Khamush Care Plus

Khamush Care Plus Khamush Care Plus💚➕ | Serving health with care and sincerity, for the sake of humanity.

خاموش کیئر پلس💚➕ | انسانیت کی خدمت، صحت اور خلوص کے ساتھ۔

Upper UTI VS Lower UTI
12/04/2026

Upper UTI VS Lower UTI

(کولیسٹرول کا ٹیسٹ اور اس سے جڑی کچھ غلط فہمیاں) پچھلے دنوں ایک خاتون جوشوگر اور بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں ۔ ان کو ( serum...
12/04/2026

(کولیسٹرول کا ٹیسٹ اور اس سے جڑی کچھ غلط فہمیاں)

پچھلے دنوں ایک خاتون جوشوگر اور بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں ۔ ان کو
( serum lipid profile)
سادہ لفظوں میں کولیسٹرول کا ٹیسٹ تجویز کیا . ہفتے بعد فالواپ کے لیے تشریف لائیں تو ٹیسٹ ابھی تک نہ ہوا تھا ۔ میرے استفسار پرانہوں نے کہا بیٹا لیبارٹری والے کہتے ہیں یہ ٹیسٹ ہر صورت نہار منہ ہوگاآپ ساری رات بھوکی رہ کر صبح آٹھ بجے لیب کھلے گی پھر آکر سیمپل دینا اور شوگر کی وجہ سے اتنی دیر بھوکا رہنا میرے لیے نا ممکن تھا۔ کوشش کے باوجود ٹیسٹ نہیں ہو سکا ۔اب اس میں ایک دو باتیں سمجھنے کی ہیں۔ پہلے جو بھی پریکٹس ہوگی لیکن اب جدیدریسرچ اور گائیڈ لائینز کے مطابق یہ ٹیسٹ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے دونوں میں رپورٹ ایک جیسی آتی ہے۔ صرف ٹرائی گلیسرائڈر 15سے20 یونٹ ذیادہ آتے ہیں جو نہ ہونے کے برابر فرق ہے۔ اس لیے الخدمت اور چغتائی جیسی لیبارٹریز کوبھی اپنی گائیڈلائینز اپڈیٹ کر لینی چاہیٔں۔ یہ ٹیسٹ کروانے والے زیادہ تر بلڈ پریشر ، شوگر اور دل کے مریض ہوتے ہیں انہیں ساری رات بھوکا رکھنااور صبح لیب کھلنے تک کا انتظار کروانا ظلم ہے۔ جبکہ اس کا کوئی خاص فائدہ بھی نہیں۔ دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ مریض کہتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب پورے جسم میں درد اور پٹھوں میں کھچاؤ رہتا ہے، کولسٹرول کا ٹیسٹ کروایا ہے اور وہ بڑھا ہوا ہے، یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ بڑھا ہوا کولسٹرول کوئی علامتیں نہیں دیتا، نہ جسم میں درد کراتا ہے نہ ہی کچھ اور، اگر لمبے عرصے تک بڑھا رہے تو شریانوں کی دیواروں پر جمےگا اور دل کے امراض کا باعث بنے گا، ہاں ایک علامت ہے جو سامنے ظاہر ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کچھ مریضوں میں آنکھوں پر پلکوں کے اوپر پیلےرنگ کے نرم چربی کے دھبے(دانے) بن جاتے ہیں جنہیں(xenthelasma) کہتے ہیں یہ بھی خون میں ہائی کولسٹرول کی علامت ہے۔
تیسری اور آخری بات یہ ہے کہ Lipid profile ٹیسٹ میں چار چیزیں ہوتی ہیں
(1) کولسٹرول لیول،
(2ایل ڈی ایل(LDL) لیول یعنی برا کولیسٹرول،
(3)ایچ ڈی ایل(HDL) لیول یعنی اچھا کولیسٹرول،
(4)ٹرائی گلیسرائڈز لیول۔
زیادہ تر مریض جو رپورٹ لے کر آتے ہیں اس میں صرف کولیسٹرول لیول ہوا ہوتا ہے جو کہ بالکل نامکمل ٹیسٹ ہے اور پیسے کا ضیاع ہے۔اگر کولیسٹرول نارمل ہو تو ایل ڈی ایل یعنی برا کولسٹرول پھر بھی بڑھا ہو سکتا ہے جو کہ بہت جلد شریانوں کی دیواروں پر جم جاتا ہے اور دل کے اٹیک کا باعث بنتا ہے۔ اور کئی بار کولسٹرول کچھ بڑھا ہوتا ہے لیکن ایل ڈی ایل لیول نارمل ہوتا ہے تو اس میں دوائی کی ضرورت بھی نہیں ہوتی مریض کو صرف پرہیز پر ڈالا جاتا ہے۔

