Al Quran-ul-Kreem

Al Quran-ul-Kreem Transform your or yours child's Quranic learning experience, right from the comfort of your home, Enroll Now!

Admissions are now again OPEN for Advance Tajweed Course.

آلِ نبی ﷺ کے آنگن میں خوشبو سی بکھر آئیقسمت بھی جھکی، نور کی اک چادر اتر آئیگیلانی چمن پھر سے مہکنے لگا یاروغوثیؒ نظرِ ل...
31/12/2025

آلِ نبی ﷺ کے آنگن میں خوشبو سی بکھر آئی
قسمت بھی جھکی، نور کی اک چادر اتر آئی
گیلانی چمن پھر سے مہکنے لگا یارو
غوثیؒ نظرِ لطف سے برکت بھی ادھر آئی
💖💖💖💖💖
الحمدُ للہ ربِّ العرشِ العظیم، والصلاۃ والسلام علیٰ سیدنا محمدٍ المصطفیٰ ﷺ 🤍
خصوصاً یہ امر باعثِ مزید مسرّت و سعادت ہے کہ
سلسلۂ عالیہ گیلانی کے درخشاں چراغ،
حضرت پیر سید آفتاب حسین گیلانی
المعروف حضور رنگیلا بادشاہ سرکار رحمۃ اللہ علیہ
کو اللہ تعالیٰ نے پوتے جیسی عظیم نعمت سے نوازا،
یوں ان کے فیضان، نسبت اور روحانی وراثت کا تسلسل
ایک نئی صبح کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔
آلِ نبی ﷺ، شجرۂ طیبۂ اہلِ بیتؓ کی معطر شاخ،
اولادِ علیؓ، وارثِ فیضانِ غوثِ اعظمؒ،
حضرتِ قبلہ پیر سید علی حسنین حیدر گیلانی صاحب
سجادہ نشینِ دربارِ عالیہ بہگام شریف
🩷🩷🩷🩷🩷
کو ربِّ کریم کی بارگاہ سے شہزادۂ نور کی ولادتِ باسعادت پر دل کی اتھاہ گہرائیوں، روح کی سچائی اور قلبی عقیدت کے ساتھ ہزارہا مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔
یہ سعید لمحہ فقط ایک ولادت نہیں بلکہ فیضانِ الٰہی، تسلسلِ نسبتِ مصطفوی ﷺ اور امانتِ اولیاء کا ظہور ہے۔
🩷🩷🩷🩷🩷🩷🩷
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس نو مولودِ مبارک کو
نورِ ایمان کی چادر، عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو،
ذکرِ الٰہی کی لذت، ادبِ اہلِ بیتؓ کی دولت،
اور فقرِ غوثیؒ کی شان عطا فرمائے۔
اسے باطن میں صاحبِ حال، ظاہر میں صاحبِ کمال،
خلق کے لیے سایۂ رحمت اور حق کے لیے علمِ ہدایت بنائے۔
پروردگارِ عالم اسے حضورِ قبلہ کے لیے قلب کا سرور، نظر کی ٹھنڈک اور روح کا سکون بنائے،
اور اس کی ذات سے دربارِ عالیہ بہگام شریف میں
ذکر، فیض، نور اور برکت کے چشمے جاری و ساری رکھے۔
اللہ تعالیٰ اس مبارک گھڑی کو خاندانِ گیلانی، سلسلۂ عالیہ اور تمام اہلِ محبت کے لیے
قبولیت، دوام، رفعتِ درجات اور قربِ الٰہی کا سبب بنائے۔
🩷🩷🩷💖💖💖🩷🩷🩷
آمین یا ربّ العالمین
بجاہِ سیدنا محمد ﷺ
وبحرمتِ اہلِ بیتِ اطہارؓ
وبصدقۂ غوثِ اعظمؒ

مخصوص نشستوں پر داخلہ جاری ہے " Lariab Quran Academy قرآن سے جُڑنے کا سنہری موقع!اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے یا آپ خود...
14/05/2025

مخصوص نشستوں پر داخلہ جاری ہے "
Lariab Quran Academy
قرآن سے جُڑنے کا سنہری موقع!
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے یا آپ خود قرآنِ پاک کی تلاوت کو خوبصورتی، درستگی اور سلیقے سے سیکھیں تو لاریب قرآن اکیڈمی کا "قاعدہ و ناظرہ" کورس آپ کے لیے بہترین انتخاب ہے۔

ہم کیا سکھاتے ہیں؟

تجوید کے اصولوں کے ساتھ قرآن پڑھنا

صحیح تلفظ اور مخارج کی ادائیگی

تلاوت میں روانی اور حسن پیدا کرنا

ماہر و بااخلاق اساتذہ کی رہنمائی

انفرادی توجہ اور ہر عمر کے لیے موزوں

کورس کی نمایاں خصوصیات:

ذاتی نوعیت کی تعلیم

آسان اور لچکدار اوقات

ہفتہ وار جائزہ و پیش رفت رپورٹ

قرآن سے محبت اور فہم کی تربیت

آج ہی داخلہ لیجیے!
علمِ قرآن سے اپنا اور اپنے بچوں کا تعلق مضبوط بنائیں۔ دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ یہی ہے۔

رابطہ نمبر:
0344-1641996
(For Home Academy)

اس سے بہترین تحریر ھو ھی نہیں سکتیزبانی یاد کریں ۔۔۔بچوں پہ آزمائیں ۔۔۔،*ایک پروفیسر کی تربیت کا انداز*_کلاس روم طلبہ او...
20/07/2024

اس سے بہترین تحریر ھو ھی نہیں سکتی
زبانی یاد کریں ۔۔۔بچوں پہ آزمائیں ۔۔۔
،
*ایک پروفیسر کی تربیت کا انداز*

_کلاس روم طلبہ اور طالبات سے بھرا ہوا تھا۔
ہر کوئی خوش گپیوں میں مصروف تھا ، ،
کان پڑی آوازسُنائی نہ دیتی تھی،
اتنے میں پرنسپل کلاس روم میں داخل ہوئے،
کلاس روم میں سناٹا چھاگیا ۔_

*پرنسپل صاحب نے اپنے ساتھ آئے ہوئے ایک صاحب کا تعارف کراتے ہوئے کہا یہ ہمارے کالج کے وزیٹنگ پروفیسر، پروفیسر انصاری ہیں،
آپ مفکر دانشور اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔
یہ آپ کو کامیاب زندگی گزارنے کے کچھ گر بتائیں گے۔
ان کے کئی لیکچر ہوں گے۔
جو اسٹوڈنٹس انٹرسٹڈ ہوں وہ ان کے
لیکچر میں باقاعدگی سے شریک ہوں۔*

