جامع مسجد ابو القاسم چٹہ بٹہ مانسہرہ
Online Quran Academy.
قرآن
مدرسہ خلفائے راشدین بالاکوٹ عظمت قرآن کانفرنس ۔
حافظ محمد سفیان
08/01/2025
یہ دو بچے کل رات مدرسے سے کہیں چلے گئے ہیں عتیق اور توصیف والد کا نام بابر عزیز رہاش چٹہ بٹہ ھے اگر کسی کو ان کے بارے معلومات ھوں تو برائے مہربانی اس نمبر پر رابطہ کریں 03428900060 بابر عزیز
03445636059امجد نور۔۔۔ عبدالماجد حیدری رہنما اہلسنت والجماعت وادی کاغان ۔۔03208273806
25/09/2024
■ قرآن پاک میں چار (4) مساجد کا ذکر ہے :
● مسجد الحرام،
● مسجد اقصی،
● مسجد قباء،
● مسجد ضرار۔
■ قرآن پاک میں چھ (6) شہروں کے نام ہیں :
● مکہ،
● مدینہ،
● مصر،
● حنین،
● بابل،
● ایکہ۔
■ قرآن پاک میں چار (4) پہاڑوں کے نام ہیں :
● طور،
● مصری،
● صفا،
● مروہ۔
قرآن پاک میں چار (4) دھاتوں کے نام ہیں :
● سونا،
● چاندی،
● لوہا،
● تانبا۔
■ قرآن پاک میں تین (3) سبزیوں کے نام ہیں :
● پیاز،
● لہسن،
● ککڑی۔
■ قرآن پاک میں تین (3) درختوں کے نام ہیں :
● کھجور،
● زیتون،
● بیری۔
■ قرآن پاک میں چھ (6) پھلوں کے نام ہیں :
● انجیر،
● زیتون،
● انار،
● کیلا،
● ترکھجور،
● انگور۔
■ قرآن پاک میں پانچ (5) پرندوں کے نام ہیں :
● ابابیل،
● ہدہد،
● کوا،
● تیتر،
● ٹڈی۔
■ قرآن پاک میں دس (10) حشرات الارض کے نام ہیں :
● چیونٹی،
● مکھی،
● مچھر،
● ککڑا،
● شہد کی مکھی،
● پروانہ،
● جوں،
● مینڈک،
●سانپ،
● اژدھا۔
■ قرآن پاک میں تیراں (13) جانوروں کے نام ہیں :
● ہاتھی،
● اونٹ،
● گائے،
● دنبہ،
● بکری،
● بھیڑیا،
● گھوڑا،
● گدھا،
● خبر،
● بندر،
● خنزیر،
● کتا،
● مچھلی۔
■ قرآن پاک میں پچیس (25) انبیاء علیہم السلام کے نام ہیں :
● آدم (أبو البشرية)،
● إدريس (اخنوخ)،
● نوح (شيخ المرسلين)،
● هود (عابر)،
● صالح علية السلام،
● لوط عليه السلام،
● إبراهيم (أبو الانبياء)،
● إسماعيل (الذبيح)،
● إسحاق عليه السلام،
● يعقوب (إسرائيل)،
● يوسف (الصديق)،
● شعيب عليه السلام،
● أيوب (الصابر)،
● ذو الكفل (بشر)،
● يونس عليه السلام،
● موسى بن عمران (كليم الله)،
● هارون عليه السلام،
● إلياس عليه السلام،
● اليسع عليه السلام،
● داود عليه السلام،
● سليمان عليه السلام،
● زكريا عليه السلام،
● يحيى عليه السلام،
● عيسى بن مريم عليه السلام،
● محمد بن عبدالله خاتم النبیین سید المرسلین أفضل الصلاة والسلام۔
سیدنا حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہ نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :
“یا رسول اللہ : تمام انسانوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے ؟ “
آپ نے فرمایا : “ عائشہ سے “
انہوں نے پھر عرض کی : “ یا رسول اللہ مَردوں میں سے کس سے ہے ؟ “
آپ نے فرمایا : " عائشہ کے باپ ابوبکر سے “
