Physics with shan masaood

Physics with shan masaood

Share

basic purpos of our page share knowledge related to physics

05/06/2024

In 1665 Issac Newton used a prism to show that light is made up of a rainbow of colors, from the light of various wavelengths.

02/06/2024

پائی ( π ) کون ہے ۔۔۔؟
کہاں سے آیا ہے ۔۔۔؟
اور ہر جگہ استعمال کیوں ہوتا ہے۔۔۔ ؟
پائی ایک یونانی زبان کا حرف تہجی ہے اور اسکی ایک کانسٹینٹ ویلیو " 3.14 " ہے کیوں ۔۔۔۔۔
ہم ایک سرکل لیتے ہیں جسکا نیم قطری ( Radius ) مثلا 3 سینٹی میٹر ہے تو اسکا قطر ( diameter ) 6 سینٹی میٹر ہی ہوگا ...
اور اس سرکل کا پیرامیٹر یعنی سرکمفیرینس ناپنے سے 18.85cm آجائے گا ( سرکل کے پیرامیٹر کو یار لوگ سرکمفیرینس کہتے ہیں )۔۔۔۔
اب اس سرکل کے سرکمفیرینس کو diameter پر تقسیم کرتے ہے تو ویلیو آئے گی ....3.14166

Circumference/diameter= π

اب ایک دوسرا لیکن تھوڑا سا بڑا سرکل لیتے ہیں جسکا ریڈیس 4cm ہے یعنی ڈایامیٹر 8 cm ہوگا۔۔۔
تو اس سرکل کا سرکمفیرینس 25.1cm ہوگا ۔۔۔
اس سرکمفیرینس (25.1) کو ڈایامیٹر (8) پر تقسیم کرنے سے ویلیو آئے گی ...3.14166

یعنی کسی بھی سائز کے ڈایامیٹر کو سرکل کے سرکمفیرینس پر تقسیم کرنے سے ایک ہی ویلیو آئے گی جوکہ π برابر ہے۔۔۔۔

نتیجہ یہ کہ جب کبھی ایک یونٹ کے ڈایامیٹر کا سرکل ملے اس کا سرکمفیرینس 3.14 یونٹس ہی ہوگا ۔۔۔

Circumference of circul= 2πr

اس فارمولے میں 2r تو ڈبل ریڈیس یعنی ڈایامیٹر ہے جب اسکو دائیں طرف سرکمفیرینس کی طرف لے جاتے ہیں تو
circumference/diameter = π
ہی آتا ہے ۔۔۔
ایک دلچسپ بات یہ کہ 22/7 کی ویلیو بھی 3.14 ہی آتی ہے یعنی
π = 22/7

اب ایک سوال رہتا ہے کہ π ہی کیوں ۔۔۔
دراصل π یونانی زبان کا سولہواں الفابیٹ ہے اور یونانی زبان میں circumference کو "περιφέρεια" کا لفظ استعمال ہوتا ہے جبکہ Parameter كو "παράμετρος" کہتے ہیں اور یہ دونوں الفاظ π سے ہی شروع ہوتے ہیں لھذا یہ کانسٹینٹ ویلیو بھی π ہی کہلائی ۔

بعضے فزیشینز نے اس پر کافی تطویل سے کام لیا ہے ۔۔۔
لوڈولف وین نے اپنی پوری زندگی π کی ویلیو 35 ڈیجٹس کو کلکولیٹ کرنے میں لگا دی ۔۔۔
اسی طرح ڈاکٹر لیبنیز نے بھی ایک سیریز دی جو π کی آپروکسیمیشن کرتی ہے ۔۔۔
لیکن یہاں اتنا ہی کافی ہے