*سبق نمبر 1*

*کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔
طلبا کی نظریں کبھی پروفیسر کی طرف اٹھتیں
اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔
پروفیسر کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔
سوال تھا ہی ایسا۔*

*وزیٹنگ پروفیسر انصاری نے ہال میں داخل ہوتے ہی
بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف کرتے ہوئے پوچھا….*

*‘‘تم میں سے کون ہے
جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کردے؟’’….*

*‘‘یہ ناممکن ہے۔’’،
کلاس کے ایک ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑتے ہوئے جواب دیا۔ ‘‘
لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑے گا اور
آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کررہے ہیں۔’’
باقی طلبا نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کردی۔*

پروفیسر نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور
کچھ کہے بغیر مسکراتے ہوئے بلیک بورڈ پر اس
لکیر کے نیچے ہی اس سے بڑی ایک اور لکیر کھینچ دی۔
اب اوپر والی لکیر کے سامنے یہ لکیر چھوٹی نظر آرہی تھی۔

*پروفیسر نے چاک ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا:*

*‘‘آپ نے آج اپنی زندگی کا ایک بڑا سبق سیکھا ہے،
وہ یہ ہے دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر،
ان کو بدنام کیے بغیر،
ان سے حسد کیے بغیر،
ان سے الجھے بغیر
ان سے آگے کس طرح نکلا جاسکتا ہے….’*’

*آگے بڑھنےکی خواہش انسان کی فطرت میں شامل ہے۔
اس خواہش کی تکمیل کا ایک طریقہ یہ ہے کہ
دوسرے کو چھوٹا بنانے کی کوشش کی جائے۔
مگر ایسی صورت میں انسان خود بڑا نہیں ہوتا۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں سے الجھے بغیر
خود کو طاقتور اور بڑا بنانے پر توجہ دی جائے۔
دوسروں سے الجھے بغیر آگے بڑھنا،
ترقی کا صحیح طریقہ ہے۔
یہ طریقہ فرد کے لیے بھی بہتر ہے
اور قوموں کے لیے بھی۔
اس طریقے پر اجتماعی طور پر ہمارے پڑوسی ملک
چین نے سب سے زیادہ عمل کیا ہے
اور بہترین نتائج حاصل کیے ہیں۔*

*سبق نمبر 2*

*دوسرے دن کلاس میں داخل ہوتے ہی
پروفیسر انصاری نے
بلیک بورٖڈ پر ایک بڑا سا سفید کاغذ چسپاں کردیا،
اس کے بعد
*انہوں نے اس سفید کاغذ کے درمیان میں مارکر سے
ایک سیاہ نقطہ ڈالا،
پھر اپنا رخ کلاس کی طرف کرتے ہوئے پوچھا:*

_‘‘آپ کو کیا نظر آ رہا ہے….؟ ’’_

_سب نے ہی یک زبان ہو کر کہا
‘‘ایک سیاہ نقطہ’’۔_

*طالب علم تعجب کا اظہار کررہے تھے
سر بھی کمال کرتے ہیں ،
کل لکیر کھینچی تھی
آج نقطہ بنادیا ہے ….*

*پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا
‘‘ حیرت ہے !
اتنا بڑا سفید کاغذ اپنی چمک اور پوری
آب و تاب کے ساتھ تو تمہاری نظروں سے اوجھل ہے،
مگر ایک چھوٹا سا
سیاہ نقطہ تمہیں صاف دکھائی دے رہا ہے؟’’*

_زندگی میں کیے گئے لاتعداد اچھے کام
سفید کاغذ کی طرح ہوتے ہیں
جبکہ کوئی غلطی یا خرابی محض
ایک چھوٹے سے نقطے کی مانند ہوتی ہے۔
لوگوں کی اکثریت دوسروں کی غلطیوں
پر توجہ زیادہ دیتی ہے
لیکن اچھائیوں کو نظر انداز کردیتی ہے۔_

_آپ کی ساری زندگی کی اچھائیوں پر
آپ کی کوئی ایک کوتاہی یا کسی غلطی کا
ایک سیاہ نقطہ ان کو زیادہ صاف دکھائی دیتا ہے۔_

_آپ آدھا گلاس پانی کا بھر کر
اگر 100 لوگوں سے پوچھیں گے ،
تو کم از کم 80 فیصد کہیں گے آدھا گلاس خالی ہے
اور 20 فیصد کہیں گے کہ آدھا گلاس پانی ہے ….
دونوں صورتوں میں بظاہر فرق کچھ نہیں پڑتا
لیکن درحقیقت یہ دو قسم کے انداز فکر کی
نمائندگی کرتے ہیں۔
ایک منفی اور دوسرا مثبت۔
جن لوگوں کا انداز فکر منفی ہوتا ہے وہ
صرف منفی رخ سے چیزوں کو دیکھتے
جبکہ مثبت ذہن کے لوگ ہر چیز میں خیر تلاشکرلیتے ہیں۔_

*ہماری زندگی کے معاملات میں
لوگوں کے ردعمل گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
‘‘لوگ کیا کہیں گے’’
جیسے روائتی جملے ہمیں ہمیشہ
دو راہوں پر گامزن کردیتے ہیں۔
یہ دوراہی فیصلہ لینے میں
سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔
اس صورتحال میں صرف
نفسیاتی الجھن کا شکار ہوکررہ جاتے ہیں۔*

*اس لیے آپ مستقل میں کوئی بھی کام کریں،
کوئی بھی راہ چنیں ،
تو یہ یاد رکھیں
کہ آپ ہر شخص کو مطمئننہیں کرسکتے ۔*

*سبق نمبر 3*

*تیسرے دن پروفیسر نے اپنی کلاس کا آغاز کرتے ہوئے
ایک گلاس اٹھایا،
جس کے اندر کچھ پانی موجود تھا۔
انہوں نے وہ گلاس بلند کردیا،
تاکہ تمام طلبا اسےدیکھ لیں۔*

*‘‘سر کیا آپ
وہی فلسفیانہ سوال تونہیں پوچھنا چاہ رہے
کہ گلاس آدھا خالی ہے یا آدھا بھرا ہوا ہے’’
ایک طالب علم نے جملہ کستے ہوئے کہا۔*

*پروفیسر نے مسکراتے

ہوئے اس کی جانب دیکھا اور کہا
‘‘نہیں!
آج میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ
آپ کے خیال میں اس گلاس کا وزن کیا ہوگا….؟’’*

*‘‘پچاس گرام’’،
‘‘سو گرام’’، ‘‘ایک سو پچیس گرام’’۔
سب اپنے اپنے انداز سے جواب دینے لگے۔*

