06/08/2026
*MDCAT 2026 Has Been Delayed To 20 September 2026*
❤️ Officially Announced
Good wishes dear
Study Visa, Work Permit and Immigration Services company under Registered Lawyers
06/08/2026
*MDCAT 2026 Has Been Delayed To 20 September 2026*
❤️ Officially Announced
Good wishes dear
کس فیلڈ کا سکوپ ہے؟ کس فیلڈ کا زوال آنے والا ہے۔
ہر ایک کا سوال ہے۔۔۔ اسکا جواب میں آپکو سمجھائے دیتا ہوں ۔ برا آسان سا ہے کوئی مشکل سائنس نہیں۔۔
آپ نے دیکھنا ہے کہ کس فیلڈ کا بیڑا غرق ہورہا ہے تو صرف بزنس مین کو فالوو کریں کرنٹ بزنس کو فالوو کریں ۔۔
ایم بی اے بزنس کی فیلڈ کا 2000 کے شروع اور پھر 2005 تک بڑا ٹرینڈ رہا پھر ایک وقت ایسا آیا کہ انکا مذاق ہر جگ اڑنے لگا۔۔ 2010 2011 2012 انجنئیرنگ کا وہ ٹرینڈ تھا لوگ مرتے تھے انجنئیرنگ کرنے کا اور پرائیوٹ کالجز یونیورسٹیز اتنی زیادہ بہتات میں آگئی تھی کہ اتنے گریجویٹ نکلے پھر سب نے دیکھا 2015-2016-2017 ایک ایسے برے دور سے انجنئیرنگ گریجویٹ گزرے کہ ہمارے نوجوانوں نے مزدوریاں تک کی۔۔۔ سکولوں میں پڑھایا ۔۔
اب بزنس کو دیکھیں ۔۔ جو لوگ 2011 2012 ان دور میں انجنئیرنگ کالجز بنا چکے تھے جیسے ساہیوال گوجرانولہ ملتان کے ہیں یا دیگر ہیں ان سب کے لیے 2015-2016 میں سرائیوو کرنا مشکل ہوا۔۔ بلکہ ڈپلومہ والے کالجز بند ہوکے انہوں نے میڈیکل اور الائیڈ کا نام رکھ لیا۔۔ وہاں وہ ڈگری شروع کروا دی۔۔۔اود جو تھوڑے امیر تھے انہون نے ایم بی بی ایس شروع کروادیا ۔ یہ 2015 سے 2020 میڈیکل کا پیک دور تھا بڑے پرائیویٹ میڈیکل کالجز بنے لوگ لاکھوں بیس بیس تیس تیس لاکھ ڈونشین ہاتھ میں لیے پھرتے تھے کہ انہیں داخلہ دیا جائے۔۔۔۔۔ بڑا ہی پیک دور تھا پھر 2021 سے 2022 کورونا آیا کورونا نے ساری مارکیٹ شفٹ کر دی۔۔۔
آئی ٹی آئی ٹی ہوگئی۔ اب سارے کالجز اٹھا لیں سارے پرائیویٹ سیٹ اپ یعنی ایک گلی میں بھی سکول بھی تھا اس نے بھی الحاق کر کے آئی ٹی میں ٹانگ پھنسا لی اور یوں 2025 تک ہر کالج ہر ادارہ جو پہلے انجنئیرنگ سے الائیڈ اور میڈیکل کی طرف آیا تھا اس نے کمپیوٹر کا نام کا اضافہ کیا ۔۔ ملتان کی بڑی یونیورسٹی ہے نام نہیں لکھونگا لیکن ایسا ہوا۔۔۔ سب نے دیکھا وہ کیسے انجنئیرنگ سے میڈیکل اور میڈیکل سے کمپیوٹر سائنس پھر اس میں اے آئی سائبر الا بلا سب کچھ کروانے لگے۔۔۔۔۔