اس لیے جب بھی ٹیسٹ کروائیں تو
(complete lipid profile )
کروائیں جس میں مزکورہ چاروں پوانٹس کا رزلٹ موجود ہو۔اور اگر رپورٹ اچھی نہ ہو تو فوراً معالج سے مشورہ کریں، واک کریں، سگریٹ نوشی بند کر دیں، ہائی کولیسٹرول چیزیں کھانے سے پرہیز کریں اور کسی اچھے معالج سے مشورہ کرنے کے بعد دوائی بھی ضرور لیں تاکہ مستقبل میں دل کے مسائل سے بچا جا سکے۔
والسلام


This World Health Day, let’s choose every breath wisely. 🌍💚Healthy lungs mean a healthier life,  say no to smoking, redu...
07/04/2026

This World Health Day, let’s choose every breath wisely. 🌍💚
Healthy lungs mean a healthier life, say no to smoking, reduce pollution exposure, and embrace a lifestyle that lets you breathe better every day.

Because every breath counts.
Breathe well, live well.

اعصابی کمزوری کی وجوہات ، علامتیں اور حل ؟Nervous weakness, it's causes and symptoms?👈 اعصابی کمزوری، جسے نیوروپیتھی بھی...
10/02/2026

اعصابی کمزوری کی وجوہات ، علامتیں اور حل ؟
Nervous weakness, it's causes and symptoms?
👈 اعصابی کمزوری، جسے نیوروپیتھی بھی کہا جاتا ہے، اعصابی کمزوری کا سادہ سا مطلب ہے دماغ اور اعصاب کا کمزور ہونا، جس کی وجہ سے جسم اور اس کے اعضاء پر ان کا کنٹرول کمزور پڑ جاتا ہے اور مریض کو طرح طرح کی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔نیورو پیتھی یا اعصابی کمزوری ایک ایسی حالت ہے جو اعصاب کے نقصان یا غیر فعال ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ پیریفرل نیورو پیتھی ان اعصاب کو متاثر کرتی ہے جو دماغ اور ریڑھ کی ہڈی تک پیغامات لے کر جاتے ہیں۔اس کے نتیجے میں پٹھوں کی کمزوری ، بے حسی، جھنجھناہٹ,چلتے ہوئے چکر آنا، ہاتھوں کا کانپنا اور ہاتھ پیروں می جلن کا احساس ہونا یا بےحسی جیسی کیفیت کا سبب بن سکتی ہیں۔ اور اعصابی کمزوری جیسی کیفیت کا مسلئہ عارضی بھی ہو سکتا ہے اور دائمی مسئلہ بھی ہوسکتا ہے۔
۔

👈 اعصابی کمزوری کی وجوہات / رسک فیکٹر
اعصابی کمزوری جیسی کیفیت کی وجہ ہلکے مسائل یا سائیکو لو جیکل بھی ہو سکتا ہے، اور آرگینک یا سنجیدہ مسائل بھی۔ نوجوانوں میں 90 پرسنٹ سے زیادہ اعصابی کمزوری جیسی کیفیت کی وجہ سائیکو لوجیکل یا نفسیاتی ہوتی ہے۔
1: اعصابی کمزوری جیسی کیفیت کی عام وجوہات جیسے ذہنی دباؤ ، سٹریس ، حد سے زیادہ جسمانی محنت کرنا اور آرام کم کرنا، نیند کی کمی کا ہونا ، وٹامن کی کمی جیسے وٹامن بی 12 ،بی 6 اور فولیٹ کی کمی وغیرہ شامل ہیں ۔

2:ذیابیطس: ذیابیطس کے شکار افراد کو وقت کے ساتھ اعصابی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو نیوروپیتھی کا باعث بنتا ہے۔
3:ریڑھ کی ہڈی کے مسائل اور پیریفرل شریان کی بیماریاں
4:ہائپو تھرائیڈزم بھی اعصابی کمزوری جیسی کیفیت کا سبب بن سکتی ہے۔
5:دیگر وجوہات میں دیگر اعصابی بیماریاں, انفیکشز جیسے شنگلز، چکن پاکس وائرس، بوڑھوں میں پارکنسن ، الزائیمر کا مسلئہ ،ٹشوز، پٹھوں، یا جوڑوں کی چوٹیں، شراب نوشی، ایڈز اور کچھ میڈیسن بھی اعصابی کمزوری کا سبب بن سکتی ہیں۔

