Knowledge Hub

Directions Contact the school

Knowledge Hub Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Knowledge Hub, Education & Learning, mardan, Mardan.

Physics Maths important farmulas, Knowledge of every field , Social activities
Knowledge For All۔ thanks 👍
معلوماتی اخلاقی اور طنز و مزاح سے بھرپور پوسٹوں کے لئے فالو کریں ۔شکریہ
if anyone has objection on our post please contact us we Will try our best

06/09/2026

رات کو دودھ والا برتن دھونا بھول گئی تھی۔
چونکہ اتوار تھا، سوچا آج تو دیر سے ہی اٹھوں گی۔ 😴

مگر چودہ طبق اُس وقت روشن ہوئے جب دودھ والے نے بیل بجائی۔ 😂

میں شاکڈ سی کچن کی طرف بھاگی تو دیکھا میاں جی پہلے ہی برتن اٹھا کر دروازے کی طرف جا رہے تھے۔ 🥹❤️

دل سے اتنی مشکور ہوئی کہ کیا بتاؤں!
واپس آئے تو پوچھنے لگے:
"کیا ہوا؟"

میں نے کہا:
"رات کو برتن نہیں دھویا تھا۔"

کہنے لگے:
"کوئی بات نہیں، صبح میں نے دھو لیا تھا۔" ❤️

کبھی کبھی شوہر کا ایک چھوٹا سا کام بھی بیوی کے دل میں ان کی عزت دس گنا بڑھا دیتا ہے۔ 🥹😂
کبھی آپکے ساتھ ایسا ہوا ؟؟

06/09/2026

لڑکیاں اپنے لیے ہمیشہ برے لڑکوں کا انتخاب کرتی ہیں اچھے لڑکوں کو وہ اس لیے ریجیکٹ کرتی ہیں کیونکہ جھوٹ، بلند و بانگ دعوے اور سنسنی خیزی انھیں بہت مائل کرتی ہے جو بعد میں صرف؛ دھوکہ اور فراڈ نکلتی ہے.

اس لیے آپ کو اکثر خواتین اپنی پسند پر پچھتاتی ہوئی ملیں گی، ان کی ازدواجی زندگی بری طرح سے ناکام ہوگی.

کیونکہ پہلے مرحلے میں انہوں نے اپنے لیے اچھے لڑکوں کے بجائے ان برے لڑکوں کا انتخاب کیا تھا جو کہ؛ جھوٹ بولنے اور اداکاری کرنے میں ماہر تھے!

موسیٰ پاشا

ہمارے تعلیمی اداروں میں طلباء کو صدیوں سے یہ تاثر دیا گیا کہ امریکہ کولمبس(Christopher Columbus) اور افریقہ لونگ سٹون(Da...
03/09/2026

ہمارے تعلیمی اداروں میں طلباء کو صدیوں سے یہ تاثر دیا گیا کہ امریکہ کولمبس(Christopher Columbus) اور افریقہ لونگ سٹون(David Livingstone) نے دریافت کیا بلکہ نئے سرے سے ایجاد کیا - ہمالیہ کے پہاڑوں میں دنیا کا بلند ترین پہاڑ جس کو ہم ڈھائی صدیوں سے "ماونٹ ایورسٹ" کے نام سے پکار رہے ہیں، یہ لاکھوں سال سے ایشیاء میں موجود تھا لیکن یہ تب دریافت ہوا جب برطانوی لٹیروں کی فوج "ایسٹ انڈیا کمپنی" کے ساتھ آئے ہوئے ایک لٹیرے اور معمولی حیثیت کے سرویئر جارج ایورسٹ (George Everest) کی اس پہاڑ پر نظر پڑی تو اس نے اس پہاڑ کو بنا سر کیے ہی، 1857 میں اس کا مقامی نام بدل کر اس کو اپنے ہی نام سے منسوب کرکے؛ "ماونٹ ایورسٹ" رکھ دیا - یہ بیہودہ نام ہم آج تک تبدیل کرنے کی اخلاقی جرأت اپنے اندر نہیں رکھتے -

ہمارے طلباء کو یہ نہیں بتایا گیا کہ کولمبس کے پاس بحر پیمائی (Oceanography) کا جو علم تھا وہ تعلیم اس نے اسلامی درسگاہوں میں حاصل کی تھی - سمندروں میں رہنمائی کے لیے اس کے پاس جو کمپاس تھا وہ عربوں نے ایجاد کیا تھا - فرانسیسی برطانویوں کے پاس افریقہ جانے والے جو نقشے تھے وہ عرب مسلمان بحیرہ روم بحیرہ قلزم، بحیرہ ہند اور بحر الکاہل کے سفر میں صدیوں سے استعمال کر رہے تھے -

مغربی تاریخ دان بد دیانت ہیں وہ یہ نہیں بتاتے کہ یورپی سائنسدان گلیلیو، کپلر، برونو، جیرارڈ اور راجر بیکن عربوں کے ہی نقال تھے
مسلمان عینک، کمپاس، بارود، الکحل سمیت بیسیوں چیزوں کے موجد تھے، خود ایک مغربی مصنف رابرٹ بریفالٹ تشکیل انسانیت کے صفحہ 262 پر لکھتا ہے کہ؛

"مؤرخین یورپ نے عربوں کی ہر ایجاد اور ہر دریافت اور ہر انکشاف کا سہرا اپنے یورپی بندے کے سر باندھ دیا ہے- مثلاً قطب نما کمپاس کی ایجاد ایک فرضی شخص فلویوگوجہ (Flavio Gioga) کی طرف منسوب کردی - ولے ناف کے آرنلڈ کو الکحل اور راجر بیکن کو بارود کا موجد بنا دیا - اور یہ بیانات وہ خوفناک جھوٹ ہیں جو یورپی تہذیب کے مآخذ کے متعلق بولے گئے ہیں - "

انسائیکلوپیڈیا آف بریٹینکا میں لفظ" جیبرGeber(جابر) " کے تحت ایک ایسے مترجم کا نام لکھا ہوا ہے جس نے معروف عرب کیمیا دان جابر بن حیان کے کیمسٹری کی کی ایک کتاب کے لاطینی ترجمہ کو اپنی تصنیف بنا لیا تھا - یہی حرکت ابن الجزار(1009ء) کی" زاد المسافر " کا لاطینی ترجمہ کرنے والے قسطنطین افریقی (1060ء) نے کی، اس نے ابن الجزار کی لکھی ہوئی کتاب کا ترجمہ کرنے کے بعد اس پر اپنا نام بطور مصنف لکھ دیا -

جو قوم اپنی کہانی غیروں کی زبانی سنتی ہے اس کا یہی حال ہوتا ہے وہ ان کا مقابلہ کرنا تو دور کی بات ہے، ان کے سامنے آنے کی جرات بھی نہیں کرسکتی - یہ قومیں مغرب سے اپنے حقوق کیا لیں گی جو ان سے اپنا وجود ہی تسلیم نہیں کروا سکتیں-

