Educationist

Educationist Character building on the basis of islamic values

25/04/2026

The great man

01/12/2025

ختنہ کہاں سے ایا؟
ختنہ کی رسم فراعنہ مصر کے دور میں تقریباً ساڑھے چار ہزار سال قبل رائج تھی۔ وہاں سے بنو اسرائیل ہجرت کے وقت اپنے ساتھ کنعان لے ائے۔ حضرت ابراھیم کے زمانے میں اسے اسے یروشلم میں متعارف کرایا۔گیا- حضرت عیسیٰ کے وقت عیسائیوں کے کچھ فرقے کچھ عرصہ عمل کرتے رہے پھر چھوڑ دیا کہ فطرت نے جسم کو مکمل بنایا ہے۔ بچے کے زندہ عضو کے کسی حصے کو کاٹنا خلاف فطرت ہے۔

مگر عیسائیوں کے بعد مسلمانوں نے مصریوں یہودیوں کی اس رسم کو "سنت ابراھیمی" کہہ کر دوبارہ شروع کر دیا جو اج بھی جاری ہے۔ جنگ میں دشمن کا سپاہی پکڑا جائے تو ختنہ دیکھ کر مسلم غیر مسلم کی شناخت کی جاتی ہے۔ اب ختنہ مسلمان ہونے کی سند).

11/11/2025
12/08/2020

فرینک شمیڈٹ ایک جرمن الیکٹریکل انجنئیر تھا جو جنرل مشرف دور میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کا چیئرمین بنایا گیا تھا. بجلی چوری روکنے کے لئے اسکو ٹاسک دیا گیا کہ دیکھا جائے کہ کون کون بجلی چوری میں ملوث ھیں. چھ مہینے تک پوری کراچی اور اسکے مضافات کا سروے کر کے ایک رپورٹ وفاقی حکومت کے پاس بھجوائی گئی کہ پچاس فیصد حکومتی ادارے خود بجلی چوری میں ملوث ھیں اور چالیس فیصد صنعت کار یعنی انڈسٹریل والے چوری کر رھے ھیں اور دس فیصد کچی ابادیاں اور غریب طبقہ بجلی چوری میں ملوث ھیں.لیکن حکومت چاہتی ھے کہ ابتداء غریب اور کچی آبادیوں سے شروع کی جائے. تو فرینک شمیڈٹ نے کہا کہ یہ تو ظلم ھے کہ نوے فیصد بڑے چوروں کو چھوڑ کر دس فیصد غریب اور بنیادی سہولتوں سے محروم عوام کے خلاف کاروائی کی جائے. کم از کم میں یہ آپریشن نہیں کر سکتا ھوں. فرینک نے کہا کہ اگر نوے فیصد بجلی چوروں سے ریکوری کی جائے تو دس فیصد غریب لوگوں کو چھوڑ کر انکو مفت بجلی کی ریلیف دی جا سکتی ھے .مگر ایسا نہیں ھوا اور ایک دن شیرٹن ہوٹل کے کمرے سے اپنا سامان باندھا اور اس ملک کر خیرباد کہہ کر جرمن چلا گیا اور کہا کہ ظلم حکومتی ادارے صنعت کار کرتے ھیں اور رگڑا غریب کو دیا جاتا ھے یہ ملک کبھی بھی نہیں سدھر سکتا

31/07/2020

Think about it

لندن میں، آپریشن سے دو گھنٹے پہلے مریض کے کمرے میں ، ایک نرس داخل ہوئی اور وہاں کمرے میں رکھے ہوئے گلدستے کو سنوارنے اور درست کرنے لگ گئی۔

ایسے میں جبکہ وہ اپنے پورے انہماک کے ساتھ اپنے اس کام میں مشغول تھی، اس نے اچانک ہی مریض سے پوچھ لیا: سر، کونسا ڈاکٹر آپ کا آپریشن کر رہا ہے؟

مریض نے نقاہت کی حالت میں، نرس کو دیکھے بغیر ہی اچاٹ سے لہجے میں کہا: ڈاکٹر جبسن۔
نرس نے حیرت کے ساتھ ڈاکٹر کا نام سنا اور اپنا کام چھوڑتے ہوئے ، مریض سے قریب ہوکر پوچھا: سر، کیا واقعی ڈاکٹر جبسن نے آپ کا آپریشن کرنا قبول کر لیا ہے؟
مریض نے کہا: جی، میرا آپریش وہی کر رہے ہیں۔
نرس نے کہا: بہت ہی عجیب بات ہے، مجھے یقین نہیں آ رہا۔
مریض نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا: مگر اس میں ایسی کونسی عجیب بات ہے؟
نرس نے کہا: در اصل اس ڈاکٹر نے اب تک ہزاروں آپریشن کیئے ہیں۔ ان کے آپریشن میں کامیابی کا تناسب سو فی صد ہے۔ ان کی شدید مصروفیت کی بناء پر، ان سے وقت لینا انتہائی دشوار کام ہوتا ہے۔ میں اسی لیئے حیران ہو رہی ہوں کہ آپ کو کس طرح ان سے وقت مل گیا ہے؟
مریض نے ایک طمانیت کے ساتھ نرس سے کہا: بہرحال، یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے ڈاکٹر جبسن سے وقت ملا ہے اور وہی میرا آپریشن کر رہے ہیں۔
نرس نے ایک بار اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ: یقین جانیئے میری حیرت ابھی تک برقرار ہے کہ اس دنیا کا سب سے اچھا ڈاکٹر آپ کا آپریشن کرے گا!!

