اللہ پاک رمضان المبارک میں اپنی عبادات میں اخلاص کی توفیق عطا فرمائے آمین
Dr. Bashir Ahmad
columnist
شکایت ہے مجھے یا رب خدا وندان مکتب سے
ڈاکٹر بشیر احمد
انسان کی یہ فطرت ہے کہ اسے اپنےملک، گھر، گاؤں، شہر، گلی اور محلے سے ایک خاص قسم کا انس ہوتا ہے۔ یہ بات بھی اس کی فطرت میں پڑی رہتی ہے کہ اسے ان تمام لوگوں سے لگاؤ ہوتا ہے جن سے اس کا کوئی نہ کوئی تعلق ہو۔ یہ تعلق رشتہ داری، دوستی، کاروباری بھی ہو سکتا ہے۔ ان سے بڑھ کر ایک تعلق ہم پیشہ ہونے کا بھی۔ انسان چاہتا ہے کہ اس کے ہم پیشہ لوگوں پر کوئی انگلی اٹھانے والا نہ ہو۔ معاشرے میں اس کے ہم پیشہ لوگوں کی عزت اور وقار ہو۔ اور جب وہ کہیں کوئی جھول دیکھتا ہے تو اسے دکھ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ وہ اندر ہی اندر کڑھتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ ۔ یہ کمی کیوں موجود ہے۔ ؟ اس کو کیسے دور کیا جائے۔؟ کہتے ہیں شکوہ اور شکایت بھی اپنوں سے ہی کی جاتی ہے۔ ناراضگی ہمیشہ اس سے ہی ہو سکتی جس سے کوئی رشتہ، یا تعلق موجود ہو جسے آپ نہیں جانتے ہوں گے آپ کو اس سے کبھی کوئی شکایت نہیں ہو سکتی۔اتنی لمبی چوڑی تمہید باندھنے کی وجہ ان دوستوں اور بھائیوں کی ناراضگی کو دور کرنا ہے۔ جن پر میرے الفاظ ناگوار گزریں گے۔ لیکن دستور اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ کہ
"ایک بات چھپانی ہے، ایک بتانی ہے"
کچھ غلطیاں اور کوتاہیاں ایسی ہوتی ہیں جو چھپانے سے بتانی بہتر اور فائدہ مند ہوتی ہیں۔ آج کا ایک واقعہ یہ سب بتانے پر مجبور کر رہا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک ہال میں جانے کا موقع ملا جہاں ایک شور و غوغا برپا تھا۔ ہر سمت خاموش خاموش کی پکار سنائی دے رہی تھی لیکن اس پکار پر کان دھرنے والا کوئی نظر نہیں آ رہا تھا۔ کہنے والے بھی بے بس سے نظر آ رہے تھے۔ کیونکہ جب بات سننے والا کوئی نہ تو سنانے والے کے پاس بے بسی کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے۔ سب نے اودھم سا مچا رکھا تھا۔ یہ شور شرابا کوئی ان پڑھ یا ناسمجھ طبقہ نہیں کر رہا تھا۔ آپ خیران ہوں گے کہ ان سب لوگوں کا تعلق ان نامی گرامی تعلیمی اداروں سے تھا جو رزلٹ کے بعد اپنے نمبروں کی بوریوں کا چرچا سوشل میڈیا، اور اشتہارات کے ذریعے خوب سے خوب تر کرتے ہیں۔ افسوس اس بات پر ہوا کہ کیا اچھا ہوتا ہے کہ ان نمبروں کے ڈھیر میں کہیں چھوٹی سی مقدار تربیت کی بھی ہوتی۔ کہ ایک نہیں بلکہ تین چار لوگ ان کو خاموش رہنے اور سکون سے اپنی سیٹوں پر بیٹھنے کی استدعا کر رہے ہیں اور کوئی ٹس سے مس بھی نہیں ہو رہا۔ جب یہ حال نامی گرامی تعلیمی اداروں کے طلباء کا ہو تو باقی قوم سے ڈسپلن، سمجھداری اور اچھے طرز کی توقع عبث ہی نظر آتی ہے۔
ہمارے طلبا کے اندر ایسی بری عادات، اور تہذیب و تمدن کیسے پروان چڑھی۔؟یہ سوال ہی ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اور اس کا جواب ہم سب کو اس لیے معلوم ہے کہ اس سارے معاملے میں قصور وار ہم خود ہی ہیں۔ جس دن ایک ٹیچر نے اپنے مقام کو بھلا دیا یا سمجھا نہیں اس دن سے ہمارا یہ زوال شروع ہوا ہے کہ بچہ کتاب کو خوب رٹا لگا لیتا ہے۔ اور اگر رٹا نہ لگا سکے تو امتحان میں نقل جیسی لعنت کا ہر گر جان لیتا ہےاور کاغذ کی ایسی سند کا حقدار ٹھر جاتا ہے جس میں تربیت جیسی اہم چیز کا نام ونشان تک نہیں ہوتا۔
