GHS Darband

GHS Darband

Share

Information

03/08/2021

بچوں اور نوجوانوں کو وقت نہ ضایع کرنے دیں ورنہ بہت نقصان ہو جائے گا۔ ان پر سختی کریں۔

ویڈیو گیم اور فلموں سے انہیں باہر نکالیں۔۔ ان کو وہ علم سکھا ئیں جو اسکول میں نہیں سکھائے جاتے۔۔
اردو اور انگریزی بہترین کروائیں۔۔دین تاریخ جغرافیہ اور ادب پڑھائیں۔۔

جسمانی ورزش اور ہنر سکھایں۔

حکومت نے آنے والی نسلوں کی تعلیم کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ اگر آپ خود سنجیدہ نہ ہوئے تو ڈگریوں میں کچھ نہیں رکھا اب۔۔

اپنے بچوں کو لازما ہاتھ کے ہنر بھی سکھایں۔۔۔ ابتدائی طبی امداد First AID اور مشکل حالات میں بقاے زندگی کے طریقے سکھائیں۔

جانور ذبح کرنا اور تیار کرنا سکھائیں اور اپنا دفاع کرنے کا طریقے سکھائیں۔ سبزیاں پھل اگانا سکھائیں۔

بدقسمتی سے ہماری نوجوان نسل انتہائی غیر سنجیدہ ہے۔۔۔

اس کو کوئی احساس نہیں ہے کہ موجودہ دور اور آنے والا وقت کتنی مشکلات کا ہے۔۔

نہ اس نسل کے پاس تعلیم ہے نہ تربیت، نا یہ سنجیدہ مضامین میں دلچسپی رکھتی ہے اور نہ ہی کوئی ہنر اور علوم اور نہ ہی زبانیں جانتی ہے۔ نہ اردو لکھ سکتی ہے نہ انگریزی۔ اردو کو بھی رومن میں لکھا جارہا ہے۔

تمام تعلیمی ادارے ایک گستاخ بےادب اور جاھل نسل تیار کر رہے ہیں۔۔۔ بچی کھچی کسر حکومت نے لاک ڈاؤن لگا کر پوری کر دی۔۔

ابھی تو بچوں کو بہت مزے آ رہے ہیں، مگر آگے جا کے یہ بہت روئیں گے۔ نہ ان کے پاس اعلی تعلیم ہوگی نہ کوئی ہنر۔۔۔ آرام طلب جاھل اور گستاخ نسل زندگی کی دوڑ میں خوار ہوگی۔

اپنی اولاد کو مستقبل کے لئے بروقت تیار کرنا آپکا فرض ہے۔ انہیں ادب و اخلاق گھر پر سکھائیں یہ چیزیں سکولوں میں نہیں سکھائی جاتیں۔ انہیں زندگی گزارنے کے دیسی طریقے سکھائیں، موبائل کمپیوٹر بجلی کے بغیر زندگہ گزارنا سکھائیں۔
Copy

Photos from GHS Darband's post 03/07/2021

⚠️⚠️اگر ٹینسز اب تک آپ کیلئے مسئلہ بن رہے ہیں تو یہ بہترین کتاب آپ کیلئے بہت مددگار ثابت ہوگی، کتاب مفت میں حاصل کریں اس لنک سے👇
https://angrezify.com/way-of-tenses-book-for-tenses-in-urdu/
یا کمینٹ میں پی ڈی ایف لکھیں
بلکل آسان طریقہ سے ٹینسز سیکھئے اور اپنی انگلش بہتر بنائیے۔۔