اس گفگتگو کے بعدمریض کو آپریشن تھیٹر پہنچایا گیا، مریض کا کامیاب آپریشن ہوا اور اب مریض بخیروعافیت ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہا ہے۔

ایک بات جو بتانے والی ہے وہ یہ ہے کہ: مریض کے کمرے میں آنے والی عورت کوئی عام نرس نہیں بلکہ اسی ہسپتال کی ایک ماہر نفسیات لیڈی ڈاکٹر تھی جس کا کام مریضوں کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر آپریشن کیلیئے ، کچھ ایسے طریقے سے تیار اور مطمئن کرنا تھا جس کی طرف مریض کا شک بھی نہ جا سکے اور اس بار اس لیڈی ڈاکٹر نے اپنا کام مریض کے کمرے میں رکھے گلدستے کو سنوارتے سنوارتے کر دیا تھا۔ اور مریض کے دل و دماغ میں یہ بات بہت ہی خوبصورتی سے بٹھا دی تھی کہ جو ڈاکٹر اس کا آپریشن کرے گا وہ دنیا کا مشہور اور کامیاب ترین ڈاکٹر ہے جس کا ہر آپریشن ایک کامیاب آپریشن ہوتا ہے۔ اور ان سب باتوں سے مریض بذات خود ایک مثبت انداز میں بہتری کی طرف لوٹ آیا۔

آج علم نے ثابت کیا ہے کہ مریض شعوری طور جتنا مضبوطی کے ساتھ مرض پر قابو پانے کا عہد کر لے وہ اپنے مرض کو پچھاڑ کر ہی رہتا ہے۔ نہ صرف امراض کو ، بلکہ کوئی بھی انسان عہد کر لے تو وہ اپنی زندگی کے ہر مسئلے پر قابو پا سکتا ہے۔Think about it

لندن میں، آپریشن سے دو گھنٹے پہلے مریض کے کمرے میں ، ایک نرس داخل ہوئی اور وہاں کمرے میں رکھے ہوئے گلدستے کو سنوارنے اور درست کرنے لگ گئی۔

ایسے میں جبکہ وہ اپنے پورے انہماک کے ساتھ اپنے اس کام میں مشغول تھی، اس نے اچانک ہی مریض سے پوچھ لیا: سر، کونسا ڈاکٹر آپ کا آپریشن کر رہا ہے؟

مریض نے نقاہت کی حالت میں، نرس کو دیکھے بغیر ہی اچاٹ سے لہجے میں کہا: ڈاکٹر جبسن۔
نرس نے حیرت کے ساتھ ڈاکٹر کا نام سنا اور اپنا کام چھوڑتے ہوئے ، مریض سے قریب ہوکر پوچھا: سر، کیا واقعی ڈاکٹر جبسن نے آپ کا آپریشن کرنا قبول کر لیا ہے؟
مریض نے کہا: جی، میرا آپریش وہی کر رہے ہیں۔
نرس نے کہا: بہت ہی عجیب بات ہے، مجھے یقین نہیں آ رہا۔
مریض نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا: مگر اس میں ایسی کونسی عجیب بات ہے؟
نرس نے کہا: در اصل اس ڈاکٹر نے اب تک ہزاروں آپریشن کیئے ہیں۔ ان کے آپریشن میں کامیابی کا تناسب سو فی صد ہے۔ ان کی شدید مصروفیت کی بناء پر، ان سے وقت لینا انتہائی دشوار کام ہوتا ہے۔ میں اسی لیئے حیران ہو رہی ہوں کہ آپ کو کس طرح ان سے وقت مل گیا ہے؟
مریض نے ایک طمانیت کے ساتھ نرس سے کہا: بہرحال، یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے ڈاکٹر جبسن سے وقت ملا ہے اور وہی میرا آپریشن کر رہے ہیں۔
نرس نے ایک بار اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ: یقین جانیئے میری حیرت ابھی تک برقرار ہے کہ اس دنیا کا سب سے اچھا ڈاکٹر آپ کا آپریشن کرے گا!!

اس گفگتگو کے بعدمریض کو آپریشن تھیٹر پہنچایا گیا، مریض کا کامیاب آپریشن ہوا اور اب مریض بخیروعافیت ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہا ہے۔

ایک بات جو بتانے والی ہے وہ یہ ہے کہ: مریض کے کمرے میں آنے والی عورت کوئی عام نرس نہیں بلکہ اسی ہسپتال کی ایک ماہر نفسیات لیڈی ڈاکٹر تھی جس کا کام مریضوں کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر آپریشن کیلیئے ، کچھ ایسے طریقے سے تیار اور مطمئن کرنا تھا جس کی طرف مریض کا شک بھی نہ جا سکے اور اس بار اس لیڈی ڈاکٹر نے اپنا کام مریض کے کمرے میں رکھے گلدستے کو سنوارتے سنوارتے کر دیا تھا۔ اور مریض کے دل و دماغ میں یہ بات بہت ہی خوبصورتی سے بٹھا دی تھی کہ جو ڈاکٹر اس کا آپریشن کرے گا وہ دنیا کا مشہور اور کامیاب ترین ڈاکٹر ہے جس کا ہر آپریشن ایک کامیاب آپریشن ہوتا ہے۔ اور ان سب باتوں سے مریض بذات خود ایک مثبت انداز میں بہتری کی طرف لوٹ آیا۔

آج علم نے ثابت کیا ہے کہ مریض شعوری طور جتنا مضبوطی کے ساتھ مرض پر قابو پانے کا عہد کر لے وہ اپنے مرض کو پچھاڑ کر ہی رہتا ہے۔ نہ صرف امراض کو ، بلکہ کوئی بھی انسان عہد کر لے تو وہ اپنی زندگی کے ہر مسئلے پر قابو پا سکتا ہے۔

Address

Mohallah Willayatkhel
Mardan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Educationist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category