05/05/2026
نو زائیدہ بچوں کے اہم مسائل اور ان کا آسان حل!!!
بچہ جب اس دنیا میں اتا ہے تو وہ بڑوں سے مختلف ہوتا ہے اس لیے اسکو کو سمجھنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے ۔نو زائیدہ بچوں کی کچھ چیزیں جو نارمل ہوتی ہیں لیکن والدین کو مسئلہ لگ رہی ہوتی ہیں۔
ہم کوشش کریں گے کہ نوزایئدہ بچوں سے متعلق پانچ ایم چیزیں دیکھیں گے جو والدین کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہیں اور ہم اپ کی رہنمائی کریں گے کہ کیسے ان کو اپ نے حل کرنا ہے۔
1.بچوں میں پیٹ درد یا کولک کا مسئلہ.
یہ بہت عام مسلہ ہے .اس کی تعریف یہ ہے کہ بچے کو درد تین ہفتے سے لے کے تین ماہ تک ہوتا ہے, ہفتے میں کم از کم تین دن ہوتا ہے اور ایک دن میں تین گھنٹے ہوگا۔ اس میں بچہ بہت بے چین ہوتا ہے روتا ہے اس کا رنگ سیاہ پڑ سکتا ہے اور پیٹ اکڑ جاتا ہے۔ اکثر بچے اس سے گزرتے ہیں۔
کولک بچوں کے والدین کے لیے اہم ہدایات !!!
۔بچے کو صرف اور صرف ماں کا دودھ پلائیں
۔بچوں کو دودھ پلانے کے بعد اچھی طرح ڈکار دلوائیں
۔بچے کے پیٹ کے اوپر ہلکی سی مالش کریں
۔بچے کواٹھا کر جھلا سکتے ہیں
۔کوشش کریں کہ بچے کو گھر کے سب افراد مل کے باری بار اٹھائیں کیونکہ روتے ہوۓ بچے کو جب ایک ہی بندہ اٹھائے گا تو وہ بہت چڑچڑے پن کا شکار جاتا ہے
امید ہے کہ یہ مسئلہ تین مہینے پہ جا کے ٹھیک ہو جاۓ گا۔
2.بچوں میں دودھ پینے کے بعد دودھ کا نکالنا.
یہ بہت اہم مسئلہ ہے اور اکثر بچے اس سے گزرتے ہیں کیونکہ بچوں کی خوراک دودھ ہوتی ہے ,بچے ہمیشہ لیٹے رہتے ہیں اور بچوں کی خوراک کی نالی جو معدے اور منہ کو ملاتی ہے بہت چھوٹی ہوتی ہے
والدین کے لیے اھم ہدایات !!!
دودھ پلانے کے بعد بچے کو لٹانا نہیں بلکہ اس کو پانچ سے دس منٹ کندھے پہ رکھیں
بچے کو دودھ پلانے کے بعد اچھی طرح ڈکار دلواٸیں
دودھ ہمیشہ ماں کا پلاٸیں
بچے کو اور فیڈ نہ کرواٸیں
دودھ تھوڑا اور بار بار پلاٸیں
ڈبے کے دودھ پینے والے بچوں میں کچھ سپیشل فارمولے بھی آتے ہیں جن کا دودھ گاڑھا ہوتا ہے
بچے کا یہ مسئلہ بھی جیسے بچہ چھ ماہ کا ہوتا ہے, بیٹھنا شروع کر دیتا ہے اور دودھ کے ساتھ ٹھوس غذا شروع ہوتی ہے تو یہ عموما ٹھیک ہو جاتا ہے
3.بچے میں ہر دودھ پینے کے بعد پاخانہ کر دینا.
