16/04/2026
عنوان: مذی اور ودی کسے کہتے ہیں، اور ان کا حکم کیا ہے؟
سوال:
’’مذی‘‘ اور ’’ودی‘‘ میں کیا فرق ہے؟ اور ان میں سے کس سے وضو ٹوٹتا ہے؟ اور کس سے کپڑے ناپاک ہو جاتے ہیں ؟ اور ان کا رنگ کیسا ہوتا ہے؟ اور اگر کوئی شخص بیمار ہو بلا شہوت کے مذی یا ودی نکلے اس کے لیے کیا حکم ہے؟
--------------------------------------------------------------------------
جواب:
واضح رہے کہ مرد و زن کی اگلی شرم گاہ سے پیشاب کے علاوہ تین قسم کے مادے نکلتے ہیں: منی، مذی اور ودی۔
مرد کی منی گاڑھی اور سفید رنگ کی ہوتی ہے اور عورتوں کی منی پتلی اور زرد رنگ کی گولائی والی ہوتی ہے، مردوں کی لمبائی میں پھیلتی ہے۔ منی لذت سے شہوت کے ساتھ کود کر نکلتی ہے اس کے بعد عضو کا انتشار ختم ہوجاتا ہے، تر ہونے کی صورت میں اس میں خرما کے شگوفہ جیسی بو اور چپکاہٹ ہوتی ہے، اور خشک ہوجانے کے بعد انڈے کی بو ہوتی ہے۔
جب کہ مذی پتلی، سفیدی مائل پانی کی طرح رنگ کی ہوتی ہے، جو شہوت کے وقت بغیر شہوت کے نکلتی ہے، اس کے نکلنے پر شہوت قائم رہتی ہے، اس میں کمی نہیں آتی، بلکہ شہوت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔
اور ودی سفید گدلے رنگ کی گاڑھی ہوتی ہے جو پیشاب کے بعد اور کبھی اس سے پہلے اور کبھی ج**ع یا غسل کے بعد بلا شہوت نکلتی ہے۔
مذی یا ودی نکلنے کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتاہے، ان دونوں سے غسل فرض نہیں ہوتا، البتہ ان کے خروج کے بعد نماز و دیگر عبادات، جیسے قرآن مجید کی تلاوت وغیرہ کے لیے وضو کرنا ضروری ہوتا ہے۔
مراقي الفلاح مع الطحطاويمیں ہے:
"المني" وهو ماء أبيض ثخين ينكسر الذكر بخروجه يشبه رائحة الطلع ومني المرأة رقيق أصفر. وفي الطحطاوي علي المراقي: قوله: "يشبه رائحة الطلع" أي عند خروجه ورائحة البيض عند يبسه". ( "فصل ما يوجب" أي يلزم "الاغتسال، / ٩٦)
مراقي الفلاح میں ہے:
"منها مذي.... وهو ماء أبيض رقيق يخرج عند ش**ة لا بش**ة ولا دفق ولا يعقبه فتور وربما لا يحس بخروجه وهو أغلب في النساء من الرجال.ويسمى في جانب النساء قذى بفتح القاف والدال المعجمة. "و" منها "ودي" بإسكان الدال المهملة وتخفيف الياء وهو ماء أبيض كدر ثخين لا رائحة له يعقب البول وقد يسبقه أجمع العلماء على أنه لايجب الغسل بخروج المذي والودي". (حاشية الطحطاوی علی المراقي، فصل: عشرة أشياء لايغتسل، ١ / ١٠٠ - ١٠١)
تنوير الأبصار مع الدر المختارمیں ہے:
"(لَا) عِنْدَ (مَذْيٍ أَوْ وَدْيٍ) بَلْ الْوُضُوءُ مِنْهُ وَمِنْ الْبَوْلِ جَمِيعًا عَلَى الظَّاهِرِ". (الشامیة، ١/ ١٦٥،ط: سعيد)
مذی اور ودی نجاست غلیظہ ہے،اورحکم یہ ہے کہ نجاستِ غلیظہ اگرایک درہم (ہاتھ کی ہتھیلی کے گڑھے:5.94 مربع سینٹی میٹر)سے کم مقدارمیں کپڑے پرلگی ہوتو (اگرچہ اس مقدارمیں بھی نجاست کودھولیناچاہیے تاہم ) وہ معاف ہے ،یعنی نمازکراہت کے ساتھ ہوجائے گی۔ اوراگرایک درہم کی مقدارسےزائدہو تو ایسے کپڑے میں نمازنہیں ہوگی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"( وعفا ) الشارع ( عن قدر درهم ) وإن كره تحريماً، فيجب غسله وما دونه تنزيهاً فيسن، وفوقه مبطل ( وهو مثقال ) عشرون قيراطاً ( في ) نجس ( كثيف ) له جرم ( وعرض مقعر الكف ) وهو داخل مفاصل أصابع اليد ( في رقيق من مغلظة كعذرة ) آدمي وكذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء أو غسل مغلظ". (1/316،ط:بیروت)
