Hikmat e sabir حکمت صابر

Hikmat e sabir حکمت صابر Follow our page
This page create perfact news,moral stories,islamic stories and some other informati

تبلیغی امیر بلوجستان ڈاکٹر روح اللہ صاحب کا آخری دیدار اللہ پاک ڈاکٹر صاحب کے درجات بلند فرمائے آمین، 🤲
30/06/2025

تبلیغی امیر بلوجستان ڈاکٹر روح اللہ صاحب کا آخری دیدار اللہ پاک ڈاکٹر صاحب کے درجات بلند فرمائے آمین، 🤲

28/06/2025
27/06/2025

وفات سے 3 روز قبل جبکہ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ام المومنین
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے،

ارشاد فرمایا

کہ
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"

تمام ازواج مطہرات
جمع ہو گئیں۔
تو
حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
دریافت فرمایا:
کیا

تم سب
مجھے اجازت دیتی ہو
کہ
بیماری کے دن
میں
عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"

سب نے کہا
اے اللہ کے رسول
آپ کو اجازت ہے۔

پھر
اٹھنا چاہا
لیکن اٹھہ نہ پائے
تو
حضرت علی ابن ابی طالب
اور
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے
اور
نبی علیہ الصلوة والسلام کو
سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔

اس وقت
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو
گھبرا کر
ایک دوسرے سے پوچھنے لگے

رسول اللہ (صلی اللہ وآلہ وسلم) کو کیا ہوا؟

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیا ہوا؟

چنانچہ
صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور
مسجد نبوی میں
ایک رش لگ گیا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا
پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ
میں نے اپنی زندگی میں
کسی کا
اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور
فرماتی ہیں:

"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور
اسی کو
چہرہ اقدس پر پھیرتی

کیونکہ
نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ
میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ
محترم اور پاکیزہ تھا۔"

مزید
فرماتی ہیں
کہ حبیب خدا
علیہ الصلوات والتسلیم
سے
بس یہی
ورد سنائی دے رہا تھا
کہ
"لا إله إلا الله،
بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"

اسی اثناء میں
مسجد کے اندر
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔

نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
یہ
کیسی آوازیں ہیں؟

عرض کیا گیا
کہ
اے اللہ کے رسول!
یہ
لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔

ارشاد فرمایا کہ
مجھے ان کے پاس لے چلو۔
پھر
اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن
اٹھہ نہ سکے
تو
آپ علیہ الصلوة و السلام پر
7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے،
تب
کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا
تو
سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔

یہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا
آخری خطبہ تھا
اور
آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔

فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید
تمہیں
میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"

ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں،
تم سے
میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے،

اللہ کی قسم گویا کہ
میں یہیں سے
اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،

اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر
تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر
دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے،
کہ
تم اس (کے معاملے) میں
ایک دوسرے سے
مقابلے میں لگ جاؤ گے

جیسا کہ
تم سے پہلے
(پچھلی امتوں) والے لگ گئے،
اور
یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے گی
جیسا کہ
انہیں ہلاک کر دیا۔"

پھر
مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
نماز کے معاملے میں
اللہ سے ڈرو،
اللہ سےڈرو۔
نماز کے معاملے میں
اللہ سے ڈرو،

(یعنی عہد کرو
کہ نماز کی پابندی کرو گے،
اور
یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)

پھر فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔!
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،

میں تمہیں
عورتوں سے
نیک سلوک کی
وصیت کرتا ہوں۔"

مزید فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔!
ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا
کہ
دنیا کو چن لے
یا اسے چن لے
جو
اللہ کے پاس ہے،
تو
اس نے اسے پسند کیا جو
اللہ کے پاس ہے"

اس جملے سے
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا مقصد
کوئی نہ سمجھا حالانکہ
انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ
وہ
تنہا شخص تھے
جو
اس جملے کو سمجھے اور
زارو قطار رونے لگے
اور
بلند آواز سے
گریہ کرتے ہوئے
اٹھہ کھڑے ہوئے
اور
نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔

"ہمارے باپ دادا
آپ پر قربان،
ہماری
مائیں آپ پر قربان،
ہمارے بچے آپ پر قربان،
ہمارے مال و دولت
آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں
اور
یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے
کہ
انہوں نے
نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کر دی؟

اس پر
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع
ان الفاظ میں فرمایا:

"اے لوگو۔۔۔!
ابوبکر کو چھوڑ دو
کہ
تم میں سے ایسا کوئی نہیں
کہ جس نے
ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو
اور
ہم نے
اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو،
سوائے ابوبکر کے،
کہ
اس کا بدلہ
میں نہیں دے سکا۔
اس کا بدلہ
میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔

مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں،

سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ
جو کبھی بند نہ ہوگا۔"

آخر میں
اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے
آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے،
تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔

اور
آخری بات
جو ممبر سے اترنے سے پہلے
امت کو
مخاطب کر کے
ارشاد فرمائی
وہ
یہ کہ:"اے لوگو۔۔۔!
قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو
میرا سلام پہنچا دینا۔"

پھر
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو
دوبارہ سہارے سے
اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔

اسی اثناء میں
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے
اور
ان کے ہاتھ میں مسواک تھی،

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
مسواک کو دیکھنے لگے لیکن
شدت مرض کی وجہ سے
طلب نہ کر پائے۔

چنانچہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں
اور
انہوں نے
حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے کر
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے
دہن مبارک میں رکھ دی،

لیکن
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم
اسے استعمال نہ کر پائے
تو
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
مسواک لے کر
اپنے منہ سے نرم کی اور
پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کو لوٹا دی
تاکہ دہن مبارک
اس سے تر رہے۔

فرماتی ہیں:
" آخری چیز جو
نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے
پیٹ میں گئی
وہ
میرا لعاب تھا،
اور
یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا
کہ
اس نے وصال سے قبل میرا
اور
نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"

اُم المؤمنين
حضرت عائشہ
صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
مزید ارشاد فرماتی ہیں:
"پھر
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں
اور
آتے ہی رو پڑیں
کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ
نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا
کہ
جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم
انکے ماتھے پر
بوسہ دیتے تھے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا
اے فاطمہ! "
قریب آجاؤ۔۔۔"
پھر
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ان کے کان میں
کوئی بات کہی
تو
حضرت فاطمہ
اور
زیادہ رونے لگیں،

انہیں اس طرح روتا دیکھ کر
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
پھر فرمایا
اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
دوبارہ انکے کان میں
کوئی بات ارشاد فرمائی
تو
وہ خوش ہونے لگیں

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد
میں نے
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا
کہ
وہ کیا بات تھی
جس پر روئیں
اور
پھر خوشی کا اظہار کیا تھا؟

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں
کہ
پہلی بار
(جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔

جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
جب
انہوں نے
مجھے بے تحاشا روتے دیکھا تو
فرمانے لگے: "فاطمہ!
میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے
تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
جس پر
میں خوش ہوگئی۔۔۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
سب کو
گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
"عائشہ!
میرے قریب آجاؤ۔۔۔"

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی
اور
ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
مجھے
وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔

(میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء
اور
صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)

صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
"میں
سمجھ گئی
کہ
انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"

جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
"یارسول الله!
ملَکُ الموت
دروازے پر کھڑے
شرف باریابی چاہتے ہیں۔
آپ سے پہلے
انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"

آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"

ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے،
اور کہا:
"السلام علیک یارسول الله!
مجھے اللہ نے
آپ کی چاہت جاننے کیلئے بھیجا ہے
کہ
آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں
یا
الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"

فرمایا:
"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے،
مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"

ملَکُ الموت
آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے
سرہانے کھڑے ہوئے
اور
کہنے لگے:
"اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف
جو
غضبناک نہیں۔۔۔!"

