09/02/2026
Knowledge is POWER
we will bring new, informations, news, creative videos, contests, language learning av AIDS and much
09/02/2026
06/01/2026
:
1
باقی دو ڈومینز (2 اور )
بلوم ٹیکسونومی ایک تعلیمی فریم ورک ہے جو سیکھنے کے مقاصد اور سیکھنے کے عمل کو **درجہ وار لیولز** (Levels) میں تقسیم کرتا ہے تاکہ استاد بہتر طور پر سمجھ سکے کہ کون سا طالب علم صرف سادہ معلومات یاد کر رہا ہے، کون سمجھ رہا ہے، کون استعمال کر رہا ہے، تجزیہ، تنقید یا تخلیق کر رہا ہے۔ بہت سے لوگوں کی سمجھ میں صرف Cognitive Domain آتا ہے کیونکہ تعلیمی نصاب میں اکثر یہی حصہ نمایاں ہوتا ہے، لیکن اصل میں بلوم نے تین بڑے ڈومینز (Domains) بیان کیے ہیں: Cognitive (علمی)، Affective (جذباتی/روانی) اور Psychomotor (عملی/حرکی)۔
بلوم کے Cognitive Domain کے لیولز وہی ہیں جن کا پہلے تفصیل سے ذکر ہوتا ہے:
1. Remembering – معلومات یاد کرنا
2. Understanding – سمجھنا
3. Applying – استعمال کرنا
4. Analyzing – تجزیہ کرنا
5. Evaluating – تنقید/جائزہ
6. Creating – نیا تخلیق کرنا
یہ وہ لیولز ہیں جنہیں عام طور پر نصاب، امتحانات اور درس و تدریس میں استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ علم کے بڑھتے ہوئے مراحل کو واضح کرتے ہیں۔
اب Affective Domain کی بات کرتے ہیں، جو بلوم نے Cognitive کے ساتھ ساتھ مرتب کیا۔ Affective Domain سیکھنے والے کے جذبات، رویّوں، اقدار، حوصلہ، دلچسپی اور اخلاقی فیصلوں سے متعلق ہے۔ اس میں بھی بلوم ٹیکسونومی کی طرح مختلف درجات (Levels) موجود ہیں، جو سادہ سے پیچیدہ جذباتی سیکھنے کو بیان کرتے ہیں:
1. Receiving (قبول کرنا) – سیکھنے کی ابتدائی سطح جہاں طالب علم توجہ دیتا ہے، سنتا ہے اور کھلے ذہن سے مواد قبول کرتا ہے۔ مثال: طالب علم خاموشی سے استاد کی بات سنتا ہے۔
2. Responding (جواب دینا/شرکت کرنا)** – طالب علم سیکھنے میں حصہ لیتا ہے، سوال پوچھتا ہے یا سرگرمی میں حصہ لیتا ہے۔ مثال: کلاس میں سوال کا جواب دینا۔
3. Valuing (قدر دینا) – طالب علم مضمون، طریقہ یا رویّے کو اہم سمجھتا ہے اور باقاعدگی سے اس کی پیروی کرتا ہے۔ مثال: مطالعہ کو اہمیت دینا اور روزانہ پڑھنے کا عادی ہونا۔
4. Organizing (منظم کرنا)** – مختلف اقدار اور خیالات کو اندرونی طور پر ترتیب دینا اور فیصلہ کرنا کہ کونسی بات زیادہ اہم ہے۔ مثال: حقائق کی روشنی میں اپنے خیالات ترتیب دینا اور دوستوں کو مثبت عمل کی ترغیب دینا۔
5. Characterizing (کردار بنانا) – سیکھا ہوا قدر یا رویّہ مستقل اور خودکار بن جاتا ہے، یعنی وہ طالب علم کا حصہ بن جاتا ہے۔ مثال: ایمانداری، احترام یا وقت کی پابندی جیسے اوصاف روزمرہ عمل میں شامل ہو جائیں۔
یہ مراحل جذباتی اور رویّہ جاتی سیکھنے کو واضح کرتے ہیں، اور یہ صرف جذبہ نہیں بلکہ استاد کی رہنمائی اور تربیت کے زیر اثر ترقی پاتے ہیں۔
تیسرا ڈومین Psychomotor Domain ہے، جو عملی اور جسمانی مہارتوں (Skills) جیسے لکھائی، ڈرائنگ، مشاہداتی تجربہ، لیبارٹری ورک، سائنٹیفک آلات کا استعمال وغیرہ سے متعلق ہے۔ Psychomotor Domain کے لیولز بھی مختلف ماہرین نے بیان کیے ہیں، سب سے عام درج ذیل ہیں:
1. Perception (ادراک – حواس کی مدد سے عمل کی شروعات، مثال: ہاتھ کو صحیح طریقے سے پکڑنا، آلہ جات کو دیکھ کر پہچاننا۔
2. Set (تیاری) – ابتدائی عمل کی تیاری، جسمانی اور ذہنی تیاری، مثال: قلم پکڑنے کی پوزیشن میں بیٹھنا۔
3. Guided Response (رہنمائی شدہ ردِعمل) – استاد کی ہدایت میں عمل کرنا، مثال: استاد کی رہنمائی میں کسی گیم یا مشق کو دہرانا۔
4. Mechanism (میکانزم) – عمل میں روانی آنا، مثال: قلم ٹھیک طرح سے اور صحیح سرعت سے چلانا۔
5. Complex Overt Response (پیچیدہ عمل بروئے کار لانا) – مختلف ردِعملوں کو یکجا کر کے زیادہ پیچیدہ صلاحیت کا استعمال، مثال: کسی تجربے کو خود مراحل میں انجام دینا۔
6. Adaptation (موافقت/ترمیم) – سیکھے ہوئے عمل کو مختلف حالات میں بہتر طریقے سے استعمال کرنا، مثال: مختلف قسم کے لیبارٹری آلات کو مؤثر طور پر استعمال کرنا۔
7. Origination (نئی حرکت / تخلیق) – ایسا عملی عمل بنانا جو پہلے سیکھے ہوئے اعمال پر مبنی ہو لیکن منفرد ہو، مثال: اپنی تحقیق یا تجرباتی طریقہ وضع کرنا۔
یوں بلوم ٹیکسونومی صرف Cognitive Domain تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک *جامع سیکھنے کا فریم ورک* ہے جس میں علمی، جذباتی/روانی اور عملی/حرکی پہلوؤں کو یکساں اہمیت دی گئی ہے، تاکہ بچے نہ صرف معلومات یاد کریں بلکہ اسے سمجھیں، استعمال کریں، جذباتی طور پر قدر دیں اور عملی طور پر بھی مؤثر طریقے سے استعمال کر سکیں۔ یہ ٹیکسونومی تعلیمی منصوبہ بندی، تدریسی حکمت عملی اور اسیسمنٹ (assessment) کو زیادہ مؤثر، متوازن اور مقصدی بناتی ہے۔
(منصور اختر غوری)
#منصوراخترغوری #تعلیم
19/12/2024
ایک نامرد کی بیوی کی کہانی:
میرا شوہر نامرد ہے اور مجھے خلع چاہیے۔ وہ نکاح ختم کروانے کا عام سا کیس تھا۔
