The great man
Educationist
Character building on the basis of islamic values
ختنہ کہاں سے ایا؟
ختنہ کی رسم فراعنہ مصر کے دور میں تقریباً ساڑھے چار ہزار سال قبل رائج تھی۔ وہاں سے بنو اسرائیل ہجرت کے وقت اپنے ساتھ کنعان لے ائے۔ حضرت ابراھیم کے زمانے میں اسے اسے یروشلم میں متعارف کرایا۔گیا- حضرت عیسیٰ کے وقت عیسائیوں کے کچھ فرقے کچھ عرصہ عمل کرتے رہے پھر چھوڑ دیا کہ فطرت نے جسم کو مکمل بنایا ہے۔ بچے کے زندہ عضو کے کسی حصے کو کاٹنا خلاف فطرت ہے۔
مگر عیسائیوں کے بعد مسلمانوں نے مصریوں یہودیوں کی اس رسم کو "سنت ابراھیمی" کہہ کر دوبارہ شروع کر دیا جو اج بھی جاری ہے۔ جنگ میں دشمن کا سپاہی پکڑا جائے تو ختنہ دیکھ کر مسلم غیر مسلم کی شناخت کی جاتی ہے۔ اب ختنہ مسلمان ہونے کی سند).
فرینک شمیڈٹ ایک جرمن الیکٹریکل انجنئیر تھا جو جنرل مشرف دور میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کا چیئرمین بنایا گیا تھا. بجلی چوری روکنے کے لئے اسکو ٹاسک دیا گیا کہ دیکھا جائے کہ کون کون بجلی چوری میں ملوث ھیں. چھ مہینے تک پوری کراچی اور اسکے مضافات کا سروے کر کے ایک رپورٹ وفاقی حکومت کے پاس بھجوائی گئی کہ پچاس فیصد حکومتی ادارے خود بجلی چوری میں ملوث ھیں اور چالیس فیصد صنعت کار یعنی انڈسٹریل والے چوری کر رھے ھیں اور دس فیصد کچی ابادیاں اور غریب طبقہ بجلی چوری میں ملوث ھیں.لیکن حکومت چاہتی ھے کہ ابتداء غریب اور کچی آبادیوں سے شروع کی جائے. تو فرینک شمیڈٹ نے کہا کہ یہ تو ظلم ھے کہ نوے فیصد بڑے چوروں کو چھوڑ کر دس فیصد غریب اور بنیادی سہولتوں سے محروم عوام کے خلاف کاروائی کی جائے. کم از کم میں یہ آپریشن نہیں کر سکتا ھوں. فرینک نے کہا کہ اگر نوے فیصد بجلی چوروں سے ریکوری کی جائے تو دس فیصد غریب لوگوں کو چھوڑ کر انکو مفت بجلی کی ریلیف دی جا سکتی ھے .مگر ایسا نہیں ھوا اور ایک دن شیرٹن ہوٹل کے کمرے سے اپنا سامان باندھا اور اس ملک کر خیرباد کہہ کر جرمن چلا گیا اور کہا کہ ظلم حکومتی ادارے صنعت کار کرتے ھیں اور رگڑا غریب کو دیا جاتا ھے یہ ملک کبھی بھی نہیں سدھر سکتا
Think about it
لندن میں، آپریشن سے دو گھنٹے پہلے مریض کے کمرے میں ، ایک نرس داخل ہوئی اور وہاں کمرے میں رکھے ہوئے گلدستے کو سنوارنے اور درست کرنے لگ گئی۔
ایسے میں جبکہ وہ اپنے پورے انہماک کے ساتھ اپنے اس کام میں مشغول تھی، اس نے اچانک ہی مریض سے پوچھ لیا: سر، کونسا ڈاکٹر آپ کا آپریشن کر رہا ہے؟
مریض نے نقاہت کی حالت میں، نرس کو دیکھے بغیر ہی اچاٹ سے لہجے میں کہا: ڈاکٹر جبسن۔
نرس نے حیرت کے ساتھ ڈاکٹر کا نام سنا اور اپنا کام چھوڑتے ہوئے ، مریض سے قریب ہوکر پوچھا: سر، کیا واقعی ڈاکٹر جبسن نے آپ کا آپریشن کرنا قبول کر لیا ہے؟