غلطی سے سیکھنے کا ہنروہ کلاس روم جہاں غلط جواب شرمندگی نہیں، سیکھنے کا آغاز ہو(منصور اختر غوری) ایک بچہ بورڈ کے سامنے کھ...
31/08/2026

غلطی سے سیکھنے کا ہنر
وہ کلاس روم جہاں غلط جواب شرمندگی نہیں، سیکھنے کا آغاز ہو
(منصور اختر غوری)

ایک بچہ بورڈ کے سامنے کھڑا ہے۔ استاد نے ریاضی کا ایک سوال دیا ہے۔ بچہ پوری کوشش سے سوال حل کرتا ہے، لیکن آخری جواب غلط نکل آتا ہے۔ کلاس میں چند بچے ہنسنے لگتے ہیں۔ استاد فوراً کہتا ہے، “اتنا آسان سوال بھی نہیں آتا؟ بیٹھ جاؤ!” بچہ خاموشی سے اپنی جگہ واپس آ جاتا ہے۔ شاید اس دن اس نے صرف ایک سوال غلط حل نہیں کیا، بلکہ اس کے ذہن میں یہ احساس بھی پیدا ہو گیا کہ غلطی کرنا خطرناک ہے۔ اب ممکن ہے وہ اگلی بار جواب جانتے ہوئے بھی ہاتھ نہ اٹھائے، سوال پوچھنے سے گریز کرے اور صرف اس وقت بولے جب اسے مکمل یقین ہو کہ اس کا جواب درست ہے۔
اب ایک دوسری کلاس کا تصور کیجیے۔ ایک بچہ غلط جواب دیتا ہے۔ استاد فوراً اسے غلط قرار دے کر خاموش نہیں کرتا بلکہ پوچھتا ہے، “آپ نے یہاں تک کیسے سوچا؟” بچہ اپنی سوچ بیان کرتا ہے۔ استاد پوری کلاس سے کہتا ہے، “آئیے دیکھتے ہیں کہ ہم کہاں درست جا رہے تھے اور کہاں ہماری سوچ کا رخ بدل گیا۔” بچے سوال کو دوبارہ دیکھتے ہیں۔ کسی کو غلطی کا مقام نظر آتا ہے۔ استاد مسکراتا ہے اور کہتا ہے، “بہت اچھا، اب ہمیں معلوم ہو گیا کہ اس قسم کی غلطی کیوں ہوتی ہے۔”
دونوں کلاسوں میں ایک ہی غلط جواب تھا، لیکن دونوں تجربات بالکل مختلف تھے۔ پہلی کلاس میں غلطی شرمندگی بن گئی۔ دوسری کلاس میں غلطی سیکھنے کا ذریعہ بن گئی۔ یہی فرق ایک عام کلاس روم اور ایک مؤثر Learning Environment کے درمیان پیدا ہو سکتا ہے۔
ہم میں سے اکثر نے اپنی تعلیمی زندگی میں یہ سنا ہوگا: “غلطی مت کرنا۔” امتحان میں غلط جواب نقصان کا سبب بنتا ہے، غلط ہجے پر نمبر کٹتے ہیں، غلط حساب پر سوال غلط قرار پاتا ہے۔ یقیناً درست جواب کی اہمیت ہے، لیکن تعلیم کا مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم بچے کو یہ سکھا دیں کہ غلطی صرف ناکامی ہے اور اس سے بچنا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سیکھنے کا سفر اکثر غلطی سے گزرتا ہے۔ کوئی بچہ پہلی بار سائیکل چلانا سیکھتے ہوئے کامل نہیں ہوتا۔ زبان سیکھنے والا بچہ شروع میں الفاظ غلط بولتا ہے۔ لکھنا سیکھنے والا بچہ حروف کی شکل بگاڑ دیتا ہے۔ ریاضی کا تصور سمجھنے والا طالب علم کئی مرتبہ غلط راستہ اختیار کرتا ہے۔ اگر ہم سیکھنے کے ہر مرحلے سے غلطی کو نکال دیں تو شاید سیکھنے کا عمل ہی ناممکن ہو جائے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ بچہ غلطی کرے گا یا نہیں۔ وہ کرے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس غلطی کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔
ایک اچھا استاد غلطی کو پسند نہیں کرتا، لیکن وہ غلطی سے خوفزدہ بھی نہیں ہوتا۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ ہر غلطی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض غلطیاں لاپروائی سے ہوتی ہیں، بعض جلد بازی سے، بعض ہدایات کو نہ سمجھنے سے، بعض بنیادی تصور میں کمزوری کی وجہ سے اور بعض اس لیے کہ بچہ واقعی ایک مشکل مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ استاد کا کام صرف غلط جواب پر نشان لگانا نہیں بلکہ یہ سمجھنا بھی ہے کہ غلطی کہاں اور کیوں پیدا ہوئی۔
فرض کیجیے، ایک بچہ 7 + 8 کا جواب 14 لکھ دیتا ہے۔ استاد صرف یہ کہہ سکتا ہے کہ “غلط!” لیکن ایک مؤثر استاد سوچے گا کہ بچے نے ایسا کیوں کیا؟ کیا اسے بنیادی جمع میں مشکل ہے؟ کیا اس نے جلد بازی کی؟ کیا اسے 7 اور 8 کا مجموعہ یاد نہیں؟ کیا اس نے کسی اور سوال کے طریقے کو یہاں استعمال کر دیا؟ جب استاد غلطی کی وجہ سمجھ لیتا ہے تو اس کے لیے اگلا تدریسی قدم واضح ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ غلط جواب بھی استاد کے لیے Information ہوتا ہے۔ درست جواب ہمیں بتاتا ہے کہ بچہ شاید سمجھ گیا ہے، لیکن غلط جواب بعض اوقات زیادہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ بچہ کہاں کھڑا ہے۔
تعلیم میں ایک اہم اصول یہ ہے کہ بچے کو صرف درست جواب تک پہنچانا کافی نہیں؛ اسے اپنی سوچ کے راستے کو سمجھنا بھی آنا چاہیے۔ جب استاد بچے سے پوچھتا ہے، “آپ نے ایسا کیوں سوچا؟” تو وہ صرف جواب کی جانچ نہیں کر رہا ہوتا بلکہ بچے کی Thinking Process کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
بعض اوقات بچہ غلط جواب تک پہنچتا ہے، لیکن اس کی ابتدائی سوچ بالکل درست ہوتی ہے۔ صرف ایک مرحلے پر غلطی ہو جاتی ہے۔ اگر استاد فوراً پورے جواب کو رد کر دے تو بچے کو یہ محسوس ہو سکتا ہے کہ اس کی پوری کوشش ناکام تھی۔ لیکن اگر استاد اسے بتائے کہ “آپ یہاں تک بالکل درست جا رہے تھے، اب آئیے اگلا مرحلہ دوبارہ دیکھتے ہیں”، تو بچہ سیکھتا ہے کہ غلطی کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ غلط تھا۔
یہ ایک بہت اہم پیغام ہے، کیونکہ زندگی میں بھی اکثر مسائل ایسے ہی ہوتے ہیں۔ انسان مکمل طور پر ناکام نہیں ہوتا؛ بعض اوقات اسے صرف اپنے طریقے کا ایک حصہ درست کرنا ہوتا ہے۔
کلاس روم میں غلطی کے بارے میں استاد کی زبان بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک ہی صورتحال کو مختلف الفاظ میں مختلف انداز سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ “تمہیں کچھ نہیں آتا” اور “یہ حصہ ابھی مزید سمجھنے کی ضرورت ہے” دونوں جملے ایک جیسے نہیں ہیں۔ “تم ہمیشہ غلط کرتے ہو” بچے کی شخصیت پر حملہ بن سکتا ہے، جبکہ “اس بار طریقے میں ایک مسئلہ آیا ہے” بچے کو مسئلے اور اپنی شخصیت کے درمیان فرق سمجھاتا ہے۔
ایک اچھا استاد بچے کو غلطی اور اپنی شناخت میں فرق کرنا سکھاتا ہے۔ بچہ غلط جواب دے سکتا ہے، لیکن وہ “غلط بچہ” نہیں بن جاتا۔ وہ کسی کام میں کمزور ہو سکتا ہے، لیکن وہ ہمیشہ کے لیے کمزور نہیں ہو جاتا۔ وہ ابھی کسی تصور کو نہیں سمجھتا، لیکن “ابھی نہیں” کا مطلب “کبھی نہیں” نہیں ہوتا۔
یہ چھوٹا سا لفظ “ابھی” تعلیم میں بہت طاقت رکھتا ہے۔
اگر کوئی بچہ کہتا ہے، “مجھے ریاضی نہیں آتی”، تو استاد کہہ سکتا ہے، “آپ کو یہ حصہ ابھی پوری طرح نہیں آیا، لیکن ہم اسے سیکھ سکتے ہیں۔” اگر کوئی بچہ کہتا ہے، “میں انگریزی نہیں بول سکتا”، تو استاد اسے یاد دلا سکتا ہے، “آپ ابھی روانی سے نہیں بولتے، لیکن آپ روزانہ بہتر ہو سکتے ہیں۔”
یہ سوچ بچے کو فوری کامیابی کے بجائے مسلسل ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔
لیکن غلطی کو سیکھنے کا موقع بنانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ استاد غلطی کو نظر انداز کر دے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم بچے کو اعتماد دینا چاہتے ہیں تو ہر جواب پر “بہت اچھا” کہہ دینا چاہیے۔ یہ بھی مؤثر تدریس نہیں۔ اگر جواب غلط ہے تو بچے کو درست سمجھ تک پہنچنا چاہیے۔ فرق صرف طریقے کا ہے۔
ایک استاد کہہ سکتا ہے، “آپ نے اچھی کوشش کی ہے، لیکن جواب ابھی درست نہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کہاں تبدیلی کی ضرورت ہے۔” اس جملے میں حوصلہ افزائی بھی ہے اور علمی دیانت داری بھی۔
بچے کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ درست جواب کی اہمیت ہے، لیکن غلط جواب دینے پر اس کی عزت کم نہیں ہوتی۔
کلاس روم میں سب سے بڑا مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بچے غلطی کے خوف سے کوشش کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر ایک طالب علم صرف آسان سوالوں کا جواب دیتا ہے، صرف محفوظ راستہ اختیار کرتا ہے اور مشکل کام سے اس لیے دور رہتا ہے کہ کہیں غلطی نہ ہو جائے، تو وہ اپنی صلاحیت کی حد تک نہیں پہنچ سکے گا۔
سیکھنے کے لیے بعض اوقات بچے کو مشکل سوال کے سامنے کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اسے سوچنا پڑتا ہے، مختلف طریقے آزمانے پڑتے ہیں اور بعض مرتبہ ناکام ہونا پڑتا ہے۔ استاد کا کام یہ ہے کہ وہ بچے کو اتنا محفوظ ماحول دے جہاں وہ کوشش کرنے کی ہمت رکھے۔