*‘‘میں خود صحیح وزن بتا نہیں سکتا،
جب تک کہ میں اس کا وزن نہ کرلوں!….’’
پروفیسر نے کہا۔
لیکن میرا سوال یہ ہے کہ
‘‘ کیا ہوگا اگر میں اس گلاس کو چند منٹوں کے لیے
اسی طرح اٹھائے رہوں….؟’’*

*‘‘کچھ نہیں ہوگا!’’
طالب علموں نے جواب دیا۔*

*‘‘ٹھیک ہے،
اب یہ بتاؤ کہ
اگر میں اس گلاس کو ایک گھنٹے تک یوں ہی
اٹھائے رہوں تو پھر کیا ہوگا….؟’’
پروفیسر نے پوچھا۔*

*‘‘آپ کے بازو میں درد شروع ہوجائے گا۔’’
طلباء میں سے ایک نے جواب دیا۔*

*‘‘تم نے بالکل ٹھیک کہا۔’’
پروفیسر نے تائیدی لہجے میں کہا۔‘‘
اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو
دن بھر اسی طرح تھامے رہوں تو پھر کیا ہوگا….؟’’*

*‘‘آپ کا باوزو شل ہوسکتا ہے۔
’’ ایک طالب علم نے کہا۔‘‘
آپ کا پٹھا اکڑ سکتا ہے
’’ ایک اور طالب علم بولا، ‘‘
آپ پر فالج کا حملہ ہوسکتا ہے۔
آپ کو اسپتال لازمی جانا پڑے گا!
’’ ایک طالب علم نے جملہ کسا
اور پوری گلاس قہقہے لگانے لگی۔*

*‘‘بہت اچھا!’’
پروفیسر نے بھی ہنستے ہوئے کہا پھر پوچھا
‘‘لیکن اس دوران کیا گلاس کا وزن تبدیل ہوا….؟’’*

_‘‘نہیں۔’’
طالب علموں نے جواب دیا۔_

_‘‘تو پھر بازو میں درد
اور پٹھا اکڑنے کا سبب کیا تھا….؟’’
پروفیسر نے پوچھا۔
طالب علم چکرائے گئے۔_

*‘‘ گلاس کا بہت دیر تک اُٹھائے رکھنا ،
بہتر ہوگا کہ اب گلاس نیچے رکھ دیں!’’
ایک طالب علم نے کہا۔*

*‘‘بالکل صحیح!….
’’ استاد نے کہا۔*

_‘‘ہماری زندگی کے مسائل بھی کچھ اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ آپ انہیں اپنے ذہن پر چند منٹ سوار رکھیں تو
وہ ٹھیک لگتے ہیں۔
انہیں زیادہ دیر تک سوچتے رہیں تو وہ آپ کے لیے
سر کا درد بن جائیں گے۔
انہیں اور زیادہ دیر تک تھامے رہیں تو
وہ آپ کو فالج زدہ کردیں گے۔
آپ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔_

* دیکھیے….!
اپنی زندگی کے چیلنجز (مسائل) کے بارے میں سوچنا
یقیناً اہمیت رکھتا ہے۔
لیکن….
اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ
ہر دن کے اختتام پر سونے سے پہلے ان مسائل کو
ذہن سے اُتاردیا جائے۔
اس طریقے سے آپ کسی قسم کے ذہنی تناؤ میں
مبتلا نہیں رہیں گے۔
اگلی صبح آپ تروتازہ اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ
بیدار ہوں گے اور اپنی راہ میں آنے والے کسی بھی ایشو، کسی بھی چیلنج کو آسانی سے ہینڈل کرسکیں گے۔
لہٰذا گلاس کو یعنی مسائل پر غیر ضروری سوچ بچار
کو نیچے کرنا رکھنا یاد رکھیں۔’’*

*سبق نمبر4*

*پروفیسر نے کہا
کہ کل ہر ایک طالب علم پلاسٹک کا ایک شفاف
تھیلا اور ٹماٹرساتھ لائے۔*

*جب طلباء تھیلا اور ٹماٹر لے آئے
تو پروفیسر نے کہا کہ :*

*‘‘آپ میں سے ہر طالب علم اس فرد کے نام پر جسے
آپ نے اپنی زندگی میں معاف نہیں کیا،
ایک ایک ٹماٹر چن لی
اور اس پر اس فرد کا نام اور تاریخ لکھ کر
اسے اپنے پلاسٹک کے تھیلے میں ڈالتے جائیں۔’’*

*سب نے ایک ایک کرکے یہی عمل کیا،
پروفیسر نے کلاس پر نظر ڈالی تو دیکھا
بعض طالب علموں کے تھیلے خاصے بھاری ہوگئے۔*

*پھر پروفیسر نے سب طالب علموں سے کہا کہ:*

*‘ یہ آپ کا ہوم ورک ہے،
آپ سب ان تھیلوں کو اپنے ساتھ رکھیں،
اسے ہر جگہ اپنے ساتھ لیے پھریں۔
رات کو سوتے وقت اسے اپنے بیڈ کے سرہانے رکھیں،
جب کام کر رہے ہوں تو اسے اپنی میز کے برابر میں رکھیں۔ کل ہفتہ ، پرسوں اتوار ہے آپ کی چھٹی ہے،
پیر کے روز آپ ان تھیلوں کو لے کر آئیں
اور بتائیں آپ نے کیا سیکھا۔ ’’*

*پیر کے دن سب طالب علم آئے تو
چہرے پر پریشانی کے آثار تھے،
سب نے بتایا کہ
اس تھیلے کو ساتھ ساتھ گھسیٹے پھرنا ایک آزار ہوگیا۔ قدرتی طور پر ٹماٹروں کی حالت خراب ہونے لگی۔
وہ پلپلے اور بدبودار ہوگئے تھے۔*

*پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا
‘‘ اس ایکسرسائز سے کیا سبق سیکھا….؟’’*

*سب طلبہ و طالبات خاموش رہے۔*

*‘‘اس ایکسر سائز سے یہ واضح ہوا کہ
روحانی طور پر
ہم اپنے آپ پر کتنا غیر ضروری وزن لادے پھر رہے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ ہم اپنی تکلیف
اور اپنی منفی سوچ کی کیا قیمت چکا رہے ہیں۔*

*ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ کسی کو معاف کردینا ،
کسی پر احسان کرنااس شخص کے لیے اچھا ہے
لیکن دوسرے کو معاف کرکے ہم خود اپنے لیے
لاتعداد فوائد حاصل کرتے ہیں ۔
جب تک ہم کسی سے ناراض رہتے ہیں ،
اس کے خلاف بدلہ لینے کے لیے سوچتے ہیں
اس وقت تک ہم کسی اور کا نہیں بلکہ
خود اپنا خون جلاتے ہیں۔
اپنے آپ کو اذیت اور مشقت میں مبتلا رکھتے ہیں۔
بدلے اور انتقام کی سوچ،
گلے سڑے ٹماٹروں کی طرح ہمارے باطن میں
بدبو پھیلانے لگتی ہے۔
معاف نہ کرنا ایک بوجھ بن کر
ہمارے اعصاب کو تھکا دیتا ہے۔*

*5*
Sabaq05

*‘‘آج ہم نہیں پڑھیں گے….’’*

*پروفیسر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
سارے طالب علم حیران و پریشان
ایک دوسرے کامنہ تکنے لگے۔*

*‘‘آپ دو دن ٹماٹروں کا تھیلا اٹھائے تھک گئے ہوں گے۔
اس لیے آج آپ کے لیے چائے کافی میریطرف سے….’’*

*اسی دوران لیکچر ہال میں کالج کا پیُون داخل ہوا
اس کے ہاتھ میں کافی کے دو بڑے سے جگ تھے ۔
ساتھ ہی بہت سے کپ تھے،
پورسلین کے کپ، پلاسٹک کے کپ، شیشے کے کپ،
ان میں سے بعض سادہ سے کپ تھے اور
بعض نہایت قیمتی، خوبصورت اور نفیس….*

*پروفیسر نے تمام طالب علموں سے کہا کہ
‘‘سب اپنی مدد آپ کے تحت
وہ گرما گرم چائے کافی آپ خودلے لیں۔’’*

*جب تمام طالب علموں نے اپنے چائے
اور کافی کے کپ ہاتھوں میں لے لیے
تو پروفیسر صاحب گویا ہوئے ۔*

*‘‘ آپ لوگ غور کریں ….
تمام نفیس،
قیمتی اور دیکھنے میں حسین کافی کپ اٹھا لیے گئے ہیں، جبکہ سادہ اور سستے کپوں کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا،
وہ یوں ہی رکھے ہوئے ہیں۔’’*

‘‘اس کا کیا مطلب سر’’۔
ایک طالب علم نے پوچھا

‘‘گو یہ عام سی بات ہے کہ
آپ اپنے لیے سب سے بہترین کا انتخاب کرتے ہیں
لیکن یہی سوچ آپ کے کئی مسائل
اور ذہنی دباؤ کی جڑ بھی ہے۔’’

سارے طالب علم چونک اٹھے،
‘‘ یہ کیا کہہ رہے ہیں سر اچھی چیز کا انتخاب
تو اعلیٰ ذوق کی علامت ہے۔
یہ مسائل کی جڑ کیسے ….؟’’

*پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:‘‘
آپ سب کو حقیقت میں جس چیز کی طلب تھی،
وہ چائے یا کافی تھی….
نہ کہ کپ….
لیکن آپ سب نے دانستہ طور پر بہتر کپوں کے لیے
ہاتھ بڑھایا اور سب ایک دوسرے کے
کپوں کو چور نگاہوں سے دیکھتے رہے۔’’*

میرے بچو ….
نوجوانو…
یاد رکھو….
زندگی کا اصل
حسن باطن سے پھوٹنے والی خوشیوں کی وجہ سے ہے۔ عالی شان بنگلہ، قیمتی گاڑی، دائیں بائیں ملازمین،
دولت کی چمک دمک کی وجہ سے بننے والے دوست
یہ سب قیمتی کپ کی طرح ہیں۔
اگر اس قیمتی کپ میں کافی یا چائے بدمزہ ہو
تو کیا آپ اسے پئیں گے؟۔

اصل اہمیت زندگی ،
صحت اور آپ کے اعلیٰ کردار کی ہے۔
باقی سب کانچ کے بنے ہوئے نازک برتن ہیں،
ذرا سی ٹھیس لگنے سے یہ برتن ٹوٹ جائیں گے
یا ان میں کریک آجائے گا۔

یاد رکھیے!
دنیا کی ظاہری چمک دمک کی خاطر اپنے آپ کو مت گرائیے۔ بلکہ زندگی کے اصلی جوہر کو اُبھاریے۔

تمام تر توجہ صرف کپ پر مرکوز کرنے سے
ہم اس میں موجود کافی
یعنی زندگی سے لطف اندوز ہونے سے محروم رہ جاتے ہیں۔لہٰذا کپوں کو اپنے ذہن کا بوجھ نہ بنائیں….
اس کی بجائے کافی سے لطف اندوز ہوں۔
*سبق نمبر6*
پروفیسر صاحب نے کلاس کا آغاز کرتے ہوئے اپنی جیب
سے ایک پینسل نکالی اور تمام طلبا کو دکھاتےہوئے کہا :

‘‘ آج کا سبق آپ اس پینسل سے سیکھیں گے….
پینسل میں پانچ باتیں ایسی ہیں
جو ہم سب کے لیے جاننی ضروری ہیں!….

‘‘وہ کیا سر….’’
سب نے تجسس سے پوچھا

‘‘پہلی بات :
یہ پینسل عمدہ اور عظیم کام کرنے کے قابل
اس صورت میں ہوسکتی ہے ،
جب وہ خود کو کسی کے ہاتھ میں تھامے
رکھنے کی اجازت دے۔

دوسری بات :
ایک بہترین پینسل بننے کے لیے
وہ بار بار تراشے جانے کے تکلیف دہ عمل سے گزرتی ہے۔

تیسری بات:
وہ ان غلطیوں کو درست کرنے کی اہل رکھتی ہے ،
جو اس سے سرزد ہوسکتی ہیں۔

چوتھی بات :
یہ پینسل کا سب سے اہم حصہ ہمیشہ وہ ہوگا
جو اس کے اندر یعنی اس کے باطن میں ہوتا ہے اور پانچویں بات :
پینسل کو جس سطح پر بھی استعمال کیا جائے،
وہ لازمی اس پر اپنا نشان چھوڑ جاتی ۔
چاہے حالات کیسے ہی ہوں۔’’

‘‘اب اس پینسل کی جگہ آپ اپنے کو لے لیں۔

آپ بھی عمدہ اور عظیم کام کرنے کے لیے
قابل اسی صورت میں ہوسکتے ہیں،
جب آپ خود کو اپنے استاد
یا راہنما کے ہاتھوں میں تھامے رکھنے کی اجازت دیں۔

دوسری بات :
آپ کو بات بار تراشے جانے کے
تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑے گا ۔
یہ مراحل دنیا میں زندگی کے مختلف مسائل کی
صورت میں آپ کے سامنے آئیں گے،
ایک مضبوط فرد بننے کے لیے آپ کو ان مسائل کا
اچھے طریقے سے سامنا کرنا ہوگا۔