سیدہ عائشہ
رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
پھر
نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا،
اور
سر مبارک
میرے سینے پر
بھاری ہونے لگا،
میں
سمجھ گئی
کہ آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔

مجھے اور تو
کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں
اپنے حجرے سے نکلی اور
مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔

"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!
رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"

مسجد آہوں
اور
نالوں سے گونجنے لگی۔
ادھر
علی کرم الله وجہہ
جہاں کھڑے تھے
وہیں بیٹھ گئے
پھر
ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔

ادھر
عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ
معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔

اور
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ
تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
"خبردار!
جو کسی نے کہا
رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے ہیں،
میں
ایسے شخص کی
گردن اڑا دوں گا۔۔۔!

میرے آقا تو
الله تعالی سے
ملاقات کرنے گئے ہیں
جیسے
موسی علیہ السلام
اپنے رب سے
ملاقات کوگئے تھے،

وہ لوٹ آئیں گے،
بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔!
اب جو
وفات کی خبر اڑائے گا، میں
اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"

اس موقع پر
سب سے زیادہ ضبط، برداشت
اور صبر کرنے والی شخصیت
سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔
آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے،
رحمت دوعالَم
صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے سینۂ مبارک پر
سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔

کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه

(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔!
ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!
ہائے میرا محبوب۔۔۔!
ہائے میرا نبی۔۔۔!)
پھر
آنحضرت صلی علیہ وآلہ وسلم کے ماتھے پر
بوسہ دیا
اور کہا:"یا رسول الله!
آپ پاکیزہ جئے
اور
پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے
اور خطبہ دیا:
"جو
شخص محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی
عبادت کرتا ہے سن رکھے

آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا اور
جو الله کی عبادت کرتا ہے
وہ جان لے
کہ الله تعالی شانہ کی ذات
ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"

سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔

عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر
میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں
اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
سیدہ فاطمہ
رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ
نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"

پھر کہنے لگیں:
"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."

(ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ
اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے،
ہائے میرے پیارے بابا جان،
کہ
جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے،
ہائے میرے پیارے بابا جان،
کہ
ہم جبریل کو
ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
اللھم صل علی محمد کما تحب وترضا۔

میں نے آج تک
اس سے اچّھا پیغا م کبھی پوسٹ نہیں کیا۔

اسلۓ
آپ سے گزارش ہے
کہ
آپ اسے پورا سکون
و اطمینان کے ساتھ پڑھۓ۔
ان شاء اللہ,
آپکا ایمان تازہ ہو جاۓ گا۔“

ثواب کی نیت سے
شیئر کریں
اور
صدقہ جاریہ میں
شامل ہو جائیں -!!!'

تنخواہ(پیسوں)کو مہینے کی آخری تاریخ تک بچانے کا نسخہ(عربی سے ترجمہ شدہ)یہ واقعہ ایک سعودی نوجوان کا ہے ، یہ اپنی زندگی س...
04/06/2025

تنخواہ(پیسوں)کو مہینے کی آخری تاریخ تک بچانے کا نسخہ
(عربی سے ترجمہ شدہ)

