30/12/2025
مختار الامہ مفتی سید مختار الدین شاہ صاحب کے مختصر حالات زندگی
We welcome all learners in Quran learning. Our program includes Quran Reading / Nazra, Memorizing Quran, Translation and Prayers Duas, etc.
Assalam Alaikum Warahmatullah Wa Barakata
Online Quran Classes for Kids & Adults in USA - UK - Canada - Australia And in other countries
Our Online Quran Classes is the best platform for Online Quran learning which enables children all over the world to read the Quran properly with Tajweed from home. You can choose tutors according to your own choice. Our Quran teachers are available 24/7. In sha
30/12/2025
مختار الامہ مفتی سید مختار الدین شاہ صاحب کے مختصر حالات زندگی
کرسمس کا تہوار منانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب بچہ/ بچی کی شادی کرادی جائے، کسی غریب ویتیم بچہ/بچی کے تعلیمی اخراجات برداشت کیے جائیں، کسی حاجت مند کے ساتھ تعاون کیا جائے۔
فـبُـهـت الــذي كــفـــر
پہلی مرتبہ انڈیا کے مفتی شمائل احمد عبداللہ ندوی کو سننے کا اتفاق ہوا۔ یہ پہلا تعارف ہی ایسا تھا کہ دل نے بے اختیار گواہی دی: یہ شخص محض بولتا نہیں، سوچتا ہے، محض رد نہیں کرتا، تعمیر کرتا ہے، محض جیتنے نہیں آیا، حق کو واضح کرنے آیا ہے۔ پہلی سماعت میں انسان ان کا گرویدہ ہو جاتا ہے اور جب یہی نوجوان عالمِ دین آج ایک ایسے مناظرے کے میدان میں اترے، جس کا موضوع تھا “کیا خدا کا وجود ہے؟” اور مقابلے میں ہندوستان کے معروف شاعر، نغمہ نگار اور الحادِ جدید کے نمائندہ سمجھے جانے والے جاوید اختر ہوں، تو یہ مکالمہ محض ایک ڈیبیٹ نہیں رہا، بلکہ ایک فکری معرکہ بن گیا۔
چند دن سے اس مناظرے کا بہت شور تھا۔ جب اعلان ہوا تو بھارت کے کچھ دینی حلقوں میں خاصی چہ مگوئیاں ہوئیں۔ ملک کے حالات، عوامی ردعمل، میڈیا کا مزاج اور ملحدانہ بیانیے کی جارحیت، سب حوالہ بنے۔ بعض نے کہا کہ یہ وقت مناظرے کا نہیں، بعض نے خدشہ ظاہر کیا کہ فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔ مگر ہم بڑی شدت سے اس کے منتظر تھے۔ کیونکہ مفتی شمائل مفتی یاسر ندیم واجدی صاحب کے شاگرد ہیں، جنہیں ہم بہت پہلے سے جانتے ہیں اور ہمارے ادارے کے سربراہ بھی ہیں۔ اس لیے ہمیں کسی بھی بدنظمی کا خدشہ نہیں تھا۔
چنانچہ آج سب نے دیکھا کہ یہ مناظرہ نہ کسی جذباتی ہنگامے میں بدلا، نہ کسی بدنظمی میں، بلکہ ایک نہایت مہذب، علمی، پُرامن اور باوقار Academic Dialogue کی صورت میں مکمل ہوا اور حق کا بول بالا اور باطل کا منہ کالا ہوگیا۔
یہ تاریخی مکالمہ آج 20 دسمبر کو دہلی میں منعقد ہوا۔ حاضرین میں جے این یو، دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ و اساتذہ، نامور صحافی، دانشور اور علما شامل تھے۔ ماحول حیران کن طور پر سنجیدہ، باوقار اور علمی تھا۔ مناظرے کا عنوان واضح، محدود اور فیصلہ کن تھا:
DOES GOD EXIST?