اچھی پڑھی لکھی فیملی تھی۔ دو پیارے سے بچے تھے کیوٹ اور معصوم سے۔ لیکن خاتون بضد تھی کہ اسکو ہر حال میں خلع چاہیے، جبکہ میرا موکل یعنی کہ (شوہر) شدید صدمے کی کیفیت میں تھا۔
جج صاحب بھی پورا کیس سنتے وقت کبھی حیرانی سے شوہر کو دیکھتے اور کبھی اس کی بیوی کو تو کبھی ان کے ساتھ کھڑے دو بچوں کو۔
جج صاحب اچھے آدمی تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ میاں بیوی کو چیمبر میں لے جا کر صلح کی کوشش کرلیں شاید بات بن جائے۔ (شوہر) کا وکیل ہونے کے ناطے مجھے تو بہت خوشی ہوئی کیونکہ میں بحثیت وکیل یہ کیس ہار رہا تھا۔ میں نے فوری حامی بھر لی۔ جبکہ مدعیہ (بیوی) کے وکیل نے اس پر اچھا خاصہ ہنگامہ بھی کیا لیکن خاتون بات چیت کے لئیے راضی ہوگئی۔
چیمبر میں دونوں میاں بیوی میرے سامنے بیٹھے تھے:-
" ہاں خاتون ! آپ کو اپنے شوہر سے کیا مسئلہ ہے"؟ - -
"وکیل صاحب یہ شخص مردانہ طور پر کمزور ہیں اور نامرد ہیں۔"
میں اسکی بے باکی پر حیران رہ گیا۔ میرے منہ سے ایک موٹی سی گندی سی گالی نکلتے نکلتے رہ گئی۔ البتہ منہ میں تو دے ہی ڈالی۔ ویسے تو کچہری میں زیادہ تر بے باک خواتین سے ہی واسطہ پڑتا ہے لیکن اس خاتون کی کچھ بات ہی الگ تھی۔
اسکے شوہر نے ایک نظر شکایت اس پر ڈالی اور میری طرف امداد طلب نظروں سے گھورنے لگا۔ میں تھوڑا سا جھلا گیا کہ کیسی عورت ہے ذرا بھی شرم حیا نہیں ہے۔ دو بچوں کی ماں ہو کر بھی اپنے شوہر کو نامرد کہہ رہی ہے۔
بہرحال میں نے بھی شرم و حیا کا تقاضا ایک طرف رکھا اور تیز تیز سوال کرنا شروع کر دیے۔
جب اس سے پوچھا :-
" کیا تمہارا اپنے شوہر سے گزارہ نہیں ہوتا؟
تو وہ بیوی کہنے لگی:
" ماشاءاللہ دو بچے ہیں ہمارے۔ یہ جسمانی طور پہ تو بالکل ٹھیک ہیں مگر پھر بھی نامرد ہیں۔"
مجھے اس کی بات سے حیرت کا جھٹکا لگا کہ بچے بھی ہیں اور نامرد بھی، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ عجیب عورت ہے۔
تو بی بی پھر مردانہ طور پر کمزور کیسے ہوئے؟
میں نے استفسار کیا۔۔۔
وکیل صاحب ! صرف ازدواجی زندگی سے اولاد ہو جائے یہ ہی مردانگی نہیں ہوتی بلکہ اور بھی ایسی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں میاں بیوی کے درمیان جس پر بیوی مرد سے مطمئن نہیں ہو پاتی اور مرد نا مرد ہی رہتا ہے۔
مجھے اس عورت کی منطق کسی بھی طرح سمجھ نہیں آئی تھی۔۔ مجھے حیرت تھی کہ وہ فقط مطمئن نہ ہونے پر کس طرح سے اپنے مرد کی عزت یوں کوٹ کچہری میں اچھال رہی ہے یہ معاملہ تو ان دونوں کے مابین بھی حل ہو سکتا تھا۔۔
میں نے اک نظر اٹھا کر اس کے شوہر کو دیکھا۔۔
جس کے چہرے پر اپنا سچ کھل جانے کا خوف لاحق تھا۔۔
آپ کو اگر خدا نے اولاد سے نواز رکھا ہے بی بی اور اگر یہ جسمانی طور پر بھی ٹھیک ہیں تو اگر آپ کو ان سب کے باوجود کسی دشواری کا سامنا ہے تو آپ ڈاکٹر سے رابطہ کر سکتی تھی یوں کوٹ کچہری آنا اس معاملے کا حل نہ تھا۔
میں نے غصے پر قابو کرتے جواب دیا
ان کی کمزوری کسی بھی ڈاکٹر سے دور نہ ہو سکتی تھی وکیل صاحب تبھی مجھے یہ راہ چننی پڑی۔۔
عجب عورت تھی اک تو انتہا کی بے باکی اوپر سے کمال کا کانفیڈینس۔ اور وجہ ایسی کہ کوئی اور ہوتا تو شرم سے ڈوب مرتا جانے یہ کیسی عورت تھی۔۔
اس کا حلیہ اس کی باتوں سے زرا نہ ملتا تھا مگر ہر کسی کے ماتھے پر تھوڑا ہی نہ لکھا ہوتا ہے کہ باطن بھی ظاہر جیسا ہے۔۔
بی بی ہر مسلے کا حل ہوتا ہے مجھے اب اس عورت پر غصہ آنے لگا تھا اور اس کے شوہر پر ترس۔۔
میں آپ کو ایک اچھے ڈاکٹر کا پتہ دیتا ہوں آپ وہاں جائیں سب بہتر ہو گا جہالت کی ضد میں آ کر گھر نہ توڑیں۔۔
میں نے اپنے غصے کو پس پشت ڈالتے اپنے فیملی ڈاکٹر کا ایڈریس دینے کا کہا جو کہ مردانہ کمزوری کا ماہر مانا جاتا تھا اور اپنی طرف سے ہر حد کوشش کر کے اس جاہل عورت کو اس اقدام سے روکنا چاہا۔۔
نہیں وکیل صاحب کبھی نہیں میں ان کا علاج کرانا دور ایسے مرد کے ساتھ اک منٹ نہیں رہوں گی۔۔
جانے وہ عورت کیوں اتنی ضد کر رہی تھی۔۔
جب آپ کی اولاد ہے تو پھر یہ بیماری اتنی بھی ںڑی بیماری نہیں۔ جانے آپ نے اس بیماری کو کیوں وجہ بنا رکھا ہے۔
اب کی بار میرا ضبط جواب دینے لگا تھا
بیماری ہے وکیل صاحب بیماری ہے۔۔
اب کی بار وہ بھی دبا دبا چلائی تھی۔۔
اگر ہے تو وضاحت کر دیں پھر۔۔
اگر وہ بے باک تھی اتنی تو اصل مدعے تک پہنچنے میں پھر میں نے بھی اپنی شرم اک طرف رکھی تھی۔۔
مگر جب وہ بولی تو مجھے حیرت اور شرمندگی کے سمندر نے آن گھیرا۔۔
صرف بچے پیدا کرنا ہی مردانگی نہیں ہوتی وکیل صاحب
میرے بابا دیہات میں رہتے ہیں اور زمینداری کرتے ہیں۔ پورا گاؤں کہتا ہے کہ ان جیسا مرد کبھی نہیں دیکھا۔ ماشاءاللہ گبھرو، بااخلاق اور انتہائی مدد کرنے والے انسان ہیں، ہمیشہ دوسروں کی بہو بیٹیوں کے سر پر ہاتھ رکھا۔
ہم دو بہنیں ہیں اور میرے والد نے ہمیں کبھی" دھی رانی" سے کم بلایا ہی نہیں جبکہ میرے شوہر مجھے" کتی " کہہ کے بلاتے ہیں - - -" یہ کونسی مردانہ صفت ہے وکیل صاحب ؟- - " اب بتائیں مرد میرے باپ جیسا شخص ہوا یا یہ کتی کہنے والا؟
مجھ سے کوئی چھوٹی موٹی غلطی ہوجائے تو یہ میرے پورے میکے کو ننگی ننگی گالیاں دیتے ہیں؟ - -" آپ ہی بتائیں جی اس میں میرے مائیکے کا کیا قصور ہے - - - یہ مردانہ صفت تو نہیں نا کہ دوسروں کی گھر والیوں کو گالی دی جائے - -
