میٹرک تک سلیبس اس طرح ہونا چاہیے کہ بچے کے پاس کوئی نہ کوئی ہنر آ جائے اور بچے کو پتہ چل جائے کہ اس نے میٹرک کے بعد کون سے فیلڈ اختیار کرنی ہے یعنی اس کی کس فیلڈ میں دلچسپی ہے ۔
میرا خیال ہے اب رٹا سسٹم ختم ہونا چاہیے بچوں کو دسویں تک زیادہ سے زیادہ ٹیکنیکل تعلیم دینی چاہیے ۔۔
جمعہ اور ہفتہ دو دن ایسے ہوں جس میں نصابی کتابیں بالکل بند کر دی جائیں اور بچوں کو ہنر سکھائے جائیں
ایسے کون سے ہنر ہیں جو بچے دسویں کلاس تک سیکھ سکتے ہیں ۔۔
1- آٹو مکینک
خصوصی طور پر موٹر سائیکل کے بارے میں بچوں کو تربیت دی جائے اس کے انجن کے بارے میں پرزے تبدیل کرنے کے بارے میں انہیں چھٹی کلاس سے لے کر دسویں کلاس تک مرحلہ وائز موٹرسائیکل کا کام سکھایا جائے وہ اس قدر ماہر بن جائیں کہ دسویں کلاس کے بعد پرزے خرید کر پورا موٹر سائیکل اسمبل کر سکیں ۔۔
2- بجلی کا کام الیکٹریشن
بچوں کو عملی طور پر بجلی کا کام سکھایا جائے انڈر گراؤنڈ وائرنگ کیسے کی جاتی ہے اوپن گراؤنڈ وائرنگ کیسے کی جاتی ہے موٹر وائنڈ کیسے کی جاتی ہے مکمل طور پر بچوں کو کام سکھایا جائے اور یہ شعبہ اور یہ ہنر خود میں پوری ایک سائنس ہے فزکس میں اس کے چیپٹر تو ہیں تھیوری کے طور پر میں کہنے سے چاہتا ہوں کہ بچوں کو پریکٹیکلی کام سکھایا جائے صحیح معنوں میں
3- گھر کا ڈاکٹر
چھٹی کلاس سے لے کے دسویں کلاس تک کے تمام بچوں کو گھر ڈاکٹر بنا دیا جائے جو کہ وقت کی اشد ضرورت ہے
بچے کو بلڈ پریشر مانیٹر کرنا آنا چاہیے ۔۔
وین میں انجیکشن لگانا سکھائیں گوشت میں انجیکشن لگانا سکھائیں بوقت ضرورت ڈرپ کیسے لگائی جاتی ہے ۔
ایمرجنسی کی صورت میں بینڈج کرنا سکھائیں ۔۔
ضروری نہیں یہ کام اس نے لوگوں کے لیے کرنے ہیں یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو بچے کی ساری زندگی اس کے کام آنے والی ہیں۔۔۔
4- موبائل ریپیئرنگ اور سافٹ ویئر
بچوں کو موبائل ریپیئرنگ کے بارے میں تربیت دی جائے ان کو موبائل ریپیئر کرنا سکھایا جائے موبائل میں سوفٹ ویئر کیسے اپڈیٹ کیا جاتا ہے سافٹ ویئر انسٹال کیسے کیا جاتا ہے ۔۔
5- فری لانسنگ
ویڈیو گیم کھیلنے کے علاوہ کمپیوٹر اور بھی بہت سے مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے یہ بچوں کو عملی طور پر باور کروایا جا سکتا ہے انہیں بتائیں کہ انٹرنیٹ کا دور ہے اپ اپنی چیزیں انٹرنیٹ پر کس قدر اسانی کے ساتھ فروخت کر سکتے ہیں ۔۔
اپنی خدمات کو انٹرنیٹ پر فروخت کرنا سکھائیں ۔۔
مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ دیہاتی ہے اور اس کے گھر میں دیسی گھی ہے تو اس کا استاد بتائے کہ وہ دیسی گھی کا پیج بنا کر انٹرنیٹ پر ایمانداری کے ساتھ کس قدر کامیاب کاروبار کر سکتا ہے ایلسی کی پنیا فروخت کر سکتا ہے مکئی کا اٹا فروخت کر سکتا ہے سردیوں میں ساگ بنا کر فروخت کر سکتا ہے مکھن فروخت کر سکتا ہے اور بھی بہت کچھ یہ اسے سکھایا جائے ۔۔!!
