GUL TV

GUL TV Motivate people to learn and earn

02/09/2026

ذہنی اذیت سے کیسے بچیں؟؟

30/11/2025
18/11/2025

کون کون اس بات سے اتفاق کرتا ہے؟
فلموں میں شادی ہو جائے تو فلم ختم ہو جاتی ہے
اصل زندگی میں شادی ہو جائے تو فلم شروع ہو جاتی ہے

06/11/2024

وہ شخص جس کے درجے بلند ہوں، حسد کو دل میں جگہ نہیں دیتا،
اور جو غصے کو اپنے اوپر حاوی رکھتا ہے، وہ بلند مقام حاصل نہیں کر سکتا۔

سانپ چاہے اپنی کھال میں کتنا ہی نرم کیوں نہ ہو،
لیکن جب کاٹنے پر آئے تو اس کے دانتوں میں زہر ہی ہوتا ہے۔

انسان کبھی اس کو بھی دل سے چاہنے لگتا ہے جس کے پاس دولت نہ ہو،
اور کبھی دل اس شخص سے دور ہو جاتا ہے جس کی مٹھی میں سونا ہو۔

انسان کی اصل قیمت اس کے اصولوں میں ہوتی ہے،
نہ دولت ہمیشہ باقی رہتی ہے اور نہ ہی عہدے اور رتبے۔

جب کم ظرف دولت سے بھر جائے،
تو تکبر سے کہتا ہے، "میں، بس میں ہوں۔"

مگر جس کی اصل میں شرافت ہو، وہ درخت کی شاخ کی مانند ہے،
جتنا بوجھ اٹھاتا ہے، اُتنا ہی عاجزی سے جھک جاتا ہے۔

05/11/2024

زندگی میں شاید سب کچھ برداشت کیا جا سکتا ہے، لیکن غربت کا بوجھ ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کی خودداری اور عزتِ نفس کو کچل دیتی ہے۔ جب آپ کے پاس وسائل نہ ہوں تو دنیا کا رویہ یکسر بدل جاتا ہے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ جیسے آپ کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچتا، آپ کی بات کا وزن کم ہو جاتا ہے، اور لوگ آپ کو اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے آپ میں کوئی کمی ہو۔ شاید غربت ایک ایسا عیب ہے جو ہر خوبی کو چھپا دیتا ہے۔
پیسہ وہ طاقت ہے جو آپ کو صرف معاشرے میں عزت اور مقام ہی نہیں دیتی بلکہ آپ کے دل کو بھی وہ سکون اور اعتماد بخشتی ہے کہ آپ خود کو دوسروں کے سامنے کسی خوف کے بغیر پیش کر سکیں۔ جب آپ کے پاس پیسہ ہوتا ہے تو جیسے آپ کے پاس دوسروں کے طنز اور طعنوں کا جواب بھی آ جاتا ہے۔ ہر حقارت بھری نظر کا جواب، ہر بےعزتی کا حساب، اور ہر تلخ لفظ کا مقابلہ کرنے کی ہمت آ جاتی ہے۔
کبھی کبھی سوچتا ہوں، کیا یہ دنیا واقعی اتنی بےرحم ہے؟ کیا یہ واقعی ضروری ہے کہ انسان کی قدر کا معیار صرف اس کی جیب میں رکھا گیا پیسہ ہو؟ اور پھر ایک حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس دنیا میں زندہ رہنے اور اپنی عزت کو برقرار رکھنے کے لیے پیسہ ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے.

Plz like and share
31/10/2024

Plz like and share

Like and share
30/10/2024

Like and share

14/09/2024

اپوریلی برازیل کا ایک جرنلسٹ تھا. بچپن میں سکول کلاس روم میں استاد نے اس سے پوچھا " ہمارے کتنے گردے ہوتے ہیں" اپوریلی نے سکون سے کہا چار گردے. استاد کا قہقہہ نکل گیا. کلاس روم سے کہا دیکھو ہمارے درمیان ایک گدھا بھی موجود ہے. اگے بیٹھے ایک طالب علم سے کہا جاو گھاس لے کر آو. آج گدھے کو گھاس کھلاتے ہیں.بچہ جب باہر نکلنے لگا تو اپوریلی نے اسے کہا دیکھو گدھے کیلئے گھاس لاتے میرے لئے کافی کا کپ لیتے آنا. استاد یکدم غصے سے بھڑک گیا. کہا نکلو میری کلاس سے ایک تو گردوں کا پتہ نہیں دوسرا مجھے ہی گدھا کہہ رہے ہو. کلاس سے نکلتے نکلتے اپوریلی نے کہا سر آپ نے پوچھا تھا ہمارے کتنے گردے ہوتے ہیں. تو ہم دونوں کے ملا کر چار ہی گردے بنتے ہیں. اگر آپ کو میرا جواب سمجھ نہیں آیا تو پلیز اپنے سوال کو ضرور چیک کر لیں.ایک چیز علم یعنی knowledge ہوتی ہے. ایک سمجھ یعنی understanding ہوتی ہے. ہم میں اکثریت کا مسئلہ علم نہیں یہی understanding ہے. یہی سمجھ کبھی ہم سے بلاوجہ قہقہے لگواتی ہے. کبھی یکدم آپے سے باہر کروا دیتی ہے. کیوں...؟ اس کیوں پر ہم کیونکہ سوچتے کم ہیں. اور یہی کیوں انسان کی understanding بناتی ہے ـ،ـمنقول

Address

Mansehra

Telephone

+923457523513

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GUL TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to GUL TV:

Shortcuts

Share

Category