یہ مسئلہ بھی اہم اور عام ہے۔ اسکی وجہ بچوں میں خوراک کی نالی چھوٹی ہوتی ہے جیسے ہی دودھ معدے میں جاتا ہے تو وہ اگلے حصے کو سگنل بھیجتا ہے تاکہ مزید خوراک کی جگہ بنے تو بچہ پاخانہ کر دے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ اگر بچے کے پاخانے پتلے پانی کی طرح کے نہیں ہیں ,بچے کو کوئی پانی کمی کی علامات نہیں آرہی تو اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ جیسے بچہ بڑا ہوگا تو یہ مسئلہ خود سے ٹھیک ہو جاتا ہے
4.بچہ رات کو سوتا نہیں ہے۔
یہ مسئلہ والدین کے لیے کافی اہم ہے اور اکثر نئے والدین اس کی شکایت کرتے ہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ بچے کی نیند عمر کے حساب سے ہوتی ہے۔ نامولود بچے کی نیند 15 گھنٹے تک بھی ہو سکتی ہے لیکن بچے کا سونے کا سائیکل نہیں بنا ہوتا ۔اس کو نہیں پتہ ہوتا ہے کہ دن ہے یا رات تو وہ کسی بھی ٹائم سوئے گا کسی بھی ٹائم اٹھ جائے گا ۔ یہ والدین کے لیے باعث تکلیف ہوتا ہے کہ جب بچہ رات کو اٹھ جائے گا تو ان کو پریشانی ہوتی ہے ۔
تقریبا چھ ماہ کے بعد آہستہ آہستہ یہ سائیکل بننا شروع ہوتا ہے اس میں بچے کی نیند کی ترتیب بنتی ہے کہ بچے نے دن میں سونا کم کر دیتا ہے اور رات کو زیادہ سوتا ہے ۔ اپ نے تب تک اس چیز کو برداشت کرنا ہے۔ اس کے لیے کوئی میڈیسن دوائیاں فنرگن سیرپ وغیرہ بچے ک نہیں دینے۔
4.ڈاکٹر صاحب بچے کی بھوک پوری نہیں ہو رہی۔
یہ اہم سوال ہے اور والدین اکثر اس تزب زب کا شکار ہوتے ہیں کہ کیا میرے بچے کی بھوک پوری ہو رہی ہے یا نہیں ہو رہی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب بھی بچہ رو رہا ہے تو اس کا مطلب بچہ بھوکا ہے جو ہرگز نہیں ہے۔ تو اہم چیز یہ ہے کہ اگر بچہ دودھ پینے کے بعد سکون سے سو جاتا ہے , اس کا وزن بڑھ رہا ہے ,بچہ ترتیب سے پاخانہ اور پیشاب کر رہا ہے تو بچے کی بھوک پوری ہو رہی ہے ۔اپ نے اس کے لیے ہرگز بچے کو ڈبے , گائے کا دودھ یا پانی نہیں پلانا۔
5.بچے کے دانت نہیں آرہے
اکثر والدین بہت پریشان ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بچے کے دانت جلدی ا جائیں ۔حتی کہ ہمارے ڈاکٹرز بھی ہم سے اپنے بچوں سے متعلق یہ پوچھ رہے ہوتے ہیں۔ دانت آنے کا جو نارمل دورانیہ ہے وہ چھ ماہ سے لے کے تقریبا ڈیڑھ سال تک ہے تو اس دوران بچے کے دانت اتے ہیں ۔ اگر بچہ ایک سال کا ہو گیا ہے اور باقی وہ مکمل طور پر ٹھیک ہے ,اس کی گروتھ صحیح جا رہی ہے اور صرف دانت نہیں ائے تو اس کے لیے اپ کو کیلشیم وٹامن ڈی یا ایسی چیزیں دینے کی ضرورت نہیں ہے بچے کے دانت ا جائیں گے بس تھوڑا صبر کریں
بچوں کی صحت سے متعلق معلومات کے لیے ہماری پوسٹس دیکھتے رہیں اور تمام والدین کے ساتھ شیر کریں۔
ڈاکٹر جعفر بشیر
کنسلٹنٹ چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ نیونٹالوجسٹ
حبیب ہاسپٹل پھالیہ روڈ منڈی بہاؤالدین
https://maps.app.goo.gl/DLpAJ3DkEsPgVcgJ6. 📍
21/03/2026
"On this blessed occasion, may your heart be filled with joy, your home with peace, and your life with endless blessings...!"
