29/05/2026
میٹرک کے بعد غلط فیصلہ… زندگی کا ڈائریکشن بدل دیتا ہے
پاکستان میں ہر سال لاکھوں بچے میٹرک کا رزلٹ آنے کے بعد ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہوتے ہیں جہاں سے ان کی زندگی کا اصل راستہ شروع ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جہاں صرف ایک فارم، ایک دستخط، ایک گروپ کا انتخاب… آنے والے کئی سالوں کی سمت طے کر دیتا ہے۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر بچے اپنا پہلا بڑا تعلیمی فیصلہ خود نہیں کرتے۔
کوئی دوستوں کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے…
کوئی خاندان کے دباؤ میں آجاتا ہے…
کوئی صرف “لوگ کیا کہیں گے” کے خوف سے اپنی پسند چھوڑ دیتا ہے…
اور کئی بچے تو ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں آج تک یہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ FSC، ICS، FA یا ICOM میں اصل فرق کیا ہے۔
پھر کچھ سال بعد وہی بچے کہتے نظر آتے ہیں:
“یار… غلط فیلڈ چن لی تھی”
اور حقیقت یہ ہے کہ میٹرک کے بعد کیا گیا غلط فیصلہ صرف دو سال خراب نہیں کرتا… کئی دفعہ انسان کا اعتماد، دلچسپی، کیریئر… حتیٰ کہ پوری زندگی کا ڈائریکشن بدل دیتا ہے۔
آج کل ایڈمیشن سیزن چل رہا ہے۔ ہر کالج میں فارم جمع ہو رہے ہیں، ہر جگہ مشورے مل رہے ہیں، ہر گھر میں یہی گفتگو ہے کہ:
“بیٹے نے کیا رکھنا ہے؟”
لیکن سب سے ضروری سوال یہ ہے کہ:
“بیٹے نے وہی کیوں رکھنا ہے؟”
کیونکہ صرف “اچھے نمبر” کافی نہیں ہوتے…
صحیح سمت بھی ضروری ہوتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک عجیب روایت بن چکی ہے کہ اگر کسی بچے کے نمبر اچھے آجائیں تو فوراً کہا جاتا ہے:
“اس کو FSC میں ڈال دو”
چاہے بچے کی دلچسپی کمپیوٹر میں ہو…
بزنس میں ہو…
گرافکس میں ہو…
یا وہ حساب کتاب اور مارکیٹنگ میں کمال ہو…
لیکن نہیں۔
لوگ کہتے ہیں:
“اچھے بچوں کا گروپ تو پری میڈیکل ہوتا ہے”
حالانکہ دنیا اب صرف ڈاکٹر اور انجینئر تک محدود نہیں رہی۔
آج کے دور میں skill، creativity، communication، technology اور practical intelligence کی value پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
بہت سے بچے FSC اس لیے رکھتے ہیں کیونکہ ان کے دوست بھی وہی رکھ رہے ہوتے ہیں۔
یہ وہ سب سے خطرناک چیز ہے جو ایک student اپنی زندگی کے ساتھ کر سکتا ہے۔
دوستی اچھی چیز ہے…
لیکن career دوستوں کی copy سے نہیں بنتا۔
کئی بچوں کی پوری زندگی صرف اس لیے مشکل ہوجاتی ہے کیونکہ انہوں نے اپنی صلاحیت کو نہیں دیکھا… صرف دوستوں کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔
ایک لڑکا تھا۔ میٹرک میں اس کے کافی اچھے نمبر تھے۔ اسے کمپیوٹر کا بہت شوق تھا۔ چھوٹی عمر سے ویڈیوز ایڈٹ کرتا تھا، graphic designing سیکھتا تھا، coding میں دلچسپی لیتا تھا۔ دل سے چاہتا تھا کہ ICS کرے۔
لیکن اس کے دوست FSC میں جا رہے تھے۔
گھر والوں نے بھی کہا:
“اتنے نمبر لے کر ICS؟ لوگ کیا کہیں گے؟”
اس نے FSC رکھ لی۔
پہلے چند مہینے تو دوستوں کی وجہ سے سب اچھا لگا… پھر آہستہ آہستہ physics اور chemistry اس پر بوجھ بنتی گئیں۔ وہ class میں موجود ہوتا تھا مگر دل کہیں اور ہوتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ وہ FSC enjoy کر سکا، نہ اچھا perform کر سکا۔
