Raees Khan Historian

Raees Khan Historian

Share

Learn English, History, political science and International relation...

05/07/2020

کیپٹلزم، کمیونزم، سوشلزم جیسی اصطلاحات پہ آسان اور غیر جانبدارانہ مضمون؛

کیپٹلزم (سرمایہ دارانہ نظام) سوشلزم اور کمیونزم (اشتراکیت) تینوں معاشی نظام ہیں۔

کیپٹلزم ایک ایسا معاشی نظام جس میں کسی ملک کی تجارت اور صنعت کو ریاست کے بجائے نجی مالکان کے ذریعہ کنٹرول کیا جاتا ہے اور منافع بھی نجی مالکان (Private Owners) کماتے ہیں۔

اس نظام میں سرمایہ بطور عاملِ پیدائش نجی شعبہ کے اختیار میں ہوتا ہے۔ اس میں منڈی آزاد ہوتی ہے اس لیے اسے آزاد منڈی کا (Market Economy) نظام بھی کہا جاتا ہے۔
اس نظام میں پیداوار اور قیمت کا تعین ترسیل (Supply) اور طلب (Demand) سے کیا جاتا ہے۔ یعنی جس چیز کی مارکیٹ میں سپلائی کم اور طلب زیادہ ہوگی تو اس کی قیمت بڑھ جائے گی اور جس چیز کی سپلائی زیادہ اور طلب کم ہوگی تم قیمت خود بخود کم ہوجائے گی۔
جس چیز کی مارکیٹ میں طلب زیادہ ہوگی سرمایہ دار / نجی مالکان اسی چیز کی پیداوار بڑھائیں گے۔

اگرچہ آج کل کہیں بھی منڈی مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتی مگر نظریاتی طور پر ایک سرمایہ دارانہ نظام میں منڈی مکمل طور پر آزاد ہوگی۔ آزادی، منافع خوری اور نجی ملکیت اس نظام کی بنیادی خصوصیات ہیں۔

مختصراًسرمایہ دارانہ نظام یہ کہتا ہے کہ ذاتی منافع کے لئے اور ذاتی دولت و جائیداداور پیداواری وسائل رکھنے میں ہر شخص مکمل طور پر آزاد ہے، حکومت کی طرف سے اس پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیئے۔
تاہم دنیا میں سو فیصد سرمایہ دارانہ نظام کسی جگہ بھی ممکن نہیں، کیونکہ حکومت کو کسی نہ کسی طرح لوگوں کے کاروبار میں مداخلت کرنی پڑتی ہے۔
پاکستان، بھارت، امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی وغیرہ میں سرمایہ دارانہ نظام ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد ایڈم سِمتھ (Adam Smith) نے رکھی جو ایک برطانوی فلسفی اور ماہر اقتصادیات تھا۔

کیپٹلسٹ سوشلزم کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟

کیپٹلسٹس کا کہنا ہیں کہ سوشلزم کے کئی نقصانات ہیں جن میں کم معاشی نمو (Low Ecnomic Growth)، کم کاروباری مواقع اور مقابلہ (Competition) کا نہ ہونا اور کم انعامات (Less reward) کی وجہ سے افراد کی حوصلہ افزائی کی ممکنہ کمی شامل ہیں۔
جب لوگوں منافع کمانے کی لالچ اور محنت کے انعامات نہیں ملینگے تو لوگوں میں کام کرنے کا جذبہ کم ہوگا کیونکہ انسان فطری لالچی ہے۔ جب لوگوں کو نجی ملکیت رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو لوگوں میں محنت کرنے کا جذبہ نہیں رہے گا۔

سوشلزم (اشتراکیت) کی تعریف کچھ یوں کی جاسکتی ہے کہ
"اجتماعی ملکیت کا فلسفہ جس میں معاشرے کے افراد میں ملکی وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو، اشتراکیت کہلاتا ہے۔‘‘

اشتراکیت کے نظریے کو ایک جملے میں یوں بیان کرسکتے ہیں:

”ذاتی ملکیت کا خاتمہ“
یہ مارکس اور اینگلز کے مشہور کمیونسٹ مینی فسٹو کا ایک فقرہ ہے۔ ذاتی ملکیت کا خاتمہ یا دوسرے لفظوں میں
”سماجی ملکیت (Common ownership) کا نظام“

