Ijaz Ali shah Katlang

Ijaz Ali shah Katlang

Share

Only Educational information

18/08/2025

سکولوں کی پرائیویٹائزیشن کا جواز اور اصل حقیقت
حکومت خیبر پختونخوا نے 4147 سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کو اختیار ہے کہ وہ جب چاہے، جتنے چاہے، ادارے پرائیویٹ کرے۔ لیکن اصل مسئلہ اس فیصلے کا جواز ہے۔ حکومت نے ’’خراب کارکردگی‘‘ کو بنیاد بنایا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں یہ فیصلہ کمزور اور افسوسناک لگتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی ادارے اپنی مرضی سے نہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں کے مطابق چلتے ہیں۔ لہٰذا سرکاری سکولوں کی کارکردگی کو ’’ناکامی‘‘ کہنا دراصل حکومتی پالیسیوں کی ناکامی ہے۔
سرکاری سکولوں کیلئے پالیسیاں
1. سرکاری سکولز حکومت کی ہدایات کے پابند ہیں، ہیڈماسٹر یا استاد اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتا۔
2. سرکاری سکولوں میں داخلے کیلئے کوئی کرائٹریا نہیں ہے، کوئی میرٹ نہیں ہے، کوئی پابندی نہیں ہے، بلکہ ہر سٹوڈنٹ کو داخلہ دینے کی پابندی ہے، کوئی داخلہ ٹیسٹ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ جبکہ پرائیویٹ سکولز اپنی مرضی کا داخلہ ٹیسٹ لیتے ہیں اور داخلہ ٹیسٹ فیل کرنے والے سٹوڈنٹس کو داخلہ نہیں دیا جاتا۔جبکہ سرکاری سکولوں میں کسی بھی بچے کو کسی بھی بنیاد پر داخلے سے نہیں روکا جاسکتا۔
3. سرکاری سکولوں میں داخلے کیلئے کوئی تعداد بھی مقرر نہیں ہے بلکہ سرکاری احکامات کے مطابق گلی کوچوں میں سے بچوں کو نکال کر داخل کرانا لازمی ہے۔ جبکہ پرائیویٹ سکولز ہر کلاس میں مختص تعداد کے مطابق داخلے دیتے ہیں، جسکے بعد کسی داخلے کیلئے انہیں پابند نہیں کیا جا سکتا۔
4. سرکاری سکولوں میں بیس فیصد مارکس لینے والے سٹوڈنٹس کو بھی فیل نہیں کیا جا سکتا جبکہ پرائیویٹ سکولز کی اپنی مرضی ہے۔ ہمارے علاقے کے ایک معروف سکول پچاس فیصد سے کم سکور والے سٹوڈنٹ کو کسی بھی صورت اگلے کلاس میں پروموشن نہیں دیتی۔
5. میرٹ پر داخلوں اور کم سکور پر فیل کرنے کی پالیسی کی وجہ سے پرائیویٹ سکولوں میں بہتر معیار کے سٹوڈنٹس آجاتے ہیں، جسکی وجہ سے انکا ننتیجہ بہتر آتا ہے۔ اور بہتر نتائج آنے کی وجہ سے اب پہلے سے اچھے سٹوڈنٹس پرائیویٹ اداروں کا رخ کرتے ہیں۔
6. اگر پھر بھی کسی وجہ سے سرکاری سکولوں میں کوئی قابل بچہ رہ جاتا ہے تو ایٹا ٹیسٹ کے ذریعے سکالرشپ کی لالچ میں انہیں دوبارہ سرکاری سکولوں سے اٹھایا جاتا ہے۔
یہ وہ بنیادی فرق ہے جسے بنیاد بنا کر سرکاری سکولوں کو ’’ناکام‘‘ ثابت کیا جاتا ہے، حالانکہ اصل ناکامی پالیسیوں کی ہے، اداروں کی نہیں۔ میں ایک کھلا چیلنج دیتا ہوں کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے سٹوڈنٹس کو کسی بہترین پرائیویٹ ادارے میں داخل کرائیں، اگر وہاں انکا نتیجہ سرکاری سکولوں سے بہتر آیا تو تمام سرکاری اداروں کو یکسر ختم کردیں۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر اسلامیہ کالج میں آخری داخل ہونے والے سٹوڈنٹ کے مارکس 95 فیصد ہو اور کسی سرکاری سکول میں وہ بچے داخل ہوں جو کہیں پر بھی داخلے کیلئے اہل نہیں ہیں تو نتائج میں فرق تو ہوگا۔ لیکن یہ فرق فیکٹری کی وجہ سے نہیں بلکہ خام مال کی وجہ سے ہوگا۔
