NOON Academy

NOON Academy

Share

Education is the passport to the future, for tomorrow belongs to those who prepare for it today.

28/09/2025
14/04/2024

📌Admissions are open now......

23/07/2023

سوال
اگر کوئی کسی کمرے میں نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی دوسرا شخص موبائل وغیرہ میں تصویر یا ویڈیو دیکھ رہا ہو تو کیا ‏اس سے نماز پڑھنے والے کی نماز میں کوئی حرج آتا ہے؟ رہنمائی فرمادیں۔
جواب
جواب: اگر کوئی شخص کسی ایسے کمرے میں نماز ادا کرے جہاں کوئی دوسرا شخص موبائل میں تصویریں یا ویڈیوز ‏دیکھ رہا ہو تو اس کی نماز ہوجاتی ہے، البتہ اگر وہ شخص نمازی کے سامنے یا اس کے اتنا قریب ہو کہ نمازی کو موبائل ‏کے اندر موجود مناظر نظر آسکتے ہوں تو قصداً نمازی کا ان ویڈیوز اور تصویری مناظر پر نگاہ ڈالنا مکروہ ہے، نیز اگر وہ ‏غیر محرم یا ناجائز قسم کی تصاویر اور مناظر ہوں یا ویڈیوز میں موسیقی ہو تو ایسے مناظر کو دیکھنا اور موسیقی کو سننا ‏عام حالات میں بھی گناہ ہے، جبکہ نماز کے دوران اس کا ارتکاب کرنا اور زیادہ گناہ ہے، اس سے بچنا لازم ہے، لہٰذا نمازی کو چاہیے کہ نماز شروع ‏کرنے سے پہلے ایسے شخص کو منع کرے، تاکہ اطمینان اور خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھ سکے۔ ‏

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

البحر الرائق: (15/2، ط: دار الكتاب الاسلامي)‏
‏(قوله ولو نظر إلى مكتوب وفهمه أو أكل ما بين أسنانه أو مر مار في موضع ‏سجوده لا تفسد وإن أثم) أما الأول فلأن الفساد إنما يتعلق في مثله بالقراءة ‏وبالنظر مع الفهم لم تحصل وصحح المصنف في الكافي أنه متفق عليه بخلاف ‏من حلف لا يقرأ كتاب فلان فنظر إليه وفهمه فإنه يحنث عند محمد لأن ‏المقصود فيه الفهم والوقوف على سره أطلق المكتوب فشمل ما هو قرآن وغيره ‏لكن في القرآن لا تفسد إجماعا بالاتفاق كما في النهاية وشمل ما إذا استفهم أو ‏لا لكن إذا لم يكن مستفهما لا تفسد بالإجماع وإن كان مستفهما ففي المنية ‏تفسد عند محمد والصحيح عدمه اتفاقا لعدم الفعل منه ولشبهة الاختلاف ‏قالوا ينبغي للفقيه أن لا يضع جزء تعليقه بين يديه في الصلاة لأنه ربما يقع ‏بصره على ما في الجزء فيفهم ذلك فيدخل فيه شبهة الاختلاف اه.‏
وعبر في النهاية بالوجوب على الفقيه أن لا يضع لكن قد علمت أن شبهة ‏الاختلاف فيما إذا كان مستفهما وأما إذا لم يكن مستفهما فلا يعلل بما ذكر ‏لعدم الاختلاف فيه بل لاشتغال قلبه به إذا خاف من وضعه بين يديه اشتغاله ‏بالنظر إليه ولم يذكروا كراهة النظر إلى المكتوب متعمدا وفي منية المصلي ما ‏يقتضيها فإنه قال ولو أنشأ شعرا أو خطبة ولم يتكلم بلسانه لا تفسد وقد أساء ‏وعلل الإساءة شارحها باشتغاله بما ليس من أعمال الصلاة من غير ضرورة قال ‏ثم ينبغي أن يكون عليه سجود السهو إذا أشغله ذلك عن أداء ركن أو واجب ‏سهوا اه.‏
وبهذا علم أن ترك الخشوع لا يخل بالصحة بل بالكمال ولذا قال في الخلاصة ‏والخانية إذا تفكر في صلاته فتذكر شعرا أو خطبة فقرأهما بقلبه ولم يتكلم ‏بلسانه لا تفسد صلاته اه.‏