6- نرسری اگانا
بچوں کو بیج لگانے کی تربیت دی جائے پھولوں کے بیج سبزیوں کے بیج درختوں کے بیج اور یہ کام سکول میں بہت اسانی کے ساتھ ہو سکتے ہیں کہ اگر مستقبل میں اس کا رجحان نیچر کی طرف بڑھ جائے تو وہ نرسری کا اپنا کاروبار کر سکتا ہے اسے یہ ہنر ضرور سکھانے چاہیے ۔۔
7- بیچنا آنا چاہیے بچوں کو مارکیٹنگ
بچوں کے اندر اس قدر اعتماد پیدا کیا جائے کہ وہ بہترین مارکیٹر بن سکے ان کو اپنی چیزیں بیچنا آنا چاہیے اور اساتذہ سے بڑھ کر کوئی ایسی ہستی نہیں جو بچوں میں اس قدر اعتماد پیدا کر سکے والدین سے بھی زیادہ اعتماد بچوں کو سکول میں ماحول سے ملتا ہے اساتذہ سے ملتا ہے
اب وقت ہے کہ سلیبس میں موجود فضول کہانیوں کو یکثر مسترد کر کے ہمارے انے والے بچوں کو دسویں تک مکمل پریکٹیکل تعلیم دی جائے تاکہ وہ اپنا باعزت روزگار کما سکے اور وطن عزیز کے باعزت شہری بن سکیں ۔۔
منقولہ
Overseas Education Consultants
Study Visa, Work Permit and Immigration Services company under Registered Lawyers
سائپرس میں 2025 کے دوران غیر ملکی شہریوں کی ملک بدری (deportations) میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے ملک کی امیگریشن پالیسی میں واضح اور سخت تبدیلی ظاہر ہوتی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق Cyprus نے اس سال 12,029 غیر ملکی افراد کو ملک سے واپس بھیجا، جو اب تک کی سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ تعداد ہے۔ یہ معلومات نائب وزیر برائے امیگریشن و پناہ نیکولاس آئوانیڈس نے فراہم کیں۔
ان میں سے 11,610 افراد غیر یورپی یونین ممالک سے تعلق رکھتے تھے، جنہیں رضاکارانہ واپسی (assisted voluntary return) یا جبری واپسی (enforced return) کے طریقہ کار کے ذریعے واپس بھیجا گیا۔ مزید 419 ایسے افراد جنہیں بین الاقوامی تحفظ حاصل تھا، انہیں یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک میں منتقل کیا گیا۔ واپس بھیجے جانے والوں میں بڑی تعداد شام، بھارت، نائیجیریا، پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی۔
اسی عرصے میں Cyprus میں پناہ (asylum) کی درخواستوں میں واضح کمی واقع ہوئی۔ 2025 میں صرف 4,600 نئی درخواستیں جمع ہوئیں، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 10,000 سے زائد تھی۔ تاہم، منظوری کی شرح انتہائی محدود رہی۔ صرف 470 افراد کو refugee کا درجہ دیا گیا، 207 کو subsidiary protection ملی، جبکہ تقریباً 93 فیصد درخواستیں مسترد کر دی گئیں، جو یورپ میں سب سے زیادہ مستردگی کی شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔
اس تبدیلی کی بنیادی وجوہات میں پناہ کے فیصلوں کے عمل کو تیز کرنا، سرحدی کنٹرول کو مضبوط بنانا، اور رضاکارانہ واپسی کے پروگراموں کو وسعت دینا شامل ہیں۔ اسی دوران زیر التوا (backlog) کیسز میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، جو 2024 میں تقریباً 24,000 تھے اور اب کم ہو کر 16,000 سے بھی کم رہ گئے ہیں۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ Cyprus کی امیگریشن حکمت عملی اب زیادہ سخت اور روک تھام (deterrence-oriented) پر مبنی ہو چکی ہے۔ اس کا مقصد غیر قانونی مائیگریشن کو کم کرنا اور کنٹرولڈ نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ محفوظ، قانونی اور ہنر پر مبنی (skills-based) مائگریشن کے راستوں کو اپنانا زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے، تاکہ غیر قانونی راستوں کے خطرات سے بچا جا سکے اور بہتر اور باعزت روزگار کے مواقع حاصل کیے جا سکیں۔
