تفہیم القرآن
مفسر: مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی
سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 1
ترجمہ:
الف،لام،میم1
تفسیر:
سورة الْبَقَرَة 1
یہ حُرُوفِ مُقَطعَات قرآن مجید کی بعض سورتوں کے آغاز میں پائے جاتے ہیں۔ جس زمانے میں قرآن مجید نازل ہوا ہے اس دور کے اسالیب بیان میں اس طرح کے حُرُوفِ مُقطعات کا استعمال عام طور پر معروف تھا۔ خطیب اور شعراء دونوں اس اُسْلوب سے کام لیتے تھے۔ چناچہ اب بھی کلام جاہلیّت کے جو نمونے محفوظ ہیں ان میں اس کی مثالیں ہمیں ملتی ہیں۔ اس استعمال عام کی وجہ سے یہ مقطعات کوئی چیستاں نہ تھے جس کو بولنے والے کے سوا کوئی نہ سمجھتا ہو، بلکہ سامعین بالعموم جانتے تھے کہ ان سے مراد کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے خلاف نبی ﷺ کے ہم عصر مخالفین میں سے کسی نے بھی یہ اعتراض کبھی نہیں کیا کہ یہ بےمعنی حروف کیسے ہیں جو تم بعض سورتوں کی ابتداء میں بولتے ہو۔ اور یہی وجہ ہے کہ صحابہء کرام سے بھی ایسی کوئی روایت منقول نہیں ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے ان کے معنی پوچھے ہوں۔ بعد میں اسلوب عربی زبان میں متروک ہوتا چلا گیا اور اس بنا پر مفسّرین کے لیے ان کے معانی متعیّن کرنا مشکل ہوگیا۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ نہ تو ان حُرُوف کا مفہُوم سمجھنے پر قرآن سے ہدایت حاصل کرنے کا انحصار ہے۔ اور نہ یہ بات ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے معنی نہ جانے گا تو اس کے راہ راست پانے میں کوئی نقص رہ جائے گا۔ لہٰذا ایک عام ناظر کے لیے کچھ ضروری نہیں ہے کہ وہ ان کی تحقیق میں سرگرداں ہو۔
آیت نمبر 2
ترجمہ:
یہ اللہ کی کتاب ہے ،اس میں کوئی شک نہیں2 ہے۔ہدایت ہے اُن پرہیزگاروں کے3 لئے
تفسیر:
سورة الْبَقَرَة 2
اس کا ایک سیدھا سادھا مطلب تو یہ ہے کہ ” بیشک یہ اللہ کی کتاب ہے۔ “ مگر ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ایسی کتاب ہے جس میں شک کی کوئی بات نہیں ہے۔ دنیا میں جتنی کتابیں امور مابعد الطبیعت اور حقائقِ ماوراء ادراک سے بحث کرتی ہیں وہ سب قیاس و گمان پر مبنی ہیں، اس لیے خود ان کے مصنّف بھی اپنے بیانات کے بارے میں شک سے پاک نہیں ہو سکتے خواہ وہ کتنے ہی یقین کا اظہار کریں۔ لیکن یہ ایسی کتاب ہے جو سراسر علم حقیقت پر مبنی ہے، اس کا مصنف وہ ہے جو تمام حقیقتوں کا علم رکھتا ہے، اس لیے فی الواقع اس میں شک کے لیے کوئی جگہ نہیں، یہ دوسری بات ہے کہ انسان اپنی نادانی کی بنا پر اس کے بیانات میں شک کریں۔
سورة الْبَقَرَة 3
یعنی یہ کتاب ہے تو سراسر ہدایت و رہنمائی، مگر اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی میں چند صفات پائی جاتی ہوں۔ ان میں سے اوّلین صفت یہ ہے کہ آدمی ” پرہیزگار “ ہو۔ بَھلائی اور برائی میں تمیز کرتا ہو۔ برائی سے بچنا چاہتا ہو۔ بَھلائی کا طالب ہو اور اس پر عمل کرنے کا خواہش مند ہو۔ رہے وہ لوگ، جو دنیا میں جانوروں کی طرح جیتے ہوں جنہیں کبھی یہ فکر لاحق نہ ہوتی ہو کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ صحیح بھی ہے یا نہیں، بس جدھر دنیا چل رہی ہو، یا جدھر خواہش نفس دھکیل دے، یا جدھر قدم اٹھ جائیں، اسی طرف چل پڑتے ہوں، تو ایسے لوگوں کے لیے قرآن میں کوئی رہنمائِ نہیں ہے۔
آیت نمبر 3
ترجمہ:
جو غیب پر ایمان لاتے4 ہیں،نماز قائم کرتے ہیں5،جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے ،اس میں سے خرچ کرتے ہیں6
تفسیر:
سورة الْبَقَرَة 4
یہ قرآن سے فائدہ اٹھانے کے لیے دوسری شرط ہے۔ ” غیب “ سے مراد وہ حقیقتیں ہیں جو انسان کے حواس سے پوشیدہ ہیں اور کبھی براہ راست عام انسانوں کے تجربہ و مشاہدہ میں نہیں آتیں۔ مثلاً خدا کی ذات وصفات، ملائکہ، وحی، جنّت، دوزخ وغیرہ۔ ان حقیقتوں کو بغیر دیکھے ماننا اور اس اعتماد پر ماننا کہ نبی ان کی خبر دے رہا ہے، ایمان بالغیب ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص ان غیر محسوس حقیقتوں کو ماننے کے لیے تیار ہو صرف وہی قرآن کی رہنمائی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ رہا وہ شخص جو ماننے کے لیے دیکھنے اور چکھنے اور سونگھنے کی شرط لگائے، اور جو کہے کہ میں کسی ایسی چیز کو نہیں مان سکتا جو ناپی اور تولی نہ جاسکتی ہو تو وہ اس کتاب سے ہدایت نہیں پاسکتا۔