22/11/2023

وہ ایٹم جو ہمارے جسم میں ہیں، وہ ایٹم جن سے زمین پر زندگی کا وجود ہے۔ وہ زندگی جو اربوں سالوں کے ارتقاء کے بعد انسان پر منتج ہوئے۔ وہ ایٹم آج سے اربوں سال پہلے ستاروں کی وسیع بھٹیوں میں وقت کے ہنر سے بنے۔ وہ ستارے جن میں فیوژن کے عمل سے گزر کر ہائیڈروجن کے سادہ ایٹم مخلتف عناصر کے ایٹم بنے۔ کاربن، آکسیجن ، نائیٹروجن ، فاسفورس جو آج ہمارے ڈی این اے کی بنیاد ہیں۔
وہ ایٹم جو ہم خوراک کی صورت میں کھاتے ہیں، ہوا کی صورت ہر لمحہ سانس میں لیتے ہیں، پانی کی صورت پیتے ہیں، وہی ایٹم اربوں سال پہلے کئی ستاروں کے انجام پر انکے پھٹنے سے خلاؤں کی وسعتوں میں گرد راہ ہوئے، جس سے نئے ستاروں نے جنم لیا جنکے گرد سیارے بنے، انہی انجام کو پہنچے ستاروں کے ایٹموں سے، جو نبیولا کی صورت خلاؤں میں موجود تھے ۔

یہ بات کا قدر دلچسپ ہے کہ ممکنا طور پر ماضی میں ہمارے دائیں ہاتھ کے ایٹم کسی اور ستارے میں بنے ہوں اور بائیں ہاتھ کے کسی اور
ستارے میں جبکہ ان ستاروں کے بیچ ہزاروں نوری سالوں کا فاصلہ ہو، وہ فاصلہ جسے ہم عمرِ خضر میں بھی ۔ہ طے کر پائیں مگر اب وقت نے ان ستاروں کے ایٹموں کا
فاصلہ محض ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کا کر دیا ہے۔

ہم کائنات میں کس قدر چھوٹے ہیں مگر دراصل ہم میں پوری کائنات بستی ہے۔ ہمارے اور کائنات کے درمیان یہ رشتہ ایٹموں کا ہے۔ ایٹموں کے سفر کا۔ مگر اس سے بڑھ کر اس ادراک کا جو ہمیں سائنس نے بخشا ہے۔یہ رابطہ کتنا مضبوط ہے۔ یہ رابطہ کس قدر مشترک ہے۔
سیک لمحے کو تصور کیجئے کہ کائنات دراصل ہم میں ہے اور ہم کائنات میں۔
تو پھر ہم بے وقعت کیسے؟ جب ہم ہی کُل کائنات ہیں اور پھر ہم بے وقعت کیسے کہ کائنات ہی ہم میں بسی ہے۔ ایٹموں کی صورت۔ کائنات کے سادہ اُصولوں کی صورت۔ کائنات اگر ایک درخت ہے تو ہم اسکا پھل۔ تو کیا پھل اور درخت
ایک دوسرے کے بغیر مکمل ہیں؟
ہم انسان اس کائنات کا حصہ ہیں۔ ہم اس سے الگ نہیں ۔ اس رشتے کا کوئی نام نہیں مگر یہ رشتہ ہمیں خلا کی ویرانیوں میں اکیلے پن کے احساس کو زائل کرنے میں مدد گار ہے۔

ایک روز ہم نے خاک ہو جانا ہے ۔ ہمارے ایٹموں نے بکھر جانا ہے۔ اور جب تک کائنات ہے تب تک ہمارے ایٹم اس میں موجود ہیں۔
آج سے اربوں سال بعد جب نہ زمین ہو گی اور نہ سورج تو وہ ایٹم جن سے آج ہم بنے ہیں خلاؤں میں بکھر چکے ہونگے، طویل فاصلے طے کر چکے ہونگے اور ممکن ہے ان سے کوئی اور نظامِ شمسی بن چکے ہوں، کئی اور زمینیں بنیں، جن پر ہم جیسی کوئی مخلوق ہو۔ جو خواہشات اور جذبات رکھتے ہوں ویسے ہی جیسے ہم رکھتے ہیں۔
کسی کو محبوب کا انتظار ہو، تو کسی کو اچھی نوکری کا، کوئی صحت چاہتا ہو، کوئی بہتر تعلیم ۔۔کیا معلوم !!