انجنئیرنگ جو تھی اس کی کونسل پھر بھی بڑی سخت رہی ہے اور سختی کرتی ہے ہر ایک کو اجازت نہیں ہوتی لیکن کمپیوٹنگ کونسل جو نومولود تھی اس پے اتنا لوڈ ڈل گیا پوسٹ کورونا پے کہ وہ بس سنبھال نا پائی۔ ابھی تک صورتحال یہی ہے ابھی بھی لوگ اندھا دھند کمپیوٹر اور اس کے متعلقہ اداروں میں بھاری فیسیں بھر رہے ہیں۔۔۔
ابھی بھی منت کر رہے کسی طرح کمپیوٹر سائنس میں اڑ جائیں جیسے 2010ـ2011 میں انجنئیرنگ اور پھر 2017-2018 میں میڈیکل کی منت کیا کرتے تھے اب اس سے بدتر صورتحال کمپیوٹر کی ہے۔۔۔
آپ لوگوں کو شائید انداذہ نا ہو۔۔۔ لیکن ایک میڈیکل اور انجنئیرنگ کا پروگرام شروع کرنا اس کا وزٹ کروانا اس کے اخراجات وہ بہت کروڑوں اربوں تک ہیں جب کہ کمپیوٹر انتہائی سستے ہیں اور انکی کونسل اتنی پائیدار رہی نہیں اور نا ہی وہ اتنا لوڈ اٹھا سکتی تھی ۔ جیسے انجنئیرنگ کے باقاعدہ منظم الیکشن ہوتے میڈیکل کی کونسل بڑی مضبوط ہے کمپیوٹنگ کی یوں ہو نا پائی۔۔۔
آپ لوگ سمجھ رہے ہونگے کہ صرف حالات پاکستان میں خراب ہو رہے ایسا نہیں ہے یہی ٹرینڈ پوری دنیا نے فالوو کیا ساری دنیا ٹرینڈ کے پیچھے جاتی ہے یہاں جب انجنئیر مزدوری کرنے پے مجبور تھے تو اس وقت انڈیا میں بھی یہی حال ہو چکا تھا۔۔۔ اور ایم بی اے کی جب ہماری بے عزتی ہوتی تھے تب انڈیا میں بھی یہی تھا اور میڈیکل اب پوری دنیا اپنے گریجویٹ رکھ رہی انگلینڈ امریکہ و دیگر ممالک جہاں پاکستانی جاتے تھے وہ جانتے ہیں جانا مشکل ہوا۔۔۔۔۔
کمپیوٹر والوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہر جاب میں آپ ابھی بھی دیکھیں ایک پیٹرول پمپ پے جاب موجود ہو تو ساتھ لکھا ہوگا کمپیوٹر چلانا آتا ہو۔۔۔ سارا مسئلہ یہی ہے کمپیوٹر کا دور ہے "کمپیوٹر چلانا آتا ہو اور کمپیوٹر کی ڈگری ہو " اس میں بہت بہت فرق ہے۔۔۔۔۔!!!
ابھی بھی وقت ہے ٹرینڈ کو کاٹ کر چلیں کمپیوٹر میں اندھا دھند نا بھاگیں بلکہ ان چیزوں پے لوٹیں جہاں بزنس نہیں کر رہے ادارے جہاں ریگولیشن ہے مثلاً انجنئیرنگ ۔ انجنئیرنگ کے تیس ڈیپارٹمنٹس۔ ان پے لوٹ آنا چاہیے
وقت بدل رہا یہی بہترین وقت ہے پانچ سال بعد انجنئیرنگ کی پیک آئے گی پھر دس سال بعد میڈیکل کی ۔۔۔ اگر میں اپنے سٹوڈنٹ کی بات کروں اس سال کی بات کروں تو نوے فیصد بچے جو اس سال گریجویٹ ہوئے دو ماہ کے اندر ہی اندر ایڈجسٹ ہو چکے ہیں جبکہ پچھلے دو تین بیچز کے بچے کوئی جرمنی ہے کوئی کینیڈا ہے کوئی آسٹریلیا ہے۔۔ وہی چیز جس کا ہم خواب دیکھتے تھے اپنے پاس آوٹ کے وقت وہ یہ بچے کر رہے ہیں ۔۔۔۔ وقت سے پہلے سوچ لیں اور لوٹ آئیں ان ڈگریز پے جہاں رش نہیں ہے ۔۔۔۔!!!
