Zain ul Hassan Online Quran Academy

Zain ul Hassan Online Quran Academy

Share

Transforming lives through the beauty of Quranic wisdom.Learn and grow with our online Quran academy.

10/05/2026
09/07/2024

‏مسلمانوں کے چاروں خلفاء کے نام "ع" سے شروع ہوتے ہیں، یہ بات کافی لوگوں کے علم میں نہیں ہوگی۔

خلیفہ اول : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ
(ان کی کنیت ابوبکر اور لقب صدیق ہے)
خلیفہ دوم: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
خلیفہ سوم: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ
خلیفہ چہارم: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ

08/07/2024

غسل جنابت کا شرعی (سنت) طریقہ
غسل کرتے وقت سب سے پہلے دل میں نیت کرے کہ میں اللہ تعالی کی رضا کے لیے غسل کرتا ہوں، یا یوں نیت کرے کہ میں پاک ہوکر عبادت کرنے کے لیے غسل کرتا ہوں، پھر دونوں ہاتھ کلائیوں تک تین بار دھوئے، پھر چھوٹا بڑا استنجا کرے یعنی چھوٹی بڑی دونوں شرم گاہ کو دھوئےاگرچہ ان پر کوئی نجاست نہیں لگی ہو، اور اگر نجاست لگی ہو تو اس نجاست کو بھی دھوئے، پھر اگر جسم پر کہیں اور کوئی نجاست جیسے منی وغیرہ لگی ہو تو اس کو پاک کردے، پھر مکمل وضو کرے، وضو اسی طریقے پر کرے جس طرح نماز کے لیے کیا جاتا ہے اور اس میں وضو کے فرائض، سنتوں اور آداب کی رعایت کرے، پھر پورے جسم پر تین بار اچھی طرح پانی بہائے کہ جسم کی کوئی جگہ خشک نہ رہے، جسم پر پانی بہاتے ہوئے ہاتھ سے جسم کو ملتا بھی رہے۔ جسم پر پانی ڈالنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ پہلے تین بار سر پر پانی ڈالے، پھر تین بار دائیں کندھے پر، پھر تین بار بائیں کندھے پر، پھر اسی طرح تین بار باقی جسم پر پانی بہائے، لیکن اگر کوئی شخص اس ترتیب کا لحاظ کیےبغیر ہی پورے جسم پر تین بارپانی بہادے تب بھی جائز ہے۔

غسلِ جنابت کے فرائض:
1:ایک باراچھی طرح کلی کرنا ۔
2:ایک بار اچھی طرح ناک میں پانی ڈالنا کہ نرم حصے تک پانی پہنچ جائے۔
3:ایک بار پورے جسم پر اچھی طرح پانی بہانا کہ ذرہ برابر بھی کوئی جگہ خشک نہ رہے۔

08/07/2024

بچے، قرآن اور ہماری ذمہ داری!