مریض نے کہا: جی، میرا آپریش وہی کر رہے ہیں۔
نرس نے کہا: بہت ہی عجیب بات ہے، مجھے یقین نہیں آ رہا۔
مریض نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا: مگر اس میں ایسی کونسی عجیب بات ہے؟
نرس نے کہا: در اصل اس ڈاکٹر نے اب تک ہزاروں آپریشن کیئے ہیں۔ ان کے آپریشن میں کامیابی کا تناسب سو فی صد ہے۔ ان کی شدید مصروفیت کی بناء پر، ان سے وقت لینا انتہائی دشوار کام ہوتا ہے۔ میں اسی لیئے حیران ہو رہی ہوں کہ آپ کو کس طرح ان سے وقت مل گیا ہے؟
مریض نے ایک طمانیت کے ساتھ نرس سے کہا: بہرحال، یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے ڈاکٹر جبسن سے وقت ملا ہے اور وہی میرا آپریشن کر رہے ہیں۔
نرس نے ایک بار اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ: یقین جانیئے میری حیرت ابھی تک برقرار ہے کہ اس دنیا کا سب سے اچھا ڈاکٹر آپ کا آپریشن کرے گا!!
اس گفگتگو کے بعدمریض کو آپریشن تھیٹر پہنچایا گیا، مریض کا کامیاب آپریشن ہوا اور اب مریض بخیروعافیت ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہا ہے۔
ایک بات جو بتانے والی ہے وہ یہ ہے کہ: مریض کے کمرے میں آنے والی عورت کوئی عام نرس نہیں بلکہ اسی ہسپتال کی ایک ماہر نفسیات لیڈی ڈاکٹر تھی جس کا کام مریضوں کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر آپریشن کیلیئے ، کچھ ایسے طریقے سے تیار اور مطمئن کرنا تھا جس کی طرف مریض کا شک بھی نہ جا سکے اور اس بار اس لیڈی ڈاکٹر نے اپنا کام مریض کے کمرے میں رکھے گلدستے کو سنوارتے سنوارتے کر دیا تھا۔ اور مریض کے دل و دماغ میں یہ بات بہت ہی خوبصورتی سے بٹھا دی تھی کہ جو ڈاکٹر اس کا آپریشن کرے گا وہ دنیا کا مشہور اور کامیاب ترین ڈاکٹر ہے جس کا ہر آپریشن ایک کامیاب آپریشن ہوتا ہے۔ اور ان سب باتوں سے مریض بذات خود ایک مثبت انداز میں بہتری کی طرف لوٹ آیا۔
آج علم نے ثابت کیا ہے کہ مریض شعوری طور جتنا مضبوطی کے ساتھ مرض پر قابو پانے کا عہد کر لے وہ اپنے مرض کو پچھاڑ کر ہی رہتا ہے۔ نہ صرف امراض کو ، بلکہ کوئی بھی انسان عہد کر لے تو وہ اپنی زندگی کے ہر مسئلے پر قابو پا سکتا ہے۔Think about it
لندن میں، آپریشن سے دو گھنٹے پہلے مریض کے کمرے میں ، ایک نرس داخل ہوئی اور وہاں کمرے میں رکھے ہوئے گلدستے کو سنوارنے اور درست کرنے لگ گئی۔
ایسے میں جبکہ وہ اپنے پورے انہماک کے ساتھ اپنے اس کام میں مشغول تھی، اس نے اچانک ہی مریض سے پوچھ لیا: سر، کونسا ڈاکٹر آپ کا آپریشن کر رہا ہے؟
مریض نے نقاہت کی حالت میں، نرس کو دیکھے بغیر ہی اچاٹ سے لہجے میں کہا: ڈاکٹر جبسن۔
نرس نے حیرت کے ساتھ ڈاکٹر کا نام سنا اور اپنا کام چھوڑتے ہوئے ، مریض سے قریب ہوکر پوچھا: سر، کیا واقعی ڈاکٹر جبسن نے آپ کا آپریشن کرنا قبول کر لیا ہے؟