سورة الْبَقَرَة 5
یہ تیسری شرط ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ صرف مان کر بیٹھ جانے والے ہوں وہ قرآن سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ایمان لانے کے بعد فوراً ہی عملی اطاعت کے لیے آمادہ ہوجائے۔ اور عملی اطاعت کی اوّلین علامت اور دائمی علامت نماز ہے۔ ایمان لانے پر چند گھنٹے بھی نہیں گزرتے کہ مُوٴَذِّن نماز کے لیے پکارتا ہے اور اسی وقت فیصلہ ہوجاتا ہے کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والا اطاعت کے لیے بھی تیار ہے یا نہیں۔ پھر یہ مُوٴَذِّن روز پانچ وقت پکارتا رہتا ہے، اور جب بھی انسان اس کی پکار پر لبّیک نہ کہے اسی وقت ظاہر ہوجاتا ہے کہ مدّعی ایمان اطاعت سے خارج ہوگیا ہے۔ پس ترک نماز دراصل ترک اطاعت ہے، اور ظاہر بات ہے کہ جو شخص کسی کی ہدایت پر کاربند ہونے کے لیے ہی تیار نہ ہو اس کے لیے ہدایت دینا اور نہ دینا یکساں ہے۔
یہاں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ اقامت صلوٰۃ ایک جامع اصلاح ہے۔ اس کے معنی صرف یہی نہیں ہیں کہ آدمی پابندی کے ساتھ نماز ادا کرے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی طور پر نماز کا نظام باقاعدہ قائم کیا جائے۔ اگر کسی بستی میں ایک ایک شخص انفرادی طور پر نماز کا پابند ہو، لیکن جماعت کے ساتھ اس فرض کے ادا کرنے کا نظم نہ ہو تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہاں نماز قائم کی جا رہی ہے۔
سورة الْبَقَرَة 6
یہ قرآن کی رہنمائی سے فائدہ اٹھانے کے لیے چوتھی شرط ہے کہ آدمی تنگ دل نہ ہو، زر پرست نہ ہو، اس کے مال میں خدا اور بندوں کے جو حقوق مقرر کیے جائیں انہیں ادا کرنے کے لیے تیار ہو، جس چیز پر ایمان لایا ہے اس کی خاطر مالی قربانی کرنے میں بھی دریغ نہ کرے۔
طالب دعا
#عمراعوان
Learn With Umar Awan
Awareness, Literacy,
Research and review by
"Umar_Awan" I want to become a billionaire 🙏
اللہ تعالیٰ کا انتخاب
مظلومیت اسلام کی طاقت بھی ہے اور میراث بھی۔ ہمارے کرتوت تو اس قابل نہ تھے کہ دنیا اسلام کی طرف متوجہ ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے ایک قابلِ اعتماد قوم کو امتحان کے لئے چنا جو مظلومیت کے ذریعے دنیا کو اسلام کی طرف متوجہ کرے، تمام مظالم کو برداشت کرے اور جواب میں گلے شکوے اور سیاپے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کرے۔ بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں سینے سے لگا کر اللہ کی حمد کرے اور کہے کہ میرے اسماعیل اللہ تیری قربانی قبول فرمائے
۔
یہودی ضدی قوم ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے ٹکر کی قوم ان کے بالمقابل کھڑی کر دی۔ ایک نومسلم خاتون کہتی ہے کہ ایک عورت اپنے خون آلود بچے کی لاش کو سینے سے لگا کر تھینکس گاڈ کہہ رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ میں تو ہر گز، ہرگز ایسا نہ کہتی۔ پھر میں نے سوچا کہ اس ماں کو یہ ہمت کہاں سے ملی ۔۔؟؟
پھر میں نے قرآن پڑھا اور میرے سوال کو جواب مل گیا کہ یہ کتاب تو اپنے ماننے والوں کو شروع سے اس صورتحال کے لئے تیار کر دیتی ہے۔
ہم دور بیٹھے بیٹھے ان ویڈیوز کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے وجود پر سوال اٹھا رہے ہیں اور وہ سب کچھ برداشت کر کے بھی الحمدللہ ،الحمد للہ پکار رہے ہیں۔ اللہ کی قسم حرم مکی میں حجر اسود کے سامنے لیلۃ القدر میں الحمد للہ کی تسبیح کرنے والوں سے ، ان اصحابِ عزیمت کی الحمدللہ زیادہ وزن رکھتی ہے۔ ان کی الحمدللہ کی گہرائی نے جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے والے زندہ ضمیر لوگوں کا تانتا باندھ دیا ہے ۔۔
قرآن کا درس بمع ترجمہ و تفسیر کے ساتھ سننے اور پڑھنے کیلئے ہمارے پیج کو لائک اور فالو کر کہ اس کار خیر میں حصہ ڈالیں ۔۔
آپ کی وجہ سے کسی ایک انسان کی زندگی بدل گئی تو آپ نے اپنا حق ادا کر لیا ۔۔!! جزاکم اللہ خیرا
طالب دعا
#عمراعوان
27/03/2024
ہمارے دیوبندی دوست حجرات اس پر خوش ہیں کہ ایران میں ابوبکر نامی بچے نے پہلی پوزیشن لی ہے ابوبکر پہلے نمبر پر ہے۔ یعنی کے فخر ہے ٹھیک ہے ماشاءاللہ ماشاءاللہ ۔۔!
