Learn with Hamza Tariq

Learn with Hamza Tariq (EDUCATIONIST)

اکھے کرنل نے اپنی بیگم کی عزت لیے سٹینڈ لے کر گناہ کیا، کیونکہ یہ ملک اور معاشرہ ایسا ہے جس میں آیت نور کمزور تھی تو ظلم...
25/08/2026

اکھے کرنل نے اپنی بیگم کی عزت لیے سٹینڈ لے کر گناہ کیا، کیونکہ یہ ملک اور معاشرہ ایسا ہے جس میں آیت نور کمزور تھی تو ظلم و بربریت و درندگی کی مثال بنا دی گئ۔

ھری پور
ساڑھے چار سالہ ننھی آیت نور کی لاش کنویں سے برآمد، درندگی اور بدترین تشدد کا انکشاف
ہری پور: کئی روز سے لاپتہ ساڑھے چار سالہ ننھی آیت نور کے کیس میں انتہائی افسوسناک پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہری پور کے علاقے یونیورسٹی ٹاؤن کے ایک کنویں سے بچی کی لاش برآمد کر لی گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ننھی آیت نور کے جسم پر بدترین تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں، جبکہ بچی کے ساتھ*** کا اقرار پہلے ہی گرفتار مجرم کر چکے ہیں
ذرائع کے مطابق واقعے میں پانچ افراد کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم حتمی حقائق تفتیش اور فرانزک رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
ساڑھے چار سال کی معصوم بچی کے ساتھ پیش آنے والے اس اندوہناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ چند روز قبل آیت نور کی بازیابی کے لیے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے تھے، دھرنا دیا گیا تھا اور پولیس سے بچی کو جلد بازیاب کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، مگر اب اس کی لاش ملنے کی خبر نے ہر آنکھ اشکبار کر دی ہے۔

🚨 بریکنگ انکشاف!کیا ایران نے واقعی ڈونلڈ ٹرمپ کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا؟50 ملین یورو انعام، موساد کی وارننگ، اور ٹرمپ ...
12/07/2026

🚨 بریکنگ انکشاف!
کیا ایران نے واقعی ڈونلڈ ٹرمپ کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا؟
50 ملین یورو انعام، موساد کی وارننگ، اور ٹرمپ کے بڑھتے ہوئے خوف کی اندرونی کہانی!
یہ معلومات سن کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے...

جی تو آپ کو یہ تو معلوم ہوگا کہ ایران نے ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے، لیکن کیا آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ ایران ایک ایسے بل پر بھی کام کر رہا ہے جس کے مطابق جو بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنائے گا یا انہیں قتل (Assassinate) کرے گا، اسے 50 ملین یورو دیے جائیں گے؟ آپ گوگل پر جا کر بھی سرچ کر سکتے ہیں، باضابطہ طور پر ایسا بل لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اور جو ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ "مجھے مار دیا جائے گا"، تو اس کے پیچھے سیکیورٹی خدشات موجود ہیں، اور یہ خدشات پہلے سے بھی تھے۔

میں آپ کو ایک اور بات بتاتا ہوں۔ یہ معلومات CIA نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نہیں دیں، بلکہ اسرائیل کی انٹیلی جنس موساد نے انہیں آگاہ کیا۔ ان کے مطابق "The target was very specific." یہ ایک فوجی اصطلاح ہے، یعنی اسرائیل کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح طور پر بتایا گیا کہ ایران کا ہدف صرف آپ ہیں۔ ایران کسی اور چیز میں دلچسپی نہیں رکھتا، بلکہ وہ صرف آپ کو ختم کرنا چاہتا ہے، اور یہی مطالبہ ان کے اپنے لوگ بھی کر رہے ہیں۔

اب میں آپ کو بتاؤں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے منہ سے جو اس قسم کی باتیں نکل رہی ہیں کہ "شاید میں مارا جاؤں"، تو اس کے پیچھے بھی وجوہات ہیں۔ انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں کیا کچھ کیا ہے۔

آپ یہ نہ بھولیے کہ یہی وہ شخص تھا جس نے جنرل قاسم سلیمانی کو بغداد ایئرپورٹ پر ڈرون حملے میں، بغیر کسی اعلان اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے، قتل کروایا تھا۔ اس وقت ایران نے اعلان کیا تھا کہ ہم اس کا بدلہ ضرور لیں گے، لیکن جلدی نہیں، اور ہم بتائیں گے بھی نہیں۔