وکیل صاحب۔! میرے بابا مجھے شہزادی کہتے ہیں - - - اور یہ غصے میں مجھے " کنجری" کہتے ہیں - -
وکیل صاحب ! مرد تو وہ ہوتا ہے نا جو کنجری کو بھی اتنی عزت دے کہ وہ کنجری نہ رہے اور یہ اپنی بیوی کو ہی کنجری کہہ کر پکارتے ہیں - - - یہ کوئی مردانہ بات تو نہیں ہوئی نہ - - - ؟؟
وکیل صاحب اب آپ ہی بتائیں کیا یہ مردانہ طور پر کمزور نہیں ہیں" ؟ - -
میرا تو سر شرم سے جھک گیا تھا۔ اس کا شوہر بھی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔
میری اس سوچ کو وہ عورت واقع ہی سچ ثابت کر گئی تھی کہ ضروری نہیں جیسا باطن ہو ویسا ہی ظاہر بھی ہو
" اگر یہی مسئلہ تھا تو تم مجھے بتا سکتی تھیں نا۔ مجھ پر اس قدر ذہنی ٹارچر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔" ؟
شوہر منمنایا۔۔۔
" آپ کو کیا لگتا ہے آپ جب میری ماں بہن کے ساتھ ناجائز رشتے جوڑتے ہیں تو میں خوش ہوتی ہوں۔۔؟ - -
اتنے سالوں سے آپکا کیا گیا یہ ذہنی تشدد برداشت کر رہی ہوں اس کا کون حساب دے گا؟ "
جب آپ میری بہن اور ماں کو اتنی گندی گندی گالیاں اور باتیں کرتے ہیں آپ کیا جانیں میرے دل پر کیا گزرتی ہے۔ لیکن ہر چیز کی حد ہوتی اب مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہوتا۔
بیوی کا پارہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا۔۔
خیر جیسے تیسے منت سماجت کر کے سمجھا بجھا کے انکی صلح کروائی ۔۔
میرے موکل نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ اب کبھی اپنی بیوی کو گالی نہیں دے گا اور پھر وہ دونوں چلے گئے۔ اب ان کے گھر میں سکون ہے، چھوٹے موٹے مسائل تو گھروں میں آتے رہتے ہیں لیکن اب ان کے گھر پہلے والے حالات نہیں ہیں۔
جب یہ واقعہ ہوا تو میں کافی دیر تک وہیں چیمبر میں سوچ بچار کرتا رہا کہ گالیاں تو میں نے بھی اس خاتون کو اس کے پہلے جواب پر دل ہی دل میں بہت دی تھیں تو شاید میں بھی نامرد ہوں اور شاید ہمارا معاشرہ نامردوں سے بھرا پڑا ہے۔آپکی عورت نےاپنے ارمانوں کا سہرا آپ کے سر پر باندھا ھے اس کا مان مت توڑیں۔۔۔۔بلکہ اس کی تربیت اپنے مزاج کے مطابق کریں
منقول عورتیں اس معاشرے میں ۔
پاکستان میں ٹماٹر مہنگا کیوں ہے؟
____________________
پاکستان میں ٹماٹر کم و بیش ہر کھانے کی جان یے اس واسطے اس مانگ میں بڑھتی آبادی کے ساتھ اضافہ ہوا رہا۔ہے۔ اور سال بھر اسکی قیمت اوپر نیچے ہوتی یے یہاں تک کہ کئی مرتبہ یہ سونے کے مول مہنگا بِکتا ہے۔ آئے روز ملک میں روزمرہ کی مختلف سبزیوں کی مارکیٹ میں شارٹیج یا کمی رہتی ہے جس سے انکی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو جاتا ہے۔ مگر رکیے ٹماٹر سبزی نہیں بلکہ ایک پھل ہے۔ ویسے بینگن بھی پھل ہے۔ ٹماٹر کا سائنسی نام Solanum lycopersicum L ہے۔ گھبرائے نہیں آپ اسے ٹماٹر ہی کہیئے۔
یہ بات سن کر آپ شاید حیران ہوں کہ ہمارے آباؤ اجداد اور پُرکھوں کے کھانوں میں ٹماٹر نہیں ڈلتا تھا۔ زیادہ نہیں تین چار صدیاں پیچھے چلے جائیں تو برصغیر میں ٹماٹر تھا ہی نہیں۔ ٹماٹر دراصل لاطینی امریکہ اور میکسیکو میں اُگا کرتے تھے۔ پندرویں اور سولہویں صدی میں جب ہسپانویوں نے ان علاقوں پر قبضہ کیا تو یہاں کے مقامی لوگ ٹماٹروں کو اپنے کھانوں میں استعمال کیا کرتے تھے مگر یہ ٹماٹر سائز میں آج کے ٹماٹروں سے بے حد چھوٹے اور مٹر کے دانوں جتنے ہوتے۔ سولہویں صدی میں ٹماٹر یورپ آئے مگر انہیں کھانوں میں نہیں بلکہ زیادہ تر سجاوٹ کے طور پر اُگایا جاتا۔ برِ صغیر میں بھی ٹماٹر سولہویں صدی میں پرتگالیوں نے متعارف کرایا۔ پرتگالیوں نے ہی یہاں آلو اور مرچیں بھی متعارف کرائیں گویا برِ صغیر میں پہلے نہ ٹماٹر تھا، نہ آلو اور نہ مرچیں۔ یہ تصور کرنا آج کچھ مشکل ہے کہ ہمارے پّرکھوں کے کھانے ان تمام سبزیوں اور پھلوں کے بغیر کیسے پکتے ہونگے جو آج ہمارے ہر کھانے کے بنیادی اجزاء ہیں۔
مگر برِ صغیر کے کھانوں میں بھی سولہویں یا سترویں صدی میں ٹماٹر نہیں ڈلتا تھا۔ انیسویں صدی تک جب یورپ اور برطانیہ میں ٹماٹروں کو کھانوں میں استعمال کیا جانے لگا اور یہ مقبول ہوئے تو انگریزوں کو ٹماٹروں کی ضرورت پڑی۔ ایسے میں برِ صغیر کا موسم اور یہاں کی آب و ہوا ٹماٹر اُگانے کے لیے موافق تھی۔ لہذا انگریزوں نے بھارت میں ٹماٹر کو بڑے پیمانے پر کاشت کروانا شروع کیا جسے برطانیہ اور یورپ کی منڈیوں میں بھیجا جاتا۔ اُس زمانے میں بھی ہندوستانی کھانوں میں ٹماٹر محض ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا مگر آہستہ آہستہ یہ کھانوں کا بنُیادی جُز بنتا گیا۔
آج بھارت اور پاکستان میں 8 ہزار سے بھی اوپر کی ورائٹی کے ٹماٹر اُگتے ہیں۔ 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ٹماٹروں کی کُل سالانہ پیداوار تقریباً 57 ہزار ٹن ہے اور اسکی کاشت ملک کے ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر کے رقبے پر ہوتی ہے۔ دنیا بھر کی کُل ٹماٹروں کی پیدوار میں پاکستان کا حصہ محض 0.3 فیصد ہے۔ پاکستان میں ٹماٹروں کی تقریباً چالیس فیصد پیداور سندھ میں ہوتی ہے جسکے بعد بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب شامل ہیں۔ پنجاب میں ٹماٹروں کی پیداوار دوسرے صوبوں کی نسبت کم ہے۔ ٹماٹر کی سب سے زیادہ پیداوار فی ایکڑ بلوچستان میں ہوتی ہے۔