Photos from GHS Darband's post 01/06/2021
28/05/2021

رشک وطن
1936 میں انڈیا بھوپال میں پیدا ہونے والا ایک بچہ 1952 میں سر پر ٹرنک اٹھائے ، جس میں چند جوڑے کپڑے اور کتابیں ہیں پاکستان کی طرف ہجرت کرتا ہے ۔
کھوکھراپار کے ریلوے سٹیشن پر اترنے کے بعد پاکستان کے بارڈر پر تک سات کلو میٹر سفر ہے۔
یہ سفر وہ پیدل چلتا ہے راستہ میں ریت زیادہ ہونے کی وجہ سے جوتوں کے ساتھ سفر کرنا مشکل ہوجاتا ہے جس سے وہ جوتے اتار کر ننگے پاوءں چلنا شروع کر دیتا ہے ۔
بارڈر تک پہنچنے تک اسکے پاوءں پر چھالے پڑ جاتے ہیں۔ انڈیا کی آخر چوکی پر اس کے پاس موجود اسکا سب سے پیارا پارکر پین ایک سکھ سپائی یہ کہ کر لے لیتا ہے کہ تم پاکستان جا کر نیا قلم لے لینا جس پر وہ کہتے ہیں جسے اللہ پاک قلم اور علم عطاء کر دے اس سے کوئی لے نہیں سکتا یہ پین کیا چیز ہے اللہ پاک مجھے پاکستان میں اور بہت کچھ دے گا ۔
یہ نوجوان 16 برس یورپ میں جا کر برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی ، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلف ، اور بیلجیم کی یونیورسٹی آف لیوءن سے پڑھنے کے بعد 1976 میں پاکستان واپس آجاتے ہیں ۔
یہاں پاکستان کی ریسرچ لبارٹیریز کہوٹہ میں شمولیت اختار کرتے ہیں اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو مکمل کرنے میں دن رات مصروف عمل ہوجاتے ہیں ۔
آخرکار وہ دن آجاتا ہے کہ جب اس ننگے پاوءں چل کر آنے والے نوجوان کی دن رات کی محنتوں کا ثمر ملتا ہے اور پاکستان 28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کر کے پہلی مسلم ایٹمی قوت کا اعزاز حاصل کرتی ہے تو آج ہم کیوں نہ کہیں شکریہ محسن پاکستان شکریہ رشک وطن شکریہ💖💗 ڈاکٹر عبدالقدیر خان 💖💗
تمام اہل وطن کو یوم تکبیر 28 مئی مبارک ہو

24/05/2021

👈جس کو نماز کا ترجمہ و تشریح نہیں آتی اس کا نماز میں زیادہ دل نہی لگتا اسکو پتہ نہی ہوتا وہ کیا پڑھ رہا ھے آئیں نماز سیکھیں اور دوسروں کو سکھائیں....!

*ثـنــــاء*
سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ.
اے ﷲ! ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں، تیری تعریف کرتے ہیں، تیرا نام بہت برکت والا ہے، تیری شان بہت بلند ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں.

*تعـــــــوذ*
أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ.
میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا / مانگتی ہوں

*تســـــمیہ*
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
ﷲ کے نام سے جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

*سورۃ الفـــــــاتحہ*
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَO الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِO مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِO إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُO اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَO صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْO غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَO
*تمام خوبیاں, تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کی پرورش فرمانے والا ہے, نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہے, روزِ جزا کا مالک ہے, ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں, ہمیں سیدھا راستہ دکھا, ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا, ان لوگوں کا نہیں جن پر غضب کیا گیا ہے اور نہ (ہی) گمراھوں کا.

*سورۃ الاخـــــــلاص*
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌO اللَّهُ الصَّمَدُO لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْO وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌO
آپ فرما دیجئے ک: وہ ﷲ ھے جو یکتا ہے, ﷲ سب سے بے نیاز، سب کی پناہ اور سب پر فائق ہے, نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ پیدا کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ہمعسر ہے.

*رکـــــــوع*
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِيْمِ.
پاک ہے میرا پروردگار عظمت والا.

*قـــــومہ*
سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ.
ﷲ تعالیٰ نے اس بندے کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی.

رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ.
اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں.

*سجـــــــدہ*
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلَی.
پاک ہے میرا پروردگار جو بلند تر ہے.