پر دوستو؟؟
میرا ایک چھوٹا سا سوال ہے کہ اگر کسی علی نام کے طالب علم نے یہ پوزیشن لی ہوتی تو کیا آپکو فخر نہ ہوتا ۔۔؟؟
One man army "Molana Ishaq"❤️
27/03/2024
𝗣𝗿𝗲𝗽𝗮𝗿𝗮𝘁𝗶𝗼𝗻𝘀 𝗳𝗼𝗿 𝘁𝗵𝗲 𝗮𝗿𝗿𝗶𝘃𝗮𝗹 𝗼𝗳 𝗗𝗔𝗝𝗝𝗔𝗟
The sacrifice of the Red Heifer the 10th will take place by the mid of this year (March end till June) Its skin, flesh, blood and bone alongwith all belongings are to be burnt and mixed with pure water and then that water will purify the priest conducting the sacrifice after which it will be sprinkled seven times around the foundation of the third temple this will welcome the Messaih era (the era of dajjal) This sacrifice has to be done on the mount olive joining the temple via Kidor valley.
As soon as this happens Al Aqsa will be demolished and Mehdi will appear consequentially
The place of the sacrifice has been chosen and the heifer (spotless, pure, virgin) have been transported from Texas to Israel.
تعارف سورۃالبقرہ پارٹ: 2
تفہیم القرآن
مفسر: مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی
تعارف: سورۃ نمبر 2 البقرة
شان نزول
اس سورة کے سمجھنے کے لیے پہلے اس کا تاریخی پس منظر اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے : (١) ہجرت سے قبل جب تک مکہ میں اسلام کی دعوت دی جاتی رہی، خطاب بیشتر مشرکین عرب سے تھا جن کے لیے اسلام کی آواز ایک نئی اور غیر مانوس آواز تھی۔ اب ہجرت کے بعد سابقہ یہودیوں سے پیش آیا جن کی بستیاں مدینہ سے بالکل متصل ہی واقع تھیں۔ یہ لوگ توحید، رسالت، وحی، آخرت اور ملائکہ کے قائل تھے، اس ضابطہء شرعی کو تسلیم کرتے تھے جو خدا کی طرف سے ان کے نبی موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا، اور اصولاً ان کا دین وہی اسلام تھا جس کی تعلیم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلّم دے رہے تھے۔ لیکن صدیوں کے مسلسل انحطاط نے ان کو اصل دین سے بہت دور ہٹا *1* دیا تھا۔ ان کے عقائد میں بہت سے غیر اسلامی عناصر کی آمیزش ہوگئی تھی جن کے لیے توراۃ میں کوئی سَنَد موجود نہ تھی۔ ان کی عملی زندگی میں بکثرت ایسے رسوم اور طریقے رواج پاگئے تھے جو اصل دین میں نہ تھے اور جن کے لیے توراۃ میں کوئی ثبوت نہ تھا۔ خود توراۃ کو انہوں نے انسانی کلام کے اندر خلط ملط کردیا تھا، اور خدا کا کلام جس حد تک لفظاً یا معنیً محفوظ تھا اس کو بھی انہوں نے اپنی من مانی تاویلوں اور تفسیروں سے مسخ کر رکھا تھا۔ دین کی حقیقی روح ان میں سے نکل چکی تھی اور ظاہری مذہبیت کا محض ایک بےجان ڈھانچہ باقی تھا جس کو وہ سینہ سے لگائے ہوئے تھے۔ ان کے علماء اور مشائخ، ان کے سرداران قوم اور ان کے عوام، سب کی اعتقادی، اخلاقی اور عملی حالت بگڑ گئی تھی، اور اپنے اس بگاڑ سے ان کو ایسی محبت تھی کہ وہ کسی اصلاح کو قبول کرنے پر تیار نہ ہوتے تھے۔ صدیوں سے مسلسل ایسا ہو رہا تھا کہ جب کوئی اللہ کا بندہ انہیں دین کا سیدھا راستہ بتانے آتا تو وہ اسے اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے اور ہر ممکن طریقہ سے کوشش کرتے تھے کہ وہ کسی طرح اصلاح میں کامیاب نہ ہو سکے۔ یہ لوگ حقیقت میں بگڑے ہوئے مسلمان تھے جن کے ہاں بدعتوں اور تحریفوں، موشگافیوں اور فرقہ بندیوں، استخواں گیری و مغز افگنی، خدا فراموشی و دنیا پرستی کی بدولت انحطاط اس حد کو پہنچ چکا تھا کہ وہ اپنا اصل نام ” مسلم “ تک بھول گئے تھے، محض ” یہُودی “ بن کر رہ گئے تھے اور اللہ کے دین کو انہوں نے محض نسل اسرائیل کی آبائی وراثت بنا کر رکھ دیا تھا۔ پس جب نبی ﷺ مدینہ پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ ان کو اصل دین کی طرف دعوت دیں، چناچہ سورة بقرہ کے ابتدائی پندرہ سولہ رکوع اسی دعوت پر مشتمل ہیں۔ ان میں یہودیوں کی تاریخ اور ان کی اخلاقی و مذہبی حالت پر جس طرح تنقید کی گئی ہے، اور جس طرح ان کے بگڑے ہوئے مذہب و اخلاق کی نمایاں خصوصیّات کے مقابلہ میں حقیقی دین کے اصول پہلو بہ پہلو پیش کیے گئے ہیں، اس سے یہ بات بالکل آئینے کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ایک پیغمبر کی اُمّت کے بگاڑ کی نوعیت کیا ہوتی ہے، رسمی دینداری کے مقابلہ میں حقیقی دینداری کس چیز کا نام ہے، دین حق کے بنیادی اصول کیا ہیں اور خدا کی نگاہ میں اصل اہمیّت کِن چیزوں کی ہے۔ (٢) مدینہ پہنچ کر اسلامی دعوت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی تھی۔ مکہ میں تو معاملہ صرف اُصُول دین کی تبلیغ اور دین قبول کرنے والوں کی اخلاقی تربیت تک محدود تھا، مگر جب ہجرت کے بعد عرب کے مختلف قبائل کے وہ سب لوگ جو اسلام قبول کرچکے تھے، ہر طرف سے سمٹ کر ایک جگہ جمع ہونے لگے اور انصار کی مدد سے ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست کی بنیاد پڑگئی تو اللہ تعالیٰ نے تمدّن، معاشرت، معیشت، قانون اور سیاست کے متعلق بھی اُصُولی ہدایات دینی شروع کیں اور یہ بتایا کہ اسلام کی اساس پر یہ نیا نظام زندگی کس طرح تعمیر کیا جائے۔ اس سورة کے آخری ٢٣ رکوع زیادہ تر انہی ہدایات پر مشتمل ہیں، جن میں سے اکثر ابتدا ہی میں بھیج دی گئی تھیں اور بعض متفرق طور پر حسب ضرورت بعد میں بھیجی جاتی رہیں۔ (٣) ہجرت کے بعد اسلام اور کفر کی کشمکش بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی تھی۔ ہجرت سے پہلے اسلام کی دعوت خود کفر کے گھر میں دی جا رہی تھی اور متفرق قبائل سے جو لوگ اسلام قبول کرتے تھے وہ اپنی اپنی جگہ رہ کر ہی دین کی تبلیغ کرتے اور جواب میں مصائب اور مظالم کے تختہء مشق بنتے تھے۔ مگر ہجرت کے بعد جب یہ منتشر مسلمان مدینہ میں جمع ہو کر ایک جتھا بن گئے اور انہوں نے ایک چھوٹی سی آزاد ریاست قائم کرلی تو صورت حال یہ ہوگئی کہ ایک طرف ایک چھوٹی سی بستی تھی اور دوسری طرف تمام عرب اس کا استیصال کردینے پر تلا ہوا تھا۔ اب اس مٹھی بھر جماعت کی کامیابی کا ہی نہیں بلکہ اس کے وجود و بقا کا انحصار بھی اس بات پر تھا کہ اوّلاً وہ پورے جوش و خروش کے ساتھ اپنے مسلک کی تبلیغ کر کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنا ہم عقیدہ بنانے کی کوشش کرے۔ ثانیاً وہ مخالفین کا برسر باطل ہونا اس طرح ثابت و مبرہن کر دے کہ کسی ذی عقل انسان کو اس میں شبہہ نہ رہے۔ ثالثًا بےخان و ماں ہونے اور تمام ملک کی عداوت و مزاحمت سے دوچار ہونے کی بنا پر فقر و فاقہ اور ہمہ وقت بےامنی و بےاطمینانی کی جو حالت ان پر طاری ہوگئی تھی اور جن خطرات میں وہ چاروں طرف سے گھر گئے تھے، ان میں وہ ہراساں نہ ہوں، بلکہ پورے صبر وثبات کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کریں اور اپنے عزم میں ذرا تزلزل نہ آنے دیں۔ رابعاً وہ پوری دلیری کے ساتھ ہر اس مسلّح مزاحمت کا مسلّح مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوجائیں جو ان کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے کسی طاقت کی طرف سے کی جائے، اور اس بات کی ذرا پروا نہ کریں کہ مخالفین کی تعداد اور ان کی مادّی طاقت کتنی زیادہ ہے۔ خامسًا ان میں اتنی ہمّت پیدا کی جائے کہ اگر عرب کے لوگ اس نئے نظام کو، جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے، فہمائش سے قبول نہ کریں، تو انہیں جاہلیّت کے فاسد نظام زندگی کو بزور مٹا دینے میں بھی تامل نہ ہو۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں ان پانچوں امور کے متعلق ابتدائی ہدایات دی ہیں۔ (٤) دعوت اسلامی کے اس مرحلہ میں ایک نیا عنصر بھی ظاہر ہونا شروع ہوگیا تھا، اور یہ منافقین کا عنصر تھا۔ اگرچہ نفاق کے ابتدائی آثار مکہ کے آخری زمانہ میں بھی نمایاں ہونے لگے تھے، مگر وہاں صرف اس قسم کے منافق پائے جاتے تھے جو اسلام کے برحق ہونے کے تو معترف تھے اور ایمان کا اقرار بھی کرتے تھے لیکن اس کے لیے تیار نہ تھے کہ اس حق کی خاطر اپنے مفاد کی قربانی اور اپنے دنیوی تعلقات کا انقطاع اور ان مصائب و شدائد کو بھی برداشت کرلیں جو اس مسلک حق کو قبول کرنے کے ساتھ ہی نازل ہونے شروع ہوجاتے تھے۔ مدینہ پہنچ کر اس قسم کے منافقین کے علاوہ چند اور قسموں کے منافق بھی اسلامی جماعت میں پائے جانے لگے۔ ایک قسم کے منافق وہ تھے جو قطعاً اسلام کے منکر تھے اور محض فتنہ برپا کرنے کے لیے جماعت مسلمین میں داخل ہوجاتے تھے۔ دوسری قسم کے منافق وہ تھے جو اسلامی جماعت کے دائرۂ اقتدار میں گھر جانے کی وجہ سے اپنا مفاد اسی میں دیکھتے تھے کہ ایک طرف مسلمانوں میں بھی اپنا شمار کرائیں اور دوسری طرف مخالفین اسلام سے بھی ربط رکھیں تاکہ دونوں طرف کے فوائد سے متمتع ہوں اور دونوں طرف کے خطرات سے محفوظ رہیں۔ تیسری قسم ان لوگوں کی تھی جو اسلام اور جاہلیّت کے درمیان متردّد تھے۔ انہیں اسلام کے برحق ہونے پر کامل اطمینان نہ تھا۔ مگر چونکہ ان کے قبیلے یا خاندان کے بیشتر لوگ مسلمان ہوچکے تھے اس لیے یہ بھی مسلمان ہوگئے تھے۔ چوتھی قسم میں وہ لوگ شامل تھے جو امر حق ہونے کی حیثیت سے تو اسلام کے قائل ہوچکے تھے مگر جاہلیّت کے طریقے اور اوہام اور رسمیں چھوڑنے اور اخلاقی پابندیاں قبول کرنے اور فرائض اور ذمہ داریوں کا بار اٹھانے سے ان کا نفس انکار کرتا تھا۔ سُورۃ بقرہ کے نزول کے وقت ان مختلف اقسام کے منافقین کے ظہور کی محض ابتدا تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف صرف اجمالی اشارات فرمائے تھے۔ بعد میں جتنی جتنی ان کی صفات اور حرکات نمایاں ہوتی گئیں اسی قدر تفصیل کے ساتھ بعد کی سورتوں میں ہر قسم کے منافقین کے متعلق ان کی نوعیت کے لحاظ سے الگ الگ ہدایات بھیجی گئیں۔
طالب دعا
#عمراعوان
24/03/2024
آپ نے آسمان پر ہوائی جہاز کو اڑتے دیکھا ہوگا، جو اپنے پیچھے ایک سفید لکیر چھوڑ دیتا ہے۔ ان لکیروں کو "کونٹریلز" (contrails) کہا جاتا ہے۔ دراصل جب کسی انجن میں کسی قسم کا ایندھن جلتا ہے تو دو چیزیں فاسد مادوں کی صورت میں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک کاربن ڈائی آکسائڈ اور دوسرے پانی کے بخارات۔
جہاز کے انجن میں بھی یہ پانی کے بخارات اور کاربن ڈائی آکسائڈ پیدا ہوتی ہیں جو جہاز اپنے انجن سے باہر خارج کردیتا ہے۔ جہاز جس بلندی پر اڑتا ہے وہاں فضا کافی ٹھنڈی ہوتی ہے، اس ٹھنڈ کی وجہ سے یہ پانی کے بخارات ایک طرح سے جم جاتے ہیں (condense) اور ان کے جمنے سے وہ سفید لکیریں جہاز کے پیچھے نظر آتی ہیں۔
یہ لکیریں شاید دیکھنے میں اچھی لگیں لیکن ان کی وجہ سے گلوبل وارمنگ بڑھتی ہے۔ گلوبل وارمنگ کیا ہوتی ہے ؟ اصل میں سورج سے ہماری زمین کی طرف لہروں کی صورت میں گرمی آتی ہے، جو زمین کو گرم کرتی ہیں، لیکن ان لہروں کا ایک حصہ زمین سے ٹکرا کر واپس خلا میں بھی پھیل جاتا ہے۔ مگر کچھ گیسوں اور فضائی آلودگی کی وجہ سے زمین کی اوپری فضا میں آلودہ گیسوں کی ایک تہہ بن جاتی ہے جو زمین سے ٹکرا کر جانے والی لہروں کو واپس نہیں جانے دیتی اور اس طرح یہ لہریں زمین پر قید ہوجاتی ہیں اور زمین کا درجہ حرارت بڑھتا ہے۔ اس عمل کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے اس درجہ حرارت کے بڑھنے سے مختلف مسائل آتے ہیں جیسے گلیشیرز کا پگھلنا، سیلاب اور موسمی آفات وغیرہ۔