چنانچہ اشتراکی نظام (Socialism) میں کسی معاشرے کے تمام لوگوں کو ریاست ان کے حقوق دے وہ حقوق یہ ہیں
ریاست کے ہر فرد کو خوراک،
رہائش، تعلیم، اور صحت کی سہولیات و انصاف

اگر کوئی ریاست ایسا نہیں کرتی تو پھر اس ریاست کے حکمرانوں کو حق حکمرانی نہیں دیا جا سکتا۔
اشتراکیت کے نظام میں تمام تر وسائل معاشرے/کمیونیٹی/ کے اجتماعی ملکیت میں ہوتے ہیں اور ریاست کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔
موجودہ زمانے میں کمیونزم کی اصل حالت میں کہیں موجود نہیں ہے۔ آدم سمتھ اورڈے کارٹ نے محنت کو تمام دولت کا منبع قرار دیا۔
کارل مارکس کا اہم کام یہ ہے کہ اس نے اشتراکیت کے مثالی تصور کو نہ صرف قابلِ عمل بنایا بلکہ اسے ایک سائنٹفک اور منطقی نظام بنا کر پیش کیا۔

سوشلزم اور کمیونزم ایک ہی فلسفے کے دو درجے ہیں، کمیونزم ، سو شلزم کا حتمی درجہ مقصود ہے اور سوشلزم ابتدائی منزل ہے۔ اس لئے ان دونوں اصطلاحوں کو بکثرت ایک دوسرے کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے۔

کمیونزم میں ہر ایک کو ان کی صلاحیت کے اور ضروریات کے مطابق اجرت دی جائے گی اور

سوشلزم میں ہر ایک کو ان کی محنت اور صلاحیت کے مطابق اجرت دی جائے گی۔

کمیونزم میں کوئی فرد کسی قسم کی نجی ملکیت نہیں رکھ سکتا اور سوشلزم میں لوگ نجی ملکیت رکھ سکتے ہیں لیکن ایسی کوئی ملکیت کوئی نہیں رکھ سکتے جس سے پیداوار حاصل کیا جاتا ہے یا منافع کمایا جاتا ہے۔
منافع کمانے والی ملکیت صرف ریاست کے پاس ہوگی۔ سوشلزم میں پیداوار اور منافع سے تمام لوگوں کے بنیادی ضروریات پورے کئے جاتے ہیں اور کمیونزم میں دولت کی تقسیم لوگوں کے صلاحیت (Ability) اور پیداوار/کام کرنے میں شراکت (Contribution) کے بنیاد پر ہوگی۔
جیسے کہ ایک ڈاکٹر کی صلاحیت زیادہ اور مزدور کی صلاحیت کم تو ڈاکٹر کی اجرت زیادہ ہوگی، ایک ڈاکٹر پانچ گھنٹے اور ایک ڈاکٹر دس گھنٹے کام کرتا ہے تو دس گھنٹے کام کرنے والے کی زیادہ شراکت (Contribution) تو دس گھنٹے والے کا دولت میں زیادہ حصہ ہوگا۔

سوشلسٹس کیپٹلزم کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟
دنیا کے بڑے بڑے فلسفیوں نے شخصی املاک کو معاشرے کی برائیوں کی جڑ قرار دیا۔
کارل مارکس جو بابائے اشتراکیت ہے ان کا کہنا تھا کہ طاقتور طبقہ مزدوروں کی کمائی پر عیش کرتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہوسِ زر (Greed of wealth)، خود غرضی (Selfishness) اور ملکی وسائل پر قبضے کی خواہش اشتراکی فلسفے کے عملی نفاذ کے راستے میں ہمیشہ رکاوٹ رہے ہیں۔
مزدور صنعت کار (Industrial Class) کے ہاتھوں اور مزارعہ جاگیردار (Landlord) کے ہاتھوں استحصال (Exploitation) کا شکار رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے۔

کسی بھی ملک کے وسائل کم، ضروریات اور خواہشات زیادہ ہوتے ہیں۔ ہر ریاست/ معاشرے کی کوشش ہوتی ہے کہ ملک کے موجودہ وسائل کو اس طریقے سے استعمال کیا جائے کہ ان کے ذریعے زیادہ سے زیادہ ضرورتیں پوری ہوسکیں۔