*تشـــــــہد*
التَّحِيَّاتُ ِﷲِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِیُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اﷲِ الصّٰلِحِيْنَ. أَشْهَدُ أَنْ لَّا اِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ.
تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں ﷲ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور ﷲ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر اور ﷲ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں.

*درودِ اِبــــراہیـمی*
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو، تین یا چار رکعت والی نماز کے قعدہ اخیرہ میں ہمیشہ درودِ ابراہیمی پڑھتے جو درج ذیل ہے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ.
اَللّٰهُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ.
اے ﷲ! رحمتیں نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور ان کی آل پر، جس طرح تونے رحمتیں نازل کیں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر، بے شک تو تعریف کا مستحق بڑی بزرگی والا ہے.
اے ﷲ! تو برکتیں نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور ان کی آل پر، جس طرح تونے برکتیں نازل فرمائیں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر، بے شک تو تعریف کا مستحق بڑی بزرگی والا ہے.

*دعائے ماثــــــورہ*
درود شریف کے بعد یہ دعا پڑھیں :
رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِo رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَءَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُo
*اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم رکھنے والا بنا دے، اے ہمارے رب! اور تو میری دعا قبول فرما لےo اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو (بخش دے) اور دیگر سب مومنوں کو بھی، جس دن حساب قائم ہوگا...

تحــــریری غلطــی ہو گئــی ہو
تـــو معـــذرت خـــــواہ ہـوں🙏

16/05/2021

رویتِ ہلال:
چاند کی رویت (نظر آنا) کا کوئی تعلق ملکوں کی جغرافیہ سے نہیں ہے، ملکوں کا تصور اور اُن کی جغرافیائی سرحدوں کی حدود کا تعین جدید انسانی عمل ہے جبکہ چاند کی رویت ایک فطرتی/فلکیاتی عمل ہے جو ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں، اربوں سالوں سے جاری و ساری لہذا ہمیں چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کو ملکوں کی جغرافیائی سرحدوں سے نہیں جوڑنا چاہیے۔
اگر زمین کے کسی بھی مقام سے چاند دیکھنے کی شہادت مل جاتی ہے تو اُس کو مرکز مان کر نئے قمری مہینے کا آغاز کیا جاسکتا ہے اسی لیے اگر اس عمل کو ایک کلیہ (formula) مان لیا جاۓ تو پھر عرب کا خطِ زمین مسلمانوں کے قمری کیلنڈر کا معیار (standards) بن سکتا ہے جس سے مسلمانوں کے درمیان چاند کی رویت کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے مگر کیونکہ عرب ایک مخصوص فقہی اور مسلکی سوچ رکھتے ہیں جو بہت سے دوسرے خطوں کے فقہی اور مسلکی سوچ سے مختلف ہے اسی لیے وہ لوگ اس معیار کو تسلیم نہیں کرتے ہیں جس کی وجہ سے اسلامی دنیا میں قمری کیلنڈر پر اختلاف پایا جاتا ہے جس کی بنیاد پر ہر فقہاء/مسلک اپنے اپنے طور پر نئے قمری مہینے کا آغاز کرتا ہے تو اصل مسئلہ چاند کی رویت کا نہیں ہے بلکہ ایک فقہاء/مسلک کا دوسرے فقہاء/مسلک کی بالادستی کو قبول نہ کرنے کا ہے۔
ساتھ ہی ساتھ اس بات کا سمجھنا بھی بہت ضروری ہے کہ قمری کیلنڈر صرف مسلمانوں کے تہواروں کا حوالہ (reference) نہیں ہے بلکہ دنیا کی کئی دوسری قومیں بھی نئے چاند کو دیکھ کر اپنے اپنے تہوار مناتی ہیں مثلاً چین کے نئے سال (Chinese New Year) کا تہوار جو قمری کیلنڈر کی بنیادی پر ہی منایا جاتا ہے جس پر چینیوں میں بظاہر کوئی اختلاف نظر نہیں آتا ہے کیونکہ اُنہوں نے چاند کی رویت کا ایک معیار بنا لیا ہے۔
خلاصہ: اگر مسلمان بھی آپس میں فقہی/مسلکی اختلافات سے بلند ہو کر سوچتے ہیں اور زمین کے کسی بھی مقام پر چاند کی رویت کو معیار تسلیم کر لیتے ہیں تو پھر وہ بھی نئے قمری مہینے کا آغاز ایک ساتھ کر سکتے ہیں جس سے یہ اُمید پیدا ہو سکتی ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان بھی ایک ساتھ اپنا تہوار منائیں اور اگر ہم ایسا معیار بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر لوگوں کو اپنے اپنے معیاروں پر نئے قمری مہینے اور اُن سے منسلک تہواروں کو اپنے طور پر منانے پر کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہیے جس کی وجہ سے اس بات کے امکانات ہمیشہ موجود رہیں گے کہ ایک ہی ملک میں ایک ہی تہوار کو مختلف دونوں میں منایا جاۓ جو دراصل موجودہ صورتحال ہے پس یا تو مسلمان رویتِ ہلال کا کوئی معیار بنائیں یا پھر ہر ایک فقہاء/مسلک کو اپنے اپنے معیار پر تہوار منانے دیں۔
(