👈 اعصابی کمزوری کی علامات
1:جسم کے کسی حصے کا سن ہونا،چنگاری لگنا جیسا لگنا
2: پٹھوں کی کمزوری کا ہونا اور ہاتھ پاوں میں جلن کا ہونا
3: جسم کانپنا ، اعضا کو مکمل طور پر ہلا نہ سکنا
4:چلنے پھرنے میں مشکلات کا ہونا یا چکر آنا
5:سوچنے یا توجہ دینے میں مشکلات کا ہونا
6: نوجوانوں میں اعصابی کمزوری جیسی کیفیت کے ساتھ انزائٹی ڈیپریشن کی علامتیں بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ نوجوانوں میں زیادہ تر اعصابی کمزوری کی وجہ سائیکو لو جیکل ہوتی ہے ، جسکی علامات میں نیند کا مسلئہ ہونا، ناامیدی ، جسمانی سستی اور کمزوری ، کسی کام میں دل نہ لگنا ، جنسی خواہش کی کمی یا نامردی کا ہونا، یاداشت کی کمی کا ہونا اور ڈر ، خوف، گھبراہٹ ، دل کی دھڑکن کا زیادہ ہونا جیسی علامات ہو سکتی ہیں۔

👈 اعصابی کمزوری کی تشخیص و علاج
اعصابی کمزوری کی تشخیص و علاج مریض کے مسلئے کی نوعیت پر منحصر ہے ، نوجوانوں میں 90 پرسنٹ سے زیادہ اعصابی کمزوری جیسی کیفیت کی وجہ سائیکو لوجیکل یا نفسیاتی ہوتی ہے ، جس کی بڑی وجہ سٹریس ، ذہنی دباؤ اور بعض اوقات غذائی اجزاء کی کمی ہوتی ہے۔

بوڑھوں میں اعصابی کمزوری کی وجہ زیادہ تر آرگینک وجہ ہو سکتی ہے ، جیسے الزائمر کی بیماری ۔۔۔۔۔

اعصابی کمزوری کی تشخیص کےلئے کچھ لیب ٹیسٹ بھی کیئے جا سکتے ہیں ، جیسے کہ
1) Vitamin B12 And D3, folate test
2)TSH, Fasting Glucose,
3)Electromyography،Nerve conduction study...

اعصابی کمزوری کا علاج وجہ پر منحصر ہوتا ہے، لہذا کسی بھی مسلئے کی تشخیص و علاج کیلئےڈاکٹر سےرجوع کریں۔

اعصابی کمزوری سے بچاؤ کا طریقہ
اچھے طرز زندگی سے اعصاب کو مظبوط کیا جا سکتا ہے ، اور اعصابی کمزوری جیسی کیفیت سے بچا جا سکتا ہے, جیسے کہ روزانہ ورزش کرنا ، پُرسکون نیند لینا ، تنائو سٹریس سے بچنا اور غذائیت سے بھرپور غذا کا استعمال کرنا ، کیونکہ اعصاب کو برقی محرکات بھیجنے کے لیے معدنیات، پروٹین اور وٹامنز کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ غذائی اجزاء جن کا استعمال کیا جانا چاہیے:
1:ڈارک چاکلیٹ ٹرپٹوفن سے بھرپور ہوتا ہے، ایک امینو ایسڈ جو نیورو ٹرانسمیٹر کے طور پر بھی کام کرتا ہے- ایک ایسا مادہ جو ایک اعصاب سے دوسرے اعصاب میں سگنل منتقل کرتا ہے۔
2:کیلشیم اور پوٹاشیم۔ کیلے،نارنگی،انار اور کٹھائی پوٹاشیم کے اچھے ذرائع ہیں، جبکہ دودھ، پتوں والی سبزیاں اور انڈے کیلشیم کے اچھے ذرائع ہیں۔
3:وٹامن بی کمپلیکس اور فولیٹ: اعصابی صحت کے لیے اہم ہیں، جن میں وٹامن بی بارا انتہائی اہمیت کا حامل ہے ، گائے کا گوشت، مرغی، انڈے اور سمندری غذا وٹامن بی کمپلیکس کے اچھے زرائع ہیں۔

