Naiem Batt

Naiem Batt ye page deeni taleem k lea istemall ho ga.,, sath sath ittehad e ummat k lea khas tor par kosheshien ke jain ge INSHAHALLAH

17/11/2015

ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ، ﮨﻢ ﻟﯿﮑﻦ ،،،
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﮯ ﺟُﮕﻨﻮ، ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺷﺐ ﮐﮯ
ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ،،،
ﺳِﺘﺎﺭﮦ ﺑﻦ ﮐﮯ ﭼﻤﮑﯿﮟ ﮔﮯ !!!
ﺗُﻤﮩﯿﮟ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮔﮯ !!!
ﺑﮩﺖ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ، ﺑﮩﺎﻧﮯ ﺗﻢ
ﺑﻨﺎﺅﮔﮯ !!!
ﺑﮩﺖ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺗُﻢ ،،،
ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﻮﺳﻢ ﺟﻮ ﺑﺪﻟﯿﮟ ﺗﻮ، ﮨﻤﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﻧﮧ
ﺁﮰ !!!
ﻣﮕﺮ ،،،
ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ !!!
ﮐﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺮﺩ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ،،،
نومبر ﮐﯽ ﮨﻮﺍﺅﮞ ﻣﯿﮟ ،،،
ﺗُﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﻮﮞ ﻣﯿﮟ ،،،
ﺟﻤﯽ ﮨﯿﮟ ﺑﺮﻑ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ،،،
ﻭﮦ ﯾﺎﺩﯾﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﮕﮭﻠﯿﮟ ﮔﯽ ؟؟؟
ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﮐﯽ ﺗﭙﺘﯽ ﺳُﺮﺥ ﮔﮭﮍﯾﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ،،،
ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﺿﯽ ﮐﻮ ﺳﻮﭼﻮ ﮔﮯ ،،،
ﺗﻮ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﮭﯿﮓ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ !!!
ﮔﮭﮍﯼ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﻮ ﺩﻭﮌﮮ ﮔﯽ !!!
ﮐﺌﯽ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﮔُﻢ ﮔﺸﺘﮧ، ﮨﻤﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ
ﺁﮰ ﮔﯽ !!!
ﺑﭽﮭﮍ ﺟﺎﺅ !!! ﻣﮕﺮ ﺳُﻦ ﻟﻮ...
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ، ﺍﯾﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺑﺎﺕ
ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮔﯽ ،،،
ﺟِﺴﮯ ﺗُﻢ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻮ ﮔﮯ !!!
ﻣُﺠﮭﮯ ﺗُﻢ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻮ ﮔﮯ

19/06/2015

تاریخِ زکوٰۃ میں جو رقم ہو اس پر زکوٰۃ ہے
فرض کریں کہ ایک شخص کے پاس یکم رمضان کو ایک لاکھ روپیہ تھا، اگلے سال یکم رمضان سے دو دن پہلے پچاس ہزار روپے اس کے پاس اور آگئے اور کے نتیجے میں یکم رمضان کو اس کے پاس ڈیڑھ لاکھ روپے ہوگئے، اب اس دیڑھ لاکھ روپے پر زکوٰۃ فرض ہوگی، یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس میں پچاس ہزار روپے تو صرف دو دن پہلے آئے ہیں اور اس پر ایک سال نہیں گزرا، لہٰذا اس پر زکوٰہ نہ ہونی چاہیے۔ یہ درست نہیں بلکہ زکوٰۃ نکالنے کی جو تاریخ ہے اور جس تاریخ کو آپ صاحب نصاب بنے ہیں اس تاریخ میں جتنا مال آپ کے پاس موجود ہے اس پر زکوٰۃ واجب ہے، چاہے یہ رقم پچھلے سال یکم رمضان کی رقم سے زیادہ ہو یا کم ہو۔ مثلاً اگر پچھلے سال ایک لاکھ روپے تھے، اب ڈیڑھ لاکھ ہیں تو ڈیڑھ لاکھ پر زکوٰۃ ادا کرو، اور اگر اِس سال پچاس ہزار رہ گئے تو اب پچاس ہزار پر زکوٰۃ ادا کرو، درمیان سال میں جو رقم خرچ ہوگئی اس کا کوئی حساب کتاب نہیں اور اس خرچ شدہ رقم پر زکوٰۃ نکالنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حساب کتاب کی اُلجھن سے بچانے کے لیے یہ آسان طریقہ مقرر فرمایا ہے کہ درمیان سال میں جو کچھ تم نے کھایا پیا اور جو رقم تمہارے پاس سے چلی گئی اس کا کوئی حساب کتاب کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح درمیان سال میں جو رقم آگئی اس کا الگ سے حساب رکھنے کی ضرورت نہیں کہ وہ کس تاریخ میں آئی اور کب اس پر سال پورا ہوگا؟ بلکہ زکوٰۃ نکالنے کی تاریخ میں جو رقم تمہارے پاس ہے اس پر زکوٰۃ ادا کرو۔ سال گزرنے کا مطلب یہ ہے
ہر ہر روپے پر سال کا گزرنا ضروری نہیں
اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا ایک نصاب مقرر کیا ہے کہ اس نصاب سے کم اگر کوئی شخص مالک ہے تو اس پر زکوٰۃ فرض نہیں، اگر اس نصاب کا مالک ہو گا تو زکوٰۃ فرض ہوگی۔ وہ نصاب یہ ہے: ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کا نقد روپیہ، یا زیور، یا سامانِ تجارت وغیرہ، جس شخص کے پاس یہ مال اتنی مقدار میں موجود ہو تو اس کو ’’صاحب نصاب‘‘ کہا جاتا ہے۔
پھر اس نصاب پر ایک سال گزرنا چاہیے، یعنی ایک سال تک اگر کوئی شخص صاحب نصاب رہے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ اس بارے میں عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر ہر روپے پر مستقل پورا سال گزرے، تب اس پر زکوٰہ واجب ہوتی ہے، یہ بات درست نہیں بلکہ جب ایک مرتبہ سال کے شروع میں ایک شخص صاحب نصاب بن جائے مثلاً فرض کریں کہ یکم رمضان کو اگر کوئی شخص صاحب نصاب بن گیا پھر آئندہ سال جب یکم رمضان آیا تو اس وقت بھی وہ صاحب نصاب ہے تو ایسے شخص کو صاحب نصاب سمجھا جائے گا، درمیان سال میں جو رقم آتی جاتی رہی اس کا کوئی اعتبار نہیں، بس یکم رمضان کو دیکھ لو کہ تمہارے پاس کتنی رقم موجود ہے اس رقم پر زکوٰۃ نکالی جائے گی، چاہے اس میں سے کچھ رقم ص
رف ایک دن پہلے ہی کیوں نہ آئی ہو۔
زکوۃ کے دنیاوی فوائد
زکوۃ اس نیت سے نکالنی چاہیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، اس کی رضا کا تقاضہ ہے اور ایک عبادت ہے۔ اس زکوۃ نکالنے سے ہمیں کوئی منفعت حاصل ہو یا نہ ہو، کوئی فائدہ ملے یا نہ ملے، اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت بذات خود مقصود ہے۔ اصل مقصد تو زکوۃ کا یہ ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ جب کوئی بندہ زکوۃ نکالتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو فوائد بھی عطا فرماتے ہیں، وہ فائدہ یہ ہے کہ اس کے مال میں برکت ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
یمحق اللہ الربواویربی الصدقات
’’یعنی اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے ہیں اور زکوۃ اور صدقات کو بڑھاتے ہیں۔‘‘
(البقرۃ:۲۷۶)
ایک حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی بندہ زکوۃ نکالتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کے حق میں یہ دعافرماتے ہیں کہ
الھم اعط مفقا خلفا واعط ممسکاتلفا
(بخاری کتاب الزکاۃ)
اے اللہ! جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کر رہا ہے اس کو اور زیادہ عطا فرمائیے اور اے اللہ جو شخص اپنے مال کو روک کر رکھ رہا ہے اور زکوۃ ادا نہیں کر رہا ہے تو اے اللہ اس کے مال پر ہلاکت ڈالیے۔ اس لیے فرمایا:
مانقصت صدقۃ من مال
’’کوئی صدقہ کسی مال میں کمی نہیں کرتا۔‘‘
چنانچہ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ ادھر ایک مسلمان نے زکوۃ نکالی دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اس کی آمدنی کے دوسرے ذرائع پیدا کردیے اور اس کی ذریعے اس زکوۃ سے زیادہ پیسہ اس کے پاس آگیا۔ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ زکوۃ نکالنے سے اگرچہ گنتی کے اعتبار سے پیسے کم ہوجاتے ہیں لیکن بقیہ مال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی برکت ہوتی ہے کہ اس برکت کے نتیجے میں تھوڑے مال سے زیادہ فوائد حاصل ہوجاتے ہیں