الدر المختار مع رد المحتار: (643/1، ط: دار الفكر)‏
‏(والالتفات بوجهه) كله (أو بعضه) للنهي وببصره يكره تنزيها، وبصدره تفسد ‏كما مر (وقيل) قائله قاضي خان (تفسد بتحويله والمعتمد لا)‏‎.‎
‏(قوله وببصره يكره تنزيها) أي من غير تحويل الوجه أصلا. وفي الزيلعي وشرح ‏الملتقى للباقاني أنه مباح «لأنه - صلى الله عليه وسلم - كان يلاحظ أصحابه ‏في صلاته بموق عينيه» اه ولا ينافي ما هنا بحمله على عدم الحاجة أو أراد ‏بالمباح ما ليس بمحظور شرعا، وخلاف الأولى غير محظور تأمل (قوله وبصدره ‏تفسد) أي إذا كان بغير عذر‎.‎

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح‎:‎‏ (231/1، ط: المطبعة الكبرى الأميرية ‏ببولاق)‏
قوله ( لو نظر المصلى إلى مكتوب الخ ) وجه عدم الفساد أنه إنما يتحقق ‏بالقراءة وبالنظر والفهم لم تحصل وإليه أشار المؤلف بقوله لعدم النطق ‏
‏ قوله ( قصد الاستفهام ) بهذا علم أن ترك الخشوع لا يخل بالصحة بل ‏بالكمال ولذا قال في الخانية والخلاصة إذا تفكر في الصلاة فتذكر شعرا أو ‏خطبة فقرأها بقلبه ولم يتكلم بلسانه لا تفسد صلاته كما في البحر۔
‏ قوله ( أساء الأدب ) لأن فيه إشتغالا عن الصلاة وظاهره ان الكراهة تنزيهية ‏وهذا إنما يكون بالقصد وأما لو وقع نظره عليه من غير قصده وفهمه فلا يكره‎.‎

تکملة فتح المهلم: (142/4، ط: دار إحياء التراث العربي)‏
أما التلفزيون والفيديو، فلا شك في حرمة استعمالهما بالنظر إلى ما يشتملان ‏عليه من المنكرات الكثيرة، من الخلاعة والمجون، والكشف عن النساء المتبرجات ‏أو العاريات، وما إلى ذلك من أسباب الفسوق‎.‎‏ ولكن هل يتأتى فيهما حكم ‏التصوير بحيث إذا كان التلفزيون أو الفيديو خاليا من هذه المنكرات بأسرها، ‏هل يحرم النظر إلى كونه تصويرا؟ فإن لهذا العبد الضعيف، عفاالله عنه فيه وقفة ‏وذلك لأن الصورة المحرمة ما كانت منقوشة أو منحوتة بحيث يصبح لها صفة ‏الاستقرار على شيء وهي الصورة اللتي كان الكفار يستعملونها للعبادة أما ‏الصورة اللتي ليس لها ثبات واستقرار، وليست منقوشة على شيء بصفة دائمة، ‏فإنها بالظل أشبه منها بالصورة، ويبدو أن الصورة التلفزيون و الفيديو لا تستقر ‏على شيء في مرحلة من المراحل إلا إذا كان في صورة فيلم فإن كانت صور ‏الإنسان حية بحيث تبدو على الشاشة في نفس الوقت الذي يظهر فيه ‏الإنسان أمام الكاميرا، فإن الصورة لا تستقر على الكاميرا ولا على الشاشة. ‏وإنما هي أجزاء كهربائية تنتقل من الكاميرا إلى الشاشة وتظهر عليها بترتيبها ‏الأصلي، ثم تفنى ونزول وأما إذا احتفظ بالصورة في شريط الفيديو، فإن الصور ‏لا تنقش على الشريط وإنما تحفظ فيها الأجزاء الكهربائية التي ليس فيها صورة، ‏فإذا ظهرت هذه الأجزاء على الشاشة مرة أخرى بذلك الترتيب الطبيعي، ‏ولكن ليس لها ثبات ولا استقرار على الشاشة، وإنما هي تظهر وتغنى فلا يبدو ‏أن هناك مرحلة من المراحل تنقش فيها الصورة على شيئ بصفة مستقرة أو ‏دائمة، وعلى هذا فتنزيل هذه الصورة منزلة الصورة المستقرة مشكل ورحم الله ‏امرة هداني إلى الصواب في ذلك‎.‎والله سبحانه أعلم

الفتاوى الهندية: (319/5، ط: دار الفكر)‏
وكره بعض مشايخنا النقوش على المحراب وحائط القبلة؛ لأن ذلك يشغل قلب ‏المصلي‎.‎