مریض نے کہا: جی، میرا آپریش وہی کر رہے ہیں۔
نرس نے کہا: بہت ہی عجیب بات ہے، مجھے یقین نہیں آ رہا۔
مریض نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا: مگر اس میں ایسی کونسی عجیب بات ہے؟
نرس نے کہا: در اصل اس ڈاکٹر نے اب تک ہزاروں آپریشن کیئے ہیں۔ ان کے آپریشن میں کامیابی کا تناسب سو فی صد ہے۔ ان کی شدید مصروفیت کی بناء پر، ان سے وقت لینا انتہائی دشوار کام ہوتا ہے۔ میں اسی لیئے حیران ہو رہی ہوں کہ آپ کو کس طرح ان سے وقت مل گیا ہے؟
مریض نے ایک طمانیت کے ساتھ نرس سے کہا: بہرحال، یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے ڈاکٹر جبسن سے وقت ملا ہے اور وہی میرا آپریشن کر رہے ہیں۔
نرس نے ایک بار اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ: یقین جانیئے میری حیرت ابھی تک برقرار ہے کہ اس دنیا کا سب سے اچھا ڈاکٹر آپ کا آپریشن کرے گا!!
اس گفگتگو کے بعدمریض کو آپریشن تھیٹر پہنچایا گیا، مریض کا کامیاب آپریشن ہوا اور اب مریض بخیروعافیت ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہا ہے۔
ایک بات جو بتانے والی ہے وہ یہ ہے کہ: مریض کے کمرے میں آنے والی عورت کوئی عام نرس نہیں بلکہ اسی ہسپتال کی ایک ماہر نفسیات لیڈی ڈاکٹر تھی جس کا کام مریضوں کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر آپریشن کیلیئے ، کچھ ایسے طریقے سے تیار اور مطمئن کرنا تھا جس کی طرف مریض کا شک بھی نہ جا سکے اور اس بار اس لیڈی ڈاکٹر نے اپنا کام مریض کے کمرے میں رکھے گلدستے کو سنوارتے سنوارتے کر دیا تھا۔ اور مریض کے دل و دماغ میں یہ بات بہت ہی خوبصورتی سے بٹھا دی تھی کہ جو ڈاکٹر اس کا آپریشن کرے گا وہ دنیا کا مشہور اور کامیاب ترین ڈاکٹر ہے جس کا ہر آپریشن ایک کامیاب آپریشن ہوتا ہے۔ اور ان سب باتوں سے مریض بذات خود ایک مثبت انداز میں بہتری کی طرف لوٹ آیا۔
آج علم نے ثابت کیا ہے کہ مریض شعوری طور جتنا مضبوطی کے ساتھ مرض پر قابو پانے کا عہد کر لے وہ اپنے مرض کو پچھاڑ کر ہی رہتا ہے۔ نہ صرف امراض کو ، بلکہ کوئی بھی انسان عہد کر لے تو وہ اپنی زندگی کے ہر مسئلے پر قابو پا سکتا ہے۔
*😲-: غُصّے کی کیمسٹری :-😲*
*جو شخص غصے کی کیمسٹری کو سمجھتا ھو وہ بڑی آسانی سے غصہ کنٹرول کر سکتا ھے۔۔۔*
*“ میں نے پوچھا ” سر غصے کی کیمسٹری کیا ھے ؟“*
*وہ مسکرا کر بولے ”ھمارے اندر سولہ کیمیکلز ھیں‘ یہ کیمیکلز ھمارے جذبات‘ ھمارے ایموشن بناتے ھیں‘ ھمارے ایموشن ھمارے موڈز طے کرتے ھیں اور یہ موڈز ھماری پرسنیلٹی بناتے ھیں“ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رھا‘ وہ بولے ”*
*ھمارے ھر ایموشن کا دورانیہ 12 منٹ ھوتا ھے“*
*میں نے پوچھا ”مثلا“۔۔۔؟*
*وہ بولے*
