07/08/2026
افغانستان سے فارغ التحصیل میڈیکل طلبہ اور اُن کے اہلِ خانہ مایوس نہ ہوں
انشاء اللہ بہت جلد آپ سب کو آپ کا حق ملے گا۔ 🤲
پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کی جانب سے متعدد غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کو ڈیلِسٹ کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا ہے، جس سے افغانستان اور دیگر ممالک کی متعلقہ یونیورسٹیوں سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے متاثرہ گریجویٹس کو اہم ریلیف ملا ہے۔
دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی شامل تھے، نے 22 اپریل 2026 کو 22 متاثرہ گریجویٹس کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا۔
عدالت نے قرار دیا کہ PMDC نے 8 ستمبر 2025 کو ڈیلِسٹنگ کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جبکہ متاثرہ طلبہ اس سے قبل اپنی میڈیکل تعلیم مکمل کر چکے تھے، جب ان کے تعلیمی ادارے سرکاری طور پر تسلیم شدہ تھے۔
عدالت نے واضح کیا کہ انتظامی فیصلوں کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی ایسے اقدامات پہلے سے حاصل شدہ قانونی حقوق کو متاثر کر سکتے ہیں۔
عدالت نے PMDC کو ہدایت کی کہ متاثرہ گریجویٹس کو Provisional Registration (PRMP) کے حصول میں سہولت فراہم کی جائے، تاکہ وہ پاکستان میں National Registration Examination (NRE) میں شرکت کر سکیں۔
اس فیصلے سے سینکڑوں غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کے لیے ہاؤس جاب، رجسٹریشن اور پاکستان میں اپنے پیشہ ورانہ مستقبل کو جاری رکھنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
اہم نوٹ: یہ فیصلہ پشاور ہائی کورٹ نے 31 جولائی 2026 کے PMDC نوٹیفکیشن سے قبل دیا تھا۔ تاہم، اس معاملے سے متعلق قانونی تنازعہ اس وقت سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیرِ سماعت ہے، لہٰذا حتمی قانونی صورتِ حال سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی واضح ہوگی۔
افغانستان سے فارغ التحصیل تمام طلبہ اور اُن کے اہلِ خانہ سے گزارش ہے کہ حوصلہ رکھیں، مایوس نہ ہوں۔ ان شاء اللہ قانون اور انصاف کی روشنی میں آپ کو آپ کا جائز حق ضرور ملے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین۔ 🤲