23/04/2026
19/04/2026
❤️❤️❤️❤️ ❤️ 🌹
بڑی عظیم خوشخبری📍
وزارت تعلیم سعودی عربیہ کے تحت سعودیہ کی کم و بیش 30 یونیورسٹیز میں بیچلر ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرام کے لیے فلی فنڈڈ اسکالرشپ داخلوں کا اعلان ہو چکا ہے اب مدینہ یونیورسٹی کے ساتھ کسی بھی 2 یونیورسٹی میں داخلہ بھیجا جا سکتا ہے
یہاں انتخاب آپ کی مارکس یا اکیڈمک ریکارڈ پر کم اور آپ کے نصیب اور luck پر زیادہ ہوتا ہے۔
عمر
بیچلر کیلئے 25 ماسٹرز کے لیے 30 اور پی ایچ ڈی کے لیے 35 سال سے زیادہ نا ہو۔
یہ مکمل فلی فنڈڈ سکالرشپ ہے جس میں آپ کا ویزہ جہاز کا ٹکٹ رہائش میڈیکل سب کچھ فری ہونے کے ساتھ ساتھ ہر مہینے وظیفہ بھی دیا جاتا ہے،
اور بہترین کارکردگی پر فیملی ویزہ بھی مہیا کیا جا سکتا ہے۔*
سائنس و آرٹس کے تمام مضامین بشمول اسلامیات و عربی، شرعیہ، قرآن و حدیث، آرٹس، سائنس، LLB، نرسنگ، میڈیسن، انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مینیجمینٹ، بزنس اور بہت سے مضامین میں داخلہ ہوسکتا ہے
آغاز 15 اپریل
اختتام 15 مئی
HUMBLE REQUEST TO PARENTS AND FAMILIES TO AVOID DUNKI - Its illegal, always use legal way
پولینڈ سے 25 پاکستانی شہری ڈیپورٹ : خصوصی چارٹر
فلائٹ کے ذریعے سے اسلام آباد بھیجا گیا.
تحریر سید حسنین عباس سویڈن
9 اپریل 2026 کو پولینڈ کی سرحدی فورسز اور امیگریشن حکام نے ایک بڑا آپریشن مکمل کرتے ہوئے 25 پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کر کے اسلام آباد روانہ کیا۔ یہ گروپ بیلاروس کے راستے پولینڈ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کے دوران پکڑا گیا تھا۔ پولش حکام کے مطابق، ان افراد کو بیاووویزا کے گھنے جنگلاتی علاقے سے حراست میں لیا گیا تھا، جو پولینڈ اور بیلاروس کے درمیان ایک انتہائی دشوار گزار اور خطرناک سرحدی راستہ ہے۔ گرفتاری کے بعد، ان تمام افراد کو وارسا کے ایک محفوظ حراستی مرکز میں رکھا گیا، جہاں ان کی شناخت اور سفری دستاویزات کی تیاری کے لیے پاکستانی سفارت خانے کے ساتھ رابطہ کیا گیا۔ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد، انہیں ایک خصوصی چارٹر فلائٹ کے ذریعے پولینڈ سے بے دخل کر دیا گیا۔
انسانی اسمگلنگ کا منظم نیٹ ورک اور اخراجات
پولش انٹیلی جنس اور بارڈر گارڈز کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ محض انفرادی کوشش نہیں تھی بلکہ ایک منظم انسانی اسمگلنگ آپریشن کا حصہ تھا۔ ان پاکستانی شہریوں نے بیلاروس کے راستے یورپی یونین میں داخل ہونے کے لیے بین الاقوامی اسمگلروں کو بھاری رقوم ادا کی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق، فی کس تقریباً 40,000 پولش زلوٹی (جو کہ تقریباً 8,900 یورو یا پاکستانی روپوں میں لاکھوں روپے بنتے ہیں) وصول کیے گئے تھے۔ اس رقم میں بیلاروس کا ویزا، منسک تک سفر، اور پھر وہاں سے پولینڈ کی سرحد تک رہنمائی شامل تھی۔ اسمگلرز ان سادہ لوح افراد کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ بیلاروس کے راستے یورپ میں داخل ہونا آسان ہے، جبکہ حقیقت میں یہ راستہ موت کا کنواں ثابت ہو رہا ہے جہاں سخت موسم اور خاردار باڑیں تارکینِ وطن کا استقبال کرتی ہیں۔