پتے کے بغیر زندگی: حقیقت اور ضروری احتیاطکیا پتے کے بغیر نارمل زندگی ممکن ہے؟جی ہاں! پتہ (Gallbladder) جسم کا ایک اہم حص...
09/02/2026

پتے کے بغیر زندگی: حقیقت اور ضروری احتیاط
کیا پتے کے بغیر نارمل زندگی ممکن ہے؟
جی ہاں! پتہ (Gallbladder) جسم کا ایک اہم حصہ تو ہے لیکن یہ "ناگزیر" نہیں ہے۔ اس کا اصل کام جگر سے بننے والے صفرا (Bile) کو ذخیرہ کرنا ہے تاکہ جب آپ چکنائی والی غذا کھائیں تو وہ اسے ہضم کرنے میں مدد دے سکے۔ پتے کے نکل جانے کے بعد، جگر بدستور صفرا بناتا رہتا ہے، مگر اب وہ ذخیرہ ہونے کے بجائے براہِ راست چھوٹی آنت میں گرتا ہے۔
آپریشن کے بعد ہاضمے میں تبدیلی:
کچھ لوگوں کو آپریشن کے بعد شروع میں بدہضمی، گیس یا پیٹ میں مروڑ محسوس ہو سکتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ جسم اس تبدیلی کا عادی ہو جاتا ہے۔
خوراک کے لیے اہم ہدایات:
1. چکنائی میں احتیاط: آپریشن کے ابتدائی چند ہفتوں میں بہت زیادہ گھی، مکھن اور تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کریں کیونکہ صفرا کی عدم موجودگی میں چکنائی ہضم کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
2. تھوڑی تھوڑی خوراک: ایک دم پیٹ بھر کر کھانے کے بجائے دن میں 5 سے 6 مرتبہ تھوڑا تھوڑا کر کے کھانا بہتر ہے۔
3. فائبر کا استعمال: اپنی غذا میں فائبر (جیسے پھل، سبزیاں اور جو کا دلیہ) آہستہ آہستہ بڑھائیں تاکہ قبض یا اسہال (Diarrhea) سے بچا جا سکے۔
4. پانی کا زیادہ استعمال: ہاضمے کو بہتر رکھنے کے لیے پانی کا استعمال جاری رکھیں۔
خلاصہ: پتے کے بغیر آپ ایک بھرپور اور صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ اکثر مریض چند ماہ میں اپنی پرانی اور نارمل غذا پر واپس آ جاتے ہیں۔
ہیش ٹیگز (Hashtags):
#ہاضمہ

سٹریس اور انگزائیٹی صرف دماغ کو نہیں بلکہ پیٹ کو بھی براہِ راست متاثر کرتی ہیں ۔ اسی لئے اکثر لوگ قبض ، دست اور پیٹ درد ...
09/02/2026

سٹریس اور انگزائیٹی صرف دماغ کو نہیں بلکہ پیٹ کو بھی براہِ راست متاثر کرتی ہیں ۔ اسی لئے اکثر لوگ قبض ، دست اور پیٹ درد کا شکار رہتے ہیں حالانکہ سارے ٹیسٹ بالکل نارمل ہوتے ہیں۔

پیٹ کو ٹھیک کرنے کا بہترین طریقہ یہ نہیں کہ دوائیں بدلی جائیں ، بلکہ ساتھ میں ذہنی سکون پر بھی فوکس کیا جائے ۔ جب دماغ پرسکون ہوتا ہے تو پیٹ خود ہی ٹھیک ہونے لگتا ہے ۔

صحت سے متعلق معلومات کے لیئے ہمیں فالو کریں

معلوماتی نوٹ برائے والدینبچوں کا جلدی ٹھیک ہو جانا والدین کے لیے باعثِ اطمینان ہوتا ہے، اور یہ فطری بات ہے۔لیکن ہر بیمار...
07/02/2026

