1973 کے آئین کے مطابق میٹرک تک مفت تعلیم دینا سٹیٹ کی زمہ داری ھے۔ جس میں وہ بری طرح ناکام ھوئی، اس ناکامی کی وجہ سے عوام اپنی مرضی سے پرائیویٹ اداروں میں اپنی مدد آپ کے تحت بچے پڑھا رہے ہیں ۔ اس وقت ملک کے پچاس فیصد سے زائد بچے پرائیویٹ اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔
کوئی حکومت پرائیویٹ اداروں کو ایک پائی پیسہ امداد تو دور کی بات قرض بھی نہیں دیتی الٹا درجنوں اقسام کے ٹیکس لے رہی ھے۔ ظلم کی حد یہ ھے کہ مختلف وفاقی اور صوبائی محکمہ جات کے ذریعے آئے روز اداروں کو تنگ کیا جا رہا ھے آئے روز جرمانے کیے جا رہے ہیں، سونے پر سہاگہ یہ ھوا کہ اب ایف بی آر کے ذریعے صوبہ کے مختلف سکولز کو لیٹر بھیجے جا رہے ہیں کہ اب سکول اونرز کو اپنے سکول میں ایف بی آر سے ایسی مشین خرید کر لگانی پڑے گی جس کا لنک ڈائریکٹ ایف بی آر کے سسٹم سے لنک ھو گا اس طرح ہر بچے کی ماہانہ فیس سے ڈائریکٹ ٹیکس کاٹا جائے گا۔ ان حالات میں ملک کے 95 فیصد وہ ادارے جن کی ماہانہ فیس 3000 روپے سے بھی کم ھے وہ تباہ و برباد ھو جائیں گے۔ مجبوراً ہمیں تمام پرائیویٹ سکول بند کرنے پڑیں گے۔
ان حالات میں ہمارا فرض بنتا ھے کہ ھم اپنی عوام کو ان تمام حقائق اور مظالم سے آگاہ کریں جن کا کچھ ناں کچھ اثر آخر کار والدین کے ہی جیب پر پڑے گا۔ موجودہ مہنگائی کے زمانے میں پرائیویٹ اداروں میں زیر تعلیم فیس ادا نہ کر سکنے والے بے شمار بچے پہلے ہی مکمل طور پر تعلیم کو خیر آباد کہے چکے ہیں اور کچھ مجبوراً سرکاری اداروں میں داخل ھو گئے ہیں، ھم سب جانتے ہیں کہ پرائیویٹ اداروں کی بندش سے یہ کروڑوں بچے سرکار کسی صورت نہیں پڑھا سکتی کیونکہ ان کے پاس نہ ہی کوئی انفرا سٹریکچر ھے اور نہ ہی اساتذہ ہیں ، پہلے ہی سرکاری سکولوں میں لاکھوں اساتذہ کی آسامیاں خالی پڑی ہیں۔
معزز عوام یہ وہ مسائل ہیں جنہیں ھم اپنے سینے میں چھپائے پھرتے تھے معلم جیسے باعزت شعبے سے منسلک ھونے کی وجہ سے برداشت کر رہے تھے لیکن اب شاید ہماری برداشت ختم ھو چکی ھے، قوم کے بچوں کو تعلیم دینا جرم بنا دیا گیا ھے، اس ظلم اس بربریت اس تباہی پر اپنے بچوں کی خاطر ہمارا ساتھ دیجئے 🙏🙏🙏
سردار محمد ارسلان خان سدوزئی
ڈپٹی جنرل سیکریٹری پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک خیبرپختونخواہ
Mansehra Education Forum
Mansehra Education Forum is a non-profit organization working through building a network of existing private sector Schools & Colleges of Mansehra.