افراد کی شناخت اور رازداری
پولش قانون اور یورپی یونین کے ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کے تحت، ڈیپورٹ کیے جانے والے افراد کے نام عام طور پر عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیے جاتے تاکہ ان کی اور ان کے خاندانوں کی پرائیویسی متاثر نہ ہو۔ تاہم، سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گروپ میں شامل اکثر افراد کی عمریں 20 سے 35 سال کے درمیان تھیں اور ان کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں (خاص طور پر گجرات، منڈی بہاؤالدین اور سیالکوٹ) سے تھا۔ ان لوگوں نے گرفتاری کے وقت کوئی ٹھوس سیاسی پناہ کی درخواست یا اپنی جان کو خطرے کا ثبوت پیش نہیں کیا، جس کی وجہ سے انہیں اقتصادی تارکینِ وطن قرار دیتے ہوئے فوری واپسی کا حکم دیا گیا۔
پولینڈ کے سخت قوانین اور 48 گھنٹے کی ڈیپورٹیشن
اس کارروائی کی سب سے اہم کڑی پولینڈ کے وہ نئے قوانین ہیں جو 2024 اور 2025 میں متعارف کرائے گئے۔ ان ترامیم کے تحت پولش بارڈر گارڈز کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ اگر کوئی شخص غیر قانونی طور پر سرحد پار کرتا ہے اور وہ بین الاقوامی تحفظ کا دعویٰ نہیں کرتا، تو اسے محض 48 گھنٹوں کے اندر انتظامی طور پر ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔ اس کیس میں بھی یہی فاسٹ ٹریک طریقہ کار اپنایا گیا۔ جنوری 2026 سے اب تک پولینڈ اسی قانون کے تحت 300 سے زائد افراد کو واپس بھیج چکا ہے۔ یہ پالیسی اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ طویل عدالتی کارروائیوں سے بچا جا سکے اور غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
سیاسی تناظر: بیلاروس کا ہائبرڈ وارفیئر
پولینڈ اور یورپی یونین کے دیگر ممالک (جیسے لتھوانیا اور لٹویا) کا موقف ہے کہ بیلاروس کی حکومت دانستہ طور پر ایشیائی اور افریقی ممالک سے لوگوں کو لا کر اپنی سرحدوں پر جمع کر رہی ہے۔ اسے ایک ہائبرڈ ہتھیار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد یورپی یونین میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ پولینڈ نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنی سرحد پر اسٹیل کی اونچی دیوار اور جدید ترین الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹم نصب کر رکھا ہے۔ پاکستانی شہریوں کا اس راستے کو چننا انہیں ایک ایسی سیاسی جنگ کا حصہ بنا دیتا ہے جہاں ان کے لیے قانونی حقوق حاصل کرنا تقریباً نامکن ہو جاتا ہے۔
یہ واقعہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک سبق ہے کہ غیر قانونی راستے نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں بلکہ ذلت اور ملک بدری پر ختم ہوتے ہیں۔ پولینڈ کی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ بیلاروس کے راستے آنے والے کسی بھی شخص کے لیے اب وہاں کوئی جگہ نہیں ہے، اور آنے والے مہینوں میں سرحدی نگرانی میں مزید سختی متوقع ہے .
الله ان سب کا مستقبل اچھا کرے انکا بڑا پیسہ برباد ہو گیا.
HEC to Launch Fully Digital Degree Attestation System
HEC has entered into a strategic agreement with CMPak Limited (Zong) and its joint venture partner, Wibbow Technologies, to implement a secure, fully digital degree attestation and verification system based on blockchain technology.
