08/08/2022
*14 اگست اور پاکستانی پرچم*
13 اگست
ادریس آرہے ہیں ساتھ میں بہت سے بچے بھی ہیں۔ انگلیوں پر کچھ حساب کتاب میں مصروف راستہ پہ قدم رکھ رہے ہیں۔
میں نے دور سے ان کو دیکھا تو حال دریافت کرنے کی غرض سے ان کے قریب جانے لگا ۔
میں: خیر تو ہے یہ اکبر باچا کے لشکر کے ساتھ کہاں پہ حملہ کرنے کا ارادہ ہے؟
ادریس: اپ نے صحیح پہچانا یہ اکبر باچا کے ہی لشکر ہے۔ کہاں اور نہیں ہمارے جیپ پہ ہی حملہ اور ہونے والے ہیں۔ صاحبان فرما رہے ہیں کہ ہمیں 14 اگست کے لئے شاپنگ کرنا ہے۔ بھائی! ہمارے زمانے میں تو عید کے لئے بھی شاپنگ نہیں ہوتا اور اب 14 اگست کے لئے بھی شاپنگ ہو رہے ہیں۔
میں:( ایک بچے کو مخاطب کرکے) ہاں بیٹا! تو آپ 14 اگست کے لئے کیا خریداری کریں گے؟
بچہ: میں ڈھیر سارے جھنڈے، بیجز خریدوں گا۔ پھر ان کو اپنے ساتھ سکول لے کے جاؤں گا۔
میں: میرے لئے کچھ خریدو گے؟
بچہ: آپ تو بڑے ہیں۔ 14 اگست تو بچے مناتے ہیں۔
میں سوچنے لگا کہ واقعی 14 اگست بچے ہی منا سکتے ہیں کیوں کہ ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ ہم آج بھی غلام ہیں۔ اے کاش ہم بھی بچے ہوتے۔ اس غلامی اور ازادی کے جھنجھٹ سے ازاد سوچتے اور زندگی بسر کرتے۔
14 اگست
پھر وہی راستہ وہی ادریس اور ان بچوں کے ساتھ میرے طرف آ رہے ہیں۔ لیکن آج بچوں کا شان وشوکت بدل تھا۔
آج بچوں نے سبز اور سفید رنگ والے کپڑے پہنے تھے۔ کئی بچوں نے چہروں پہ پاکستانی پرچم کے سٹیکرز لگائے تھے۔ کئی بچوں نے جیبوں پہ پاکستانی پرچم والے بیجز لگائے تھے اور کئی بچے ہاتھ میں پاکستانی پرچم اٹھا کے لہرا رہے تھے۔ میں بھی ان کے ساتھ سکول جانے لگا تاکہ تقریب سے محظوظ ہو سکوں۔ سکول کے تقریب میں بچوں کو پاکستان کے آزادی میں مختلف مکتبہ فکر کے قربانیوں کا تذکرہ کیا گیا۔ مزاح کے لئے کچھ لطیفے اور خاکے پیش کئے گئے۔ قومی ترانہ پیش کی گئی اور ساتھ میں پاکستانی پرچم کو سلامی بھی پیش کی گئی۔
15 اگست
آج پھر صبح سویرے گھر سے نکلا۔ باہر وہی گلیاں تھیں۔ وہی راستے تھے۔ لیکن سنسان پڑے تھے۔ کیوں کہ آج اتوار کا دن تھا۔ کوئی بچہ نظر نہیں آرہا تھا۔ ہاں وہ جھنڈے،عظیم شخصیات کی تصاویر، وغیرہ اب بھی نظر آ رہے تھے لیکن آج وہ کسی بچے کے ہاتھ یا چہرے کا زینت نہیں بنے ہوئے تھے بلکہ نالیوں اور راستوں میں لوگوں کے قدموں کی زینت بن رہے تھے۔ آج وہ ڈسٹ بِن کے زینت بن رہے تھے۔آج وہ ٹی ایم اے والوں کے لئے درد سر کا سبب بن رہے تھے۔
ان کو دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ پاکستانی پرچم کی قدر صرف اسمبلیوں اور تقاریب میں فرض ہے؟
#اگست14