12/04/2026
کبھی امریکہ میں موت کے دہانے پر کھڑے چند بزرگ لوگوں سے پوچھا گیا:
"زندگی میں سب سے زیادہ کس بات کا افسوس ہے؟"
جو جواب ملا… وہ دل کو ہلا دینے والا تھا۔
95 فیصد لوگوں نے کہا:
"ہمیں اپنے کیے ہوئے کاموں پر نہیں… بلکہ اُن خوابوں پر افسوس ہے جو ہم دیکھتے رہے مگر کبھی پورے نہ کر سکے… اُن قدموں پر جو ہم اٹھانا چاہتے تھے مگر اٹھا نہ سکے…"
سوچیں…
انسان کو اپنی ناکامیوں کا اتنا دکھ نہیں ہوتا، جتنا اُن کوششوں کا ہوتا ہے جو وہ کبھی کر ہی نہیں پایا۔
زندگی کا سب سے بڑا بوجھ "ہار جانا" نہیں… بلکہ "کوشش نہ کرنا" ہوتا ہے۔
ہم سب کچھ کرنا چاہتے ہیں… آگے بڑھنا چاہتے ہیں…
لیکن کبھی حالات، کبھی وقت، اور کبھی اپنے ہی ڈر ہمیں روک لیتے ہیں۔
مگر سچ یہ ہے…
یہ سب نارمل ہے۔
زندگی کوئی سیدھی سڑک نہیں…
یہ ایک پیچیدہ راستہ ہے، جہاں غیر یقینی ہی اصل حقیقت ہے۔
اس لیے اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم پیچھے رہ گئے ہو… تو نہیں،
اور اگر لگتا ہے کہ سب تم سے آگے نکل گئے ہیں… تو یہ بھی نہیں۔
تم بس اپنے وقت پر، اپنے راستے پر چل رہے ہو…
اور یہی کافی ہے۔
اگر تم نے کروڑوں نہیں کمائے… تو کیا ہوا؟
دنیا کے کروڑوں لوگ بھی نہیں کما سکے۔
اگر تمہارے پاس گاڑی نہیں…
اگر تم نے دنیا کے 115 ممالک نہیں دیکھے…
تو بھی زندگی ادھوری نہیں ہوتی۔
لیکن اگر تمہاری صحت نہیں…
خاص طور پر ذہنی سکون نہیں…
تو پھر سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہوتا۔
اس لیے…
اپنی صحت کو سب سے اوپر رکھو۔
اپنے دل کو سکون دو۔
اپنے دماغ کو آرام دو۔
کیونکہ یہ سب کچھ تمہیں اللہ نے "مفت" دیا ہے…
بس اس کی حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے۔
یاد رکھو…
دنیا کی خواہشات کبھی ختم نہیں ہوں گی۔
"اور چاہیے" کا سلسلہ کبھی نہیں رکے گا۔
اس لیے رک جاؤ…
سانس لو…
اور شکر کرو اُس چیز کا جو تمہارے پاس ہے۔
کیونکہ میں نے وہ لوگ بھی دیکھے ہیں
جن کے پاس اربوں تھے… مگر آنکھوں میں آنسو تھے…
اور وہ بھی دیکھے ہیں
جو سڑک کنارے انناس کا جوس بیچتے تھے…
مگر چہرے پر ایسی مسکراہٹ تھی جیسے پوری دنیا ان کی ہو۔
زندگی چیزوں سے نہیں… احساس سے خوبصورت بنتی ہے۔
آج جو ہے… وہی اصل ہے۔
اسی میں جینا سیکھ لو…
ورنہ کل کا انتظار کرتے کرتے… زندگی ہاتھ سے نکل جائے گی۔