انہوں نے پھر عرض کی : “ ان کے بعد کس سے ؟ “
آپ نے فرمایا : “ عمر ابن خطاب سے “
(صحیح البخاری : ۳۶۶۲ )
07/12/2023
لوگ آپ کوزیادہ دیر تک برداشت نہیں کریں گےاگر آپ ہمیشہ شکایت کرتے رہیں گےاور اپنی ناراضگی اور غم کا اظہار کرتےرہیں گے.(سٹیفن ہاکنگ)
اصلاحِ باطن کے متعلق جو باتیں قرآن وسنت نے بتائی ہیں، ان کی تفصیلات جاننے کا نام علم التصوف ہے، اس میں انسان کے دل اور نفس کوپاک اور صاف کرکے اس کی اصلاح کی جاتی ہے، تاکہ اللہ کا دھیان اور رضا حاصل ہوجائے۔ اس اصلاح کے دو اجزاء ہیں:
1:-ظاہری اصلاح 2:-باطنی اصلاح
ظاہری اصلاح سے مراد یہ ہے کہ ظاہری اعضاء سے صادر ہونے والے گناہ جیسا کہ جھوٹ، غیبت، چوری، زنا وغیرہ چھوٹ جائیں اور عبادات، معاملات اور معاشرت یعنی زندگی کے ہر شعبے میں اچھی صفات اپناکر مکمل دین پر عمل ہونے لگے۔
باطنی اصلاح سے مراد یہ ہے کہ عقائد درست ہوجائیں، اللہ کی ذات اور صفات پر ایمان مضبوط ہو جائے، دل ونفس کے گناہ اوربری صفات جیسے: حسد، بغض، کینہ، ریا اور تکبر وغیرہ کی اصلاح ہوجائے اور اللہ کی محبت اور اچھی صفات مثلاً: عاجزی، اخلاص، صبر، شکر، توکل، تسلیم و رضا اور خوفِ الٰہی وغیرہ حاصل ہوجائے۔ اکابرینِ اسلاف نے انہی اوصافِ جمیلہ کو اپنانے اور اوصافِ مذمومہ سے دامن بچانے کو ’’علم التصوف‘‘ کا مقصد بتایا ہے۔شاہ اسماعیل شہید ؒ فرماتے ہیں کہ:نفس کو اخلاقِ رذیلہ صفاتِ کمینہ سے خالی اور پاک کرنا،اوصافِ جمیلہ اور فضائل ِ حمیدہ سے مزین کرنا،اور عبادات شرعیہ کا اس طریق پر ادا کرنا جس طرح شارع کا مقصود ہے، یہی تصوف اور ولایت کا حاصل ہے۔(صراط مستقیم،ص:20،ط:کراچی)حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا ؒ فرماتے ہیں کہ:
’’تصوف صرف تصحیحِ نیت کا نام ہے، اس کے سوا کچھ نہیں، جس کی ابتدا’’ إِنَّمَـا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ ‘‘ سے ہوتی ہے اور انتہا’’ اَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَاَنَّك تَرَاہُ ‘‘ہے۔‘‘
(آپ بیتی، جلداول، ص:۵۸، ۵۹، طبع: مکتبہ عمر فاروقؓ، شاہ فیصل کالونی، کراچی)
اکابرین کرام ؒ کی تعریفات سے تقریباً یہی بات ثابت ہوتی ہے، جوتمہید میں نتیجہ کے طور پرعرض کی گئی، لہٰذا تصوف کوئی نئی یا اچھوتی چیز نہیں، بلکہ نفس وقلب کی اصلاح کر کے تمام ظاہری اور باطنی گناہوں کو چھوڑ کراللہ تعالیٰ کو راضی کرنااوراخلاقِ حمیدہ سے متصف ہونے کا نام ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں :
"وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ ." ﴿الأنعام: ١٢٠﴾
ترجمہ: ’’اور ظاہری گناہ اور پوشیدہ گناہ سب چھوڑ دو۔‘‘
صاحبِ تفسیر خازن ؒ اس آیتِ کریمہ کی تشریح میں فرماتے ہیں :
"اَلْمُرَادُ بِظَاہِرِ الْاِثْمِ اَفْعَالُ الْجَوَارِحِ وَبَاطِنَہٗ اَفْعَالُ الْقُلُوْبِ."