معلوماتی نوٹ برائے والدین

بچوں کا جلدی ٹھیک ہو جانا والدین کے لیے باعثِ اطمینان ہوتا ہے، اور یہ فطری بات ہے۔
لیکن ہر بیماری میں فوراً اور جلدی ٹھیک کرنے کی کوشش میں زیادہ دوائیں دینا واقعی فائدہ مند ہے یا نہیں، اس پر سوچنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ہر بخار، نزلہ، کھانسی یا درد میں بار بار اینٹی بایوٹک، سٹیرائڈز یا غیر ضروری ادویات:
• بچے کے قدرتی مدافعتی نظام کو کمزور کر سکتی ہیں
• آئندہ بیماریوں میں دوا کا اثر کم ہو سکتا ہے
• معدہ، جگر اور گردوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں

یاد رکھیں:
• ہر بیماری دوا سے نہیں، بعض اوقات قدرتی شفا اور مناسب دیکھ بھال سے ٹھیک ہوتی ہے
• درست تشخیص کے بغیر دوا دینا فائدے سے زیادہ نقصان کر سکتا ہے
• ڈاکٹر کا مشورہ اور صبر، دونوں بچے کی صحت کے لیے ضروری ہیں

سمجھداری یہی ہے کہ بچے کو جلدی نہیں، بلکہ صحیح طریقے سے صحت مند کیا جائے

💧 Fluid of Choice — High-Yield Medical NotesIV fluid selection depends on volume status, sodium level, acid–base balance...
06/02/2026

💧 Fluid of Choice — High-Yield Medical Notes

IV fluid selection depends on volume status, sodium level, acid–base balance, and underlying pathology.
There is no universal “best fluid” — therapy must be individualized.

🟢 Diarrhea / Severe Dehydration
Preferred fluid

Ringer Lactate (RL)

Rationale

• Replaces extracellular volume
• Provides balanced electrolytes
• Lactate is metabolized to bicarbonate → helps metabolic acidosis from dehydration

Notes

• Mild dehydration → ORS
• Moderate–severe → IV RL

🟢 Persistent Vomiting / Metabolic Alkalosis
Fluid of choice

0.9% Normal Saline

Why

Vomiting causes chloride depletion → maintains alkalosis.
Normal saline restores:

→ Volume
→ Chloride
→ Renal bicarbonate excretion

Often combined with potassium replacement if hypokalemic.

🔴 Burns / Hypovolemic Shock
Fluid of choice

Ringer Lactate

Principle

Parkland formula:
4 mL × body weight (kg) × %TBSA burn
→ Give half in first 8 hours, remainder over 16 hours

Why RL

• Closest to plasma composition
• Less hyperchloremic acidosis than NS

🔵 Diabetic Ketoacidosis (DKA)
Initial fluid

0.9% Normal Saline

Then

Switch to D5 + NS once glucose

سولٹیری ریکٹل السر سنڈروم (SRUS): ایک جامع جائزہسولٹیری ریکٹل السر سنڈروم (Solitary Re**al Ulcer Syndrome) ایک ایسی دائم...
05/02/2026