The initiative aims to streamline the attestation process by making it more efficient, transparent, and user-friendly. Under the new system, applicants will no longer be required to visit HEC offices or submit physical documents. Instead, the entire process, from application submission to tracking and verification, will be conducted online, enabling applicants to access services from anywhere.
The system is scheduled to become operational by 30 June 2026.
ٹیکس ریفنڈ اپ ڈیٹ :
الحمدللہ, اللہ پاک کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے. ایک علم حق میں نے بلند کیا تھا. ٹیکس ریفنڈ کے حوالے سے لوگوں کا خیال تھا کہ اس کی واپسی نا ممکن ہے. لیکن اب لوگوں کی رقم ان کے اکاؤنٹس میں واپس آ رہی ہے. ریفنڈ آرڈر جاری ہو رہے ہیں. FTO میں ہزاروں کیسز زیر سماعت ہیں. ان کے فیصلے آ رہے ہیں. سکولز اور کالجز کے اساتذہ اس سے مستفید ہو رہے ہیں اور اپنی کھوئی ہوئی رقم واپس لے رہے ہیں لیکن ظلم یہ ہے کہ ٹیکس ریٹرن فائیل کرنے کے ماہر لوگوں نے سکولز اور کالجز کے اساتذہ سے پیسے بھی لیے مگر ان کو full time teacher ظاہر ہی نہیں کیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ ایف بی آر سے یہ رقم واپس نہیں ملنی. میں نے بےشمار لوگوں کی ریٹرنز ریوائز کیں. ایک ریٹرن کل ریوائز کی. میں دن رات اس میں لگا ہوا ہوں. پنجاب کے تقریباً تمام اضلاع سے ایک بڑی تعداد میں سکولز اور کالجز کے مرد اور خواتین اساتذہ مجھ سے رابطے میں ہیں اور میں نے اپنے آپ کو ان کی خدمت کے لئے وقف کر دیا ہے. آج تک کسی سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا.
اللّہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری اس ادنیٰ سی کوشش کو قبول فرمائے.
اپنے حق کے لیے آواز بلند کرو.
میں وفاقی ٹیکس محتسب کا بھی شکر گزار ہوں کہ وہ اساتذہ کمیونٹی کا بھر پور ساتھ دے رہے ہیں. اور میں ایف بی آ ر کا بھی شکر گزار ہوں کہ لوگوں کی رقم ان کے اکاؤنٹس میں منتقل کر رہے ہیں.
ٹیکس ریٹرن فائیل کرنا ضروری ہے.ریٹرن میں فل ٹائم ٹیچر ظاہر کرنا ضروری ہے.
ایپلیکیشن 170 سبمٹ کرنا ضروری ہے جس میں ریفنڈ کلیم کیا جائے گا.
ایپلیکیشن 170 کے 60 دن بعد fto. gov.pk پر شکایت درج کرانی ہے.
پچھلے سال مئی اور جون میں جو اضافی ٹیکس کاٹا گیا تھا اس کی واپسی کے لیے درج ذیل شرائط ضروری ہیں ۔ آپ فائلر ہوں اور آپ نے 2025 کا انکم ٹیکس گوشوارا یعنی ٹیکس ریٹرن فائیل کیا ہو ۔ اس ٹیکس ریٹرن میں آپ نے اپنے آپ کو فل ٹائم ٹیچر ظاہر کیا ہو ۔ آپ کی ریفنڈ کی رقم آپ کی انکم ٹیکس ریٹرن میں ظاہر ہوگی ۔ اگر ٹیکس ریٹرن فائیل کر لیا لیکن کسی بھی وجہ سے اپنے آپ کو فل ٹائم ٹیچر ظاہر نہیں کیا ہے تو اب بھی آپ اپنی ریٹرن ریوائز کر سکتے ہیں ۔
جن کی ٹیکس ریٹرن فائیل ہوگئ ہے تو وہ ریفنڈ کلیم کی ایپلیکیشن 170 سبمٹ کریں اس ایپلیکیشن کے ساتھ جولائی 24، دسمبر 24 اور جون 25 کی سیلری سلپس لگائیں ۔ یہ سارا پروسس آن لائن ہے ۔ اگر متعلقہ RTO آفس میں کوئی واقف کار ہے تو ریفنڈ چند دنوں میں مل جائے گا ۔.