12/06/2015
12/06/2015
12/06/2015
05/06/2015

صدر مرسی کے تقریر کا ترجمہ

" وہ اللہ کی جانب سے ملنے والی نعمتوں اور فضل پر خوشیاں منا تے ہیں اور اس بات پر کہ اللہ ضاٰئع نہیں کرتا مومنین کے اجر کو یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اسکے رسول کی پکار پر لبیک کہا
باوجود اسکے کہ انہیں شدید تکلیف پہنچ چکی ہے بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے احسان کی روش اختیار کی اور متقی بن کر رہے انکے لئے اجرِ عظیم ہے یہ وہ لوگ ہیں کہ جن سے لوگوں نے کہا کہ دشمن تمہارے خلاف جمع ہوچکے ہیں ان سے ڈرو تو اس بات نے انکے ایمان کو اور بڑھا دیا اور انہوں نے جواب دیا
"کہ اللہ ہی ہمارے لئے کافی ہےاور وہ بہترین حمایتی ہے"
وہ اللہ کی نعمت اور اسکے فضل کے ساتھ پلٹے اور کسی برائی نے انکو چھوا تک نہیں وہ اللہ کی خوشنودی کے اتباع میں رہے اور اللہ عظیم فضل والا ہے...وہ تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں کو خوف میں مبتلاء رکھتا ہے
آگاہ ہوجاؤ ان سے خوف نہ کھاؤ اور مجھ ہی سے ڈرو اگر تم مومن ہو
یہ اللہ کی ہم سب کے لئے پکار ہے یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں اور ہم اسکو چھوڑ کر کبھی بھی کسی کی بندگی نہ کریں اور یہ کہ ہم اللہ سبحانہ تعالی سے وابستہ ہو جائیں اور یہ کہ ہم اپنی زبان پر دہراتے رہیں کہ."حسبنا اللہ و نعم الوکیل" اللہ ہمارے لئے کافی ہے اللہ سبحانہ تعالی اپنے محبت کرتا ہے اس وقت جبکہ وہ دیکھتا ہے اپنے بندوں کو کہ وہ اس سے دعائیں مانگ رہے ہیں اور اسکے طریقے کو مضبوطی تھامے ہوئے ہے اور اسکے دین اور اسکی مضبوط رسی( قران ) کو تھامے ہوئے ہیں .
" لوگو سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط تھام لو اور انتشار کا شکار نہ ہو جاؤ."
اس پوری دنیا کو امن اور سلامتی کا پیغام سنادو اور بتادو کہ ہم ان سے نہ جنگ چاہتے ہیں نہ دشمنی اور ہم دنیا کے سارے انسانوں کے حق میں بھلائی چاہتے ہیں اور انشاء اللہ یہ بات دنیا کے سامنے سچ ثابت ہوکر رہے گی.....

