٹیج پر رنگ برنگے روایتی لباس، بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں، اور پس منظر میں بلوچی و پشتو موسیقی جب بچوں نے چاپ شروع کی تو پورے میدان میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔۔۔*
*یہ صرف ثقافتی چاپ نہ تھایہ اپنی شناخت اپنی مٹی اور اپنے کلچر سے محبت کا اظہار تھا۔۔بلوچستان کی نمائندگی کرتے ان بچوں نے بزبانِ حال کہا یہ ثقافت ہماری پہچان ہے اور ہم اسے دنیا تک پہنچائیں گے۔اعزازات کی تقریب کامیابیوں کی بارش آخر میں جب سالانہ نتائج کا اعلان ہوا۔۔۔ تو کئی چہروں پر خوشی کی چمک دوڑ گئی۔۔کامیاب بچوں کو شیلڈز، میڈلز، اسناد اور خصوصی انعامات دیے گئے۔اساتذہ بھی اس موقع پر ستائش کے حق دار قرار پائے۔۔کیونکہ ان کی محنت کے بغیر یہ سفر ممکن نہ تھا۔۔۔والدین نے اس موقع پر نہ صرف اسکول کی کارکردگی کو سراہا بلکہ اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ۔۔۔آج کے دور میں تعلیم کے بغیر زندگی کا چلنا ناممکن ہے، اور رائز گرائمر اسکول نے ہمارے بچوں کے مستقبل کو روشن کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔۔۔*
*اسکول انتظامیہ کا عزم اگلے دس سال، مزید روشن اسکول انتظامیہ نے اعلان کیا کہ آنے والے برسوں میں اسکول میں جدید سائنسی لیبارٹری معیاری لائبریری مزید ہم نصابی سرگرمیاں اور بہتر تعلیمی سہولیات شامل کی جائیں گی۔۔۔یہ صرف وعدے نہیں۔۔۔ ایک نئے دور کا آغاز تھا۔۔۔رائز گرائمر اسکول کی یہ تقریب اس بات کا اعلان تھی کہ پڑنگ آباد صرف ایک بستی نہیں ۔۔۔۔یہ خواب دیکھنے اور ان خوابوں کو حقیقت بنانے والا علاقہ ہے۔۔۔*
*دس سال مکمل ہوئے، مگر سفر ابھی باقی ہے روشنی پھیل رہی ہےاور تعلیم کا چراغ آئندہ نسلوں کے راستے بھی روشن کرتا رہے گا۔۔۔۔۔*