گو ٹماٹر ایک منافع بخش فصل ہے مگر کئی اہم مسائل کی وجہ سے کسانوں تک اسکا مناسب منافع نہیں پہنچتا۔ بلوچستان کے ٹماٹر اّگانے والا کاشتکار کو فی ایکڑ منافع پنجاب کے کاشتکار سے زیادہ ملتا ہے۔ اسکی ایک وجہ تو زیادہ پیداور فی ایکڑ جو سستی مزدوری اور مناسب موسم سے جّڑی ہے جبکہ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ پنجاب کا ٹماٹر مارکیٹ میں کٹائی کے سیزن کے عروج پر آتا ہے جس سے مارکیٹ میں زیادہ رسد ہونے کے باعث اسکی قیمت کم لگتی ہے۔ جبکہ بلوچستان اور سندھ کا ٹماٹر باقی موسموں میں بھی آتا ہے۔
چونکہ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہے لہذا سندھ اور بلوچستان سے آنے والے ٹماٹر کی ترسیل اور فاصلے کے باعث منڈیوں تک پہنچتے اسکی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی لئے ٹماٹر کی قیمت سارا سال بدلتی رہتی ہے کیونکہ مناسب سپلائی چین، سٹوریج اور منڈیوں میں حکومت کی جانب
قیمتوں پر مناسب کنٹرول نہ ہونے کے باعث ناجائز منافع خوری کے نتیجے میں اسکی قیمت عام شہری اور کسان کو ادا کرنی پڑتی ہے۔
ٹماٹر کے کاشتکاروں کے مسائل دیکھیں جائیں تو بہتر کوالٹی کا بیج نہ ہونا، ہائیبریڈ یا امپورٹڈ بیج کا مقامی موسم کی تبدیلیوں کو برداشت نہ کرنا، جڑی بوٹیوں اور کیڑوں کے تدارک کی ادوایات کی خراب کوالٹی، کھاد کی خراب کوالٹی اور قیمتوں میں اضافہ، پیکجنگ کے مسائل، مناسب تربیت اور جدید طریقوں کا فقدان اور کٹائی کے دنوں میں مزدورں کی کمی جیسے اہم مسائل پاکستان میں ٹماٹر کی کاشت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
ِان مسائل کا حل کیا ہے؟ حکومت کی کسان دوست پالیسیاں!!
1. کاشتکاروں کو مناسب اور جدید تربیت فراہم کرنا جس میں بیج کے چناؤ سے لیکر پیکجنگ تک تمام عوامل شامل ہوں۔
2.مقامی بیج پر تحقیق اور اسکی پیداوار کو مزید بہتر بنانا۔ شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلوں سے مزاحمت کرنے والے بیج پر کام
3. امپورٹڈ اور ہائبریڈ بیج کی کوالٹی کی حکومت کی جانب سے مناسب جانچ کے بعد ہی اسے مارکیٹ میں فروخت کی اجازت
4. کھاد اور کیڑے مار ادوایات کی کوالٹی اور قیمت پر کنٹرول
5. آڑھتی اور کمیشن ایجنٹوں پر کنٹرول اور اس حوالے واضح قانون سازی اور حکمتِ عملی جس سے کسانوں کے استحصال کو روکا جا سکے
6. خوراک کی مصنوعات پیدا کرنے والی پرائیویٹ کمپنیاں مثال کے طور پر نیسلے یا اینگرو وغیرہ سے معاہدے جو کسانوں کو اُنکی فصل کی مناسب قیمت بلا تاخیر ادا کریں۔
7. مارکیٹ میں ٹماٹروں کی قیمت کے اُتار چڑھاؤ کو روکنے کے لیے اس بات پر غور کہ اگر بھارت سے ٹماٹر درآمد کیے جائیں تو اسکے کیا فوائد اور نقصان ہو سکتے ہیں؟
پاکستان جیسے زرخیز اور زرعی ملک میں مقامی پیداوار ہونے کے باوجود سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں کا غریب عوام کی پہنچ سے دور ہونا اپنے آپ میں ایک سوالیہ نشان اور ریاستی اداروں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
*جنات کا سائنسی تجزیہ*
۔*****************
*جنات اللّٰہ کی مخلوق ہیں یہ ہمارا یقین ہے۔*
*وہ آگ سے پیدا کیے گئے، ان میں شیاطین و نیک صفت دونوں موجود ہیں۔ اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے یہ تھریڈ اس بارے میں نہیں ہے۔ یہ تھریڈ جنات کی سائینٹیفیک تشریح کے بارے میں ہے۔*
*سوال یہ ہے کہ کیا وہ ہمارے درمیان ہی موجود ہیں؟*
*اور زیادہ اہم سوال یہ کہ اگر موجود ہیں تو ہم انہیں دیکھ کیوں نہیں سکتے؟*
*لفظ "جن" کا ماخذ ہے ”نظر نہ آنے والی چیز“ اور اسی سے *جنت* یا جنین جیسے الفاظ بھی وجود میں آئے ۔*
*جنات آخر نظر کیوں نہیں آتے؟*
*اس کی دو وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں ۔*
*پہلی وجہ یہ کہ انسان کا ویژن بہت محدود ہے ۔ اللہ تعالٰی نے اس کائنات میں جو* *(electromagnetic spectrum)*
*بنایا ہے اس کے تحت روشنی 19 اقسام کی ہے ۔ جس میں سے ہم صرف ایک قسم کی روشنی دیکھ سکتے ہیں جو سات رنگوں پر مشتمل ہے ۔*
*میں آپ کو چند مشہور اقسام کی روشنیوں کے بارے میں مختصراً بتاتا ہوں :*
*> اگر آپ gamma-vision میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں تو آپ کو دنیا میں موجود ریڈی ایشن نظر آنا شروع ہو جائے گا ۔*
*> اگر آپ مشہور روشنی x-ray vision میں دیکھنے کے قابل ہوں تو آپ کے لیے موٹی سے موٹی دیواروں کے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی ۔*
*> اگر آپ infrared-vision میں دیکھنا شروع کر دیں تو آپ کو مختلف اجسام سے نکلنے والی حرارت نظر آئے گی ۔*
*> روشنی کی ایک اور قسم کو دیکھنے کی صلاحیت ultraviolet-vision کی ہو گی جو آپ کو انرجی دیکھنے کے قابل بنا دے گا ۔*
*> اس کے علاوہ microwave-vision اور radio wave-vision جیسی کل ملا کر 19 قسم کی روشنیوں میں دیکھنے کی صلاحیت سوپر پاور محسوس ہونے لگتی ہے ۔*
