ARBAB Shireen Zada official

ARBAB Shireen Zada official The page had been created for sharing the best EDUCATION news with others and especially youth and students

26/08/2026

🌹 12 ربیع الاول — رحمتِ عالم ﷺ کی آمدِ مبارک
12 ربیع الاول وہ عظیم اور بابرکت دن ہے جسے امتِ مسلمہ کے لیے بے پناہ خوشی، شکر اور عقیدت کا دن سمجھا جاتا ہے۔ اسی نسبت سے ہمارے دل اس عظیم ہستی کی یاد سے منور ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رحمت للعالمین، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بنا کر دنیا میں مبعوث فرمایا۔
آپ ﷺ کی تشریف آوری پوری انسانیت پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے۔ آپ ﷺ نے انسانوں کو جہالت، ظلم، شرک اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر توحید، ایمان، عدل، محبت، اخوت، اخلاق اور انسانیت کی روشنی عطا فرمائی۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ"
اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔
(الانبیاء: 107)
یہ سوچ کر ہی دل شکر سے بھر جاتا ہے کہ اگر ہمیں نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس، آپ ﷺ کی تعلیمات اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت نصیب نہ ہوتی تو ہم کس راستے پر ہوتے اور ہماری زندگی کا مقصد کیا ہوتا؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا، قرآن جیسی عظیم کتاب عطا کی اور اسلام جیسا مکمل ضابطۂ حیات بخشا—یہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سب سے عظیم نعمتوں میں سے ہے۔
لہٰذا 12 ربیع الاول ہمیں صرف خوشی منانے ہی نہیں بلکہ اپنی زندگی کو سیرتِ طیبہ ﷺ کے مطابق ڈھالنے کا پیغام بھی دیتا ہے۔ سچی محبتِ رسول ﷺ یہی ہے کہ ہم آپ ﷺ کی سنت کو اپنائیں، آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، والدین، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور تمام انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں اور اپنے کردار سے اسلام کی خوبصورتی ظاہر کریں۔
الحمدللہ ثم الحمدللہ!
اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے کہ اس نے ہمیں اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا۔
اللّٰهم صلِّ وسلِّم وبارك على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔ ﷺ 🌹

21/08/2026
کیا خیبر پختونخوا کو ایک اور ڈائریکٹوریٹ کی ضرورت ہے یا مؤثر تعلیمی نظام کی؟تحریر ارباب شیرین زادہ۔تحریر: ایک سابق ضلعی ...
02/08/2026