ہماری کتنی بڑی بدقسمتی یے کہ اساتزہ کرام نے صرف کتاب یاد کرانے کو ہی اپنا فرض سمجھ لیا ہے اس کو یہ معلوم تک نہیں کہ مجھے جو معاوضہ مل رہا ہے اور جسے میں اپنے بچوں کو کھلا رہا ہوں وہ صرف تدریس یعنی کتاب پڑھانے کا نہیں بلکہ اس میں تربیت بھی شامل ہے اور اگر میں صرف تدریس کا حق ادا کر رہا ہوں تو میرے آدھے معاوضے کی حیثیت کیا ہو گی۔
اس سے بھی ایک بڑی چیز یہ ہے کہ اگر میں تربیت کے عنصر کو نظرانداز کروں گا تو خود عزت کیسے پاؤں گا۔ جب دوسروں کی عزت اور احترام سکھاؤں گا تب خود بھی عزت پاؤں گا۔
کیا ہم تربیت کے عمل سے نظریں چرا کر ایک بڑا جرم نہیں کر رہے۔؟ کیا ہم نقل کے رحجان کو پروان چڑھا کر ایک جرم کا ارتکاب نہیں کر رہے۔؟ یقیناً کر رہے ہیں اس میں کوئی دوسری رائے ہے ہی نہیں۔ اس سے بھی دلچسپ واقعہ کہ چند طلباء اس بات پر معترض دیکھے کہ ہمیں نقل نہیں دی گئی ۔ واہ جی کیا کہنے اس جانان قوم کے جانان سپوتوں کے۔ میں اکثر ایک بات کہتا رہا ہوں کہ اس قوم کو اب تدریس سے زیادہ تربیت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ معلومات کا ایک بڑا خزانہ ہمارے طلباء کے پاس موجود ہے۔ لیکن اس کے استعمال کا سلیقہ اور حکمت ہم سے کوسوں دور ہے۔ شومئی قسمت کہ ہمیں اس نقصان کی پروا تک نہیں۔
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
اور کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس غلط روش کو ترک کر کے سیدھی راہ پر چلنے کا عمل کب شروع ہو گا۔؟ شتر مرغ کی طرح ہماری بند آنکھیں کب کھلیں گی۔؟ اہل علم و دانش اس قومی نقصان کو کب سمجھ سکیں گے۔؟ اور پھر اس بے راہ روی کے خاتمے کے لیے کوئی لائحہ عمل کب طے کریں گے۔؟ تدریس کے ساتھ ساتھ تربیت کو اہمیت آخر کب دی جائے گی۔؟ فرد کی تربیت پر کب زور دیا جائے گا۔؟ یا کیا ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی بدتمیزی اور بد تہذیبی کی اس بھٹی کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی۔؟ کب تک بحیثیت استاد اپنے فرض سے رو گردانی کرتے رہیں گے۔؟
تربیت کے اس عمل کے ذمہ دار والدین بھی ہیں لیکن اس کی ایک بڑی اور بھاری ذمہ داری اساتزہ کرام کی بھی ہے۔ جس سے کسی صورت دامن نہیں بچایا جا سکتا۔ یہ دل آزار قسم کا مظاہرہ دیکھنے کو کیوں ملا۔ اس لیے کہ چند روز قبل ختم ہونے والے امتحان میں اساتزہ کرام نے اس کردار کا مظاہرہ کیا جس نے ان بچوں کو مادر پدر آزادی سے نواز دیا۔ استاد اور شاگرد کے درمیان وہ حد کراس ہو گئی۔ جس نے عزت اور احترام کو برقرار رکھا ہوا تھا جب یہ حد ہی ٹوٹ گئی تو پھر کہاں کا ادب کہاں کا احترام۔ ایسی حدود کا خیال جب نہیں رکھا جائے گا تو ایسے ہی نتیجے کی توقع کی جا سکتی ہے۔
