Muslims community

Muslims community

Share

kiani's vlog

16/11/2025

ایک دفعہ کا ذکر ہے
ایک دن ایک کتا جنگل میں بھٹک گیا۔
اچانک اس نے دیکھا کہ ایک شیر اس کی طرف بڑھا آ رہا ہے۔

کتے کی سانس رک گئی۔
وہ بولا، "آج تو کام تمام ہوا میرا!"

پھر اس نے اپنے سامنے کچھ ہڈیاں پڑی دیکھیں۔
فوراً وہ آتے ہوئے شیر کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ گیا اور ایک سوکھی ہڈی کو چوسنے لگا۔

پھر بلند آواز میں بولا:
"واہ! شیر کے گوشت کا تو مزہ ہی الگ ہے...
کاش ایک اور مل جائے تو پوری دعوت ہو جائے!"

یہ سن کر شیر رک گیا اور سوچ میں پڑ گیا۔
اس نے دل ہی دل میں کہا،
"یہ کتا تو شاید شیروں کا شکار کرتا ہے، بہتر ہے جان بچا کر نکل جاؤں۔"
یوں وہ الٹے قدموں واپس مڑ گیا۔

درخت پر بیٹھا ایک بندر یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔
اس نے سوچا،
"یہ تو موقع ہے! شیر کو پوری بات بتا دوں تو دوستی بھی ہو جائے گی اور زندگی بھر کا خوف بھی ختم ہو جائے گا۔"

یہ سوچ کر بندر فوراً شیر کے پیچھے بھاگا۔
کتے نے بندر کو جاتے دیکھا تو سمجھ گیا کہ کوئی گڑبڑ ضرور ہونے والی ہے۔

ادھر بندر نے شیر کو پوری کہانی سنا دی کہ کس طرح کتے نے اسے بیوقوف بنایا تھا۔
یہ سنتے ہی شیر غصے سے دھاڑا اور بولا:
"چل میرے ساتھ! ابھی اس کی تکا بوٹی کر دیتا ہوں!"

شیر نے بندر کو اپنی پیٹھ پر بٹھایا اور دونوں کتے کی طرف چل پڑے۔

کتے نے شیر کو آتے دیکھا تو ایک بار پھر اس کے ہوش اُڑ گئے، مگر فوراً ہمت جمع کی۔
اس نے ایک بار پھر شیر کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ گیا اور زور سے بولا:

"اس بندر کو بھیجے ایک گھنٹہ ہو گیا... سالا ابھی تک ایک شیر بھی پھنسا کر نہیں لا پایا!"

یہ سنتے ہی شیر نے گھبرا گیا اور بندر کو زمین پر پٹخا اور الٹے پاؤں واپس بھاگ گیا۔
نتیجہ:
حالات جیسے بھی بدتر ہو جائیں، اگر تم اپنے حواس قائم رکھو اور خوداعتمادی بحال رکھو، تو ہر مشکل کا حل نکل آتا ہے۔ ہر جوڑ کا اک توڑ ہوتا ہے۔
#منقول 😅😅😅
_________________________________
ایسی ہی مزاحیہ/طنزیہ/اصلاحی کہانیاں پڑھنے کے لیے میری پروفائل فالو کر لیں۔
Askari Foundations Anwaar Ur Rehman Asad Maroof Sundus Altaf Muqddar Shahzad

16/09/2025

جب انسان اپنی خواہشات کے پیچھے دوڑتا ہے تو سکون محسوس نہیں کرتا، اور جب توقعات بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں تو مایوسیاں بڑھتی ہیں۔ اصل آزادی تب ملتی ہے جب انسان اپنی خواہشات پر قابو رکھے اور اپنی توقعات صرف اللہ سے وابستہ کرے۔ 💖🌟🎉

25/07/2025

*زندگی کا بوجھ ہلکا کرنا سیکھیں*

کہتے ہیں نا، ہر شخص اپنے کندھوں پر کوئی نہ کوئی بوجھ لیے پھرتا ہے… کبھی مسائل کا، کبھی یادوں کا، کبھی پچھتاووں کا۔

*لیکن یاد رکھیے! ہر بوجھ کے لیے دوا ضروری نہیں…*
*کبھی کبھار صرف نیت بدلنے، نظر کا زاویہ بدلنے اور خیر بانٹنے سے دل کا دباؤ اُتر جاتا ہے۔*