یہ واقعہ ایک سعودی نوجوان کا ہے ، یہ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں تها ، اس کی تنخواہ صرف چار ہزار ریال تهی ، شادی شدہ ہونے کی وجہ سے اس کے اخراجات اس کی تنخواہ سے کہیں زیادہ تهے ، مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی اس کی تنخواہ ختم ہو جاتی اور اسے قرض لینا پڑتا ، یوں وہ آہستہ آہستہ قرضوں کی دلدل میں ڈوبتا جارہا تها اور اس کا یقین بنتا جا رہا تها کہ اب اس کی زندگی اسی حال میں ہی گزرے گی - باوجودیکہ اس کی بیوی اس کے مادی حالت کا خیال کرتی ، لیکن قرضوں کے بوجھ میں تو سانس لینا بهی دشوار ہوتا ہے -
ایک دن وہ اپنے دوستوں کی مجلس میں گیا ، وہاں اس دن ایک ایسا دوست بهی موجود تها جو صاحب رائے آدمی تها اور اس نوجوان کا کہنا تها کہ میں اپنے اس دوست کے مشوروں کو قدر کی نگاہ سے دیکهتا تها -
کہنے لگا : میں نے اسے باتوں باتوں میں اپنی کہانی کہہ سنائی اور اپنی مالی مشکلات اس کے سامنے رکهیں ، اس نے میری بات سنی اور کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ تم اپنی تنخواہ میں سے کچه حصہ صدقہ کے لیے مختص کرو - اس سعودی نوجوان نے حیرت سے کہا : جناب ، مجهے گهر کے خرچے پورے کرنے لیے قرضے لینے پڑتے ہیں اور آپ صدقہ نکالنے کا کہہ رہے ہیں ؟
خیر میں نے گهر آ کر اپنی بیوی کو ساری بات بتائی تو بیوی کہنے لگی : تجربہ کرنے میں کیا حرج ہے ؟ ہوسکتا ہے اللہ جل شانہ تم پر رزق کے دروازے کهول دے -
کہتا ہے : میں نے ماہانہ 4 ہزار ریال میں سے 30 ریال صدقہ کے لیے مختص کرنے کا ارادہ کیا اور مہینے کے آخر میں اسے ادا کرنا شروع کردیا -
سبحان اللہ ! قسم کها کر کہتا ہوں ، میری تو حالت ہی بدل گئی ، کہاں میں ہر وقت مالی ٹینشنوں میں اور سوچوں میں رہتا تها اور کہاں اب میری زندگی گویا پهول ہو گئی تهی ، ہلکی پهلکی آسان ، قرضوں کے باوجود میں خود کو آزاد محسوس کرتا تها ، ایک ایسا ذہنی سکون تها کہ کیا بتاوں !
پهر چند ماہ بعد میں نے اپنی زندگی کو سیٹ کرنا شروع کیا ، اپنی تنخواہ کو حصوں میں تقسیم کیا ، اور یوں ایسی برکت ہوئی جیسے پہلے کبهی نہی ہوئی تهی - میں حساب لگالیا اور مجهے اندازہ ہوگیا کہ کتنی مدت میں اِنشاءاللہ قرضوں کے بوجھ سے میری جان چهوٹ جائی گی -
پهر اللہ جل شانہ نے ایک اور راستہ کهولا اور میں نے اپنے ایک عزیز کے ساتھ اس کے پراپرٹی ڈیلنگ کے کام میں حصہ لینا شروع کیا ، میں اسے گاہک لاکر دیتا اور اس پر مجهے مناسب پرافٹ حاصل ہوتا -
الحمدللہ ! میں جب بهی کسی گاہک کے پاس جاتا وہ مجهے کسی دوسرے تک راہنمائی ضرور کرتا -
میں یہاں پر بهی وہی عمل دوہراتا کہ مجهے جب بهی پرافٹ ملتا میں اس میں سے اللہ کے لیے صدقہ ضرور نکالتا -

اللہ کی قسم ! صدقہ کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا ، سوائے اس کے جس نے اسے آزمایا ہو -
صدقہ کرو ، اور صبر سے چلو ، اللہ کا فضل سے خیر و برکتیں اپنی آنکهوں برستے دیکهو گے -

نوٹ :
1. جب آپ کسی مسلمان کو تنخواہ میں سے صدقہ کے لیے رقم مختص کرنے کا کہیں گے اور وہ اس پر عمل کرے گا تو آپ کو بهی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا صدقہ کرنے والے کو ملے گا ، اور صدقہ دینے والے کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی -

سوچیے !
آپ اس دنیا سے چلے جائیں گے اور آپ کے سبب آپ کے پیچهے کوئی صدقہ کر رہا ہوگا !