08/03/2026
پیدائش سے 15 سال کی عمر تک کے بچوں کے مسائل اور علاج کے لئے تشریف لائیں
نیز نرسری، داخلہ اور لیب کی سہولت موجود ہے
📍Habib Hospital Doctor's Town Opposite Haider Palace Phalia Road Mandi Bahauddin
رابطہ نمبر: 03378018899
18/02/2026
رمضان المبارک ٹائمنگ
روزانہ دن 2 بجے سے شام 5 بجے تک
چھٹی بروز اتوار
15/02/2026
بچوں میں اسہال (Diarrhea)
بچوں کی صحت والدین کے لیے سب سے مقدم ہوتی ہے۔ اسہال، اگرچہ ایک عام عارضہ ہے، لیکن بچوں میں خاص طور پر شیر خوار اور چھوٹے بچوں میں یہ تیزی سے پانی کی کمی کا باعث بن کر تشویشناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں مکمل آگاہی اور بروقت اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔
اسہال کی علامات جن پر نظر رکھیں:
• پتلے پاخانے: عام سے زیادہ بار بار اور پانی جیسے پاخانے۔
• جسمانی بے چینی: بخار، پیٹ میں درد یا مروڑ، متلی اور قے کا ہونا۔
• پانی کی کمی کے اشارے: ◦ شدید پیاس اور منہ کا خشک ہونا۔
◦ پیشاب کی مقدار میں واضح کمی۔
◦ ہاتھوں اور پاؤں کا ٹھنڈا پڑ جانا۔
◦ آنکھوں کا اندر دھنس جانا اور جلد کا لچک کھو دینا۔
◦ بچے کا بے حد سست، کمزور یا چڑچڑا ہو جانا۔
اسہال کی عام وجوہات:
• وائرل یا بیکٹیریل انفیکشن: آلودہ پانی، غذا یا غیر صحت مند ماحول سے پھیلنے والے جراثیم۔
• غذائی عدم مطابقت: بعض اوقات کوئی مخصوص غذا یا دودھ ہضم نہ ہونے کے باعث اسہال ہو سکتا ہے۔
• ادویات کا اثر: اینٹی بائیوٹکس کا استعمال آنتوں کے قدرتی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
والدین کے لیے عملی اقدامات:
1. پانی کی کمی کی روک تھام (Dehydration Prevention): یہ سب سے اہم قدم ہے۔ بچے کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے منظور شدہ او آر ایس (Oral Rehydration Solution - ORS) کا محلول باقاعدگی سے دیں۔ اس کے علاوہ، ابلا ہوا پانی، چاول کا پانی، یا پتلی دہی بھی دی جا سکتی ہے۔
2. غذا کا انتظام: بچے کو بھوکا نہ رکھیں بلکہ ہلکی اور زود ہضم غذائیں جیسے کیلا، ابلی ہوئی چاول، دلیہ، سیب کی چٹنی اور پتلی دہی دیں۔ تلی ہوئی، مرغن اور مصالحے دار غذاؤں سے مکمل پرہیز کریں۔
3. حفظانِ صحت کے اصول: ذاتی صفائی اور ماحول کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ کھانا تیار کرنے اور کھلانے سے پہلے، اور بیت الخلاء کے استعمال کے بعد ہاتھوں کو اچھی طرح صابن سے دھوئیں ۔ بچے کے کھلونوں اور فیڈنگ بوتلوں کی صفائی یقینی بنائیں۔
طبی مشورہ کب ضروری ہے؟
◦ اگر اسہال 24 گھنٹے سے زیادہ جاری رہے۔
◦ بچے کو تیز بخار ہو یا شدید قے آ رہی ہو۔
◦ پاخانے میں خون یا بلغم کی موجودگی ہو۔
◦ بچہ کھانے پینے سے مکمل طور پر انکار کر دے۔
◦ پانی کی کمی کی سنگین علامات ظاہر ہوں۔
◦ بچہ غیر معمولی طور پر سست یا بے ہوش ہو۔
اپنے بچے کی صحت و تندرستی کے لیے ان رہنمائی اصولوں پر عمل کریں اور کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
Dr. Jafar Bashir - Child Specialist
MBBS FCPS Pediatrics
