16/02/2022
Al Quran ul qareem
we offer to learn Quran online with tajweed for kids and adults with male and female teacher from pa
16/02/2022
Eshal lesson
خیرکم من تعلم القران وعلمہ
تم میں سے بہتر وہ ہے جو قران سیکھے اور سکھاۓ
(رب العباد كي جانب سے دعوت نامہ)
مجھے رات كے آخرى پہر ميں نماز كي توفيق ہوئي تو ميں نے ايك عجيب بات محسوس كى:
كہ فرض نماز كي ندا بندے كي آواز ميں آتى ہے، اور رات كے آخرى پہر كى نماز(تہجد) كى ندا بندوں كے رب كى جانب سے آتى ہے۔
فرض نماز كى ندا ہركوئي سنتا ہے، اور تہجد كى نماز كى ندا بعض لوگ ہى محسوس كرتے ہيں۔
فرض نماز كى ندا "حي على الصلاة، حي على الفلاح" (آؤ نماز كى طرف، آؤ كاميابى كى طرف) ہے، اور تہجد كى نماز كى ندا "هل من سائل فأعطيه" (ہے كوئي مانگنے والا جسے ميں عطا كروں) ہے۔
فرض نماز مسلمانوں كي اكثريت ادا كرتى ہے، جب كہ تہجد كى نماز وہى لوگ ادا كرتے ہيں جن كو اللہ نے چن ليا ہےاور منتخب كرليا ہے۔
فرض نماز بعض لوگ رياكارى اور دكھلاوے كےليے بھى پڑھتے ہيں، جہاں تك تعلق ہے تہجد كى نمازكا تواسےہر كوئى تنہائى ميں خالص اللہ كےليے پڑھتا ہے۔
فرض نماز كى ادائيگى كے دوران دنيوى مشاغل اور شيطانى وسوسے آتے رہتے ہيں، جب كہ تہجد كى نماز تو دنيا سے يكسوئى اور آخرت كے بنانے ہى كا نام ہے۔
بہت سى مرتبہ فرض نماز اس ليے ادا كرتے ہيں تاكہ مسجد ميں كسى سے ملاقات ہوجائے اور اس سے چند باتيں ہوجائيں، جب كہ تہجد كى نماز اس ليے ادا كرتے ہيں تا كہ اللہ سے بات چيت كركے تعلق بنايا جائے، اس سے باتيں كي جائيں، اور اپني تكاليف اور سوالات كو اس كے سامنے ركھا جائے۔
فرض نماز كي دعا بعض مرتبہ ہى قبول ہوتى ہے، جب كہ تہجد كى نماز كا تو اللہ نے اپنے بندوں سے قبوليت كا وعدہ فرمايا ہے۔ (هل من سائل فأعطيه)
آخر ميں؛ تہجد كى نماز كى توفيق اسي كو ہوتى ہے جس كےليے اللہ نے اس سے بات چيت كركےانس پيدا كرنےاور اس كي تكليفوں اور شكايتوں كو سننے كا ارادہ كيا ہے، اس ليے كہ وہ اللہ كے سب سے قريبى بندوں ميں سے ہے۔
لہٰذا قابل مبارك باد ہيں وہ لوگ جن كو اللہ رب العزت كى جانب سے اس كے سامنے بيٹھنے، اس كو باتيں سنانے اور اس سے مناجات كرنے كي لذت حاصل كرنے كا دعوت نامہ ملا ہے۔
جب آپ اندھيرے ميں اللہ رب العزت كے سامنے بيٹھيں تو بچوں كي عادت اپنائيے۔ بچہ جب كوئى چيز مانگتا ہے اور اسے نہيں دى جاتى تو رونے لگتا ہے حتى كہ اسے وہ چيز مل جائے، تو آپ بھى ايسے بچے بن جائيے اور اپني ضروريات كا سوال كيجيے۔ (ابن الجوزى)
اپنے آپ كو اور دوسروں كو محروم نہ كيجيے، ہوسكتا ہے كسي كو آپ كى وجہ سے تہجد كى توفيق حاصل ہوجائے اور اس كا ثواب آپ كو بھى مل جائے۔ اللہ آپ كو نافع بنائے۔ (آمين)
ایک منقول دلچسپ تحریر
خاکی ہوں میں کتنا بھول گیا
عاصی ہوں میں کتنا بھول گیا
Noor has pronounciation problem As she can't speak properly But she try her best to read Quran.