2. ایسے ہی اگر آپ نے یہ رسالہ (میسج) آگے نشرکیا اور کسی نے صدقہ دینے کا معمول بنا لیا تو آپ کے لیے بهی صدقہ دینے والے کے مثل اجر ہے-
(جیسے میں نے اس میسج کو پڑھ کر صدقہ کرنے کا معمول بنایا ، اور قسم کها کر کہتا ہوں ، سب سے زیادہ فرق میری ذہنی حالت پر پڑا ، ایک ایسا اطمینان محسوس ہوتا ہے کہ جس کا جواب نہیں - مترجم)

میرے عزیز!!
اگرچہ آپ طالب علم ہیں ، اور آپ کو لگابندها وظیفہ ملتا ہے تب بهی آپ تهوڑا بہت جتنا ہوجائے کچھ رقم صدقہ کے لیے ضرور مختص کریں -

اگر صدقہ کرنے والا جان لے اور سمجھ لے کہ اس کا صدقہ فقیر کے ہاتھ میں جانے سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں جاتا ہے تو یقینا دینے والے کو لذت لینے والے سے کہیں زیادہ ہو گی -

کیا آپ صدقہ کے فوائد معلوم ہیں ؟
توجہ سے پڑهیے گا -

سن لیں !
صدقہ دینے والے بهی اور جو اس کا سبب بنتے ہیں وہ بهی!!!

1. صدقہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے -
2. صدقہ اعمال صالحہ میں افضل عمل ہے ، اور سب سے افضل صدقہ کهانا کهلانا ہے -
3. صدقہ قیامت کے دن سایہ ہو گا ، اور اپنے دینے والے کو آگ سے خلاصی دلائے گا -
4. صدقہ اللہ جل جلالہ کے غضب کو ٹهنڈا کرتا ہے ، اور قبر کی گرمی میں ٹهنڈک کا سامان ہے -
5. میت کے لیے بہترین ہدیہ اور سب سے زیادہ نفع بخش چیز صدقہ ہے ، اور صدقہ کے ثواب کو اللہ تعالی بڑهاتے رہتے ہیں -
6. صدقہ مصفی ہے ، نفس کی پاکی کا ذریعہ ، اور نیکیوں کو بڑهاتا ہے -
7. صدقہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کے چہرے کا سرور اور تازگی کا سبب ہے -
8. صدقہ قیامت کی ہولناکی کے خوف سے امان ہے ، اور گزرے ہوئے پر افسوس نہیں ہونے دیتا -
9. صدقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب اور سیئات کا کفارہ ہے -
10. صدقہ خوشخبری ہے حسن خاتمہ کی، اور فرشتوں کی دعا کا سبب ہے-
11. صدقہ دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے ، اور اس کا ثواب ہر اس شخص کو ملتا ہے جو اس میں کسی طور پر بهی شریک ہو -
12. صدقہ دینے والے سے خیر کثیر اور بڑے اجر کا وعدہ ہے -
13. خرچ کرنا آدمی کو متقین کی صف میں شامل کردیتا ہے ، اور صدقہ کرنے والے سے اللہ کی مخلوق محبت کرتی ہے -
14. صدقہ کرنا جود و کرم اور سخاوت کی علامت ہے -
15. صدقہ دعاوں کے قبول ہونے اور مشکلوں سے نکالنے کا ذریعہ ہے -
16. صدقہ بلاء (مصیبت) کو دور کرتا ہے اور دنیا میں ستر دروازے برائی کے بند کرتا ہے -
17. صدقہ عمر میں اور مال میں اضافے کا سبب ہے ،کامیابی اور وسعت رزق کا سبب ہے -
18. صدقہ علاج بهی ہے ، دواء بهی اور شفاء بهی -
19. صدقہ آگ سے جلنے ، غرق ہونے، چوری اور بری موت کو روکتا ہے -
20. صدقہ کا اجرملتا ہے ، چاہے جانوروں اور پرندوں پر ہی کیوں نا ہو -