محدود وسائل اور لاتعداد ضروریات اور خواہشات کی وجہ سے چار بنیادی مسائل معیشت (economy) میں پیش آتے ہیں:

1۔ کیا پیدا کریں (What to produce)؟
2۔ کس طرح پیدا کریں (How to produce)؟
3۔ کس کے لئے پیدا کریں (For whom to produce)؟
4۔ اور معاشی نمو کے لئے کیا اقدامات ضروری ہیں ہیں (What provisions are to be made for economic growth)؟

پہلا مسئلہ: ترجیحات کا تعین (Setting Priorities)۔

جیسے کہ پہلے بتایا گیا کہ وسائل محدود اور ضروریات لامحدود ہوتے ہیں تو کچھ ضروریات اور خواہشات جو کہ ناگزیر ہیں ان کو مقدم/اولین (prior/prefer) کرنا پڑیگا اور کچھ کو مؤخر کرنا پڑیگا۔ لیکن کون سی ضرورت کو مقدم کیا جائے اور کو نسی ضرورت کو مواخر کیا جائے؟
مثلاََ ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں کہ ان سے ہم موجودہ تین ضروریات میں سے کسی ایک ضرورت کو پورا کرسکتے ہیں۔

ضرورت نمبر ایک: ایک سکول اور ایک ہسپتال کی تعمیر

ضرورت نمبر دو: ملک کی دفاع کے لیے ایک ٹینک اور ایک ہیلی کاپٹر خریدا جائے۔

ضرورت نمبر تین: ایک پارک اور ایک چڑیا گھر بنایا جائے۔

ہمارے پاس تین راستے (Option) ہیں۔ اب ان موجودہ وسائل سے کسی ایک ضرورت کو ہم پورا کرسکتے ہیں، کس ضرورت کو مقدم رکھا جائے؟ یہ متعین کرنا پڑے گا کہ ان وسائل کو کس طرح کس کام میں صرف کیا جائے اور کس چیز کی پیداوار کو ترجیح دی جائے؟اس مسئلے کا نام ترجیحات کا تعین ہے۔

دوسرا مسئلہ: وسائل کا مختص کرنا:( Allocation of Resources)۔

ہمارے پاس پیداوار کے کچھ عوامل و وسائل (Resources or Factors of Production) ہیں۔ معاشی ماہرین پیداوار کے عوامل و وسائل کو چار اقسام میں بانٹتے ہیں: زمین، مزدوری، سرمایہ اور کاروبار۔

پیداوار کا پہلا عنصر زمین ہے، اس میں نہ صرف زمین، بلکہ کوئی بھی چیز جو زمین سے آتی ہے شامل ہے۔
کچھ عام زمین یا قدرتی وسائل پانی، تیل، تانبا، قدرتی گیس، کوئلہ اور جنگلات، زری زمین، اور باغات ہیں۔

زمینی عوامل اور وسائل کو ہم کن کاموں میں کس مقدار میں لگائیں؟
مثلاََ اب کتنی مقدار میں ہم گنا کاشت کریں؟ کتنی مقدار میں چاول کاشت کریں؟
اور کتنی زمین پر روئی اور کتنی زمین پر گندم کاشت کریں؟
اگر ہمارے پاس کار خانے لگانے کی صلاحیت ہے تو کس جگہ، کس شہر میں کن چیزوں کے کارخانے لگائیں۔
اب کتنے کارخانوں کو کھیلوں کے سامان بنانے میں استعمال کریں۔اور کتنے کارخانوں کو کپڑے بنانے میں لگائیں؟
اور کتنے کارخانوں کو کھانے دوائی بنانے کے لیے استعمال کریں؟
ان عوامل اور وسائل کے تعین کو معیشت کی اصطلاح میں وسائل کی تخصیص کہتے ہیں۔

پیداوار کا دوسرا عنصر مزدوری (Labor) یا محنت (Human resources) ہے۔
مزدوروں کی کوشش ہے کہ وسائل کی پیداوار میں حصہ ڈالیں۔ مزدوروں یا انسانی محنت میں تمام شعبوں کے وہ لوگ شامل ہیں جن کا وسائل کے پیداوار میں کوئی نہ کوئی کردار ہے۔
مزدوری کے وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اجرت (Wages) کہا جاتا ہے اور زیادہ تر لوگوں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ تمام مزدورں کے ذمہ الگ الگ کام ہوتے ہیں جن کی وہ مہارت رکھتے ہیں۔

