Nazria Trust [Official]

Nazria Trust [Official] NT | Nazria Trust Org We know that Pakistan is leading the Islamic block in all over the world. They use each technique to erase this concept.

Peoples who don’t like Pakistan continually want Pakistan as a weak state. And for this objective they are doing all their efforts forever since the creation of Pakistan. They also know that base of our nation is two nation theory which is actually tag line of Islam. Their main stream weapons are media, corrupt governance, justice; they spread massive lie, rumors, and dissepiments in our youth thr

ough media. The targeting our youth because of youth of a nation is back bone of a nation so they want to erase our moral values from our youth through glittering world. Not only westerns but countries of our own region work at same cause specially India. They are using their media to devalue our traditions moral values our dignity our base through movies and drama’s by the medium of cable network, dish TV’s, smuggled cd. Their main target is two nation theory they want to arose this concept from our minds that’s why they arrange propaganda such as “Amman kee asha” to brain wash our new generation that we are same in traditions culture life style moral values and after injecting this seined motivate them by questioning “if we are same then why separated ???????? “

But we are Muslims aware from our values and history we are determine to safe our theory our culture and traditions we know our basics ……. We know sacrifice of our forefathers in 1947 ……. We know our dignity in 1965 ……. We also saw the invasions of Indians in 1971…… we have proper figure of our brothers in 1971…….. Use of our sisters and mothers in 1947 and 1971………

We know that we are separate by them in all aspect of life, in religion, in tradition, in values, in culture; even our faces are also different by them. We can’t bear attack at our identity and ideology. We will fight till our death INSAHLLAH. As above we want to aware our nation our youth by above game plane we desire to spread two nation theory of Pakistan … of Islam through out our state ….. we want to developed and design our nation and track of unity. We want one nation, having one flag, one leader one motto, one badge. We want system of our Islamic politics namely Caliphate here except democracy, federalism, capitalism, etc. According to us justice system of Islam is best cheaper and easily access able, and definitely we work for best. We are not a new name party, religious gang, or any thing more we just want to support all those moments working for caliphate system ……… its soft revolution not a radical moment. INSHALLAH we will fought till last drop of last blood in our vanes.

وادی پنج شیر کا شیراحمدشاہ مسعووؒ09 ستمبر، 2020"شیرِپنج شیرجس کی ایک ہی ضرب نے ایشائی سیاست اور افغان مزاحمت کا دھارا ہی...
10/09/2020

وادی پنج شیر کا شیراحمدشاہ مسعووؒ
09 ستمبر، 2020
"شیرِپنج شیرجس کی ایک ہی ضرب نے ایشائی سیاست اور افغان مزاحمت کا دھارا ہی بدل دیا"
"انتہائی طاقتور اور خوبصورت شخص اب بالکل زرد اور سخت جسم میں تبدیل ہوچکا تھا۔ ان کے خوبصورت بال اب مکمل طور پر جھلس چکے تھے اور ان کا جسم زخموں سے بھرا ہوا تھا۔ ان کا جسم گردن سے ٹانگوں تک کٹ گیا تھا، اور ایک چوڑے اور گہرے گھاؤ نے ان کے سینے کو دل تک چیر دیا تھا" (اہلیہ احمدشاہ مسعود)
(افغان پہلے نائب صدرامراللہ صالح اپنی کتاب "مسعودکےبعد" میں)
"مجھے اس جگہ بھیج دیا گیا جہاں مسعود کی لاش کو تقریباً 1 بجے کے قریب منتقل کیا گیا تھا۔ ایک یا دو مقامی کمانڈر اور دو یا تین سینیئر لاجسٹک افسران مسعود کے محافظوں کے ساتھ موجود تھے"
(ریگستانی اپنے مضمون "مسعودشناسائی" میں لکھتے ہیں کہ)
"’مسعود کی شہادت کے وقت میں تاجکستان میں تھا اور میری قسمت دیکھیں کہ اس واقعے کے ایک گھنٹہ بعد میں ان کے تھکے ہوئے خون آلود جسم کے قریب پہنچا اور یہ ہماری آخری ملاقات تھی"
احمدشاہ مسعود ایک جسے وادی پنج شیر کا شیر بھی کہاجاتا تھا ایک ایسا شاہین تھاجو اپنے مسکن وادیِ پنج شیرسے نکلتا تو وسعت افلاک میں طلاطم کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی روس کے خلاف افغان مزاحمت میں سب سے متحرک اور ذہین مجاہد تھا۔
گو کہ احمد شاہ مسعوددارلحکومت کابل سے میلوں دور تھا اور شاید مزاحمت کاروں میں سب سے زیادہ دور تھا مگردوسرا یہ کہ مسعود کو باقی مزاحمتی گروہوں کی نسبت پاکستان کی طرف سے امداد بھی کم تھی اور ایک وقت میں مکمل بند تھی کیونکہ پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ افغانستان کے دیگر مزاحمت کاروں کے زیادہ قریب تھی لیکن ....
مسعود نے تن تنہا بناء کسی حکومتی امداد یا دیگر مزاحمتی گروہوں کے تعاون سے ایک دن کابل پر قبضہ کر لیا اور پاکستانی عمائدین سمیت افغانستان کے دیگر گروہوں اور روس کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا، احمد شاہ مسعودذاتی زندگی میں کم گو اور کافی حد تک شرمیلے تھے لیکن حربی زندگی میں ایک مدبر،جنگجو،رہنماء اور گوریلا مجاہد تھے۔
روس افغانستان تصادم میں اگر کوئی شخص بناء کسی بیرونی امداد کے سامنے آیا تو وہ تھے احمد شاہ مسعود جنہیں دنیا نے گوریلا جنگ کا کامیاب ترین جنگجو مانا، احمد شاہ مسعود کو وادی پنج شیر میں دو دہشت گردوں میں صحافیوں کے روپ میں آکر خود کش حملے کے ذریعے شہید کر دیا ..
دنیا جہاں میں مقبوضہ علاقوں میں مزاحمتیں جاری رہیں گی دنیا آگے بڑھ جائے گی لیکن دنیا ایشیائی سیاست میں انجنئیراحمد شاہ مسعود کو ایسے ہی یاد رکھتی ہے جیسے بولیویا کے ڈاکٹر چی گویرا کو ....
رب تعالیٰ احمدشاہ مسعود کی قبر کو روشن کشادہ اور منورفرمائے، آخرت میں اُن کا انجام انبیاء صدیقین شہیداء و صالحین کے ساتھ فرمائے۔
آمین ثم آمین