بچے اورقرآن، ان دونوں کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے، یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ دنیا میں قرآن کے ماہرین بچپن ہی سے قرآن سے جڑے ہوئے تھے۔ جن بچوں کو ان کے والدین نے چھوٹی عمر میں قرآن سے جوڑا، ان بچوں کا قرآن سے تعلق ساری زندگی مضبوط رہا۔ یہاں میں اس بات کی وضاحت بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ بچپن سے قرآن کے ساتھ جوڑنے سے مراد یہ نہیں جو ہمارے معاشرے میں ہوتا ہے، یعنی بچے کو سکول سے واپس لاکر آدھے گھنٹے کے لیے مسجد کے قاری صاحب کے حوالے کردینا، جب کہ وہ بچہ انتہائی تھکاوٹ کا شکارہوتا ہے، اور پھر والدین نے بھی ساری ذمہ داری قاری صاحب پرڈال رکھی ہوتی ہے، سالوں گزر جاتے ہیں اور والدین کبھی قاری صاحب سے ملاقات تک نہیں کرتے۔ اگر چہ موجودہ دور میں الحمدللہ! حفظِ قرآن کا رجحان زیادہ ہوا ہے، لیکن پھر بھی عموماً یہی ہوتا ہے کہ لوگ اپنے کسی ایک بچے کو حفظ کروا کر دس افراد کی بخشش کے پروانے پر خود ہی دستخط کرکے بیٹھ جاتے ہیں، یعنی اب جو بھی ہو، ہم بخشے بخشائے ہیں۔ چنانچہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بچوں کو پاکیزہ ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، بچہ مدرسہ سے آکر گھر میں موجود شیطانی آلات سے بھی مستفید ہورہا ہوتا ہے، فلمیں، ڈرامے اور کارٹون کی شکل میں دجالی ہدایات کے انجکشن اس کے قلب ودماغ پر لگتے رہتے ہیں۔ حفظ کے رجحان میں اضافے کے باوجود اب بھی نوے فیصد سے زیادہ لوگ ایسے ہی ہیں جو بچے کو بچپن کی عمر میں قرآن سے نہیں جوڑتے، بلکہ جدیدزبانیں اور علوم ہی بچپن میں پڑھاتے اور سکھاتے ہیں۔ یہ بات بھی ہمارے مشاہدے میں آئی ہے کہ جو بچے بچپن میں حفظ کرلیتے ہیں، ان کا حافظہ دوسرے بچوں سے زیادہ قوی ہوتا ہے، چنانچہ اگر بچوں کو سب سے پہلے یعنی پانچ چھ سال کی عمر میں حفظ کروانا شروع کردیا جائے تو باقی چیزیں بعد میں بچہ بہت اچھی طرح سیکھ لیتا ہے۔ دوسری بات یہ بھی اہمیت کی حامل ہے کہ بچے کو چھوٹی عمر میں جو چیز سکھائی جائے گی، ساری عمر اسی چیز کی چھاپ اس کی عملی زندگی میں بھی نظر آئے گی۔یہی وجہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دیا، حالانکہ سات سال کے بچے پر ابھی نماز فرض ہی نہیں ہوئی، ابھی تو مزید سات سال ہیں نماز فرض ہونے میں، یہ سارا ہتمام اسی وجہ سے ہے۔طبرانی میں حضرت علی q سے روایت ہے: ’’ أدبوا أولادَکم علٰی ثلاث خصال: حب نبیکم وحب آل بیتہ وتلاوۃ القرآن، فإن حملۃَ القرآن فی ظل عرش اللّٰہ یوم لاظل إلا ظلہٗ مع أنبیائہٖ وأصفیائہٖ ‘‘۔ ’’اپنے بچوں کو تین باتیں سکھاؤ:اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور ان کے اہل بیت sکی محبت اور قرآن کریم کی تلاوت، اس لیے کہ قرآن کریم کو یاد کرنے والے اللہ کے عرش کے سائے میںانبیاء oساتھ اس روز ہوں گے جس روز اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔‘‘ مسلمان علمائِ تربیت نے بچوں کو قرآن کریم کی تلاوت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کی تعلیم اور مسلمانوں کے عظیم قائدین کے کارنامے بتلانے اور سکھلانے کے ضروری ہونے کے سلسلہ میں جو کچھ کہا ہے، اس کے چند نمونے پیش خدمت ہیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص q فرماتے ہیں کہ: ’’ہم اپنے بچوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات اور جنگیں اسی طرح یاد کرایا کرتے تھے جس طرح اُنہیں قرآن کریم کی سورتیں یاد کراتے تھے۔‘‘ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے احیاء العلوم میں یہ وصیت کی ہے کہ: ’’ بچے کو قرآن کریم اور احادیث نبویہ اور نیک لوگوں کے واقعات اور دینی احکام کی تعلیم دی جائے۔‘‘ علامہ ابن خلدون رحمۃ اللہ علیہ نے بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم دینے اور یاد کرانے کی اہمیت یوںبتائی ہے: ’’ مختلف اسلامی ملکوں میں تمام تدریسی طریقوں اور نظاموں میں قرآن کریم کی تعلیم ہی اساس اور بنیاد ہے، اس لیے کہ قرآن کریم دین کے شعائر میں سے ہے جس سے عقیدہ مضبوط اور ایمان راسخ ہوتا ہے۔‘‘ ابن سینا ؒ نے ’’کتاب السیاسۃ‘‘ میں یہ نصیحت لکھی ہے کہ: ’’ جیسے ہی بچہ جسمانی اور عقلی طور سے تعلیم وتعلم کے لائق ہو جائے تو اس کی تعلیم کی ابتداء قرآن کریم سے کرنا چاہیے، تاکہ اصل لغت اس کی گھٹی میں پڑے اور ایمان اور اس کی صفات اس کے نفس میں راسخ ہوجائیں۔‘‘ پہلے زمانے کے لوگ اپنے بچوں کی تربیت کا نہایت اہتمام کیا کرتے تھے اور اپنے بچوں کو جب اساتذہ کے حوالے کرتے تو ان سے درخواست کرتے کہ ان بچوں کو سب سے پہلے قرآن کریم کی تعلیم دیںاور یاد کرائیں، تاکہ ان کی زبان درست ہو اور ان کی ارواح میں پاکیزگی وبلندی اور دلوں میں خشوع وخضوع پیدا ہو اور ان کے نفوس میں ایمان اور یقین راسخ ہو جائے۔