ترجمہ:’’ظاہری گناہ سے مراد اعضاء وجوارح کے اعمال اورباطنی گناہ سے مراد دل کے اعمال ہیں۔‘‘
ظاہری اور پوشیدہ گناہ چھوڑنا تصوف کا مقصد ہے۔
اب قاری کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تصوف ہم کس طرح حاصل کریں گے کہ ہمیں یہ مطلوبہ نتائج مل جائیں، تو اس کے لیے بھی شریعت کے واضح اصول موجود ہیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیامیں جتنے بھی دینی ودنیاوی علوم ہیں، ان کے سیکھنے کے لیے استاذ کے سامنے زانوئے تلمذ اختیار کرناضروری ہوتا ہے، دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کا قیام اسی واسطے عمل میں لایاجاتا ہے کہ وہاں پر اساتذہ کرام سے مدارس کی چاردیواری میں دینی ودنیاوی علوم کے متلاشی حضرات علم حاصل کرسکیں، بالکل اسی طرح علمِ تصوف سیکھنے کے لیے بھی شیخ کامل کے پاس جانا ضروری ہوتا ہے۔ شیخ (مرشد) جہاں پر سالکین کی تربیت کرتے ہیں، اس جگہ کو ’’خانقاہ ‘‘ کہا جاتا ہے، خانقاہ میں شیخ کے ساتھ مرید ایک عہد وپیمان کرتا ہے، جس کو تصوف کی اصطلاح میں ’’بیعت‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بیعت ’’بیعتِ توبہ‘‘ کہلاتی ہے۔ مرید جب شیخ کے پاس بیعت کے لیے جاتا ہے تومرید شیخ کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر یہ عہد کرتا ہے کہ میں پچھلے تمام گناہوں سے توبہ تائب ہوتا ہوں اور آئندہ نیکوکاری کی زندگی اختیار کروں گا اور شیخ (مرشد) یہ عہد کرتا ہے کہ مرید کو اللہ تعالیٰ کے احکام اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کے مطابق زندگی گزارنا سکھاؤں گا۔ یہ ایک سنت عمل ہے اورحضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، بخاری شریف میں ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کہ صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت ساتھ تھی، تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ آج کے بعد اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کوشریک نہیں ٹھہراؤگے، چوری نہیں کروگے، بدکاری نہیں کروگے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کروگے، ایک دوسرے پربہتان نہیں لگاؤگے اور کوئی بھی گناہ نہیں کروگے، پس جس نے اس بیعت میں وفا کی، اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے اور جس نے اس میں کوئی کوتاہی کی اور دنیا میں اس کو سزا مل گئی تو یہ اس کا کفارہ ہے اور اگر دنیا میں سزانہ ملی، بلکہ اللہ نے پردہ رکھا تو اس کا معاملہ اللہ پر ہے، چاہے تومعاف کردے اور چاہے تو سزادے، پس ہم نے بیعت کرلی۔‘‘
تصوف میں شیخ و مرشد کی ضرورت بیان کرتے ہوئے ایک بزرگ فرماتے ہیں : : ایک طالب علم کمرۂ امتحان میں بیٹھا پرچہ حل کررہا ہوتا ہے، تو وہ اپنے گمان میں ہر سوال کو ٹھیک ٹھیک حل کرتا ہے (اگر اُسے پتہ ہو کہ میں فلاں غلطی کررہاہوں تووہ کرے ہی کیوں ؟)۔ جب طالب علم کا پرچہ استاذ کے ہاتھ میں آتا ہے تووہ بعض جوابات کو ٹھیک قرار دیتا ہے اور بعض کو غلط، تب طالب علم تسلیم کرتا ہے کہ اس سے غلطی ہوئی ۔اسی طرح سالک بھی اپنے زعم میں تحدیثِ نعمت سمجھ کر کسی بات کا اظہار کرتا ہے، مگر شیخ کامل پہچانتا ہے کہ یہ عُجب کی وجہ سے ہے۔ سالک اپنے خیال میں سخاوت کی وجہ سے مال خرچ کرتا ہے، مگر شیخ بتاتا ہے کہ یہ اسراف ہے۔ پیر ومرشد کے بغیر گمراہی کے گڑھے میں گرنے کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ مرشد کے سائے میں زندگی گزار کر سلوک کا راستہ طے کرے، تاکہ سالک (مرید) اپنی غلطی سے آگاہ رہے اورباطنی امراض سے بچتا رہے۔
اب اگر کسی کے ذہن میں یہ بات آجائے کہ شیخ (مرشد)کیسا ہوناچاہیے، تواس کے لیے ہمارے بزرگوں نے کئی شرائط بیان کی ہیں، حضرت مولانااشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’تسہیل قصد السبیل‘‘ میں شیخ کامل کے لیے چھ شرائط اور چھ نشانیاں لکھی ہوئی ہیں، اس کے علاوہ کچھ بزرگوں نے مزید کچھ نشانیاں بتائی ہیں، جن کا لبِ لباب یہ ہے کہ شیخِ کامل وہ ہوتا ہے جو متبعِ شریعت ہو اور جس کی صحبت میں بیٹھنے سے آپ کے دل میں اللہ کی محبت، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، دین کی محبت، قرآن عظیم الشان کی محبت، اعمالِ صالحہ کی طرف رجوع اور اللہ کی طرف رجوع کا شوق پیدا ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ جس کے پاس گئے ہیں، وہ اللہ والا ہے، شیخِ کامل ہے، اس کی صحبت میں بیٹھ کر اپنی اصلاح کرواسکتے ہیں اور سلوک کا راستہ طے کرسکتے ہیں۔
خلاصۂ مضمون یہ ہے کہ تصوف کا مقصد اللہ کی رضاجوئی ہے، اللہ کی معرفت حاصل کرنا ہے، جوکہ ہر انسان سے مطلوب ہے، بلکہ انسان کی تخلیق ہی اسی واسطے کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے تصوف وسلوک بھی ایک مستندراستہ ہے، جس پر چل کر انسان اپنے منزلِ مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔ اللہ رب العزت ہم سب کو اپنی رضا، اپنی لِقاء اور اپنی یاد والی زندگی نصیب فرمائے۔فقط واللہ اعلم
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Telephone
Website
Address
Mansehra