لیکن اس مرتبہ ایران نے کھلے عام پوری دنیا کے سامنے اعلان کیا۔ حتیٰ کہ تدفین کے موقع پر ایک عمارت پر بڑا بینر بھی آویزاں کیا گیا جس پر واضح طور پر لکھا گیا کہ "ہم تمہیں ڈھونڈ کر ماریں گے۔" اس بار انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم جلدی نہیں کریں گے، بلکہ اب اس پر عملی کام شروع ہو چکا ہے۔

اب ایک سوال جو شاید آپ کے ذہن میں نہیں آیا۔ کچھ لوگ یہ بات کر رہے ہیں کہ شاید اسرائیل ہی ٹرمپ کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہے تو پھر اسرائیل نے خفیہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ کیوں بتایا کہ ایران تمہیں ختم کرنا چاہتا ہے، اور یہ کہ ہدف بہت مخصوص ہے؟

آخر کیا ضرورت تھی کہ بنیامین نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا؟ اور پھر وہ قطر کی طرف سے تحفے میں ملنے والے طیارے کے بجائے دوسرے جہاز میں سفر کرنے لگے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیل بخوبی جانتے ہیں کہ ٹرمپ اس وقت خوفزدہ اور دباؤ کا شکار ہیں۔ وہ جاپان کو "Islamic Japan Republic" کہہ رہے ہیں، کبھی پوتن کا نام لے رہے ہیں۔ یہ سب خوف کی علامات ہیں۔

اس وقت آپ یہ سمجھ لیں کہ ٹرمپ کا خوف، اسرائیل کے لیے ایک ہتھیار بن چکا ہے، اور شاید خود ٹرمپ کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں۔

اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میرا خیال ہے کہ یہ ہونا ضرور ہے، کیونکہ امریکی تاریخ میں، بلکہ دنیا کی تاریخ میں، اس شخص نے جتنی تباہی مچائی ہے اور جتنے فیصلے کیے ہیں، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ اسے خود بھی اس بات کا بخوبی احساس ہے، اسی لیے اس کی راتوں کی نیند اڑی ہوئی ہے۔

ایران آہستہ آہستہ اپنے اہداف پورے کر رہا ہے۔ ان کے لیے سب سے بڑا ایونٹ جنازہ تھا، وہ ہو چکا۔ دنیا کی طاقتوں نے دیکھ لیا کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے۔

اسی ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی فوج کو بھی یہ ہدایت دی ہے کہ اگر مجھے کچھ ہو جائے، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ اگر ان کی کوئی ہٹ لسٹ ہے تو اس میں میرا نام پہلے نمبر پر ہے، تو پھر ایران کو فوجی طاقت سے صفحۂ ہستی سے مٹا دینا۔

لیکن جو یہ کہا جاتا ہے کہ اسرائیل ڈونلڈ ٹرمپ کو مارنا چاہتا ہے، میری رائے میں اسرائیل ایسا نہیں کرے گا، کیونکہ یہ کام ایران کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز پر کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخلرات بھر ہونے والے حملوں کے بعد خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔تجزیہ کار...
11/07/2026

آبنائے ہرمز پر کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل
رات بھر ہونے والے حملوں کے بعد خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ کی فوری کارروائی کے دو بڑے مقاصد دکھائی دیتے ہیں:
1. خلیجی اتحادیوں کو یہ یقین دلانا کہ امریکہ اب بھی ان کی سمندری سلامتی کا ضامن ہے۔
2. آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی (Freedom of Navigation) کو بحال کرنا، کیونکہ ایران پر الزام ہے کہ وہ اس اہم بحری راستے پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حملوں کا رخ بنیادی طور پر ان فوجی تنصیبات کی طرف رہا جو ساحلی نگرانی اور دفاع سے متعلق ہیں، جن میں:
ساحلی ریڈار اور نگرانی کے نظام
ایئر ڈیفنس سسٹمز
اینٹی شپ میزائل لانچرز
ڈرون لانچنگ سائٹس
کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز
آبنائے ہرمز کے قریب IRGC کی تیز رفتار کشتیوں کے اڈے
اگر یہ کشیدگی کم نہ ہوئی تو خدشہ ہے کہ معاملہ محدود جھڑپوں سے نکل کر ایک بڑی علاقائی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
سوال یہ ہے: کیا یہ صرف سمندری راستے کی جنگ ہے، یا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے اور بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے؟