06 ستمبر، 1965ءچھمب جوڑیاں (آزادکشمیر) سیکٹر پرپاک فوج کی بڑی کامیابی کے بعد چانکیہ کے چیلے بھاگ نکلے تھے اور دنیا کی تا...
06/09/2020

06 ستمبر، 1965ء
چھمب جوڑیاں (آزادکشمیر) سیکٹر پرپاک فوج کی بڑی کامیابی کے بعد چانکیہ کے چیلے بھاگ نکلے تھے اور دنیا کی تاریخ میں پہلی بار کوئی فوج اپنے فوجی دستاویز، وردیاں، ذاتی اسلحہ، یونٹ کی توپین، مشین گنیں چھوڑ کر بھاگ گئی۔
تصویر: پاکستانی شاہین ہندوستانی گنز کے ساتھ

روزنامہ جنگ 6 ستمبر،1965ءجب ایک سڑک سے شروع ہونے والی جنگ ہندوستان کے گلے کی ہڈی بن گئی
06/09/2020

روزنامہ جنگ 6 ستمبر،1965ء
جب ایک سڑک سے شروع ہونے والی جنگ ہندوستان کے گلے کی ہڈی بن گئی

30/08/2020

NT needs a volunteer for a noble cause

21 اگست 2020ءپاکستانی پرچم کی توہینضلع ڈڈیال ریاست آزادکشمیر میں دو اشخاص کو مقبول بٹ اسکوائر سے پاکستانی پرچم کی توہین ...
24/08/2020