سولٹیری ریکٹل السر سنڈروم (SRUS): ایک جامع جائزہ
سولٹیری ریکٹل السر سنڈروم (Solitary Re**al Ulcer Syndrome) ایک ایسی دائمی (chronic) اور غیر کینسر زدہ بیماری ہے جو بڑی آنت کے آخری حصے یعنی ریکٹم (Re**um) کو متاثر کرتی ہے۔ نام کے برعکس، اس میں ایک سے زیادہ زخم بھی ہو سکتے ہیں یا بعض اوقات صرف سوزش اور سرخی (Redness) ہی نظر آتی ہے۔
علامات (Symptoms)
اس بیماری کی علامات دیگر امراض (جیسے IBD یا کینسر) سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں:
• خون آنا: پاخانہ کے دوران یا بعد میں سرخ خون کا اخراج۔
• بلغمی مادہ (Mucus): پاخانہ کے ساتھ لیس دار مادے کا آنا۔
• شدید زور لگانا (Straining): پاخانہ کرتے وقت بہت زیادہ زور لگانے کی ضرورت محسوس ہونا۔
• نامکمل اخراج کا احساس: یہ محسوس ہونا کہ آنتیں پوری طرح صاف نہیں ہوئیں۔
• درد: پیٹ کے نچلے حصے یا مقعد میں بوجھ اور درد محسوس ہونا۔
بنیادی وجوہات (Causes)
طبی تحقیق کے مطابق اس کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
1. دائمی قبض: پاخانہ کرنے کے لیے مسلسل زور لگانے سے ریکٹم کی دیواروں پر دباؤ بڑھتا ہے۔
2. اندرونی رکاوٹ (Intussusception): ریکٹم کی دیواروں کا پاخانہ کرتے وقت اندرونی طور پر ایک دوسرے میں دھنس جانا۔
3. پٹھوں کا تال میل نہ ہونا (Dyssynergic Defecation): پاخانہ کرتے وقت مقعد کے پٹھوں کا ریلیکس ہونے کے بجائے سکڑ جانا۔
تشخیص (Diagnosis)
اس کی تشخیص کے لیے درج ذیل ٹیسٹ ضروری ہیں:
• سگمائیڈوسکوپی یا کولونوسکوپی (Endoscopy): ریکٹم کے اندرونی حصے کا معائنہ کرنے اور زخم کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے۔
• بایوپسی (Biopsy): زخم کے ٹشو کا نمونہ لینا تاکہ اسے کینسر یا دیگر سوزشی امراض (مثلًا Crohn's disease) سے الگ شناخت کیا جا سکے۔
• ڈیفیکوگرافی (Defecography): یہ دیکھنے کے لیے کہ پاخانہ کرتے وقت پٹھوں اور ریکٹم کی حرکت کیسی ہے۔
علاج کے طریقے (Treatment)
علاج کا انحصار علامات کی شدت پر ہوتا ہے:
1. غذائی تبدیلیاں اور طرزِ زندگی:
• فائبر سے بھرپور غذا (پھل، سبزیاں، چھلکا) کا استعمال۔
• زیادہ سے زیادہ پانی پینا تاکہ قبض نہ ہو۔
• پاخانہ کے دوران بلاوجہ زور لگانے سے پرہیز۔
2. بائیو فیڈ بیک تھراپی (Biofeedback):
• یہ اس بیماری کا ایک مؤثر ترین علاج ہے۔ اس میں مریض کو سکھایا جاتا ہے کہ پاخانہ کرتے وقت پٹھوں کو کس طرح آرام دہ (relax) رکھنا ہے۔
3. ادویات:
• پاخانہ نرم کرنے والی ادویات (Stool Softeners)۔
• مقامی طور پر استعمال ہونے والی سوزش کش ادویات (Suppositories)۔
4. سرجری (Surgery):
• اگر ریکٹم کا کچھ حصہ باہر گر رہا ہو (Re**al Prolapse) یا دوائیوں سے فائدہ نہ ہو رہا ہو، تو سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اہم نوٹ: اس بیماری کا علاج صبر طلب ہے اور مریض کو طرزِ زندگی میں تبدیلیوں پر آمادہ کرنا سب سے اہم مرحلہ ہے۔

گردے کی پتھری سے بچاو. Kidney stones prevention اجکل گردوں کی پتھری بہت عام ہے،اور گردوں کی پتھری ایک نہایت تکلیف دہ بیم...
02/02/2026

گردے کی پتھری سے بچاو. Kidney stones prevention
اجکل گردوں کی پتھری بہت عام ہے،اور گردوں کی پتھری ایک نہایت تکلیف دہ بیماری ہوتی ہے، پاکستان میں تقریباً %15 آبادی اس کا شکار ہوتی ہے, پاکستان میں لاکھوں افراد گردوں کی پتھری کے شکار ہیں۔ عموماً ایک بار جس مریض کو پتھری ہوئی ہو، اسے دوبارہ سے پتھری ہونے کا امکان عموماً 80 فی صد رہتا ہے۔عام طور پر گردے کی پتھری کا علاج غذا میں تبدیلی لا کر یا دوائیوں کی مدد سے کیا جاتا ہے، اور گردوں کی پتھری کی تشخیص و علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں، عموماً 10mm سے کم سائز والی گردے کی پتھری کو میڈیسن اور غذائی پرہیز سے نکالا جا سکتا ہے, اور ہر گردوں کی پتھری والے مریضوں میں درد کو کم کرنے اور پتھری کو نکالنے کے لیے کچھ مختلف میڈیسن دی جا سکتی ہیں۔بہرحال کسی پروسیجر یا سرجری کا حتمی فیصلہ تو گردے کا سرجن ہی کرتا ہے۔
باقی گردے کی پتھری سے بچاو کے لئے درج ذیل اہدیات پہ ضرور عمل کرنا چاہیے۔ تاکہ گردوں کی پتھری سے بچا جا سکے۔