یوں لگتا ہے کہ جیسے کوئی شخص دوڑ کا مقابلہ رکھے اور ایک رنر کے پاؤں میں رسی باندھ دے، پھر آخر میں اعلان کرے کہ یہ شخص سست ہے اور دوڑنے کے قابل نہیں۔ یہی حال سرکاری سکولوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا حکومت کو اختیار ہے کہ چاہے تو تمام سکول پرائیویٹ کر دے، لیکن ’’خراب کارکردگی‘‘ کا الزام ان پر عائد کرنا سراسر زیادتی ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر کامیاب نظام کیلئے ’’سزا‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’جزا‘‘ کا بھی انتظام لازمی ہے۔ اب چونکہ سرکاری سکولوں کی مبینہ ناقص کارکردگی پر انہیں پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کر کے سزا دی جا رہی ہے تو جن اداروں کی کارکردگی سے عوام مطمئن ہیں انہیں ایوارڈ بھی دیئے جائیں۔ عوام اپنے ضلعی انتظامیہ سے بڑے مطمئن ہیں کیونکہ بازاروں میں کوئی مضر صحت اشیاء نہیں ملتیں، دودھ بالکل خالص ہے، سودی کاروبار ختم ہو چکے ہیں، نرخنامے پر سو فیصد عمل ہوتا ہے، امن و امان کی صورتحال مثالی ہے، عوام رات کو گلی کوچوں میں جہاں چاہیں سکون کی نیند سو سکتے ہیں، کسی کی جان و مال اور عزت کو کوئی خطرہ نہیں۔ دفتری نظام اتنا شفاف ہے کہ ہر جائز کام بغیر کسی سفارش اور بغیر کسی تاخیر کے فوراً مکمل ہوجاتا ہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ قصۂ پارینہ بن چکی ہے، 24 گھنٹے پوری وولٹیج کی بجلی دستیاب ہے۔ عدالتی نظام ایسا ہے کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ہفتوں میں انصاف مل جاتا ہے۔ ہسپتالوں میں سب کچھ بالکل فری دستیاب ہے۔ عوامی نمائندے خادمِ قوم کی اعلیٰ مثال ہیں۔ سڑکیں، پانی، صحت، تعلیم ۔۔۔ ہر سہولت گاؤں گاؤں تک میسر ہے۔
جب عوام ان سب کی کارکردگی سے اتنے مطمئن ہیں تو لازم ہے کہ حکومت ان تمام اداروں اور محکموں کو ایوارڈ سے نوازے، جیسے وہ سکولوں کو ’’خراب کارکردگی‘‘ پر سزا دے رہی ہے۔
اصل مسئلہ سکولوں میں نہیں بلکہ پالیسیوں میں ہے۔ اگر یہی پالیسیاں یکساں ہوں تو سرکاری سکول پرائیویٹ اداروں سے اچھے نتائج دے سکتے ہیں۔ لیکن چونکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ سرکاری ادارے پبلک کیلئے ہوتے ہیں، ان میں حکومت میرٹ کی پالیسی نہیں اپنا سکتی، جسکی وجہ سے نتائج میں تضاد لازمی ہے۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ فیصلے میں انصاف کرے اور الزام وہاں لگائے جہاں اصل ناکامی ہے۔ بصورت دیگر یہ اقدام ایک اور ناانصافی کے مترادف ہوگا۔

15/08/2025
15/08/2025

First position at division level
Milli naghma Of GHS BABOZAI KATLANG

29/09/2024

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Asad Ghalib, Zubair Gull, Dawood Pathan, Asal Khan, Abdullah Khan, Asim Ali

12/03/2024

آئیے قاری محمد جمال شہاب کو سنتے ہیں ۔۔۔

Photos from Dr. Abdullah khan's post 26/11/2023

Medical info .....

13/10/2023

میرا لکھا گیا ملی نغمہ شاہینوں نے منفرد انداز میں پیش کرکے سامعین کے دل جیت لئے۔۔ جی ایچ ایس بابوزئی کاٹلنگ مردان

08/10/2023

تھوڑا نہیں پورا سوچئے ۔۔۔ کیونکہ سوچنے کے پیسے نہیں لگتے

Want your school to be the top-listed School/college in Mardan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Mardan