یہاں “Safe Classroom” کا مطلب ایسا کلاس روم نہیں جہاں کوئی مشکل کام نہ ہو۔ بلکہ محفوظ کلاس روم وہ ہے جہاں مشکل کام کرنے کی اجازت ہو اور غلطی پر تضحیک نہ ہو۔
مثلاً استاد ایک مشکل سوال دے سکتا ہے اور پہلے ہی کہہ سکتا ہے، “ممکن ہے پہلی کوشش میں سب کو جواب نہ ملے۔ ہمیں آج درست جواب کے ساتھ ساتھ مختلف طریقوں پر بھی غور کرنا ہے۔” یہ ایک جملہ بچوں کی ذہنی کیفیت بدل سکتا ہے۔ اب وہ یہ نہیں سوچ رہے کہ “اگر غلط ہوا تو کیا ہوگا؟” بلکہ یہ سوچ رہے ہیں کہ “میں کوشش کیسے کروں؟”
غلطی کو سیکھنے کا موقع بنانے کے لیے استاد کو خود بھی اپنی غلطیوں کے بارے میں صحت مند رویہ دکھانا چاہیے۔ اگر استاد بورڈ پر کوئی لفظ غلط لکھ دے یا حساب میں کوئی چھوٹی غلطی کر بیٹھے تو اسے چھپانے یا دفاعی رویہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ کہہ سکتا ہے، “میں نے یہاں ایک غلطی کی ہے، آئیے اسے درست کرتے ہیں۔”
یہ بچوں کے لیے ایک طاقتور سبق ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ استاد بھی انسان ہے، وہ بھی غلطی کر سکتا ہے اور غلطی مان لینے سے اس کی عزت کم نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ دیانت داری اور سیکھنے کی ثقافت کو مضبوط بناتا ہے۔
جب استاد اپنی غلطی کو تسلیم کرتا ہے تو وہ بچوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ کامل ہونا ضروری نہیں، سیکھتے رہنا ضروری ہے۔
کلاس روم میں غلطیوں کے بارے میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ہر بچے کی غلطی کو پوری کلاس کے سامنے نمایاں کرنا ضروری نہیں۔ بعض اوقات استاد کسی عام غلط فہمی کو نام لیے بغیر پوری کلاس کے ساتھ زیرِ بحث لا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ کہہ سکتا ہے، “میں نے آج کئی کاپیوں میں ایک دلچسپ غلطی دیکھی ہے۔ آئیے سمجھتے ہیں کہ یہ غلطی کیوں ہو رہی ہے۔”
اس طرح غلطی کسی ایک بچے کی شرمندگی نہیں بنتی بلکہ پوری کلاس کے لیے سیکھنے کا موقع بن جاتی ہے۔
استاد بعض اوقات جان بوجھ کر ایک غلط حل بھی پیش کر سکتا ہے اور بچوں سے پوچھ سکتا ہے، “اس حل میں مسئلہ کہاں ہے؟” یہ سرگرمی بچوں کو صرف درست جواب دینے کے بجائے تجزیہ کرنا سکھاتی ہے۔ وہ غلطی تلاش کرتے ہیں، دلیل دیتے ہیں اور درست طریقہ تجویز کرتے ہیں۔
مثلاً استاد بورڈ پر ایک ریاضی کا سوال غلط طریقے سے حل کرے اور کہے، “کیا آپ میرے حل سے اتفاق کرتے ہیں؟” بچے غور سے دیکھیں گے۔ کوئی کہے گا، “سر، آپ نے یہاں نشان غلط استعمال کیا ہے۔” کوئی دوسرا کہے گا، “پہلے یہ مرحلہ ہونا چاہیے تھا۔”
ایسی سرگرمیاں بچوں کو یہ سکھاتی ہیں کہ غلطی صرف کسی فرد کی کمزوری نہیں، بلکہ ایک Thinking Opportunity بھی ہو سکتی ہے۔
زبان سکھاتے وقت بھی یہی اصول استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بچے کے غلط جملے کو فوراً شرمندگی کا سبب بنانے کے بجائے استاد اس سے پوچھ سکتا ہے، “اگر ہم یہ بات زیادہ واضح انداز میں کہنا چاہیں تو کیا تبدیلی کریں گے؟” بچے مختلف متبادل پیش کر سکتے ہیں۔
سائنس میں استاد غلط پیش گوئی کو بھی سیکھنے کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ اگر بچے نے کسی تجربے کے بارے میں ایک اندازہ لگایا اور نتیجہ مختلف نکلا تو استاد کہہ سکتا ہے، “ہمارا اندازہ مختلف تھا، اب ہم دیکھتے ہیں کہ نتیجہ ایسا کیوں آیا۔”
اصل سائنس بھی سوال، مشاہدے، آزمائش اور اصلاح کے عمل سے آگے بڑھتی ہے۔ اگر ہم بچوں کو صرف پہلے سے معلوم درست جواب دیں گے تو شاید وہ معلومات یاد کر لیں، لیکن تحقیق کا مزاج پیدا نہیں ہوگا۔
غلطی سے سیکھنے کے لیے Reflection بھی ضروری ہے۔ صرف غلطی دیکھ کر درست جواب لکھ دینا کافی نہیں۔ بچے کو کبھی کبھار یہ سوچنے کا موقع دینا چاہیے کہ غلطی کیوں ہوئی اور اگلی بار اسے کیسے روکا جا سکتا ہے۔
ایک سادہ سا سوال بہت مؤثر ہو سکتا ہے:
“میں نے کیا سوچا تھا؟”
“میں نے کیا کیا؟”
“غلطی کہاں ہوئی؟”
“اگلی بار میں کیا مختلف کروں گا؟”
یہ چار سوال بچے کو اپنے سیکھنے کا ذمہ دار بناتے ہیں۔
آہستہ آہستہ بچہ اپنی غلطیوں کا انتظار کرنے لگتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ غلطی اسے کچھ بتائے گی۔ یہی Self-Correction کی عادت ہے، جو زندگی بھر کام آتی ہے۔
استاد کو ہر غلطی خود درست کرنے کی ضرورت نہیں۔ بعض اوقات بچے کو دوبارہ سوچنے کا موقع دینا زیادہ مفید ہوتا ہے۔ اگر استاد ہر جواب کے فوراً بعد درست حل بتا دے تو بچے کی ذہنی محنت کم ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر استاد کہے، “اپنا جواب دوبارہ دیکھیں، کیا آپ کو کوئی جگہ ایسی نظر آ رہی ہے جہاں آپ تبدیلی کرنا چاہیں؟” تو بچہ خود اپنی سوچ کا جائزہ لینے لگتا ہے۔
یقیناً یہ طریقہ ہر صورتحال میں مناسب نہیں۔ بعض بنیادی تصورات میں فوری وضاحت ضروری ہوتی ہے، اور بعض غلط فہمیوں کو زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہنے دینا چاہیے۔ لیکن جہاں ممکن ہو، بچے کو خود دریافت کرنے کا موقع دینا اس کی سیکھنے کی صلاحیت کو مضبوط کرتا ہے۔
آج کے امتحان پر مبنی نظام میں یہ موضوع اور بھی اہم ہے۔ جب کامیابی کو صرف نمبر سے ناپا جائے تو بچے اکثر غلطی سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ وہ سوال پوچھنے کے بجائے “صحیح جواب” تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن حقیقی زندگی صرف Multiple Choice Questions پر مشتمل نہیں۔ زندگی میں اکثر مسئلہ پہلے واضح ہی نہیں ہوتا۔ ہمیں معلومات جمع کرنی پڑتی ہیں، مختلف راستے آزمانے پڑتے ہیں، فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور بعض اوقات اپنے فیصلے تبدیل بھی کرنے پڑتے ہیں۔
اس لیے اگر ہم بچوں کو مستقبل کے لیے تیار کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں انہیں صرف صحیح جواب دینے والا نہیں بلکہ غلطی سے سیکھنے والا انسان بنانا ہوگا۔
AI کے دور میں یہ صلاحیت مزید اہم ہو گئی ہے۔ آج ایک طالب علم AI سے فوری جواب حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ ہر جواب کو درست مان لے تو وہ غلط معلومات یا غلط reasoning کو پہچاننے میں مشکل محسوس کر سکتا ہے۔ AI بھی غلطی کر سکتی ہے، نامکمل جواب دے سکتی ہے یا پراعتماد انداز میں غیر درست معلومات پیش کر سکتی ہے۔
اس لیے مستقبل کا طالب علم صرف جواب حاصل کرنے والا نہیں بلکہ جواب کو جانچنے والا بھی ہونا چاہیے۔
استاد بچوں کو کبھی کبھار AI کے جواب میں ممکنہ غلطی تلاش کرنے کی سرگرمی دے سکتا ہے۔ مثلاً کسی موضوع پر ایک جواب حاصل کریں، پھر بچوں سے کہیں کہ وہ اس میں موجود دعووں کو جانچیں، سوالات کریں اور قابلِ اعتماد ذرائع یا اپنی کتاب سے موازنہ کریں۔ اس طرح بچے یہ سیکھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی سے ملنے والا جواب آخری حقیقت نہیں بلکہ تحقیق کا ایک نقطۂ آغاز بھی ہو سکتا ہے۔
غلطی سے سیکھنے کی ثقافت استاد اور بچے کے تعلق کو بھی مضبوط بناتی ہے۔ جب بچے کو معلوم ہو کہ استاد اسے غلط جواب دینے پر ذلیل نہیں کرے گا تو وہ زیادہ کھل کر اپنی سوچ ظاہر کرتا ہے۔ استاد کو بھی بچے کی اصل سمجھ معلوم ہوتی ہے۔ اگر بچے صرف وہی جواب بولیں جو استاد سننا چاہتا ہے تو استاد کو کبھی معلوم ہی نہیں ہوگا کہ ان کے ذہن میں اصل میں کیا چل رہا ہے۔
ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات مکمل خاموش کلاس میں کم سیکھنا ہو رہا ہوتا ہے، کیونکہ بچے صرف غلطی کے خوف سے خاموش ہوتے ہیں۔ جبکہ ایک ایسی کلاس جہاں سوال، بحث، مختلف جوابات اور سوچنے کا عمل جاری ہو، بظاہر زیادہ متحرک ہو سکتی ہے لیکن وہاں حقیقی سیکھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
یقیناً کلاس روم میں نظم و ضبط ضروری ہے، لیکن نظم و ضبط اور خوف ایک چیز نہیں۔ بچے کو احترام کے ساتھ غلطی کرنے کی آزادی دی جا سکتی ہے، جبکہ واضح اصول بھی برقرار رکھے جا سکتے ہیں۔
ایک استاد کے لیے سب سے اہم تبدیلی شاید اپنی زبان میں لانا ہے۔ “غلط” کہنے سے پہلے ایک لمحہ رکیں اور سوچیں کہ کیا میں اس غلطی کو سیکھنے کا دروازہ بنا سکتا ہوں؟