پیداوار کا تیسرا عنصر سرمایہ ہے۔
پیداوار کی تیاری کے لئے پیسے، مشینری، اوزار اور عمارتوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
سرمایہ کے کچھ عام مثالوں میں اوزار، کمپیوٹر، مشینری اور ترسیل کے ذریعے شامل ہیں مثال کے طور پر، ڈاکٹر طبی خدمات فراہم کرنے کے لئے اسٹیتھسکوپ اور معائنہ کے لیے اسپتال یا ڈسپنسری/کلینک روم کا استعمال کرتا ہے۔
استاد تعلیمی خدمات دینے کے لئے درسی کتب، ڈیسک، اور ایک سفید تختہ استعمال کرتا ہے۔ ان تمام آلات کو سرمایہ کہا جاتا ہے۔

پیداوار کا چوتھا عنصر کاروبار شروع کرنے والا طبقہ (entrepreneurs) ہے۔
کاروباری طبقہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو منافع کمانے کے لئے پیداوار کے دیگر عوامل یعنی زمین، مزدور اور سرمائے کو جوڑتے ہیں۔ سب سے کامیاب کاروباری افراد جو کہ سامان اور خدمات کی تیاری کے نئے طریقے ڈھونڈتے ہیں یا جو مارکیٹ میں نئے سامان اور خدمات تیار کرتے ہیں۔
تاجر معاشی نمو کا ایک اہم انجن ہیں۔ تاجر ایسی معیشت میں ترقی کی منازل طے کرتے ہیں جہاں انہیں کاروبار شروع کرنے اور آزادانہ طور پر وسائل خریدنے کی آزادی ہے۔

تیسرا مسئلہ: (Distribution of Income) آمدنی کی تقسیم۔
جو آمدنی پیداوار سے حاصل ہو اس کو کس طرح معاشرے میں تقسیم کیا جائے؟
کس کو کتنی اجرت یا منافع دیا جائے؟ اس کو معاشیات کی اصطلاح میں آمدنی کی تقسیم کہتے ہیں۔ کسی بھی سرمایہ دارانہ معاشرے میں (جس میں زیادہ تر کاروبار افراد کی ملکیت میں ہوتی ہے)، امیروں کو آمدنی کا ایک بڑا حصہ مل جاتا ہے۔ اس کو آمدنی میں عدم مساوات کہا جاتا ہے۔

چوتھا مسئلہ: ترقی (Development)، یعنی پیداوار کو کیسے مزید پائیدار بنائے اور کس طرح مقدار بڑائی جائے۔
کس طرح نئی نئی ایجادات اور مصنوعات پیدا کی جائیں تاکہ معاشرہ ترقی کرے،
لوگوں کے پاس کاروبار کے مواقع موجود ہوں۔
ا س مسئلے کو معاشیات کی اصطلاح میں ترقی کہا جاتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) ان چاروں مسائل کے لئے کیا حل پیش کرتی ہے؟

سرمایہ دارانہ نظام کا نظریہ یہ ہے ہر انسان کو مزدوری، تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کیلئے بالکل آزاد (economic freedom) چھوڑ دیا جائے اور حکومت ان کی کسی سرگرمی میں مداخلت نہ کرے (Laissez Faire)۔ سب لوگوں کو چھوٹ دی جائے کہ زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کیلئے جو بھی کاروبار اور جو بھی طریقہ مناسب سمجھیں اختیار کریں ۔
اس سے اوپر بیان کیے گئے چاروں مسئلے خود حل ہوتے چلے جائینگے ۔کیونکہ جب ہر شخص کو یہ فکر ہوگی کہ میں زیادہ سے زیادہ نفع کماؤں تو ہر شخص معیشت کے میدان میں وہی کام کریگا جس کی معاشرے کو ضرورت ہے۔