1:وافر مقدار میں پانی پینا: روزانہ 3 لیٹر سے زیادہ پانی پینا چاہیے، اس سے چھوٹی موٹی پتھری پیشاب کے ذریعے نکل جائے گی۔ اتنا پانی پینا چاہیے کہ روزانہ 2 لیٹر سے زیادہ پیشاب کا آنا چاہیے ، کیونکہ پانی زیادہ پینا پتھری کے علاج کے لئے اسے دوبارہ بننے سے روکنے کیلئے بہت ضروری ہوتا ہے۔ سب لوگوں کو اس پہ عمل کرنا چاہیے۔

2:لیموں کا رس
لیموں کا رس گردے کی پتھری دور کرنے میں مفید ہو سکتا ہے کیونکہ کیلشیم کی پتھری میں سایٹریٹ ہوتا ہے۔ کیلشیم اور آکسالیٹ کا آپس میں تعلق ہے یعنی وہ ایک دوسرے کے ساتھ چپک جاتے ہیں اور کیلشیم آکسالیٹ بنائیں گے۔ جب یہ پیشاب کی نالی میں ہوتے ہیں تو گردے کی پتھری کا باعث بنتے ہیں.
انار کا جوس ،یہ بھی کیلشیم آکسیلٹ کو کم کرتا ہے اور یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔ باقی ناریل پانی، موسمی کارس، انناس کا رس، گاجر ، کریلا، کیلا، جو ، بادام ، و غیرہ کا استعمال پتھری کو بننے سے روکنے میں مدد کرتا ہے۔

3:غذا پر کنٹرول:
یوں تو گردوں کی پتھری 5 قسم کی ہو سکتی ہے، جس میں سب سے زیادہ کیلشیم آکسیلیٹ اور یورک ایسڈ کی پتھری ہوتی ہیں۔ اس لیے پتھری کے اقسام کو دھیان میں رکھتے ہوئے کھانے میں مکمل پرہیز اور احتیاط کرنے سے پتھری کو بننے سے روکا جا سکتا ہے، لہذا کھانے میں نمک والی غذا کم مقدار میں لینا چاہیے جیسے کہ پاپڑ ، اچار سے پر ہیز کرنا چاہیے۔ پتھری بننے سے روکنے کے لئے یہ بہت ہی اہم ہدایات ہیں۔

4:اوکزلیٹ والی پتھری کے مریضوں کے لئے پر ہیز:
سبزیوں میں؛ ٹماٹر ، بھنڈی، بیگن، ککڑی، پالک، وغیرہ سے پرہیز کرنا چاہیے یا کم کھانا چاہیے
پھلوں میں: چیکو، آملہ ، انگور، اسٹرابری، رس بھری، اور کاجو سے پرہیز کرنا چاہیے
مشروبات میں : کڑک ابلی ہوئی چائے ، انگور کا جوس، ، چوکلیٹ،اور تمام بوتلیں جیسے پیپسی، کوکا کولا سے پرہیز کرنا چاہئے ۔ ( باقی چاول اور جو میں آکسیلیٹ کی کم مقدار ہوتی ہے) (باقی کیلشیم آکسیلیٹ والے افراد دودھ پی سکتے ہیں)

5:یورک تیزاب پتھری (uric acid stone)کے لئے پر ہیز :
یہ اہدیات صرف زیادہ یورک ایسڈ والے مریضوں یا یورک ایسڈ والی پتھری کے مریضوں کےلئے ہے)
دال، مٹر ، مسور کی دال سے پرہیز کرنا چاہیے
سویٹ بریڈ ،اور ہول ہویٹ بریڈ سے پرہیز کرنا چاہیے
سبزیوں میں: پھول گوبھی ، بیگن ، پلک، مشروم سے پرہیز کرنا چاہیے۔
گوشت میں : خصوصاً بڑا گوشت سے پرہیز کرنا چاہیے، باقی
،مچھلی،اور انڈا بھی زیادہ نہیں کھانا چاہیے،
مزید بیر ،خمر، اور شراب سے بھی پرہیز کریں۔

6:دودھ پی سکتے ہیں۔
پتھری کے مریضوں کو دودھ سے تیار شدہ چیزوں کو نہیں کھانا چاہیے یہ ایک غلط نظریہ ہے۔کھانے میں مطلوبہ مقدار میں لیا گیا کیلشیم اشیائے خوردنی کے اوکزلیٹ کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ اس سے پیٹ میں آنتوں کے ذریعے اوکزلیٹ کا استعمال کم ہو جاتا ہے اور اس سے پتھری نہیں بن پاتی۔
( کیونکہ تقریباً 80 پرسنٹ گردوں کی پتھری : کیلشیم آکسیلیٹ والی قسم کی ہوتی ہے)