21 اگست 2020ء
پاکستانی پرچم کی توہین
ضلع ڈڈیال ریاست آزادکشمیر میں دو اشخاص کو مقبول بٹ اسکوائر سے پاکستانی پرچم کی توہین کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا جن میں سے ایک کا نام راجہ تنویر احمد ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستانی پرچم بلدیہ ڈڈیا ل کی طرف سے مقبول بٹ اسکوائر میں آویزاں کیا گیا تھا جو 14 اگست 1947ء کی تقریبات کہ سلسلہ میں ڈپٹی کمشنر میرپور کی طرف سے تاحال آویزاں تھا۔
مذکورہ شخص نے پاکستانی پرچم کو چوک سے ہٹا کر جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے پرچم آویزاں کرنے کی کوشش کی جس پور مقامی انتظامیہ فوری طور پر حرکت میں آئی اور مذکورہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ۔.
اس سارے معاملے میں دو طرفہ موقف کو دیکھا جائے تو ڈپٹی کمشنر میرپور کا موقف ہے کہ مقبول بٹ اسکوائر بلدیہ میرپور کی ملکیت ہے یا سرکاری املاک کا حصہ ہے اس پر بناء اجازت کسی سیاسی پارٹی تحریک یا گروہ کا پرچم نہیں لہرایا جا سکتا، جبکہ پاکستانی پرچم وہاں انتظامیہ کہ منشاء و مرضی مطابقہ 14 اگست کے سلسلہ میں لگایا گیا تھا۔
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ضلعی صدر سعد انصاری ایڈوکیٹ کا موقف ہے کہ مذکورہ چوک کا نام مقبول بٹ کی قربانیوں کو سراہنے کے لئے اُن کے نام سے موسوم کیا گیا تھا اس اسکوائر پر جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے پرچم لگے ہوئے تھے جن کو اتار کر کشمیر ریاست کے غیر ریاستی پرچم پاکستان کا پرچم لگایا گیا تھا،جس پر راجہ تنویر احمد اور ہمارے ساتھیوں نے انتظامیہ سے رابطہ قائم کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ 14اگست کی تقریبات کے بعد کشمیر کے غیر ریاستی پرچم کو اتار لیا جائے گا اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے پرچموں کو دوبارہ لگا دیا جائے گا۔
جبکہ دوسری طرف ڈپٹی کمشنر کا کہنا کہ سرکاری جگہ پر بناء اجازت کوئی دوسرا پرچم آویزاں نہیں کیا جا سکتا،ڈپٹی کمشنر طاہر ممتاز نے سعد انصاری کے دعوی کو مکمل مسترد کیا ہے،ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے تھے۔ ہم نے کبھی بھی کسی سے کوئی پرچم دوبارہ لگانے اور اتارنے کا وعدہ نہیں کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی سیاسی پارٹی، تنظیم وغیرہ کو کسی بھی مقام پر اپنے پرچم وغیرہ لگانے کے لیے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم سے ایسی کوئی اجازت کسی نے بھی حاصل نہیں کی تھی۔ مقبول بٹ اسکوائر کے دیکھ بھال انتظامیہ کی ذمہ داری ہے جو وہ احسن طریقہ سے پوری کررہے ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جماعت اسلامی کے سابق امیر اور مرکزی رہنما سردار اعجاز افضل خان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کا پرچم اتارانا غداری کے مترادف ہے۔‘
ان کا دعوی تھا کہ ’اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ آر اور پار کے کشمیری، کشمیر کو پاکستان بنانے کی جدوجہد کررہے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد ڈوڈھیال کی تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے کارکناں اکھٹے ہوئے اور انھوں نے دوبارہ پاکستان کا پرچم لہرایا ہے۔

سانحہ کراچی PK8303 رواں سال عیدالفطر پر قوم کا ہر دردمند سوگوار رہا جس کی وجہ سانحہ کراچی تھا،سانحہ کراچی پاکستان میں PI...
10/06/2020

سانحہ کراچی PK8303
رواں سال عیدالفطر پر قوم کا ہر دردمند سوگوار رہا جس کی وجہ سانحہ کراچی تھا،سانحہ کراچی پاکستان میں PIA کے طیاروں یا پھر کسی بھی قسم کے طیاروں کا فنی خرابی یا کسی بھی اور خرابی کی وجہ سے گرنے والا پہلا طیارہ نہیں اور شاید نہ ہی آخری .....
طیاروں کے گرنے کی جو بنیادی وجوہات ہیں وہ کچھ یوں ہیں کہ:
1. پائلٹ کی غلطی
2. مکینیکل فالٹ
3. موسمی خرابی
4. ائرٹریفک کنٹرول کی غلطی
5. تخریب کاری
6. دیگر عوامل
قیام پاکستان سے لے کر آج تک مسافر بردار یا فوجی مقاصد کے طیاروں کے حادثات میں "تخریب کاری" کا عنصر سامنے نہیں آیا اور ہر حادثے کے بعد بلیک باکس اور دیگر شواہد سے سارا ملبہ مرنے والے پائلٹ کے سر ڈالا جاتا ہے۔
جبکہ طیاروں کے حادثات کی اصل وجہ دیگر ہیں جن میں مکینیکل فالٹ، موسمی خرابی، ائرٹریفک کنٹرول کی غلطی اور دیگرعوامل جیسے Dispatcher, Loader, Fuellers, Maintenance Engineers کی غلطیاں ہیں۔
پاکستان میں میں ہونے والے طیارہ حادثات میں آج تک 1362 افراد لقمہ اجل بنے یہ وہ افراد ہیں جا حادثے کے میں دوران حادثہ ہی وفات پا گئے جبکہ بعد ازاں زخمیوں میں سے وفات شدگان کی تعداد علیحدہ ہے، جبکہ ان حادثات میں فوت ہونے والوں میں 8 بیرون ممالک کے مہمان اور پاکستان کے وی آئی پیز ہیں جبکہ 55 پاکستان کے اعلیٰ قومی اداروں اور عہدوں پر کام کرنے والے لوگ ہی جو کسی نہ کسی طرح مقامی یا بین الاقوامی سازش کی بھینٹ چڑھے ...
فکر کی بات یہ ہے کہ ان حادثات میں 90 فیصد نالائقی و غیر ذمہ داری ٹیکنیکل سٹاف کی ہے خواہ وہ ائیر کنٹرول میں ہوں انجینئیرز ہوں یا جہاز سے متعلقہ ٹیکینکل افراد ہوں، من الحیث قوم ہمیں اس پہلوؤ پر توجہ دینی ہو گی کہ جہازوں کی Over Haulling کو بہتر بنائے جائے سفارشی پرچی بھرتی بند کی جائے اور پاکستان کے بہترین انجینئیرز کو تعینات کیا جائے، ناکافی غیر معیاری پرزہ جات کو بند کیا جائے PIA کے ٹینڈرز کو رشوت و کمیشن سے پاک کیا جائے ...
ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ پاکستان میں سیاح اور غیر ملکی چھوڑ کود پاکستانی متوسط طبقہ جو پیسے بچانے کی غرض سے PIA کا اتنخاب کرتے ہیں اپنی جان بچانے کے لئے قومی ائیر لائن کو یکسر مسترد کر دیں گے۔
NT | Nazria Trust
10 June, 2020