بیمار شخص کے لیے بھی مذی اور ودی کا یہی حکم ہے۔ فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144102200364
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
منقول___🥀
ِ_دیوبند
゚viralシ #اسلام
16/01/2026
عنوان: *مگرا / شارک کھانے کا حکم*
سوال:
"مگرا مچھلی" کھانا کیسا ہے؟
جواب:
احناف رحمہم اللہ کے نزدیک سمندری مخلوقات میں سے صرف مچھلی کا کھانا حلال ہے ، مچھلی کے علاوہ کسی اور سمندری جانور کا کھانا جائز نہیں ہے۔
"احکام القرآن" للجصاص میں ہے :
" الأولیٰ: قوله تعالیٰ : ﴿ أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ ﴾ هذا حکم بتحلیل صید البحر، وهو کل ما صید من حیتانه ...الثالثة : قال أبو حنیفة : ... لایؤکل شيء من حیوان البحر إلا السمک، وهو قول الثوری في روایة أبي إسحاق الفزاري عنه". ( 3/670) سورۃالمائدۃ آیت 96 ط :قدیمی )
"الدرمع الرد" میں ہے :
"(ولا) يحل (حيوان مائي إلا السمك) الذي مات بآفة ولو متولداً في ماء نجس ولو طافيةً مجروحةً، وهبانية، (غير الطافي) على وجه الماء الذي مات حتف أنفه. (قوله: ولو متولداً في ماء نجس) فلا بأس بأكلها للحال؛ لحله بالنص".(6/306۔307 کتاب الذبائح ط : سعید )
"بدائع الصنائع" میں ہے :
" أما الذي يعيش في البحر فجميع ما في البحر من الحيوان محرم الأكل إلا السمك خاصةً؛ فإنه يحل أكله إلا ما طفا منه، وهذا قول أصحابنا - رضي الله عنهم-". ( 5/35 کتابالذبائح والصیود ط :سعید)
پس سمندری مخلوقات میں سے صرف مچھلی حلال ہے، اب اس بات کی تحقیق درکار ہے کہ آیا "مگرا" اور "شارک" مچھلی میں داخل ہیں یا نہیں ؟، اور مچھلی کی انواع واقسام میں مچھلی کے ماہرین کی رائے معتبر ہے کہ وہ مچھلی ہے یا نہیں? اہلِ لسان اورا ہلِ لغت کے بعد آخری رائے ماہرین ہی دے سکتے ہیں ۔
اور مچھلی کے بارے میں مہارت ساحلِ سمندر پر رہنے والوں کو ہوتی ہے جن کے اکثر اوقات اسی میں گزرتے ہیں۔وہ ماہر ہوتے ہیں لہذا ان کی رائے اور عرف معتبر ہوگا جو علماء اس بارے میں واقف ہیں انہیں اہلِ لسان اور پھر اہلِ عرف کی طرف رجوع کرنا ہوگا ۔
لہذا “شارک ” جس کو عامی زبان میں ” مگرا” کہتے ہیں اور عربی زبان میں اس کو قرش “اور ” کوسج ” کہا جاتا ہے ۔اہلِ لغت اور اہلِ لسان نےا س ( شارک / مگرا ) کو مچھلی کی قسم میں سے شمار نہیں کیا۔
تفسیر روح المعانی میں ہے :
"وهو في الأصل تصغير قرش بفتح القاف اسم لدابة في البحر أقوى دوابه تأكل ولا تؤكل وتعلو ولا تعلى، وبذلك أجاب ابن عباس معاوية لما سأله: لم سميت قريش قريشاً؟ وتلك الدابة تسمى قرشاً كما هو المذكور في كلام الحبر". ( 15/471 سورۃ قریش ط: دارالکتب العلمیۃ )
تفسير الثعلبي = الكشف والبيان عن تفسير القرآن :
"وسأل معاوية عبد الله بن عباس: لم سمّيت قريش قريشاً؟ فقال: لدابّة في البحر يقال لها: القرش، تأكل ولا تؤكل، وتعلو ولا تعلى. قال: وهل يعرف العرب ذلك في أشعارهم؟ قال: نعم:
وقريش هي التي تسكن البحر بها ... سميت قريش قريشاً. سلطت بالعلو في لجّة البحر ... على ساير البحور جيوشاً. تأكل الغثّ والسمين ولا تترك فيه ... لذي جناحين ريشاً. هكذا في البلاد حي قريش ... يأكلون البلاد أكلاً كميشاً. ولهم آخر الزمان نبيّ ... يكثر القتل فيهم والخموشا. يملأ الأرض خيله ورجالاً ... يحسرون المطيّ حسراً كشيشاً". (10/ 301)
تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير :
"أنه تصغير القرش وهو دابة عظيمة في البحر تعبث بالسفن، ولا تنطلق إلا بالنار". (32/ 296)
لسان العرب :
"والقِرْشُ: دَابَّةٌ تَكُونُ فِي الْبَحْرِ المِلْح؛ عَنْ كُرَاعٍ. وقُرَيشٌ: دابةٌ فِي الْبَحْرِ لَا تدَع دَابَّةً إِلا أَكلتها فَجَمِيعُ الدواب تخافُها". (6/ 335)
القاموس المحيط :
"القرش، وهو دابة بحرية تخافها دواب البحر كلها". (ص: 602)
تاج العروس :
"سميت بمصغر القرش، وهي دابة بحرية تخافها دواب البحر كلها، وقيل: إنها سيدة الدواب، إذا دنت وقفت الدواب، وإذا مشت مشت".(17/ 324)
الرائد میں ہے :
" القرش :ج : قروش 1۔ الغرش، 2۔ حیوان بحری یعرق “کلب البحر ” یقطع بأسنانه یخافه الإنسان والسمک". ( ج :2 ص:1161 )
القاموس العصری انگلش عربی ڈکشنری میں ہے:
"shark.قرش _____ كلب البحر".(مؤلف الیاس الظنون، ص: 348، ط: مطبعۃ المصریہ)
مجموعہ فتاویٰ مولانا عبدالحیٰ الکھنوی ؒ میں ہے :
اسی طرح ” کوسج ” اور قرش بھی مچھلیاں نہیں ۔ کیوں کہ یہ امام شافعیؒ کے نزدیک مختلف فیہ ہیں، حال آں کہ وہ تمام بحری جانوروں کے کھانے کو جائز لکھتے ہیں ۔پھر وہ ہمارے نزدیک کس طرح جائز ہوسکتے ہیں؟ اورا س لیے کہ ان میں مچھلیوں کی مندرجہ بالا علامتوں میں سے کوئی علامت نہیں پائی جاتی ۔مفتی فصیح الدین اپنے رسالہ ” احکام الحیوان“ میں لکھتے ہیں کہ ” قرش“ ایک بڑ اجانور ہے اس کو ”سیدالدواب“ کہتے ہیں ۔اورقریش لقب اسی سے ماخوذ ہے ۔ا ورسواحل بلاد مغرب میں اس کو ”اثرار موری“ کہتے ہیں ۔وہ امام صاحب کے نزدیک حرام ہے اور ائمہ ثلاث کے نزدیک حلال ۔ اور محمودشاہ ؒ اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں ۔” السمک ماله شق وشوک “ مچھلی وہ ہےجس کی دم کے دو ٹکڑے ہوں، اور جس میں کانٹے ہوں اوراسی میں ہے ۔
”والسمک ماله فلوس وما یبض في الماء وماله شقاق و یکون مولده ومعایشه في الماء ولیس له لسان“. ”اصلاً مچھلی وہ ہے جس کے سفتے ہوں اور جو پانی میں سفید دکھائی دے اور جس کی دم کے دو ٹکڑوں ہوں۔اور اس کی پیدائش اور زندگی پانی میں ہو۔اور جس کی زبان نہ ہو“۔ اس سے معلوم ہوا کہ مچھلی کی سب سے مشہور علامت سفتے ہیں ۔۔۔ قرش اور کوسج کے اوپر سفتے نہیں ہوتے اور ان کی دم پھٹی نہیں ہوتی اور ان میں کانٹے نہیں ہوتے ۔اور انسان کے جسم کو تیز تلوار کی طرح کاٹ دیتے ہیں“ ۔ ( مجموعہ فتاویٰ ۔22/229 ط : سعید کراچی )
شارک اور مگرا کے حرام ہونے کی ایک مستقل وجہ ” مگرا “ کا ” درندہ “ ہونا بھی ہے؛ اس لیے کہ درندہ جانور حرام ہوتے ہیں ۔
الرائد میں ہے :
" القرش :ج : قروش 1. الغرش، 2. حیوان بحری یعرق ”کلب البحر“ یقطع بأسنانه یخافه الإنسان والسمک". ( ج :2 ص:1161 )
ابو داؤد شریف میں ہے :
"عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ". (2/172 ط : رحمانیہ ۔لاہور )
فتاوی شامی میں ہے :
"(ولا يحل) (ذو ناب يصيد بنابه) فخرج نحو البعير (أو مخلب يصيد بمخلبه) أي ظفره فخرج نحو الحمامة (من سبع) بيان لذي ناب. والسبع: كل مختطف منتهب جارح قاتل عادةً.