معماران قوم کو یہ سوچنا پڑے گا ہم کس طرف جا رہے ہیں۔؟ اور کیوں جا رہے۔؟ کیا تربیت ایک استاد کی ذمہ داری نہیں۔؟ اگر ہے اور یقیناً ہے تو پھر اس سے آنکھیں کیوں چرائی جا رہی ہیں۔ اقبال کے ان شاہینوں کو ہڈ حرامی کی طرف کیوں دکھیلا جا رہا ہے۔ جن کو آسمان کی وسعتوں پر نظر رکھنی ہے ان کو خاکبازی کی طرف کیوں راغب کیا جا رہا ہے۔؟ جس قوم نے سب کی رہنمائی کرنی تھی اس کو غلامی کے درس دئے جا رہے ہیں۔ اس سے بڑا جرم اور کیا ہو سکتا ہے۔ فضاء کو ناسازگار بنایا جا رہا۔ یہ یاد رکھنےکی بات ہے کہ کرگس اور شاہین کے جہاں جدا جدا ہوتے ہیں۔ جب قوم کے ان بچوں کی تربیت کا فقدان ہو گا۔ تو گلہ کس سے بنے گا۔ شکوہ کس سے کیا جائے گا۔ شکایت کس سے کرنی پڑے گی۔ تان آکر ایک ہی جگہ ٹوٹے گی کہ
شکایت ہے مجھے یا رب خدا وندان مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا
08/11/2023
روزنامہ بارڈر لائن لاہور اور روزنامہ سسٹم لاہور میں میرا آج کا کالم
08/11/2023
روزنامہ پناہ اسلام آباد، روزنامہ نیوز مارٹ راولپنڈی اور روزنامہ پناہ گلگت بلتستان میں میرا آج کا کالم
20/04/2023
روزنامہ پناہ گلگت بلتستان، پناہ اسلام آباد اور روزنامہ نیوز مارٹ راولپنڈی میں میرا آج کا کالم
اصلاح اپنی ذات سے💫💥
رشوت ایک لعنت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر بشیر احمد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بھی ادارہ ،اہلکار ، آفیسر ، سرکاری یا پرائیوٹ کارندہ جو رقم، تحفہ یا ہدیہ کسی سے اس لیے لیتا ہے کہ وہ اس کا جائز یا ناجائز کام کرے گا تو ایسے لین دین کو عرف عام میں رشوت کہا جاتا ہے یہ الگ بات ہے کہ اس کو جائز قرار دینے کے لیے ایک عام سا حربہ استعمال کیا جاتا ہے وہ یہ کہ اس کو کچھ اور نام دے دئیے جاتے ہیں جیسے تحفہ، چائے پانی، خدمت، وغیرہ نام اس کا کوئی بھی رکھ لیں ہے تو رشوت ہی کیوں کہ شریعت میں ایسا معاوضہ جسے لینا ناجائز ہو اسے رشوت کہا جاتا ہے۔ چاہے وہ آپ کسی بھی نام سے لیتے ہیں۔
رشوت حقیقت میں وہ مال ہے جو کسی کے حق کو باطل کرنے کے لیے یا کسی باطل کو حاصل کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ انسان اس وقت اس بےلذت قسم کی برائی کا عادی ہو جاتا ہے جب اس کے دل سے خوف خدا نکل جاتا ہے۔ آخرت کا یقین دل سے نکل جاتا ہے۔ الله کے حضور حاضری کا تصور دل سے ختم ہو جاتا ہے۔ سزا اور جزا پر ایمان نہیں رہتا۔ احکامات الہی سے دوری معاشرے میں مسائل کے پیدا ہونے کا سبب بنتی ہے۔ پھر معاشرے میں رشوت، سفارش لوٹ مار کے کلچر جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ ان ہی مسائل کی وجہ سے معاشرہ مختلف قسم کی برائیوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ الله تعالٰی نے قران پاک میں سورۃ البقرہ میں واضع الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے کہ
"اور تم ایک دوسرے کا مال آپس میں نا حق نہ کھایا کرو اور نہ مال کو( بطورِ رشوت) حاکم تک پہنچاؤ کہ یوں لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طریقہ سے کھا سکو خالانکہ تمہارے علم میں ہے۔ (اور یہ گناہ ہے) "