نبی کا دین بھی لازم ہے زندگی کیلیے
شکم پہ باندھ لے پتھر گزاریے دو دن
کلیجا چاہیے آقا کی پیروی کیلیے
23/07/2019
امیر شریعتؒ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کمرہ عدالت میں داخل ہو ئے۔
جسٹس منیر بغض و حسد سے بھرا ہوا، غصے سے لال پیلا،
گردن تنی ہوئی اور
تکبر و غرور کا پیکر
ناہنجار بنا کرسی پر بیٹھا تھا۔
مردِ مومن کے چہرۂ انور پر نگاہ پڑی تو
اسکی آنکھیں جھک گئیں۔
جسٹس منیر دوسری مرتبہ آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہ کر سکا۔
کارروائی شروع ہوئی۔
امیر شریعتؒ نے اپنا تحریری بیان عدالت میں پیش کیا۔
جسٹس منیر نے ایک نظر بیان کو دیکھا جسے اس نے ’’منیر انکوائری رپورٹ‘‘
میں شامل نہیں کیا اور پھر اپنے مخصوص چبھتے ہوئے انداز میں سوالات کا
آغاز کر دیا۔
جسٹس منیر:
ہندوستان میں اسوقت کتنےمسلمان ہیں؟
امیر شریعتؒ: سوال غیر متعلق ہے،
مجھ سے پاکستان کے مسلمانوں کے بارے پوچھیں۔
جسٹس منیر: (تمسخر آمیز لہجے میں) ہندوستان اور پاکستان میں جنگ چھڑ جائے تو ہندوستان کے مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟
امیر شریعتؒ: ہندوستان میں علما موجود ہیں، وہ ھی بتائینگے۔
جسٹس منیر: (طنز کرتے ہوئے)
آپ بتا دیں؟
امیر شریعتؒ: پاکستان کے بارے میں پوچھیں،
یہاں کے مسلمانوں کو کیا کرنا ہے؟
جسٹس منیر: مسلمان کی تعریف کیا ہے؟
امیر شریعتؒ: اسلام میں داخل ہونے اور مسلمان کہلانے کے لیے صرف کلمہ شہادت کا اقرار و اعلان ہی کافی ہے۔
لیکن اسلام سے خارج ہونے کے ہزاروں روزن ہیں۔
ضروریاتِ دین میں کسی ایک کا انکار
کفر کے ماسوا کچھ نہیں۔
اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ میں سے کسی ایک کو بھی انسانوں میں مانا تو مشرک،
قرآن کریم کی کسی ایک آیت یا جملہ کا انکار کیا تو کافر،
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب ختم نبوت کے بعد کسی انسان کو کسی بھی حیثیت میں نبی مانا تو مرتد۔
جسٹس منیر: (قادیانی وکیل کیطرف اشارہ کرتے ہوئے)
ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟
امیر شریعتؒ: خیال نہیں عقیدہ۔
جو ان کے بڑوں کے بارے میں ہے۔
جسٹس منیر: (بدتمیزی کے انداز میں)
آپ نے مرزا قادیانی کو کافر کہا ہے؟
امیر شریعتؒ:
میں اسی سوال کا آرزو مند تھا۔
کوئی بیس برس ادھر کی بات ہے،
یہی عدالت تھی جہاں آپ بیٹھے ہیں،
یہاں چیف جسٹس، مسٹر جسٹس ڈگلس ینگ تھے۔
اور جہاں مسٹر کیانی بیٹھے ہیں،
یہاں رائے بہادر جسٹس رام لال تھے۔
یہی سوال انھوں نے مجھ سے پوچھا تھا۔ وہی جواب آج دہراتا ہوں۔
میں نے ایک بار نہیں ہزاروں مرتبہ،
مرزا کو کافر کہا ہے،
کافر کہتا ہوں
اور جب تک زندہ ہوں گا کافر کہتا رہونگا۔ یہ میرا ایمان و عقیدہ ہے اور اسی پر مرنا چاہتا ہوں۔
مرزا قادیانی اور اس کی ذریت کافر و مرتد ہے۔ مسیلمہ کذاب اور ایسے ہی دیگر جھوٹوں کو دعویٰ نبوت کے جرم میں قتل کیا گیا۔
جسٹس منیر: غصے سے بے قابو ہو کر،
دانت پیستے ہوئے
اگر غلام احمد قادیانی آپ کے سامنے یہ دعویٰ کرتا تو آپ اسے قتل کر دیتے؟
امیر شریعتؒ: میرے سامنے اب کوئی
دعویٰ کر کے دیکھ لے!
حاضرین عدالت: نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر،
ختم نبوت… زندہ باد،
مرزائیت… مردہ باد…
کمرۂ عدالت لرز گیا۔
جسٹس منیر: بوکھلا کر
توہین عدالت…!!
امیر شریعتؒ: جلال میں آ کر
توہین رسالت…!!
جسٹس منیر …
دم بخود، خاموش،
مبہوت،
حواس باختہ،
چہرہ زرد،
ہوش عنقا…
پیشانی سے پسینہ پونچھنے لگا۔
’’عدالت‘‘ امیر شریعت کی جرأت ایمانی اور جذبۂ حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم دیکھکر سکتے میں آ چکی تھی۔
امیر شریعتؒ: گرج دار آواز میں کچھ اور…؟
جسٹس منیر: پریشانی میں بڑبڑاتے ہوئے میرا خیال ہے ہمیں مزید کچھ بھی نہیں پوچھنا!
عدالت برخواست ہو جاتی ہے
اللہ پاک سید عطاء اللہ شاہ بخاری رح کے درجات بلند فرمائیں امین ثم آمین یارب العالمین.. منقول
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی ہر چیز اس کا مال، اس کی عزت اور اس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے، اور آدمی میں اتنی سی برائی ہونا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Mardan
28000