(قوله: ولا يحل ذو ناب إلخ) كان الأنسب ذكره هذه المسائل في كتاب الصيد؛ لأنها منه إلا الفرس والبغل والحمار أتقاني، والدليل عليه «أنه صلى الله عليه وسلم نهى عن أكل كل ذي ناب من السباع، وكل ذي مخلب من الطير». رواه مسلم وأبو داود وج**عة. والسر فيه أن طبيعة هذه الأشياء مذمومة شرعاً فيخشى أن يتولد من لحمها شيء من طباعها فيحرم إكراماً لبني آدم، كما أنه يحل ما أحل إكراماً له ط عن الحموي. وفي الكفاية: والمؤثر في الحرمة الإيذاء وهو طوراً يكون بالناب وتارةً يكون بالمخلب أو الخبث، وهو قد يكون خلقةً كما في الحشرات والهوام، وقد يكون بعارض كما في الجلالة". (کتاب الذبائح (6/304) ط :سعید کراچی )
"مگرا" اور"شارک" سے متعلق ہماری اس تحقیق پر یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ علامہ دمیری رحمہ اللہ نے "حیات الحیوان" میں شارک ( مگرا ) کو مچھلی کی قسم قراردے کر حلال کہا ہے وہ فرماتے ہیں :
”وإطلاق الجهور، ونص الإمام الشافعي والقرآن العزیز یدل علی جواز أکل القرش؛ لأنه من السمک ومما لایعش إلا في الماء“.( حیات الحیوان، 2/208، ط: مصطفی البابی، مصر)
اس کا جواب یہ ہے کہ "حیات الحیوان" کے مؤلف علامہ کمال الدین موسی الدمیری، شافعی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے بارے میں خود علامہ دمیری رحمہ اللہ نے "حیات الحیوان " میں ہی یہ تصریح کی ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ تمام سمندری مخلوقات پر "سمک (مچھلی)" کا اطلاق فرماتے ہیں ، علامہ دمیری رحمہ اللہ نے بھی اسی اعتبار سے اس کو مچھلی کی قسم قرار دے کر حلال کہا ہے۔
"حیاۃ الحیوان" میں ہے:
"(فرع) قد اختلف في إطلاق اسم السمك علي ما سوى الحوت من هذه الحيوانات، والذي نص عليه الشافعي في "الأم" و "المختصر": أنه يطلق على الجميع، وهو الصحيح في الروضة".(1/570،ط: مصطفی البابی، مصر)
لہذا مذکورہ قول سے احناف پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا، حاصل یہ ہوا کہ "شارک / مگرا " کا کھانا ناجائز اور مکروہِ تحریمی ہے۔
یہ حکم"مگرا" کا ہے، جسے انگریزی میں "شارک" اور عربی میں "قرش" کہتے ہیں، اس کے علاوہ اس سے الگ ایک سمندری مچھلی بھی ہے جسے " مگرا مچھلی" کہتے ہیں ، یہ دونوں الگ الگ ہیں، مگرا کھانا ناجائز ہے، اور مگرا مچھلی حلال ہے، ماہرین اور مچھیرے ان دونوں کا فرق پہچانتے ہیں، ایک ظاہری فرق یہ ہوتا ہے کہ "مگرا" کا رنگ مکمل طور پر بھینس کی طرح یا اس کی طرف مائل ہوتا ہے، جب کہ مگرا مچھلی کا رنگ بھی ایسا ہوتا ہے، لیکن اس کے پیٹ کی طرف والا حصہ سفید رنگ کا ہوتا ہے، اور دونوں کے کان کے حصے میں کچھ فرق ہوتا ہے۔ فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 143909201886
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
منقول___🥀
ِ_دیوبند
゚viralシ
28/03/2025
سوال:
ہمارا نکاح ہوئے بھی پندرہ دن گذرے ہیں، ہم دونوں نے روزہ کی حالت میں اورل سیکس (oral s*x) کرلیا غلطی سے تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟ اگر ٹوٹا ہے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟
کیا رمضان کے مہینے میں رات میں مباشرت کرسکتے ہیں؟ پوری تفصیل بتائیں۔
-------------------------------------------------------------------------
جواب نمبر: 171110
بسم الله الرحمن الرحيم
(١) : اورل سیکس، یعنی: عورت کا مردکی اگلی شرمگاہ اپنے منھ میں لینا یا مرد کا عورت کی شرمگاہ چاٹنا، جانوروں کا طریقہ ہے، مسلمانوں کو اِس سے بچنا چاہیے۔ اور اگر کسی نے روزہ کی حالت میں بیوی سے اورل سیکس کیا اور انزال ہوگیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا؛ البتہ صرف قضا واجب ہوگی، کفارہ نہیں۔ اور اگر انزال نہیں ہوا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
أو جامع فیما دون الف*ج ولم ینزل یعني: في غیر السبیلین کسرة وفخذ ……لم یفطر (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم ومالا یفسدہ، ۳: ۳۷۰، ۳۷۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”ولم ینزل“: أما لو أنزل قضی فقط کما سیذکرہ المصنف أي: بلا کفارة، قال في الفتح: وعمل المرأتین کعمل الرجال ج**ع أیضاً فیما دون الف*ج، لا قضاء علی واحدة منھما إلا إذا أنزلت، ولا کفارة مع الإنزال اھ (رد المحتار)۔
(۲) : جی ہاں! رمضان میں رات میں صبح صادق سے پہلے تک یعنی: سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے تک بیوی سے مباشرت کرسکتے ہیں۔
قال اللہ تعالی: أحل لکم لیلة الصیام الرفث إلی نسائکم الآیة (سورة البقرة، رقم الآیة:۱۸۷)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
Fatwa:829-688/N=10/1440
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
منقول___🥀
ِ_دیوبند
゚viralシ
21/03/2025
سوال:
میں نے روزے کی حالت میں اپنی زوجہ کے پستان کے سائیڈ کے حصے کو منہ میں لیا جس جگہ سے دودھ نکلتا ہے وہ نہیں ، کیا میرا روزہ ادا ہو گیا؟
-------------------------------------------------------------------------
جواب:
صورتِ مسئولہ میں اگر اس عمل سے انزال نہیں ہوا تو روزہ فاسد نہیں ہوا، البتہ روزے کی حالت میں اس طرح کرنا مکروہ ہے، اس سے اجتناب کیا جائے، لیکن اگر انزال ہوگیا روزہ فاسد ہوجائے گا، قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) كره (قبلة) ومس ومعانقة ومباشرة فاحشة (إن لم يأمن) المفسد وإن أمن لا بأس.
