25/08/2024
1973 کے آئین کے مطابق میٹرک تک مفت تعلیم دینا سٹیٹ کی زمہ داری ھے۔ جس میں وہ بری طرح ناکام ھوئی، اس ناکامی کی وجہ سے عوام اپنی مرضی سے پرائیویٹ اداروں میں اپنی مدد آپ کے تحت بچے پڑھا رہے ہیں ۔ اس وقت ملک کے پچاس فیصد سے زائد بچے پرائیویٹ اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔
کوئی حکومت پرائیویٹ اداروں کو ایک پائی پیسہ امداد تو دور کی بات قرض بھی نہیں دیتی الٹا درجنوں اقسام کے ٹیکس لے رہی ھے۔ ظلم کی حد یہ ھے کہ مختلف وفاقی اور صوبائی محکمہ جات کے ذریعے آئے روز اداروں کو تنگ کیا جا رہا ھے آئے روز جرمانے کیے جا رہے ہیں، سونے پر سہاگہ یہ ھوا کہ اب ایف بی آر کے ذریعے صوبہ کے مختلف سکولز کو لیٹر بھیجے جا رہے ہیں کہ اب سکول اونرز کو اپنے سکول میں ایف بی آر سے ایسی مشین خرید کر لگانی پڑے گی جس کا لنک ڈائریکٹ ایف بی آر کے سسٹم سے لنک ھو گا اس طرح ہر بچے کی ماہانہ فیس سے ڈائریکٹ ٹیکس کاٹا جائے گا۔ ان حالات میں ملک کے 95 فیصد وہ ادارے جن کی ماہانہ فیس 3000 روپے سے بھی کم ھے وہ تباہ و برباد ھو جائیں گے۔ مجبوراً ہمیں تمام پرائیویٹ سکول بند کرنے پڑیں گے۔
ان حالات میں ہمارا فرض بنتا ھے کہ ھم اپنی عوام کو ان تمام حقائق اور مظالم سے آگاہ کریں جن کا کچھ ناں کچھ اثر آخر کار والدین کے ہی جیب پر پڑے گا۔ موجودہ مہنگائی کے زمانے میں پرائیویٹ اداروں میں زیر تعلیم فیس ادا نہ کر سکنے والے بے شمار بچے پہلے ہی مکمل طور پر تعلیم کو خیر آباد کہے چکے ہیں اور کچھ مجبوراً سرکاری اداروں میں داخل ھو گئے ہیں، ھم سب جانتے ہیں کہ پرائیویٹ اداروں کی بندش سے یہ کروڑوں بچے سرکار کسی صورت نہیں پڑھا سکتی کیونکہ ان کے پاس نہ ہی کوئی انفرا سٹریکچر ھے اور نہ ہی اساتذہ ہیں ، پہلے ہی سرکاری سکولوں میں لاکھوں اساتذہ کی آسامیاں خالی پڑی ہیں۔
معزز عوام یہ وہ مسائل ہیں جنہیں ھم اپنے سینے میں چھپائے پھرتے تھے معلم جیسے باعزت شعبے سے منسلک ھونے کی وجہ سے برداشت کر رہے تھے لیکن اب شاید ہماری برداشت ختم ھو چکی ھے، قوم کے بچوں کو تعلیم دینا جرم بنا دیا گیا ھے، اس ظلم اس بربریت اس تباہی پر اپنے بچوں کی خاطر ہمارا ساتھ دیجئے 🙏🙏🙏
سردار محمد ارسلان خان سدوزئی
ڈپٹی جنرل سیکریٹری پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک خیبرپختونخواہ