24/04/2026
بنیاد مضبوط ہو تو عمارت خود بخود بلند ہو جاتی ہے…
کیا ہم اپنی ون کلاس کے بچوں کو واقعی وہ بنیاد دے رہے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں؟
ہمارے انگلش سلیبس میں فونکس (Phonics) پریکٹس کی شدید کمی ہے۔ جیسے ہی بچے ABC سیکھتے ہیں، انہیں فوراً کتاب کے چپٹرز کی طرف لے جایا جاتا ہے، جبکہ درمیان میں ایک نہایت اہم مرحلہ موجود ہے جسے ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ایسی بنیادی کتاب شامل کی جائے جس میں فونکس، CVC ورڈز، سادہ الفاظ، سائیٹ ورڈز اور لفظوں کی بلینڈنگ کو مرحلہ وار آسان سے مشکل کی طرف لے جایا جائے۔ اس طرح بچے آہستہ آہستہ سیکھتے ہوئے اپنی ریڈنگ اسکلز مضبوط بنا سکتے ہیں۔
لیکن موجودہ صورتحال یہ ہے کہ بچوں کو براہِ راست آسان سے مشکل کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے، جس سے ایک بڑا لرننگ گیپ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس گیپ کو ہر استاد بخوبی محسوس کرتا ہے کیونکہ بچوں کو سبق پڑھانا اور سمجھانا مشکل ہو جاتا ہے۔
اوپر سے سلیبس مکمل کرنے کا دباؤ، ٹرمز اور امتحانات—یہ سب مل کر اساتذہ کو مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ مقررہ وقت میں سلیبس مکمل کریں، چاہے بچوں کی بنیاد مضبوط ہو یا نہ ہو۔ اگر استاد خود سے بنیادی مہارتیں سکھانے کی کوشش بھی کرے تو سلیبس پیچھے رہ جاتا ہے۔
نرسری کے بعد کا مرحلہ، خاص طور پر ون کلاس، بچوں کی بنیاد بنانے کے لیے سب سے اہم ہے۔ اس سطح پر فونکس بیسڈ سلیبس کی اشد ضرورت ہے تاکہ بچے پڑھنا اور لکھنا درست طریقے سے سیکھ سکیں۔
اگر ہماری ون کلاس کے بچے ریڈنگ اور رائٹنگ سیکھ جائیں تو پھر آگے کی کلاسوں میں کوئی خاص مسئلہ نہیں رہتا۔ اصل مسئلہ وہی ہوتا ہے جو ون کلاس سے شروع ہوتا ہے اور پھر مسلسل آگے چلتا رہتا ہے۔ بچے مشکل چیزیں سیکھ نہیں پاتے اور اساتذہ بھی بار بار وہی مواد پڑھاتے رہتے ہیں، جس سے سیکھنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔
جب ہم بچوں کو ون کلاس میں ہی آسان اور بنیادی چیزیں سکھا دیں گے تو آگے بڑھنا ان کے لیے آسان ہو جائے گا، اور پھر آگے کی منزلیں ان کے لیے مشکل نہیں رہیں گی۔
14/08/2025
30/04/2024
17/04/2024