*کائنات میں پائی جانی والی تمام چیزوں کو اگر ایک میٹر کے اندر سمو دیا جائے تو انسانی آنکھ صرف 300 نینو میٹر کے اندر موجود چیزوں کو دیکھ پائے گی ۔۔*
*جس کا آسان الفاظ میں مطلب ہے کہ ہم کل کائنات کا صرف % 0.0000003 فیصد حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں ۔*
*انسانی آنکھ کو دکھائی دینے والی روشنی visible light کہلاتی ہے اور یہ الٹرا وائیلٹ اور انفراریڈ کے درمیان پایا جانے والا بہت چھوٹا سا حصہ ہے ۔*
*ہماری ہی دنیا میں ایسی مخلوقات موجود ہیں جن کا visual-spectrum ہم سے مختلف ہے ۔*
*سانپ وہ جانور ہے جو انفراریڈ میں دیکھ سکتا ہے ۔*
*ایسے ہی شہد کی مکھی الٹراوائیلٹ میں دیکھ سکتی ہے ۔*
*دنیا میں سب سے زیادہ رنگ مینٹس شرمپ کی آنکھ دیکھ سکتی ہے ،*
*الو کو رات کے گھپ اندھیرے میں بھی ویسے رنگ نظر آتے ہیں جیسے انسان کو دن میں ۔*
*امریکن کُک نامی پرندہ ایک ہی وقت میں 180 ڈگری کا منظر دیکھ سکتا ہے ۔*
*جبکہ گھریلو بکری 320 ڈگری تک کا ویو دیکھ سکتی ہے ۔*
*درختوں میں پایا جانے والا گرگٹ ایک ہی وقت میں دو مختلف سمتوں میں دیکھ سکتا ہے۔*
*جبکہ افریقہ میں پایا جانے والا prongs نامی ہرن ایک صاف رات میں سیارے saturn کے دائرے تک دیکھ سکتا ہے ۔*
*اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انسان کی دیکھنے کی حِس کس قدر محدود ہے اور وہ اکثر ان چیزوں کو نہیں دیکھ پاتا جو جانور دیکھتے ہیں ۔*
*ترمذی شریف کی حدیث نمبر ٣۴۵٩ : 3459 کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ :*
*جب تم مرغ کی آواز سنو تو اس سے اللہ تعالٰی کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب فرشتے کو دیکھتا ہے ۔*
*اور جب گدھے کی رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیوں کہ اس وقت وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔*
*جب میں نے مرغ کی آنکھ کی ساخت پر تحقیق کی تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مرغ کی آنکھ انسانی آنکھ سے دو باتوں میں بہت بہتر ہے :*
*پہلی بات کہ جہاں انسانی آنکھ میں دو قسم کے light-receptors ہوتے ہیں وہاں مرغ کی آنکھ میں پانچ قسم کے لائیٹ ریسیپٹرز ہیں ۔*
*اور دوسری چیز fovea جو انتہائی تیزی سے گزر جانے والی کسی چیز کو پہچاننے میں آنکھ کی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے مرغ ان چیزوں کو دیکھ سکتا ہے جو روشنی دیں اور انتہائی تیزی سے حرکت کریں۔*
*اگر آپ گدھے کی آنکھ پر تحقیق کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اگرچہ رنگوں کو پہچاننے میں گدھے کی آنکھ ہم سے بہتر نہیں ہے لیکن گدھے کی آنکھ میں rods کی ریشو کہیں زیادہ ہے اور اسی وجہ سے گدھا اندھیرے میں درختوں اور سائے کو پہچان لیتا ہے یعنی آسان الفاظ میں گدھے کی آنکھ میں اندھیرے میں اندھیرے کو پہچاننے کی صلاحیت ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔*
*البتہ انسان کی سننے کی حِس اس کی دیکھنے کی حس سے بہتر ہے اگرچہ دوسرے جانوروں کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے ۔*
*مثال کے طور پہ نیولے نما جانور بجو کے سننے کی صلاحیت سب سے زیادہ یعنی 16 ہرٹز (hertz) سے لے کر 45000 ہرٹز (hertz) تک ہے اور انسان کی اس سے تقریباً آدھی یعنی 20 ہرٹز (hertz) سے لے کر 20000 ہرٹز (hertz) تک ۔*
*اور شاید اسی لیے جو لوگ جنات کے ساتھ ہوئے واقعات رپورٹ کرتے ہیں وہ دیکھنے کے بجائے سرگوشیوں کا زیادہ ذکر کرتے ہیں ۔*
*ایک سرگوشی کی فریکوئنسی تقریباً 150 ہرٹز ہوتی ہے اور یہی وہ فریکوئنسی ہے جس میں انسان کا اپنے ذہن پر کنٹرول ختم ہونا شروع ہوتا ہے ۔ اس کی واضح مثال ASMR تھیراپی ہے۔ جس میں 100 ہرٹز کی سرگوشیوں سے آپ کے ذہن کو ریلیکس کیا جاتا ہے ۔*
*اس تھریڈ کے شروع میں ، میں نے جنات کو نہ دیکھ پانے کی دو ممکنہ وجوہات کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک تو میں نے بیان کر دی لیکن دوسری بیان کرنے سے پہلے میں ایک چھوٹی سی تھیوری سمجھانا چاہتا ہوں ۔*
*١٨٠٣ء : 1803ء میں ڈالٹن نامی سائنسدان نے ایک تھیوری پیش کی تھی کہ کسی مادے کی سب سے چھوٹی اور نظر نہ آنے والی کوئی اکائی ہو گی اور ڈالٹن نے اس اکائی کو ایٹم کا نام دیا ۔*
*اس بات کے بعد 100 سال گزرے جب تھامسن نامی سائنسدان نے ایٹم کے گرد مزید چھوٹے ذرات کی نشاندہی کی جنہیں الیکٹرانز کا نام دیا گیا ۔*
*پھر 7 سال بعد ردرفورڈ نے ایٹم کے نیوکلیئس کا اندازہ لگایا۔*
*صرف 2 سالبعد بوہر نامی سائنسدان نے بتایا کہ الیکٹرانز ایٹم کے گرد گھومتے ہیں اور*
*دس سال بعد ١٩٢٦ء : 1926 میں شورڈنگر نامی سائنسدان نے ایٹم کے اندر بھی مختلف اقسام کی انرجی کے بادلوں کو دریافت کیا ۔*
*جو چیز دو سو (٢٠٠) سال پہلے ایک تھیوری تھی ، آج وہ ایک حقیقت ہے ، اور آج ہم سب ایٹم کی ساخت سے واقف ہیں۔ حالانکہ اسے دیکھ پانا آنکھ کے لیے آج بھی ممکن نہیں ۔*
*ایسی ہی ایک تھیوری ١٩٦٠ء : 1960 میں پیش کی گئی جسے string theory کہتے ہیں ۔ اس کی ڈیٹیلز : تفسیل بتانے سے پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔۔*