16/05/2021

آپ کے بچے
بھلے آپ سے پوچھیں یا نا پوچھیں،
آپ انہیں یہ ضرور بتایا کیجیئے

کہ ہم فلسطین سے اس لیئے محبت کرتے ہیں کہ:
01: یہ فلسطین انبیاء علیھم السلام کا مسکن اور سر زمین رہی ہے۔
02: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی۔
03: اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو اس عذاب سے نجات دی جو ان کی قوم پر اسی جگہ نازل ہوا تھا۔
04: حضرت داؤود علیہ السلام نے اسی سرزمین پر سکونت رکھی اور یہیں اپنا ایک محراب بھی تعمیر فرمایا۔
05: حضرت سلیمان علیہ اسی ملک میں بیٹھ کر ساری دنیا پر حکومت فرمایا کرتے تھے۔

06: چیونٹی کا وہ مشہور قصہ جس میں ایک چیونٹی نے اپنی باقی ساتھیوں سے کہا تھا "اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھس جاؤ" یہیں اس ملک میں واقع عسقلان شہر کی ایک وادی میں پیش آیا تھا جس کا نام بعد میں "وادی النمل – چیونٹیوں کی وادی" رکھ دیا گیا تھا۔
07: حضرت زکریا علیہ السلام کا محراب بھی اسی شہر میں ہے۔
08: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسی ملک کے بارے میں اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ اس مقدس شہر میں داخل ہو جاؤ۔ انہوں نے اس شہر کو مقدس اس شہر کے شرک سے پاک ہونے اور انبیاء علیھم السلام کا مسکن ہونے کی وجہ سےمنقولھا۔

09: اس شہر میں کئی معجزات وقوع پذیر ہوئے جن میں ایک کنواری بی بی حضرت مریم کے بطن سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ولادت مبارکہ بھی ہے۔
10: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب اُن کی قوم نے قتل کرنا چاہا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں اسی شہر سے آسمان پر اُٹھا لیا تھا۔
11: ولادت کے بعد جب عورت اپنی جسمانی کمزوری کی انتہاء پر ہوتی ہے ایسی حالت میں بی بی مریم کا کھجور کے تنے کو ہلا دینا بھی ایک معجزہ الٰہی ہے۔
12: اسی شہر کے ہی مقام باب لُد پر حضرت عیسٰی علیہ السلام مسیح دجال کو قتل کریں گے.
13: اسی شہر سے ہی یاجوج ماجوج کا زمین میں قتال اور فساد کا کام شروع ہوگا.
14: اس شہر میں وقوع پذیر ہونے والے قصوں میں سے ایک قصہ طالوت اور جالوت کا بھی ہے۔

