Dr. Bashir Ahmad

Dr. Bashir Ahmad columnist

09/08/2026
09/08/2026

شیر گڑھ کا خوبصورت منظر

18/02/2026

اللہ پاک رمضان المبارک میں اپنی عبادات میں اخلاص کی توفیق عطا فرمائے آمین

23/11/2023

شکایت ہے مجھے یا رب خدا وندان مکتب سے
ڈاکٹر بشیر احمد
انسان کی یہ فطرت ہے کہ اسے اپنےملک، گھر، گاؤں، شہر، گلی اور محلے سے ایک خاص قسم کا انس ہوتا ہے۔ یہ بات بھی اس کی فطرت میں پڑی رہتی ہے کہ اسے ان تمام لوگوں سے لگاؤ ہوتا ہے جن سے اس کا کوئی نہ کوئی تعلق ہو۔ یہ تعلق رشتہ داری، دوستی، کاروباری بھی ہو سکتا ہے۔ ان سے بڑھ کر ایک تعلق ہم پیشہ ہونے کا بھی۔ انسان چاہتا ہے کہ اس کے ہم پیشہ لوگوں پر کوئی انگلی اٹھانے والا نہ ہو۔ معاشرے میں اس کے ہم پیشہ لوگوں کی عزت اور وقار ہو۔ اور جب وہ کہیں کوئی جھول دیکھتا ہے تو اسے دکھ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ وہ اندر ہی اندر کڑھتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ ۔ یہ کمی کیوں موجود ہے۔ ؟ اس کو کیسے دور کیا جائے۔؟ کہتے ہیں شکوہ اور شکایت بھی اپنوں سے ہی کی جاتی ہے۔ ناراضگی ہمیشہ اس سے ہی ہو سکتی جس سے کوئی رشتہ، یا تعلق موجود ہو جسے آپ نہیں جانتے ہوں گے آپ کو اس سے کبھی کوئی شکایت نہیں ہو سکتی۔اتنی لمبی چوڑی تمہید باندھنے کی وجہ ان دوستوں اور بھائیوں کی ناراضگی کو دور کرنا ہے۔ جن پر میرے الفاظ ناگوار گزریں گے۔ لیکن دستور اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ کہ
"ایک بات چھپانی ہے، ایک بتانی ہے"
کچھ غلطیاں اور کوتاہیاں ایسی ہوتی ہیں جو چھپانے سے بتانی بہتر اور فائدہ مند ہوتی ہیں۔ آج کا ایک واقعہ یہ سب بتانے پر مجبور کر رہا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک ہال میں جانے کا موقع ملا جہاں ایک شور و غوغا برپا تھا۔ ہر سمت خاموش خاموش کی پکار سنائی دے رہی تھی لیکن اس پکار پر کان دھرنے والا کوئی نظر نہیں آ رہا تھا۔ کہنے والے بھی بے بس سے نظر آ رہے تھے۔ کیونکہ جب بات سننے والا کوئی نہ تو سنانے والے کے پاس بے بسی کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے۔ سب نے اودھم سا مچا رکھا تھا۔ یہ شور شرابا کوئی ان پڑھ یا ناسمجھ طبقہ نہیں کر رہا تھا۔ آپ خیران ہوں گے کہ ان سب لوگوں کا تعلق ان نامی گرامی تعلیمی اداروں سے تھا جو رزلٹ کے بعد اپنے نمبروں کی بوریوں کا چرچا سوشل میڈیا، اور اشتہارات کے ذریعے خوب سے خوب تر کرتے ہیں۔ افسوس اس بات پر ہوا کہ کیا اچھا ہوتا ہے کہ ان نمبروں کے ڈھیر میں کہیں چھوٹی سی مقدار تربیت کی بھی ہوتی۔ کہ ایک نہیں بلکہ تین چار لوگ ان کو خاموش رہنے اور سکون سے اپنی سیٹوں پر بیٹھنے کی استدعا کر رہے ہیں اور کوئی ٹس سے مس بھی نہیں ہو رہا۔ جب یہ حال نامی گرامی تعلیمی اداروں کے طلباء کا ہو تو باقی قوم سے ڈسپلن، سمجھداری اور اچھے طرز کی توقع عبث ہی نظر آتی ہے۔
ہمارے طلبا کے اندر ایسی بری عادات، اور تہذیب و تمدن کیسے پروان چڑھی۔؟یہ سوال ہی ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اور اس کا جواب ہم سب کو اس لیے معلوم ہے کہ اس سارے معاملے میں قصور وار ہم خود ہی ہیں۔ جس دن ایک ٹیچر نے اپنے مقام کو بھلا دیا یا سمجھا نہیں اس دن سے ہمارا یہ زوال شروع ہوا ہے کہ بچہ کتاب کو خوب رٹا لگا لیتا ہے۔ اور اگر رٹا نہ لگا سکے تو امتحان میں نقل جیسی لعنت کا ہر گر جان لیتا ہےاور کاغذ کی ایسی سند کا حقدار ٹھر جاتا ہے جس میں تربیت جیسی اہم چیز کا نام ونشان تک نہیں ہوتا۔
ہماری کتنی بڑی بدقسمتی یے کہ اساتزہ کرام نے صرف کتاب یاد کرانے کو ہی اپنا فرض سمجھ لیا ہے اس کو یہ معلوم تک نہیں کہ مجھے جو معاوضہ مل رہا ہے اور جسے میں اپنے بچوں کو کھلا رہا ہوں وہ صرف تدریس یعنی کتاب پڑھانے کا نہیں بلکہ اس میں تربیت بھی شامل ہے اور اگر میں صرف تدریس کا حق ادا کر رہا ہوں تو میرے آدھے معاوضے کی حیثیت کیا ہو گی۔
اس سے بھی ایک بڑی چیز یہ ہے کہ اگر میں تربیت کے عنصر کو نظرانداز کروں گا تو خود عزت کیسے پاؤں گا۔ جب دوسروں کی عزت اور احترام سکھاؤں گا تب خود بھی عزت پاؤں گا۔
کیا ہم تربیت کے عمل سے نظریں چرا کر ایک بڑا جرم نہیں کر رہے۔؟ کیا ہم نقل کے رحجان کو پروان چڑھا کر ایک جرم کا ارتکاب نہیں کر رہے۔؟ یقیناً کر رہے ہیں اس میں کوئی دوسری رائے ہے ہی نہیں۔ اس سے بھی دلچسپ واقعہ کہ چند طلباء اس بات پر معترض دیکھے کہ ہمیں نقل نہیں دی گئی ۔ واہ جی کیا کہنے اس جانان قوم کے جانان سپوتوں کے۔ میں اکثر ایک بات کہتا رہا ہوں کہ اس قوم کو اب تدریس سے زیادہ تربیت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ معلومات کا ایک بڑا خزانہ ہمارے طلباء کے پاس موجود ہے۔ لیکن اس کے استعمال کا سلیقہ اور حکمت ہم سے کوسوں دور ہے۔ شومئی قسمت کہ ہمیں اس نقصان کی پروا تک نہیں۔