مسلمانان عالم کو بالعموم و مسلمانانِ پاکستان کو دلی عیدمبارکاللہ ریاست پاکستان کو آفات  وبلیات سے محفوظ و مامون رکھے تاد...
24/05/2020

مسلمانان عالم کو بالعموم و مسلمانانِ پاکستان کو دلی عیدمبارک
اللہ ریاست پاکستان کو آفات وبلیات سے محفوظ و مامون رکھے تادیر قائم دائم و سلامت رکھے،اس کےلوگوں پر اپنی خصوصی سلامتی رکھے۔
نظریہ ٹرسٹ

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ22مئی 2020ء کو پاکستان ائیرلائن کا جہاز فنی خرابی کی وجہ سے کراچی ائیرپورٹ پر...
23/05/2020

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
22مئی 2020ء کو پاکستان ائیرلائن کا جہاز فنی خرابی کی وجہ سے کراچی ائیرپورٹ پر صیح طرح سے لینڈ نہ کر پایا اور قریبی آبادی میں گر کر تباہ ہو گیا جس کی وجہ سے 91 مسافروں اور عملے کے 8 افراد کی جانیں گئی، ہر دردِدل رکھنے والا انسان اس واقع کی وجہ سے دکھ کا میں مبتلا ہے، اللہ شہداء کے درجات کو بلند کرتے اور اہلیخانہ ہو صبر کی توفیق عطا کرے ۔ آمین
پاکستان ائیرلائن کا یہ پہلا جہاز نہیں جو فنی خرابی کی وجہ سے حادثہ کا شکار ہوا ہے، اگر تاریک دیکھی جائے تو 20 مئی، 1965ء کے پہلے حادثے سے لے کر 23مئی، 2020ء کے حالیہ حادثے تک 18 کے قریب بڑے بڑے ہوائی حادثات ہو چکے ہیں جن میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا، (جن کی تفصیل تحریر کے آخیر میں موجود ہے)
سوال یہ کہ پاکستان ائیر لائن ہی میں حادثات کی تعداد اتنی زیادہ کیون ہے دنیا کے ہر ہی ملک کی ائیر لائین موجود ہے مگر حادثات کا جو گراف ہمارے ہاں ہے اس کی کہیں اور مثال نہیں ملتی مشیتِ ایزدی سے کوئی انکار نہیں کہ ان لوگوں کی زندگی کا اختتام ہو چکا تھا تو حادثہ ہوا مگر حادثے کی ہر بار کی وجہ فنی خرابی ہی کیوں ؟
یاد رکھیں فنی خرابی (Technical Faults) ناقص پرزہ جات (Low Quality Equipment) ناکافی ریپئرنگ )Lack of Proper Repaining) اور جہازوں کے Out Dated ہونے کی وجہ سے ہوتے ہیں، فنی خرابی سے لے کر Out Dated طیاروں کو چلائے رکھنے تک ایک طبقہ ہر جگہ ملوث ہے اور وہ ہیں Engineers کا طبقہ گو کہ ناقص پرزہ جات و ناکافی Repair کے کی مدد سے بچائے جانے والی رقوم میں منسٹری کی سطح تک کے لوگ بھی ملوث ہیں مگر پرزہ جات کی Approval اور جہاز کو Ready Position تک لا کر Approved کرنے والے Engineers ہی ہیں یا وہ Technical Staff جو ان Engineers کے ساتھ ہوتا ہے، ان کے تھوڑے سے دنیاوی فائدوں کے لئے قیمتی جانوں کا نقصان ہوتا ہے۔
پاکستان میں ہر ہی بڑے حادثے کے لئے کروڑوں کے فنڈ سے انکوائری کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں جن کا نیتجہ ڈھاک کے تین پات کی طرح کچھ بھی نہیں نکلتا ور ان کمیٹیوں کی آڑ میں بہت سے لوگوں کو اختیارات اور فنڈز سے نوازا جاتا ہے، بات آئی گئی ہو جاتی ہے اور پوری قوم اگلے کسی حادثے کے لئے ذہنی و جسمانی طور پر تیار ہو جاتی ہے کہ دیکھیں اس بار کس کی جان جاتی ہے۔
پاکستان میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لئے پاکستان ائیر لائن میں ہونے والی مالی کرپشن کے علاوہ ناقص پرزہ جات ناکافی ریپئر اور Quality SOP's کو یقینی بنان ہو گا ورنہ نہ ایسے حادثات کی روک تھام ہو گی نہ ہی ان کی تحقیقات کا کوئی فائدہ ہو گا اور پوری قوم ہمہ وقت Lives at Risk پر جی رہی ہو گی۔
پاکستان میں مختلف ادوار میں ہونے والے فضائی حادثات ..
May 20, 1965

A PIA Boeing 707 crashes on its inaugural flight while attempting to land at Cairo airport, killing 124 people.