مثلاً:
“یہ جواب غلط ہے” کے بجائے:
“آئیے دوبارہ دیکھتے ہیں کہ ہماری سوچ کہاں تبدیل ہوئی۔”
“تمہیں یہ نہیں آتا” کے بجائے:
“یہ حصہ ابھی مزید مشق مانگتا ہے۔”
“کتنی بار سمجھاؤں؟” کے بجائے:
“آئیے ایک دوسرے طریقے سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔”
“تم ہمیشہ غلطی کرتے ہو” کے بجائے:
“اس بار کی غلطی ہمیں کیا سکھا رہی ہے؟”
یہ الفاظ صرف نرم زبان نہیں، بلکہ ایک مختلف تعلیمی فلسفے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ایک کامیاب استاد بچے کو غلطی سے بچنے کا نہیں، بلکہ غلطی کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے کا ہنر سکھاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ دنیا میں کامیاب وہی نہیں ہوتے جو کبھی غلطی نہیں کرتے، بلکہ وہ بھی ہوتے ہیں جو غلطی کے بعد سیکھتے، اصلاح کرتے اور بہتر طریقے سے آگے بڑھتے ہیں۔
کل اپنی کلاس میں اگر کوئی بچہ غلط جواب دے تو اسے فوراً ختم شدہ معاملہ نہ سمجھیں۔ ایک سوال پوچھیے:

“آپ یہاں تک کیسے پہنچے؟”
ممکن ہے آپ کو معلوم ہو کہ بچے نے غلط جواب دیا ہے، لیکن اس کی سوچ میں ایک ایسا نقطہ موجود ہے جہاں سے حقیقی سیکھنے کا آغاز ہو سکتا ہے۔
یاد رکھیے، استاد کا مقصد ایسا کلاس روم بنانا نہیں جہاں کوئی غلطی نہ کرے۔ ایسا کلاس روم شاید صرف وہاں ممکن ہو جہاں کوئی مشکل کام ہی نہ کیا جائے۔ استاد کا مقصد ایسا ماحول بنانا ہے جہاں بچے غلطی سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اس سے سیکھنا جانیں۔
کیونکہ تعلیم کا سفر ہمیشہ سیدھی لکیر نہیں ہوتا۔ اس میں سوال بھی ہوتے ہیں، الجھن بھی، ناکام کوششیں بھی اور نئے راستے بھی۔
اور شاید ایک کامیاب استاد کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ بچے کی غلطی میں صرف کمی نہیں دیکھتا، بلکہ اگلی سیکھنے کی منزل بھی دیکھ لیتا ہے۔
> “غلطی اختتام نہیں؛ اگر ہم اس سے سیکھ لیں تو وہ اگلی سمجھ کا آغاز ہے۔”

استاد کے لیے آج کا عملی چیلنج
کل اپنی کلاس میں جب کوئی بچہ غلط جواب دے تو فوراً درست جواب نہ بتائیں۔ پہلے اس سے پوچھیے:

“آپ نے ایسا کیوں سوچا؟”
پھر پوری کلاس کے ساتھ اس سوچ کے راستے کو دیکھیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ غلطی کہاں پیدا ہوئی۔ آخر میں بچے سے ضرور پوچھیں:
“اب اگر آپ دوبارہ کوشش کریں تو کیا مختلف کریں گے؟”

AI دور میں اس موضوع کی اہمیت
AI سے جواب حاصل کرنا آسان ہے، لیکن اس جواب میں غلطی تلاش کرنا، اسے جانچنا اور اپنی سوچ کو بہتر بنانا ایک ضروری انسانی مہارت ہے۔

غور و فکر
> “کیا میرے کلاس روم میں بچے غلط جواب دینے سے ڈرتے ہیں، یا غلطی کے بعد دوبارہ کوشش کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟”
> “صحیح جواب سیکھنے کا نتیجہ ہو سکتا ہے، لیکن غلطی کو سمجھنا سیکھنے کی گہرائی پیدا کرتا ہے۔”
(کامیاب تدریس کے 100 اصول)

تنہائی یا پاگل پن: شعور کا واحد صلہ۔
23/08/2026

تنہائی یا پاگل پن: شعور کا واحد صلہ۔

23/08/2026
ترکیہ: 5 نوجوان مسلمان ہوگئےنیوزی لینڈ کے 5 نوجوان سائیکلوں پر ترکی کے سفر پر نکلے ہوئے تھے۔ دوران سیاحت وہ صوبہ سیواس ک...
16/08/2026