*انسان کی حرکت آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ، اوپر اور نیچے ہونا ممکن ہے۔ جسے تین ڈائیمینشنز یا 3D کہتے ہیں ۔ ہماری دنیا یا ہمارا عالم انہی تین ڈائیمینشز کے اندر قید ہے ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے ۔*
*لیکن string theory کے مطابق مزید 11 ڈائیمینشنز موجود ہیں ۔ میں ان گیارہ کی گیارہ ڈائیمینشنز میں ممکن ہو سکنے والی باتیں بتاؤں گا ۔*
*١۔ اگر آپ پہلی ڈائیمینش میں ہیں تو آپ آگے اور پیچھے ہی حرکت کر سکیں گے ۔*
*٢۔ اگر آپ دوسری ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ آگے پیچھے اور دائیں بائیں حرکت کر سکیں گے ۔*
*٣۔ تیسری ڈائیمینشن میں آپ آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہر طرف حرکت کر سکیں گے اور یہی ہماری دنیا یا جسے ہم اپنا عالم کہتے ہیں ، ہے ۔*
*۴۔ اگر آپ کسی طرح سے چوتھی ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ وقت میں بھی حرکت کر سکیں گے ۔*
*۵۔ پانچویں ڈائیمینشن میں داخل ہونے پر آپ اس عالم سے نکل کر کسی دوسرے عالم میں داخل ہونے کے قابل ہو جائیں گے جیسا کہ عالمِ ارواح ۔*
*٦۔ چھٹی ڈائیمینشن میں آپ دو یا دو سے زیادہ عالموں میں حرکت کرنے کے قابل ہو جائیں گے اور میرے ذہن میں عالمِ اسباب کے ساتھ عالمِ ارواح اور عالمِ برزخ کا نام آتا ہے ۔*
*۷۔ ساتویں ڈائیمینشن آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ اس عالم میں بھی جا سکیں گے جو کائنات کی تخلیق سے پہلے یعنی بِگ بینگ سے پہلے کا تھا۔*
*٨۔ آٹھویں ڈائیمینشن آپ کو تخلیق سے پہلے کے بھی مختلف عالموں میں لے جانے کے قابل ہو گی ۔*
*٩۔ نویں ڈائیمینشن ایسے عالموں کا سیٹ ہو گا جن میں سے ہر عالم میں فزکس کے قوانین ایک دوسرے سے مکمل مختلف ہوں گے ۔ ممکن ہے کہ وہاں کا ایک دن ہمارے پچاس ہزار سال کے برابر ہو ۔*
*١٠۔ آخری اور دسویں ڈائیمینشن اس میں آپ جو بھی تصور کر سکتے ہیں ، جو بھی سوچ سکتے ہیں اور جو بھی آپ کے خیال میں گزر سکتا ہے ، اس ڈائیمینشن میں وہ سب کچھ ممکن ہو گا ۔*
*اور میری ذاتی رائے کے مطابق جنت ۔۔۔ شاید اس ڈائیمینشن سے بھی ایک درجہ آگے کی جگہ ہے کیوں کہ*
*حدیث قدسی میں آتا ہے کہ جنت میں میرے بندے کو وہ کچھ میسر ہو گا جس کے بارے میں نہ کبھی کسی آنکھ نےدیکھا ، نہ کبھی کان نے اس کے بارے میں سنا اور نہ کبھی کسی دل میں اس کا خیال گزرا ۔*
*اور دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ میرا بندہ وہاں جس چیز کی بھی خواہش کرے گا وہ اس کے سامنے آ موجود ہو گی ۔*
*بالیقین جنات ، ہم سے اوپر کی ڈائیمینشن کے beings ہیں اور یہ وہ دوسری سائینٹیفیک وجہ ہے جس کی بناء پر ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔*
*ان دس ڈائیمینشنز کے بارے میں جاننے کے بعد آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ :*
*جنات کے بارے میں قرآن ہمیں ایسا کیوں کہتا ہے کہ وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ،*
*یا پھر عفریت اتنی تیزی سے سفر کیسے کر سکتے ہیں جیسے سورۃ سباء میں ذکر ہے کہ ایک عفریت نے حضرت سلیمانؑ کے سامنے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا دعویٰ کیا تھا ۔*
*یا پھر کشش ثقل کا ان پر اثر کیوں نہیں ہوتا اور وہ اڑتے پھرتے ہیں ۔*
*یا پھر کئی دوسرے سوالات جیسے عالم برزخ ، جہاں روحیں جاتی ہیں ،*
*یا عالم ارواح جہاں تخلیق سے پہلے اللہ تعالٰی نے تمام ارواح سے عہد لیا تھا کہ تم کسی اور کی عبادت نہیں کرو گے اور سب نے ہوش میں اقرار کیا تھا ،*
*یا قیامت کے روز دن کیسے مختلف ہو گا ،*
*یا شہداء کی زندگی کس عالم میں ممکن ہے ۔*
*ان تمام عالموں یعنی عالم برزخ ، عالم ارواح یا عالم جنات کے بارے میں تحقیقی طور پر سوچنا ایک بات ہے ،*
*لیکن جس چیز نے ذاتی طور پر میرے دل کو چھوا ......*
*وہ سورۃ فاتحۃ کی ابتدائی آیت ہے ۔*
*" الحمد للہ ربّ العالمین "*
*تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ، جو تمام عالموں کا ربّ ہے ۔*
*اور میں سمجھتا ہوں کہ " تمام عالم " کے الفاظ کا جو اثر اب میں اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں ، وہ پہلے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔*
واللہ اعلم۔
#منقول
سکردو کے ایک جج صاحب واقعہ سناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ میری عدالت میں ایک نوجوان وکیل تھا اس نے پی ایچ ڈی فزکس کر رکھی تھی اور وکالت کے پیشے سے منسلک تھا انتہائی زیرک تھا بات انتہائی مدلل کرتا تھا اس کی خوبی یہ تھی کہ وہ ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا میری وہاں پوسٹنگ کے دوران میں نے اسے کبھی کوئی کیس ہارتے ہوئے نہیں دیکھا میں اس کی سچائی کا اتنا گرویدہ تھا کہ بعض دفعہ اس کی بات پر بغیر کسی دلیل کے میں فیصلہ سنا دیتا تھا اور میرا فیصلہ ٹھیک ہوتا تھا وہاں تعنیات ہر جج ہی ان کا گرویدہ تھا پوری عدالت میں سب ہی اس کا احترام کرتے تھے بعض مواقعوں پر ججز صاحبان اس سے کیس ڈسکس کر کے فیصلہ کرتے تھے میں اتنا اس کے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجو اس فیلڈ میں آنے اور پھر جج بن جانے کی اہلیت ہونے کے باوجود وکیل رہنے کی وجہ جاننا چاہتا تھا بہت کوشش کے بعد اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے یہ سوال اس سے پوچھ ہی لیا...