و في الرد : (قوله: وكره قبلة إلخ) جزم في السراج بأن القبلة الفاحشة بأن يمضغ شفتيها تكره على الإطلاق أي سواء أمن أو لا، قال في النهر: والمعانقة على التفصيل في المشهور، وكذا المباشرة الفاحشة في ظاهر الرواية، وعن محمد كراهتها مطلقاً، وهو رواية الحسن، قيل: وهو الصحيح. اهـ. واختار الكراهة في الفتح، وجزم بها في الولوالجية بلا ذكر خلاف، وهي أن يعانقها وهما متجردان ويمس ف*جه ف*جها، بل قال في الذخيرة: إن هذا مكروه بلا خلاف؛ لأنه يفضي إلى الج**ع غالباً. اهـ. وبه علم أن رواية محمد بيان لكون ما في ظاهر الرواية من كراهة المباشرة ليس على إطلاقه، بل هو محمول على غير الفاحشة، ولذا قال في الهداية: والمباشرة مثل التقبيل في ظاهر الرواية، وعن محمد أنه كره المباشرة الفاحشة اهـ وبه ظهر أن ما مر عن النهر من إجراء الخلاف في الفاحشة ليس مما ينبغي، ثم رأيت في التتارخانية عن المحيط: التصريح بما ذكرته من التوفيق بين الروايتين وأنه لا فرق بينهما، ولله الحمد".
(کتاب الصوم،باب مایفسد الصوم ومالایفسدہ،ج:۲،ص:۴۱۷،ط؛سعید)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144309100525
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
منقول___🥀
ِ_دیوبند
゚viralシ
20/03/2025
سوال:
روزے کی حالت میں تیل کی مالش کرنا جائز ہے، جسم کے کسی بھی حصہ میں؟
-------------------------------------------------------------------------
جواب:
روزہ کی حالت میں پورے جسم پر تیل لگانا جائز ہے، اس سے روزہ پر کوئی نقصان نہیں آتا۔ البتہ اگر تیل منفذ (یعنی اصلی راستے جیسے: کان وغیرہ) سے جسم کے اندر (مثلًا کان کے پردے کے اندر تک) داخل ہوگیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا۔
الدر المختار و حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (ج:2، ص:395، ط:دار الفكر-بيروت):
’’(أو أدهن أو اكتحل أو احتجم) وإن وجد طعمه في حلقه.
(قوله: وإن وجد طعمه في حلقه) أي طعم الكحل أو الدهن، كما في السراج.‘‘
فقط و الله أعلم
فتوی نمبر : 144209201950
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
منقول___🥀
ِ_دیوبند
゚viralシ
19/03/2025
سوال:
کیا منہ بھر کے قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
-------------------------------------------------------------------------
جواب:
اگر کسی شخص کو روزے کی حالت میں قے (اُلٹی) ہو جائے تو اس کی چند صورتیں ہو سکتی ہیں:
1۔ قے خود بخود ہوئی اور منہ بھر کر نہیں تھی، بلکہ کم تھی تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس سے روزہ فاسد نہیں ہو گا۔
2۔ قے خود بخود ہوئی اور منہ بھر کر ہوئی، اس کا حکم بھی یہ ہے کہ اس سے روزہ فاسد نہیں ہو گا۔
3۔ قے خود بخود نہیں ہوئی، بلکہ قصداً قے کی اور منہ بھر کر نہیں کی تو اس سے بھی روزہ فاسد نہیں ہو گا۔
4۔ قے خود بخود نہیں ہوئی، بلکہ قصداً قے کی اور منہ بھر کر کی تو اس صورت میں روزہ فاسد ہو جائے گا۔
5۔ قے منہ بھر کر ہوئی اور ساری قے یا اس میں سے چنے کے برابر مقدار یا اس سے زائد کو روزہ یاد ہوتے ہوئے خود جان بوجھ کر اپنے اختیار سے اندر اتار دیا تو اس سے روزہ فاسد ہو جا ئے گا۔ فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144008201258
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
منقول___🥀
ِ_دیوبند
゚viralシ
10/03/2025
سوال:
روزے کی حالت میں کلی کرتے وقت اگر منہ میں پانی جانے کا شک ہو تو کیا کرے؟
جواب:
صورتِ مسئولہ میں روزہ دار کو واقعۃً اگر کلی کرتے وقت حلق میں پانی جانے کا شک ہےتو محض شک سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
الأشباہ والنظائر میں ہے :
"اليقين لا يزول بالشك،الأصل بقاء ما كان على ما كان،أكل آخر الليل وشك في طلوع الفجر صح صومه؛ لأن الأصل بقاء الليل، وكذا في الوقوف، والأفضل أن لا يأكل مع الشك وعن أبي حنيفة رحمه الله أنه أمسى بالأكل مع الشك إذا كان ببصره علة، أو كانت الليلة مقمرة، أو متغيمة، أو كان في مكان لا يستبين فيه الفجر، وإن غلب على ظنه طلوعه لا يأكل، فإن أكل فإن لم يستبن له شيء،لاقضاءعليه في ظاهر الرواية."