08/07/2024

نورانی قاعدہ سے متعلق اہم تعلیمی ہدایات
نورانی قاعدہ پڑھانے کے لئے دن متعین کئے جائیں،اور پھر اس بات کی پوری کوشش کی جائے کہ ہر سبق مقررکردہ دنوں میں مکمل ہو جائے،

روزانہ سبق پڑھانے سے پہلے سبق کا مطالعہ کریں اور سبق آسان اور دلچسپ بنا کر محنت و لگن سے پڑھائیں اور سبق اچھی طرح سمجھا ئیں۔

روزانہ نورانی قاعدہ یا قرآن کریم کا سبق شروع کرنے سے پہلے تعوذ اور تسمیہ دونوں پڑھائیں۔

روزانہ نیا سبق تجوید کے ساتھ آہستہ رفتار سے اونچی آواز سے بار بار پڑھائیں البتہ چیخ کرنہ پڑھنے دیں۔

نورانی قاعدہ بورڈ پر پڑھائیں۔
آج کا سبق استاد کم ازکم خود ایک مرتبہ پڑھ کر سنائیں،اس لیے کہ بچے نقال ہوتے ہیں جیسے استاد سے سنیں گے ویسے خود پڑھنے کی کوشش کریں گے۔

نورانی قاعدہ اجتماعی طور پر پڑھائیں اور استاد آج کا سبق پڑھ کر سنانے کے بعد سبق مندرجہ ذیل اِن چار طریقوں سے پڑھائے:

استاذ کہلوائے سب طلبا پڑھیں۔

ایک طالب علم کہلوائے سب پڑھیں۔

تمام طلبا پڑھیں استاذ سنیے۔

ایک طالب علم پڑھے باقی سب سنیں۔

روزانہ ہر طالب علم سے گزشتہ کل کا سبق اس طرح سنیں کہ ایک طالب علم میں سبق سنا رہا ہو، باقی سب طلباء توجہ سے سن رہے ہوں، اگر طالب علم غلطی کرے تو استاذ طلبا سے پوچھیں کہ کیا غلطی کی ہے؟ صحیح کیا ہے؟ اس طرح سب طلبہ متوجہ رہیں گے اور سن سن کر سبق بھی پکا ہوتا رہے گا۔

قران کریم صحیح پڑھنے اور لحن جلی و خفی سے بچنے کے لئے حروف کے مخارج کا صحیح ہونا ضروری ہے،اس لیے مخارج کی طرف خصوصی توجہ دی جائے، سبق پڑھاتے ہوئے اور بچوں سے سبق کہلواتے ہوئے بچوں پر خصوصی نظر رکھیں اور روزانہ حروف کی ادائیگی درست کراتے رہیں، حروف کی صحیح ادائیگی کی محنت روزانہ ہو تو کمزوری ختم ہو جائے گی۔

تدریس کا اصول یہ ہے کہ معلوم کی مدد سے نامعلوم کی پہچان کرائیں، اس لیے جب اگلا سبق شروع کرنا ہو اور اس سے ملتا جلتا سبق طلبا پڑھ چکے ہوں تو گزشتہ سبق کی مدد سے نیاں سبق شروع کرائیں۔

مثلاً ب کے ذریعے ت اور ت کے ذریعے ث کی پہچان، ج کے ذریعے ح اور ح کے ذریعے خ کی پہچان کرائیں۔ ایسا کرنے سے بچے مانوس ہو جائیں گے اور باآسانی سبق سمجھ لیں گے، نیز گذشتہ سبق کی دہرائی بھی ہو جائے گی۔

سبق سمجھانے کے لیے پہلے شکل، پھر جگہ، پھر اس کا نام، پھر پڑھنے کا طریقہ بتلائیں، مثلا زبر سمجھانا ہو تو پہلے زبر کی شکل بنائیں، پھر اس کی جگہ کہ زبر ہمیشہ حرف کے اوپر ہوتا ہے، پھراس کا نام کہ اس ترچھی سی لکیر کو زبر کہتے ہیں،اور اس کے پڑھنے کا طریقہ بتائیں۔

حرکات کے سبق سے بچوں کو ہجے اور رواں دونوں طریقوں سے پڑھائیں۔

پوری کوشش کریں کہ نورانی قاعدہ مکمل ہو تو ہر طالب علم ہجے، رواں، وقف اور تجوید کے ساتھ صحیح پڑھنا سیکھ چکا ہو۔

28/01/2024

شدید سردی ، اوپر سے بارش ، خیموں کی زندگی ، پیٹ خالی ، آسمان سے آتش و آہن کی برسات ۔۔۔ غزہ جس کو ہم بھول گۓ

Want your school to be the top-listed School/college in Mansehra?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Mansehra