Issb info

Issb info

Share

any one can visit

06/12/2025

اختیارات بھی نہیں دیتے اور ذمہ داری بھی نہیں لیتے، کراچی کے عوام سے اربوں روپے لیے گئے، ان کا حساب کون دے گا؟ گلشن اقبال ٹاؤن چیئرمین
مزید تفصیلات: https://www.geonewsurdu.tv/latest/422372-

06/12/2025

'Congratulations to everyone, Chief of Defence Forces' Office has been inaugurated', DG ISPR

'Congratulations to everyone, Chief of Defence Forces' Office has been inaugurated', DG ISPR

Photos from Director General Public Relations - Navy's post 06/12/2025

CNS Admiral Naveed Ashraf met rising squash players Mahnoor Ali and Sehrish Ali, winner & runner-up of CNS Squash Championship at NHQ. He appreciated their dedication and reaffirmed Pakistan Navy’s commitment to supporting women athletes and national sports.

Follow Pak Navy Official Accounts
DGPR FB: https://www.facebook.com/DgprNavy
DGPR Twitter: https://twitter.com/dgprPaknavy
Instagram: https://www.instagram.com/pakistan_navy
YouTube: https://www.youtube.com/PakistanNavy
LinkedIn: https://www.linkedin.com/company/pakistan-navy-official
WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029VayHRru5q08Ximf2N744