سعودیہ میں رہنے والے پاکستانی سب سے زیادہ رقوم پاکستان بھیجتے ہیں. لیکن ان پاکستانیوں کی جو شکایات ہیں ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے. اگر یہ شکایت درست ہے تو ان کا ازالہ ہونا چاہیے.
سعودیہ سے ایک صاحب نے لکھ بھیجا ہے:
سر اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبوں کے حوالے
لیکن انٹر نیشنلی مخلتلف ملکوں میں اوورسیز کے تعلیمی سرٹیفیکیٹ تصدیق کرنے والا کوئی ادارا نہیں سب ٹیکنیکل لوگوں کی سعودیہ میں جاب خطرے میں یے.
سر ہم بہت سے لوگ یہاں سعودیہ میں جاب کرتے ہیں جنہوں نے ڈگری سے پہلے ڈپلومہ کیا ہوا ہے اب یہاں انہوں نے سب ٹیکنیکل سٹاف کو کہا کہ آپ سعودی انجئیرز کونسل میں رجسٹرڈ ہوں
اس کے لیے انہوں نے اک ویب سائیڈ بنا دی ہے مصادقہ MOSADQA کے نام سے جو یہ verification کرواتی ہے انہوں نے ڈپلومہ جو کہ پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجو کیشن یا کسی بھی صوبے سے حاصل کیے وے ہیں ان کو جنرل بورڈ آف ایجوکیشن اسلام آباد کو تصدیق کے لیے بھیجے تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ ہمارے پاس رجسٹرڈ نہیں ہیں.
بجائے اس کے کہ ان کو گائیڈ کرتے کہ اسے پنجاب بورڈ آف ٹیکنکل بھیجو انہوں نے صرف ادارہ پوچھا تھا کہ یہ ہے یا نہیں سونے پہ سوہاگا یہ کہ جو چالیس سال پرانے سرٹیفیکیٹ ہیں اور وہ پہلے سے IBCC انٹر بوڑد چئیر مین کمیشن سے تصدیق شدہ ہیں پاکستان فارن آفئیر سے تصدیق شدہ ہیں اور سعودیہ سفارت خانہ سے بھی تصدیق شدہ ہیں اس کو دیکھ کر بھی ۔۔۔ان کے اس عمل کی وجہ سے انہوں نے کہہ دیا کہ یہ ادارے پاکستان میں موجود ہی نہیں اسلیے Not Athletic پر سینکڑوں لوگوں کی جاب خطرے میں ہے.
اسلیے حکومت پاکستان وزیر اعظم صاحب سے درخواست ہے کہ یہ ایمرجنسی کام سمجھ کر اوورسیز پاکستانیوں پر رحم کریں اور فورا سعودیہ گورنمنٹ اور سفارت خانے کو سعودی انجئیرز کونسل کو لیٹر لکھوا کر اٹھارویں ترمیم والی بات سمجھائیں یا اسلام آباد میں اک ایسا ادارہ بنائیں اور سعودیہ میں پاکستان سفارت خانے میں بھی کہ وہ پہلے سے تصدیق شدہ سرٹیفیکٹ دستخط یہاں تصدیق کر دیں اور ان کو فوری کوئی لیٹر بھیجیں اور سعودی انرجی کو بھی تاکہ وہ ابھی رک جائیں کہ جو بھی تصدیق کروانا ہے وہ پاکستانی سفارخانے کے ذریعے بھیجیں تاکہ ان کی مدد کر سکیں کہ کہاں بھیجنا ہے لوگوں کی جاب بچائیں ورنہ چند دنوں میں بہت سے پاکستانی واپس آجائیں گے ہم نے یہاں سفارخانے کو بہت میلز کیں کوئی نہیں سنتا اور یہاں والے کہتے ہیں اپنی گورنمنٹ سے لیٹر لکھواو MOSADQA اور Saudi Engineer council اور SAUDI ENERGY کو ای میل اور سفارخانے کے ذریعے لیٹر بھجیں