15: فلسطین کو نماز کی فرضیت کے بعد مسلمانوں کا قبلہ اول ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ہجرت کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام دوران نماز ہی حکم ربی سے آقا علیہ السلام کو مسجد اقصیٰ (فلسطین) سے بیت اللہ کعبہ مشرفہ (مکہ مکرمہ) کی طرف رخ کرا گئے تھے۔ جس مسجد میں یہ واقعہ پیش آیا وہ مسجد آج بھی مسجد قبلتین کہلاتی ہے۔
16: حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم معراج کی رات آسمان پر لے جانے سے پہلے مکہ مکرمہ سے یہاں بیت المقدس (فلسطین) لائے گئے۔

17: سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کی اقتداء میں انبیاء علیھم السلام نے یہاں نماز ادا فرمائی۔ اس طرح فلسطین ایک بار پھر سارے انبیاء کا مسکن بن گیا۔

18: سیدنا ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ زمین پر سب سے پہلی مسجد کونسی بنائی گئی؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ مسجد الحرام(یعنی خانہ کعبہ)۔ میں نے عرض کیا کہ پھر کونسی؟ (مسجد بنائی گئی تو) آپﷺ نے فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ (یعنی بیت المقدس)۔ میں نے پھر عرض کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ آپﷺ نے فرمایا کہ چالیس برس کا اور تو جہاں بھی نماز کا وقت پالے ، وہیں نماز ادا کر لے پس وہ مسجد ہی ہے۔

19: وصال حبیبنا صل اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ارتداد کے فتنہ اور دیگر
کئی مشاکل سے نمٹنے کیلئے عسکری اور افرادی قوت کی اشد ضرورت کے باوجود بھی ارض شام (فلسطین) کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تیار کردہ لشکر بھیجنا بھی ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے۔

20: اسلام کے سنہری دور فاروقی میں دنیا بھر کی فتوحات کو چھوڑ کر محض فلسطین کی فتح کیلئے خود سیدنا عمر کا چل کر جانا اور یہاں پر جا کر نماز ادا کرنا اس شہر کی عظمت کو اجاگر کرتا ہے۔

21: دوسری بار بعینہ معراج کی رات بروز جمعہ 27 رجب 583 ھجری کو صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں اس شہر کا دوبارہ فتح ہونا بھی ایک نشانی ہے۔

22: بیت المقدس کا نام قدس قران سے پہلے تک ہوا کرتا تھا، قرآن نازل ہوا تو اس کا نام مسجد اقصیٰ رکھ گیا۔ قدس اس شہر کی اس تقدیس کی وجہ سے ہے جو اسے دوسرے شہروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اس شہر کے حصول اور اسے رومیوں کے جبر و استبداد سے بچانے کیلئے 5000 سے زیادہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے جام شہادت نوش کیا۔ اور شہادت کا باب آج تک بند نہیں ہوا، سلسلہ ابھی تک چل رہا ہے۔ یہ شہر اس طرح شہیدوں کا شہر ہے۔
23: مسجد اقصیٰ اور بلاد شام کی اہمیت بالکل حرمین الشریفین جیسی ہی ہے۔ جب قران پاک کی یہ آیت (والتين والزيتون وطور سينين وهذا البلد الأمين) نازل ہوئی ّ تو ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم نے بلاد شام کو "التین" انجیر سے، بلاد فلسطین کو "الزیتون" زیتون سے اور الطور سینین کو مصر کے پہاڑ کوہ طور جس پر جا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ پاک سے کلام کیا کرتےتھے سے استدلال کیا۔
24 اور قران پاک کی یہ آیت مبارک (ولقد كتبنا في الزبور من بعد الذكر أن الأرض يرثها عبادي الصالحون) سے یہ استدلال لیا گیا کہ امت محمد حقیقت میں اس مقدس سر زمین کی وارث ہے۔

25: فلسطین کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے یہاں پر پڑھی جانے والی ہر نماز کا اجر 500 گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے.