نوٹ: جس مریض کو کوئی دائمی بیماریاں ہوں جیسے شوگر ، کولیسٹرول کا مسلئہ، موٹاپا وغیرہ ،پھر ان کو Dietician یعنی ماہر غذائیت سے مدد لینی چاہیے، باقی خود سے جتنا ہو سکے غذائی پرہیز کرنا چاہیے۔۔

کھجلی (Scabies) کیا ہے؟کھجلی جلد کی ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو Sarcoptes Scabiei نامی باریک طفیلی کیڑوں (mites) کی و...
30/01/2026

کھجلی (Scabies) کیا ہے؟
کھجلی جلد کی ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو Sarcoptes Scabiei نامی باریک طفیلی کیڑوں (mites) کی وجہ سے ہوتی ہے۔
• یہ کیڑے جلد کے نیچے بل بناتے ہیں، جہاں وہ انڈے دیتے ہیں اور اپنی نسل بڑھاتے ہیں۔
• اس کے نتیجے میں شدید خارش ہوتی ہے، جو خاص طور پر رات کے وقت بڑھ جاتی ہے۔ یہ مرض دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔
📌 علامات کیا ہیں؟
• شدید خارش جو رات کے وقت بدتر ہو جاتی ہے۔
• چھوٹے سرخ دانے یا ابھار جو پپڑیوں کی طرح نظر آتے ہیں اور گچھوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔
• جلد پر ٹیڑھی میڑھی لکیریں (جو کیڑوں کے چلنے کے راستے یا بل ہوتے ہیں)۔
• خارش کی وجہ سے بننے والے زخم۔
• شدید صورتحال میں جلد کا سخت اور پپڑی دار ہو جانا۔
📌 یہ جسم کے کن حصوں پر ہوتی ہے؟
کھجلی عام طور پر درج ذیل جگہوں پر دیکھی جاتی ہے:
• انگلیوں کے درمیان
• کلائیوں پر
• کہنیوں پر
• بغلوں میں
• مخصوص اعضاء کے گرد
• کولہوں پر
• کمر کی لائن (waist line) کے ساتھ
📌 یہ کیسے پھیلتی ہے؟
کھجلی زیادہ تر متاثرہ شخص کے ساتھ براہ راست اور طویل عرصے تک جلد سے جلد ملنے (Skin to skin contact) سے پھیلتی ہے۔
دیگر ذرائع میں شامل ہیں:
• متاثرہ شخص کا بستر، تولیہ یا کپڑے استعمال کرنا۔
• پرہجوم جگہوں پر رہنا جیسے کہ ہاسٹل، نرسنگ ہوم، جیل یا ڈے کیئر سینٹرز۔
📌 تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟
ڈاکٹر جسمانی معائنے یا جلد کے ایک چھوٹے سے حصے کا ٹیسٹ (Skin scraping test) کر کے اس کی تشخیص کر سکتا ہے۔
📌 علاج کیسے کیا جاتا ہے؟
کھجلی کا علاج کافی آسان ہے:
• کیڑوں کے خاتمے کے لیے خاص کریمیں اور گولیاں استعمال کی جاتی ہیں۔
• خارش سے نجات کے لیے اینٹی ہسٹامائن (Antihistamines) ادویات دی جاتی ہیں۔
احتیاطی تدابیر:
• چونکہ یہ بیماری تیزی سے پھیلتی ہے، اس لیے متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے والے تمام افراد کا علاج ضروری ہے، چاہے ان میں علامات ظاہر نہ بھی ہوئی ہوں۔
• متاثرہ شخص کے تمام کپڑے، بستر کی چادریں اور تولیے گرم پانی سے دھوئیں اور دھوپ میں خشک کریں۔
• وہ اشیاء جو دھوئی نہیں جا سکتیں، انہیں ایک پلاسٹک بیگ میں بند کر کے 72 گھنٹوں کے لیے رکھ دیں تاکہ کیڑے مر جائیں

Address

Malakand

Telephone

+923465979911

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khamush Care Plus posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Khamush Care Plus:

Shortcuts

Share