*”مثلاً غصہ ایک جذبہ ھے‘ یہ جذبہ کیمیکل ری ایکشن سے پیدا ھوتا ھے‘ مثلاً ھمارے جسم نے انسولین نہیں بنائی یا یہ ضرورت سے کم تھی‘ ھم نے ضرورت سے زیادہ نمک کھا لیا‘*
*ھماری نیند پوری نہیں ھوئی یا پھر ھم خالی پیٹ گھر سے باھر آ گئے‘ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟*
*ھمارے اندر کیمیکل ری ایکشن ھو گا‘ یہ ری ایکشن ھمارا بلڈ پریشر بڑھا دے گا اور یہ بلڈپریشر ھمارے اندر غصے کا جذبہ پیدا کر دے گا‘ ھم بھڑک اٹھیں گے لیکن ھماری یہ بھڑکن صرف 12 منٹ طویل ھو گی‘*
*ھمارا جسم 12 منٹ بعد غصے کو بجھانے والے کیمیکل پیدا کر دے گا اور یوں ھم اگلے 15 منٹوں میں کول ڈاؤن ھو جائیں گے۔*
*چنانچہ ھم اگر غصے کے بارہ منٹوں کو مینیج کرنا سیکھ لیں تو پھر ھم غصے کی تباہ کاریوں سے بچ جائیں گے“*
*میں نے عرض کیا ”کیا یہ نسخہ صرف غصے تک محدود ھے؟*
*“ وہ مسکرا کر بولے ”جی نہیں‘ ھمارے چھ بیسک ایموشنز ھیں۔۔۔۔*
*‘ غصہ‘ خوف‘ نفرت‘ حیرت‘ لطف(انجوائے) اور اداسی‘*
*ان تمام ایموشنز کی عمر صرف بارہ منٹ ھوتی ھے‘ ھمیں صرف بارہ منٹ کیلئے خوف آتا ھے‘ ھم صرف 12 منٹ قہقہے لگاتے ھیں‘ ھم صرف بارہ منٹ اداس ھوتے ھیں‘ ھمیں نفرت بھی صرف بارہ منٹ کیلئے ھوتی ھے‘ ھمیں بارہ منٹ غصہ آتا ھے اور ھم پر حیرت کا غلبہ بھی صرف 12 منٹ رھتا ھے‘*
*ھمارا جسم بارہ منٹ بعد ھمارے ھر جذبے کو نارمل کر دیتا ھے“*
*میں نے عرض کیا ”لیکن میں اکثر لوگوں کو سارا سارا دن غصے‘ اداسی‘ نفرت اور خوف کے عالم میں دیکھتا ھوں‘ یہ سارا دن نارمل کیوں نہیں ھوتے ؟*
*"وہ مسکرا کر بولے" آپ ان جذبوں کو آگ کی طرح دیکھیں‘ آپ کے سامنے آگ پڑی ھے‘ آپ اگر اس آگ پر تھوڑا تھوڑا تیل ڈالتے رھیں گے‘ آپ اگر اس پر خشک لکڑیاں رکھتے رھیں گے تو کیا ھوگا ؟ یہ آگ پھیلتی چلی جائے گی‘ یہ بھڑکتی رھے گی‘ ھم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے جذبات کو بجھانے کی بجائے ان پر تیل اور لکڑیاں ڈالنے لگتے ھیں چنانچہ وہ جذبہ جس نے 12 منٹ میں نارمل ھو جانا تھا وہ دو دو‘ تین تین دن تک وسیع ھو جاتا ھے‘ ھم اگر دو تین دن میں بھی نہ سنبھلیں تو وہ جذبہ ھمارا طویل موڈ بن جاتا ھے اور یہ موڈ ھماری شخصیت‘ ھماری پرسنیلٹی بن جاتا ھے یوں لوگ ھمیں غصیل خان‘ اللہ دتہ اداس‘ ملک خوفزدہ‘ نفرت شاہ‘ میاں قہقہہ صاحب اور حیرت شاہ کہنا شروع کر دیتے ھیں۔۔۔*
*“ وہ رکے اور پھر بولے ” آپ نے کبھی غور کیا ھم میں سے بے شمار لوگوں کے چہروں پر ھر وقت حیرت‘ ھنسی‘ نفرت‘ خوف‘ اداسی یا پھر غصہ کیوں نظر آتا ھے؟*
*وجہ صاف ظاھر ھے‘ جذبے نے بارہ منٹ کیلئے ان کے چہرے پر دستک دی لیکن انہوں نے اسے واپس نہیں جانے دیا اور یوں وہ جذبہ حیرت ھو‘ قہقہہ ھو‘ نفرت ھو‘ خوف ھو‘ اداسی ھو یا پھر غصہ ھو وہ ان کی شخصیت بن گیا‘ وہ ان کے چہرے پر ھمیشہ ھمیشہ کیلئے درج ھو گیا‘ یہ لوگ اگر وہ بارہ منٹ مینج کر لیتے تو یہ عمر بھر کی خرابی سے بچ جاتے‘ یہ کسی ایک جذبے کے غلام نہ بنتے‘ یہ اس کے ھاتھوں بلیک میل نہ ھوتے“*