کائنات کا یہ نظام ایٹموں کی ری سائکلنگ سے ایک پیچیدہ صورت سے دوسری پیچدہ صورت میں بدلتا ہو۔
وقت جو اس زندگی کا قاتل ہے، یہی وقت کائنات کا سب سے بڑا مصور بھی ہے جو اسکے کینوس میں کئی رنگ بھرتا ہے۔اسکے ایک برش سٹروک سے کیا کیا رنگ، کیا کیا صورتیں پردۂ تخیل سے حقیقت کا سفر طے کرتی ہیں۔
وقت پکاسو ، وان گوخ اور صادقین سے بڑا مصور ہے جس میں جدیدیت بھی ہے اور قدامت بھی۔ رنگ بھی ہیں اور سفیدی بھی۔
وقت میگنس کارلسن سے بھی بڑا شطرنج کا کھلاڑی ہے اور کائنات شطرنج کی ایسی بساط جس میں دونوں طرف وقت ہی کھیلتا ہے۔ اور ہم اس شطرنج کے پیادے کبھی ایٹموں کی صورت ایک کہکشاں کے خانے میں تو کبھی دوسری۔ کبھی ایک سیارے کی آغوش میں تو کبھی دوسرے۔
کائنات اور ہمارا کھیل ابدی ہے۔ تب سے جب سے وقت ہے، تب تک جب تک وقت ہے!!

01/09/2023

Space technology And Pakistan
آج کے دور میں سپیس ٹیکنالوجی اور space exploration بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں جو قوم اس
میں آگے ہے دنیا میں اسی کا طوطی بول رہا ہے
سپیس کسی کا بھی نہیں جن کے پاس دماغ ہے اسی کا ہے سپیس ٹیکنالوجی کی بدولت قومیں اپنے ملکوں کی سائنس وٹیکنالوجی اور economy بہتر کرسکتے ہیں دنیا کو مانیٹر کرسکتے ہیں اپنے دفاعی صلاحیتیں بڑھا سکتے ہیں یہ جو دوائیاں اور میڈیکل مشنریاں ہیں اور جس سے اقوام عالم فائدے اٹھا رہے ہیں یہ بھی space ships میں ایجاد ہوئے ہیں اس زمین پر جو مختلف asteroids اور meteoroids گر رہے ہیں یا انسان جو خود زمین کو برباد کر رہے ہیں تو اس زمین کو بڑے خطرات ہیں space technology کوشش کررہا ہے کہ کسی دوسری سیارے پر زندگی کا آ ثار ڈھونڈے تاکہ مستقبل میں خطرات کی وجہ انسان وہاں منتقل ہوجائے یعنی انسان کو ایک multiplanetary بنایا جائے گا ہیلیم 3 جو کہ ایٹمی توانائی میں استعمال ہوتا ہے وہ بھی اسی ٹیکنالوجی کے بدولت دریافت ہورہا ہے الغرض space technology ترقی کی کنجی ہے
پاکستان میں اس ٹیکنالوجی کا بنیاد سپارکو کے نام سے 1960 میں رکھا گیا تھا اور اس کے پہلے سربراہ ڈاکٹر پروفیسر عبدالسلام صاحب تھے جو کیمرج یونیورسٹی انگلینڈ سے پڑھا ہوا تھا theoritical physicists تھے فزکس میں پی ایچ ڈی تھے اور فزکس میں نوبل پرائز جیتا تھا یہ اس وقت کی بات ہے جب ہندوستان اور چین میں اس ٹیکنالوجی کا نام ونشان بھی نہیں تھا اس کے لیڈرشپ میں سپارکو رات دگنی اور دن چوگنی ترقی کر رہا تھا 1962 میں پہلا راکٹ جس کا نام رہبر۔1 تھا خلاء میں بیھجا گیا تھا اور 1970 تک 200 راکٹ پاکستان نے خلاء میں بھیجے تھے
پھر اس ٹیکنالوجی میں پاکستان کا زوال اس وقت شروع ہوا جب 1974 میں بھٹو صاحب کے دور میں قادیانیوں کو کافر قرار دئیے گئے کیونکہ قادیانی ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے ہیں چونکہ عبدالسلام ایک قادیانی تھے تو وہ پاکستان سے چلے گئے حالانکہ سائنس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے اور پھر اس کی جگہ فوجی افسروں کو تعینات کئے گئے جو اب تک جاری ہے جو اس کام سے پورے واقف نہیں ہیں دوسری طرف پاکستان کے ترجیحات space technology سے اپنے اور پرائے جنگوں کی طرف shift ہوئی ہم دوسروں کے جنتی اور دوزخی کے فیصلے کرنے لگے جس کی وجہ سے پاکستان کا space ٹیکنالوجی بہت ہی مخدوش ہوگئی جس کا نتیجہ خستہ حال پاکستان ہمارے سامنے ہے