جب انسان خوف محسوس کرنے لگتا ہے، تو اس کے الفاظ بھی بدلنے لگتے ہیں۔ٹرمپ نے کہا:"میں ایک بڑا ہدف ہوں، شاید میرے ساتھ بھی ...
11/07/2026

جب انسان خوف محسوس کرنے لگتا ہے، تو اس کے الفاظ بھی بدلنے لگتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا:
"میں ایک بڑا ہدف ہوں، شاید میرے ساتھ بھی کچھ ہو جائے۔"
یہ بیان دنیا بھر میں بحث کا موضوع بنا۔
چند روز پہلے یہی شخصیت سخت لہجے میں اپنے مخالفین کے خلاف بیانات دے رہی تھی، اور اب اپنی سیکیورٹی پر غیر معمولی توجہ دی جا رہی ہے۔
تاریخ ہمیں ایک بات ضرور سکھاتی ہے:
طاقت ہمیشہ مستقل نہیں رہتی۔
جب فیصلے جنگ، پابندیوں اور طاقت کے استعمال کے گرد گھومنے لگیں تو خوف بھی سیاست کا حصہ بن جاتا ہے۔
جو لوگ طاقت کے نشے میں دوسروں کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں، ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب وہ اپنے ہی مستقبل کے بارے میں فکر مند نظر آتے ہیں۔
اقتدار انسان کو ہر چیز دے سکتا ہے… مگر سکون نہیں۔
اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب دنیا سوال کرتی ہے:
کیا طاقت واقعی سب کچھ ہے؟
وقت بدلتا ہے، حالات بدلتے ہیں، لیکن تاریخ ہر فیصلہ یاد رکھتی ہے۔

لاہور میں ایک اور افسوسناک واقعہ : ٹیوشن سنٹر کے باتھ روم میں 10 سالہ طالبہ جان بحق ۔۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ ٹیوشن...
09/07/2026

لاہور میں ایک اور افسوسناک واقعہ : ٹیوشن سنٹر کے باتھ روم میں 10 سالہ طالبہ جان بحق ۔۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ ٹیوشن سنٹر برسوں سے کام کررہا تھا دو خواتین محلے کے بچوں کو گھر کی پہلی منزل پر پڑھاتی تھیں ، 20 سے زائد بچے یہاں پڑھنے آتے تھے انہیں میں سے ایک 10 سالہ نعیمہ تھی جو اپنی بڑی بہن کے ساتھ ٹیوشن سنٹر میں پڑھ رہی تھی ، 10 سالہ نعیمہ نچلے فلور پر باتھ روم آئی اور کچھ دیر بعد نیچے سے کوئی چیز گرنے کی آواز آئی ، سب لوگ بھاگ کر نیچے پہنچے تو واش روم کا دروازہ اندر سے بند تھا جب دروازہ توڑ کر کھولا گیا تو 10 سالہ نعیمہ بے ہوش یا مردہ حالت میں واش روم کے فرش پر پڑی تھی اسے واش روم سے باہر نکالا گیا اسکے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے گئے مگر اسکو ہوش نہ آیا تو محلے داروں کی مدد سے بچی کو فوری طور پر سروسز ہسپتال لے جایا گیا جہاں بچی کی موت کی تصدیق ہو گئی ۔۔۔۔
اب تک مزید کوئی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ بڑے اور معتبر سمجھے جانیوالے یوٹیوب چینلز نے اپنی ویڈٰیوز میں اس واقعہ کو بھی مبینہ زیا۔دتی سے جوڑ دیا ہے ، چونکہ آج کل بچوں کے ساتھ زیا۔دتی کا ایشو وائرل ہے تو مستعد رپورٹر اپنی ویڈیوز کے ویوز لینے کے لیے پاس سے مصالحہ لگانا ضروری سمجھتے ہیں جو نہ صرف صحافتی بلکہ اخلاقی اقدار کے بھی خلاف ہے ، اس واقعہ کو ابھی مشکل سے دو گھنٹے گزرے ہیں لیکن مصالحہ اور سنسنی مارکہ رپورٹرز نے مبینہ زیا۔دتی کا اپنے پاس سے اضافہ کرکے کیس کو ہائی لائٹ کردیا ہے ، چاہے بعد میں بچی کی موت گر کر سر میں چوٹ لگنے سے ہی سامنے آئے یا پھر کوئی اور بات ہو لیکن چڑیوں اور کبوتروں جیسے ذرائع رکھنے والے صحافیوں نے اپنا فرض ادا کردیا ہے ۔۔۔