والله تعالىٰ أعلم بالصواب

14/01/2023

ان شاء اللہ رٸیل اسٹیٹ کے موضوع پر مساٸل جلد شروع کٸے جاٸنگے۔

عصرِحاضرکے مساٸل 05/04/2022

عصر حاضر کے مساٸل سے واقفیت حاصل کرنے کے لٸے ہمارا آفیشیل واٹس ایپ گروپ جاٸن کریں۔

عصرِحاضرکے مساٸل WhatsApp Group Invite

05/04/2022

*رمضان اور حلال روزگار:*
=================
ڈاکٹر عبد الحی عارفی رحمہ اللہ، جو کہ مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کے شیخ ومرشد تھے، فرماتے تھے کہ ایسا شخص جو کسی سودی ادارے مثلا بینک، انشورنس کمپنی وغیرہ میں ملازم ہو اور وہ کسی حلال کام کی خواہش رکھتا ہو تو اسے رمضان میں تین کام کرنے چاہیے:

1-وہ اپنے اس ادارے سے ایک مہینے کی چھٹی لے لے۔
2- وہ رمضان کے مہینے کے سحر و افطار اور دوسرے ضروری اخراجات کے لیے کسی سے قرض لے لے۔
3-متبادل حلال روزگار کے لیے پورا رمضان خوب دعائیں کرے۔

حضرت فرماتے تھے ایسے شخص کو ضرور رمضان کے بعد تک متبادل روزگار مل جائے گا۔

04/04/2022

روزے سے متعلق چند طبی مسائل:
==================================
﴿1﴾ روزے کی حالت میں انجکشن یا ڈرپ لگوانا:
روزہ کی حالت میں مریض بوقتِ ضرورت انسولین یا گلوکوز کا انجکشن یا ڈرپ لگوا سکتا ہے، اور اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا،کیونکہ انجکشن یا ڈرپ کے ذریعہ جو دوا بدن میں پہنچائی جاتی ہے وہ مخارقِ اصلیہ یعنی منفذِ اصلی کے راستوں سے نہیں ، بلکہ رگوں یا مسامات کے ذریعہ بدن میں پہنچائی جاتی ہے، جبکہ روزہ فاسد ہونے کیلئے ضروری ہے کہ بدن کے اصلی راستوں مثلاً منہ، ناک وغیرہ کے ذریعہ کوئی چیز حلق، پیٹ یا دماغ کے اندر پہنچے،البتہ بلاوجہ روزے کی حالت میں انجکشن یا ڈرپ لگوانا مکرہ ہے۔(ضابط المفطرات فی مجال التداوي –ص: 21،22)

﴿2﴾ روزے کی حالت میں خون اور شوگر کا ٹیسٹ:
روزہ کی حالت میں خون ٹیسٹ کروانا جائز ہے ،اسی طرح شوگر چیک کروانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا،لیکن جو شخص کمزور ہو اور یہ یقین یا غالب گمان ہو کہ ایسے شخص کے بدن سے خون نکالنے سے کمزوری مزید بڑھ جائیگی یا بیماری پیدا ہوجائیگی جس کی وجہ سے روزہ مکمل کرنا مشکل ہوسکتا ہے تو ایسی حالت میں خون کا ٹیسٹ کروانا مکروہ ہے۔

﴿3﴾ روزے میں انہیلر(Inhaler)کا استعمال:
انہیلر(inhaler)ایک قسم کا پمپ ہے جسے دمہ کے مریض استعمال کرتے ہیں،اس کو منہ میں رکھ کر دبایا جاتا ہے جس سے اس کی دوا براہ راست پھیپھڑوں میں چلی جاتی ہے۔ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق((inhalerانہیلر کے استعمال کرنے سے صرف ہوا اندر نہیں جاتی،بلکہ اس کے ساتھ دوائی کے ذرات پیٹ کے اندر جاتے ہیں ، اس لئے روزہ کی حالت میں (inhaler)انہیلر کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے، اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