کسی کو مسکرا کر سلام کرنا…
کسی بچے کو چاکلیٹ یا گیند دے دینا…
کسی کے لیے ٹھنڈا پانی رکھ دینا…
کسی اجنبی کو دعا دے دینا…

*یہ سب ایسے کیمیکل فری علاج ہیں جو نہ صرف آپ کو سکون دیتے ہیں بلکہ دل کو روحانی شفا بھی عطا کرتے ہیں۔*

یاد رکھیے…

*جو بوجھ انسان خود نہیں اتارتا، وہ جسم، دل یا دماغ کہیں نہ کہیں تھکا ہی دیتا ہے۔*
*تو پھر کیوں نہ آج اپنی گٹھڑی خود ہی اتار دیں۔*

*کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیں، دوا کے بغیر جینے کا لطف آج ہی محسوس کریں۔*
اور ہاں...
اللہ آپ کو بھی اور آپ کے دل کو بھی آسانیاں عطا فرمائے! آمین

📌 آج کی نیت:
*"خود بھی ہلکے ہوں، دوسروں کا بوجھ بھی ہلکا کریں۔"*

پوسٹ اچھی لگے تودوسروں کی بھلائ کے لئے شیئر ضرور کریں

_*🫡🫣

whatsapp.com

17/07/2025

That's why I admire Canada 🤩🎉👏💕
Justin traudo🤗🤗

27/05/2025

Good perspective..... 🤩👍💡

19/05/2025

ایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا ،


طالب علم شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے ،
پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا
موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے اور سبزے کی بہتات ہو جاتی ہے ، اس موسم کو اونٹ بہت پسند کرتے ہیں اور اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ
پرنسپل صاحب نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ مناسبت کی وجہ سے بہار کی بجائے اونٹ پر لکھ بیٹھا ہو آپ اسے کوئی اور موضوع دے کر دیکھتے
استاد صاحب نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ اس سے کہا کہ تم اس طرح کرو کہ جاپان میں گاڑیوں کی فیکٹری پر مضمون لکھو۔ اس طالب علم نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا
جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور گاڑیوں کی صنعت میں اس کو منفرد و اعلی مقام حاصل ہے۔ جاپان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے گاڑیاں برآمد کرنے میں۔ ہمارے ملک میں بھی زیادہ تر گاڑیاں جاپان کی استعمال ہوتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں پیٹرول کی قیمت بہت زیادہ ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم سواری کے لیے اونٹ کا استعمال کریں اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرنسپل بہت حیران ہوا اس نے کہا کہ شاید سواری کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے ، آپ بالکل ہی کوئ الگ موضوع دے کے دیکھتے ۔ استاد صاحب نے کہا جی ایک دفعہ میں نے بالکل ہی الگ موضوع دیا جس میں اونٹ کا ذکر آنا ہی ناممکن تھا میں نے اسے کمپیوٹر پر مضمون لکھنے کو کہا لیکن اس نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا
کمپیوٹر ایک نہایت ہی حیران کن ایجاد ہے۔ جو کام پہلے سالوں میں نہیں ہوتے تھے وہ آج سکینڈوں میں ہوتے ہیں ۔کمپیوٹر کا انسانی زندگی پر بہت بڑا احسان ہے۔ آج کل کی نئی نسل کمپیوٹر کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔اس کا استعمال زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں جو تعلیم یافتہ ہوں۔ لیکن جہاں تک غیر تعلیم یافتہ طبقے کا تعلق ہے تو وہ کمپیوٹر پر توجہ نہیں دیتے کیوں کہ وہ اور سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ بالخصوص صحراوں میں جو بدھوں رہتے ہیں ان کو تو کمپیوٹر کا الف سے با نہیں پتہ۔ لہذا ہمارے علاقے میں یہ لوگ زیادہ تر وقت اونٹ کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرنسپل نے یہ سنکر کہا کہ پھر تو آپ نے ٹھیک فیل کیا ، پھر طالب علم سے کہا کہ میں آپ کو ایک موقع دیتا ہوں آپ بہیں بیٹھ کر ایک مضمون لکھو جو موضوع سے ادھر ادھر نہ ہٹے ، طالب علم مان گیا اور پرنسپل نے اسے ایک روڈ ایکسیڈنٹ پر مضمون لکھنے کو کہتا ہے تو طالب علم یوں مضمون لکھتاہے
ایک دفعہ میں ریاض سے مکہ جا رہا تھا۔ میرے پاس ٹویوٹا کرسیڈا گاڑی تھی جو بڑی مست تھی۔ میں جناب ہائی وے ہے پر بہت ہی تیز رفتاری کے ساتھ جا رہا تھامیں ایسے علاقے سے گزر رہا تھا جہاں پر اونٹ روڈ کراس کرتے ہیں۔ اور اونٹ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ ہی گاڑی سے ڈرتا ہے اور نہ ہی دور ہٹتا ہے۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب پرنسپل صاحب نے یہ مضمون پڑا تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ تمہارا کوئی علاج نہیں اور اس کو فیل کردیا۔ اب جناب اس شاگرد کا شک یقین میں بدل گیا کہ اس کے ساتھ ضرور بالضرور ظلم ہوا ہے اور اس نے محکمہ تعلیم کو ایک درخواست لکھی
جناب عالی
میں اپنی کلاس کا ایک نہایت ہی ذہین طالب علم ہوں اور مجھے سالانہ امتحان میں جان بوجھ کر فیل کر دیا گیا ہے ، میرے استاد نے میری قابلیت کی وجہ سے مجھے فیل کیا ہے ، جناب میں نے اپنے استاد کے ناقابل برداشت رویے پر ایسے ہی صبر کیا جیسے اونٹ اپنے مالک کے ستانے پر صبر کرتا ہے۔ مالک اونٹ سے اپنے کام بھی نکلواتا ہے اور اس کو ستاتا بھی ہے۔ اور ہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں

19/05/2025

Agree???

18/05/2025

مجید چاچا بڑے خوش تھے کہ آخر کار 30 سال پردیس کاٹ کر اب وہ ہمیشہ کیلیئے پاکستان واپس جا رہے تھے، ہر کسی سے گلے مل رہے تھے ان کے چہرے پر خوشی نمایاں تھی، میں بھی پردیسی ہوں مجھے 15 سال ہوئے ان کو دیکھ کر مجھے بھی خیال آیا کہ ایک دن میں بھی ہمیشہ کیلیئے پردیس چھوڑ دونگا
مگر فی الحال مجید چاچا کی خوشیوں میں سے ہی خوشیاں بانٹ رہا تھا

ساری رات مجید چاچا نے خوشی سے جاگ کر گزاری اگلی صبح انہیں ائیرپورٹ چھوڑا اور واپس آ گیا، میں اپنے کام کاج میں لگ گیا اور مجید چاچا پاکستان پہنچ گئے، خیریت دریافت کرنے کیلیئے فون کیا انہیں خوش پایا دل کو اور بھی تسلی ہو گئی

ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ میں آفس سے گھر آیا دیکھتا ہوں مجید چاچا بیٹھے ہوئے ہیں، چہرہ مرجھایا ہوا کندھے جھکے ہوئے، میں نے حیران ہو کر پوچھا چاچا آپ یہاں واپس کیسے؟

مجید چاچا نے آٹھ کر مجھے گلے لگایا اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگے، میں اتنا گھبرا گیا تھا کہ میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے، میں نے چاچا کو زور سے گلے لگایا اور انہیں چپ کرانے کی کوشش کرنے لگا

چاچا کے آنسو شاید پاکستان میں ہی خشک ہو چکے تھے، میں نے کھانا بنایا مجید چاچا نماز پڑھنے لگ گئے، کھانے سے فارغ ہو کر میں نے دریافت کیا چاچا بتائیں تو سہی ہوا کیا ہے

چاچا نے بتایا کہ ان کے 3 بیٹے 2 بیٹیاں ہیں، دونوں بیٹیوں کی شادی یہاں رہ کر ہی کر دی تھی بیٹے تینوں ابھی کنوارے ہیں اور نوکری وغیرہ کرتے ہیں

چاچا نے کہا جس دن وہ گھر پہنچے سب ٹھیک تھا، انہیں مہمان کی طرح عزت دی گئی، دو دن بعد ہی ایک بیٹے کو رات دیر سے گھر آنے کی وجہ سے ذرا سا ڈانٹ دیا تو جواب میں بیٹے نے کہا آپ آئے ہیں تو عزت سے رہیں زیادہ تحقیقات نہ کیا کریں کہ میں کہاں جا رہا ہوں کہاں سے آ رہا ہوں

