17/12/2024
یونٹ دوم کے امتحانات کامیابی سے جاری ہیں، اور طلبہ کی تیاری اور دلچسپی قابل تعریف ہے۔ امتحانی ماحول میں نظم و ضبط اور محنت کی جھلک واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اساتذہ کرام نے طلبہ کو امتحانات کے لیے جو رہنمائی فراہم کی، اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ طلبہ دی گئی ٹپس کے مطابق اپنے پیپرز حل کر رہے ہیں، جو ان کی محنت اور اساتذہ کی توجہ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
امتحانات سے قبل ہر بچے کی تیاری کو یقینی بنانا اور ان کے والدین سے مشاورت کرنا اساتذہ اور ادارے کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔ اس دوران، ڈائریکٹر سٹڈیز اور متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سے رابطے میں رہ کر طلبہ کے مسائل حل کرنا اور انہیں بہترین تعلیمی ماحول فراہم کرنا ادارے کی کامیاب حکمت عملی کا عکاس ہے۔
امتحانی ہال میں طلبہ کے ساتھ کیے گئے خصوصی مکالمے میں ان پر زور دیا گیا کہ نقل سے مکمل اجتناب کریں۔ نقل نہ صرف تعلیمی معیار کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ یہ انسان کے اپنے ضمیر اور ایمان کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔ پرنسپل صاحب نے طلبہ کو یہ پیغام دیا کہ دنیاوی کامیابی کے چند جھوٹے سکوں کے لیے اپنے رب کے احکامات کو پس پشت ڈالنا انسان کے لیے سب سے بڑا نقصان ہے۔
ادارہ طلبہ کی اخلاقی اور تعلیمی ترقی کے لیے سخت محنت کر رہا ہے اور امتحانات کے دوران دیانت داری کو یقینی بنانے کے لیے اپنی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ اساتذہ، طلبہ، اور والدین کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی تعاون تعلیمی نظام کی کامیابی کا بنیادی ستون ہے۔
29/11/2024
الحمدللہ!
حرا سکول کالج سٹی کیمپس، مردان میں سولر سسٹم کی مزید توسیع کر دی گئی ہے۔
اب 4KV کا مزید اضافہ کر کے نظام کو مزید مؤثر اور مضبوط بنا دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی ہماری کوششوں کا حصہ ہے، تاکہ بلا تعطل توانائی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
آپ کی دعاؤں اور تعاون کے لیے شکریہ!
13/11/2024
آج الحمدللہ حرا سکول اینڈ کالج سٹی کیمپس مردان میں پی ٹی ایم کا انعقاد کیا گیا، جس میں کثیر تعداد میں والدین اور دیگر معزز افراد نے شرکت کی۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ تمام شرکاء نے ادارے کی پالیسیوں پر مکمل یقین اور اطمینان کا اظہار کیا، اور ادارے کی بہتری کے لیے نہایت قیمتی آراء اور تجاویز پیش کیں۔
حرا سکول کا بنیادی نعرہ ہے کہ ہر بچہ خاص ہے، اور اسی مشن کے تحت ہم بچوں کی روشن مستقبل کے لیے تعلیم و تربیت کی بہترین منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ادارے کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں میں اعلیٰ اخلاقی اقدار، تہذیب و تمدن، ثقافت اور اسلامی اصولوں کو پروان چڑھانے پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔
حرا سکول میں ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہمارے طلباء نہ صرف علمی طور پر مضبوط ہوں بلکہ کردار، اخلاق اور اسلامی اقدار میں بھی بلند مقام حاصل کریں۔ ہماری کوشش ہے کہ طلباء میں وہ صلاحیتیں پیدا کی جائیں جو انہیں بہترین مسلمان اور بہترین انسان بنائیں۔
ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید ترقی عطا فرمائے اور یہاں سے نکلنے والے طلباء اپنے کردار اور عمل سے معاشرے کے لیے مثال بنیں۔
آمین۔
13/11/2024
آج ہمارے سکول "حرا سکول/کالج، سٹی کیمپس مردان" میں بزمِ شاہین کے مردان (مقام)کے صدر محترم سیف اللہ صاحب نے دورہ کیا اور ہمارے معزز پرنسپل، جناب کامران عادل صاحب سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بزمِ شاہین کے مشن اور اس کے اغراض و مقاصد پر تبادلہ خیال ہوا۔
بزمِ شاہین ایک چھوٹا مگر انتہائی پُرعزم ادارہ ہے، جو بچوں میں علمی و فکری بنیادیں مضبوط کرنے کے لیے ہر ماہ ایک معلوماتی ڈائجسٹ شائع کرتا ہے۔ یہ ڈائجسٹ خاص طور پر اسلامی اور پاکستانی معلومات پر مشتمل ہوتا ہے، اور اس میں بچوں کو اپنے علم، ذہن اور سوچ کے مطابق تحریریں لکھنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف بچوں کی علمی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ان کی تخلیقی صلاحیتیں بھی اُجاگر ہوتی ہیں۔
کتاب انسان کی بہترین دوست ہے۔ یہ نہ صرف ہمارے علم میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ہمیں اچھائی اور برائی کی تمیز بھی سکھاتی ہے۔