*میں نے عرض کیا ” اور کیا محبت جذبہ نہیں ھوتا “ فوراً جواب دیا ”محبت اور شہوت دراصل لطف کے والدین ھیں‘ یہ جذبہ بھی صرف بارہ منٹ کا ھوتا ھے‘*
*آپ اگر اس کی بھٹی میں نئی لکڑیاں نہ ڈالیں تو یہ بھی بارہ منٹ میں ختم ھو جاتا ھے لیکن ھم بے وقوف لوگ اسے زلف یار میں باندھ کر گلے میں لٹکا لیتے ھیں اور یوں مجنوں بن کر ذلیل ھوتے ھیں‘ ھم انسان اگر اسی طرح شہوت کے بارہ منٹ بھی گزار لیں تو ھم گناہ‘ جرم اور ذلت سے بچ جائیں ، لیکن ھم یہ نہیں کر پاتے اور یوں ھم سنگسار ھوتے ھیں‘ قتل ھوتے ھیں‘ جیلیں بھگتتے ھیں اور ذلیل و رسوا ھوتے ھیں۔*
*' ھم سب بارہ منٹ کے قیدی ھیں‘*
*ھم اگر کسی نہ کسی طرح یہ قید گزار لیں تو ھم لمبی قید سے بچ جاتے ھیں،*
*ورنہ یہ 12 منٹ ھمیں کہیں کا نہیں چھوڑتے“۔*
*میں نے ان سے عرض کیا ” آپ یہ بارہ منٹ کیسے مینیج کرتے ھیں؟*
*“ وہ مسکرا کر بولے ”میں نے ابھی آپ کے سامنے اس کا مظاھرہ کیا‘ وہ صاحب غصے میں اندر داخل ھوئے‘ مجھ سے اپنی فائل مانگی‘ میں نے انہیں بتایا میں آپ کی فائل پر دستخط کر کے واپس بھجوا چکا ھوں لیکن یہ نہیں مانے‘ انہوں نے مجھ پر جھوٹ اور غلط بیانی کا الزام بھی لگایا اور مجھے ماں بہن کی گالیاں بھی دیں‘ میرے تَن مَن میں آگ لگ گئی، لیکن میں کیونکہ جانتا تھا میری یہ صورتحال صرف 12 منٹ رھے گی چنانچہ میں چُپ چاپ اٹھا‘ وضو کیا اور نماز پڑھنی شروع کر دی‘ میرے اس عمل پر 20 منٹ خرچ ھوئے‘ ان 20 منٹوں میں میرا غصہ بھی ختم ھو گیا اور وہ صاحب بھی حقیقت پر پہنچ گئے‘ میں اگر نماز نہ پڑھتا تو میں انہیں جواب دیتا‘ ھمارے درمیان تلخ کلامی ھوتی‘ لوگ کام چھوڑ کر اکٹھے ھو جاتے‘ ھمارے درمیان ھاتھا پائی ھو جاتی‘ میں اس کا سر پھاڑ دیتا یا یہ مجھے نقصان پہنچا دیتا ، لیکن اس سارے فساد کا آخر میں کیا نتیجہ نکلتا ؟ پتہ چلتا ھم دونوں بے وقوف تھے‘ ھم سارا دن اپنا کان چیک کئے بغیر کتے کے پیچھے بھاگتے رھے چنانچہ میں نے جائے نماز پر بیٹھ کر وہ بارہ منٹ گزار لئے اور یوں میں‘ وہ اور یہ سارا دفتر ڈیزاسٹر سے بچ گیا‘ ھم سب کا دن اور عزت محفوظ ھو گئی“*
*میں نے پوچھا ”کیا آپ غصے میں ھر بار نماز پڑھتے ھیں؟“ وہ بولے ” ھرگز نہیں‘ میں جب بھی کسی جذبے کے غلبے میں آتا ھوں تو میں سب سے پہلے اپنا منہ بند کر لیتا ھوں‘ میں زبان سے ایک لفظ نہیں بولتا‘ میں قہقہہ لگاتے ھوئے بھی صرف ھنستا ھوں اور ھنستے ھنستے کوئی دوسرا کام شروع کر دیتا ھوں‘ میں خوف‘ غصے‘ اداسی اور لطف کے حملے میں واک کیلئے چلا جاتا ھوں‘ غسل کر لیتا ھوں‘ وضو کرتا ھوں‘ 20 منٹ کیلئے چُپ کا روزہ رکھ لیتا ھوں‘ استغفار کی تسبیح کرتا ھوں‘*