اشتراکیت (Socialism/Communism) ان چار مسائل کے لیے کیا حل پیش کرتی ہے؟

اشتراکیت کی رائے ہے کہ تمام وسائل پر ریاست کا اختیار ہے، ریاست ہی ان چاروں مسائل کو حل کریگی۔
کس چیز کو ترجیح دینی چاہیے،
موجودہ وسائل کو کس کام لگائیں،
آمدنی کو کس طرح معاشرے میں تقسیم کریں،
اور معاشرے کو کس طرح ترقی دی جائے، یہ تمام کام ریاست یا اجتماعی طور معاشرہ انجام دیگی۔

04/07/2020

📚📚

Hale : تندرستی
Hap : قسمت یا موقع
Harry : غصہ دلانا
Hazy : دھندلا
Hermetic : پراسرار
Heresy : بدعت
Hindrance : رکاوٹ
Caliber : اہلیت
Callow : نا تجربہ کار
Canard : غلط رپورٹ
Dabble : غیر سنجیدہ
Dank : گیلا
Dearth : کمی
Debacle : تباہی
Debilitate : کمزورکرنا
Defer : ملتوی کرنا
Defile : آلودہ کرنا
Winsome : دلفریب، دلکش
Fickle : بدلنا
Crass : بے حس
Strew : بکھیرنا
Manifesto : منشور
Overwroughtبہت جوش میں
Pan : سخت تنقید کرنا
Patent : نمایاں
Patronize : حمایت کرنا
Ratify : درست کرنا
Refute : تردید کرنا
Repeal : منسوخ کرنا
Resilient : لچکدار
Grisly : خوفناک طریقے سے
Grouse : شکایت کرنا
Grudge : غصہ
Gruff : غیر شاٸستہ

04/07/2020

¶¶¶ Different types of phobia:-
1- Aquaphobia:- The fear of .
2- Katsaridaphobia:- The fear of .
3:- Monophobia:- The fear of .
4:- Nyctophobia:- The fear of .
5:- Pediophobia:- The fear of .
6:- Glossophobia:- The fear of speaking.
7:- Catoptrophobia:- The fear of .
8:- Apiphobia:- The fear of .
9:- Aerophobia:- The fear of .
10:- Hemophobia:- The fear of .
11:- Astraphobia:- The fear of /lightening.
12:- Mysophobia:- The fear of /dust.
13:- Acrophobia:- The fear of .
14:- Agoraphobia:- The fear of space.
15:- Ailurophobia:- The fear of .
16:- Amathophobia:- The fear of .
17:- Arachnophobia:- The fear of .
18:- Claustrophobia:- The fear of -inspaces.
19:- Emetophobia:- The fear of # vomiting .
20:- Ereuthophobia:- The fear of .
21:- Genophobia:- The fear of *x .
22:- keraunophobia:- The fear of .
23:- Microphobia:- The fear of / small things.
24:- Ochlophobia:- The fear of .
25:- Pathophobia:- The fear of .
26:- Ornithophobia:- The fear of .
27:- Pyrophobia:- The fear of .
28:- Pnigophobia:- The fear of .
29:- Xenophobia:- The fear of .
30:- Pteronophobia:- The fear of .
31:- Zoophobia:- The fear of .
32:- Triskaedekaphobia:- The fear of

14/06/2020

آج سندھ میں ایک بچہ پیدا ہوا اور
دوسرے صوبوں کی جانب اشارہ کر کے ہنس ہنس کر مر گیا۔
خبر۔۔۔۔سندھ حکومت کا سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں %10 اضافہ کا فیصلہ۔

08/06/2020

*Killer speech by Zimbabwe President Robert Mugabe:*

_"Racism will never end as long as white cars are stil using black tyres. Racism will never end if people still use black to symbolise bad luck and white for peace. Racism will never end if people still wear white clothes to weddings and black clothes to funerals. Racism will never end as long as those who don't pay their bills are blacklisted not white listed. Even when playing snooker, you haven't won until you've sunk the black ball, and the white ball must remain on the table! But I don't care, as long as *I'm still using white toilet paper to wipe my black ass, I'm happy."*

21/05/2020

صبح ہی صبح میاں بیوی کا خوب جھگڑا ہو گیا، بیگم صاحبہ غضبناک ہو کر بولیں... "بس، بہت کر لیا برداشت، اب میں مزید ایک منٹ بھی تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی"

میاں جی بھی طیش میں تھے... بولے...
"میں بھی تمہاری شکل دیکھ دیکھ کر تنگ آ چکا ہوں... دفتر سے واپس آوُں تو مجھے نظر نہ آنا گھر میں... اٹھاوُ اپنا ٹین ڈبا اور نکلو یہاں سے"... میاں جی غصے میں ہی دفتر چلے گئے...