چاچا خاموش ہو گئے، اگلے روز چچا نے خود ہی اس بیٹے کو پاس بٹھا کر اس سے معذرت کی اور اس کا موڈ ٹھیک کیا
مزید دو دن گزرے تو دروازے پر دستک ہوئی، باہر کوئی لڑکا ان کے بڑے بیٹے کو بلانے آیا تھا، اسی بیٹے نے دروازہ کھولا، ڈرائنگ روم میں بیٹھے چاچا مجید اپنے بیٹے کی اسکے دوست سے گفتگو سن رہے تھے

دوست کہہ رہا تھا 4 دن ہو گئے ہیں تُو رات کو باہر نہیں آتا ہم تیرا انتظار کرتے رہتے ہیں، بیٹے کا جواب تھا، یار ابا آیا ہوا ہے، یہ چلا جائے تو آزادی ملے گی، جب سے آیا ہے ناک میں دم کر رکھا ہے...

اسکے الفاظ چچا مجید کے دل میں خنجر کی طرح پیوست ہو رہے تھے، شاید چاچا کے کانوں نے ہی مزید سننے کی طاقت گنوا دی

چاچا بیہوش ہو گئے، وہ کئی گھنٹے اسی کمرے کے فرش پر گرے پڑے رہے جب ہوش آیا تب بھی خود کو اکیلے ہی پایا، چچا کی بیوی اپنی محلے کی چند خواتین کے ساتھ شاپنگ کرنے گئی ہوئی تھی اور بیٹے گھر سے باہر تھے

چچا اپنے خالی مکان کی دیواروں سے عجیب باتیں کرنے لگے، کبھی کہتے میں کہاں غلط ہوں؟ کیا میں اتنا غلط ہوں؟ میں نے کیا نہیں کیا؟ کیا میں اتنا غیر اہم ہوں؟

اسی رات چچا نے کھانے کی ٹیبل پر صرف اپنے لئے کھانا دیکھا، باقی سب باہر سے کھا کر آئے تھے، چچا نے گلہ کرنا چاہا کہ انکے ساتھ کھانے کی ٹیبل پر بیٹھ ہی جاتے، مگر مزید تکلیف دہ جواب نہ سننے کا حوصلہ تھا نہ ہی سوال کیا، کھانا کھایا اور لیٹ گئے

اگلی صبح چچا نماز کیلیئے اٹھے وضو کر رہے تھے کہ بیٹے کی زوردار گرجتی آواز آئی، کون شور کر رہا ہے اس وقت؟

چچا معصوم سے بچے کی طرح ڈر سے گئے اور وضو ادھورا چھوڑ کر مسجد چلے گئے وہیں وضو کیا اور نماز پڑھی، نماز کے بعد دعا مانگتے ہوئے چچا رونے لگ گئے تبھی امام مسجد نے چچا کو پوچھا کیا ہوا بڑے میا روتے کیوں ہو؟

چچا نے سارا ماجرا بیان کیا، اور امام صاحب سے پوچھا کہ آپ ہی بتائیں مجھے اب کیا کرنا چاہیئے

امام صاحب جو بہت بزرگ تھے فرمانے لگے، اب تُو کچھ نہیں کر سکتا سوائے برداشت کے یا ان کیلیئے ہدایت کی دعا کرنے کے، جو وقت تیرے بچوں کی تربیت کا تھا وہ تُو نے پردیس میں گزار دیا، اب وہ بچے نہیں رہے، انہیں جس طرح کی پرورش ملی وہ ویسے بن چکےاب یا برداشت کر یا ان سے الگ ہو کر کہیں اور رہ لے

چچا واپس گھر گئے، بیوی سے تمام حال بیان کیا، بیوی نے بھی کہہ دیا میں تو پہلے ہی کہتی تھی کہ واپس آ کر کیا کرو گے، وہاں تو پھر بھی نوکری تھی پیسہ تھا یہاں فارغ رہ کر بچوں سے طعنے ہی سننے ہیں

چچا کو اپنے کانوں پر تیسری بار یقین نہ آیا کہ یہ ان کا وہم ہے کوئی ڈراونا خواب ہے یا کڑوی حقیقت

غرض چچا نے بینک میں رکھی ہوئی رقم سے واپسی کا ٹکٹ خریدا اور بنا کسی کو بتائے وہ اپنے گھر کے دروازے کو چوم کر یہ کہتے ہوئے نکلے کہ اے میرے وہم کے تو میرا گھر ہے، میں تجھ میں تو رہنا چاہتا ہوں پر وہم میں نہیں...