دو سال بعد اس نے وہی کام شروع کیا جس میں اس کا اصل interest تھا… یعنی graphic designing۔
آج وہ اسی field میں کامیاب ہے۔
لیکن اکثر کہتا ہے:
“اگر شروع میں ہی صحیح فیصلہ کر لیتا تو دو سال بچ جاتے”
یہ صرف ایک بچے کی کہانی نہیں… ایسے ہزاروں students ہمارے اردگرد موجود ہیں۔
کچھ بچے FA کو صرف اس لیے کم سمجھتے ہیں کیونکہ معاشرہ اسے کم سمجھتا ہے۔
حالانکہ سچ یہ ہے کہ FA میں بھی ایسے subjects موجود ہیں جو انسان کی personality، communication، میڈیا، psychology اور social understanding کو مضبوط بناتے ہیں۔
ہر انسان doctor نہیں بن سکتا…
اور نہ ہر انسان کو doctor بننا چاہیے۔
اگر کسی بچے کی دلچسپی speaking، writing، میڈیا، teaching یا civil services میں ہو تو اس کے لیے FA غلط نہیں ہے۔
غلط صرف وہ فیصلہ ہے جو انسان اپنی مرضی کے خلاف کرے۔
اسی طرح ICOM کو بھی اکثر لوگ ignore کر دیتے ہیں۔
حالانکہ آج business، accounting، finance، e-commerce اور entrepreneurship کا دور ہے۔
پاکستان میں بے شمار successful businessmen ایسے ہیں جنہوں نے science نہیں پڑھی… لیکن business mind strong تھا۔
ایک دکان چلانے والا انسان کئی دفعہ اس engineer سے زیادہ financially stable ہوتا ہے جس نے صرف ڈگری تو لے لی مگر practical زندگی نہ سمجھی۔
آج online business، digital marketing، Amazon، freelancing، accounting software اور e-commerce کی دنیا تیزی سے grow کر رہی ہے۔ ایسے میں commerce field کی importance پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
لیکن ہمارے ہاں اب بھی کئی والدین صرف ایک ہی جملہ جانتے ہیں:
“بیٹا doctor بنے گا”
چاہے بچہ biology کا spelling بھی مشکل سے لکھتا ہو۔
یہ حقیقت تھوڑی funny ضرور ہے… مگر بہت dangerous بھی ہے۔
کیونکہ pressure کے اندر لیا گیا فیصلہ اکثر انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔
کچھ parents اپنے خواب بچوں پر ڈال دیتے ہیں۔
وہ خواب جو شاید وہ خود پورے نہیں کر سکے۔
وہ بھول جاتے ہیں کہ ہر بچہ الگ personality لے کر پیدا ہوتا ہے۔
ہر بچے کی learning style الگ ہوتی ہے۔
ہر بچے کی strength الگ ہوتی ہے۔
ایک بچہ maths میں بہترین ہوتا ہے…
دوسرا communication میں…
تیسرا creativity میں…
چوتھا management میں…
لیکن ہم سب کو ایک ہی لائن میں کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پھر حیران ہوتے ہیں کہ بچے stress میں کیوں ہیں۔
آج کا student پہلے ہی pressure میں زندگی گزار رہا ہے۔
Social media کا pressure الگ…
Comparison الگ…
Future کی tension الگ…
اس پر اگر career بھی دوسروں کی مرضی سے چن لیا جائے تو انسان اندر سے confuse ہوجاتا ہے۔
کالج کا انتخاب صرف “گروپ” کا انتخاب نہیں ہوتا…
یہ environment، confidence، personality اور مستقبل کے exposure کا بھی انتخاب ہوتا ہے۔
ایک اچھا کالج صرف کتابیں نہیں پڑھاتا…
وہ سوچ بدلتا ہے۔
وہ بچے کو یہ احساس دلاتا ہے کہ زندگی صرف marks تک محدود نہیں۔
وہ discipline سکھاتا ہے۔
Confidence build کرتا ہے۔
Direction دیتا ہے۔
بہت سے بچے صرف اس لیے آگے نکل جاتے ہیں کیونکہ انہیں صحیح ماحول مل جاتا ہے۔
اور بہت سے talented بچے صرف غلط company اور غلط direction کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
اسی لیے admission لیتے وقت صرف یہ نہ دیکھیں کہ:
“دوست کہاں جا رہے ہیں”