14/04/2026
اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں اور شریکِ حیات کے لیے تعلیمی وظائف
اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن نے پاکستان میں زیرِ تعلیم سمندر پار پاکستانیوں کے بچوں اور شریکِ حیات کے لیے تعلیمی وظائف کا اعلان کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت انٹرمیڈیٹ، گریجویشن (ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، انجینئرنگ) اور ماسٹرز یا ایم ایس پروگرامز کے طلبہ درخواست دے سکتے ہیں۔
اہلیت کا معیار:
درخواست گزار کے حالیہ امتحانات میں کم از کم 60 فیصد نمبر یا 2.5 سی جی پی اے ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ طالب علم کے والدین (والد یا والدہ) یا شریکِ حیات کا او پی ایف میں رجسٹرڈ ممبر ہونا لازمی ہے اور ان کی ماہانہ آمدنی 2 لاکھ روپے سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔(پروٹیکٹر کروانے پر آپ کی ممبر شپ ہو جاتی ہے) یہ بھی ضروری ہے کہ طالب علم اس تعلیمی سال میں کوئی دوسرا وظیفہ حاصل نہ کر رہا ہو۔ وفات پا جانے والے رجسٹرڈ ممبران کے بچے بھی مخصوص شرائط کے تحت اہل ہیں۔
درخواست دینے کا طریقہ:
امیدوار او پی ایف کی ویب سائٹ سے فارم ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں یا اسلام آباد، لاہور، ملتان، پشاور، کراچی، کوئٹہ اور میرپور میں واقع علاقائی دفاتر سے حاصل کر سکتے ہیں۔ مکمل شدہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 اپریل 2026 ہے۔ مزید معلومات کے لیے او پی ایف ہیڈ آفس اسلام آباد کے فون نمبرز یا ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
آج سپین کے وزیرِ پارلیمانی امور "فیلِکس بولانیوس" نے تصدیق کر دی: ہم کل کے اجلاس میں "اوپن امیگریشن" کی منظوری دینے جا رہے ہیں۔
اگر کوئی شوہر کسی ایسی لڑکی سے نکاح کر لیتا ہے جو پہلے طلاق یافتہ تھی لیکن اس کے پاس طلاق کا سرٹیفکیٹ یا ڈگری موجود نہیں تھی تو اس صورت میں سب سے اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ آیا پہلی شادی قانونی طور پر ختم ہو چکی تھی یا نہیں۔ پاکستان میں خاندانی قوانین کے مطابق طلاق مؤثر ہونے کے لیے صرف زبانی طلاق کافی نہیں بلکہ یونین کونسل میں نوٹس، عدت کی مدت اور باقاعدہ طلاق سرٹیفکیٹ کا اجراء ضروری ہوتا ہے، جبکہ اگر خلع عدالت سے ہوئی ہو تو ڈگری کے بعد یونین کونسل پروسیسنگ مکمل کرنا لازم ہے۔ اگر پہلی شادی قانونی طور پر ختم نہ ہوئی ہو اور دوسرا نکاح کر لیا جائے تو یہ نکاح قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتا ہے اور فوجداری مقدمہ بھی بن سکتا ہے، جبکہ اگر طلاق ہو چکی تھی مگر دستاویز مکمل نہ تھیں تو فوری طور پر متعلقہ یونین کونسل سے طلاق سرٹیفکیٹ حاصل کر کے ریکارڈ درست کروانا ضروری ہے تاکہ آئندہ کسی قسم کی قانونی رکاوٹ یا شوہر کے خلاف مقدمہ نہ بنے۔ ایسے معاملات میں درست قانونی رہنمائی اور دستاویزی تکمیل ہی مستقبل کے مسائل سے بچاؤ ہے۔
نوید اختر کھوکھر ایڈووکیٹ ھائی کورٹ
03474021030
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
آفس نمبر 519 ڈسٹرکٹ کمپلیکس
Mandi Bahauddin
540010