ترکیہ: 5 نوجوان مسلمان ہوگئے

نیوزی لینڈ کے 5 نوجوان سائیکلوں پر ترکی کے سفر پر نکلے ہوئے تھے۔ دوران سیاحت وہ صوبہ سیواس کے گاؤں تاتلی جاک (Tatlıcak) پہنچے تو گاؤں والوں نے ان کا ایسا پرتپاک استقبال کیا کہ وہ حیران رہ گئے۔
گاؤں کے مختار سباحتین کایا (Sebahattin Kaya) نے بتایا کہ نوجوانوں نے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا تھا، مگر گاؤں والوں نے مہمان سمجھ کر انہیں کھانا کھلایا، آرام کا موقع دیا اور ان کی ضروریات خود محسوس کرکے پوری کیں۔ ان کی اس بے لوث محبت، مہمان نوازی اور حسنِ سلوک نے نیوزی لینڈ کے ان نوجوانوں کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔
ان پانچوں نوجوانوں نے گاؤں والوں کی اس بے لوث مہمان نوازی سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے کہا کہ یہ کیا کہانی ہے؟ تم لوگوں کے لیے ہم کوئی خاص اہمیت رکھتے ہیں؟ مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہ ہمارے دین کا حکم اور ہمارے نبیؐ کی تعلیم ہے۔ یہ سن کر سیاح مزید حیران ہو کر اسلام کے بارے میں جاننے کی خواہش ظاہر کی۔
اس کے بعد انہیں گاؤں کی مسجد میں امام کے پاس لے جایا گیا۔ امام صاحب نے انہیں اسلام کے بارے میں بتایا اور اسلام کی بنیادی تعلیمات سے آگاہ کیا۔ چند گھنٹوں کی اس ملاقات کے بعد وہ پانچوں نوجوان کلمۂ شہادت پڑھ کر دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے۔
وہ ترکی میں صرف ایک گاؤں دیکھنے اور سفر کی ایک منزل طے کرنے آئے تھے، مگر تاتلی جاک سے اپنے دل میں ایمان لے کر روانہ ہوئے۔
اسلام کی دعوت الفاظ سے نہیں، کردار سے پہنچتی ہے۔ ایک اجنبی مسافر کے ساتھ خلوص، عزت، سخاوت اور بے لوث مہمان نوازی وہ پیغام بن جاتی ہے جو براہِ راست دل تک پہنچتا ہے۔ پانچ نوجوان ترکی آئے تھے سائیکلوں پر، مگر واپس گئے تو ان کے دل اسلام کی روشنی سے منور تھے۔
یہ واقعہ کل 14 اگست کو ترک میڈیا میں رپورٹ ہوا۔