August 6, 1970

A PIA Fokker F27 turboprop aircraft crashes while attempting to take off from Islamabad in a thunderstorm, killing all 30 people on board.

December 8, 1972

A PIA Fokker F27 crashes in Rawalpindi. All 26 people on board are killed.

November 26, 1979

A PIA Boeing 707 bringing home Pakistani Haj pilgrims from Saudi Arabia crashes shortly after take-off from Jeddah airport, killing 156 people.

October 23, 1986

A PIA Fokker F27 crashes while coming in to land in Peshawar, killing 13 of the 54 people on board.

August 17, 1988

A US-made Hercules C-130 military aircraft crashes near Bahawalpur, killing military ruler General Mohammad Zia ul Haq and 30 others including Pakistani generals and the US ambassador.

August 25, 1989

A PIA Fokker carrying 54 people disappears after leaving Gilgit. The wreckage is never found.

September 28, 1992

A PIA Airbus A300 crashes into a cloud-covered hillside on approach to the Nepalese capital Kathmandu after the plane descended too early, killing 167 people.

February 19, 2003

An air force Fokker F27 crashes in fog-shrouded mountains near Kohat, killing Air Chief Marshal Mushaf Ali, his wife and 15 others.

February 24, 2003

A chartered Cessna 402-B carrying Afghan Mines and Industries Minister Juma Mohammad Mohammadi, four Afghan officials, a Chinese mining executive and two Pakistani crew crashes into the Arabian Sea near Karachi.

July 10, 2006

A PIA Fokker F27 bound for Lahore crashes into a field and bursts into flames shortly after takeoff from Multan, killing 41 passengers and four crew.

July 28, 2010

An Airblue Airbus 321 operated by the private airline Airblue flying from Karachi crashes into hills outside Islamabad while preparing to land, killing all 152 people on board.

November 5, 2010

A twin-engine plane operated by Pakistani charter JS Air carrying staff from an Italian oil company crashes shortly after take-off in Karachi, killing all 21 people on board.

November 28, 2010

At least 12 people are killed when a Russian-made Ilyushin IL-76 cargo plane operated by Georgian airline Sunway crashes in a fireball seconds after taking off from Karachi.

April 20, 2012

A Bhoja Air Airbus 737 from Karachi comes down in bad weather near Islamabad, killing 121 passengers and 6 crew members.

May 8, 2015

A Pakistani military helicopter crashes, killing eight people including the Norwegian, Philippine and Indonesian envoys and the wives of Malaysian and Indonesian envoys, and setting a school building ablaze in a remote valley near Gilgit.

December 7, 2016

A PIA ATR-42 aircraft crashes enroute from Chitral to Islamabad. The crash claims lives of all 48 passengers and crew, including singer-cum-evangelist Junaid Jamshed.

May 22, 2020

A PIA Airbus A320 crashes near the Karachi Airport while completing a journey from Lahore. A total of 91 passengers, besides 8 crew members, were on board the aircraft.
NT | Nazria Trust
May 23, 2020

"نظریاتی انسان کبھی غدار نہیں ہوتے، مگر دولت کے شوقین کبھی وفا دار نہیں ہوتے" (ڈاکٹرچی گویرا) ڈاکٹرچی گویرا ارجنٹائن کا ...
16/05/2020

