The Eastern School & College Mardan

The Eastern School & College Mardan

Share

The Eastern School has been providing its services in Mardan since 1981. The Eastern School has been providing its services for the last 25 years.

The medium of instruction at the School is English & is affiliated with the Mardan Board of Secondary Education. This institution is thus one of the oldest and refined institutions in Mardan. Its foundation was laid down as a Primary School in March, 1981. Because of its outstanding performance and standard, it achieved a widespread recognition and so was upgraded to Middle School in March, 1983.

How to use an astrolabe I Curator's Corner S3 Ep1 #CuratorsCorner 30/03/2026

The Astrolabe

One of the most important scientific instruments developed by Muslims which was also used widely in the West until modern times...

How to use an astrolabe I Curator's Corner S3 Ep1 #CuratorsCorner Curator William Greenwood talks us through the different parts of an astrolabe and how to use it.To find out more read William's blog about astrolabes here: ...

25/11/2025
28/10/2025

Water breaks the rock not by force, but by persistence.

05/10/2025
20/09/2025
16/08/2025

❤️

15/08/2025
10/08/2025

آج اس کہانی کو پورے تیس سال ہوگئے ہیں۔ یہ کہانی شروع ہوتی ہے فروری 1994 کی ایک شام جب پاکستانی ہاکی ٹیم کے کپتان شہباز سینئیر ایک ٹی وی شو میں مدعو تھے۔ انٹرویو کے دوران شہباز نے تھوڑا سا حسرت آمیز لہجے میں کہا کہ یہ ان کے کیریر کا آخری سال ہے اور اس سال چیمپئینز ٹرافی اور ورلڈ کپ دونوں منعقد ہونا ہیں۔ میری خواہش ہے کہ پاکستان میری کپتانی میں یہ دونوں ٹورنامنٹ جیتے۔

جس نے بھی یہ فقرہ سنا وہ ہنس دیا۔ پاکستان کو آخری بار ورلڈ کپ جیتے بارہ سال اور چیمپئنز ٹرافی جیتے چودہ سال ہوچکے تھے۔ دنیا میں ہالینڈ جرمنی اور آسٹریلیا کا راج تھا۔ اولمپکس میں کچھ عرصہ پہلے کافی مار پڑی تھی بلکہ ایشین گیمز میں ہمیں کوریا نے لمبا لٹا دیا تھا۔ ہاکی ٹیم کے حالات کافی برے تھے ایسے میں کپتان کی ایسی خواہش پر یہی کہا جاسکتا تھا کہ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔

اس کے بعد اگلے دس مہینے میں جو کچھ ہوا وہ دنیائے ہاکی کا ایک ایسا باب ہے جو کسی اچھے ملک میں ہوا ہوتا تو اب تک اس پر درجن بھر فلمیں بن چکی ہوتیں۔ پاکستان نے شہباز کی قیادت میں دونوں ٹورنامنٹ جیتے اور ان مقابلوں میں پاکستان نے ایسی ہاکی کھیلی کہ بتانے اور دیکھنے میں زمین آسمان کا فاصلہ ہے۔ راقم ان تمام واقعات کا عینی شاہد ہے۔ شہباز کے انٹرویو کا بھی اور پھر دونوں بار اسے ٹرافیاں اٹھائے دیکھنے کا بھی۔ یہ ایک ایسی داستان ہے کہ جسے سنانے کے لیے فلمیں ناول ڈرامے کم پڑ جائیں۔ چیمپئنز ٹرافی کا فائنل نویں پنلٹی سٹروک پر جیتا۔ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جرمنی کو اور فائنل میں ہالینڈ کو سٹروکس پر ہرایا۔ منصور نے بوولینڈر کا پنلٹی سٹروک روکا۔ شہباز کی مس ہٹ آہستہ آہستہ لڑکھتی گول میں چلی گئی۔ جرمنی کا گول ایمپائر نے ریجیکٹ کردیا۔ ایسی سنسنی خیز کہانیاں کہ بت کدے میں بیاں کروں تو صنم پکارے ہری ہری۔

لیکن کیا آپ میں سے کسی نے یہ کہانی کبھی پہلے سنی ہے؟ ۔ کیوں نہیں سنی۔ کرکٹ کے ورلڈ کپ کا ایک ایک لمحہ ہمیں یاد ہے لیکن یہ کہانی کسی نے کیوں نہیں سنائی۔ کسی نے اس پر کوئی ڈاکو منٹری کیوں نہیں بنائی۔ شہباز سینئیر، خواجہ جنید، وسیم فیروز، کامران اشرف یہ سب لوگ زندہ ہیں۔ یہ خود کیوں نہیں یہ کہانی سناتے؟ یہ اس ملک کی سب سے تھرلنگ سپورٹس سٹوری ہے لیکن اسکا کوئی کہیں ذکر نہیں۔

دنیا پروجیکشن کا کھیل ہے۔ یہاں جو خود کو اچھی طرح بیچ لے وہی کامیاب ہے۔ شہباز سینئیر ایک چھوٹے سے آفس میں خاموشی سے بیٹھا رہتا ہے۔ باقی لوگ کہیں کسی ڈپارٹمنٹ کی ٹیم کو کوچ کرتے ہیں یا اب اپنے ڈپارٹمنٹ میں ایڈمنسٹریشن لیول پر موو کرچکے ہیں۔ کوئی ذکر نہیں کرتا ایک ایسے سال کا جس کے شروع میں ایک آدمی نے حسرت بھرے لہجے میں کہا کہ وہ دنیا فتح کرنا چاہتا ہے اور پھر اس دھان پان سے آدمی نے جو کہا وہ کردکھایا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اس انٹرویو کی وڈیو ملے تو پتہ چلے کہ ایگزیکٹ کس لمحے پر شہباز نے وہ بات کی تھی کیونکہ قبولیت کا ایسا لمحہ کم از کم میری نظر سے تو دوبارہ نہیں گزرا۔

بشکریہ منصور احمد

Want your school to be the top-listed School/college in Mardan Cantonment?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Mardan Cantonment

Opening Hours

Monday 08:00 - 14:00
Tuesday 08:00 - 14:00
Wednesday 08:00 - 14:00
Thursday 08:00 - 14:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 08:00 - 14:00