15/01/2023

Speak positive words into your life every single morning. Think big. Think healing.Think success. Think peace. Think happiness. Think growth mindset. Always start the day with positive energy. You deserve it.

11/01/2023

Go where your energy is welcomed, loved and appreciated, always!

03/01/2023

*ٹیچر کسے کہتے ہیں*؟؟؟

ﺁﭖ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺍﯾﮏ *Teacher* ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ *mostly* ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ *Teacher* ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮨﻤﻌﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎﺗﺎ ﮨﮯ , ﺳﮑﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ....
ﺁﭖ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ , ﻣﮕﺮ *Teacher* ﮐﯽ ﺩﻭﺭِ ﺟﺪﯾﺪ ﮐﯽ , ﻣﺎﮈﺭﻥ *Definition* ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺗﻮ ﻭﮦ *definition* ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ
*TEACHER is equal to Motivator*۔۔
ﺍﮔﺮ ﭨﯿﭽﺮ *Motivate* ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﻭﮦ ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ , ﭘﮍﮬﺎ ﺩﯾﻨﺎ , ﺑﺘﺎﺩﯾﻨﺎ , ﺳمجھا دینا ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ , ﺍﯾﮏ Spark ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﺎ will, ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﺎﯾﮧ ﺍﺻﻞ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ .
ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﭨﯿﭽﻨﮓ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ licence ( ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﺎﻣﮧ ) ﻟﮯ ﮐﺮ Teach ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺏ ﺍﺱ *Teaching licence* ﮐﻮ ﺍﯾﺸﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ 6 ﻣﯿﺠﺮ ﮐﻮﺍﻟﭩﯿﺰ ﮐﻮ ﭼﯿﮏ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ...
*.1 Subject Grip*
ﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻄﻠﻮﺑﮧ ﺳﺒﺠﯿﮑﭧ ﭘﺮ ﮐﻤﺎﻧﮉ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺍﭼﮭﺎ ﭨﯿﭽﺮ ﮨﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ common ﮨﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﯽ ﺳﺒﺠﯿﮑﭧ ﮔﺮﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻓﻮﮐﺲ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺁﭘﮑﯽ ﺳﺒﺠﯿﮑﭧ ﮔﺮﭖ *Upgraded* ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ؟
ﻋﻤﻮﻣﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻭﮨﯽ *knowledge* ﮨﻢ carry ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﮈﮔﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ...
*.2 Communication Skills*
ﯾﮧ ﺑﮩﺖ *important* ﭘﻮﺍﺋﻨﭧ ﮨﮯ , ﮐﻤﯿﻮﻧﯿﮑﺸﻦ skill ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﯾﮧ ﻓﻦ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﺳﻄﺢ ﭘﺮ ﺁﮐﺮ ﺍﺳﮑﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﺋﯿﮟ .
*.3 Social Genius*
ﺍﺱ ﺧﺎﺹ *terminology* ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻠﻨﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮨﻮ , ﻣﻠﻨﺴﺎﺭ ﮨﻮﻧﺎ . ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﯽ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺳﮑﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ , ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ .
*Motivation.4*
ﭨﯿﭽﺮ ﻣﯿﮟ motivation ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ , ﺟﺬﺑﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ *spark*, ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ .
*.5 A True Learner*
ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﻮ , ﺍﮔﺮﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻢ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ علم کا ﭘﯿﺎﺳﺎ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ ﮔﯿﮟ ؟
*.6 Progressive Attitude*
ایک ٹیچر کے لیے ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﻮﻧﺎ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﮯ , ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﭨﯿﭽﺮ ﻭﮦ ﮨﮯ جو ﺍﺱ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎئے گا, ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ وہ ﻗﻮﻡ ﮐﻮﮐﯿﺎ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎئے گا ؟
ﺁﭖ ﺍﻥ کوالیٹیز ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ , ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﭨﯿﭽﺮﺯ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭘﮑﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ گا..کہ آج ھمارے بچے باصلاحیت، باحوصلہ اور باکمال کیوں نھیں بن پارھے ھے:

27/12/2022

●○☆فوٹونز کا مومینٹم☆○●

کسی چیز کے مومینٹم کا مطلب اس کی ولاسٹی (رفتار) اور اس کے ماس کا حاصل ضرب ہوتا ہے۔ یعنی
P=mv
اگر کسی جسم کا ماس زیادہ ہو تو اس کا مومینٹم بھی زیادہ ہو گا۔ اور اگر اس کی ولاسٹی زیادہ ہو تو اس کا مومینٹم اس حساب سے زیادہ ہو گا۔ ایک ٹرین کا مومینٹم زیادہ ہوتا ہے بنسبت ایک کار کے۔ اور ایک تیز رفتار کار کا مومینٹم سست رفتار کار سے زیادہ ہوتا ہے۔
اب چونکہ فوٹونز کا حالت سکون میں ماس (ریسٹ ماس) زیرو ہوتا ہے اور خلا میں اس کی سپیڈ c (3*10^8) ہے ،اس لئیے
P=mv
P=(0) (c)
P=0
اس فارمولا کے مطابق ماس زیرو ہونے کی وجہ سے فوٹونز کا مومینٹم زیرو ہونا چاہئیے۔ مگر فوٹونز کا مومینٹم زیرو نہیں ہوتا۔
اس کی وجہ یہ کہ یہ مومینٹم کا فارمولا روشنی کی رفتار یا اس کے قریب حرکت کرتے اجسام کے لئیے کارآمد نہیں۔ اس کے لئیےہمیں سپیشل ریلیٹیویٹی کی مدد لینا ہو گی۔ سپیشل ریلیٹیویٹی کے مطابق
𝐸^2=(𝑚𝑐^2)^2+(𝑝𝑐)^2
فوٹونز کا ریسٹ ماس چونکہ زیرو ہے تو (𝑚𝑐^2)^2 والا فیکٹر زیرو ہو جاتا ہے۔ اس لئیے
𝐸^2=0 +(𝑝𝑐)^2
𝐸^2=(𝑝𝑐)^2
یہاں پر فوڑونز کی انرجی h𝑐/λ سے معلوم کی جا سکتی ہے۔ قیمت درج کرنے سے
(h𝑐/λ)^2= (𝑝𝑐)^2
دونوں طرف کا سکوئیر کینسل کرنے سے
h𝑐/λ= 𝑝𝑐
دونوں طرف سے c کو کینسل کرنے سے
h/λ= 𝑝

𝑝=h/λ
اس فارمولے سے فوٹونز کا مومینٹم معلوم کیا جا سکتا ہے۔ یہاں h پلانک کونسٹنٹ، λ فوٹون کی ویو لینگتھ (میٹرز میں) اور p اس کا مومینٹم ہے۔ یعنی فوٹون کا مومینٹم پلانگ لینگتھ کو اس کی ویو لینگتھ سے تقسیم کرنے سے حاصل ہو سکتا ہے۔
h=6.626* 10^-34 JS
چونکہ فوٹونز کا مومینٹم بہت ہی کم ہوتا ہے اس لئیے روشنی پڑھنے پر ہمیں کسی قسم کا دھکا نہیں لگتا۔ مگر تھیوریٹیکلی، اگر ہمارے پاس ایک بہت بڑی solar sail ہو تو سورج سے آنے والی روشنی اس کو آگے کو دھکیل سکتی ہے کیونکہ فوٹونز کا مومینٹم زیرو نہیں۔