تیسری بات :
یہ کہ اپنے آپ کو ان غلطیوں کو درست کرنے کے
قابل بنائیں جو آپ سے سرزد ہوسکتی ہیں۔

چوتھی بات:
ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہمارے اندر ہے،
ہمارا باطن ہے ،
ہمیں اسے کثافتوں اور آلائشوں سے بچانا ہے۔

پانچویں بات:
آپ جس سطح پر سے بھی گزر کر جائیں،
آپ اپنے نشان ضرور چھوڑ جائیں۔
چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔

اس یقین کے ساتھ زندگی بسر کریں
کہ اس دنیا کو آپ کی ضرورت ہے،
کیونکہ
کوئی شے بھی فضول اور بے مقصد نہیں ہوتی۔

*سبق نمبر7*

پروفیسر صاحب نے کلاس میں داخل ہوتے ہوئے
اپنے طالب علموں پر نظر ڈالی اور کہا

“آج میں تمہیں زندگی کا نہایت
اہم سبق سکھانے جارہا ہوں….’’

وہ اپنے ہمراہ کانچ کی ایک بڑی برنی
یعنی جارJAR لائے تھے،
انہوں نے اس جار کوٹیبل پر رکھا
اور اپنے بیگ سے ٹیبل ٹینس کی گیندیں
نکال کر اس برنی میں ڈالنے لگے….
اور تب تک ڈالتے رہے جب تک
اس برنی میں ایک بھی گیند کی جگہ باقی نہ رہی….

پروفیسر صاحب نے طالب علموں سے پوچھا
“کیا برنی پوری بھر گئی ہے….؟”
“جی ہاں….”
طالب علموں نے ایک ساتھ جواب دیا…..

پھر پروفیسر صاحب نے
بیگ سے چھوٹے چھوٹے کنکر نکال کر
اس برنی میں بھرنے شروع کردیے،
وہ دھیرے دھیرے برنی کو ہلاتے بھی جارہے تھے۔
کافی سارے کنکر برنی میں جہاں جگہ خالی تھی سماگئے….

پروفیسر صاحب نے پھر سوال کیا:
“کیا اب برنی بھرگئی ہے….؟”

طالب علموں نے ایک بار پھر
“ہاں”کہا….

اب پروفیسر صاحب نے بیگ سے ایک تھیلی نکالی
اور اس میں سے ریت نکال کر
دھیرے دھیرے اس برنی میں ڈالنی شروع کردی،
وہ ریت بھی اس برنی میں جہاں تک ممکن تھا بیٹھ گئی….

یہ دیکھ کر طلباء اپنی نادانی پر ہنسنے لگے….

پروفیسر صاحب نے ایک بار پھر سوال کیا

“کیا اب یہ برنی پوری بھرگئی ہے ناں….؟”

“جی!….
اب تو پوری بھر گئی ہے سر….”
سب ہی نے ایک آواز میں کہا….

پروفیسر نے بیگ کے اندر سے جوس کے
دو ڈبّے نکال کر جوس اس برنی میں ڈالا،
جوس بھی ریت کے بیچ تھوڑی سی جگہ میں
جذب ہوگیا ….
اب پروفیسر صاحب نے نہایت ہی گھبمیر آواز میں
سمجھانا شروع کیا….

‘‘اس کانچ کی برنی کو تم لوگ اپنی زندگی سمجھو، ٹیبلٹینس کی گیندیں
تمہاری زندگی کے سب سے اہم کام ہیں…..
مثلاً طرزِ معاشرت، حصولِ معاش، تعلیموتربیت، خاندان ،بیوی بچے، نوکری ، صحت وتحفظ وغیرہ…. چھوٹے کنکر تمہاری عام ضروریات اور خواہشات ہیں۔
گاڑی، بنگلہ، نوکرچاکر، موبائل، کمپیوٹر
اور دیگراصرافِ زندگی وغیرہ….
اور ریت کا مطلب ہے
چھوٹی چھوٹی بےکار اور فضول باتیں،جھگڑے،
آوارہ گردی، ہوائی قلعہ بنانا، ٹائم پاس کرنا،
وقت کاضیاعوغیرہ ….

اگر تم نے کانچ کی برنی میں سب سے پہلے
ریت بھری ہوتی تو ٹیبل ٹینس کی گیند
اور کنکرکے لیے جگہ ہی نہیں بچتی یا
صرف کنکر بھردیے ہوتے تو گیند نہیں بھرپاتے ،
ریت ضرور آسکتی تھی….

ٹھیک یہی طریقہ کار زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
اگر تم فضول اور لایعنی چیزوں کے پیچھے پڑے رہو گے
اور اپنی زندگی اسی کے چکرمیں ختم کردو گے تو
تمہارے پاس اہم باتوں کے لیے وقت نہیں رہے گا….

ایک کامیاب
اور پرسکون زندگی گزارنے کے لیے یہ اہم سبق ہے ۔
اب یہ تم خود طے کرلو کہ
تمہیں اپنی کانچ کی برنی کس طرح بھرنی ہے’’….

طالب علم بڑے غور سے
پروفیسر صاحب کی باتیں سن رہے تھے،
اچانک ایک طالبعلم نے پوچھا
“سر!
لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ جوس کے دوڈبّےکیا ہیں؟”….

پروفیسر مسکرائے اور بولے
“میں سوچ ہی رہا تھا کہ
ابھی تک کسی نے یہ سوال کیوں نہیں کیا….
اس کا مطلب یہ ہے کہ
زندگی میں ہم کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں
اور کس قدر ہی کامیابیاں کیوں نہ سمیٹ رہے ہوں
لیکن اپنے گھر والوں،
دوستوں کےساتھ تعلق کی مٹھاس کی
گنجائش ہمیشہ رکھنی چاہیے”….

*سبق نمبر8*

آج لیکچر کا آخری دن تھا ،
کلاس روم کے طلبہ میں چہ مگوئیاں جاری تھیں،
اتنے میں پروفیسر صاحب کلاس روم میں داخل ہوئے، کلاس روم کی بھنبھناہٹ آہستہ آہستہ
گہری خاموشی میں بدلنے لگی۔
دیکھا کہ پروفیسر کے پیچھے
ایک غبارے والا ڈھیر سارے سرخ رنگ کے
کلاس روم میں داخل ہورہا ہے
پروفیسر کے اشارے پر غبارے والے نے ایک ایک کرکے
سارے غبارے طلباء میں تقسیم کردئیے….

