Khan afzal

Khan afzal

Share

loves the humanity

03/03/2025

Celebrating my 10th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

03/03/2025

آج کے دور میں تعلقات کو ٹھیک کرنے کی کبھی کوشش نہ کریں بلکہ اپنے مالی حالات ٹھیک کریں تعلقات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے

03/03/2025

ڈاکٹر جب مرض کا علاج کرتا ہے تو پہلے اس کے اسباب پر غور کرتا ہے اور پھر اس کا علاج تجویز کرتا ہے. اگر مرض کے اسباب پر غور نہ کیا جائے اور اس کا علاج نہ ڈھونڈا جائے تو مرض میں مسلسل اضافہ نا گزیر ہے. ہمارا معاشرہ بھی غربت کے مرض کا شکار ہے اور اس کا اصل سبب ملکی مروجہ سرمایہ داری نظام ہے. جب تک سرمایے کی حکمرانی ہے، تب تک غربت کو ختم کرنے کا ہر دعوٰی باطل ہے. غربت کو ختم کرنے کے لیے لازمی ہے کہ قرآن کا پیش کردہ وسائل کی عادلانہ تقسیم کا نظام قائم کیا جائے.
یہ ایک ناقابلِ تردید سچائی ہے کہ عوام مروجہ سرمایہ داری نظام کی بدمعاشی کی وجہ سے کبھی بھی خوشحال نہیں ہوسکی ہے لیکن یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ عوام اس سے پہلے اتنی زیادہ غریب بھی نہیں ہوئی ہے. جھوٹ بولنا بہت بڑا گناہ ہے اور جھوٹ ہمارے حکمرانوں کا مذہب ہے.

29/09/2024

Like my page

Khan afzal loves the humanity

29/09/2024
10/08/2024

نکلے وہ پھول بن کے ترے گلستاں سے ہم
مہکا دیا فضاؤں کو گزرے جہاں سےہم

ٹھکرائیں یا نواز لیں وہ ہم کو اے فناؔ
شکوہ کبھی کریں گے نہ اپنی زباں سے ہم

10/08/2024

”ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ ٹرسٹ (لاہور) پاکستان کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو قرآنی علوم کی اساس پر اپنے معاشرے کے اجتماعی معاملات پر غور و فکر کی دعوت دینا ہے اور ایک ایسے مکالمے کی داغ بیل ڈالنی ہے کہ جس میں ہم قرآنی تعلیمات کے روشنی میں اپنے معاشرے کے سیاسی، معاشی، سماجی اور اجتماعی معاشرتی مسائل پر غور و فکر کر سکیں۔“
سرپرست ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ ٹرسٹ پاکستان
حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری Friends

15/04/2023

آج بھی میرے خیالوں کی تپش زندہ ہے
میرے گفتار کی دیرینہ روش زندہ ہے
آج بھی ظلم کے ناپاک رواجوں کے خلاف
میرے سینے میں بغاوت کی خلش زندہ ہے

جبر-و-سفاکی-و-طغیانی کا باغی ہوں میں
نشئہ قوّتِ انسان کا باغی ہوں میں

جہل پروردہ یہ قدریں یہ نرالے قانون
ظلم-و-عدوان کی ٹکسال میں ڈھالے قانون
تشنگی نفس کے جزبوں کی بجھانے کے لئے
نو انساں کے بنائے ہوئے کالے قانون

ایسے قانون سے نفرت ہے عداوت ہے مجھے
ان سے ہر سانس میں تحریک بغاوت ہے مجھے

تم ہنسوگے کہ یہ کمزور سی آواز ہے کیا
جھنجھنایا ہوا، تھرّایا ہوا ساز ہے کیا
جن اسیروں کے لیے وقف ہیں سونے کے قفس
ان میں موجود ابھی خواہشِ پرواز ہے کیا

آہ! تم فطرتِ انسان کے ہمراز نہیں
میری آواز، یہ تنہا میری آواز نہیں

انگنت روحوں کی فریاد ہے شامل اس میں
سسکیاں بن کے دھڑکتے ہیں کئ دل اس میں
تہ نشیں موج یہ توفان بنیگی اک دن
نہ ملیگا کسی تحریک کو ساحل اس میں

اسکی یلغار میری زات پے موقوف نہیں
اسکی گردش میرے دن رات پے موقوف نہیں

ہنس تو سکتے ہو، گرفتار تو کر سکتے ہو
خوار رسوا سرِ بازار تو کر سکتے ہو
اپنی قہار خدائی کی نمائش کے لئے
مجھے نزرِ رسن-و-دار تو کر سکتے ہو

تم ہی تم قادرِ مطلق ہو، خدا کچھ بھی نہیں؟
جسمِ انساں میں دماغوں کے سوا کچھ بھی نہیں

آہ یہ سچ ہے کہ ہتھیار کے بل بوتے پر
آدمی نادر-و-چنگیز تو بن سکتا ہے
ظاہری قوت-و-سطوت کی فراوانی سے
لینن-و-ہٹلر-و-انگریز تو بن سکتا ہے

سخت دشوار ہے انسان کا مکمّل ہونا
حق-و-انصاف کی بنیاد پے مکمّل ہونا

Want your school to be the top-listed School/college in Mansehra?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Mansehra