نوٹ۔ کسی بھی روشنی کے فوٹون کی انرجی کی قیمت اس فارمولا سے معلوم کی جا سکتی ہے۔
E=hf
یہاں h پلانک کونسٹنٹ اور f اس روشنی کی ویو کی فریکوینسی ہے۔ مثال کے طور پر violet لائٹ کے ایک فوٹون کی انرجی ایسے معلوم کی جا سکتی ہے۔
E=hf
E=(6.626*10^-34)*(7.5*10^14)
E=5 *10^-19 Jouls)
By EPW

13/08/2022

"اللہ تعالی نے کوٸی بھی چیز بے معنی پیدا نہیں کٸی ہیں۔ لیکن انسان نا سمجھ ہے اس لیے جہاں تک اس کی سوچ کام کررہی ہوتی ہے، وہاں تک تو چیزیں کو تسليم کررہی ہوتی ہیں اور جہاں کام نہیں کرتی،وہاں اس کے خلاف باتیں کرنا شروع کرتے ہیں کہ یہ کس لیے پیدا کیا،یہ کس کام کا ہے، وغیرہ وغیرہ۔۔

ہماری زمین سے تقریبا 48 سے لیکر 402 کلو میٹر تک اوزون لٸیر (O٣) ہے،ہماری زمین کو اللہ تعالی نے پانچ لٸیر میں بند کیا ہوا ہیں، جن میں ایک اوزون لیٸر بھی ہیں یہ اللہ تعالی نے بہت بہترین لٸیر بناٸی ہے،یہ سورج سے آنے والے Ultra ویلٹ شعاٸیں کو زمین کی طرف آنے نہیں دیتے بلکہ اس کو منعکس (reflect) کرکے واپس جانے پر مجبور کردیتے ہیں۔اگر یہ شعاٸیں ایک دن بھی مسلسل زمین تک آگٸے، تو ساری دُنیا کنسر سے مرجاگٸی۔

اوزون لٸیر کا دوسرا فاٸدہ یہ ہے،کہ ڈیٹا لے جانے والی device جس کو ہم Transmitters کہتے ہیں۔ یہ ایک بار جب ڈیٹا اوزون لیٸیر کو دیتے ہیں تو سکینڈ سے بھی کم وقت میں امریکہ تک پہنچادیتے ہے۔جس کو ہم ساٸنس کی زبان میں Sky propagation کہتے ہیں۔ ہماری اکثر ڈیٹا اوزون لٸیر کو استمعال کررہی ہوتی ہیں۔اس کا فاٸدہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارا power کا نقصان کم ہوتا ہیں۔اللہ تعالی بہترین
اور سب سے اعلی creators اور designers ہیں".....!!!

تحریر Tehsin Ullah Khan

07/08/2022

The magnitude of the velocity of the projectile on the projection point is =on the impact point or not?

18/07/2022

ہمارے سوال, کائنات کے جواب!!!

بگ بینگ کوئی دھماکہ نہیں تھا کہ کسی نے پریشرککر میں بارود ڈال کر اڑا دیا ہو بلکہ آج ہم سائنس میں جسے بگ بینگ کہتے ہیں یہ دراصل آج سے 13.8 ارب سال پہلے کا وہ واقعہ ہے جب کائنات وجود میں آئی اور تیزی سے ایک نقطے سے پھیلنے لگی۔ وقت اور خلا جسے سائنس میں سپیس ٹائم کہا جاتا ہے یہ بھی تب ہی وجود میں آئے۔ چونکہ وقت کی ابتدا بگ بینگ سے ہوتی ہے لہذاٰ یہ سوال کچھ عجیب ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ یعنی وقت سے پہلے کیا تھا؟ ہمارا ذہن یہ سوال سمجھ نہیں پاتا۔