"نظریاتی انسان کبھی غدار نہیں ہوتے، مگر دولت کے شوقین کبھی وفا دار نہیں ہوتے" (ڈاکٹرچی گویرا)
ڈاکٹرچی گویرا ارجنٹائن کا انقلابی لیڈر تھا جو 4 مئی 1928ء کو ارجنٹائن میں پیدا ہوا، گو کہ وہ پیدائشی دمے کا مریض تھا مگر اس نے اپنی بیماری کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا، وہ شطرنج کا ایک اچھا پلیئر تھا، ایک بھرپور ایتھلیٹ تھا۔
وہ مطالعہ کا بہت شائق تھا اس کی ذاتی لائبریری میں 3000 کے لگ بھگ کتب موجود تھیں،تعلیمی لحاظ سے وہ طب کا طالبِ علم تھا دوران تعلیم ہی اسے سیاحت کا شوق چرانے لگا اور اس کے ہر کام کی طرح اس کے اس شوق میں بھی جنون شامل تھا۔
اس نے محض 1950ء سے 1953ء تک جنوبی امریکہ کو تین بار اپنی سیاحت کے لئے چنا جس میں سے ایک انتہائی حیرت انگیز تھا کہ جب چی گویرا نے تن تنہا ایک سائیکل پر جنوبی امریکہ میں جنوب سے شمال جاتے ہوئے 4500 کلومیٹر کا سفر کیا۔
دوسرا سفر 1951ء میں کیا جس کے لئے سواری کے طور موٹر سائیکل کا استعمال کیا جو پہلے سفر سے دوگنا یعنی 8000 کلومیٹر تھا، اسی طرح تیسرا سفر اس نے 1953ء میں کیا۔
ان تین سفروں میں جو مشترک تھا وہ علاقے تھےجو اس نے ہر ہی بات راستے کے لئے چنے تھے، وہ ہر ہی بار چلی،پیرو،ایکواڈور،کولمبیا،وینزویلا،پانامہ،برازیل،بولیویا اور کیوبا تھے، سفر کی اس سرگزشت کو Motercycle Journey کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،اور اس پر ایک مشہورفلم بھی اسی نام سے بنی ہے۔
اس سفر کو موٹر سائیکل جرنی کے نام سے یاد کیا جا تا ہے، جس پر کئی کتابیں،اور خود اس کی یاداشتیں چھپ چکی ہیں اور ایک فلم بھی بن چکی ہے اسی نام سے ہے۔
اس سفر کے دوران چے کے مشاہدے میں جہاں بے پناہ اضافہ ہوا، وہی جب وہ دیہاتوں اور چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں سے گزرا، تو وہاں کے رہنے والے باشندوں کی حالت زار، غربت اور بھوک اور بیماریوں نے اس کی آنکھیں کھول دیں، وہ غریبوں کے لیے بہت حساس دل رکھتا تھا، اوراس مشاہدے سے اس نتیجے پر پہنچا کہ تقریباً تمام جنوبی امریکا اس وقت کٹھ پتلی حکمرانوں کے زیر تسلط ہے اور ان کی آڑ میں سرمایہ داری نظام یہاں جڑ پکڑ رہا ہے، جس کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ امریکا بہادر خود ہے۔
وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ دونوں یعنی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کا سرپرست امریکا کبھی بھی غریبوں کے دوست نہیں ہوسکتے اور ان کی تسلط سے اس خطے کو آزاد کرانے کے لیے اسے اپنی تعلیم چھوڑ کر انقلابی راہ اپنانی پڑے گی۔
بس یہی دن تھے جو اس کی فکری تبدیلی کی وجہ بنی اور وہ بتدریج گواتیمالا،کیوبا،کانگو،اور بولیویا میں اسکی مسلح انقلابی جہدوجہدکہ وجہ بنی 1954ء میں میکسیکو چلاگیا، وہاں ایک سال تک جنرل ہسپتال میں الرجی کا شعبہ سنبھالنے کے بعد 1955ء میں اس کی ملاقات کیوبا کے نئے ابھرتے انقلابی لیڈر فیدل کاسترو کے بھائی رائول کاسترو سے ہوئی، جس نے اس کی سوچ سے متاثر ہوکر بعد میں اسے اپنے بھائی سے ملوایا۔ اس ملاقات کو اگر چی کی زندگی کا نقطہ آغاز کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، دونوں نے متضاد شخصیت ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو کافی متاثر کیا اور چی نے کاسترو کی تحریک میں شمولیت اختیار کرلی۔
چے جیسے انقالبیوں کی بدولت ہی وہ وقت دور نہ رہا، جب 1959ء کی پہلی صبح کٹھ پتلی حکمران ملک چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گیا۔
انقلابیوں کی حکومت آئی تو انھیں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، چی کوصنعت اور خزانے کی وزارتیں دیں گئیں، مگر انقلابی جدوجہد کے مقابلے میں اصلاحات کا کام نہایت دشوار ثابت ہوا، خصوصاً جب امریکا بہادر ان کے گرد گھیرا تنگ کر رہا تھا اور طرح طرح کی معاشی پابندیاں عائد کر رہا تھا،اس دوران چی نے کافی کوشش کی، کئی ملکوں کے دورے کیے اور بڑے بڑے مگرمچھوں سے زمینیں چھین کر غریبوں میں تقسیم کیں، مگر ان اصلاحات کے خاطر خواہ نتائج نہیں نکل سکے اور اسے پس پردہ جانا پڑا۔
اسی دوران اسکی گرتی ہوئی صحت اور بلا کی سگار نوشی اس کی صحت دن بدن گرا رہی تھی اوران دنوں وہ بہت بیمار رہتا تھا، کچھ عرصہ وہ خاموش رہا اور پھر صحت بہتر ہوتے ہی چے نے اگلی سرگرمی کے لیے بولیویا کا انتخاب کیا، جہاں ایک اور امریکن نواز حکومت عوام کا خون چوس رہی تھی۔ وہ 1966ء کے آخر میں بولیویا پہنچا، اورایک پہاڑی علاقے سے تقریباً 50 ساتھیوں کی مدد سے تحریک شروع کی۔ اور شروعات میں اسے کافی اچھی کامیابیاں ملیں اور کئی جھڑپوں میں بولیوین آرمی کو شدید نقصان پہنچایا۔ جو بعد میں اس کی موت کا اصل سبب بنا۔ کیونکہ اس نے انھیں کافی زک پہنچائی تھی۔
7 اکتوبر، 1967ء کی صبح ایک مقامی مخبر نے قریبی فوجی اڈے پر چی اور اس کے ساتھیوں کے ٹھکانے کی اطلاع دی، جس پر فوج حرکت میں آگئی،امریکن سی آئی اے جو کانگو سے اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی تھی،اس آپریشن میں بولیوین افواج کی بھرپور مدد کر رہی تھی۔ پھر پلان بنا کر چی اور اس کے ساتھیوں کے گرد پہاڑیوں میں گھیرا تنگ کیا گیا۔
پھر جب دو دن تک اس پر مغز ماری کرنے سے بھی کچھ حاصل نہ ہوا، تو اس کی رپورٹ صدر کو دے دی گئی، جس نے کسی ممکنہ پریشر سے بچنے کے لیے اس کی فوری موت کا حکم صادر کر دیا۔ سی آئی اے چاہ رہی تھی کہ اسے پانامہ منتقل کیا جائے، تاکہ وہاں ان کی اسپیشل ٹیم اس سے مزید تفتیش کرے، مگر صدر کو ڈر تھا کہ اگر وہ فرار ہو گیا تو شاید پھر ہاتھ نہ آئے اور اس کی حکومت پھر خطرہ میں پڑ سکتی ہے، لہذا اس نے اپنا حکم برقرار رکھا۔