*اپنی والدہ یا اپنے بچوں کو فون کرتا ھوں‘ اپنے کمرے‘ اپنی میز کی صفائی شروع کر دیتا ھوں‘ اپنا بیگ کھول کر بیٹھ جاتا ھوں‘ اپنے کان اور آنکھیں بند کر کے لیٹ جاتا ھوں یا پھر اٹھ کر نماز پڑھ لیتا ھوں، یوں بارہ منٹ گزر جاتے ھیں‘ طوفان ٹل جاتا ھے‘ میری عقل ٹھکانے پر آ جاتی ھے اور میں فیصلے کے قابل ھو جاتا ھوں“ وہ خاموش ھو گئے‘ میں نے عرض کیا ”اور اگر آپ کو یہ تمام سہولتیں حاصل نہ ھوں تو آپ کیا کرتے ھیں“؟*
*وہ رکے‘ چند لمحے سوچا اور بولے ”آسمان گر جائے یا پھر زمین پھٹ جائے‘ میں منہ نہیں کھولتا‘*
*میں خاموش رھتا ھوں اور آپ یقین کیجئے سونامی خواہ کتنا ھی بڑا کیوں نہ ھو وہ میری خاموشی کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ وہ بہرحال پسپا ھو جاتا ھے‘ آپ بھی خاموش رہ کر زندگی کے تمام طوفانوں کو شکست دے سکتے ھیں..*
*ﺍﻟﻠﮧ ﮬﻢ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿں ﺁﺳﺎﻧﯿﺎﮞ ﻋﻄﺎء فرمائے...*
*ﺁﻣﯿﻦ ثم آمین
❤
دل کی 13 اقسام
ﺩﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﻩ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﺟﻦ ﻛﺎ ﻗﺮﺁﻥ
ﻣﺠﻴﺪ ﻣﻴﮟ ﺫﻛﺮ ﮨﮯ
* :* ﯾﮧ ﻭﻩ ﺧﺎﻟﺺ ﺩﻝ
ﮨﮯ ﺟﻮ ﻛﻔﺮ، ﻧﻔﺎﻕ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ
ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺸﻌﺮﺍﺀ، ﺍﻵﻳﺔ89:
* :*
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﻛﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ
ﻣﻴﮟ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ..
ﺳﻮﺭﺓ ﻕ، ﺍﻵﻳﺔ33:
* :*
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﺟﻬﻜﺎ ﮨﻮﺍ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﻜﻮﻥ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﺗﺎ
ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺞ، ﺍﻵﻳﺔ54:
* :*
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﻧﯿﮑﯽ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺘﮧ
ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﻳﺎ ﻧﮩﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ
ﺭﺏ ﻛﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮈﺭﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﻮﻥ، ﺍﻵﻳﺔ60:
* :*
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻛﮯ ﺷﻌﺎﺋﺮ ﮐﯽ ﺗﻌﻈﻴﻢ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺞ، ﺍﻵﻳﺔ32:
* :*
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻛﮯ ﻓﻴﺼﻠﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻛﮯ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﻛﻮ ﺑﻬﯽ
ﺑﺨﻮﺷﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﻛﺮ ﻟﻴﺘﺎ ﮨﮯ...