کیا خیبر پختونخوا کو ایک اور ڈائریکٹوریٹ کی ضرورت ہے یا مؤثر تعلیمی نظام کی؟
تحریر ارباب شیرین زادہ۔
تحریر: ایک سابق ضلعی تعلیمی افسر (DEO) کی نظر سے
خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر پرائمری تعلیم کے لیے الگ ڈائریکٹوریٹ قائم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہمارے تعلیمی مسائل کا حل ایک اور دفتر، ایک اور بیوروکریٹک ڈھانچہ اور مزید سرکاری اخراجات ہیں؟ یا پھر یہ چند مخصوص افراد کے ذاتی مفادات کو تحفظ دینے کی ایک اور کوشش ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ماضی میں بھی ہم ایسے کئی مہنگے انتظامی تجربات دیکھ چکے ہیں جن پر اربوں روپے خرچ ہوئے، مگر ان کا تعلیمی معیار، طلبہ کی کارکردگی یا سکولوں کی بہتری پر کوئی نمایاں اثر نظر نہیں آیا۔ "سکول لیڈر" منصوبہ اس کی ایک واضح مثال ہے، جس پر اربوں روپے خرچ ہوئے لیکن اس کے نتائج عوام کے سامنے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ ڈائریکٹوریٹ کی کوئی زمداری ہے بھی کہ نہی اور اگر صرف فائیلز فارورڈ کرنا ہے تو اس مین بھی وہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کر رہا ہے؟
اگر غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو موجودہ ڈائریکٹوریٹ کا بیشتر کام صرف فائلوں کو ایک دفتر سے دوسرے دفتر بھیجنے تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ اس کی بڑی انتظامی ذمہ داری، یعنی SST اساتذہ کی بھرتی اور ترقی، پہلے ہی پبلک سروس کمیشن کو منتقل کی جا چکی ہے۔ اس کے باوجود یہ ادارہ وسیع انفراسٹرکچر، بھاری ہیومن ریسورس اور اربوں روپے کے اخراجات کے ساتھ برقرار ہے۔
میں نے خود گریڈ 19 میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں۔ ذاتی تجربہ یہ ہے کہ میں نے 7 اگست 2025 کو عمرہ کی چھٹی کے لیے درخواست جمع کرائی، مگر وہ 22 اگست 2025 کو سیکرٹریٹ بھیجی گئی۔ یعنی ایک دن میں مکمل ہونے والا کام پندرہ دن میں ہوا، جبکہ اس دوران مجھے دو مرتبہ ڈائریکٹوریٹ کے چکر لگانے پڑے اور دو مرتبہ اپنی روانگی کی تاریخ تبدیل کرنا پڑی۔ اگر ایک سابق DEO کو یہ مشکلات پیش آ سکتی ہیں تو ایک عام استاد یا ملازم کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ایسی بے شمار مثالیں سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
اب چونکہ "AI یعنی مصنوعی دماغ اچکا ہے جو مہینوں کا کام منٹوں میں کرتا ہے" نے ہیومن ریسورس کی ضرورت کو کم کردیا ہے مغربی دنیا میں اگلے دو سال جبکہ پاکستان میں آٹھ سال بعد 75 فیصد ملازمین فارغ کئے جائیں گے لہذا ڈائریکٹوریٹ کی ضرورت ابھی سے ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے
ایسے حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب موجودہ ڈائریکٹوریٹ اپنی کارکردگی پر سوالات کی زد میں ہے تو اس کے ساتھ ایک اور متوازی ڈائریکٹوریٹ قائم کرنے کی ضرورت آخر کیوں پیش آ رہی ہے؟ کیا اس سے تعلیم بہتر ہوگی، یا صرف نئی آسامیاں، نئی گاڑیاں، نئے دفاتر، نئے ٹی اے/ڈی اے اور مزید انتظامی اخراجات بڑھیں گے؟
اصل مسئلہ نئے دفاتر بنانے کا نہیں بلکہ موجودہ نظام کو مؤثر، جوابدہ اور سادہ بنانے کا ہے۔
اگر حکومت واقعی تعلیمی اصلاحات چاہتی ہے تو اسے نئے دفاتر قائم کرنے کے بجائے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے چاہئیں۔ یہی وہ تصور ہے جسے دنیا بھر میں Decentralization کہا جاتا ہے، اور یہی سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکمرانی کے وژن کا بھی بنیادی اصول تھا کہ فیصلے عوام کے قریب ہوں، بیوروکریسی کم ہو اور خدمات کی فراہمی بہتر ہو۔
اسی وژن کی روشنی میں درج ذیل اصلاحات زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں:
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (DEOs) کو گریڈ 12 تا 16 کے انتظامی اختیارات اور کیٹیگری A کے مالی اختیارات دیے جائیں، اور انہیں براہِ راست ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، سول سیکرٹریٹ کے ماتحت کیا جائے۔
ضلع کی سطح پر کلسٹر سسٹم متعارف کرایا جائے، جس کے تحت ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں کے پرنسپلز اور ہیڈ ماسٹرز کو گریڈ 1 تا 11 کے انتظامی اختیارات اور کیٹیگری B کے مالی اختیارات دیے جائیں،مڈل اور پرائمری سکولوں کو ان کے زیر انتظام لایا جائے تاکہ وہ مقامی مسائل فوری طور پر حل کر سکیں۔ ان کے پاس پہلے ہی دفتر، منسٹریل سٹاف اور عملی انتظامی تجربہ موجود ہے۔
غیر ضروری درمیانی انتظامی سطحوں یعنی SDEOs دفاتر اور متوازی ڈائریکٹوریٹس کو ختم کرکے سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی لائی جائے۔
بچنے والے وسائل اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، سکولوں کی بنیادی سہولیات، جدید تدریسی وسائل، ڈیجیٹل تعلیم اور طلبہ کی فلاح پر خرچ کیے جائیں۔
حکومتوں کی کامیابی دفاتر کی تعداد سے نہیں بلکہ نتائج سے ناپی جاتی ہے۔ اگر ہر مسئلے کا حل صرف ایک نیا دفتر یا ایک نیا ڈائریکٹوریٹ بنانا سمجھ لیا جائے تو سرکاری اخراجات بڑھتے رہیں گے، مگر تعلیمی معیار اپنی جگہ کھڑا رہے گا۔
نتیجہ
خیبر پختونخوا کے تعلیمی نظام کو ایک اور ڈائریکٹوریٹ کی نہیں بلکہ جرأت مندانہ انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا، ضلعی نظام کو مضبوط بنانا، غیر ضروری انتظامی ڈھانچے کو ختم کرنا اور قومی وسائل کو براہِ راست طلبہ اور اساتذہ پر خرچ کرنا ہی وہ راستہ ہے جو بہتر تعلیم، اچھی حکمرانی اور مالی ذمہ داری کو یقینی بنا سکتا ہے۔
تعلیم دفاتر بڑھانے سے نہیں، اختیارات، جوابدہی اور مؤثر قیادت سے بہتر ہوتی ہے۔