﴿4﴾ روزے میں زبان کےنیچے گولی رکھنا:
بلڈ پریشر کے مریض زبان کے نیچے جو گولی رکھتے ہیں اگر اس کے کچھ اجزاء لعاب میں شامل ہو کر حلق میں چلے جاتے ہیں تو اس گولی کے رکھنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا، اور اگر اس کا کوئی جزء لعاب میں شامل ہو کر حلق میں نہیں جاتا تو ایسی صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
لہٰذا اگر کوئی شخص بلڈ پریشر کا مریض ہو، اور اس مرض کی شدت یا سخت تکلیف کی وجہ سے وہ گولی منہ میں رکھے، اور اس بات کا پورا خیال کرے کہ اس گولی کا کوئی جزء لعاب کے ساتھ مل کر حلق کے اندر نہ جائے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا، مگر اس صورت میں ضروری ہے کہ جب دوا رکھنے کے بعد مریض کو افاقہ ہو جائے تو اچھی طرح کلی کر کے منہ کو خوب صاف کر لیا جائے تاکہ دوا کا کوئی ذرہ منہ کے اندر نہ رہے، لیکن خیال رہے کہ اگر دوا کا ایک ذرہ بھی حلق میں گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
یاد رہے کہ اگر رمضان میں بلڈ پریشر کے عذر کی وجہ سے مجبوری میں یہ دوا منہ میں رکھی اور اس کے اجزاء حلق میں گئے تو بھی صرف روزے کی قضاء لازم ہو گی، کفارہ لازم نہ ہو گا۔(رجسٹر نقل فتاوی،جامعہ دارالعلوم کراچی)

﴿5﴾ روزے میں آکسیجن لگوانا:
اگر آکسیجن صرف ہَوا پر ہی مشتمل ہو،اس میں کسی قسم کی کوئی دوا یا کوئی اور مادی چیز شامل نہ کی گئی ہو تو اس طرح کے آکسیجن لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا،البتہ اگر آکسیجن میں کسی قسم کی کوئی دوا یا کوئی مادی چیز شامل کی گئی ہو جو مریض کے حلق سے نیچے اتر جاتی ہو تو اس سے روزہ ٹوٹ جائےگا۔

﴿6﴾ روزے کی حالت میں کان دوا ڈالنا:
جدید طبی ماہرین کی تحقیق کے مطابق عام صحت مند آدمی کے کان سے حلق تک کوئی ایساراستہ کھلاہوا نہیں ہے جس سے دوا یا پانی حلق میں براہِ راست خود بخود جاسکے، کیونکہ کان کے آخر میں ایک باریک مگر مضبوط پردہ ہے جس نے حلق یا دماغ کی طرف جانے کا راستہ بند کردیاہے اور عام حالت میں کان میں ڈالی جانے والی کوئی بھی دوا یا غذا حلق تک نہیں پہنچتی، الاّ یہ کہ کسی کے کان کا پردہ پھٹ جائے یا کان کے پردے میں واضح سوراخ ہوجائے ایسی بیماری یا غیر معمولی صورت حال میں دوا اندرونی کان سے حلق کی طرف منتقل ہوسکتی ہے ورنہ نہیں۔
لہٰذا کان کے اندر دوا وغیرہ ڈالنے سے روزہ فاسد نہیں ہوگا الاّ یہ کہ کسی شخص کے کان کا پردہ پھٹا ہواہو اور وہ دوا وغیرہ اس کے حلق تک پہنچ جائے، اس کے باوجود اگر کوئی شخص قدیم جمہور فقہاء کے قول کے مطابق خود احتیاط کرے اور روزہ کی حالت میں کان اندر دوا ڈالنے کے بجائے افطار کے بعد ڈالے تو اس کے لیے ایسا کرنا بلاشبہ بہتر اور شبہ سے بعید تر ہے۔(رجسٹر نقل فتاوی جامعہ دارالعلوم کراچی)

﴿7﴾ روزے کی حالت میں آنکھ میں دوا ڈالنا:
آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا،اگرچہ اس کا اثر حلق میں محسوس ہو،کیونکہ کئی احادیث میں یہ آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے روزہ کی حالت میں سرمہ لگایاتھا،دوسری وجہ یہ ہے کہ آنکھ میں جو دوا وغیرہ ڈالی جاتی ہے وہ ناک کے اندرونی حصے کے ذریعےحلق تک پہنچتی ہے اور وہ راستہ بہت باریک اور چھوٹا ہے، لہٰذا جس طرح مسام کے ذریعے کوئی چیز جوف تک پہنچ جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا اسی طرح آنکھ کے ذریعے دوا وغیرہ ڈالنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

﴿8﴾ روزے کی حالت میں ناک میں دوا ڈالنا:
روزے کی حالت میں ناک میں دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی وجہ سے قضاء لازم ہوگی۔(الفتاوی الولوالجیہ 1/220)

﴿9﴾ روزے کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ کا استعمال:
روزہ کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ کا استعمال مکروہ ہے،بشرطیکہ اجزاء حلق سے نیچے نہ جائے ،
کیونکہ اگر کوئی جزؤ حلق سے نیچے جائیگا تواس سے روزہ ٹوٹ جائیگا۔( جواہرالفقہ۵۱۸/۳)