جماعتِ نہم و دہم سالانہ امتحان ۲۰۲۳
ممتحنین صاحبان سے گزارشات
۱. بچوں کے عزت نفس کو مجروح نہ کریں اور انہیں ہر جائز مدد فراہم کریں ۔یہ بچے ہمارےہی ہیں۔
۲.ہال میں شور نہ کریں۔بچوں کو بلا ضرورت نہ چھیڑیں ۔
۳.موبائل نہ خود استعمال کریں نہ بچوں کے ساتھ اسپر سمجھوتہ کریں۔
۴.چاہے ایک ہی منٹ باقی ہو اور بچہ اضافی شیٹ چاہے تو دیا کریں۔شیٹ نہ دیکر آپ ظلم کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔
۵. نقل سے چشم پوشی کرکے آپ حرام رزق کمارہے ہیں ۔اور اسی کی معافی آللہ کے حضور ممکن ہی نہیں ۔
۶. ہر کام قاعدے اور قانون کے مطابق کریں۔شفارشیوں سے مسکرا کر ملیں پر ڈیوٹی میں ایمانداری پر سمجھوتہ ہرگز نہ کریں۔
۷. ڈیوٹی کے پہلے دن آپ مہمان ہیں اس دن اگر کھانے کا وقت ہو جائے تو بےشک کھالیں مگر اسکے بعد صرف ایک کپ چائے پر ہی اکتفا کریں۔اسی میں عزت ہے اور عضمت بھی ۔یاد رہے ہمیں زندہ رہنے کے لئے کھانا ہوتا ہے نہ کہ کھانے کے لئے زندہ رہنا۔ بے جا تکلفات رشوت ہی ہے۔
۸. اپنے، محکمہ اور سب سے بڑھکر بچے کی عزت ہماری کامیابی اور نیک نامی ہے۔
۹.انسپکٹران صاحبان خدا کے لئے اپنی موجودگی کا احساس دلایا کریں۔اس نظام کو آپ ہی بہتر کرسکتے ہیں ۔قانون کے مطابق ڈیوٹی کریں اور ضروری قدم آٹھایا کریں۔جو رات قبر میں ہے وہ آپ یہاں گزار ہی نہیں سکتے۔ہمت کریں۔ عملہ کی ضروری رہنمائی کریں اور کوتاہی پر سرزنش کریں۔
اللہ ہم کو عمل کرنے کی توفیق عطا کرے اور آسانی فرمائے
To ALL Parents, willing to send their Sons/Daughters to Private Medical Colleges.
Please think exactly 100 times before sending your kid to Private Medical College . It’s long , hard , tough life , all life and unless the student has a strong desire to withstand it , MBBS alone is not worth the money you are spending, many drop in middle, many can’t specialise , many don’t like it temperamentally, and become just confused brains with no idea where to go and what to do .
Find what they are good at , let them learn skills and earn on skills of there choice . They will be happy and satisfied, and that’s all that matter in the end .
Medical career is neither as good as projected nor as glorified as presented . We are normal or slightly abnormal people who earn from suffering of others but in the end we Work to EARN just like anyone else , no stars attached .
So think , think and think again
Regards
Prof Dr.Amjad Taqweem.
معزز ارباب اختیار و عوام الناس چونکہ مطالعہ قرآن حکیم کا مضمون سیلبس کا حصہ بنانا بہت اچھی بات ھے۔ اور یہ وقت کی ضرورت بھی ھے لیکن جس وقت حکومت نے اس مضمون کو بورڈ امتحانات میں شامل کرنے کا نوٹیفکیشن کیا ھے اس وقت بچوں کی پڑھائی کا آدھا سال گزر چکا تھا. گو کہ یہ نوٹیفکیشن ہائی کورٹ کے واضح حکم کی بھی خلاف ورزی ھے جس میں معزز جج صاحبان نے حکومت کو کوئی بھی نیا مضمون نصاب میں بروقت شامل کرنے کی پابندی لگا رکھی ھے تاکہ بچوں کو مکمل پڑھائی کا وقت مل سکے. سونے پہ سوہاگہ یہ ھوا کہ نوٹیفکیشن شائع کرنے کے بعد آج تک مطالعہ قرآن حکیم کی کتابیں مارکیٹ میں نہیں پہنچیں. فرض کریں اگر آج کل مطالعہ قرآن حکیم کی کتاب مارکیٹ میں میسر بھی ھو جائے تو کیا 150 مکمل نمبرات کا یہ مضمون 60 ورکنگ ڈیز میں پڑھایا جا سکے گا؟؟؟ خیبرپختونخواہ کے دو بڑے ڈویژن ایبٹ آباد اور مالاکنڈ ڈویژن چونکہ سرمائی سٹیشن ہیں جہاں گرمیوں کی بجائے سردیوں میں ڈھائی ماہ کی چھٹیاں دی جاتی ہیں جن کا دورانیہ بڑھ بھی سکتا ھے اور یہ چھٹیاں 15 دسمبر سے یکم مارچ تک ھوں گی کیا سرمائی علاقوں کے ہزاروں بچوں کو مطالعہ قرآن حکیم 20 یا 25 ورکنگ ڈیز میں پڑھانا ممکن ھو سکتا ھے؟؟؟؟ ہرگز ہرگز نہیں، اس وقت سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر کے اساتذہ بچوں اور والدین کو عجیب گوں مگوں اور کشمکش کی کیفیت میں مبتلا کر دیا گیا ھے۔ سال کے درمیان میں اچانک ایک نئے مضمون کو بورڈ امتحانات میں شامل کرنے کا نوٹیفکیشن سمجھ سے بالا تر ھے۔ ھم ارباب اختیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فی الفور اس گوں مگوں کی کیفیت کا تدارک کیا جائے اور مطالعہ قرآن حکیم جیسے اھم مضمون کو سال 2023-2024 کے نصاب میں شامل کیا جائے
کتاب کی بروقت فراہمی اور ٹیچر ٹریننگ چونکہ حکومت کی زمہ داری ھے اس حوالے سے بروقت بلکہ ایڈوانس اقدامات اٹھائے جائیں
بچوں کا موجودہ کورس بھی بچوں کی استعداد سے اضافی ھے لہذا اگلے سال مطالعہ قرآن حکیم کو نصاب کا حصہ بنانے سے پہلے تمام سٹیک ہولڈرز ماہرین تعلیم خصوصاً اساتذہ کرام پر مشتمل ایک کمیٹی کے ذریعے فیصلے کیے جائیں تاکہ بچوں پر مزید بوجھ ڈالے بغیر کوئی بہتر اور متوازن راستہ نکالا جا سکے.