منقول

14/05/2021

سمندر کے نظام
قارئین ! جب ہم ارتقائی سائنس دانوں سے پوچھتے ہیں کہ پانی جو زندگی کے لئے انتہائی ضروری ہے وہ صرف ہماری ہی زمین پر کیوں ہے ؟
تو جواب ملتا ہے کہ یہ ایک اتفاق ہے ۔
کیا واقعی یہ ایک اتفاق ہے ؟
ذرا اس پوسٹ میں جائزہ لیتے ہیں کہ یہ "ایک" اتفاق ہے یا اتفاقات کا ایک طویل سلسلہ ہے جو ختم ہی نہیں ہو رہا ۔
صرف پانی کے معاملات کا تجزیہ کریں تو اتفاقات کی لائن لگ جاتی ہے ۔
کیسے ؟
آیئے سمجھتے ہیں ۔
اگر آپ سائنس سے سوال پوچھیں کہ زمین پر پانی کیوں ہے ؟
تو جواب ہو گا ۔
چونکہ زندہ رہنے کے لئے پانی درکار تھا لہٰذا پانی آگیا ۔
کہاں سے ؟
پتہ نہیں ۔
کیا یہ جواب تسلی بخش ہے ؟
کیا اس میں ایک ڈیزائنر کا اعتراف نہیں آتا کہ جسے پتہ تھا کہ جس مخلوق کو ڈیزائن کیا جا رہا ہے اس کا پانی کے بغیر گزارا نہیں ؟
پانی کیوں ضروری ہے ؟
پانی اگر نہ ہوتا تو زمین پر زندگی وجود میں نہیں آسکتی تھی ۔ آج بھی اگر پانی کسی وجہ سے ختم ہو جائے تو زندگی شائد کچھ ہی گھنٹوں میں دم توڑ دے ۔ اس میں انسان جانور پودے کیڑے یا جرثومے کی کوئی قید نہیں ۔ ہر وہ چیز جسے آپ زندہ کہیں وہ پانی کے بغیر مردہ ہو جائے گی ۔
مگر پانی کا خاتمہ ممکن نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کرتے بلکہ اسے بس اپنے جسموں میں سے گزارتے ہیں ۔ جس طرح بیرونی جسم کو پانی سے دھونے کو ہم نہانا کہتے ہیں ۔ بالکل وہی کام اندرونی جسم کے لئے ہم پانی پینے کی صورت میں کرتے ہیں ۔
پانی کا ایک چھوٹا واٹر سائیکل ہے جسے سب جانتے ہیں ۔ سورج کا سمندر پر آگ برسانا ۔ پانی کا بخارات بن کر اڑنا ۔ بادل بنانا ۔ ہوا کا بادلوں کو چلانا اور پھر بارش کی شکل میں برس جانا ۔ یہ ایک چھوٹا سا واٹر سائیکل ہے ۔
مگر پانی کا ایک بہت بڑا واٹر سائکل بھی ہے ۔ اس واٹر سائیکل میں تمام زندہ اجسام آجاتے ہیں ۔
تمام اجسام اپنی اپنی ضرورت کے مطابق پانی جذب کرتے ہیں ۔ جب تک یہ اجسام زندہ رہتے ہیں ان کے جسموں میں پانی کی ایک مخصوص مقدار ہمیشہ موجود رہتی ہے ۔ پھر جب وہ جسم مردہ ہو جاتا ہے تو وہ پانی اس جسم سے الگ ہو کر دوبارہ زمین کا حصہ بن جاتا ہے ۔ یعنی ضائع کسی بھی صورت نہیں ہوتا ۔
اب اگلا سوال
سمندر کا پانی نمکین کیوں ہے ؟
جواب : نمک پہاڑوں سے بارش کے پانی کے ساتھ بہتا ہوا آتا رہا اور سمندر میں ملتا رہا حتیٰ کہ سمندر نمکین ہو گیا ۔
تو کیا یہ جواب تسلی بخش ہے ؟
یہ تو کیسے کا جواب ہے ۔ میرا سوال تو کیوں پر مبنی تھا ۔
اس سوال کو تھوڑا سا گھناؤنا کر دیتے ہیں ۔
ہم سائنس سے اس سوال سے پہلے ایک اور سوال پوچھ لیتے ہیں ۔
اگر سمندر میں نمک نہ ہوتا تو کیا ہوتا ؟
سائنس ایک آہ بھر کر جواب دے گی کہ پھر اس زمین پر کسی حیات کا کوئی وجود نہ ہوتا ۔ نہ ہم ہوتے نہ تم ہوتے ۔ کوئی زندہ نہ ہوتا ۔
وجہ ؟
وجہ یہ کہ میٹھے پانی کا اتنا بڑا ذخیرہ بہت زیادہ عرصے تک محفوظ نہیں رکھا جا سکتا ورنہ اس میں تعفن پھیل جائے گا جو پوری حیات کے لئے بذات خود ایک خطرہ بن جائے گا ۔ اس دنیا میں 36 کروڑ مربع کلو میٹر پر سمندر ہے ۔ یعنی زمین پر ایک حصہ خشکی ہے اور تین حصے پانی ۔ اور اگر یہ سارا پانی تعفن زدہ ہو جائے تو پوری زمین کو لپیٹ میں لے لے گا ۔