چاچا کی باتیں سن کر میری آنکھوں سے نکلتے آنسو میرے سینے تک کو تر کر گئے تھے، سناٹے کو توڑتے ہوئے مجید چاچا کی ہلکی سی آواز نکلی، جہانزیب، میں اب پاکستان کبھی نہیں جاؤں گا، جب میں نہ رہا تو مجھے یہیں پردیس میں ہی دفن کردینا

میں چچا کے ساتھ لپٹ کر زور زور سے رونے لگا، کیونکہ میرا دل بھی ڈرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہیں پاکستان میں بنایا گیا میرا گھر بھی وہم تو نہیں؟

Muhabbat Khan


゚viralシfypシ゚viralシalシ

07/04/2025

⚡اپنی بیوی کو لے آؤ ⚡

آج صبح ہمارا ایک نوجوان کسٹمر جو کبھی کبھار اپنی بیوی کے ساتھ یہاں بریانی کھانے آتا ہے، ریسٹورنٹ میں آیا اور مجھے کہنے لگا کہ میں کرسمس کے سیزن میں ایک سٹور پہ ملازم تھا۔ اب بزنس سلو ہوگیا ہے تو اُنھوں نے مجھے فائر کر دیا ہے۔ اب اس شدید ترین سردی میں میرے پاس اور میری بیوی کے پاس سردیوں کے کپڑے نہیں ہیں۔ مجھے کچھ پیسے ادھار دے دیں۔
میں نے کہا جاؤ بیوی کو لے آؤ۔ بے چارہ بڑا پریشان ہوا کہ قاضی صاحب نے میری بیوی کا کیا کرنا ہے؟
میں نے اسے دوبارہ کہا تو وہ چلا گیا اور کوئی آدھے گھنٹے میں بیوی کو لے کر آگیا۔ میں اس کی بیوی اور اسے لے کر کچن میں گیا اور کلے ہانڈی کے شیف سے کہا کہ ان سے 400 سموسے بنوائیں۔ صبح 11 سے سہ پہر 3 بجے تک انھوں نے سموسے فرائی کرکے ایلومینیم ٹرے میں سجا دیے۔ میں نے جاننے والے ایک انڈین اور ایک کشمیری گروسری سٹور والے کو کال کی۔ انھیں صورت حال بتائی تو ان دونوں نے کہا بھیج دیں۔ ابھی رات 10 بجے دونوں واپس آئے ہیں۔ 2 سٹوروں پر چند ٹوٹے ہوئے سموسوں کے علاوہ وہ سارے سموسے بیچ آئے ہیں۔ لفافے انھیں دکانداروں نے دے دیے تھے، املی اور پودینے کی چٹنی میں نے ساتھ دے دی تھی۔ 2 ڈالر فی سموسہ کے حساب سے تقریبًا 760 ڈالر انھوں نے آج کمائے ہیں۔ میری فوڈ کاسٹ 30 ڈالر تھی، سموسے کی میدے کی شیٹ اور اندر کا مسالہ شیف نے ان سے بنوایا تھا۔ ابھی بریانی کھاکر وہ گھر کو پدھارے اور میں توفیق اور موقع دینے پر اللہ پاک کا شکر ادا کر رہا ہوں۔

آپ مچھلی نہ دیں
مچھلی پکڑنے کا سامان دیں
مچھلی اُنھیں خود پکڑنے دیں
یہی ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ آپ نے امداد کے طالب ایک شخص کو گھر سے پیالہ اور چٹائی لانے کا حکم فرمایا اور مسجد نبوی میں خود کھڑے ہوکر ان دو اشیا کی بولی لگائی اور ملنے والی رقم سے رسی اور کلھاڑی منگوا کر اس میں اپنے دستِ مبارک سے دستہ ڈال کر انھیں جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنی اور اپنے خاندان کی کفالت کا حکم فرمایا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کے ناتے آپ کی اتباع اور سنت پر عمل ہمیں دین اور دنیا میں ایک ممتاز مقام عطا کر سکتا ہے
مچھلی نہیں مچھلی پکڑنے کا سامان دیں
بلا تخصیصِِ ؟؟مذہب اور قومیت خدا کی مخلوق ہونے کے ناتے
انھیں خود مچھلی پکڑنے کی عادت ڈالیں۔
کاپیڈ

17/03/2025

Spring 🌼🌼🌼🌼🌼🌱🌱🌱🌱🌱

24/09/2024

Beshak.....if you agree then share

Want your school to be the top-listed School/college in Mansehra?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Mansehra