ہم بے بس ہیں صحافی بھائیوں سے درخواست وزیر اعظم صاحب اور ڈپٹی وزیر اعظم صاحب تک ہماری بات پہنچائیں
ہم سب آپ کے لیے دعا گو
شوکت علی امیرالدین"
بچے کو میڑک ساٸنس کے ساتھ کروا کر ایف ایس سی میڈیکل کروانا چاہتے ہیں ؟
سوچ لیں کہ میڑک میڈیکل میں بچہ صبح آٹھ بجے سکول جاٸے گا تین بجے چھٹی ھو گی۔ شام سات بجے تک اکیڈمی پڑھے گا
اور یہ تب ممکن ہے کہ بچہ نہایت شریف ہو۔ دل لگا کر پڑھے اور ہفتے کے چھ دن صبح شام پڑھے اور اتوار والے دن ھوم ورک مکمل کرے۔
سکول کے اساتذہ اچھے ھوں روز کام چیک کریں نیا کام دیں اور اکیڈمی باقاعدگی سے ٹیسٹ لیتی رہے۔ والدین میں سے کم سے کم ایک فرد روز کے روز بچے کی پڑھاٸی چیک کرے۔
بچہ کوٸی کھیل نہ کرے۔ تفریح نہ کرے۔ عینک لگے تو لگے مگر آٹھ گھنٹے سے زیادہ سوٸے نہ۔
اب میڑک کے اچھے امتحانات دے کر سالانہ رزلٹ کا انتظار کیے بغیرایف ایس سی کی اکیڈمی جواٸن کر لے۔ اور مندرجہ بالاترتیب پر دو سالہ ایف ایس سی کر لے۔
اب ایف ایس سی میں نہایت زبردست شاندار نمبر لینا اس بات کی گارنٹی نہیں کہ میڈیکل کالج میں داخلہ ملے گا کیونکہ بارہ سالہ پڑھاٸی ایک طرف اور ایم کیٹ امتحان کی آزماٸش ایک طرف۔
اب اگر ماشا اللہ بچے نے محنت کے ساتھ ساتھ قسمت بھی اعلی پاٸی ہے تو داخلہ مل جاۓ گا ورنہ کم از کم ایک کڑور رویپہ کا بندوبست کر لیں چین آزبیجان وغیرہ میں میڈیکل داخلہ دلوانے کے لیے۔
ہاں اگر ملکی ادارے میں داخلہ مل گیا تو بھی کوٸی ستر لاکھ رویپہ رکھ لیں کہ بچے کا ھوسٹل کھانا کپڑا فیس کتب اس سے کم پر نہیں دستیاب ھوں گی
اب بچہ صبح شام پڑھے ۔سال میں ایک ادھ دفعہ گھر آ کر والدین کو شکل دکھا دے اور وہ پہنچان لیں کہ ہمارا ہی بچہ ہے۔
اس سب میں میڈیکل کالج کے سسمسڑ سسٹم کی وجہ سے پروفیسر صاحب کی ذاتی ملازمت جو طلبا کو کرنی پڑتی ہے اس کا کوٸی ذکر اور حساب نہیں۔ اس صبح شام کے عذاب جہنم کی سزا سمجھ کر قبول کر لیں۔
چھ سال بعد بچہ ڈاکٹر بن چکا ہے۔ مبارک ھو۔ لکھ لکھ مبارک ھو۔
لیکن ملازمت نہیں ہاوس جاب چاہیے سفارش ہے تو اچھا ہے ورنہ بھاگ دوڑ کریں۔
ہاوس جاب ہو چکا اب 36 گھنٹے ڈیوٹی کرکے بچہ ایک مشین نما انسان بن چکا ہے ۔کم کھاتا ہے کم بولتا ہے کم میل جول کرتا ہے۔ اپنے خیالات میں گم رہتا ہے۔