اس نے بتایا کہ میرے نانا انتہائی غریب تھے ان کی اولاد میں بس دو ہی بیٹیاں تھیں انہوں نے بھٹے پر محنت مزدوری کر کے اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوائی ان کی پرورش کی اور پھر ان کی شادیاں کیں میری والدہ کی قسمت اچھی تھی وہ گورنمنٹ سکول میں ٹیچر لگ گئیں جب کہ میری خالہ کو سرکاری ملازمت نہ مل سکی میرے نانا نے بھٹہ سے قرض لے کر اپنی بیٹیوں کی شادی کی میری والدہ نے گھریلو اخراجات سے بچت کر کے میرے نانا کی قرض اتارنے میں مدد کی مگر پھر میرے والد صاحب نے ان کو منع کر دیا تو میرے نانا خود ہی قرض کے عوض مزدوری کرنے لگے جب کہ دوسری طرف میری خالہ کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی تو انہوں نے میری خالہ کو تنگ کرنا شروع کر دیا کئی بار مار پیٹ کر کے میری خالہ کو گھر سے نکالا گیا پھر گاؤں والوں کی مداخلت سے ان کو راضی کر کے بھیجا گیا اور تیسرے مہینے پھر وہ سسرال والوں کے ہاتھوں مار کھا کر والد کی دہلیز پر آ بیٹھیں یہاں تک کہ أخری بار جب ان کے سسرال والے ان کو لے کر گئیے تو ان کے شوہر نے دوسری شادی کر لی اور میرے خالہ کو اس شرط پر ساتھ رکھنے کی ہامی بھر لی کہ گھر کے سارے اخراجات میرے نانا اٹھائیں گے میرے نانا بیٹی کا گھر بسانے کی خاطر مزید مقروض ہوتے گئیے اور پھر سردیوں کی ایک دھند میں لپٹی ہوئی صبح کو جب وہ سائیکل پر جا رہے تھے تو گنے سے بھرے ٹرالے کے نیچے أ گئیے اور اس دنیا سے کوچ کر گئیے جب میرے نانا فوت ہوئے تو تب بھی مقروض تھے....میری والدہ نے میرے والد سے چوری اپنا زیور بیچ کر میرے نانا کے قرض ادا کئیے ان کی تجہیزو تکقین کا انتظام کیا اس معاملے میں میرے دادھیال والوں نے میری والدہ سے کوئی تعاون نہ کیا یہاں تک کہ میرے والد نے بھی نہیں
نانا کی وفات کے بعد میری خالہ کے سسرال والوں نے میری خالہ کو مجبور کرنا شروع کر دیا کہ وہ میری والدہ سے گھر کے اخراجات کا مطالبہ کرے میری خالہ نے انکار کر دیا تو ان کو طلاق ہو گئی مگر نہ تو ان کو ان کا سامان واپس کیا گیا اور نہ ہی زیور بلکہ ان کا حق مہر بھی نہ دیا گیا
میری واالدہ اور خالہ کے پاس آخری سہارا قانون کا تھا اور قانون طاقتور کی باندی ھے میری والدہ اور خالہ نے ہائی کورٹ تک کیس لڑا مگر اپنا حق نہ لے سکیں اور پھر خالہ ہائی کورٹ میں کیس سنوائی کی پیشی کے بعد واپس آئیں اور خود سوزی کر لی ان کے کی تجہیزو تکفین بھی میری والدہ کے ذمہ تھی.میری والدہ نے یہ کام بھی بخوبی کیا مگر بہن کی موت کے بعد ان کا چہرہ بجھ گیا یہاں تک کہ میری کامیابی پر میری والدہ خوش نہ ہوتیں تو یہاں تک کہ جب میں نے پی ایچ ڈی کی تو میرے دور پار کے سارے رشتہ دار خوش ہوئے مگر میری ماں کے چہرے پر پہلے جیسی خوشی نہیں تھی.میں نے اس رات مصلے پر بیٹھی دعا مانگتی اپنی ماں کو اپنے سینے سے لگا لیا اور پوچھا کہ آپ کی اداسی کی وجہ کیا ہے ؟
میری والدہ نے مصلے کو تہہ کیا اور کہا کہ میں چاہتی ہوں تم وکیل بنو
زندگی میں پہلی بار میری والدہ نے کسی خواہش کا اظہار کیا تھا میں نے وجہ پوچھی تو میری والدہ نے الٹا سوال داغ دیا تھا کہ أپ کو پتہ ہے آپ کی خالہ نے خودکشی کیوں کی تھی میں نے کہا نہیں تو میری والدہ نے جواب دیا کہ تمہاری خالہ کے پاس وکیل کی فیس کے پیسے نہیں تھے تو وکیل نے جسم کا تقاضا کیا تھا
میری خالہ نے اس دن گھر آ کر خود کشی کر لی تھی اس دن میرے دل میں خواہش آئی تھی کہ میں اپنے بیٹے کو وکیل بناؤں گی ایسا وکیل جو پیسوں کے عوض جسم کا مطالبہ نہیں کرے گا ایسا وکیل جو مظلوم کو انصاف چھین کر لے دے گا مگر میں کبھی تمہارے والد اور تمہارے ڈر سے اس خواہش کا اظہار نہیں کر سکی میری والدہ نے بات مکمل کر کے رونے لگی تو میں نے ان کے قدم چومے اور وعدہ کیا کہ میں ایسا ہی وکیل بنوں گا اور پھر وکالت میں داخلہ لے لیا میرے اس فیصلے سے تمام فیملی میمبر اور دوست احباب حیران تھے مگر میری والدہ بہت خوش تھیں میں جب تک جاگ کر پڑھتا رہتا تھا میری والدہ میرے ساتھ جاگ کر أیت الکرسی پڑھ کر مجھ پر پھونکتی رہتی تھی میں نے وکالت میں بھی گولڈ میڈل لیا اور اپنی ماں کا خواب پورا کر دیا مگر افسوس کہ میری والدہ اس خواب کی تعبیر نہ دیکھ سکیں۔۔۔۔
میں وکیل بننے کے بعد ہمیشہ سچ کے لئیے لڑا میں نے کبھی کسی ظالم کو سپورٹ نہیں کیا میں ہر کامیابی پر اپنی والدہ کی قبر پر جاتا ہوں مگر ایک عرصہ تک میری والدہ مجھے خواب میں نہیں ملیں چند ماہ پہلے میں نے ایک یتیم لڑکی کا کیس لڑا نہ صرف اس کا سامان اور حق مہر لے کر دیا بلکہ اس کے بچوں کا ماہانہ خرچ بھی لے کر دیا اس دن جب والدہ صاحبہ کی قبر پر گیا تو رات کو میری والدہ خواب میں مجھے ملیں اسی مصلے سے اٹھ کر مجھے سینے سے لگایا اور مجھ پر کچھ پڑھ کر پھونکا اس دن مجھے لگا کہ میں نے زندگی کا مقصد حاصل کر لیا ہے۔۔۔۔!!