آرڈر کی تکمیل کی گئی اور اسی شام اسے ایک شرابی جلاد کے حوالے کیا گیا، جو جنگ میں اپنے تین ساتھی کھوچکا تھا اور چی کو ان کی موت کا ذمہ دار سمجھ رہا تھا۔ جب وہ چی کے سامنے پہنچا تو چی نے اسے اکسایا، وہ ایک آسان موت کی توقع کر رہا تھا، مگر شرابی جلاد نے پلان کے مطابق آڑی ترچھی 9گولیاں برسائیں اور اسے بڑی اذیت ناک موت سے دوچار کیا۔

ان کا منصوبہ یہ تھا کہ چی کو واپس اسی مقام پر پھینک کر بعد میں اعلان کیا جائے کہ وہ مقابلے میں مارا گیا، تاکہ اس طرح ٹرائل نہ کرنے کے الزام سے بچا جاسکے۔
چی گویرا کو مرے 45 سال سے زائد ہو گئے ہیں، مگر وہ ابھی تک لوگوں کے دلوں میں اپنے اصول، قابلیت، سرمایہ درانہ نظام کے خلاف بغاوت اور انقلابی سوچ کی وجہ سے گھر کیے ہوئے ہے۔ اس کی مشہور تصویر جو 1960ء میں کھینچی گئی ہے، غالباً دنیا میں سب سے زیادہ پرنٹ ہونے والی تصویر ہے، جو تقریباً ہر جگہ دکھائی دیتی ہے، خصوصاً ان ممالک میں جہاں انقلابی تحریکیں چل رہی ہیں۔

ایک غلط فہمی جو اس سلسلے میں پیدا ہوتی ہے، وہ یہ کہ چی ہر باغی کا ہیرو ہے، جیسا کہ پچھلے برسوں جنوبی سوڈان میں دیکھا گیا تھا، جہاں علیحدگی پسند اس کی تصاویر کے ساتھ نظر آتے تھے، یہ بات قابل غور ہے کہ علیحدگی پسند ،ملک کا بٹوارہ کرتے ہیں اور انقلابی اپنے ملک سے نااہل حکمران کو ہٹنے کی تحریک چلاتے ہیں، اورچی کی زندگی کا محور یہی تحریکیں رہی ہیں۔
اس کی شخصیت آج بھی کیوبا میں ایک نیشنل ہیرو کی طرح ہی ہے، اگرچہ وہ وہاں کا باشندہ نہیں اور اپنے ملک ارجنٹائن میں بھی وہ کسی ہیرو کی طرح پڑھایا اور یاد کیا جاتا ہے۔
اور ڈاکٹر چی گویرا نے ساری عمر دکھی و مظلوم انسانیت کی آزادی کی جہدوجہد سے یہ ثابت کر دیا کہ: "نظریاتی انسان کبھی غدار نہیں ہوتے، مگر دولت کے شوقین کبھی وفا دار نہیں ہوتے" (ڈاکٹرچی گویرا)
May 16, 2020
NT | Revolutionary

May 13, 2020NT | Volunteers "No volunteer is to brag about giving his time, effort, energy, knowledge and memory when he...
13/05/2020

May 13, 2020
NT | Volunteers

"No volunteer is to brag about giving his time, effort, energy, knowledge and memory when he is doing it fee sabeelillah" (in the way of Allah).