اس بارے میں کئی سائنسی مفروضے ہیں(یاد رکھیں سائنس میں مفروضے اور تھیوری میں یہ فرق ہوتا ہے کہ مفروضے ثابت نہیں ہوئے ہوتے جبکے تھیوری کئی تجربات و مشاہدات سے ثابت شدہ ہوتی ہے)۔مثال کے طور پر ایک مفروضہ یہ ہے کہ بگ بینگ کے وقت ہماری کائنات کے علاوہ اور بھی کائناتیں بنی ہونگی جنہیں ہم ملٹی ورس کہتے ہیں۔ اور ممکن ہے وہاں فزکس کے قوانین ہماری کائنات سے مختلف ہوں۔۔یا یہ کہ بگ بینگ کسی پچھلی کائنات میں بلیک ہول ہو جو ہماری کائنات کا بیچ ہو یا شاید ہم کسی بلیک ہول میں رہنتے ہوں وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہ فی الحال سائنسی مفروضے ہیں انکا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس کائنات میں شاید کسی پچھلی کائنات کی کوئی نشانیاں موجود ہوں جنہیں ہم مستقبل میں ڈھونڈ سکیں مگر فی الوقت سائنس اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ جو بات سائنس حتمی طور پر کہہ سکتی ہے وہ یہ کہ کائنات کی ابتدا بگ بینگ سے ہوئی اور آج بھی کائنات پھیل رہی ہے۔ پھیلنے کو یوں سمجھیں کہ کائنات میں کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ یعنی انکے بیچ میں موجود خلا مزید پھیل رہا ہے۔ جیمز ویب ٹیکیسکوپ بگ بینگ کے 10 کروڑ سال بعد کی کائنات دیکھ سکتی یے۔ جبکہ اسکے مقابلے میں ہبل ٹیلی سکوپ بگ بینگ کے 40 کروڑ سال بعد کی کہکشائیں دکھا سکتی تھی۔

مستقبل میں شاید ہم جیمز ویب سے کوئی ایسا کائناتی مشاہدہ کر سکیں جس سے ہمیں ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کے بارے میں معلوم ہو سکے۔ ڈارک میٹر/انرجی چونکہ نظر نہیں آتے اور نہ ہی یہ عام مادے سے کوئی تال میل رکھتے ہے اسی لیے انہیں ڈھونڈنا مشکل ہے۔ ہم انکا محض گریوٹیشنل اثر جانتے ہیں جو کائنات کے پھیلاؤ اور کہکشاؤں کی غیر معمولی گردش کو بیان کرتا ہے۔

مگر 1971 میں سٹیفن ہاکنگ نے یہ خیال پیش کیا کہ ممکن ہے بگ بینگ کے بعد ابتدائی کائنات میں بہت سا مادہ بلیک ہولز میں تبدیل ہو گیا ہو اور کائنات میں کئی بلیک ہولز چھپے ہوئے ہیں جنہیں ہم ڈھونڈ نہیں سکے۔ یہ ایک متنازع خیال ہے کیونکہ آج کے مشاہدوں میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بلیک ہول دراصل سورج سے کئی گنا ماس میں بڑے ستاروں کے انجام پر بنتے ہیں۔
اسی طرح جیمز ویب ٹیلی سکوپ سے ہم کئی اور نئے مشاہدے کر سکیں گے۔ ممکن ہے ہم دوسرے ستاروں کے گرد گھومتے کئی سیاروں کی فضاؤں سے آنے والی مدہم سی روشنی کو اسکے حساس آلات سے پڑھ سکیں اور اس روشنی میں اُن گیسوں کے آثار ڈھونڈ سکیں جو کوئی ذہین مخلوق ہی بنا سکتی ہو مثال کہ طور پر صنعتی گیسز جو قدرت میں نہیں پائی جاتیں اور صرف انسان بنا سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔اور یہ جان پائیں کی کائنات میں ہم اکیلے نہیں۔ زندگی ہم سے ارربوں سال دور کسی اور زمین نما سیاروں پر موجود ہو۔

یاد رکھیں کائنات انہی کو جواب دیتی ہے جو سوال کرتے ہیں۔ وہ جو یہ سوچ کے بیٹھے ہیں کہ انہیں سب معلوم ہے، اندھیرے میں ہیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Mardan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Mardan