رشوت محض سماجی برائی ہی نہیں ایک شرعی گناہ بھی ہے۔ بلکہ اخلاقی ظلم بھی ہے جو کسی حقدار کا حق ایسے شخص کو دینے کے لیے لی جاتی ہے جو اس کا حق نہیں رکھتا۔ جب کہ ہمارا دین انسانی حقوق پر بہت زور دیتا ہے، اسلام نے تو کھل کر بتا دیا ہے کہ کسی انسان کا حق تو الله تعالیٰ بھی اس وقت تک نہیں معاف کرتا جب تک وہ شخص خود معاف نہ کرے۔ اس صورت حال میں حقوق کی نفی کرنا ایک ایسا ظلم ہے جو معاشرے کے افراد کو مسائل ، مشکلات اور مصائب کا شکار کرتا ہے۔ یہ عدل وانصاف کا گلہ گھونٹ دیتا ہے معاشرے میں اخوت، محبت، اور بھائی چارے کو کھا لیتا ہے بغض وعناد، نفرت عداوت اور شقاوت کو فروغ دیتا ہے۔ یہ دھوکا دہی اور جھوٹی گواہی پر راغب کرتا ہے، الله تعالٰی کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے، بربریت کی راہ ہموار کرتا ہے، معاشرے میں بداخلاقی، بدتہذیبی اور بے راہ روی کا سبب بنتا ہے رشوت معاشرے میں ناہمواری کا سبب بنتی ہے جو انصاف کی جڑوں کو کھوکھلا کرتی ہے۔ معاشرہ اس سے نحوست کا شکار ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جس معاشرے میں ناانصافی اور ظلم کا بول بالا ہو گا الله کی رحمت وہاں کیسے آ سکتی ہے؟ الله تعالٰی اپنی رحمتوں کی بارش ان پر کرتے ہیں جو اسلامی اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں، اسلامی احکامات پر چلتے ہیں، اور رشوت اسلامی احکامات کی حلاف ورزی ہے درحقیقت یہ الله تعالٰی کی ذات سے مقابلہ ہے تواس سے نحوست ہی جنم لے سکتی ہے، اورسب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سے ایک مظلوم شخص کی حق تلفی ہوتی ہے اور ایک حقدار سے اس کا حق زبردستی چھینا جاتا ہے،جس معاشرے اور قوم اس کا رواج عام ہو جائے وہ معاشرہ اور پوری قوم اس نحوست کا شکار ہو جاتی ہے جس سے اس فعل کو کرنے والے غیروں کی ہیبت اور اپنوں کے خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک راشی اپنے ضمیر اپنے ایمان اور اپنی انا کا سودا کرتا ہے۔
رشوت کو ہر قسم کی کرپشن کی ماں کہا جاتا ہے۔ اور راشی کو بےضمیروں اور بے غیرتوں کا باپ، کیونکہ ہر قسم کی کرپشن کو رشوت پروان چڑھایا کرتی ہے اور ایک راشی اس کا سبب بنتا ہے۔ رشوت معاشرے کا ناسور ہے تو راشی معاشرے کے نام پر بدنما داغ۔ رشوت انسان کو برائی کی لذت عطا کرتی ہے اس لیے اس میں ایسے ایسے لوگ پھنس جاتے ہیں جن کا ماضی شفافیت کی مثال ہوتا ہے بس ایک بار پھسل جانے کی دیر ہوتی ہے پھر انسان اس میں دھنستا ہی چلا جاتا ہے۔ اور آہستہ آہستہ اس کی نیکی کی طرف واپسی کی راہیں محدود ہو جاتی ہیں۔ بقول شاعر
نہیں ہوتی وہاں رحمت خدا کی
نہ ہو جہاں وقعت صدق وصفا کی
ہوئے رشوت کے آگے سرنگوں سب
مثالیں دے رہے تھے کربلا کی