Nazria Trust does not earn any income from any aspect from some organizations or individual persons, although it's not a nationwide well recognised patriotic cause, but it's also reality that you also define your path from day first, and from the day first we decided to grown up without any internal or external institutional funding.

Volunteers are our asset and one day we will be stood by the help of thousand volunteers nation wide and across the borders also with dignity.

we want to say warm thanks Zohaib Ul Hassan to help out Nazria Trust in few technical designing issues regarding to official logo, One day you will be proud on it ...

Oscar Wilde says that;
“The smallest act of kindness is worth more than the grandest intention.”

NT | Nazria Trust

نادرا NADRA پاکستان کا ایک نہایت اہم محکمہ اور غیر معمولی طور پر منافع بخش محکمہ ہے، گو کہ نادرا کو ایک NICOP کارڈ کی تی...
11/02/2018

نادرا NADRA پاکستان کا ایک نہایت اہم محکمہ اور غیر معمولی طور پر منافع بخش محکمہ ہے، گو کہ نادرا کو ایک NICOP کارڈ کی تیاری اور اجراء پر چالیس روپے (Rs. 40/Pkr) کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے مگر ان سب کے باوجود یہ محکمہ تیزی سے اپنے اہداف کی طرف بڑھ رہا ہے۔
پاکستانیوں کا بنیادی ڈیٹا بیس Manage کرنا NADRA ہی کی ذمہ داری ہے اور اس حوالہ سے یہ پاکستان کے حساس ترین محکموں میں سے ہے، جس کے تمام کلیدی عہدوں پرایسے افراد کی تعنیاتی یقنی بنانی چاہئے جن کی ذات ہر طرح کہ ممکنہ تحفظات ے پاک ہو۔
یاد رکھئیے کہ پاکستانی قوانین کے مطابق کوئی بھی جو قومی اسمبلی کی سیٹ کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرواتا ہے اس کو اپنی دوہری شخصیت کو منسوخ کرنا پڑتا ہے،جبکہ قومی اسمبلی قانون سازی کا ادارہ ہے کوئی حساس ملکی ادارہ نہیں جہاں سے کوئی راز افشاں ہونے کا خطرہ ہو۔
جبکہ ایک ایسا اداراہ جو تمام پاکستانیوں کی بنیادی معلومات اپنے پاس رکھتا ہو اس کے ٹیکنالوجی کے شعبہ میں (جہاں سے تمام کا تمام NADRA کا نظام سنمبھالا جاتا اور جہاں تمام پاکستانیوں کا ڈیٹا موجود) جنرل مینیجر کے عہدہ پر ایک ایسے دوہری شخصیت کے بندے کو بٹھانا جس کی اعلیٰ تعلیمی اسناد برطانیہ کی اور سونے پر سہاگہ کہ برطانیہ کے شہری بھی ہیں،عقل سے بالا ہی ہے۔
احمرین حسین نے اپنی گریجویشن کوئین میری یونیورسٹی لندن سے کی، بزنس اور اکنامکس میں گریجویشن کے بعد ساڑھے آٹھ سال تک لندن ہی میں نوکری کی اور بعد ازاں اللہ ہی جانے کی کے ایماء پر پاکستان تشریف لے آئے اور پاکستان کے ایک بہت حساس محکمے میں بطور Senior Unix Systems Administrator تعینات ہوئے، موصوف کی NADRA میں خدمات حسب ذیل ہیں۔
1. Senior UNIX Systems Administrator (June 2005 - May 2015)
2. Manager System (May 2011 - Oct 2011)*
3. Director Systems (May 2011 - Oct 2011)
4. Head of Infrastructure, Network & Is (Sep 2016 - Aug 2017)
5. GM Technology (August 2017 - Present)
احمرین حسین کی کی پہلی ترقی نے تو 10 سال لئے مگر ان کی بطور Manager System نوکری کا دورانیہ فقط پانچ ماہ ہے، اور پانچ ماہ بعد ہی وہ Director Systems کے عہدہ پر فائز ہو گئے ان کی یہ طلسماتی ترقی بھی قابل غور ہے ۔
مختصر یہ کہ اتنے حساس ادارے کے ایک اتنے خاص و حساس شعبہ میں ایک دوہری شخسیت کے حامل فرد کی تعنیاتی بطور چئیرمین پریشان کن ہے، کیا اس طرح سے پاکستانیوں کا ڈیٹا محفوظ ہے؟ کیا ملکہ برطانیہ سے وفا داری کا حلف پاکستانیوں کے ڈیٹا کی "حفاظت" پر سوالیہ نشان نہیں ؟

Address

E-87 Left Bank Mangla Colony Wapda Mangla
Mangla
10200

Telephone

+923216562509

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nazria Trust [Official] posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Nazria Trust [Official]:

Shortcuts

Share

Category