Ex-Registrar The Children's Hospital and The Institute of Child Health Lahore
Consultant Child Specialist and Neonatologist Habib Hospital Doctor's Town Mandi Bahauddin
https://maps.app.goo.gl/7EWtdt6zcV1fomGL6
04/01/2026
کیا بچے کی خاموش سانسیں نمونیا کی علامت ہو سکتی ہیں؟ 🤔🫁👶
بچوں کی سانسیں عموماً ہلکی اور نرم ہوتی ہیں، لیکن بعض اوقات والدین محسوس کرتے ہیں کہ بچہ خاموشی سے سانس لے رہا ہے 😶🌫️ یا سانس لیتے وقت آواز نہیں آ رہی۔ یہ بات بظاہر معمولی لگ سکتی ہے، مگر کچھ صورتوں میں یہ نمونیا کی خطرناک علامت بھی ہو سکتی ہے ⚠️🦠۔
🔍 خاموش سانسوں کا کیا مطلب ہے؟
خاموش سانسیں اس وقت ہوتی ہیں جب پھیپھڑوں میں ہوا کی آمد و رفت کم ہو جائے 🌬️⬇️۔
نمونیا میں پھیپھڑوں کے اندر انفیکشن 😷🦠 اور سوجن ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے:
سانس کی آواز کم ہو سکتی ہے 😶
بچہ گہری سانس نہیں لے پاتا 🫁
سانس لیتے وقت سینہ صحیح طرح نہیں پھولتا ❌
🚨 نمونیا کی دیگر اہم علامات
اگر خاموش سانسوں کے ساتھ یہ علامات بھی ہوں تو فوراً توجہ دیں ⏰👨⚕️:
تیز یا مشکل سانس 😮💨
پسلیوں کا اندر کی طرف جانا ⬇️🦴
بخار یا کبھی بخار کے بغیر کمزوری 🌡️😴
دودھ یا خوراک پینے میں کمی 🍼❌
نیلاہٹ (ہونٹ یا ناخن نیلے ہونا) 💙
بچہ غیر معمولی طور پر سست یا بے چین 😢😣
👶👩👦 والدین کو کیا کرنا چاہیے؟
بچے کی سانسوں پر گہری نظر رکھیں 👀🫁
اگر سانس بہت خاموش، تیز یا مشکل ہو تو انتظار نہ کریں ❗
فوراً قریبی ڈاکٹر یا اسپتال سے رجوع کریں 🏥👨⚕️
خود سے اینٹی بایوٹک یا دوا ہرگز نہ دیں 💊🚫
🌟 یاد رکھیں
نمونیا ہمیشہ تیز بخار یا شدید کھانسی سے شروع نہیں ہوتا ❌🌡️۔ بعض اوقات خاموش سانسیں ہی پہلی اور خطرناک علامت ہوتی ہیں ⚠️🫁۔
بروقت تشخیص اور علاج بچے کی جان بچا سکتا ہے ❤️👶۔
👉 بچے کی سانسیں معمول سے مختلف محسوس ہوں تو اسے نظر انداز نہ کریں!
👨⚕️ 𝐃𝐫. Jafar Bashir
MBBS, FCPS (Peads)
𝐂𝐨𝐧𝐬𝐮𝐥𝐭𝐚𝐧𝐭 𝐂𝐡𝐢𝐥𝐝 𝐒𝐩𝐞𝐜𝐢𝐚𝐥𝐢𝐬𝐭 & 𝐍𝐞𝐨𝐧𝐚𝐭𝐨𝐥𝐨𝐠𝐢𝐬𝐭
📍 𝐇𝐨𝐬𝐩𝐢𝐭𝐚𝐥 𝐀𝐝𝐝𝐫𝐞𝐬𝐬:
Habib Hospital Opposite Phalia Road Mandi Bahauddin
☎️ For Appointment & Details:
0337-8018899
31/12/2025
Stay grateful for what we have...!!!
Alhumdullillah ❤️💫
Work hard for what you dream of ...!!!
🌟🌟🌟🌟🌟
Dr Umer Farooq Dar - Eye Specialist Dr. Umair Khaliq Pediatric Surgeon
.uzzie243
nagyal .formanite
♥️
30/11/2025
آج کل پھیلنے والی وبا کیا ہے؟ Influenza A — ایک اہم آگاہی پوسٹ
آج کل پورے پاکستان میں ایک ایسی وبا پھیلی ہوئی ہے جو بالکل ڈینگی کی طرح محسوس ہوتی ہے، مگر ڈینگی ٹیسٹ ہمیشہ نیگیٹو آتا ہے۔
اصل مسئلہ ڈینگی نہیں… بلکہ Influenza A (خاص طور پر H3N2) ہے، اور اس وقت ہر دوسری OPD میں یہی کیسز نظر آ رہے ہیں۔
شروع میں مریض کو بالکل عام نزلہ زکام ہوتا ہے، چھینکیں، گلا خراب، ہلکا بخار اور بدن ٹوٹنا۔ پھر آہستہ آہستہ پیٹھ کی ہڈیوں اور جوڑوں کا درد بڑھنے لگتا ہے، سر بھاری ہوتا جاتا ہے، چکر آتے ہیں اور متلی محسوس ہوتی ہے۔