06/08/2026

غیبت کا گناہ اور نیورو سائنس
ڈاکٹر فرانسسکا بوکا الدقرہ (Dr. Francesca Bocca Aldaqre) اٹلی سے تعلق رکھنے والی معروف نیورو سائنسدان (Neuroscientist)، ماہر نفسیات، محققہ اور اسلامی اسکالر ہیں، جو جدید دماغی سائنس، نفسیات اور اسلامی علوم کے امتزاج پر اپنی منفرد علمی خدمات کے باعث بین الاقوامی سطح پر پہچانی جاتی ہیں۔ 1987ء میں اٹلی کے شہر پیاتسینزا (Piacenza) میں پیدا ہونے والی ڈاکٹر فرانسسکا نے جرمنی کی معروف Ludwig Maximilian University of Munich سے نیورو کاگنیٹو سائیکالوجی (Neuro-Cognitive Psychology) میں ماسٹرز اور سسٹیمک نیورو سائنس (Systemic Neuroscience) میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ بعد ازاں انہوں نے برطانیہ کے Cambridge Muslim College سے اسلامی نفسیات (Islamic Psychology) میں خصوصی تعلیم حاصل کی، جبکہ شام، امریکہ، برطانیہ، کویت اور بوسنیا میں ممتاز اہلِ علم سے عربی زبان، اسلامیات، فقہ، عقیدہ اور روحانی تربیت کے مختلف مراحل بھی طے کیے۔
ڈاکٹر فرانسسکا پیدائشی مسلمان نہیں تھیں، بلکہ تحقیق اور حق کی جستجو نے انہیں اسلام تک پہنچایا۔ دمشق کے معروف عالم شیخ محمد راتب النابلسی کے دروس اور اسلامی فکر سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کیا، پھر شام کے ممتاز علمی خاندان آل الدقرہ سے وابستہ ہوئیں اور شیخ علی الدقرہ، شیخ عبدالغنی الدقرہ اور دیگر جید علماء سے اسلامی علوم کی باقاعدہ تحصیل کی۔ اسی نسبت سے ان کے نام کے ساتھ "الدقرہ" کا اضافہ ہوا اور وہ مغربی دنیا میں ان معدودے چند شخصیات میں شمار ہونے لگیں جنہوں نے جدید سائنسی تحقیق اور اسلامی روایت کو یکجا کرنے کی کامیاب کوشش کی۔
اس وقت وہ متعدد بین الاقوامی علمی اداروں سے وابستہ ہیں۔ وہ International Open University میں اسلامی نفسیات اور اسلامیات سے متعلق تدریسی خدمات انجام دے چکی ہیں، اٹلی کے Averroè Institute of Islamic Studies کی ڈائریکٹر رہ چکی ہیں، جبکہ Islamic Institute of Advanced Studies (IISA) کی شریک بانی اور استاد بھی ہیں۔ انہوں نے نیورو سائنس، اسلامی نفسیات، اسلامی الٰہیات اور تعلیم کے موضوعات پر متعدد تحقیقی مقالات اور کتابیں تصنیف کی ہیں۔
اپنی گفتگو میں وہ صرف سائنسی تحقیقات پر اکتفا نہیں کرتیں، بلکہ انہیں اسلامی روحانی تربیت، تزکیۂ نفس اور اخلاقی اصلاح کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے لیکچرز میں جدید نیورو سائنس، نفسیات، علمِ بشریات (Anthropology) اور اسلامی تعلیمات ایک دوسرے کی تکمیل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے لیکچرز اور تحریروں کا نمایاں امتیاز یہ ہے کہ وہ جدید نیورو سائنس، نفسیات، علمِ بشریات اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو باہم مربوط کرکے انسانی شخصیت، اخلاق، روحانیت اور معاشرتی رویّوں کی ایسی تشریح پیش کرتی ہیں جو نہ صرف علمی اعتبار سے مضبوط ہوتی ہے بلکہ عام قاری کے لیے بھی انتہائی مؤثر اور قابلِ فہم ہوتی ہے۔ ان کے لیکچرز دنیا بھر میں خاص طور پر ان حلقوں میں مقبول ہیں جو جدید سائنسی علوم اور اسلامی فکر کے درمیان ہم آہنگی کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
زیرِ نظر مضمون بھی انہی کے ایک فکر انگیز خطاب کا خلاصہ ہے، جس میں انہوں نے غیبت جیسے عام مگر نہایت خطرناک گناہ کو جدید سائنس اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں منفرد انداز سے واضح کیا ہے۔
غیبت اور ارتقائی سائنسدان
شاید آپ سوچیں کہ دنیا میں کوئی بھی غیبت کے حق میں کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن اس ویڈیو کی تیاری کے دوران مجھے ایک مکمل سائنسی تحریر ملی جو اس کی حمایت کی کوشش کرتی ہے۔ ارتقائی ماہرِ نفسیات رابن ڈنبار نے اپنی کتاب میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ انسان کی زبان دراصل غیبت ہی کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ بندروں کا گروہ ایک دوسرے کا جسم صاف کر کے باہمی تعلقات مضبوط کرتا تھا، لیکن جب انسانوں کی آبادی بڑھی اور سب کا الگ الگ خیال رکھنا مشکل ہو گیا تو گفتگو کو اس کا ایک آسان بدل بنا لیا گیا۔ ڈنبار کے مطابق انسانوں کی دو تہائی گفتگو دیگر لوگوں کے بارے میں ہوتی ہے اور ان کا نتیجہ یہ تھا کہ زبان کا اصل مقصد ہی غیبت کرنا ہے۔
غیبت اور قرآن
اب اس نظریے کا موازنہ قرآن کے اس بیان سے کیجیے کہ زبان کی شروعات کہاں سے ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو سب سے پہلے انہیں تمام اشیاء کے نام سکھائے۔ یوں انسانی تاریخ میں زبان کا پہلا استعمال اپنے رب سے حقائق کا علم حاصل کرنا تھا۔ ان دونوں نظریات کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے، ایک طرف زبان کی پیدائش کا مقصد ایک دوسرے کی پیٹھ پیچھے باتیں کرنا بتایا گیا ہے اور دوسری طرف اسے سچائی جاننے کی ایک ربانی نعمت قرار دیا گیا ہے۔
اس موضوع پر علمِ بشریات (Anthropology) کے ماہرین کی تحقیقات نہایت دلچسپ ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ غیبت انسان کی فطرت میں شامل نہیں ہے۔ مختلف ثقافتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ جتنا زیادہ غیر لچکدار اور سخت ہوتا جاتا ہے، غیبت اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے، کیونکہ لوگوں کے لیے براہِ راست سچائی جاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ غیبت وہاں جنم لیتی ہے جہاں ایک دوسرے کے بارے میں شفاف معلومات کا سلسلہ ٹوٹ جائے۔ اس کے برعکس اسلام نے ہمیشہ ایسے شفاف معاشرے کو فروغ دیا جو چھوٹے اور قابلِ اعتماد اداروں پر قائم ہوں، جہاں لوگ ایک دوسرے کو براہِ راست جانتے ہوں اور افواہوں کے نظام کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ غیبت کو جنم دینے والے ساختہ نظام کو ختم کرنا ہی اسلامی معاشرے کی بنیادی روح ہے۔
غیبت میں اتنی لذت کیوں محسوس ہوتی ہے؟
جب ہم غیبت کرتے ہیں تو دماغ میں حقیقی کیمیائی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ کسی کی ذاتی معلومات کا علم ہونا دماغ میں ڈوپامائن (Dopamine) خارج کرتا ہے، جو کسی بھی لت کے پیچھے موجود ایک کیمیائی مادّہ ہے۔ یہ بالکل اسی طرح بے یقینی کی حالت میں ملتا ہے جیسے کسی جوا کھیلنے والی مشین پر انسان بیٹھا ہو۔ اس کے ساتھ ہی اینڈورفنز (Endorphins) کا اخراج بھی ہوتا ہے، جو جسم کا اپنا درد کش نظام ہے اور یہ وہی احساس فراہم کرتا ہے جو سخت ورزش یا دوڑنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔
اس میں ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اگر ہم اس سکون کی تلاش میں ہیں تو یہی کیمیائی تسکین ہم دوڑ کر، ورزش کر کے یا کسی اچھے کام میں ایک دوسرے کا ساتھ دے کر بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ خواہش سچی ہے، لیکن اسے پورا کرنے کے پاکیزہ ذرائع بھی موجود ہیں۔
غیبت کا سائنسی اور روحانی علاج
نیورو سائنس کی تعلیم کے دوران میں نے اللہ تعالیٰ کی اس رحمت پر ہمیشہ غور کیا ہے کہ گناہ کی عادات جتنی بھی تباہ کن ہوں، ان کے اثرات حاصل کرنے کا ایک پاکیزہ اور خوبصورت طریقہ ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ لیکن اگر کیمیا سے ہٹ کر دیکھیں تو غیبت کی اصل وجہ کہیں زیادہ تاریک ہے۔ غیبت ہمیں وہ کام کرنے کا موقع دیتی ہے جو ہمیں ہرگز نہیں کرنا چاہیے، یعنی کسی دوسرے کی تحقیر سے لطف اندوز ہونا۔