اب ایم بی بی ایس کا دور نہیں اور بچہ کسی فیلڈ میں Specialize کرے ۔جس کے لیے دو کام درکار ہیں۔ کیونکہ سرکاری نوکری ہے نہیں ۔ایک نجی ملازمت شاید ستر ہزار مہینہ دے سکے جس میں بچے کے اخراجات پورے نہیں تو بچہ جی دو ملازمتیں کریں ساتھ ساتھ پڑھیں اور specialize کرے۔
لیں جی مبارک ھو بچہ اب تیس سال کا آدمی بن چکا ہے اور ڈاکٹر بھی بن چکا ہے۔
اب دو راستے ہیں ڈاکٹری کی ڈگری دکھا دکھا اس کو کیش کریں اور ڈاکٹر لڑکی کا رشتہ تلاش کریں تاکہ دونوں مل کر انسانی زندگی کے بھر پور جوانی کے دن کتابوں میں گم کر دینے کے بعد اپنا غم غلط کرنے کے لیے نوٹ کمانے کی مشین بن جاٸیں۔
سسٹم کی ناکامی کا بدلہ لیں۔ وجہ بلاوجہ میڈیکل ٹیسٹ پر ٹیسٹ لکھ کر مریض کو دیں۔ ایک مرض کی کم از کم دس گولیاں تجویز کریں تاکہ ادویات ساز کمپنی عمرہ کرواٸے۔
والدین کے لیے اچھی سرمایہ کاری ھو گی۔ مگر بچہ اپنی خوبصورت انسانی زندگی کھو چکا ھو گا۔ اسے کوٸی علم نہیں کہ انسان کیا ہیں فطرت کیا ہے گلاب کیسے کہتے ہیں۔ خوشبو کیا ھوتی ہے۔ سکون کس بلا کا نام ہے۔ رشتے کیا ھوتے ہیں۔
رہے نام اللہ کا۔
غصہ نہ کریں برداشت کر لیں
26/07/2026
انتہائی افسوسناک خبر۔ ساوتھ افریقہ میں چار پاکستانیوں کا قتل۔ ساجد احمد اور ظفر احمد دو سگے بھائیوں کا تعلق بلہڑ گاؤں ضلع منڈی بہاءالدین سے تھا۔ ان کے ساتھ دو جاں بحق ہونے والے ان کے ورکرز تھے۔
یہ چاروں اپنی دوکان بند کر کے واپس گھر آ رہے جب ان کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
24/07/2026
آواز اٹھائی گئی ہے اور اسے مزید بلند کرنا ہمارا کام ہے
"MDCAT is not beneficial. MBBS & BDS admissions should be based on Matric and Intermediate marks."
⚠️ This was a statement made during the Senate meeting. No official decision has been announced.
Stay connected with PLS Academy for authentic MDCAT updates, admission news, and expert preparation.
جو خواتین فیملی ویزہ پر یورپ آ رہی ہیں وہ جب پاسپورٹ بنوائیں تو یاد رکھیں سر پر دوپٹہ نہیں ہونا چاہیئے ایسے پاسپورٹ یورپ میں قابل قبول نہیں،اب یہ یورپ کا قانون بن گیا ہے ،پہلے تو یہ تھا کہ کان ننگے ہوں مگر سر پر کوئی دوپٹہ وغیرہ نہیں ہونا چاہیئے۔
پریشانی سے بچنے کے لئے معیار کے مطابق کاغذات تیار کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb5y53PLSmbYEbf9uM2z
ملک میں طلبا کی تعداد کم ہورہی ہے📍
جن جامعات میں کبھی داخلہ لینا اعزاز تھا، آج وہاں طلبہ ڈھونڈنے پڑ رہے ہیں!
پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کا زوال (2015–2026): اعداد و شمار، حقائق اور وہ سوال جس کا جواب کسی کے پاس نہیں
"تعلیم کسی قوم کا سب سے بڑا اثاثہ ہوتی ہے۔ جب قومیں تعلیم پر سرمایہ کاری کم کر دیتی ہیں تو وہ اپنے مستقبل کو گروی رکھ دیتی ہیں۔"
اگر آپ 2015 یا اس سے پہلے کے پاکستان کو یاد کریں تو منظر بالکل مختلف تھا۔
پنجاب یونیورسٹی، این ای ڈی، یو ای ٹی، قائداعظم یونیورسٹی، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور دیگر بڑی جامعات میں داخلہ لینا ایک اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ ہزاروں امیدوار چند سو نشستوں کے لیے مقابلہ کرتے تھے۔ میرٹ بلند ہوتا تھا اور والدین اپنے بچوں کو یونیورسٹی میں داخل کروانے کے لیے برسوں محنت کرتے تھے۔
لیکن آج تصویر بدل چکی ہے۔
متعدد جامعات ہر سال داخلوں کی تاریخ ایک سے زیادہ مرتبہ بڑھاتی ہیں، کئی شعبوں میں مطلوبہ تعداد پوری نہیں ہو پاتی، اور بعض پروگرام کم داخلوں کے باعث محدود یا معطل کرنے پڑتے ہیں۔ یہ رجحان صرف ایک یا دو جامعات تک محدود نہیں بلکہ پورے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کا مجموعی تعلیمی خرچ جی ڈی پی کا صرف 0.8 فیصد رہا، جو کئی دہائیوں میں انتہائی کم سطحوں میں شمار ہوتا ہے۔
اسی سروے کے مطابق پاکستان میں 269 جامعات موجود ہیں، مگر آبادی کے تناسب سے اعلیٰ تعلیم تک رسائی اب بھی محدود ہے۔
پاکستان کی اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح (Gross Enrollment Ratio) تقریباً 15 فیصد کے آس پاس ہے، جبکہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں یہی شرح 50 سے 70 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہے۔
دوسری جانب، مختلف تجزیوں کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں یونیورسٹیوں میں داخلوں میں نمایاں کمی آئی، جس سے ہزاروں نشستیں خالی رہنے لگیں۔
آخر نوجوان جا کہاں رہے ہیں؟
یہ سوال شاید سب سے اہم ہے۔
آج کا نوجوان صرف ڈگری نہیں چاہتا، وہ مستقبل چاہتا ہے۔
وہ دیکھ رہا ہے کہ چار یا پانچ سال کی ڈگری کے بعد بھی بے روزگاری ختم نہیں ہوتی، جبکہ دوسری طرف مصنوعی ذہانت (AI)، پروگرامنگ، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور فری لانسنگ سیکھنے والے نوجوان نسبتاً کم وقت میں آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔
اسی لیے ہزاروں نوجوان اب روایتی ڈگری کے بجائے مہارت کو ترجیح دے رہے ہیں۔
بیرونِ ملک تعلیم اور روزگار کا رجحان بھی تیزی سے بڑھا ہے، جس سے پاکستان کو قابل افراد کے انخلا (Brain Drain) کا سامنا ہے۔
اصل مسئلہ صرف داخلے نہیں
داخلوں میں کمی دراصل ایک علامت ہے۔
اصل بیماری کہیں زیادہ گہری ہے۔
- تعلیم پر ناکافی سرمایہ کاری۔
- بڑھتی ہوئی فیسیں۔
- صنعت اور جامعات کے درمیان کمزور رابطہ۔
- نصاب کا جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونا۔
- تحقیق کے لیے محدود وسائل۔
- قابل اساتذہ اور محققین کا بیرونِ ملک منتقل ہونا۔
- معاشی مشکلات اور بے روزگاری۔
عالمی دوڑ میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
دنیا مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، بایو ٹیکنالوجی، روبوٹکس اور خلائی تحقیق پر کھربوں ڈالر خرچ کر رہی ہے۔
جبکہ پاکستان میں آج بھی کئی جامعات بنیادی تحقیقی فنڈز، جدید لیبارٹریوں اور مستقل فیکلٹی کی کمی کا شکار ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ عالمی درجہ بندیوں میں پاکستان کی صرف چند جامعات ہی نمایاں مقام حاصل کر پاتی ہیں، جبکہ بیشتر ادارے عالمی مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو...