 #خیبر پختونخواہ کا تعلیمی نظام: اصلاحات یا پالیسیوں کی ناکامی؟* تحریر: (ارباب شیرین زادہ )قومیں اپنے مستقبل کا فیصلہ جن...
07/07/2026

#خیبر پختونخواہ کا تعلیمی نظام: اصلاحات یا پالیسیوں کی ناکامی؟*
تحریر: (ارباب شیرین زادہ )
قومیں اپنے مستقبل کا فیصلہ جنگی میدانوں میں نہیں بلکہ درسگاہوں میں کرتی ہیں۔ جب حکومتیں تعلیم کو ترجیح دینے کے بجائے اسے انتظامی تجربات، نمائشی اصلاحات اور بیوروکریسی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں تو اس کا نقصان صرف ایک شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری نسل اس کی قیمت ادا کرتی ہے۔
خیبر پختونخواہ میں گزشتہ تیرہ برسوں سے تعلیم کے نام پر مسلسل اصلاحات کے دعوے کیے گئے۔ کبھی نیا ادارہ بنایا گیا، کبھی نئی مانیٹرنگ متعارف کرائی گئی، کبھی نئے عہدے تخلیق کیے گئے اور اب ایک بار پھر 1500 سپر مانیٹرز بھرتی کرنے کی تیاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہر چند سال بعد ایک نیا نظام لانا ہی اصلاحات ہے تو پھر گزشتہ تمام اصلاحات کی کامیابی کہاں نظر آتی ہے؟
مانیٹرنگ اور سپروژن کو بہتر بنانے کیلئے میل فیمیل منیجمنٹ کو الگ الگ کر کے تحصیل اور سرکل کے سطح پر ڈپٹی ڈی ای اوز ، ایس ڈی ای اوز اور اے ایس ڈی ای اوز کے پوسٹس تخلیق کئے گئے جس پر 2012 میں ڈی نوٹیفائی ہونے والے غیر قانونی اور غیر آئینی منیجمنٹ کیڈر کو مختار کل بنا دیا گیا۔
2014 میں Education Monitoring کا نظام متعارف کرایا گیا۔ اس وقت دعویٰ کیا گیا کہ نگرانی کے ذریعے تعلیمی انقلاب آئے گا۔ پھر 2021 میں تقریباً 2800 سکول لیڈرز اور سینئر سکول لیڈر بھرتی کیے گئے۔ اگر واقعی ان عہدوں کے اختیارات، ذمہ داریوں اور جوابدہی کا مؤثر نظام ابتدا سے واضح نہ تھا، تو یہ پالیسی سازی میں ایک بنیادی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ اب انہی تجربات کے تسلسل میں مزید سپر مانیٹرز کی بھرتی کا اعلان اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا حکومت نے پہلے سے موجود ڈھانچوں کی کارکردگی کا کبھی غیر جانبدارانہ جائزہ لیا؟
اصل المیہ یہ ہے کہ حکومت نے تعلیم کو تعلیم دانوں کے بجائے بیوروکریسی کے تجربات کی تجربہ گاہ بنا دیا ہے۔ کلاس روم، استاد اور طالب علم پالیسی کا مرکز ہونے کے بجائے فائلوں، رپورٹس اور مانیٹرنگ ایپس کا حصہ بن گئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ سکولوں میں سیکھنے کے معیار پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی۔
گزشتہ حکومتوں کے دور میں سرکاری سکولوں کے طلبہ کو مفت درسی کتابیں فراہم کی جاتی تھیں، سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی پر کام ہوا، ریشنلائیزیشن پالیسی متعارف کی گئی جو 40 طلبا پر ایک استاد تھا،اساتذہ کے لیے سروس اسٹرکچر، ترقی کے مواقع اور پیشہ ورانہ استحکام کے لیے اقدامات کیے گئے۔ بعد کے برسوں میں اساتذہ کی تنظیمیں مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہیں کہ ان حقوق، ترقیوں اور سہولیات میں کمی آئی، جبکہ نگرانی اور انتظامی بوجھ میں اضافہ ہوا۔ اگر ایک استاد خود غیر محفوظ اور مایوس ہو تو اس سے بہترین تعلیمی نتائج کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
تعلیم صرف عمارتوں اور حاضری کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس میں استاد، نصاب، تربیت، تحقیق، لائبریری، لیبارٹری اور طلبہ کی فکری نشوونما یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے گزشتہ تیرہ برسوں میں ان بنیادی شعبوں کے بجائے نگرانی کے نظام کو ہی اصلاحات کا مترادف بنا دیا گیا۔
اس سے بھی بڑا سوال قومی خزانے کا ہے۔ جب ایک منصوبہ مکمل ہونے سے پہلے دوسرا، اور دوسرے سے پہلے تیسرا منصوبہ شروع کر دیا جائے تو اس کی مالی اور انتظامی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟ اگر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود سرکاری سکولوں کے نتائج، طلبہ کی تعلیمی صلاحیت اور عوام کا اعتماد مطلوبہ حد تک بہتر نہیں ہوا تو یہ صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ پالیسی کی سمت کا مسئلہ ہے۔
تعلیمی نظام نعروں سے نہیں بلکہ تسلسل، منصوبہ بندی اور جوابدہی سے بہتر ہوتے ہیں۔ دنیا کے کامیاب ممالک نے استاد کو بااختیار بنایا، تربیت کو مضبوط کیا، نصاب کو جدید بنایا اور طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت کو کامیابی کا معیار قرار دیا۔ ہمارے ہاں، اس کے برعکس، ہر نئی حکومت نے نئے عہدے، نئے نام اور نئی اسکیمیں متعارف کرا دیں، مگر پرانے مسائل جوں کے توں رہے۔
آج خیبر پختونخواہ کے تعلیمی نظام کو مزید تجربات کی نہیں بلکہ ایک ایسی پالیسی کی ضرورت ہے جو کم از کم دس سے پندرہ سال تک مستقل مزاجی سے نافذ رہے، جس میں ہر بچے کو معیاری تعلیم، ہر سکول کو بنیادی سہولیات اور ہر استاد کو عزت، تحفظ، تربیت اور ترقی کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔
تیرہ سال کسی بھی حکومت کی کارکردگی جانچنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ اگر اس طویل عرصے کے بعد بھی حل نئے عہدے، نئی مانیٹرنگ اور نئے تجربات ہی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل مسئلہ نظام میں نہیں بلکہ پالیسی سازی کے انداز میں ہے۔
قوم کے بچوں کا مستقبل مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کئے جائیں اور نظام تعلیم کو چند لوگوں کے چنگل سے ازاد کریں اور نمائشی اصلاحات کے بجائے ایسی تعلیمی پالیسی اختیار کی جائے جو تاریخ میں اعلانات سے نہیں بلکہ نتائج سے یاد رکھی جائے۔