(الفن الأول: القواعد الكلية، القاعدة الثالثة، ص:49، ط:سعيد)
فقط والله أعلم
فتوی نمبر : 144509100293
دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
منقول___🥀
ِ_دیوبند
゚viralシ
06/06/2024
سوال:
ایک جانور بچھڑا جس کی عمر دو سال پورے ہو گئے ہیں مگر اس نے دانت اب تک گرائے نہیں ہیں، کیا اس جانور کی قربانی جائز ہے؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جواب:
شریعتِ مطہرہ میں قربانی کے جانور کی قربانی درست ہونے کے لیے ان کے لیے ایک خاص عمر کی تعیین ہے، یعنی بکرا ، بکری وغیرہ کی عمر ایک سال، گائے، بھینس وغیرہ کی دو سال، اور اونٹ ، اونٹنی کی عمر پانچ سال پورا ہونا ضروری ہے، دنبہ اور بھیڑ وغیرہ اگر چھ ماہ کا ہو جائے، لیکن وہ صحت اور فربہ ہونے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی بھی درست ہو گی۔
اگر یقینی طور پر معلوم ہو کہ ان جانوروں کی اتنی عمریں ہو گئی ہیں (مثلاً: جانور کو اپنے سامنے پلتا بڑھتا دیکھا ہو اور ان کی عمر بھی معلوم ہو) تو ان کی قربانی درست ہے، پکے دانت نکلنا ضروری نہیں، بلکہ مدت پوری ہونا شرط ہے۔ تاہم آج کل چوں کہ فساد کا غلبہ ہے؛ اس لیے صرف بیوپاروی کی بات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا احتیاطاً دانت کو عمر معلوم کرنے کے لیے علامت کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، دانتوں کی علامت ایسی ہے کہ اس میں کم عمر کا جانور نہیں آسکتا ، ہاں زیادہ عمر کا آنا ممکن ہے، یعنی تجربے سے یہ بات ثابت ہے کہ مطلوبہ عمر سے پہلے جانور کے دو دانت نہیں نکلتے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ بچھڑے کی عمر یقینی طور پر پوری ہو چکی ہو تو دانت آئیں یا نہ آئیں قربانی درست ہو جائے گی، اور اگر یقینی طور پر اس کی عمر دو سال مکمل ہونا معلوم نہ ہو تو اس صورت میں احتیاطاً دانت آنے پر ہی اس بچھڑے کی قربانی کی جائے، اس لئے کہ مقرر عمر سے کم عمر کے جانور کی قربانی سے قربانی درست نہیں ہوتی۔
الفتاوى الهنديةمیں ہے:
"(وأما سنّه) فلايجوز شيء مما ذكرنا من الإبل والبقر والغنم عن الأضحية إلا الثني من كل جنس وإلا الجذع من الضأن خاصةً إذا كان عظيماً، وأما معاني هذه الأسماء فقد ذكر القدوري: أن الفقهاء قالوا: الجذع من الغنم ابن ستة أشهر، والثني ابن سنة. والجذع من البقر ابن سنة، والثني منه ابن سنتين. والجذع من الإبل ابن أربع سنين، والثني ابن خمس. وتقدير هذه الأسنان بما قلنا يمنع النقصان، ولايمنع الزيادة، حتى لو ضحى بأقل من ذلك شيئاً لايجوز، ولو ضحى بأكثر من ذلك شيئاً يجوز ويكون أفضل" ( ٥ / ٢٩٧ ) .
(کفایت المفتی ، ٨ / ٢١٧، ط: دار الاشاعت)۔ فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144111200662
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
منقول 🥀🤲
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ِ_دیوبند
30/04/2024
سوال:
ایک مرد و عورت سے زنا ہو گیا، اس عورت کی اولاد اپنے شوہر سے ہے اور زنا سے کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی ہے، اپنے شوہر سے اولاد ہے، سوال یہ ہے کیا وہ مرد اور عورت جن سے زنا ہو گیا، ان کی اولاد کی آپس میں شادی جائز ہے؟
جواب:
زنا یا دواعی زنا (مثلًا: عورت کو شہوت کے ساتھ کسی حائل کے بغیر چھونے یا بوسہ لینے سے) حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے، یعنی اس عورت کے اصول (ماں ،دادی وغیرہ) اور فروع (بیٹی، پوتی غیرہ) مرد پر حرام ہو جائیں گے اور اس مرد کے اصول ( باپ ، دادا وغیرہ ) اور فروع (بیٹا، پوتا وغیرہ)، عورت پر حرام ہو جائیں گے۔ لیکن ان دونوں کے اصول و فروع آپس میں ایک دوسرے پر حرام نہیں ہوں گے؛ اس لیے وہ مرد اور عورت جنہوں نے باہم زنا کیا ہو، ان کی اولاد کا آپس میں نکاح ہو سکتا ہے، تاہم زنا کرنے والے مرد اور عورت کو اپنے گناہ پر سچے دل سے توبہ و استغفار کرنا لازم ہوگا، اور آئندہ تنہائی میں ملاقات یا بے محابا تعلق و رابطے سے اجتناب ضروری ہوگا۔
شامی(32/2):
"(قوله: و حرم أيضًا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبًا و رضاعًا و حرمة أصولها و فروعها على الزاني نسبًا و رضاعًا كما في الوطء الحلال و يحلّ لأصول الزاني و فروعه أصول المزني بها و فروعها."