اگر یہی رجحان جاری رہا تو:
- جامعات میں مزید نشستیں خالی رہیں گی۔
- کئی شعبے بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہوں گے۔
- تحقیق مزید کمزور ہوگی۔
- نوجوانوں کا اعتماد ڈگری سے کم ہوتا جائے گا۔
- برین ڈرین میں اضافہ ہوگا۔
- پاکستان علم پر مبنی معیشت کی دوڑ میں مزید پیچھے رہ جائے گا۔
اب کیا کرنا ہوگا؟
✔ تعلیم پر قومی سرمایہ کاری کو نمایاں طور پر بڑھانا ہوگا۔
✔ جامعات کو صنعت، کاروبار اور ٹیکنالوجی سے جوڑنا ہوگا۔
✔ AI، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس اور جدید مہارتوں کو نصاب کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔
✔ تحقیق، اختراع اور پی ایچ ڈی پروگرامز کے لیے پائیدار فنڈنگ دینا ہوگی۔
✔ جامعات کو سیاسی مداخلت سے پاک، خودمختار اور میرٹ پر مبنی ادارے بنانا ہوگا۔
✔ ڈگری کے ساتھ ہنر اور روزگار کو براہِ راست جوڑنا ہوگا۔
آخری سوال
ہم موٹرویز بنا سکتے ہیں۔
میٹرو بنا سکتے ہیں۔
اورنج لائن بنا سکتے ہیں۔
جدید ایئرپورٹس بنا سکتے ہیں۔
لیکن کیا ہم ایسی جامعات بھی بنا سکتے ہیں جہاں دنیا کے ذہین ترین طلبہ آنا چاہیں؟
قومیں صرف سڑکوں سے ترقی نہیں کرتیں، بلکہ یونیورسٹیوں سے ترقی کرتی ہیں۔
جب جامعات آباد ہوتی ہیں تو معیشت مضبوط ہوتی ہے، صنعت ترقی کرتی ہے، تحقیق جنم لیتی ہے اور قومیں دنیا کی قیادت کرتی ہیں۔
تعلیم پر خرچ کبھی خرچ نہیں ہوتا، یہ آنے والی نسلوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہوتی ہے۔
اگر آج ہم نے اپنی جامعات کو نہ بچایا تو شاید کل ہمارے نوجوان تو ہوں گے، مگر ان کے خواب پاکستان میں نہیں ہوں گے۔
19/07/2026
برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف بکواسیات کرنے والے پی ٹی آئی کے یوتھیوں کے برے دن شروع ہو گئے ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ نے آج نیا قانون پاس کر لیا ہے جس کے مطابق کوئی بھی شہری ڈیڑھ سال سے زیادہ نہیں رہ سکتا اور اس کو ویزا دوبارہ لگوانے کے لیے اپنے آبائی وطن جانا پڑے گا۔ کسی بھی غیر ملکی کو یورپ میں "اسائلم" نہیں ملے گا۔ ادھر برطانیہ نے بھی پاکستانیوں پر ویزا کی پابندیاں لگا دی ہیں جس کے مطابق برطانیہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی آہستہ آہستہ نکالنا شروع ہوں گے۔
زیر نظر تصاویر تحریک انصاف سوشل ونگ کے ان گنڈو کی ہیں جنہوں نے باہر بیٹھ کر افواج پاکستان کے بارے بے ہودہ مہم چلائی تھی آج ان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور امید ہے یہ دونوں اگلے چند دنوں میں پاکستان روانہ کر دیے جائیں گے۔
لاہور کی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی(جی سی یو ) میں کبھی بہت اونچی فرسٹ ڈویژن والوں کو ہی داخلہ ملتا تھا، اب بارہ شعبوں میں سیکنڈ ڈویژن والوں کو بھی بی ایس میں داخلہ ملا ہے اور ابھی اگلی لسٹ آنی ہے۔
جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے سات شعبوں میں تو تھرڈ ڈویژنرز کو بھی داخلہ مل گیا ہے۔ بی ایس کی 6000 سیٹیں ہیں۔ پہلی میرٹ لسٹ لگنے کے بعد 4500 سیٹیں خالی رہیں۔
پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی بھی ساری نشستیں پر نہیں ہوئی تھیں ۔
دوسری طرف سی ایس ایس کے امیدواروں کی تعداد چار سال میں آدھی ہوگئی ہے۔
یہ کس بات کے آثار ہیں ؟