ان لکیروں میں موجود جمے والے پانی کے بخارات بھی گلوبل وارمنگ کی وجہ بننے والی اس تہہ کا حصہ بن جاتے ہیں اور اس طرح یہ بھی گلوبل وارمنگ کی ایک وجہ ہیں۔ بلکہ گلوبل وارمنگ کے حوالے سے یہ کاربن ڈائی آکسائڈ سے تقریباً چار گنا زیادہ خطرناک ہیں۔ اس وقت یہ ایویشن کی آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
جہازوں سے کاربن ڈائی آکسائڈ کا خروج کم کرنے کے لیے تو مختلف طریقے اپنائے گئے۔ مگر ان بخارات کے "کونٹریلز" کے لیے کوئی کامیاب عملی طریقہ سامنے نہیں آیا۔
مگر پھر پاکستان کی خاتون "ایروناٹیکل انجینئر" ڈاکٹر سارہ قریشی" نے ایسا انجن بنایا جو نہ صرف ان پانی کے بخارات کو باہر جاکر کونٹریلز بنانے سے روکے گا اور اسے اندر میں ہی محفوظ رکھے گا بلکہ ان محفوظ شدہ پانی کے بخارات کو بارش برسانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے گا۔ یعنی ایک تیر سے دو شکار۔
مجھے ڈاکٹر سارہ قریشی کے کارنامے کے بارے میں ایک مہینہ پہلے پتہ لگا (ایک امتحان میں انکے حوالے سے سوال دیکھ کر)۔ سارہ قریشی کی اس کامیابی کا کریڈٹ ان کے والد کو بھی جاتا ہے، جو خود ایک فزسٹ ہیں اور دونوں باپ بیٹی (تصویر میں) نے مل کر ایک کمپنی بھی بنا لی ہے جس سے وہ اپنی ایجاد کو دنیا میں پہنچا رہے ہیں۔
ڈاکٹر سارہ کو 22 سے زیادہ ایوارڈز مل چکے ہیں۔ مگر شاید ان کی کامیابی اتنی مشہور نہ ہو۔ جبکہ آج 23 مارچ کو ایک ادکارہ کو "تمغہ امتیاز"ملا ہے۔ اس کے لاکھوں فالورز ہیں۔ مجھے اس اداکارہ سے بھی مسلہ نہیں۔ لیکن میرے خیال میں ڈاکٹر سارہ قریشی جیسی خواتین ہمارے ملک کی خواتین کی قابلیت کی زیادہ اچھی عکاسی کرتی ہیں۔۔۔
طالب دعا
#عمراعوان
تعارف سورۃالبقرۃ: پارٹ 1
تفہیم القرآن
مفسر: مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی
تعارف: سورۃ نمبر 2 البقرة
نام اور وجہ تسمیہ
اس سورة کا نام ” بقرۃ “ اس لیے ہے کہ اس میں ایک جگہ گائے کا ذکر آیا ہے۔ قرآن کی ہر سورة میں اس قدر وسیع مضامین بیان ہوئے ہیں کہ ان کے لیے مضمون کے لحاظ سے جامع عنوانات تجویز نہیں کیے جاسکتے۔ عربی زبان اگرچہ اپنی لغت کے اعتبار سے نہایت مالدار ہے، مگر بہر حال ہے تو انسانی زبان ہی۔ انسان جو زبانیں بھی بولتا ہے وہ اس قدر تنگ اور محدود ہیں کہ وہ ایسے الفاظ یا فقرے فراہم نہیں کرسکتیں جو ان وسیع مضامین کے لیے جامع عنوان بن سکتے ہوں۔ اس لیے نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی رہنمائی سے قرآن کی بیشتر سورتوں کے لیے عنوانات کے بجائے نام تجویز فرمائے جو محض علامت کا کام دیتے ہیں۔ اس سورة کو بقرہ کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس میں گائے کے مسئلے پر بحث کی گئی ہے بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ” وہ سورة جس میں گائے کا ذکر آیا ہے۔
زمانہ ٴنزول
اس سورة کا بیشتر حصّہ ہجرت مدینہ کے بعد مدنی زندگی کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوا ہے، اور کمتر حصّہ ایسا ہے جو بعد میں نازل ہوا اور مناسبت مضمون کے لحاظ سے اس میں شامل کردیا گیا۔ حتیٰ کہ سود کی ممانعت کے سلسلہ میں جو آیات نازل ہوئی ہیں وہ بھی اس میں شامل ہیں حالانکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کی زندگی کے بالکل آخری زمانہ میں اتری تھیں۔ سُورۃ کا خاتمہ جن آیات پر ہوا ہے وہ ہجرت سے پہلے مکہ میں نازل ہوچکی تھیں مگر مضمون کی مناسبت سے ان کو بھی اسی سورة میں ضم کردیا گیا ہے۔
21/03/2024
مرتد / Apostate
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے!