﴿10﴾ روزے میں ویکس(Vicks)کا استعمال:
روزے کی حالت میں ویکس (Vicks) کا استعمال ممنوع نہیں ہے،اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا،کیونکہ ویکس کا اثر تو بدن کے اندر تک پہنچتا ہے،لیکن اس کا کوئی جزء یا مادہ نہیں پہنچتا،البتہ ویکس کو گرم پانی میں ڈال کر اس کا بھاپ لیا تو اس سے روزہ ٹوٹ جائےگا۔

﴿11﴾ روزے میں دانت نکلوانا اور مصنوعی دانتوں کا حکم:
روزے کی حالت میں دانت نکلوانے میں کوئی حرج نہیں،بشرطیکہ خون یا دوا حلق سے نیچے نہ چلی جائے،لیکن عام طور پر دانت نکالتے ہوئے مسوڑھوں سے کافی خون آتا ہے اور یہ بھی امکان رہتا ہے کہ خون حلق سے نیچے نہ چلا جائے،اس لیے اگر شدید مجبوری نہ ہو تو روزے کی حالت میں دانت نہ نکلوائے۔
اگر کسی نے مصنوعی دانت لگوائے ہیں تو روزے کی حالت میں ان دانتوں کا منہ کے اندر رہنا ممنوع نہیں ہے،اس سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

﴿12﴾ روزے میں PR یا PV کروانا:
پی آر اور پی وی دونوں معائنے ہیں ،پی آر میں ڈاکٹر اپنی انگلی پر مواد (Lubricant)لگاکر مریض کے مقعد کا معائنہ کرتا ہے ،جبکہ پی وی میں ڈاکٹر عورت کی شرمگاہ(Vagina) میں انگلی ڈال کر معائنہ کرتا ہے،اس میں بھی انگلی پر دوا لگی ہوتی ہے۔
پی آر یا پی وی کرانے سے روزہ ٹوٹ جائےگا ،اس دن کی قضاء لازم ہوگی،لہذا بہتر یہ ہے کہ روزے کی حالت میں ایسا معائنہ نہ کیا جائے۔

﴿13﴾ روزے میں اے سی(A.C)یا فریزر کے بخارات اندر لےجانا:
روزے کی حالت میں قصداً فریزر کے اندر سر ڈال کر ٹھنڈے بخارات کو بذریعہ سانس اندر لے جانے سے روزہ ٹوٹ جائےگا،کیونکہ یہ بخارات باقاعدہ ایک جوہر(پانی)پر مشتمل ہوتے ہیں،البتہ اے سی کی ٹھنڈی ہوا کو سانس میں لینے سے روزہ نہیں ٹوٹےگا،کیونکہ یہ صرف ٹھنڈی ہوا ہے اور کچھ نہیں۔

﴿14﴾ روزے میں ڈیلیسس (Dialysis)کروانا:
جس مریض کے گردے کام کرنا بالکل چھوڑدے تو اس کو مہینے میں دو یا تین مرتبہ ڈیلیسس کرنا پڑتا ہے،جس میں ایک نلکی کے ذریعے جسم کا ساراخون نکال کر اس کو صاف کیا جاتا ہے اور اس میں کیمیائی پاکیزہ اجزاء شامل کیے جاتے ہیں،کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟اس سلسلے میں علماء کی آراء مختلف ہیں،علماء سعودیہ کی رائے یہ ہے کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے،جبکہ ہند کے اکثر علماء کی رائے کے مطابق اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا،لہذا احتیاط یہی ہے کہ ایسے روزے کی قضاء کرلی جائے۔(فتاوی اللجنہ الدائمہ، وجدید طبی مسائل)

﴿15﴾ معدہ میں کوئی آلہ داخل کرنا:
معدہ کے امراض میں تحقیق کے لیے بعض آلات کو معدہ میں داخل کیا جاتا ہے،ایسے آلات پر اگر کوئی سیال مادہ (liquid)وغیرہ لگایا گیا ہو تو اس سے روزہ ٹوٹ جائےگا،کیونکہ آلہ پر لگا ہوالیکویڈمعدہ میں رہ جاتا ہے،البتہ اگر ایسے آلہ پر کوئی دوا یا مادہ وغیرہ نہ لگایا گیا ہو تو محض اس آلہ سے روزہ نہیں ٹوٹےگا۔

مفتی ابن امجد ہاشمی
صدر
دارالافتإ مکتب بیان القرآن

Want your school to be the top-listed School/college in Mardan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Mardan