06/12/2025

Fazaia school jobs

06/12/2025

Admissions are open now university of Punjab
#2025

06/12/2025

D.G Khan jobs (WASA)
#2025

06/12/2025

PAEC Foundation jobs
#2025

06/12/2025

Apply for ASF
date 8 December

27/06/2025
27/06/2025

*سڑک پر بیٹھی پودینہ فروش بچیاں، دھوپ میں جھلستی انسانیت اور ریاستی بے حسی کا نوحہ*
جون کی چلچلاتی دھوپ میں جب سورج آگ برساتا ہے، جب درجہ حرارت 45 کے قریب پہنچ جاتا ہے جب ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے صاحبِ اختیار بھی پسینے سے شرابور ہو جاتے ہیں، عین اس وقت کوہاٹ روڈ پر واقع کرم پل پر پانچ سے چھ سال کی عمر کی معصوم بچیاں اپنے ننھے ہاتھوں سے پودینہ تھامے اینٹوں کی بھٹی کی طرح بلبلاتی گرم سڑک پر سبزی فروخت کی آڑ میں بھیک مانگنے پر مجبور دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے جھلسے ہوئے چہرے، پسینے سے تر کپڑے، اور سہمے ہوئے تاثرات اس ظالمانہ منظر کو ہر ذی شعور کے ضمیر پر کوڑے کی مانند برساتے ہیں۔ ہم اکثر بھیک مانگنے والوں کو دیکھ کر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ مستحق ہیں؟ مگر یہاں سوال مستحق یا غیر مستحق ہونے کا نہیں، بلکہ انسانیت کی ذلت آمیز پامالی کا ہے۔ یہ مظلوم بچیاں اپنے بچپن کی شروعات اس حال میں کر رہی ہیں، جہاں نہ ان کے ہاتھ میں کھلونا ہے، نہ کتاب، نہ تحفظ، نہ خواب۔ وہ بچیاں جن کی عمر گڑیوں سے کھیلنے، نظمیں یاد کرنے اور سکول جانے کی ہے، وہ پودینہ بیچ کر زندگی کی تلخیوں سے سمجھوتا کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ منظر کوئی انوکھا یا وقتی واقعہ نہیں۔ اس سڑک پر روزانہ لاکھوں افراد آتے جاتے ہیں۔ سیاستدان، سرکاری افسران، ججز، صحافی، سماجی کارکن، علماء کرام، والدین، اساتذہ، تاجر۔ مگر کوئی رک کر نہیں دیکھتا۔ ہم سب نے اس منظر کو ایک معمول کا حصہ بنا دیا ہے۔ یہی "معمول" ہمارے معاشرتی زوال کی اصل جڑ ہے۔ ہمارے ملک میں چائلڈ پروٹیکشن بیوروز، لیبر ڈیپارٹمنٹس، ویلفیئر سوسائٹیاں، بے شمار NGOs، اور دیگر نام نہاد ادارے موجود ہیں۔ ان کے دفاتر، گاڑیاں، فنڈز اور ملازمین سب کچھ موجود ہے، سوائے زمینی سطح پر حقیقی عملدرآمد کے۔ کیا یہ معصوم بچیاں ان اداروں کی نظروں سے اوجھل ہیں؟ یا پھر ان کی ذمہ داریاں صرف رپورٹنگ اور سیمینار تک محدود ہو چکی ہیں؟ ان بچیوں کو سڑک پر بٹھانے والے والدین کا احتساب بھی ضروری ہے مگر ہم صرف انہی کو موردِ الزام ٹھہرا کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان والدین کے پاس کوئی متبادل ذریعہ معاش ہے؟ کیا ان کے لیے کوئی فنی تربیت، قرضہ سکیم، یا حکومتی بحالی پروگرام موجود ہے؟ اگر نہیں، تو پھر یہ بچے بھیک نہیں مانگ رہے، یہ ریاستی ناکامی کا اشتہار بن چکے ہیں۔ نکاح کے جوڑوں پر کروڑوں، مگر بچوں کے لیے کچھ نہیں؟ حال ہی میں بنوں میں ایک بڑی تقریب عامر شادی ہال میں منعقد ہوئی، جس میں 123 جوڑوں کو 2، 2 لاکھ روپے فی کس دیے گئے۔ کل اخراجات 2 کروڑ 46 لاکھ سے زائد۔ ہال کی بکنگ، مہنگا کھانا، پروٹوکول، میڈیا کوریج، سب کچھ شاہانہ انداز میں۔ لیکن ان بچیوں کے لیے کچھ نہیں، جو نہ دلہن بننے کی عمر میں ہیں، نہ زندگی کا مطلب سمجھنے کے قابل۔ کیا یہ تضاد ہمارے حکومتی ترجیحات کی قلعی نہیں کھولتا؟ کیا یہ بچیاں ان جوڑوں سے کم مستحق ہیں؟ اگر یہ فنڈ ان جیسی بچیوں کے تعلیمی، سماجی اور معاشی تحفظ کے لیے مختص کیا جاتا تو کیا معاشرہ بہتر نہ بنتا؟ اس حوالے سے چند سفارشات بھی ارسال خدمت ہیں، بھیک مانگنے والے بچوں کو فوری طور پر درالکفالہ یا چائلڈ پروٹیکشن سینٹرز میں منتقل کیا جائے، جہاں انہیں خوراک، تعلیم، صحت اور تربیت دی جا سکے۔ ان کےوالدین کو محض سزا دینے کے بجائے انہیں روزگار، تربیت اور وظائف کے ذریعے باوقار زندگی گزارنے کا راستہ فراہم کیا جائے۔ میڈیا اور مذہبی حلقے عوام کو یہ باور کروائیں کہ سڑک پر بھیک مانگنے والے بچے ہمارے سماج کا اجتماعی اثاثہ ہیں، ان سے لاپرواہی کرنا، اصل میں اپنے مستقبل سے غفلت برتنا ہے۔ نکاح جیسے نجی ایونٹس پر کروڑوں خرچ کرنے کی بجائے ایک الگ "چائلڈ ویلفیئر فنڈ" قائم کیا جائے، جس کا استعمال حقیقی معنوں میں بے سہارا بچوں کی کفالت کے لیے ہو۔ ایک موثر اور خودمختار چائلڈ ریسکیو فورس تشکیل دی جائے جو خودبخود ایسے کیسز کا نوٹس لے اور کارروائی کرے۔ بے عمل این جی اوز کا سختی سے آڈٹ کیا جائےاور انہیں زمینی سطح پر قابلِ ذکر کارکردگی دکھانے کا پابند بنایا جائے۔ یہ بچیاں پودینہ نہیں، اپنے مستقبل کی کرچیاں، اپنی عزت نفس کی فریاد، اور ہمارے ضمیر کی بےحسی بیچ رہی ہیں۔ یہ بچیاں اس معاشرے سے سوال کر رہی ہیں کہ ہم نے تم سے کیا مانگا؟ صرف ایک بچپن، وہ بھی تم نے چھین لیا؟ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان کے لیے صرف آنکھ بھر کر نہ دیکھیں بلکہ آواز بنیں۔ کیونکہ جو معاشرے اپنے بچوں کی حفاظت نہیں کر سکتے، وہ اپنی تاریخ اور تہذیب بھی نہیں بچا سکتے۔ (شھاب سورانی)

Want your school to be the top-listed School/college in Mardan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Mardan