اس کے بعد بخار یک دم تیز ہونا شروع ہوتا ہے اور بہت سے مریضوں میں 103–104 تک پہنچ جاتا ہے۔ 3–6 دن تک بخار کا نہ ٹوٹنا اب عام بات ہو چکی ہے۔ مریض جسمانی طور پر ٹوٹ جاتا ہے، بھوک ختم، منہ کا ذائقہ خراب، اور ہر وقت کمزوری اور بےچینی۔
جب بخار کا فیز گزر جاتا ہے تو آغاز ہوتا ہے دوسری مشکل کا:
ناک کا نزلہ گاڑھا ہو کر **Sinusitis** میں بدل جاتا ہے۔ بلغم بدبودار، سر بھاری، ناک بند، اور کھانسی بھی شامل ہو جاتی ہے۔ اس ساری کیفیت میں مریض کی کمزوری اتنی بڑھ جاتی ہے کہ کئی کئی دن تک اٹھنے کو دل نہیں کرتا۔
ڈینگی ٹیسٹ نیگیٹو اس لئے آتا ہے کہ یہ ڈینگی ہے ہی نہیں۔ Influenza A بخار، بون پین اور شدید کمزوری تو دیتا ہے، مگر platelets خطرناک حد تک نہیں گراتا۔ اسی لئے لوگ کنفیوز ہوتے ہیں کہ “علامات تو ڈینگی والی ہیں مگر رپورٹس کیوں نارمل؟”
اس وقت سب سے اہم چیز یہ ہے کہ مریض آرام کرے، پانی زیادہ پئے، steam لے، اور علامات کے مطابق symptomatic care کرے۔
اگر بلغم بدبو دار ہو یا سر بہت بھاری ہو تو یہ واضح سائن ہے کہ سائنوسائٹس ہو چکا ہے اور اس کا علاج ساتھ چلانا لازم ہے۔
شدید کمزوری میں multivitamins فائدہ دیتے ہیں۔
اگر سانس میں دقت، بہت زیادہ بخار، یا پانی کی کمی محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے۔
مختصر یہ کہ پاکستان میں اس وقت Influenza A کا زور ہے، اور اسی کی وجہ سے ہر طرف یہی بخار، نزلہ، کمزوری اور سائنوسائٹس والے کیسز نظر آ رہے ہیں۔
Dr. Jafar Bashir - Child Specialist
Consultant Child Specialist
MBBS FCPS
Habib Hospital Phalia Road Mandi Bahauddin
21/11/2025
ہر نوزائیدہ بچے کو پیداٸیش پر چائلڈ اسپیشلسٹ سے چیک کروانابےحد ضروری ہے۔
ڈاکٹر کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ یہ چیک کریں کہ بچہ صحت مند ہے یا نہیں، بچے میں کوٸ پیداٸیشی نقص تو نہیں اور نئے والدین کو بچوں کی خوراک اور معمول کی دیکھ بھال کے بارے میں رہنمائی کریں۔
معاٸنے کے شروع میں بچے کے وائٹلز جن میں دل کی دھڑکن سانس کی شرح اور درجہ حرارت چیک کیاجاتایے ۔ پھر وزن، لمبائی اور سر کے سائز کی پیماٸیش ہوتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک چیز کا پیداٸیش پر ریکارڈ انتہائی اہم ہے اور ساتھ ہی یہ ریکارڈ ہمیں اگلے مہینوں اور سالوں میں مدد کرے گا کہ بچہ صحیح طریقے سے بڑھ رہا ہے یا نہیں۔
اس کے بعد سر سے لے کر پاٶں تک تفصیلی معاٸنہ کیا جاتا ہے۔
سر کودیکھا جاتا ہے کہ پیدائش کے عمل کے دوران سر کی ہڈیوں پر کوئی چوٹ تو نہیں آٸ ہے، ہڈیاں آپس میں جڑی ہوٸ تو نہیں ہیں اور سر کے نرم دھبے مناسب سائز کے ہیں۔ آنکھوں کے معاٸنے میں بیناٸ، سفید موتیا، کالا موتیا یا آنکھ کے پردے کی رسولیکو چیک کیا جاتا ہے۔ناک کو دیکھا جاتا ہے کہ مکمل دونوں ساٸڈز کھلی ہوٸ ہیں .منہ کو پیداٸیشی دانتوں اور کٹے ہوۓ دانتوں کے لیے چیک کیا جاتا ہے . کانوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔
گردن پر پیداٸشی رسولیوں کے لیے چیک کیا جاتا ہے۔ ہنسلی کی ہڈی اور کندھے کی ہڈیوں کو فریکچر کے لیے دیکھاجاتا ہے۔ دل کی کسی بھی پیدائشی بیماری جیسے دل میں سوراخ یا خون کی نالیوں کا کھلا ر جاناچیک کیاجاتا ہے۔ کسی بھی پیدائشی نمونیا یا سانس لینے میں دشواری کے لیے پھیپھڑوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ جگر، تلی گردے یا پیدائشی ٹیومر جیسے کسی بھی مسئلے کے لیے پیٹ کی جانچ کی جاتی ہے۔ کوہلے کے جوائنٹ چیک کیا جاتا ہے کہ اس کی پوزیشن نارمل ہے یا نہیں۔ پاخانہ کے راستے کو چیک کیا جاتا ہےکہ مکمل طور پر کھلا ہے ۔ بچے کے جنسی اعضاء کو دیکھا جاتا ہے کہ آیا وہ بچے کی جنس کے مطابق نارمل ہیں یا نہیں۔ جلد کو کسی بھی نقائص، رنگت کی تبدیلی یا دیگر مسائل کے لیے چیک کیا جاتا ہے۔ کلب فٹ یا ٹھیڑے پاٶں جیسے کسی بھی نقص کے لیے ہاتھ اور پاؤں کی جانچ کی جاتی ہے۔ ہڈیوں کے کسی بھی مسائل یا ریڑھ کی ہڈی سے متعلق مسائل کے لیے کمر کی جانچ کی جاتی ہے۔
یہ سب اتنی تفصیل سے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ڈاکٹر ان تمام مسائل کا جائزہ لیتے ہیں اور اگر اس مرحلے پر بچے میں کوئی مسئلہ سامنے آجائے تواس کا حل آسان ہوتا ہے بہ نسبت اسکے کہ اسکا علاج اور تشخیص دیر سے ہو۔
اگر بچہ صحت مند ہوتو ڈاکٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلانے ,صفاٸ رکھنے ،حفاظتی ٹیکوں اور نوزائیدہ بچوں کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں رائج خرافات کو ختم کرنے کے بارے میں رہنمائی کریں .
اس سب کا مقصد نوزاٸیدہ بچے کو محفوظ ہاتھوں میں دینا ہوتا ہے۔
جزاك الله!
Dr. Jafar Bashir - Child Specialist
MBBS, FCPS (Pediatrics)
Consultant Child Specialist
01/01/2025
اسلام و علیکم !
آپ سب کو میری طرف سے نئے سال کی خوشیاں مبارک-
ڈاکٹر جعفر بشیر
ایف سی پی ایس پیڈیا ٹریکس
کنسلٹنٹ چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ نیونٹالوجسٹ 👨👩👧👦🏨🥇🩺
ایک سے سولہ سال کے بچوں کے تمام مسائل کا حل
کنسلٹنٹ ڈاکٹرز روزانہ شام 4 سے 8 بجے تک مریضوں کے علاج کے لیے موجود ہوتے ہیں.
آپ آنکھیں چیک کروانے یا بچوں کے علاج کے لیے اپائنٹمنٹ بُک کروا سکتے ہیں.
شکریہ
📍 پتہ: فرسٹ فلور کلینکس فارمیسی، بھمبر روڈ، گجرات
⏰ اوقات: شام 5 تا 8 بجے (سوموار تا جمعہ)
📞 رابطہ نمبر:
📧 0336-3112222
☎️ 053-3600372
📍پتہ: عمر بشیر ہسپتال، لالہ موسی
بروز جمعرات و ہفتہ دوپہر 1:30 سے 3:00
بروز جمعہ دوپہر 12:00 سے 1:00
📞 رابطہ نمبر:
☎️ 053-7518555
📍پتہ: طارق میڈیکل کمپلیکس، پرانی پنڈی منڈی بہاؤالدین
بروز اتوار دن 10 سے 1 بجے
14/11/2024
“او میری تے نارمل شوگر ای 400 رہندی اے“
"میرا BP کدی 180 توں تھلے نئیں آیا، مینوں تے کُج نئیں ہویا"
"شوگر بی پی دی پرواہ نہ کرو، جیہڑی رات قبر اچ اے او باہر نئیں"
ایسی بھڑکیں ہم اپنے اردگرد روزانہ کی بنیاد پہ سنتے رہتے ہیں. مگر ان بھڑک بازوں کے انجام سے صرف ڈاکٹر ہی واقف ہوتا ہے کیونکہ شوگر کی آخری سٹیج پہ یہ بھڑکیں ختم ہو جاتی ہیں اور منتیں ترلے شروع ہو جاتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب اب کچھ ہو سکتا ہے تو کریں. مگر جواب صرف صبر اور دعا کی صورت میں ملتا ہے.