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
اور کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس غلط روش کو ترک کر کے سیدھی راہ پر چلنے کا عمل کب شروع ہو گا۔؟ شتر مرغ کی طرح ہماری بند آنکھیں کب کھلیں گی۔؟ اہل علم و دانش اس قومی نقصان کو کب سمجھ سکیں گے۔؟ اور پھر اس بے راہ روی کے خاتمے کے لیے کوئی لائحہ عمل کب طے کریں گے۔؟ تدریس کے ساتھ ساتھ تربیت کو اہمیت آخر کب دی جائے گی۔؟ فرد کی تربیت پر کب زور دیا جائے گا۔؟ یا کیا ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی بدتمیزی اور بد تہذیبی کی اس بھٹی کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی۔؟ کب تک بحیثیت استاد اپنے فرض سے رو گردانی کرتے رہیں گے۔؟
تربیت کے اس عمل کے ذمہ دار والدین بھی ہیں لیکن اس کی ایک بڑی اور بھاری ذمہ داری اساتزہ کرام کی بھی ہے۔ جس سے کسی صورت دامن نہیں بچایا جا سکتا۔ یہ دل آزار قسم کا مظاہرہ دیکھنے کو کیوں ملا۔ اس لیے کہ چند روز قبل ختم ہونے والے امتحان میں اساتزہ کرام نے اس کردار کا مظاہرہ کیا جس نے ان بچوں کو مادر پدر آزادی سے نواز دیا۔ استاد اور شاگرد کے درمیان وہ حد کراس ہو گئی۔ جس نے عزت اور احترام کو برقرار رکھا ہوا تھا جب یہ حد ہی ٹوٹ گئی تو پھر کہاں کا ادب کہاں کا احترام۔ ایسی حدود کا خیال جب نہیں رکھا جائے گا تو ایسے ہی نتیجے کی توقع کی جا سکتی ہے۔
معماران قوم کو یہ سوچنا پڑے گا ہم کس طرف جا رہے ہیں۔؟ اور کیوں جا رہے۔؟ کیا تربیت ایک استاد کی ذمہ داری نہیں۔؟ اگر ہے اور یقیناً ہے تو پھر اس سے آنکھیں کیوں چرائی جا رہی ہیں۔ اقبال کے ان شاہینوں کو ہڈ حرامی کی طرف کیوں دکھیلا جا رہا ہے۔ جن کو آسمان کی وسعتوں پر نظر رکھنی ہے ان کو خاکبازی کی طرف کیوں راغب کیا جا رہا ہے۔؟ جس قوم نے سب کی رہنمائی کرنی تھی اس کو غلامی کے درس دئے جا رہے ہیں۔ اس سے بڑا جرم اور کیا ہو سکتا ہے۔ فضاء کو ناسازگار بنایا جا رہا۔ یہ یاد رکھنےکی بات ہے کہ کرگس اور شاہین کے جہاں جدا جدا ہوتے ہیں۔ جب قوم کے ان بچوں کی تربیت کا فقدان ہو گا۔ تو گلہ کس سے بنے گا۔ شکوہ کس سے کیا جائے گا۔ شکایت کس سے کرنی پڑے گی۔ تان آکر ایک ہی جگہ ٹوٹے گی کہ

شکایت ہے مجھے یا رب خدا وندان مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا

روزنامہ بارڈر لائن لاہور اور روزنامہ سسٹم لاہور میں میرا آج کا کالم
08/11/2023

روزنامہ بارڈر لائن لاہور اور روزنامہ سسٹم لاہور میں میرا آج کا کالم

روزنامہ پناہ اسلام آباد، روزنامہ نیوز مارٹ راولپنڈی اور روزنامہ پناہ گلگت بلتستان میں میرا آج کا کالم
08/11/2023

روزنامہ پناہ اسلام آباد، روزنامہ نیوز مارٹ راولپنڈی اور روزنامہ پناہ گلگت بلتستان میں میرا آج کا کالم

روزنامہ پناہ گلگت بلتستان، پناہ اسلام آباد اور روزنامہ نیوز مارٹ راولپنڈی میں میرا آج کا کالم
20/04/2023

روزنامہ پناہ گلگت بلتستان، پناہ اسلام آباد اور روزنامہ نیوز مارٹ راولپنڈی میں میرا آج کا کالم

Address

Mansehra

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Bashir Ahmad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share