29/05/2015

تین ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﻠﮏ ﺳﮯ ﺑﺎﮬﺮ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮬﺎﮞ
ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﻮ 75 ﻣﻨﺰﻟﮧ ﮬﮯ ..
ﺍﻥ ﮐﻮ 75 ﻭﯾﮟ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﮐﻤﺮﮦ ﻣﻠﺘﺎ ﮬﮯ .. ﺍﻥ ﮐﻮ ﻋﻤﺎﺭﺕ
ﮐﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﯿﮧ ﺑﺎﺧﺒﺮ ﮐﺮﺗﯽ ﮬﮯ ﮐﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﮯ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﮯ
ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ 10 ﺑﺠﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻟﻔﭧ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ
ﮐﺮ ﺩﯾﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﻟﮭﺬﺍ ﮬﺮ ﺻﻮﺭﺕ ﺁﭖ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯿﺠﯿﮯ
ﮐﮧ ﺩﺱ ﺑﺠﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﻣﻤﮑﻦ ﮬﻮ
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﮔﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ ﮬﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺷﺶ
ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻟﻔﭧ ﮐﮭﻠﻮﺍﻧﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮧ ﮬﻮﮔﺎ ..
ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺳﯿﺮ ﻭ ﺳﯿﺎﺣﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﺗﻮ
ﺭﺍﺕ 10 ﺑﺠﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭦ ﺁﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﻣﮕﺮ
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﻭﮦ ﻟﯿﭧ ﮬﻮﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ .. ﺍﺏ ﻟﻔﭧ ﮐﮯ
ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ ﮬﻮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ.. ﺍﻥ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺍﮦ
ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﺒﮑﮧ
ﮐﻤﺮﮦ 75 ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﮬﮯ ..
ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺳﯿﮍﮬﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ
ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ ﺗﻮ ﯾﮭﺎﮞ ﺳﮯ ﮬﯽ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮍﮮ
ﮔﺎ ..
ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ.. " ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﺗﺠﻮﯾﺰ
ﮬﮯ .. ﯾﮧ ﺳﯿﮍﮬﯿﺎﮞ ﺍﯾﺴﮯ ﭼﮍﮬﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﮬﻢ ﺳﺐ ﺗﮭﮏ
ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ.. ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻃﻮﯾﻞ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ
ﮬﻢ ﺑﺎﺭﯼ ﺑﺎﺭﯼ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻗﺼﮯ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ
ﭼﻠﺘﮯ ﮬﯿﮟ.. 25 ﻭﯾﮟ ﻣﻨﺰﻝ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻗﺼﮯ ﺳﻨﺎﻭﮞ ﮔﺎ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﻗﯽ 25 ﻣﻨﺰﻝ ﺗﮏ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﻗﺼﮯ
ﺳﻨﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺁﺧﺮﯼ 25 ﻣﻨﺰﻝ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺳﺎﺗﮭﯽ.. ﺍﺱ
ﻃﺮﺡ ﮬﻤﯿﮟ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﮐﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ
ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﭧ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ .. "
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻣﺘﻔﻖ ﮬﻮﮔﺌﮯ..
ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ .. " ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻟﻄﯿﻔﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﺍﺣﯿﮧ
ﻗﺼﮯ ﺳﻨﺎﺗﺎ ﮬﻮﮞ ﺟﺴﮯ ﺗﻢ ﺳﺐ ﺑﮩﺖ ﺍﻧﺠﻮﺍﺋﮯ ﮐﺮﻭﮔﮯ ..
" ﺍﺏ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﮬﻨﺴﯽ ﻣﺬﺍﻕ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﺭﮬﮯ ..
ﺟﺐ 25 ﻭﯾﮟ ﻣﻨﺰﻝ ﺁﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ " ..
ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻗﺼﮯ ﺳﻨﺎﺗﺎ ﮬﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺼﮯ
ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﮬﻮﻧﮕﯿﮟ .. "
ﺍﺏ 25 ﻭﯾﮟ ﻣﻨﺰﻝ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻗﺼﮯ
ﺳﻨﺘﮯ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﺭﮬﮯ.. ﺟﺐ 50 ﻭﯾﮟ ﻣﻨﺰﻝ ﺗﮏ
ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ .. " ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ
ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﻏﻤﮕﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺩﮐﮫ ﺑﮭﺮﮮ ﻗﺼﮯ ﺳﻨﺎﺗﺎ ﮬﻮﮞ .. "
ﺟﺲ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺳﺐ ﻣﺘﻔﻖ ﮬﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻏﻢ ﺑﮭﺮﮮ ﻗﺼﮯ
ﺳﻨﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﺎﻗﯽ ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻃﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮬﮯ ..
ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺗﮭﮏ ﮐﺮ ﺟﺐ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺳﺎﺗﮭﯽ
ﻧﮯ ﮐﮩﺎ .. " ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻏﻢ ﺑﮭﺮﺍ ﻗﺼﮧ
ﯾﮧ ﮬﮯ ﮐﮧ ﮬﻢ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﭼﺎﺑﯽ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﺳﺘﻘﺒﺎﻟﯿﮧ ﭘﺮ ﮬﯽ
ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﮯ ﮬﯿﮟ .. "
ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﭘﺮ ﻏﺸﯽ ﻃﺎﺭﯼ ﮬﻮﮔﺌﯽ ..
ﺍﮔﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ 25
ﺳﺎﻝ ﮬﻨﺴﯽ ﻣﺬﺍﻕ ' ﮐﮭﯿﻞ ﮐﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﻟﮩﻮ ﻭ ﻟﻌﺐ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭ
ﺩﯾﺘﮯ ﮬﯿﮟ .. ﭘﮭﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﮯ 25 ﺳﺎﻝ ﺷﺎﺩﯼ ' ﺑﭽﮯ '
ﺭﺯﻕ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ' ﻧﻮﮐﺮﯼ ﺟﯿﺴﯽ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ
ﭘﮭﻨﺴﮯ ﺭﮬﺘﮯ ﮬﯿﮟ..
ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ 50 ﺳﺎﻝ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮ ﭼﮑﮯ
ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺗﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﻗﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻝ ﺑﮍﮬﺎﭘﮯ ﮐﯽ
ﻣﺸﮑﻼﺕ ' ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ' ﮬﻮﺳﭙﭩﻠﺰ ﮐﮯ ﭼﮑﺮ ' ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻏﻢ
ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﯽ ﮬﯽ ﮬﺰﺍﺭ ﻣﺼﯿﺒﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﮬﯿﮟ ..
ﯾﮭﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﺗﻮ
ﮬﻤﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﺁﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ " ﭼﺎﺑﯽ" ﺗﻮ ﮬﻢ ﺳﺎﺗﮫ ﻻﻧﺎ ﮬﯽ ﺑﮭﻮﻝ
ﮔﺌﮯ..
ﺭﺏ ﮐﯽ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﮐﯽ ﭼﺎﺑﯽ ..
ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﻔﺮ ﮬﯽ ﺑﮯﻣﻌﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﮭﺘﺎﻭﮮ
ﺑﮭﺮﺍ ﮬﻮﮔﺎ..
ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺗﮏ
ﭘﮩﻨﭽﯿﮟ ' ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺎﺑﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻟﯿﮟ

15/05/2015

ﮔﺠﺮﺍﺕ ﻃﺮﺯ ﭘﺮ ﮐﺸﻤﯿﺮﯼ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﮐﯽ ﺳﺎﺯﺵ ﺗﯿﺎﺭ ، ﺳﻨﮕﯿﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﻧﮕﺎ ﻟﮩﺮﺍﻧﺎﺑﮩﺎﺩﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺰﺩﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺳﭩﺮﯾﺸﻦ // ﺳﯿﺪ ﺻﻼﺡ ﺍﻟﺪﯾﻦ .
May 15
ﺟﻤﻮﮞ ﻭ ﮐﺸﻤﯿﺮﻣﯿﮟ 8 ﻻﮐﮫ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻓﻮﺟﯿﻮﮞﮑﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﻧﮕﺎ ﻟﮩﺮﺍﻧﺎﺑﮩﺎﺩﺭﯼ ﻧﮩﯿﮞﺒﻠﮑﮧ ﺑﺰﺩﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺳﭩﺮﯾﺸﻦ ﮐﺎ ﮐﮭﻠﻢ ﮐﮭﻼ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮨﮯ۔ﻣﻮﺩﯼ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ ﺍﯾﻤﮧ ﭘﺮ ،ﺷﯿﻮﺳﯿﻨﺎ،ﺑﺠﺮﻧﮓ ﺩﻝ ﺍﻭﺭ ﺁﺭ ﺍﯾﺲ ﺍﯾﺲ ﮐﮯ ﺟﻨﻮﻧﯽ ﺷﺪﺕ ﭘﺴﻨﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮐﻮ ﮐﺸﻤﯿﺮﯼ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ،ﺟﻤﻮﮞ ﻭ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔ﺍﻥ
ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﺣﺰﺏ ﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﺟﮩﺎﺩ ﮐﻮﻧﺴﻞ ﮐﮯ ﭼﯿﺮ ﻣﯿﻦ ﺳﯿﺪ ﺻﻼﺡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻧﮯ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﺟﮩﺎﺩ ﮐﻮﻧﺴﻞ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺳﻄﺤﯽ ﺍﺟﻼﺱ ﺳﮯ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﺎ۔ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺟﻤﻮﮞ ﻭ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ 5 ﻻﮐﮫ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﺬﺭﺍﻧﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﭘﺴﻨﺪ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﺗﺮﻧﮕﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ 8 ﻻﮐﮫ ﻓﻮﺝ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻨﮉﺍ ﻟﮩﺮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮ ﺷﺶ ﮐﻮ ﺣﻤﺎﻗﺖ،ﺑﺰﺩﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺳﭩﺮﯾﺸﻦ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﯽ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ﺳﯿﺪ ﺻﻼﺡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﺎ ﻭﺛﻮﻕ ﺫﺭﺍﯾﻊ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺍﻃﻼﻋﺎﺕ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮔﺠﺮﺍﺕ ﻃﺮﺯ ﭘﺮ ﮐﺸﻤﯿﺮﯼ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﮐﯽ ﺳﺎﺯﺵ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﺟﺎ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﺳﺎﺯﺵ ﮐﻮ ﺭﻭﺑﮧ ﻋﻤﻞ ﻻﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﻮﺩﯼ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮧ ﺷﮩﮧ ﭘﺮ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﺴﻠﺢ ﺷﯿﻮﺳﯿﻨﺎ،ﺑﺠﺮﻧﮓ ﺩﻝ ﺍﻭﺭ ﺁﺭ ﺍﯾﺲ ﺍﯾﺲ ﮐﮯ ﺟﻨﻮﻧﯽ ﺟﺘﮭﮯ ،ﯾﺎﺗﺮﯾﻮﮞ،ﺑﮭﮑﺎﺭﯼﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺩﮬﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ

Address

Karachi
Malir

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naiem Batt posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category