************
میں رِیلس بہت دیکھتا ہوں، ہر قسم کی ریلس ۔۔۔۔۔ آج کل رمضان ہے تو زیادہ اتفاق اسلامی اور بالخصوص میرے پسندیدہ موضوع “نومسلمین” کی ویڈیوز دیکھنے کا ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔۔ رات Joram Jaron Van Klaveren کی ایک بڑی ایموشنل ریل نظر سے گزری۔ ویڈیو دیکھتے ہی مجھے خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا واقعہ یاد آگیا کہ کس طرح نبی اکرم علیہ السلام کا سر قلم کرنے کی نیت سے ننگی تلوار لیکر نکلنے والا شخص بہن بہنوئ کے گھر پہونچتے ہی مشرف با اسلام ہوگیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔ آپ میں سے ممکن ہے کچھ لوگ انہیں جانتے بھی ہوں، پھر بھی آپ تک کچھ پہونچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ۔۔۔۔۔پڑھیں👇
Joram Klaveren نیدرلینڈ کے ایمسٹرڈم میں ۱۹۷۹ میں پیدا ہوئے۔ اسکول کے بعد اعلی تعلیم عیسائ مذھب کے حوالے سے حاصل کی اور تعلیم کے بعد ابتدائ کچھ سال تدریس و تعلیم سے ہی وابستہ رہے۔ پھر سیاست جوائن کرلی، 2006-2009 تک میونسپل کونسل کے ممبر اور 2010-2014 تک Party For Freedom سے ممبر آف پارلیمنٹ رہے۔ 2014 میں کچھ اختلافات کے چلتے یہ پارٹی سے الگ ہوگئے اور اپنی ایک پارٹی بناکر 2017 تک ایک آزاد ڈَچ ممبر آف پارلیمنٹ لوور ہاؤس کے رہے۔
انکے اس پورے پولیٹکل کیرئر میں جو ایک خاص بات رہی وہ اینکہ یہ بھی ہمارے ساکچھی مہاراج اور سادھوی پرگیہ کی طرح مسلمانوں کے خلاف آئے دن زہر اگلنے کے لئے بڑے مشہور رہے۔ مسلمانوں سے نفرت کا یہ عالم تھا کہ نیدرلینڈ میں موجود مراقشی مسلمانوں کے ہمیشہ کھلے دشمن بنے رہے۔ اسلاموفوبیا پھیلانے کے لئے مشہور اپنی پارٹی کے Geert Wilders کا یہ دایاں ہاتھ مانے جاتے تھے۔ یہ وہی گیرٹ ولڈرس ہے جس کے اسلاموفوبیا کا عالم یہ تھا کہ ایک بار اس نے سعودی جھنڈے سے “لا إله إلا الله محمد رسول الله" کو ہٹا کر “Islam is Lie, Prophet is Criminal, Koran is Poison” لکھوادیا تھا ۔ ۔۔۔۔۔ دراصل چند سالوں قبل نیدرلینڈ میں Islam is a lie”, “Qur’an is Poison”, اور “Ban Hijab in Netherlands” جیسے نفرتی جملے انہیں دونوں کی دین رہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔ ایک تو مذھبی تعلیم، پھر سیاست داں، اوپر سے مسلم دشمنی، یہ ایسا امتزاج تھا کہ نیم چڑھے کریلے سے بھی زیادہ کڑوا ہوگیا تھا۔ 2017 کے الیکشن میں جب انکی پارٹی کو ایک بھی سیٹ نہ مل سکی تو سیاست سے نکل کر کریسچین رائٹ ونگ کے ایک مشہور ریڈیو چینل EO - Evangelical Broadcasting میں “Dit is de Dag” نامی شو پر بطور کمنٹیٹر کام شروع کردیا، جہاں عیسائیت کو پروموٹ کرنے کے ساتھ اسلاموفوبیا پھیلانا ان کا بنیادی ھدف تھا۔ بات یہاں تک جا پہونچی کہ انہوں نے ایک اسلام مخالف کتاب لکھنی شروع کردی۔ ۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں کہ سخت پتھروں کی بھی ایک وہ قسم ہوتی ہے جس سے چشمے پھوٹتے ہیں۔ یہ خود کہتے ہیں کہ اسلام مخالف کتاب لکھنے کے دوران ایک دن بہت ساری کتابوں کو ترتیب دے رہا تھا کہ الماری سے قرآن زمین پر آگرا (جسے میں نے اسلام مخالف چیزوں کی تلاش کے مقصد سے جمع کر رکھا تھا)۔ جب میں نے غصے میں قرآن دوبارہ اس کی جگہ رکھنے کے لئے اٹھایا تو میرے ہاتھ میں جو صفحہ کھلا تھا اس پر نظر گئ تو میرا تثلیث یعنی Trinity کا نظریہ سوالوں کے گھیرے میں آگیا، جو پہلے بھی مجھے کچھ زیادہ اطمینان بخش نہ لگتا تھا۔
اب انہوں نے عیسائیت و اسلام پر تقابلی ریسرچ شروع کیا تاکہ اپنی اسلام مخالف کتاب کو زیادہ با اثر بنا سکیں اور عیسائیت کو اسلام سے بہتر ثابت کرسکیں۔ کہتے ہیں کہ اس دوران میں نے مسلم و غیر مسلم سیکڑوں دانشوروں کو مواد کی فراہمی اور درپیش اپنے شبہات کے ازالے کے لئے ای میلز لکھنا شروع کیا۔ اسی دوران انہوں نے پروفیسر عبدالحکیم مراد (جوکہ کیمبریج یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور اسلام لانے سے پہلے Trimothy Winter تھے) کو بھی لکھا۔ جواب میں مراد صاحب نے نہ صرف تفصیلی باتیں لکھیں بلکہ مشورہ دیا کہ خواہ اسلام ہو یا عیسائیت، اگر تمہیں واقعی پڑھنا اور سمجھنا ہے تو ان لوگوں کی کتابیں پڑھو جن کا ان مذاھب سے تعلق نہ ہو۔ ۔۔۔۔۔ جورام کا کہنا ہے کہ میں جوں جوں پڑھتا گیا اور پروفیسر مراد صاحب سے بات چیت ہوتی گئ میرا ذہن تثلیث سے ہٹ کر توحید کے تصور کو قبول کرنے پر آمادہ ہوگیا۔ میں نے اور کئ ہفتوں تک ڈھیر ساری کتابیں پڑھی اور اس نتیجے پر پہونچا کہ اکتوبر ۲۰۱۸ میں میں نے اسلام قبول کرلیا اور اسلام مخالف کتاب پر میں جو بھی کام کرچکا تھا اسے کوڑے دان میں ڈال کر اسلام پر ہورہے اعتراضات کا جواب لکھنا شروع کردیا ۔۔۔۔۔۔ اور آخر جورام کلاویرن نے ایک خوبصورت کتاب APOSTATE: From Christianity to Islam in Times of Secularisation and Terror” لکھ بھی دی۔ یہ کتاب امیزون پر فرینچ اور انگریزی دونوں زبانوں میں موجود ہے۔۔۔۔۔۔ آپ بھی اسے پڑھ اور جان سکتے ہیں کہ کعبے کو صنم خانے سے پاسباں کیسے ملتے ہیں۔