رشوت لینے والا اور اس کے درمیان کردار ادا کرنے والا وہ بدترین شخص ہوتا ہے جس کے دل سے خوف خدا نکل جاتا ہے اس کا ضمیر مردہ ہو جاتا ہے اس کی غیرت کا جنازہ نکل جاتا ہے وہ بےغیرتی بے ضمیری کا کفن اوڑھ لیتا ہے اس کی نظروں میں برائ اور نیکی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اس کے سر مال وزر بنانے کا خناس سما جاتا ہے اس کی اخلاقی سماجی معاشرتی تہذیبی اور تمدنی گراوٹ اس کو معاشرے کا بدنام شخص بنا دیتی ہے۔ ایسے شخص کو کسی رشتے یاری دوستی یا تعلق کا کوئی پاس نہیں ہوتا۔ نہ صرف اسلامی بلکہ تمام معاشرے ایسے لوگوں کو سخت ناپسند کرتے ہیں خالانکہ اپنی دانست میں وہ خود کو اچھا انسان تصور کرتے ہیں۔ رشوت لینے اور دینے والے کے درمیان کردار ادا کرنے والے پر الله کی لعنت ہوتی ہے۔ نبیﷺ کا فرمان ہے کہ
"رشوت لینے والے دینے والےاور ان کے درمیان واسطہ بننے والے پر اللہ تعالی کی لعنت ہے"
جس پر الله کی لعنت ہو اور اس لعنت کی خبر دینے والا محمد ﷺ ہو تو اس کی بدبختی اور بدقسمتی کے کیا کہنے۔
وطن عزیز میں ہم ہر سال رشوت کے خاتمے کے دن اور ہفتے مناتے ہیں یہ بہت اچھی بات ہے اس سے لوگوں میں اس برائی کے خلاف اگاہی پیدا ہوتی ہے ہدایت دینے والا تو رب کائنات ہے ہو سکتا یہی صدا کسی کی ہدایت کا سبب بن جائے۔
لیکن بحیثیت مجموعی جب پاکستانی معاشرے پر نظر دوڑائی جائے توہم اس لعنت کا سب سے زیادہ شکار ہیں اور روز بروز اس میں اضافہ ہی ہو رہا ہے، کوئی ادارہ کوئی جگہ اس سے خالی نہیں ایسا بھی نہیں کہ ہمارا معاشرہ سارے کا سارا اس کا شکار ہو چکا ہے اچھے قوم کے خدمتگار بھی اس معاشرے میں موجود ہیں لیکن ان کی تعداد بھی کم ہے اور ان کو اس کرپٹ معاشرے کے انتقام کا نشانہ بھی بننا پڑتا ہے۔ ہمارے ملک کی تباہی کا سب سے بڑا سبب یہی رشوت ہے۔
اب تو حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ صاحب لوگ رشوت لینے کے لیے ساتھ ٹھیکیدار رکھ لیتے یہی لوگ مڈل مین کا کردار ادا کرتے ہیں خالانکہ ان لوگوں کی نہ کوئی حیثیت ہوتی ہے نہ کوئی عہدہ بس یہ پیسے اور مال بنانے کے ماہر ہوتے ہیں باقی ان کی کوئی خاص قابلیت نہیں ہوتی۔ وطن عزیز میں جہاں نیک اور اچھے لوگوں کی کمی نہیں وہاں ان دلالوں سے بھی انکار نہیں جو اپنے اپنے اداروں کے نام پر بدنما داغ ہیں۔
لہذا ایسے دن اور ہفتے منانے کے ساتھ ساتھ قوم کے ہر بچے کی اور دوسرے تمام افراد کی اس نہج پر تربیت کی جائے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھیں ان کے اندر اپنے بچوں کے لیے حلال کمانے کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے سیمینار کرائے جائیں۔ تمام تعلیمی اداروں میں ایسی تربیت کو تعلیم کا لازمی حصہ بنایا جائے جو ان معاشرتی برائیوں کے خلاف ذہن سازی کریں۔ اور ایسے ناسور کے سد باب کے لیے قانون سازی کی جائے اور ان قوانین کا عملی اطلاق کیا جائے۔ عوام کی سطح پر اگاہی مہم شروع کی جائے تاکہ اس لعنت سے ملک پاکستان کو چھٹکارا مل سکے۔
لاشعوری کی حالت میں نوجوانوں کا ہر قدم تحریکوں اور تنظیموں کی جانب محض ٹرک کی بتی بننے کے برابر ہے۔
رواداری اور برداشت کی ضرورت
۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر بشیر احمد