بشارت نواز عباسی صدر پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک PEN ضلع ھری پور.
05/10/2022
02/10/2022
صوبہ خیبر پختونخواہ کے گورنمنٹ کالجز میں آج یکم اکتوبر سے انٹرمیڈیٹ کلاسز کا آغاز کتب کی عدم موجودگی میں ہو گیا ہے۔سرمائی زون (صوبہ کے بائیس اضلاع ) میں صرف 65 ورکنگ ڈیز کے بعد بائیس دسمبر سے یکم مارچ تک اڑھائی ماہ کی سردیوں کی چھٹیاں دے دی جائیں گی۔سالانہ امتحانات اپریل/مئی میں لیا جائے گا۔کالج کے پروفیسر کو 240 دن کا کورس صرف 80 دنوں میں مکمل کرنا ہو گا۔80 پیریڈز میں 240 پیریڈز کا کام کروانے کے بعد معیار تعلیم پر رونا سمجھ سے باہر ہے۔
شوکت محمود
میٹنگ مینٹس
آج خیبر پختونخوا بورڈز ایمپلائز کوارڈینیشن کونسل عہدیداروں کی وزیر تعلیم سے میٹنگ ہوئی جس میں سیکرٹری تعلیم کے ساتھ ساتھ سپیشل سیکرٹری اور چیئرمین پشاور اور ایبٹ آباد بورڈز شامل تھے۔
میٹنگ میں درجہ ذیل فیصلے کئے گئے۔
1۔ وزیر تعلیم نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئی سنگل سنٹرل بورڈ نہیں بنایا جائیگا۔
2۔ وزیر تعلیم نے یقین دہانی کرائی کہ صوبے کے موجودہ 8 وں تعلیمی بورڈز اپنے جگہ پر برقرار رہیں گے اور انکی خود مختاری، مالی اور انتظامی اختیارات پر کوئی قدغن نہیں آئے گی اور یہ سب اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔
3۔ سیکرٹری ایجوکیشن اور وزیر تعلیم نے یہ اعلان کیا کہ نوٹیفیکیشن میں موجود KP BISE سے مراد صوبے کے تمام 8 تعلیمی بورڈز ہی ہونگے اور کوئی سنگل بورڈ کا قیام نہیں ہوگا۔
4۔ فیصلہ ہوا کہ امتحانی اصلاحات کے لئے بنائے گئے ورکنگ گروپ کمیٹی میں کوارڈینیشن کونسل کے دو نمائندے لئے جائے گے اور وہ نمائندے بااختیار ہونگے اور انکے کمیٹی میں رائے اور فیصلے مانے جائے گے۔
5۔ بورڈز ملازمین سے وزیر تعلیم نے درخواست کی کہ آپ لوگ بے فکر رہیں۔ میں وزیر تعلیم ہوکے آپ سب کا وزیر تعلیم ہوں اور آپ سب میرے ٹیم کا حصہ ہوں۔ میں آپ سب کے حقوق کے لئے سب کچھ کرونگا اور جب تک میں منسٹر ہوں تو یہ سنگل بورڈ کا قیام نہیں ہونے دونگا یعنی Absolutely NOT اور یہ بات خپل وزیراعلی صاحب کی بھی ہے.
6۔ کوارڈینیشن کونسل نے وزیر تعلیم کی درخواست پر صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز سے وابستہ تعلیمی اداروں، طلباء وطالبات انکے والدین کی وسیع تر مفاد میں جاری ہڑتال کو آج سے ختم کرنے کا اعلان کیا اور آج ہی سے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز فنکشنل ہوجائے گے اور جماعت نہم اور انٹر رزلٹس پر کام جاری کردیا جائیگا۔
7۔ وزیر تعلیم سمیت سیکرٹری تعلیم نے بورڈز ملازمین کا شکریہ ادا کیا اور کوارڈینیشن کونسل ممبران نے بھی وزیر تعلیم کو بات سننے اور ماننے کے ساتھ ساتھ کوارڈینیشن کونسل کو مدعو کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
انفارمیشن سیکرٹری
16/09/2022
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Mansehra
21300