بیگم صاحبہ نے اپنی ماں کو فون کیا اور بتایا کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بچوں سمیت میکے واپس آ رہی ہے... اب مزید نہیں رہ سکتی اس جہنم میں...

ماں نے کہا "بندے کی پتر بن کے آرام سے وہیں بیٹھ، تیری بڑی بہن بھی اپنے میاں سے لڑ کر آئی تھی، اور اسی ضد میں طلاق لے کر بیٹھی ہوئی ہے، اب تو نے وہی ڈرامہ شروع کر دیا ہے.. خبردار جو ادھر قدم بھی رکھا تو.... صلح کر لے میاں سے... اب وہ اتنا بُرا بھی نہیں ہے"...

ماں نے لال جھنڈی دکھائی تو بیگم صاحبہ کے ہوش ٹھکانے آئے اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں... جب رو کر تھکیں تو دل ہلکا ہو چکا تھا...
میاں کے ساتھ لڑائی کا سین سوچا تو اپنی بھی کافی غلطیاں نظر آئیں...

منہ ہاتھ دھو کر فریش ہوئی اور میاں کی پسند کی ڈش بنانی شروع کر دی... اور ساتھ سپیشل کھیر بھی بنا لی... سوچا شام کو میاں جی سے معافی مانگ لوں گی، اپنا گھر پھر بھی اپنا ہی ہوتا ہے...

شام کو میاں جی گھر آئے تو بیگم نے ان کا اچھے طریقے سے استقبال کیا... جیسے صبح کچھ بھی نہ ہوا ہو...

میاں جی کو بھی خوشگوار حیرت ہوئی...
کھانا کھانے کے بعد میاں جی جب کھیر کھا رہے تھے تو بولے
"بیگم، کبھی کبھار میں بھی زیادتی کر جاتا ہوں.. تم دل پر مت لیا کرو، بندہ بشر ہوں، غصہ آ ہی جاتا ہے"....

میاں جی بیگم کے شکر گزار ہو رہے تھے... اور بیگم صاحبہ دل ہی دل میں اپنی ماں کو دعائیں دے رہی تھیں... جس کی سختی نے اس کو یوٹرن لینے پر مجبور کیا تھا...ورنہ تو جذباتی فیصلے نے گھر تباہ کر دینا تھا...!!
۔
سبق: اگر والدین اپنی شادی شدہ اولاد کی ہر جائز ناجائز بات کو سپورٹ کرنا بند کر دیں تو رشتے بچ جاتے ہیں۔ آزما لیجئے....
مورخ

15/05/2020

صدقہ فطر: پیج لایک کریں۔۔۔
(عبدالقدیر شیخ صاحب اور کفایت اللہ ایڈوکیٹ صاحب کے سوالات کا جواب شیر کررہاہوں)