نفسیات میں اسے منفی معاشرتی موازنہ (Negative Social Comparison) کہا جاتا ہے۔ جب ہم کسی کی ناکامی یا خرابی کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں ایک خاموش تسلی ملتی ہے کہ شکر ہے میں ایسا نہیں ہوں۔ اس طرح دوسرے کی پستی وہ چبوترہ بن جاتی ہے جس پر کھڑے ہو کر ہم خود کو بڑا محسوس کرتے ہیں۔
اسلام بھی ہمیں اپنے سے نیچے والوں کو دیکھنے کی ہدایت کرتا ہے، لیکن بالکل مختلف مقصد کے لیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو دیکھو جو تم سے کم تر ہیں، تاکہ تم اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہ سمجھو۔ جب نظر نیچے جاتی ہے تو دل شکر سے بھر جاتا ہے اور یہی شکر رحمدلی بن کر انسان کو دوسروں کی مدد پر ابھارتا ہے۔ نظر کا رخ ایک ہی ہے، لیکن ایک طریقہ دل کو اللہ سے جوڑتا ہے اور دوسرا طریقہ دوسرے کی تذلیل پر انا کو پھلا دیتا ہے۔
غیبت کے ذریعے ہم اپنے نفس کی ایک بنیادی حقیقت بھی سیکھ سکتے ہیں۔ جب بھی ہم کوئی حرام کام کرتے ہیں تو نفس صرف گناہ کا احساس ہی پیدا نہیں ہونے دیتا، بلکہ ایک ایسا جھوٹا جواز گھڑ لیتا ہے جس سے انسان سکون کے ساتھ گناہ جاری رکھ سکے۔ اسلامی روایت میں اسے نفس کا دھوکا کہا جاتا ہے۔ غیبت کے لیے بھی کئی بہانے تراشے جاتے ہیں، جیسے: میں تو بس دل کا غبار نکال رہا ہوں، یا میں تمہیں خبردار کر رہا ہوں تاکہ تم محتاط رہو۔ یہاں تک کہ چغلی جیسا شدید حرام کام بھی میں تو تمہاری حفاظت کر رہا ہوں کا لباس پہن لیتا ہے۔ اگر غور کریں تو ہم نفس کو اس کی چالاکیوں سمیت پکڑ سکتے ہیں۔ ان خوبصورت بہانوں کو پہچاننا اس لیے ضروری ہے کہ نفس باقی تمام گناہوں کو جائز قرار دینے کے لیے بھی یہی طریقہ استعمال کرتا ہے۔
غیبت کو راستہ دینا انسان کی شخصیت کو بدل دیتا ہے۔ جب بھی ہم دوسروں کا ذکر تحقیر کے ساتھ کرتے ہیں، ہم اپنے اندر بدگمانی کی مشق کرتے ہیں، یہاں تک کہ دوسروں کو عیب جوئی کی نظر سے دیکھنا ہماری عادت بن جاتا ہے۔ اس سے باہمی اعتماد ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ سننے والے کے دل میں یہ خیال ضرور آتا ہے کہ جو زبان آج کسی اور کی برائی کر رہی ہے، وہ کل میری برائی بھی کرے گی۔ یوں دوسروں سے اعتماد اٹھنے کے ساتھ ساتھ خود سے بھی اعتماد ختم ہونے لگتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص تنقید کا نشانہ بن سکتا ہے تو ہم بھی مستثنیٰ نہیں ہیں۔
حتیٰ کہ غیبت سے پیدا ہونے والی اپنائیت بھی فرضی ہوتی ہے، جو کسی تیسرے شخص کی قیمت پر حاصل کی جاتی ہے۔
جب ہم اسلامی روحانی روایت کی طرف دیکھتے ہیں تو ایک عجیب بات نظر آتی ہے۔ غیبت کی ممانعت ہر جگہ موجود ہے، لیکن نفس کے مدارج اور روح کی ترقی کے راستے بتانے والی بڑی کتابوں میں اس کا ذکر کم ہی ملتا ہے۔ ان کا فرض یہ ہوتا ہے کہ اس راستے کا مسافر اس بنیادی برائی سے پہلے ہی آگے نکل چکا ہے، گویا غیبت اتنی بنیادی برائی ہے کہ اسے اعلیٰ روحانی سفر کے نقشے میں الگ سے شامل کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گئی۔
تاہم اس سلسلے میں مولانا رومؒ کی مثنوی ایک بہترین استثنا ہے۔ یہ کتاب قرآنِ کریم کی ایک طرح سے سماجی تفسیر ہے، جو یہ دکھاتی ہے کہ اسلامی اقدار عام زندگی میں کس طرح جاری ہوتی ہیں۔ یہ ان مقامات پر بھی روشنی ڈالتی ہے جنہیں بڑی کتابیں چھوڑ دیتی ہیں۔ مثنوی سے ہمیں خود احتسابی کے لیے دو مثالیں ملتی ہیں۔
پہلی مثال میں مولانا رومؒ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے اندر کی چھپی ہوئی برائیاں ہماری زبان کے ذریعے باہر آ جاتی ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے پیاز کی بدبو۔ آپ جتنا بھی قسمیں کھا لیں کہ آپ نے پیاز نہیں کھایا، لیکن آپ کی سانس سچائی ظاہر کر دیتی ہے۔ اسی طرح دل میں چھپا ہوا تکبر اور حرص زبان کے ذریعے باہر نکل آتا ہے، یہاں تک کہ اس بدبو کی وجہ سے ہماری دعائیں بھی رد کر دی جاتی ہیں۔
غیبت دراصل وہی پیاز کی بدبو ہے۔ یہ خود بیماری نہیں بلکہ اندر موجود بیماری کی علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم زبردستی منہ بند کر کے غیبت سے نہیں بچ سکتے، جیسے سانس روکنے سے پیاز کی بدبو ختم نہیں ہوتی۔ جب دل پاک ہوتا ہے تو زبان خودبخود پاکیزہ ہو جاتی ہے۔
جب ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ غیبت ہمیشہ کسی دوسری بیماری کا نتیجہ ہے تو دوسری کہانی سامنے آتی ہے، جو ایک بہرے شخص اور اس کے بیمار پڑوسی کی ہے۔
ایک بہرا شخص اپنے بیمار پڑوسی کی عیادت کے لیے جاتا ہے۔ چونکہ وہ سن نہیں سکتا تھا، اس لیے وہ ذہن میں گفتگو کا ایک خاکہ تیار کر لیتا ہے کہ میں حال پوچھوں گا، وہ کہے گا: میں بہتر ہو رہا ہوں، میں کھانے کا پوچھوں گا، وہ کسی غذا کا نام لے گا، میں طبیب کا پوچھوں گا اور اس کی تعریف کروں گا۔
جب وہ پہنچتا ہے اور اپنا سوچا ہوا جملہ بولتا ہے کہ: "آپ کیسے ہیں؟" تو بیمار پڑوسی آہ بھر کر کہتا ہے: "میں مر رہا ہوں۔" بہرا شخص خوش ہو کر کہتا ہے: "اللہ کا شکر ہے۔" پھر پوچھتا ہے: "کیا کھایا؟" وہ کہتا ہے: "زہر۔" تو بہرا کہتا ہے: "یہ آپ کو شفا دے۔" گفتگو اسی طرح جاری رہتی ہے اور بہرا شخص یہ سوچ کر مطمئن چلا جاتا ہے کہ اس نے عیادت کا حق ادا کر دیا، جبکہ اس نے اپنے ہر جواب سے بیمار کا دل دکھایا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے حقیقت کو سمجھنے کے بجائے اپنے ذہن میں بنے ہوئے تصور کا جواب دیا تھا۔
جب ہم غیبت کرتے ہیں تو ہم بھی اکثر اسی طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ہم اپنے ذہن میں کسی شخص کا ایک خاکہ بنا لیتے ہیں، اس کی نیت کا خود ہی فیصلہ کر لیتے ہیں اور پھر اس فرضی کردار کو سچ مان کر اس کے بارے میں باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم صحیح کام کر رہے ہیں، جبکہ اصل نقصان ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔
یہ بھی ایک وجہ ہے کہ قرآن اور حدیث میں غیبت سے روکنے کے لیے نہایت سخت تشبیہات استعمال کی گئی ہیں۔ قرآنِ مجید میں پوچھا گیا ہے:
"کیا تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟"
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے معراج کی شب ایسے لوگوں کو دیکھا جو تانبے کے ناخنوں سے اپنے ہی چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: "یہ کون لوگ ہیں؟" تو بتایا گیا: "یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی غیبت کرتے تھے اور ان کی عزتیں پامال کرتے تھے۔"
یہ منظر کشی اتنی سخت اس لیے کی گئی ہے تاکہ انسان اس گناہ کی دلکشی کے سحر سے باہر نکل سکے۔
لہٰذا اگر ہم خود کو غیبت کرتے ہوئے پائیں تو اصل سوال یہ نہیں ہے کہ زبان کو کیسے روکا جائے، بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ پیاز کہاں ہے؟ وہ کون سا تکبر، حسد، خالی پن یا اندرونی زخم ہے جو اس گفتگو کے ذریعے باہر آ رہا ہے؟ اس کی نشاندہی کیجیے، اسے ایمانداری سے قبول کیجیے، اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھیے اور اس کا علاج معالج کے ذریعے کیجیے۔
جب آپ اندرونی بیماری کا علاج کر لیں گے تو زبان خودبخود خاموش ہو جائے گی، زبردستی بند کرنے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کہ اندر کی بیماری شفا پا چکی ہوگی۔(بشکریہ، علم الیقین، پلیٹ فارم)

Address

Mardan
Mardan
23200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Knowledge Hub posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Knowledge Hub:

Shortcuts

Share