‘‘سر آج ویلنٹائن ڈے نہیں ہے….’’
ایک طالب علم نے جملہ کسا۔
‘‘ سر!
کیا آپ کی سالگرہ ہے؟’’
ایک اور طالب علم بولا۔

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:

‘‘آپ میں سے ہر ایک کومارکر کا استعمال کرتے ہوئے
ا ن غباروں پر اپنا نام لکھنا ہے ’’۔
سب نے پرفیسر کی کہنے پر نام لکھ دئے ۔
اس کے بعد تمام غبارےجمع کرکے
دوسرے کمرے میں ڈال دیے گئے۔
آپ پروفیسر نے تمام طالب علموں سے کہا کہ
‘‘اب سب غباروں والے کمرے میں جائیں
اور اپنے اپنے نام والا غبارہ تلاش کریں ،
دھیان رہے کہ کوئی غبارہ نہ بھٹے
اور آپ سب کے پاس پانچ منٹ ہیں۔’’

ہر کوئی بدحواسی کے عالم میں
ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتے ہوئے،
دوسروں کو دھکیلتے ہوئے اپنے نام کا غبارہ تلاش کرنے لگا۔ ایک افراتفری کا سماں تھا۔
سارے غبارے ایک ہی رنگ کے تھے،
پانچ منٹ تک
کوئی بھی اپنے نام والا غبارہ تلاش نہ کرسکا….
یہ دیکھ کر پروفیسر انصاری نے کہا کہ

اب آپ کے پاس پانچ منٹ ہیں
کوئی بھی غبارہ پکڑ لیں اور
اس کے نام والے شخص کودے دیں،
دو تین منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ
تمام افراد کے پاس اپنے اپنے نام والے غبارے تھے۔

پروفیسر انصاری کلاس سے مخاطب ہوتے ہوئےبولے:

‘‘بالکل اسی طرح ہماری زندگی ہے،
ہر کوئی بدحواسی کے عالم میں اپنے
ارد گرد خوشیاں تلاش کر رہا ہے یہ نہ
جانتے ہوئے کہ وہ کہاں ہیں۔

نوجوانوں….
یاد رکھو…
ہماری خوشی دوسروں کی خوشی میں پنہاں ہے،
ان کو ان کی خوشی دے دیں
تو آپ کو آپ کی خوشی مل جائے گی
،
اسے زبانی یاد کریں۔۔۔بچوں کو ٹرینگ کروائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
```WhatsApp Group Link"```

https://chat.whatsapp.com/BxGvGwW27lh5sVpRZe2tjl
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
```TikTok```
https://www.tiktok.com/?_t=8o2gaNBHO5s&_r=1

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
```page```

https://www.facebook.com/share/5zQLpKJYcxPzdkqx/?mibextid=qi2Omg

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
```Whatsapp"```
https://wa.me/qr/5VSAVNSXLEHKK1
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
```~Gmail"~```
[email protected]
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
```~Skype"~```

https://join.skype.com/invite/pfDooOQxH6ld
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
```~WhatsApp Group~```

https://chat.whatsapp.com/BxGvGwW27lh5sVpRZe2tjl
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
```~page"~```
https://www.facebook.com/share/5zQLpKJYcxPzdkqx/?mibextid=qi2Omg

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

Transform your or yours child's Quranic learning experience, right from the comfort of your home, Enroll Now!
Admissions are now again OPEN for Advance Tajweed Course.
Live Classes Articles:
1. Qurani Qaida Waqfan Waslan
2. Nazrah Quran (1st Para)
3. Complete Tajweed Rules (Makharij ul hurof, Sigat ul hurof, etc.)
4. Daily lessons will be heard
5 . Home work
📚 𝗛𝗶𝗴𝗵𝗹𝘆 𝘁𝗿𝗮𝗶𝗻𝗲𝗱 & 𝗲𝘅𝗽𝗲𝗿𝗶𝗲𝗻𝗰𝗲𝗱 𝗧𝗲𝗮𝗰𝗵𝗲𝗿: proficient in Urdu/English/Arabic.Hindi
📚 𝗡𝗼 𝗰𝗼𝗺𝗽𝗿𝗼𝗺𝗶𝘀𝗲 𝗼𝗻 𝗧𝗮𝗷𝘄𝗲𝗲𝗱 𝗮𝗻𝗱 𝗤𝗮𝘄𝗮𝗶𝗱: 100% accurate Arabic dialect and rules.
📚 𝗡𝗼 𝗔𝗴𝗲 𝗹𝗶𝗺𝗶𝘁: Kids and adults both can join.
🕒 Flexible schedule
🎉 Engaging and interactive lessons to make learning fun
📚 2000+ Happy Students
📚 Certificates will be given upon at the end of course
Enroll Now and start reading Quran the right way.
Strong understanding of Quranic Arabic and Islamic terminology
- Excellent communication and interpersonal skills
- Ability to adapt teaching methods to meet individual student needs
- Strong organizational and time management skills
- Ability to create engaging and interactive lesson plans
- Familiarity with technology and digital resources for teaching (e.g., online platforms, educational apps)
- ..




.

...
..
.






cebookPage cebookpost

20/07/2024



15/07/2024

صحیح بخاری میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ منقول ہے.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے. ایک عورت آئی اور اس نے اپنا نفس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سپرد کر دیا کہ اس کی جہاں چاہیں شادی کر دیں. ایک غریب کنوارے صحابی وہاں موجود تھے. انھوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! اس کی شادی آپ مجھ سے کر دیجیے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا : "تمھارے پاس اسے حق مہر دینے کے لیے کچھ ہے؟ " اس نے کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے.

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جاؤ اگر لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے تو لے آنا ہم وہی حق مہر بنا کر اس کا نکاح تجھ سے کر دیں گے. وہ صحابی اپنے گھر گیا مگر غربت کا عالم یہ تھا کہ گھر سے لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہ ملی. اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! میرے پاس ایک چادر ہے. اس میں سے آدھی میں حق مہر میں اسے دے دیتا ہوں اور آدھی خود رکھ لیتا ہوں.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :"وہ آدھی نہ آپ کے کسی کام آئے گی اور نہ اس کے کام آئے گی."
وہ خاموشی سے ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا. تھوڑی دیر بیٹھا رہا مگر اٹھ کر جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے بلایا اور پوچھا:"تمھیں قرآن میں سے کچھ یاد ہے؟" اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں.
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے ان سورتوں کے عوض تمھارا نکاح اس سے کر دیا( یعنی وہ سورتیں تم اسے یاد کروا دینا )"
( صحیح البخاری :5121)

اس حدیث سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دور نبوت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غربت کا کیا عالم تھا. ایک صحابی کے پاس حق مہر دینے کے لیے جو کہ فرض تھا، ایک لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں تھی چاندی اور سونا تو دور رہا.
کتب احادیث میں ایسی غربت کے بےشمار واقعات ملتے ہیں.