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144206200158
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
منقول 🖋📖🥀
ِ_دیوبند
゚viralシ
24/04/2024
سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ایک عورت سے زنا کیا اور اس عورت کی ایک لڑکی تھی جس سے زید محبت کرنے لگا تھا اور پھر بعد میں اسی لڑکی سے نکاح بھی کر لیا اب زید کے اس لڑکی سے دو بچے ہیں ایک تین سال کی بچی ہے اور ایک چھ ماہ کا بیٹا ہے تو کیا یہ نکاح درست ہوگا اور ان بچوں کا نسب کیسے ہوگا، جبکہ زید نے اسی لڑکی کی ماں سے زنا کیا تھا، لڑکی سےنکاح کرنے سے پہلے، ابھی زید کو اس مسئلہ کے متعلق کچھ علم ہوا کہ جس عورت سے زنا ہو جائے اس کی لڑکی سے نکاح نہیں ہو سکتا کیا یہ درست ہے؟ اگر نہیں ہو سکتا تو اب جب اس لڑکی سے شادی ہو کر قریب چار سال ہوگئے اور دو بچے بھی ہیں ( اور زید اور اس کی بیوی بچے سب الحمدللہ اپنی زندگی میں خوش ہیں) لیکن زید کو اس مسئلہ کا علم نکاح سے پہلے نہیں تھا تو اب زید اس مسئلے سے کیا کرے اس مسئلہ کو لیکر زید بہت پریشان اور اپنے اس بدعمل سے بہت شرمندہ ہے کہ یہ تو بہت بڑا گناہ ہوا تھا مجھ سے، برائے کرم اس پر رہنمائی فرمائیں.
جواب:
فقہی نقطہ نظر سے زنا کرنے سے مرد و عورت کے درمیان حرمت مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے۔ جس کے تحت زانی اور مزنیہ کے اصول و فروع ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں، لہذا اس ضابطہ کے تحت صورت مسؤلہ میں جس عورت سے زنا کیا تھا اُس کی بیٹی سے لا علمی کی بنا پر کیا گیا نکاح ، نکاحِ فاسد ہے، جس کی وجہ سے مرد پر لازم ہے کہ بیوی کو فوری طور پر جدائی کے الفاظ (طلاق وغیرہ ) کہہ کر جدا کر دے، البتہ اس نکاح کے نتیجے میں پیدا شدہ بچے اسی شخص سے ثابت النسب ہیں اور بیوی پر بھی جدائی کے بعد عدت لازم ہوگی۔
فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت.(الفتاوی الهنديه،كتاب النكاح ،الباب الثالث في بيان المحرمات،ج:1،ص:339)
(ويجب مهر المثل في نكاح فاسد بالوطئ)... (وتجب العدة بعد الوطئ)... (ويثبت النسب) احتياطا. (الدرالمختارعلی صدر رد المحتار،کتاب النکاح،باب المهر،ج:4،ص:274،276،277)
فتویٰ نمبر : 6405/297/324
دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
تاریخ تصدیق : 2022-06-28
منقول 📖🖋🥀
ِ_دیوبند
゚viralシ
03/04/2024
سوال:
روزہ کی حالت میں میاں بیوی میں صرف آپس میں شرمگاہ رگڑ لیں باہر اور مرد کا ذکر ف*ج میں داخل نہ ہو تو روزہ پر کیا اثر پڑے گا؟ اور اگر میاں بیوی دونوں شلوار پہنے ہوۓ ہوں اور شوہر کی شرمگاہ کا تھوڑا حصہ اسی حالت میں اندر چلا جاۓ تو روزہ پر کیا اثر پڑے گا؟
جواب:
روزے کی حالت میں میاں بیوی کا آپس میں شرم گاہ کا برہنہ بدن ملانا ہر حال میں مکروہ ہے، اور کپڑے کے ساتھ بھی مذکورہ صورت میں اگر انزال کا یا نفس کے بے قابو ہوکر ج**ع میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہو تو مکروہ ہے، ان دونوں صورتوں میں اگر انزال ہو گیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا، قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔
باقی اگر کپڑے کے ساتھ آلہ تناسل کا معمولی حصہ (سپاری سے کم) اندر گیا ہو تو انزال نہ ہونے کی صورت میں اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، اور کپڑے کے ساتھ آلہ تناسل کا اگلا حصہ (سپاری کے بقدر) اندر چلا گیا تو اگر کپڑا اتنا موٹا تھا کہ شرمگاہ کی حرارت محسوس نہیں ہوئی تو اس کا بھی یہی حکم ہوگا، اور اگر کپڑا اتنا باریک تھا شرمگاہ کی حرارت بھی محسوس ہوئی ہو اور آلہ تناسل کے سپاری کے بقدر حصہ اندر چلے گیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا، قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) كره (قبلة) و مس و معانقة و مباشرة فاحشة (إن لم يأمن) المفسد و إن أمن لا بأس.