آخری بات :
بہترین صدقہ اس وقت یہ ہے کہ آپ اس میسج کو صدقہ کی نیت سے آگے نشر کر دیں
جزاک اللہ

ایک افسوس ناک فراڈ  ایک قریبی اور نہایت سادہ دل دوست نے گھبراہٹ بھرے لہجے میں وائس میسج کیا۔ ان کی آواز کانپ رہی تھی، او...
25/05/2025

ایک افسوس ناک فراڈ
ایک قریبی اور نہایت سادہ دل دوست نے گھبراہٹ بھرے لہجے میں وائس میسج کیا۔ ان کی آواز کانپ رہی تھی، اور وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار محسوس ہورہے تھے۔ میں نے فوری کال کی اور پوچھا:
"خیریت؟ سب ٹھیک ہے؟"
کہنے لگے استاد جی:
"میں ایک بڑے فراڈ کا شکار ہو گیا ہوں، اور نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ ذہنی طور پر بھی ہل کر رہ گیا ہوں۔"
واقعہ کچھ یوں ہوا:
ان کے ایک جاننے والے، جو بیرونِ ملک مقیم تھے، نے اچانک میسنجر پر رابطہ کیا۔ چونکہ دونوں کے درمیان پہلے سے تعلقات تھے، لہٰذا میرے دوست نے بغیر کسی شک و شبہ کے بات کو سنجیدگی سے لیا۔
اس شخص نے لکھا:
"میں آپ کو 3872 پاؤنڈ بھیج رہا ہوں، جو پاکستانی تقریباً 14 لاکھ 50 ہزار روپے بنتے ہیں۔ میں دو ماہ بعد پاکستان آؤں گا، تب آپ سے یہ رقم لے لوں گا۔ فی الحال آپ یہ رقم اپنے اکاؤنٹ میں رکھ لیں، اور اگر چاہیں تو اس میں سے کچھ استعمال بھی کرلینا۔"

چند لمحوں بعد ان کو ایک رسید موصول ہوئی جو نیچے دی گئی ہے اس کے ساتھ ہی اس جاننے والے کا میسج آیا
"رقم آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو چکی ہے۔"
میرے دوست نے وقتی طور پر اطمینان کا سانس لیا۔ مگر یہ سکون زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔
ایمرجینسی کی پہلی گھنٹی اس وقت بجی، جب ان کے پاس ایک کال آئی—کال کرنے والا خود کو "ویسٹرن یونین" کا نمائندہ ظاہر کر رہا تھا۔
کہنے لگا:
"آپ کے اکاؤنٹ میں ایک بیرون ملک سے بڑی رقم بھیجی گئی ہے۔ اس پر قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔ ہمیں آپ سے کچھ معلومات چاہیے۔"
میرے دوست نے اعتماد سے جواب دیا اور تفصیلات بتائیں۔ وہ شخص مطمئن نظر آیا اور کہا:
"آپ کل اپنا شناختی کارڈ اور بینک تفصیلات لے کر ہمارے نمائندے سے ملیں تاکہ یہ معاملہ کلیئر ہو سکے اور رقم وصول کرلیں ۔"
کچھ دیر بعد ایک ایمرجینسی کال موصول ہوئی—ایک تیسرے شخص نے دھمکی آمیز انداز میں کہا:
"جس شخص نے آپ کو پیسے بھیجے ہیں، اس کا ویزہ ری نیو ہونا ہے۔ اگر آپ نے فوراً پیسے واپس نہ دیئے تو نہ صرف اس کا ویزہ کینسل ہو جائے گا، بلکہ اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔"
اب معاملہ گھمبیر ہوتا جا رہا تھا۔ میرے دوست نے فوراً میسنجر پر اصل شخص سے رابطہ کیا۔ وہاں سے جواب ملا:
"بھائی! میں ابھی ڈیوٹی پر ہوں، اور بہت مشکل میں ہوں۔ پلیز کسی سے ادھار لے کر یہ رقم واپس کر دو۔ مجھے ایک بڑی آزمائش درپیش ہے۔ فکر نہ کرو، میں نے پیسے بھیج دیئے رسید آپ کے پاس موجود ہے 24 گھنٹے میں تمہیں پیسے مل جائیں گے۔"
چونکہ یہایک سادہ مزاج، نرم دل اور مددگار انسان ہیں۔ قانونی دباؤ اور کسی کو مصیبت سے بچانے کے سوچ کے تحت کچھ رقم اپنے پاس سے، اور باقی 11 لاکھ سے زائد رقم ایک دن کے اندر ادھار پر کچھ افراد سے لے کر اس "ضرورت مند" کو بھیج دی۔