ِبحیثیت ڈاکٹر میرے لیے یہ ایک تکلیف دہ لمحہ ہوتا ہے جب مریض کو یہ بتانا پڑے کہ اب آپ کی بیماری کا علاج کرنا ممکن نہیں ہے اب دعا کریں.
تصویر میں نظر آنے والا یہ انجیکشن خالی نہیں ہے بلکہ اس کے پیندے میں جو چار پانچ قطروں کی دوائی نظر آ رہی ہے پاکستان میں اس وقت اس کی قیمت تقریباً سوا لاکھ روپے ہے.
یہ انجیکشن شوگر کے مریضوں کی آنکھ کے اندر لگایا جاتا ہے جن کی بینائی شوگر کی وجہ سے متاثر ہو چکی ہوتی ہے اور یہ انجیکشن ہر ماہ لگایا جاتا ہے.
پاکستان میں اس وقت کوئی بھی مڈل کلاس آدمی اس علاج کو افورڈ نہیں کر سکتا کیونکہ اس کا تین ماہ کا خرچ چار سے پانچ لاکھ روپے بنتا ہے.
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ اور آپ کے پیارے اس تکلیف اور اذیت سے محفوظ رہیں تو صحیح اور بر وقت علاج ہی اس کا واحد حل ہے. دو کلو کھانا کھا کر پھیکی چائے پی کر آپ خود کو دھوکہ دے سکتے ہیں شوگر کو نہیں!
آپ کو اپنا لائف سٹائل تبدیل کرنا ہو گا. کسی ٹُونے ٹوٹکے اور جڑی بوٹی سے اس کا علاج نہیں ہو گا. کریلے کا جوس، نیم کے پتے، آملے کا سالن اور بھُنے ہوئے چنے وغیرہ سب بکواس باتیں ہیں. اس پہ صرف وقت ضائع کر کے آپ اصل علاج میں تاخیر کرتے اور پیچیدگیوں میں اضافہ کرتے ہیں.
سوشل میڈیا پہ بیٹھے فاتح ذیابیطس اور قاری خنیف ڈاروں سے بچیں جو آپ کو بتاتے ہیں کہ جلیبیاں کھانے سے بھی ان کی شوگر زیادہ نہیں ہوتی. یہ اپنے لائکس اور ویوز کی خارش کم کرنے کے لیے آپ کی صحت سے کھیلتے ہیں. یہ مہنگی دوائیوں کے متبادل آپ کو سستے علاج بھی فراہم کر سکتے ہیں مگر اس سستے علاج کی قیمت آپ اپنی صحت سے چکاتے ہیں.
دنیا علم اور تحقیق کے میدان میں بہت آگے نکل گئی ہے. وہاں ہر کام تحقیق، تجربات اور ان کے data analysis کی بنیاد پر ہو رہا ہے. یہ اربوں ڈالر کی میڈیسن انڈسٹری کسی یہودی کی سازش نہیں ہے بلکہ اس نے پوری انسانیت کی زندگی کو بہت آسان بنایا ہے. جبکہ ہمارے غیر مستند ٹوٹکوں نے صرف ہماری پیچیدگیوں میں اضافہ کر کے ہماری کوالٹی آف لائف کو برباد کیا ہے. ہم کیلے کی چھلکے سے کینسر کا اور پیاز کے پانی سے کرونا کا علاج کر رہے ہیں.
پاکستان ایک تحقیق کے مطابق شوگر سے متاثر دنیا میں پہلے نمبر پر ہے. برائے مہربانی اپنا اور اپنے پیاروں کا خیال رکھیں. ان کی صحیح اور درست علاج کی طرف رہنمائی کریں. کیونکہ بینائی جانے کے بعد جب مریض کے پاس علاج کروانے کے پیسے نہیں ہوتے اور میرے پاس کوئی علاج نہیں ہوتا تو یہ منظر بہت تکلیف دہ ہوتا ہے. اس منظر کو دیکھنے سے بچیں. شکریہ