اس جواب کے بعد اب آپ پہلے والا سوال دوبارہ دہرائیں ۔
سمندر کا پانی نمکین کیوں ہے ؟
اور جواب ہو کہ نمک پہاڑوں سے بارش کے پانی کے ساتھ بہتا ہوا آتا رہا اور سمندر میں ملتا رہا حتیٰ کہ سمندر نمکین ہو گیا ۔
کیا اب یہ جواب تسلی بخش ہے ؟
مجھے لگتا ہے کہ اب یہ جواب اس سے کروڑھا گنا زیادہ غیر تسلی بخش ہو چکا ہے جتنا پہلے تھا ۔
یعنی اگر تو معاملہ یہ ہے کہ سمندر کے نمکین ہونے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا تو پھر ہماری بلا سے نمک جہاں سے مرضی آکر سمندر میں شامل ہو جائے ۔
مگر اگر ہمیں یہ پتہ چل جائے کہ سمندر میں ملا نمک ہماری زندگی اور موت سے جڑا ہے تو پھر اگلا سوال یقیناً ڈیزائنر کا اٹھے گا ۔
وہ کون ہے جو یہ جانتا تھا کہ سمندر لازمی طور پر نمکین ہونا چاہئے ؟
اگلا سوال ۔
سمندر میں لہریں کیوں پیدا ہوتی ہیں ؟
جواب یہ ہے کہ ہوا کے دباؤ اور چاند کی کشش کی وجہ سے سمندر میں لہریں پیدا ہوتی ہیں ۔
کیا یہ جواب تسلی بخش ہے ؟
یہ بھی کیسے کا جواب ہے کیوں کا نہیں ۔
تو آیئے وہی پچھلا تجربہ یہاں بھی دہرا کر اس سوال کو بھی تھوڑا گھناؤنا کر دیں ۔
اگر سمندر میں لہریں پیدا نہ ہوتیں تو کیا ہوتا ؟
جواب وہی ہے ۔ نہ ہم ہوتے نہ تم ہوتے نہ یہاں کوئی حیات ہوتی ۔
وجہ ؟
وجہ یہ کہ سمندر میں جو نمک جا رہا ہے اس کا صرف سمندر میں جانا کافی نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا پانی میں حل ہونا بھی انتہائی ضروری ہے ۔ جیسے ایک گلاس میں آپ دو چمچے نمک کے ڈال لیں ۔ مگر اس کو حل نہ کریں تو اس نمک کے اثرات صرف گلاس کی تہہ تک رہیں گے ۔ بالکل اسی طرح اگر پانی میں لہریں نہ ہوں تو نمک تہہ میں جمع ہوتا رہے گا مگر پانی میں حل نہیں ہو گا اور نتیجہ وہی تعفن ۔
اب ذرا بیٹھ کر سوچیئے کہ سمندر میں اچھال کا سبب محض ہوا اور کشش ہی ہے ؟
یا کوئی ہے جو ہر حال میں ہماری زندگی چاہتا ہے ؟
اگلا سوال ۔
بارش کیوں ہوتی ہے ؟
جواب یہ ہے کہ سورج اپنی تپش پانی پر برساتا ہے اور پانی بخارات کی شکل میں اڑ جاتا ہے بادل بنتے ہیں ۔ پھر ہوا ان بادلوں کو چلاتی ہے ۔ پھر وہ بادل خشکی پر جا کر برس جاتے ہیں اور وہ پانی ہم پیتے ہیں ۔
کیا یہ جواب تسلی بخش ہے ؟ اسے بھی تھوڑا گھناؤنا کر لیں ؟
اگر بارش نہ ہوتی اور ہم سمندر کا پانی بغیر اس فلٹر کے نظام کے براہ راست پیتے تو کیا ہوتا ؟
اس کا سائنسی جواب یہ ہے کہ ہم مر جاتے ۔
کیوں ؟
کیوں کہ نمک ملے پانی کو اول معدہ قبول ہی نہیں کرتا اور اگر قبول کر بھی لے تو وہ ڈی ہائیڈریشن کا سبب بن جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بیچ سمندر میں لوگ میٹھا پانی نہ ہونے کے سبب پیاس سے تو مر سکتے ہیں مگر سمندری پانی پی نہیں سکتے ۔
اب یہاں اتفاقات کا ایک طویل سلسلہ دیکھیئے ۔
زمین پر پانی کی موجودگی ؟
اتفاق ۔
پانی کا نمکین ہونا ؟
اتفاق ۔
پانی میں لہروں کا پیدا ہونا ؟
اتفاق ۔
پھر اس نمکین پانی کو نمک سے علیحدہ کر کے بادلوں کے راستے شفاف کر کے انسان پر برسا کر اسے پینے کا پانی فراہم کرنا ؟
اتفاق ۔
کیا آپ ان تمام اتفاقات سے اتفاق کرتے ہیں ؟