ہم پوچھتے ہیں: مہنگائی کیوں ہے؟ سکون کیوں نہیں؟ میں یہ سوچتا ہوں: اللہ تعالیٰ کا ہم پر کتنا کرم ہے کہ ہم اب تک محفوظ ہیں...
09/07/2026

ہم پوچھتے ہیں: مہنگائی کیوں ہے؟ سکون کیوں نہیں؟ میں یہ سوچتا ہوں: اللہ تعالیٰ کا ہم پر کتنا کرم ہے کہ ہم اب تک محفوظ ہیں۔

جھوٹ، رشوت، سود، ظلم، بے حیائی، حق تلفی، کردار کشی... آخر کون سی برائی ہے جو ہمارے اندر نہیں؟

معاشرہ خراب نہیں ہوتا... معاشرہ ہم سے بنتا ہے۔ جب میں بدلوں گا، آپ بدلیں گے، تبھی معاشرہ بدلے گا۔

سوچنے کی بات یہ نہیں کہ مسائل اتنے کیوں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اللہ نے اب تک ہمیں مہلت کیوں دے رکھی ہے۔

"إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ" "بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔" (سورۃ الرعد: 11)
معاشرہ بدلنے کی خواہش رکھنے والوں! آئینے میں خود کو دیکھنے کی ہمت بھی رکھیں۔ تبدیلی دوسروں سے نہیں، خود سے شروع ہوتی ہے۔ اگر آپ متفق ہیں تو اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ 🤲❤️

پوڈ کاسٹر ریحان طارق کو حراست میں لیے جانے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئیذرائع کے مطابق، ریحان طارق کی حراست کا تعلق ان کے...
08/07/2026

پوڈ کاسٹر ریحان طارق کو حراست میں لیے جانے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

ذرائع کے مطابق، ریحان طارق کی حراست کا تعلق ان کے حالیہ پوڈکاسٹ سے جوڑا جا رہا ہے، جس میں مہمان کے طور پر علامہ جواد نقوی شریک تھے۔

اطلاعات کے مطابق، پوڈکاسٹ کے دوران ایک سوال کے جواب میں علامہ جواد نقوی نے بعض صحابۂ کرامؓ کے بارے میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ "ہر صحابی تکریم کے لائق نہیں ہوتا، لہٰذا جو تکریم کے لائق نہیں، اس کی تکریم نہیں کی جائے گی۔"

اس بیان پر بعض اہلِ سنت علماء نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ متعدد شکایات این سی سی آئی اے میں جمع کروائی گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انہی شکایات کے تناظر میں ریحان طارق کو حراست میں لیا گیا۔ یاد رہے کہ مذکورہ پوڈکاسٹ نشر ہونے کے فوراً بعد ریحان طارق چھٹیاں گزارنے کے لیے برطانیہ روانہ ہو گئے تھے۔

تاہم، تاحال متعلقہ اداروں کی جانب سے ریحان طارق کی حراست کی وجوہات کے بارے میں کوئی باضابطہ اور حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا، اس لیے ان اطلاعات کو سرکاری مؤقف نہیں سمجھا جا سکتا۔

#پاکستان

لوگ کہتے ہیں قسمت کامیابی دیتی ہے... مگر رونالڈو نے ثابت کیا کہ کامیابی قسمت نہیں، عادت ہوتی ہے۔ہر دن وہی سورج نکلتا ہے....
08/07/2026

لوگ کہتے ہیں قسمت کامیابی دیتی ہے... مگر رونالڈو نے ثابت کیا کہ کامیابی قسمت نہیں، عادت ہوتی ہے۔

ہر دن وہی سورج نکلتا ہے...
ہر دن سب کو 24 گھنٹے ہی ملتے ہیں...

فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ بہانے تلاش کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اپنے خوابوں کے پیچھے دوڑتے ہیں۔

آج بھی دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں، لیکن ان کی اصل طاقت ٹیلنٹ نہیں، بلکہ ڈسپلن، مستقل مزاجی اور خود پر یقین ہے۔

یاد رکھیں...