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رواداری حقیقت میں ایک مکمل طور پر اسلامی قدر ہے اور اسلام نے اپنے پیرو کاروں کو ہمیشہ رواداری کا درس دیا ہے اور اس بات کی تلقین کی ہے کہ دوسروں کے ساتھ رواداری سے پیش آؤاور دوسروں کے احساسات اور جذبات کی ہمیشہ قدر کرو کیونکہ ان کو بھی الله تعالٰی نے اشرف المخلوقات کے زمرے میں رکھا ہے۔ عموماً لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ چند مختلف خیالات رکھنے والے آدمیوں کے مختلف اور متضاد خیالات کو درست قرار دینا رواداری ہے جبکہ یہ رواداری نہیں عین منافقی ہے۔ رواداری یہ ہے کہ جن لوگوں کے عقائد اور اعمال ہمارے نزدیک غلط ہیں ان کو ہم برداشت کریں ان کے جذبات کا خیال رکھیں ان پر ایسی نکتہ چینی نہ کریں جو ان کودکھ اور رنج پہنچائے اس طرح کا عمل اور اس طریقے سے لوگوں کو اعتقاد اور عمل کی آزادی دینا نہ صرف مستحسن اقدام ہے بلکہ مختلف الخیال جماعتوں میں امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ صحیح رواداری وہ ہے جو ہمیں اسلام نے سکھائی ہے سورۃالنحل میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ پندو نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے مباحثہ کرو" یہی وہ رواداری ہے جوایک حق پرست، صداقت پسند اور سلیم الطبع انسان اختیار کرتا ہے۔ حقیقت میں حق وہی ہے جو اسلام نے بتایا اور سمجھایا ہے باقی سب باطل ہے لہذا باطل کو سچ کہنا منافقت ہے اس کو اچھے انداز سےاپنے نظریات ا افکار کی دعوت دینا رواداری ہے۔ سورۃ المائدہ میں اللہ تعالی نے یہ حکم دیا ہے کہ "کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم نا انصافی کرو۔ انصاف سے کام لو یہی تقوى١ کے قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو اللہ یقیناً تمھارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے
رواداری کے لئے یہ آیت بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ رواداری کو عدل کا مترادف قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان کا قیام بھی قائداعظم کے رواداری کے اصولوں کے مطابق ہوا ہے جس میں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک کی اجازت نہیں بلکہ تمام شہریوں کے حقوق برابر ہیں اور یہی نظریہ رواداری عین اسوہ رسول کے مطابق ہے۔ پاکستان کے حصول میں یہاں کے مسلمانوں نے رواداری اور برداشت کا سبق سیکھا ہے اور سیکھے ہوئے کام پر عملدرآمد کرنا ہی ایمانداری ہے۔
لیکن گذشتہ چند سالوں سے محسوس کیا جا رہا ہے کہ اس ملک کے تمام شعبوں میں عمومی طور پر اور سیاسی شعبوں میں حصوصی طور پررواداری اور برداشت کا نہ صرف فقدان پایا جاتا ہے بلکہ بات اس سے اگے نکل کر طعنہ گری اور اب تو دوسروں کو ذلیل کرنے تک پہنچ چکی ہے بلکہ اب تو دوسروں کو ذلیل کرنے کے لئے اور ان کو نیچا دکھانے کے لئے طوفان بدتمیزی نے گھروں کی چار دیواری پار کرنا شروع کر دی ہے۔ جو پاکستان جیسے کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والے ملک کے لئے بہت ہی برا شگون ہے دنیا کے کونے کونے میں ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے سیاست میں یہ کھیل اس خد تک بگڑ چکا ہے کہ اب سنجیدہ لوگوں کی سیاست میں گنجائش ہی مشکل نظر آتی ہے۔ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے دوسروں کی ماں بہن بیٹی بیوی کا مذاق اڑانے میں ان کی تذلیل کرنے میں ان پر جھوٹے الزامات لگانے سے بھی دریغ نہیں کیا جا رہا ۔ دوسروں کی ماؤں بہنوں کے نام لینا ان پر الزام تراشی کرنا ہمیں تو ہمارے دین نے نہیں سکھایا تھا ہمارے دین نے تو ہمیں عورت کی عزت اور تکریم کا درس دیا تھا۔ اور کیا ہمارے ملک پاکستان میں یہ جو سب کچھ ہو رہا ہے ٹھیک ہو رہا ہے؟ اگر نہیں تو ہم اس پر سوچتے کیوں نہیں؟ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر دوسروں میں عیب تلاش کرنا ان کے عیبوں کو بڑھا چڑھا کے پیش کرنا دوسروں کو برے برے ناموں سے پکارنا ہر وقت دوسروں کی تذلیل کے لئے ذرائع ڈھونڈنا جھوٹے دعوؤں اور نعروں سے عوام کو بے وقوف بنانا کہاں کی برداشت اور رواداری ہے؟ دوسروں پر الزام تراشی کرنا اور بہتان کی بھرمار کرنا یہ تو ہمارے دین اسلام کا نہ درس ہے اور نہ ہی پاکستان کی ضرورت ہے پاکستان کو اس وقت صرف امن بھائی چارے محبت اور حلوص کی اشد ضرورت ہے جس کا یہاں بدقسمتی سے بہت بڑا فقدان پایا جاتا ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی ملک کا وفادار نہیں بلکہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ فلاں میرے ساتھ کیوں نہیں ایک اچھا انسان تنقید کیا کرتا ہے تذلیل نہیں لیکن افسوس صد افسوس کہ کہ ہمارے ہاں وہ کچھ ہوتا جا رہا ہے کہ جس کے لئے تذلیل سے بھی کچھ آگے لفظ چاہئےجو میسر نہیں جب انسان کے اعمال کے لئے الفاظ نہ مل رہے ہوں تو سمجھ جانا چاہیے کہ وہ تشدد پسند ہو چکا ہے۔ اور تشدد وہ مقام ہے جہاں سے انسان کو رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملتا ہے۔ ہم نے دوسروں کو ذلیل کرنے کی جو روش اختیار کر رکھی ہے وہ نہ ہمارے ملک کے لیے فائدہ مند ہے اور نہ ہماری سیاست کے لئے نہ ہماری قوم کے لیے سیاست میں یہ عدم برداشت کی فضاء اور رواداری کی کمی بین الاقوامی دنیا میں ہماری بحیثیت قوم تذلیل کا سبب بن رہی ہے اور دنیا میں ہماری سبکی ہو رہی ہے۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس منفی سیاست کا قلع قمع کرنے کے لیے مثبت رویوں کی روایت قائم کی جائے دوسروں کو ان کے نظریات پر رہنے دیا جائے دوسروں کو نیچا دکھانے کی بجائے اپنی کارکردگی کا پرچار کیا جائے۔ بڑے لوگ ہمیشہ دوسروں کی خامیوں پر نظر رکھنے کی بجائے اپنی کوتاہیوں کو ڈھونڈنے میں لگے رہتے ہیں لوگوں کی نظر میں اچھا بننے کے لیے اپنی کوتاہیوں کو کم کرنا پڑتا ہے نہ کہ دوسروں کی کمی بیشی کو ضرب دینا۔ بحیثیت قوم اگر سوچیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ دوسروں کی عزت کی پاسداری کریں نہ کہ اسے اچھالیں۔ ہم تو جس نبی کے پیروکار ہیں اس نے تو ہمیشہ ایسے کاموں سے روکا جن کو ہم بڑھ چڑھ کے کر رہے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے تو دوسروں کی عزت جان اور مال کو حرام قرار دیا ہے تو پھر آج ہم اس نہج پر کیوں چل رہے ہیں۔ کیا ہمیں اپنے دین کا اتنا بھی پاس نہیں کہ ہم اس پر عمل کر کے رواداری اور برداشت کا مادہ پیدا کرلیں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Mansehra