* :*
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ
ﺟﺲ ﻛﻮ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﯽ ﺗﻮﺣﻴﺪ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺫﻛﺮ
ﺳﮯ ﮨﯽ ﺳﻜﻮﻥ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺮﻋﺪ، ﺍﻵﻳﺔ28:
* :*
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻟﻠّٰﮧ
ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﻛﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺳﻦ ﻛﺮ ﺍﻥ
ﺳﮯ ﻋﺒﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﺼﺤﻴﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﻕ، ﺍﻵﻳﺔ37:
* :*
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﺷﮏ، ﻧﻔﺎﻕ، ﺑﺪﺍﺧﻼﻗﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺱ ﻭ ﻻﻟﭻ
ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻻﺣﺰﺍﺏ، ﺍﻵﻳﺔ32:
* :*
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺳﮯ
ﻋﺎﺭﯼ ﮨﮯ، ﺣﺘٰﯽ ﮐﮧ ﺍﻧﺪﮬﺎ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺞ، ﺍﻵﻳﺔ46:
* :*
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﻗﺮﺁﻥ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ، ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺭﻧﮕﯿﻨﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﮕﻦ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎﺀ، ﺍﻵﻳﺔ3:
* :*
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺣﻖ
ﭘﺮ ﭘﺮﺩﮦ ﮈﺍﻝ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﭼﮭﭙﺎﺗﺎ
ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ، ﺍﻵﻳﺔ283:
* :*
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
ﻣﺘﮑﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﮐﺶ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ
ﺩﯾﻨﺪﺍﺭﯼ ﭘﺮﮔﮭﻤﻨﮉ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﯾﮧ
ﺩﻝ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺟﺎﺭﺣﯿﺖ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﮨﻮﮐﺮ ﺭﮦ
ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ
پشاور کی مقامی عدالت میں سماعت کے موقع پر حضرت محمدؐ کو آخری نبی ماننے سے انکار کرنے پر ایک مولانا نے قادیانی کو جج کے سامنے ہی گولی مار دی نعش عدالت میں پڑی ہے۔۔۔۔!!
یہ پوسٹ تمام ان لوگوں کیلئے جو پوچھ رہے ہیں کہ CSS کیا ہے اور کب Apply کی جاتی ہے اور کیسے Attempt کیاجاتا ہے ۔
CENTRAL_SUPERIOR_SERVICES CSS
OR
COMPETATIVE_EXAMINATIONS CE
● ۔ C.E or C.S.S جس کے ذریعے حکومت پاکستان FPSC کے ادارے کے زیر نگرانی BPS-17 میں آفیسر بھرتی کرتی ہے۔ یہ ایگزام سال میں ایک دفعہ منعقد کیا جاتا ہے اور نہایت ہی قابل اور مستقل مزاج امیدواروں کی سلیکشن کی جاتی ہے اور انہیں بیورو کریسی میں شامل کیا جاتا ہے۔ بیورو کریسی حکومتی مشینری چلانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔FPSC ہر سال اس ایگزام کا اعلان بذریعہ اخبار کرتی ہے۔اور اور تقریباً October کے مہینے میں اس کے فارم بھرے جاتے ہیں۔ فارم بھرنے کے تقریباً تین ماہ بعد اس کی سلپ امیدوار کو بھیجی جاتی ہے۔اور یہ ایگزام تقریباً February کے مہینے میں منعقد کیا جاتا ہے۔
TESTS_PROCESS
Four Stages Of Tests
1. Written Test.
2. Psychological Test.
3. Medical Test.
4. VivaVoice / Interview Test
● ان سارے مراحل سے گذرنے والے کامیاب امیدواروں کو کوئی ایک گروپ (مارکس کے حساب سے) دیا جاتا ہے۔
ALLOCATIONARY_GROUPS:
01. Pakistan Administrative Services
02. Police Services of Pakistan
03. Custom and Excise
04. Postal group
05. Income tax group
06. Information group
07. Foriegn Services of Pakistan
08. Commerce and Trade
09. Millitary lands and Contonments
10. Office Management group
11. Pakistan Audit and Accounts Services
12. Railways Commercial & transportation
Group.