03/05/2021

سوال
آخر ایک منٹ میں 60 سیکنڈ یا ایک گھنٹے میں 60 منٹ کیوں ھوتے ھیں 100 کیوں نہیں۔

الجواب۔ یہ قدیم بابل کے باشندوں کی ایجاد ہے جو کم و بیش ساڑھے تین ہزار سال پُرانی ایک تہذیب تھی ان کا گنتی کا نظام ساٹھ پر بُنیاد کرتا تھا اس کے علاوہ انہوں نے ہی دائیرے کو
360
ڈگری میں تقسیم کیا تھا۔ قدیم دور میں کسریں یعنی
fractions
نہیں ہوا کرتی تھیں تو اہمیت اس بات کی تھی کہ کوئی ایسا نمبر ہو جو بہ آسانی بہت سے فیکٹرز میں تقسیم ہوجائے لیکن یہ اتنا بڑا بھی ہو کہ آسانی سے وقت کا حساب کیا جاسکے اب ذرا غور کریں
60
کے فیکٹرز کیا ہیں، تو یہ بنتے ہیں

1,2,3,4,5,6,10,12,15,20,30,60
اب ایک سادہ سے موازنے کے لئے ایک سو کے فیکٹرز دیکھئے
1,2,4,5,10,20,25,50,100
تو یہ آسان تھا کہ ایک گھنٹہ ساٹھ منٹ اور ایک منٹ ساٹھ سیکنڈ کا ہو کہ اس کو آسانی سے بہت سے نمبروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ یہ اسقدر سہل اور آسان نطام تھا کہ آج تک اس کو بدلا نہیں جاسکا۔

Want your school to be the top-listed School/college in Mansehra?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Mohalla Islamabad
Mansehra