یعنی کیا خدا وجود رکھتا ہے؟
ایک طرف مفتی شمائل احمد عبداللہ ندوی اسلامی اکیڈمی اور اسلامک ریسرچ سینٹر مرکز الوحیین کے بانی، مغربی فلسفے، الحادِ جدید اور مذاہبِ عالم پر گہری نظر رکھنے والے، شستہ انگریزی، منطقی استدلال اور غیر معمولی تحمل کے حامل عالمِ دین۔
دوسری طرف جاوید اختر، اردو ادب کا معروف نام، شاعری اور فلمی دنیا کے درخشاں چہرے، لیکن مذہب اور خدا کے وجود کے باب میں شکوک و شبہات کے علمبردار۔
مناظرے کے آغاز ہی سے فرق نمایاں ہو گیا۔ مفتی شمائل ندوی کا لہجہ پُرسکون، الفاظ نپے تلے، دلائل واضح اور گفتگو مرکزِ موضوع پر مرکوز رہی۔
اس کے برخلاف جاوید اختر بار بار طنز، جذباتی جملوں اور موضوع سے انحراف کی طرف جاتے دکھائی دیئے۔ کئی مواقع پر وہ مذہب، تاریخ اور سماجی مظالم کی بات کرنے لگے، حالانکہ موضوع نہ اسلام تھا، نہ مذہبی نظام، بلکہ محض خدا کے وجود کا سوال۔
یہی وہ مقام تھا جہاں فرق کھل کر سامنے آیا۔ ملحد کو یہ سہولت ہوتی ہے کہ وہ کچھ بھی کہہ دے، سوال پر سوال، اعتراض پر اعتراض، بغیر کسی حد کے۔ جبکہ موحد ایک اخلاقی، ادبی اور علمی دائرے میں رہ کر بات کرتا ہے۔ اس کے باوجود، اس مناظرے میں یہ بات واضح ہو گئی کہ حدود دلیل کو کمزور نہیں کرتیں، بلکہ مضبوط بناتی ہیں۔
جاوید اختر کو جس ایک سوال پر کچھ چرب زبانی کا موقع ملا، وہ یہ تھا:
“اگر خدا ہے تو غزہ کے بچوں کو کیوں نہیں بچاتا؟”
یہ سوال بظاہر جذباتی ہے، مگر منطقی نہیں۔ مفتی شمائل ندوی نے نہایت خوبصورتی سے واضح کیا کہ کسی واقعے سے خدا کا بے رحم ہونا (معاذ اللہ) تو زیرِ بحث آ سکتا ہے، مگر اس کے نہ ہونے کا ثبوت نہیں بنتا۔ وجود پہلے ثابت ہوتا ہے، صفات بعد میں زیرِ بحث آتی ہیں۔ جس کا جاوید اختر کے پاس کوئی منطقی جواب نہ تھا اور وہ موضوع بدلنے پر مجبور ہو گئے۔
مناظرے کا سب سے حیران کن لمحہ وہ تھا جب جاوید اختر، جو ہمیشہ اکثریت کے نظریے کو رد کرتے آئے ہیں، خود یہ ماننے پر مجبور ہو گئے کہ اکثریت ہی صحیح و غلط کا معیار ہو سکتی ہے۔ یہ ایک فکری تضاد ہی نہیں، بلکہ ایک واضح رجوع تھا، جسے سنجیدہ سامعین نے بخوبی محسوس کیا۔
اس تاریخی موقع پر حضرت مولانا مفتی ڈاکٹر یاسر ندیم الواجدی کی موجودگی محض رسمی نہ تھی۔ وہ سامعین میں موجود تھے اور مفتی شمائل ندوی کے سوالات کی تائید بھی کی۔ وہ امریکا سے خصوصی طور پر تشریف لائے تھے۔ ان کی موجودگی نے نہ صرف مناظرے کو علمی وزن دیا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ یہ جدوجہد فردِ واحد کی نہیں، پوری علمی روایت کی نمائندگی ہے۔
یہ مناظرہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی ایک جواب تھا جو یہ سمجھتے ہیں کہ مدارس کے طلبہ انگریزی، فلسفہ یا جدید مباحث سے ناواقف ہوتے ہیں۔ یہاں معاملہ الٹا تھا۔ جاوید اختر خود انگریزی اصطلاحات کی وضاحت مفتی شمائل ندوی سے پوچھ رہے تھے۔
مناظرہ کسی تالیاں بجوانے والے جملے پر ختم نہیں ہوا، بلکہ سوچنے والے اذہان پر ختم ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سنجیدہ سامع نے یہ محسوس کیا کہ حق غالب آیا اور باطل مبہوت ہو گیا۔ جاء الحق وزھق الباطل۔
فبھت الذی کفر یعنی منکر ششدر رہ گیا۔
حق تعالیٰ مفتی شمائل احمد عبداللہ ندوی کو مزید استقامت، علم اور حکمت عطا فرمائے۔ اس مناظرے کو شکوک میں مبتلا اذہان کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنائے اور ہمیں حق کو حق سمجھنے اور اس پر چلنے کی توفیق دے۔
اللهم أرِنا الحقّ حقّاً وارزقنا اتّباعَه، وأرِنا الباطلَ باطلاً وارزقنا اجتنابَه۔
14/12/2025
انا للہ وانا الیہ راجعون
09/12/2025
مہتمم جامعہ خدیجہ الکبری لبنات الاسلام ہمشیریاں،مانسہرہ حاجی سعید احمد اسکاٹ لینڈ سے مولانا منظور مینگل صاحب حفظہ اللہ کے ہاں آمد وجامعہ صدیقیہ کا وزٹ کیا
27/11/2025
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور دوسروں کو پڑھائے۔
20/11/2025
Assalm u alaikum
Dear Brothars@Sisters
i,am Online Quran teacher Good news for Muslims living in Pakistan🇵🇰 Saudi Arabia🇸🇦 Dubai🇦🇪 America🇺🇸 Canada🇨🇦 Australia🇦🇺 London🇦🇮 and around the world❤️❤️You and your family's children can learn
(1) Nazra Quran with tajweed
(2) Hifz ul Quran with tajweed
(3) masnon Prayers online
(4) Namaz & Kalmy....Norani qaidah
📞 Contcat whatsApp: +923132291703