27/01/2024
اگر دو قومی نظریہ نہ ھوتا تو آج ھم ھندؤوں کے غلام ھوتے۔ خدا بھلا کرے سرسید أحمد خان کا جنہوں نے یہ نظریہ قائم کیا تھا مگر تاریخ گواہ ھے کہ:
گلیلیو نے جب زمین کو سورج کے گرد گھمانا شروع کردیا تو اس کے پاداش میں اس کو پادریوں نے وہ قرار واقعی سزا دے دی کہ دنیا یاد رکھے گی۔
اس کے بعد پندرھویں صدی میں کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تو اس کے بارے میں بھی دو نظریئے قائم ھوئے کہ وہ ھندوستان کو، یعنی ھمیں دریافت کرنا چاھتے تھے غلطی سے امریکہ کو دریافت کربیٹھے جس سے ثابت ھوتا ھے کہ ھم ابھی تک دریافت نہیں ھوئے ھیں۔ جبکہ دوسرا نظریہ (یعنی مثل دو قومی نظریئے کے) کہ کولمبس نے جان بوجھ کر یہ حرکت کی تھی یعنی امریکہ دریافت کربیٹھے تھے لیکن بہر حال اگر یہ غلطی بھی تھی تو سنگین غلطی تھی کیونکہ کولمبس تو عدم سدھار گئے لیکن اس کا خمیازہ ھم بھگت رھے ھیں؛ کہ نہ وہ امریکہ دریافت کرتے اور نہ تیسری دنیا کے لوگ اس کی غلامی کے پنجرے میں قید رھتے۔
اسی طرح سرسید احمد خان رحمت اللہ علیہ ونور مرقدہ تو جنت سدھار گئے لیکن اب دانشوروں اور ھمارا جھگڑا چل رھا ھے کہ غلطی ھوئی ھے اور وہ بھی بہت عظیم غلطی، عظیم لوگوں سے کہ انہوں نے اگر یہ نظریہ نہ دیا ھوتا تو آج پاکستان ایک علیحدہ ملک بناکر اس جھنجٹ سے آزاد ھوتے اور عظیم ھندوستان میں رہ کر ترقی کرتے۔
لیکن !
جو کچھ بھی حقیقت ھو, ھم ھندوستان اور پاکستان بناکر کیا شرمندگی محسوس کرتے ھیں کہ اب اشرافیہ کے غلام بن کر کسی طرح جان نہیں چھوٹ رھی؛ ویسے حقیقت یہ ھے کہ انگریز کے پاس رہ کر ھم بہتر رھتے، اور تاج برطانیہ کے تحت دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتے, آسٹریلیا کی طرح منصۂ شہود پر ایک ترقی یافتہ ملک ھوتے، جبکہ سنڈا ملا، میاں نواز شریف رحمت اللہ علیہ ودامت برکاتہ، اور حضرت علامہ عمران خان صاحب مدظلہ اللہ العالی، آنجہانی حضرت باچا خان رحمت اللہ علیہ ونور مرقدہ، حضرت علامہ ومولانا زرداری رحمت اللہ علیہ ودامت برکاتہ اور صاحب بوٹ کے جھانسے میں آکر ذلیل وخوار ھورھے ھیں کہ اب کسی ترقی کے لئے اکٹھ ھو تو اس کو کس کس ھتھکنڈے سے تتر بتر کیا جائے۔
تو اب بتائیں دو قومی نظریہ ھمارے کس کام کا؟؟؟؟؟؟