(قوله: وكره قبلة إلخ) جزم في السراج بأن القبلة الفاحشة بأن يمضغ شفتيها تكره على الإطلاق أي سواء أمن أو لا، قال في النهر: و المعانقة على التفصيل في المشهور، وكذا المباشرة الفاحشة في ظاهر الرواية، وعن محمد كراهتها مطلقاً، وهو رواية الحسن، قيل: وهو الصحيح. اهـ. واختار الكراهة في الفتح، وجزم بها في الولوالجية بلا ذكر خلاف، و هي أن يعانقها و هما متجردان ويمس ف*جه ف*جها، بل قال في الذخيرة: إن هذا مكروه بلا خلاف؛ لأنه يفضي إلى الج**ع غالباً. اهـ. و به علم أن رواية محمد بيان لكون ما في ظاهر الرواية من كراهة المباشرة ليس على إطلاقه، بل هو محمول على غير الفاحشة، و لذا قال في الهداية: و المباشرة مثل التقبيل في ظاهر الرواية، و عن محمد أنه كره المباشرة الفاحشة اهـ و به ظهر أن ما مر عن النهر من إجراء الخلاف في الفاحشة ليس مما ينبغي، ثم رأيت في التتارخانية عن المحيط: التصريح بما ذكرته من التوفيق بين الروايتين و أنه لا فرق بينهما، و لله الحمد."
(2/ 417، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسده، ط: سعید)
و فیه أیضًا:
"(و إن جامع) المكلف آدميًّا مشتهى (في رمضان أداء) لما مر (أو جامع) أو توارت الحشفة (في أحد السبيلين) أنزل أو لا.
(قوله: وإن جامع إلخ) شروع في القسم الثالث وهو ما يوجب القضاء والكفارة ووجوبها مقيد بما يأتي من كونه عمدا لا مكرها ولم يطرأ مبيح للفطر كحيض ومرض بغير صنعه وبما إذا نوى ليلًا (قوله: المكلف) خرج الصبي و المجنون لعدم خطابهما (قوله: آدميًّا) خرج الجني أبو السعود والظاهر وجوب القضاء بالإنزال وإلا فلا كما لايجب الغسل بدونه (قوله: مشتهى) أي على الكمال فلا كفارة بج**ع بهيمة أو ميتة ولو أنزل بحر بل ولا قضاء ما لم ينزل كما مر وفي الصغيرة خلاف وقيل: لا تجب الكفارة بالإج**ع وقدمنا أنه الأوجه (قوله: في رمضان) أي نهارا وفيه إشارة إلى أنه لو طلع الفجر وهو مواقع فنزع لم يكفر كما لو جامع ناسيًا و عن أبي يوسف إن بقي بعد الطلوع كفر وإن بقي بعض الذكر لا وعليه القضاء قهستاني وقدمناه مفصلا (قوله: أداء) يغني عنه قوله في رمضان؛ لأن المراد به الشهر وكأنه أراد به الصوم ليشمل القضاء ويحتاج إلى إخراجه تأمل (قوله: لما مر) أي من أن الكفارة إنما وجبت لهتك حرمة شهر رمضان، فلاتجب بإفساد قضائه ولا بإفساد صوم غيره.
(قوله: أو جامع) يشمل ما لو جامعها زوجها الصغير كما هو مقتضى إطلاقهم ولتصريحهم بوجوب الغسل عليها دونه أفاده الرملي وفي القهستاني الرجل بج**ع المشتهاة يكفر كالمرأة بالصبي والمجنون وفي الصورتين اختلاف المشايخ كما في التمرتاشي. اهـ.
(قوله: وتوارت الحشفة) أي غابت وهذا بيان لحقيقة الج**ع؛ لأنه لا يكون إلا بذلك ط (قوله: في أحد السبيلين) أي القبل أو الدبر وهو الصحيح في الدبر والمختار أنه بالاتفاق ولوالجية لتكامل الجناية لقضاء الش**ة بحر (قوله: أنزل أو لا) فإن الإنزال شبع وقضاء الش**ة يتحقق بدونه وقد وجب به الحد وهو عقوبة محضة فالكفارة التي فيها معنى العبادة أولى بحر. (2/ 409)
وفیه أیضًا:
"(أولج حشفته) أو قدرها (ملفوفة بخرقة، إن وجد لذة) الج**ع (وجب) الغسل (و إلا لا) على الأصح و الأحوط الوجوب.
(قوله: إن وجد لذة الج**ع) أي بأن كانت الخرقة رقيقة بحيث يجد حرارة الف*ج و اللذة، بحر." (1/ 164)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144109200297
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
منقول 🥀🌼
پیارے بہن بھائیوں مجھے ساتھ ساتھ فولو کرو مجھے اچھے لوگوں کی ضرورت ہے ۔۔
ِ_دیوبند