جس دن آپ نے بہانوں کو چھوڑ کر مسلسل محنت کرنا شروع کر دی، اسی دن آپ کی کامیابی کا سفر شروع ہو جائے گا۔

اپنی زندگی کا مقابلہ کسی اور سے نہیں، کل والے اپنے آپ سے کریں۔

کیونکہ خواب وہی پورے کرتے ہیں جو نیند سے زیادہ اپنے مقصد سے محبت کرتے ہیں۔ 💯🔥

اگر آپ بھی اپنی زندگی بدلنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو کمنٹ میں لکھیں: "میں ہار نہیں مانوں گا!" 🚀

میں تو جیل میں ہوں، ہنگامہ ہے کیوں برپا۔"یہ مصرع پڑھ کر شاید عمران خان اپنی جیل کی کوٹھری میں مسکرا دیتے ہوں، کیونکہ سیا...
06/07/2026

میں تو جیل میں ہوں، ہنگامہ ہے کیوں برپا۔"
یہ مصرع پڑھ کر شاید عمران خان اپنی جیل کی کوٹھری میں مسکرا دیتے ہوں، کیونکہ سیاست میں بعض اوقات غیر موجودگی بھی موجودگی سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔
لیکن آج گفتگو عمران خان کی نہیں، بلکہ اس سوال کی ہے جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
جب عمران خان کو جیل بھیجا گیا تو ایک تاثر پیدا کیا گیا کہ پاکستان کے زیادہ تر مسائل کی جڑ وہی ہیں۔ کہا گیا کہ معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور بدعنوانی کا مرکز ایک ہی شخص ہے۔
اگر یہ بات درست مان بھی لی جائے، تو پھر ایک سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے۔
جب وہ جیل چلے گئے تو کیا ملک کے مسائل بھی ختم ہو گئے؟
کیا مہنگائی رک گئی؟ کیا کرپشن ختم ہو گئی؟ کیا ظلم، ناانصافی اور جرائم میں کمی آ گئی؟ حقیقت تو یہ ہے کہ عوام آج بھی انہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، بلکہ کئی شعبوں میں حالات مزید خراب دکھائی دیتے ہیں۔
پھر اسحاق ڈار کے نواسے سے متعلق سامنے آنے والے سنگین الزامات نے ایک اور بحث چھیڑ دی۔ یہی وہ قیادت تھی جس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ملک کو بحران سے نکالے گی۔
تو پھر اصل سوال یہ بنتا ہے کہ کیا واقعی مسئلہ صرف ایک شخص تھا، یا مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے؟
حقیقت شاید یہ ہے کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ کبھی صرف ایک فرد نہیں رہا۔
اصل مسئلہ وہ نظام ہے جہاں طاقتور خاندانوں کے افراد اکثر قانون سے بالاتر نظر آتے ہیں، جبکہ عام شہری انصاف کے لیے برسوں دروازے کھٹکھٹاتے رہتے ہیں۔
یہ نظام عمران خان سے پہلے بھی موجود تھا، ان کے دور میں بھی رہا، اور ان کی گرفتاری کے بعد بھی اپنی جگہ قائم ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ایک بااثر شخصیت کے خاندان پر سنگین الزامات لگیں اور عوام کو انصاف کے عمل پر اعتماد نہ رہے، تو پھر نئی نسل کے سامنے قانون کی برابری کا کیا تصور باقی رہ جاتا ہے؟
ایک طرف عمران خان کے حامی سمجھتے ہیں کہ ان کی واپسی سے سب کچھ بدل جائے گا، جبکہ دوسری طرف ان کے مخالف یہ یقین رکھتے تھے کہ ان کے منظر سے ہٹتے ہی تمام مسائل ختم ہو جائیں گے۔
شاید دونوں سوچیں حقیقت سے دور ہیں۔
کیونکہ قوموں کی تقدیر کسی ایک شخصیت کے آنے یا جانے سے نہیں بدلتی، بلکہ مضبوط اور غیر جانبدار اداروں، یکساں قانون اور حقیقی احتساب سے بدلتی ہے۔
جس دن اس ملک میں طاقتور کا رشتہ دار اور ایک عام شہری قانون کی نظر میں واقعی برابر ہو جائیں گے، اسی دن تبدیلی کا آغاز ہوگا۔
اس سے پہلے، چاہے کوئی جیل کے اندر ہو یا باہر، ہنگامہ برپا رہنے کا امکان ختم نہیں ہوگا۔

Address

Satt Sira Chowk Mandi Bahauddin
Mandi Bahauddin
50400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Learn with Hamza Tariq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Learn with Hamza Tariq:

Shortcuts

Share