اہلیت ہوتے ہوئے بھی جج نہ بننے کی وجہ یہ ہے کہ بطور جج مجھ پر پریشر آ سکتا ہے مگر بطور وکیل کوئی مجھے مجبور نہیں کر سکتا میں حلال طریقہ رزق سے اتنا کما لیتا ہوں کہ گزارا ہو جاتا ہے بس میں اتنے میں ہی خوش و مطمئن ہوں
جج صاحب بتاتے ہیں کہ پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ عزت عہدے میں نہیں اعمال میں ہوتی ہے.
ہمدرد حسینی کی وال سے منقول در منقول
دا پشتو متل دے چے رشتیا رازی نو دروغو کلی وڑی وی۔
۔سوشل میڈیا پر کمرشل مرغی(برائلر) اور اس سے کینسر کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کینسر پر ریسرچ کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ برائلر مرغی کے خوراک میں ایسے اجزاء شامل ہے جو کہ برائلر مرغی کے خوراک سے مرغی میں اور پھر مرغی کے گوشت سے انسانوں میں کینسر بیماری کا سبب بنتا یے۔ یہاں پر تین بہت ہی بنیادی باتیں سب سے پہلے بیان کرتا ہوں۔ 1. ؟خیبرپختونخواہ میں کینسر پر ریسرچ کس نے کیا ہے، کہاں پر کیا ہیں اور کینسر کے بنیادی وجہ کو جاننے کے لئے کون سا ماڈل استعمال کیا ہے۔؟خیبر پختونخوا میں آج تک کینسر کے بنیادی تحقیق کا کوئ منظم ادارہ نہیں ہے کلینیکل انکالوجی کے میدان میں خیبر پختونخوا بہت زیادہ پیچھے ہے ،جدید کینسر ریسرچ کا خیبرپختونخوا میں سرے سے کوئی ادارہ ہی نہیں ہیں ۔ 2. برائلر مرغی دنیا میں سب سے زیادہ برازیل میں پیدا ہوتی ہیں اور برازیل کی برائلر پوری دنیا میں ترقی یافتہ ممالک میں اور غیر ترقی یافتہ ممالک میں بر آمد کہ جاتی ہے اور برازیل کے برائلر کا سب سے بڑا خریدار امریکہ اور یورپ ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ کہ برازیل کا برائلر وزن میں اور غذائیت میں بہت اچھا اور قیمت میں کم ہوتا ہے۔۔ برازیل اور جدید ترقی یافتہ ممالک جس میں امریکہ بھی شامل ہے کہ سائنسی تحقیقاتی اداروں کے سامنے خیبرپختونخوا کے تخقیقی اداروں کی کوئی حیثیت ہی نہیں وہاں پر برائلر کو بہترین غذائیت سے بھرپور زود ہضم اور سستے پروٹین کے طور پر منتخب کیا گیا ہے 3. برائلر مرغی کا خوراک)(پولٹری فیڈ) کس چیز سے بنتا ہے ، 70سے 75 فیصد اس میں مکئ استعمال ہوتا ہے ، باقی اس میں سویابین (سفید لوبیا) چاول کا پالش ، وٹامنز، خشک مچھلی کا پاوڈر، انزائم ، کیلشیم سورس، گڑ یا مولیسز ۔اب آئیے کہ کینسر کیوں ہوتا ہے ۔ پاکستان میں اپکو ہزار قسم کی بد ترین اجزاء سے بنی ہوئی پاپڑ ، چپس، زہریلی رنگوں میں رنگے ہوئے بسکٹ، دو نمبر اور دس نمبر ایلوپیتھک ،ہومیوپھتک، اور نیوٹراسیوٹکل ادویات ، ڈاکٹروں کی بد ترین لالچ اور غیر ضروری نسخے ،ہسپتالوں اور آپریشن تھیٹر میں گندے آلات جراحی اور ناتجربہ کار جراح، انتہائی مضر صحت زرعی ادویات کی فصلوں پر، پھلوں پر اور آبپاشی کے پانی میں اندھا دھند استعمال ۔۔ ۔۔۔۔۔۔برائلر کو بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرکے خود بھی کھاؤ ۔پاکستان کی پولٹری انڈسٹری کا حجم اربوں میں ہے، پندرہ لاکھ سے زیادہ افراد براہ راست اور بلواسطہ طور پر پولٹری کے کاروبار سے وابستہ ہے ،پاکستان میں برائلر مرغی کی سب سے بڑا پیداواری صوبہ پنجاب ہے، برائلر مرغی کے گوشت کا سب سے زیادہ استعمال پنجاب میں ہوتا ہے کینسر کے بڑے بڑے کلینیکل اور ریسرچ ادارے پنجاب میں ہیں اور وہ صوبہ خیبر پختونخوا جہاں ایک دن کا ایک برائلر چوزہ پیدا نہیں ہوتا ،جہاں پر پولٹری ھیچری نام کا پورے صوبے میں کوئی یونٹ نہیں ،جہاں پر پولٹری انڈسٹری کی کوئی خاطر خواہ ترقی نظر نہیں ارہی، جہاں پر گنتی کے چند کمرشل پرائیویٹ کنٹرول شیڈ ہے وہ بھی زیادہ تر بند ہیں اور کینسر کے ریسرچ اور برائلر مرغی کی ساری کارستانی صرف اور صرف اس معصوم اور غریب صوبے کے حصے میں آئی۔ مہم چلانی ہے تو کیمیکلز ملا مصنوعی دودھ کے خلاف مہم چلاؤ ، ڈبہ بند ٹی وائٹنرز جو دودھ کے نام پر پاکستان میں استعمال ہوتا ہے اس پر آواز اٹھاؤ ،سب سٹینڈرڈ اور جعلی ادویات،ھربل دوائیں ،کاسمیٹکٹس جس کی پچاس سے زیادہ ایف ایم ریڈیوز اور ٹی وی پر RJs پبلیسٹی کرتے ہیں اور مرد اور عورتیں ان ادویات کی وجہ سے مختلف ہارمونل غیر توازن کا شکار ہے۔ ۔جعلی،کرپٹ اور فراڈیا ٹائپ لوگوں کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے جنہوں نے اس معاشرے کو کینسر کی طرح لپیٹ میں لیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر خالد خان پرنسپل ریسرچ آفیسر/لائیو سٹاک ڈپارٹمنٹ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Mansehra