(1)صدقہ فطر جمہور محدیثین، ائمہ اور فقہاء کے مطابق ہر مسلمان، ازاد، غلام، مرد، عورت، چھوٹے، بڑے امیر غریب پر واجب ہے(،بخاری 2503،مسلم 984،نیل الاوطار 153/4، 58)۔
(2)(ا)احناف کے نیزدیک صدقہ فطر کے لیے انسان کا مالدار یعنی صاحب نصاب، ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کے برابر قیمت لازم ہے، اس سے کم لوگوں پر صدقہ فطر واجب نہیں (ردالمحتار 73/2)
(ب)امام مالک رح ، شافعی رح اور امام احمد رح کے نیزدیک اگر کسی کے پاس ایک رات دن سے زائد ایک صاع کی مقدار طعام ہے اس پر بھی فطرانہ دینا واجب یے(نیل الاوطار 156/4، 58)۔(جانبین کے ساتھ قران وسنت کے اپنے اپنے دلائل موجود ہیں )
(3)مقدار میں لمبا چھوڑا بحث ہے، ۔۔۔عام لوگوں کی اسانی کےلیے یہ ہے کہ، ایک دڑی کھجور، کشمش، یا دو سیر گندم۔۔۔۔یا اس کے برابر رقم، ۔۔۔اج کل گندم کے حساب سے، فطرانہ تقریباً 100روپے فی کس۔،اپنے اور اپنے زیر کفالت ،مثلا" بیوی،اولاد،خدام اور ہر وہ شخاص جن کی ولایت یا معاملات اس کے ذمہ ہے اور وہی نان نفقہ کا ذمہ دار ہے۔۔۔۔۔ کے طرف سے دینا ہوگا۔(الفقہ السنہ،السید السابق،396/1)...مزید ۔۔۔۔تفصیل کےلیے ملاحظہ ہو(تحفۃ الاحوذی 7/2،نیل الاوطار 155/4،المغنی 2 /240، 659، الفتح الربانی 147/9فقہ السنہ 92/2).
گندم جو، کھجور منقہ، پنیر، چاول، مکئ بھی دیا جاسکتاہے، ۔۔۔گندم دومد یعنی نصف صاع اور کجھور وغیرہ روایات ایاہے(بخاری 1508،مسلم985)
(4)واجب ہونے کا وقت: سب علماء کا اتفاق ہے کہ یہ رمضان کے اخر میں واجب ہوتا ہے۔
(ا) امام احمد رح ، اسحاق رح اور امام ثوری رح کے نزدیک رمضان کے اخری دن سورج غروب ہونے کے بعد ہے، ۔۔۔۔لہزا اس مسلک کے مطابق اگر کوئی بچہ اسی روز مغرب کے بعد اور عید کے روز طلوع فجر سے پہلے پیدا ہوا تو، اس پر فطرانہ واجب نہیں ۔اس طرح اگر کوئی شخص مغرب کے بعد اور عید کے روز طلوع فجر سے پہلے مر جائے اس کا صدقہ دینا ضروری ہے۔
(ب) احناف، اور داود ظاہری رح کے نیزدیک یہ وقت عید کے روز طلوع فجر کے بعد ہے۔۔۔۔اس مسلک کے مطابق اگر کوئی بچہ عید کے روز طلوع فجر سے پہلے اور اور مغرب کے بعد پیدا ہوجائے تو اس کا صدقہ فطر دینا واجب ہے، کیونکہ وہ صدقہ فطر واجب ہونے سے پہلے پیدا ہوا ہے، اس طرح اگر عید کے روز طلوع فجر سے پہلے کوئی شخص مرجائے تو اس کا صدقہ فطر واجب نہیں
(ج) امام مالک رح، اور شافعی رح سے دونو روایتیں ہیں ۔(المغنی 668/2).
(5)صدقہ فطر پیشگی ادا کیا جاسکتاہے....بلکہ عید سے پہلے ادا کرنا بہتر ہے تاکہ غریب بروقت انتظام کرسکے۔(بخاری 1511،مسلم 983،سنن ابی داؤد1613،،تحفتہ الاحوذی 29/2)
(6)مصارف، صدقہ فطر کے مصارف وہ ہے، جو زکواة کے ہیں ۔۔۔۔لہزا اپنے والدین اور اس سے اوپر دادا پردادا وغیرہ اور اپنی اولاد اور اسکے نیچے نسل یعنی پوتے وغیرہ کو نہیں دیا جاسکتا۔(سنن ابی داؤد 1609،سنن الدار قطنی 153/2)
(ا) مالکیہ، حنابلہ، شوافع، اور بعض دیگر ائمہ کا خیال ہے کہ یہ صرف مسلمان فقراء کو دیا جا سکتا ہے
(ب) امام ابوحنیفہ ،امام زہری، امام محمد، اور امام شبرمہ رحمت اللہ علیھم اور بعض دوسرے ائمہ کا خیال ہے کہ صدقہ فطر، غیر مسلم غریبوں کو بھی دیا جاسکتا ہے، یعنی ذمی کو(،۔۔۔الممتحنہ 60/ایت 8المغنی 667/2، ردالمحتار 369/2)۔۔ ڈاکٹر ذاہد شاہ

13/05/2020

ایک SHO اگر لاک ڈاؤن میں پورا شہر بند کرا سکتا ہے تو پھر فحاشی، منشیات، جُوے اور بدمعاشی کے اڈے بند کیوں نہیں کرا سکتا؟
مورخ

Want your school to be the top-listed School/college in Mardan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Mardan