دعاؤں کا طلبگار
تفہیم القرآن
مفسر: مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی
تعارف: سورۃ نمبر 1 الفاتحة
نام
اس کا نام " الفاتحہ " اس کے مضمون کی مناسبت سے ہے۔ " فاتحہ " اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کسی مضمون یا کتاب یا کسی شے کا افتتاح ہو۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھیے کہ یہ نام " دیباچہ " اور آغاز کلام کے ہم معنی ہے۔
زمانہ ٴنزول
یہ نبوت محمدی ﷺ کے بالکل ابتدائی زمانہ کی سورت ہے۔ بلکہ معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلی مکمل سورت جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی وہ یہی ہے۔ اس سے پہلے صرف متفرق آیات نازل ہوئی تھیں جو سورة علق، سورة مزمل، اور سورة مدثر وغیرہ میں شامل ہیں۔
مضمون
دراصل یہ سورة ایک دعا ہے جو خدا نے ہر اس انسان کو سکھائی ہے جو اس کتاب کا مطالعہ شروع کر رہا ہو۔ کتاب کی ابتدا میں اس کو رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم واقعی اس ٢٢٢ کتاب سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو پہلے خداوند عالم سے یہ دعا کرو۔ انسان فطرةً دعا اسی چیز کی کیا کرتا ہے جس کی طلب اور خواہش اس کے دل میں ہوتی ہے، اور اسی صورت میں کرتا ہے جبکہ اسے یہ احساس ہو کہ اس کی مطلوب چیز اس ہستی کے اختیار میں ہے جس سے وہ دعا کر رہا ہے۔ پس قرآن کی ابتدا میں اس دعا کی تعلیم دے کر گویا انسان کو یہ تلقین کی گئی ہے کہ وہ اس کتاب کو راہ راست کی جستجو کے لیے پڑھے، طالب حق کی سی ذہنیت لے کر پڑھے، اور یہ جان لے کہ علم کا سرچشمہ خداوند عالم ہے، اس لیے اسی سے راہنمائی کی درخواست کرکے پڑھنے کا آغاز کرے۔ اس مضمون کو سمجھ لینے کے بعد یہ بات خود واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن اور سورة فاتحہ کے درمیان حقیقی تعلق کتاب اور اس کے مقدمے کا سا نہیں بلکہ دعا اور جواب دعا کا سا ہے۔ سورة فاتحہ ایک دعا ہے بندے کی جانب سے، اور قرآن اس کا جواب ہے خدا کی جانب سے۔ بندہ دعا کرتا ہے کہ اے پروردگار ! میری رہنمائی کر۔ جواب میں پروردگار پورا قرآن اس کے سامنے رکھ دیتا ہے کہ یہ ہے وہ ہدایت و رہنمائی جس کی درخواست تو نے مجھ سے کی ہے۔
تفہیم القرآن
مفسر: مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی
سورۃ نمبر 1 الفاتحة
آیت نمبر 7
ترجمہ:
ان لوگوں کاراستہ جن پر تو نے انعام فرمایا 9 ، جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں 10 ؏
تفسیر:
سورة الْفَاتِحَة 9
یہ اس سیدھے راستہ کی تعریف ہے جس کا علم ہم اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے ہیں۔ یعنی وہ راستہ جس پر ہمیشہ سے تیرے منظور نظر لوگ چلتے رہے ہیں۔ وہ بےخطا راستہ کہ قدیم ترین زمانہ سے آج تک جو شخص اور جو گروہ بھی اس پر چلا وہ تیرے انعامات کا مستحق ہوا اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر رہا۔
سورة الْفَاتِحَة 10
یعنی " انعام " پانے والوں سے ہماری مراد وہ لوگ نہیں ہیں جو بظاہر عارضی طور پر تیری دنیوی نعمتوں سے سرفراز تو ہوتے ہیں مگر دراصل وہ تیرے غضب کے مستحق ہوا کرتے ہیں اور اپنی سعادت کی راہ گم کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس سلبی تشریح سے یہ بات خود کھل جاتی ہے کہ " انعام " سے ہماری مراد حقیقی اور پائیدار انعامات ہیں جو راست روی اور خدا کی خوشنودی کے نتیجے میں ملا کرتے ہیں، نہ کہ وہ عارضی اور نمائشی انعامات جو پہلے بھی فرعونوں اور نمرودوں اور قارونوں کو ملتے رہے ہیں اور آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے بڑے بڑے ظالموں اور بدکاروں اور گمراہوں کو ملے ہوئے ہیں۔
طالب دعا
#عمراعوان
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Mansehra