▪️ اب آئیے اصل مسئلہ کی طرف

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ میں دس سال گزارے اور ہر سال آپ نے قربانی کی حتی کہ ایک سال سو اونٹ نحر کیے. آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دس سالوں میں کبھی یہ نہیں کہا کہ اس سال ہم قربانیاں نہیں کریں گے بلکہ قربانی کا پیسہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی پر خرچ کریں گے.
اگر قربانی کے جانور ذبح کرنے کی بجائے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی پر پیسہ خرچ کرنا قربانی سے افضل ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ضرور اس کا حکم دیتے مگر آپ نے تو شادی کی استطاعت نہ رکھنے والوں سے فرمایا :

"اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی استطاعت رکھتا ہے وہ شادی کر لے اور جو استطاعت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، اس لیے کہ یہ روزہ اس کے لیے( گناہ سے بچنے کی )ڈھال ثابت ہو گا."
( صحیح البخاری :5066)

جوں جوں قربانی کے ایام قریب آئیں گے، غریبوں کے بہت سے خیرخواہ ( لبرل ) اپنی بلوں سے نکلنا شروع ہو جائیں گے. ان کا مقصد غریبوں کی حمایت نہیں بلکہ شعائر اسلام کی تحقیر ہوتا ہے. ان کے دلوں میں شعائر اسلام کا بغض اور نفرت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے.

قربانی ایک عظیم عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے. شکوک و شبہات سے بچیے اور اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے الله کی راہ میں جانور ذبح کیجیے. اسی میں خیر اور بھلائی ہے.

15/07/2024

.ابتدا کرتے ہیں ایک عظیم ہستی کے نام سے جنہیں تاریخ پالے خان کے نام سے جانتی ہے۔
پالے خان خوستی انگریز استمعار کے خلاف نہ صرف لڑے بلکہ فتح یاب بھی ہوئے۔پالے خان 1888 میں موجودہ ضلع ژوب میں پیدا ہوے ۔انگریز نے جب فورٹ سنڈیمین میں قدم جماے اور اپنے قانون کو نافذ کرنا چاہا تو پالے خان نےاسکےنفاز کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔
کوہ سلیمان چونکہ ہمیشہ سے بہادروں کو پناہ دیتا آیا ہے سو وہی پہاڑ اور وہی پہاڑ کے رہنے والوں کی گوریلا کاروائیاں۔
بالاچ گورگیج جسے کوہ سلیمان میں گوریلا جنگ کا موجد مانا جاتا ہے سوعظیم پالے خان نے وہی طریقہ اپنایا اور انگریز استمعار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔اس دوران پالے خان نے نہ صرف اپنے قبیلے بلکہ کاکڑ اور شیرانی قبائیل کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا۔وہ انگریز جو “تقسیم کرو اور راج کرو”کی پالیسی کو اپنی حکومت کا راز جانتا تھاپالے خان نے اسکو اپنے قبائیلی اتحاد سے شدید نقصان پہنچایا۔
عظیم تر پالے خان خوستی کا انتقال 1951 میں بمقام ژوب ہوا اور یوں ایک آزاد انسان اپنے وطن کو آزاد کروانے کے بعد ایک آزاد انسان کی حیثیت سے ایک آزاد وطن میں فوت ہوا اور اسکی قبر ایک آزاد وطن میں بنی۔
پالے خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے پاکستان ٹیلی ویژن کوئٹہ سنٹرنے 13 اقساط پہ مبنی ایک سیریل بنای جو انتہای کامیاب رہی۔اس میں پالے خان کا کردار جمال شاہ نے نھبایا۔
بولی ووڈ نے بھی اس عظیم ہیرو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے ایک فلم بنای۔
یہ فلم 1986 میں ریلیز ہوی اور اس میں پالے خان کا کردار جیکی شیروف نے نھبایا۔
پالے خان خوستی کی جہد انگریزی قانون کے بجاے اپنے رواج کے نفاز کے لیے تھی اور وہ اس میں کامیاب ٹہرے۔
پشتو فوک سے یہ ٹپہ ملاحظہ ہو!
رالئی پالے خان اورسرہ پشتانہ ورونہ دی۔
آگیا پالے خان اپنے جری پشتون بھائیوں کی ساتھ
گردہ امن غواری پہ زڑگی ارمانونہ دی
سارے امن چاہتے ہیں یہی سب کے دل کا ارمان ہے
اور خاتون کی جانب سے ایک بہادر کے لیے اظہار عقیدت و محبت دیکھئیے
کہ پالے خوستی راضی
کہ جب پالے خوستی آے گا
زا بہ تار وارکم دا پیکی
تو میں اسے اپنی لٹ بطور نذر پیش کروں گی
ہماری زرخیز مٹی میں کتنے ہی پالے خان دفن ہیں۔
آئیے ہم ان سے آشنا ہوں۔ترکوں کو ارطغرل اور ہمیں ہمارا پالے مبارک۔
پالے زندہ آباد
پالے کی گل زمیں زندہ آباد
خان پالے خان خوستی کے مورچے،گھر اور پناہ گاہ آج بھی مکمل محفوظ ہے۔یہ وہ مقامیت ہے جن سے ہمارے کرم فرما ہمیشہ ناراض و بیزار چلے آے ہیں مگر مقامی لوگ ہمیشہ اپنی ایسی یادگاروں کی حفاظت کرتے چلے آے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

ضرورت صرف مقامیت کے فروغ کی ہے۔
ٹپہ ملاحظہ ہو

دا سڑک نالی پہ سرے
دلتا خیرات کڑے پالے

ترجمہ:
پالے خان کے جنگی وار کے بعد کسی نے راستے کو خون سے سرخ دیکھا تو کہا
یہ جو راستہ لہولہان ہے
یہ پالے کی خیرات(اسکی جہد)کی یادگار ہے
پشتو میں ایک نعرہ اور مثال
“ہر سڑئیے!
پالے نہ وی۔”
یعنی ہر کوی پالے نہیں ہوتا،یا پالے بننے کےلیے خاص بننا پڑتا ہے۔