20/06/2026

26ستمبر 2024 سے پہلے وفات ہونے والے یا میڈیکل بورڈ پر ریٹائر ہونے والے ملازمین کے بچوں کو بھرتی کیا جائے گا۔تفصیل پہلے کمنٹ میں۔

*ټولو وطن والو او مسافرو ته لوى اختر مبارک شه.*
27/05/2026

*ټولو وطن والو او مسافرو ته لوى اختر مبارک شه.*

نئے بھرتی ہونے والے تمام اساتذہ مردانہ و زنانہ جن کی تقرری 18 مئی 2026 تک ہوئی ہے، کو یہ خوشخبری ہے کہ ان کا انڈکشن ٹرین...
22/05/2026

نئے بھرتی ہونے والے تمام اساتذہ مردانہ و زنانہ جن کی تقرری 18 مئی 2026 تک ہوئی ہے، کو یہ خوشخبری ہے کہ ان کا انڈکشن ٹریننگ یکم جون 2026 سے متعلقہ RPDCs میں شروع ہورہا ہے۔لہذا وہ یکم جون سے 4 جون تک اپنا اندراج کروائیں تاکہ ان کا ٹریننگ کا موقع ضائع نہ ہو۔

18/05/2026

اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ.

گورنمنٹ مڈل سکول ڈنڈ برنگ اور گورنمنٹ گرلز مڈل سکول جار ڈبل شفٹ پروگرام کے تحت ہائی لیول کو اپگریڈ جبکہ گورنمنٹ پرائمری ...
27/03/2026

گورنمنٹ مڈل سکول ڈنڈ برنگ اور گورنمنٹ گرلز مڈل سکول جار ڈبل شفٹ پروگرام کے تحت ہائی لیول کو اپگریڈ جبکہ گورنمنٹ پرائمری سکول پنجگوڑہ پہلے سے مڈل لیول کو اپگریڈ ہے ۔ضلع باجوڑ کو انرولمنٹ کے تناسب سے کوٹہ نہیں دیا جا رہا اور نہ ہی کوئی مانگنے والا ہے۔

Address

Mardan
18650

Telephone

+923439450321

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ARBAB Shireen Zada official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category