بزمِ شاہین جیسے ادارے بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا کرکے ان کی شخصیت کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ادارہ بچوں کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں مشغول رکھتا ہے تاکہ وہ علم کے ذریعے خود کو اور اپنے ملک کو مضبوط بنا سکیں۔
اس ملاقات کے دوران بزمِ شاہین کے مستقبل کے منصوبوں اور اس کے ذریعے بچوں کی تعلیمی و تربیتی ترقی پر بھی بات چیت کی گئی۔
24/10/2024
ہم آج ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں انٹرنیٹ ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ بچے اور نوجوان اس ٹیکنالوجی سے جڑتے جا رہے ہیں، لیکن اس عمل میں وہ کتاب و قلم سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ انٹرنیٹ اور جدید وسائل علم کے حصول کا ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں، لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کتاب اور مطالعہ کی اپنی ایک خاص اہمیت ہے، جو صرف ٹیکنالوجی سے نہیں مل سکتی۔
کتاب نہ صرف علم کا خزانہ ہے بلکہ انسان کی شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کتابوں کے ذریعے بچے تنقیدی سوچ، تجزیہ اور تحقیق کے ہنر سیکھتے ہیں۔ یہ وہ بنیادی صلاحیتیں ہیں جو کسی بھی کامیاب فرد کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں میں کتابوں کا شوق پیدا کریں اور انہیں قلم کا استعمال سکھائیں۔ اس سے بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور ان کی معلومات کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔
ترقی یافتہ ممالک کی طرف نظر دوڑائیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ان کے تعلیمی نظام میں کتاب سے جڑے رہنے پر خاص زور دیا جاتا ہے۔ وہاں کی لائبریریاں ہمیشہ بچوں اور بڑوں سے بھری رہتی ہیں۔ بچوں میں مطالعے کا شوق ابتدائی عمر سے ہی پیدا کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کے معاشرتی نظام میں تعلیمی معیار بلند ہے۔ وہ کتاب کو محض ایک ذریعہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے ایک رفیق کی طرح دیکھتے ہیں جو زندگی بھر ان کے ساتھ رہتا ہے۔
ہمیں بھی اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم اپنے بچوں کو تعلیم و تربیت کی بہترین راہوں پر ڈالنا چاہتے ہیں تو انہیں کتاب و قلم سے جوڑنا ہوگا۔ انٹرنیٹ کا استعمال ضروری ہے، لیکن کتاب کا متبادل ہرگز نہیں۔ اپنے بچوں کو روزانہ کا وقت دیں کہ وہ ایک اچھی کتاب کا مطالعہ کریں، اور خود بھی ان کے ساتھ مطالعہ کریں۔ یوں ہم اپنے معاشرے میں کتاب دوستی کی فضا قائم کر سکتے ہیں، جو ہماری آئندہ نسلوں کی کامیابی کی ضمانت ہوگی۔
18/10/2024
محترم والدین
امید ہے آپ ایمان و صحت کی بہترین حالت میں ہوں گے۔
*مطالعے کی عادت بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہے اور امتحانات کی تیاری میں اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے اپنے بچوں کو مطالعے کا عادی بنائیں اور انہیں کتابوں کے ساتھ وقت گزارنے کی ترغیب دیں۔*
یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ سکول کی جانب سے تمام طلبہ کو
*ANNUAL 1ST EXAM*
کی آؤٹ لائن اور ڈیٹ شیٹ فراہم کر دی گئی ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اپنے بچوں کی امتحانی تیاری کو اس آؤٹ لائن کے مطابق یقینی بنائیں۔
امتحانی دنوں میں بچوں کو ٹی وی اور موبائل سے دور رکھیں تاکہ ان کی توجہ مکمل طور پر پڑھائی پر مرکوز رہے۔
بچوں کو غیر ضروری طور پر گھر سے باہر جانے، اور دوستوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے سے منع کریں۔
امتحان کے دنوں میں بچوں کو شادی یا غمی کی تقریبات میں لے جانے سے گریز کریں تاکہ وہ مکمل یکسوئی کے ساتھ امتحان کی تیاری کر سکیں۔
گھر میں بچوں کے لیے ایک مخصوص جگہ مختص کریں جہاں وہ سکون کے ساتھ مطالعہ کر سکیں۔
روزانہ کی بنیاد پر بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی تیاری کا جائزہ لیں تاکہ وہ بہتر انداز میں امتحان کی تیاری کر سکیں۔
چونکہ امتحانات میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے، اس لیے براہِ کرم اس ایک ہفتے میں بچوں کو روزانہ کم از کم 3 سے 4 گھنٹے کتاب اور قلم کے ساتھ مطالعے میں مصروف رکھیں۔
اگر امتحانی کورس یا دیگر کسی بات میں کوئی ابہام ہو تو برائے مہربانی وائس پرنسپل احمد شکیل صاحب کے واٹس ایپ نمبر پر یا پرنسپل صاحب سے براہ راست رابطہ کریں۔
آپ کے قیمتی وقت کا بہت شکریہ۔
اللہ حافظ۔
*CONTROLLER OF EXAMINATIONS*
HIRA SCHOOL/ COLLEGE MARDAN
26/04/2024
Test INSHA'ALLAH TOMORROW