اب نہ تو ہمارے پی ٹی وی کے وسائل کا کوی مقابلہ بنتا ہے ترکی والوں کی پروڈکشن سے اور نہ اتنا وسیع میڈیم ملا کھبی ہمارے اس ادارے کو۔مگر آپ اس پانچ منٹ کے کلپ کو دیکھ کر دل پر ہاتھ رکھ کے بتائیے گا کہ کسی بھی حوالے سے کیا یہ پروڈکشن کم ہے “ڈرامہ”ارطغرل سے؟
وجوہات وہی کہ یہ ہماری اپنی کہانی ہے،نام ہمارے اپنے ہیں،جغرافیہ ہمارا اپنا ہے اور ہیرو یعنی پالے ہمارا اپنا ہے۔
درسرا کلپ پشتون دوستوں کے لیے ہے۔یہ گانا شاعر درویش کاکڑ کا لکھا ہوا ہے اور تلاش بسیار کے باوجود بھی اس کے گائیک کا پتہ نہیں چل سکا ہمیں۔اس میں خان پالے خان خوستی کی مدح بیان کی گئ ہے۔
ہمارے ہیرو زندہ آباد

میاں علی نواز مدے خیل

15/07/2024

.👈 کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں 👉

(کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں)
آپ نے یہ منقولہ تو بچپن سے سنا ہوگا مگر کے پیچھے کی داستان کا نہیں پتا ہوگا۔
کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے، پٹیالہ کے سب سے بااثر بڑے جاگیردار اور گاؤں کے پنچایتی سرپنچ بھی تھے،
ایک دن معملات سے تنگ آکر بھانجے کے پاس پہنچے اور کہا کہ شہر کے سیشن جج کی کرسی خالی ہے مجھے جج لگوا دے،
(ان دنوں کسی بھی سیشن جج کے آڈر انگریز وائسراۓ کرتے تھے)
بھانجے سے چھٹی لکھوا کر کھڑک سنگھ وائسرائے کے پاس جاپہنچے، وائسرائے نے خط پڑھا
وائسرائے۔ نام؟
کھڑک سنگھ'
وائسرائے۔ تعلیم؟
کھڑک سنگھ۔ "تسی مینو جج لانا ہے یا سکول ماسٹر؟"
وائسرائے ہنستے ہوئے 'سردار جی میرا مطلب قانون کی کوئی تعلیم بھی حاصل کی ہے یا نہیں اچھے برے کی پہچان کیسے کرو گے'؟
کھڑک سنگھ نے موچھوں کو تاؤ دیا اور بولے " بس اتنی سی بات بھلا اتنے سے کام کے لیے گدھوں کی طرح کتابوں کا بوجھ کیوں اٹھاؤ میں سالوں سے پنچائت کے فیصلے کرتا آرہا ہوں ایک نظر میں بھلے چنگے کی تمیز کرلیتا ہوں"
وائسرائے نے سوچا کہ بھلا کون مہاراجہ سے الجھے جن نے سفارش کی ہے وہ جانے اور اس کا ماموں، عرضی پر دستخط کردیے اور کھڑک سنگھ جسٹس کا فرمان جاری کردیا۔
اب کھڑک سنگھ پٹیالہ لوٹے اور اگلے دن بطور جسٹس کمرہ عدالت میں پہنچے اتفاق سے پہلا کیس قتل کا تھا،،
کٹہرے میں ایک طرف چار ملزم اور دوسری جانب ایک روتی خاتون تھی ۔
جسٹس صاحب نے کرسی پر براجمان ہونے سے پہلے فریقین کو غور سے دیکھ لیا اور معاملہ سمجھ گئے ۔
۔
ایک پولیس افسر کچھ کاغذ لے کر آیا اور بولا 'مائی لاڈ یہ عورت کرانتی کور ہے اس کا الزام ہے کہ ان چار لوگوں نے اس کے شوہر کو قتل کیا ہے'
جسٹس کھڑک سنگھ نے عورت سے تفصیل پوچھی۔
عورت بولی- "سرکار دائیں جانب والے کے ہاتھ میں برچھا تھا اور برابر والے کے ہاتھ میں رانتی اور باقی دونوں کے ہاتھوں میں سوٹے تھے، یہ چاروں کماد کے اولے سے نکلے اور کھسم کو مار مار کر جان سے مار دیا"
جسٹس کھڑک سنگھ نے چاروں کو غصہ سے دیکھا اور پوچھا 'کیوں بدمعاشو تم نے بندہ مار دیا'؟
دائیں طرف کھڑے بندے نے کہا 'نہ جی سرکار میرے ہاتھ میں تو کئی تھی دوسرے نے کہا میرے ہاتھ میں بھی درانتی نہیں تھی ہم تو صرف بات کرنے گئے تھے اور ہمارا مقصد صرف سمجھایا تھا"
کھڑک سنگھ نے غصہ سے کہا جو بھی ہو بندہ تو مرگیا نا؟
پھر قلم پکڑ کر کچھ لکھنے لگے تو اچانک ایک کالا کوٹ پہنے شخص کھڑا ہوا اور بولا مائی لاڈ رکھئے "یہ کیس بڑا پیچیدہ ہے یہ ایک زمین کا پھڈا تھا اور جس زمین پر ہوا وہ زمین بھی ملزمان کی ہے بھلا مقتول وہاں کیوں گیا؟
جسٹس کھڑک سنگھ نے پولیس افسر سے پوچھا یہ کالے کوٹ والا کون ہے ؟
'جناب یہ ان چاروں کا وکیل ہے' پولیس والے نے جواب دیا۔
تو انہیں کا بندہ ہوا نا جو ان کی طرف سے بات کررہا ہے، پھر کھڑک سنگھ نے وکیل صفائی کو بھی ان چاروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا کہا پھر ایک سطری فیصلہ لکھ کر دستخط کردیے ۔
فیصلے میں لکھا تھا ( ان چاروں قاتلوں اور ان کے وکیل کو کل صبح صادق پھانسی پر لٹکا دیا جاۓ)
پٹیالہ میں ہلچل مچ گئی ہر لوگ کھڑک سنگھ کے نام سے تھر تھر کامپنے لگے کہ کھڑک سنگھ مجرموں کے ساتھ ان کے وکیلوں کو بھی پھانسی دیتا ہے، اچانک جرائم کی شرح صفر ہوگئی، کوئی وکیل کسی مجرم کا کیس نا پکڑتا، جب تک کھڑک سنگھ پٹیالہ جج رہیں ریاست میں خوب امن رہا آس پڑوس کی ریاست سے لوگ اپنے کیس کھڑک سنگھ کی عدالت میں لاتے اور فوری انصاف پاتے۔

اس واقعہ میں دور حاضر کے پڑھے لکھے ججوں کے لیے ایک گہرا سبق ہے۔۔۔۔

Address

Malakwal Mandi Bhudin Punjab Pakistan
Malakwal
50530

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Quran-ul-Kreem posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share