مگر اصل دھچکا تب لگا، جب رقم لینے والے، اور اُن سے رابطہ کرانے والے دونوں نے ان کا نمبر بلاک کر دیا۔

اب ان کا دل بیٹھ گیا۔ بے چینی، ندامت اور پشیمانی کے ساتھ انہوں نے ویڈیو کال کے ذریعے اصل شخص سے براہِ راست رابطہ کیا۔

اور وہاں سے جو جواب آیا، وہ ان کے ہوش اُڑا دینے کے لیے کافی تھا:

"بھائی! میں نے تو نہ کوئی پیغام بھیجا، نہ رقم بھیجی، نہ ہی کسی کو کہا۔ یہ سب جعلی ہے۔ میرا میسنجر تو ہیک ہو چکا ہے۔ کسی کو بھی ایک روپیہ نہ دینا!"

مگر اب کیا ہو سکتا تھا؟ وہ تو 14 لاکھ سے زائد کی رقم لٹا چکے تھے۔

یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، ہم سب کے لیے ایک کڑا سبق ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں اعتماد سے زیادہ تصدیق ضروری ہے۔
سوشل میڈیا پر آنے والے میسجز اور کالز، خواہ کسی "جاننے والے" کے نام سے ہی کیوں نہ ہوں، ان کی ہر بات پر آنکھ بند کر کے یقین نہ کریں۔
مالیاتی معاملات میں ذاتی تصدیق، ویڈیو کال، اور قانونی مشورہ لازمی ہے۔
کسی کی مدد کے جذبے میں ایسا قدم نہ اٹھائیں، جس کی قیمت آپ کو اپنے سکون، عزت اور مال سے چکانی پڑے۔
فراڈیے صرف پیسے نہیں چھینتے، بلکہ انسان کا سکون، اعتماد اور دل کا اطمینان بھی لوٹ لیتے ہیں۔
خدارا ہوشیار رہیں۔ سادہ دلی کو عقل کے ساتھ جوڑیں، ورنہ نیکی کرتے ہوئے بھی دھوکہ کھا سکتے ہیں۔

منقول
لیکن اس سے ملتے جلتے کئی واقعات جاننے والوں کیساتھ ہو چکے ہیں۔ احتیاط کیجٸے

30/03/2025

ki fazilat

30/03/2025

29 رمضان المبارک 1446 ھ
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک:
زکوۃ ادا کرنا تمہارے اسلام کا اہم رکن ہے۔
(الترغيب والترهيب، 301/1، حدیث: 12)

صدقہ فطر کیا ہے؟
رمضان کے بعد نماز عید سے قبل دیا جانے والا صدقہ فطر کہلاتا ہے، جو ہمارے ایمان کی تازگی اور روحانی ترقی کا ذریعہ ہے۔
(فیضان زکوة، ص 111)

22/03/2025

HUZOOR ﷺ Hazrat Muaaz ko Aakhri Wasiyat | *حضور ﷺ کی حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو آخری وصیت*

22/03/2025

Address

Marot

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hikmat e sabir حکمت صابر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Hikmat e sabir حکمت صابر:

Shortcuts

Share