ELIGIBILTY:
21years to 30 years
(کچھ صورتوں میں رعایت ہے)
سرکاری ملازم ، معذور امیدوار ،
(تسلیم شدہ قبیلے قبائلی علاقہ جات ، بلوچ قبائل ، ڈی آئی خان اور پشاور ڈویژن، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور ڈسٹرکٹ وغیرہ)
٢۔ پاکستانی اور آزاد جموں و کشمیر کے شہریت والے افراد اہل ہیں۔
٣۔ تعلیم کے اعتبار سے کم از کم گریجوایٹ سیکنڈ کلاس یا C grade یا اس کے مساوی۔
EXAMINATIONS:
سبجیکٹس کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
1. Compulsary sujects (600).
2. Optional subjects (600).
COMPULSORY:
1. English_ Essay. (100)
2. English_Precis and comprehension (100)
3. Pakistan affairs (100).
4. General Science and Ability (100).
5. Current affairs (100).
6. Islami Studies (100).
کمپلسری میں جنرل نالج ، کرنٹ افئیرز، اور ایوری ڈے سائنس میں اگر کسی سبجیکٹ میں مارکس 40 سے کم ہوں لیکن دوسرے سبجیکٹس میں زیادہ ہوں اور ایگریگیٹ 120ہو۔ یا اس سے زیادہ ہوں تو بھی پاس ہوگا۔
● آپشنل سبجیکٹس ہی آپ کے ہائی اسکورنگ سبجیکٹس ہوتے ہیں۔ ان کی سلیکشن میں ذھانت سے کام لیا جائے۔اور ایسے سبجیکٹس چوز کریں جو آپ کی طبیعت سے ملتے ہوں ،آپ کو ان میں دلچسپی ہو،آپ کا ان میں نالج اچھا ہو۔
● انگریزی کے سبجیکٹس میں ویسے بھی عموماً (آپ سب کا تجربہ یا مشاہدہ ہوگا کہ مڈل سے لےکرگریجوایشن تک ٹیچرز مارکس دینے میں کنجوس ہوتے ہیں)مارکس کم ملتے ہیں۔انگریزی کے سبجیکٹ ویسے بھی ٹیکنیکل ہوتے ہیں۔ان کے essay_ precie لکھنے کے کچھ اصول ہوتے ہیں اور مارکس بھی اس کے حساب سے دیتے ہیں مثلاً ہیڈنگ لگانا، کنکلیوژن وغیرہ۔
OPTIONALS:
آپشنل بھی 6 ہوتے ہیں۔
سارے پیپرز 100 مارکس کے ہوتے ہیں۔
یعنی ٹوٹل مارکس 1200 ہوتے ہیں۔ اور ہر امیدوار کےلئے %50 مارکس حاصل کرنا ضروری ہیں۔
کمپلسری سبجیکٹس میں پاسنگ مارکس 44 ہیں اور آپشنل میں 33 پاکسنگ مارکس ہیں۔
PREPARATION:
پڑھائی وقفہ وقفہ سے کریں کتابوں کا کیڑا نہ بنیں۔ نوٹس بنائیں اور صبح سویرے اور رات کے وقت سونے سے پہلے اسٹڈی کریں۔نوٹس کو بار بار پڑھیں۔جب بور ہونے لگیں تو اسٹڈی چھوڑ دیں۔
ٹاک شوز دیکھیں اور سنیں۔ بحث مباحثہ میں حصہ لیں۔ اور اپ ٹو ڈیٹ رہیں۔حالات سے باخبر رہیں۔
REGISTRATION:
Reg fee is Rs.2200/-
Registration through online form
(Day 1 to 30 of October).
EXAMINATION_MONTH:
February of each year.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Mardan