یہ دیکھیں:
“آپ کہاں grow کر سکتے ہیں”
کیونکہ دوست بدل جاتے ہیں…
لیکن career کا اثر برسوں رہتا ہے۔
ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی بچے field اس لیے choose کرتے ہیں کیونکہ اس وقت وہ trend میں ہوتی ہے۔
کچھ سال پہلے سب doctor بننا چاہتے تھے۔
پھر engineering کا trend آیا۔
پھر software field famous ہوئی۔
اب AI اور freelancing کی باتیں ہو رہی ہیں۔
لیکن یاد رکھیں:
Trend بدلتے رہتے ہیں…
لیکن انسان کی اصل capability زیادہ دیر نہیں بدلتی۔
اگر کسی بچے کو coding پسند نہیں… تو صرف trend دیکھ کر software field میں جانا بھی غلط ہوسکتا ہے۔
اسی طرح اگر کسی بچے کو business sense ہے، لوگوں سے deal کرنا آتا ہے، communication strong ہے… تو شاید وہ commerce یا management میں زیادہ کامیاب ہو۔
اصل کامیابی وہاں ملتی ہے جہاں interest اور hard work دونوں اکٹھے ہوں۔
صرف interest کافی نہیں…
اور صرف pressure بھی کافی نہیں۔
بعض students کہتے ہیں:
“ابو نے کہا تھا رکھ لو”
کچھ کہتے ہیں:
“دوستوں نے کہا تھا”
اور کچھ کہتے ہیں:
“مجھے خود نہیں پتا تھا”
یہ “خود نہیں پتا تھا” والا جملہ ہمارے education system کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔
ہمارے ہاں career counseling کو آج بھی اتنی importance نہیں دی جاتی جتنی دینی چاہیے۔
بچے کو subjects تو بتا دیے جاتے ہیں…
لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ:
* اس field کا future کیا ہے؟
* اس کی personality کس field سے match کرتی ہے؟
* اس کی strengths کیا ہیں؟
* وہ practical life میں کیا بہتر کر سکتا ہے؟
اسی جگہ ایک اچھا کالج اہم کردار ادا کرتا ہے۔
وہ صرف admission نہیں دیتا…
direction دیتا ہے۔
وہ بچے کو سمجھاتا ہے کہ ہر field کی اپنی value ہے۔
کوئی field چھوٹی نہیں ہوتی…
سوچ چھوٹی ہوتی ہے۔
اگر ایک student اپنے interest کے مطابق صحیح field میں جائے… اچھے ماحول میں پڑھے… consistent رہے… تو وہ کسی بھی شعبے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔
دنیا میں آج جتنے بڑے لوگ ہیں… ان سب نے وہی کام کیا جس میں ان کا دل تھا۔
Bill Gates کو computers میں دلچسپی تھی۔
Mark Zuckerberg نے coding سے دنیا بدل دی۔
Jack Ma maths میں بھی struggle کرتے تھے مگر business understanding strong تھی۔
اگر یہ لوگ صرف معاشرے کے trend کے پیچھے چلتے رہتے تو شاید آج دنیا انہیں نہ جانتی۔
پاکستان میں بھی بے شمار لوگ ایسے ہیں جو traditional fields سے ہٹ کر کامیاب ہوئے۔
کسی نے business میں نام بنایا…
کسی نے media میں…
کسی نے IT میں…
کسی نے teaching میں…
اصل چیز یہ تھی کہ انہوں نے اپنی capability پہچانی۔
میٹرک کے بعد کا وقت excitement کا بھی ہوتا ہے اور confusion کا بھی۔
اس وقت بچے کو ڈانٹ نہیں… guidance چاہیے ہوتی ہے۔
اسے compare نہیں کرنا چاہیے۔
ہر بچے کے نمبر الگ ہوتے ہیں…
صلاحیت الگ ہوتی ہے…
سوچ الگ ہوتی ہے…
future الگ ہوتا ہے۔
صرف اس لیے FSC رکھ لینا کہ “لوگ یہی کرتے ہیں”… دانشمندی نہیں۔
اور صرف اس لیے FA یا ICOM چھوڑ دینا کہ “لوگ کیا کہیں گے”… یہ بھی غلط ہے۔
دنیا اب بدل رہی ہے۔
اب کامیابی صرف degree سے نہیں آتی…
mindset، skill، communication اور consistency سے بھی آتی ہے۔
اسی لیے decision لیتے وقت چند سوال خود سے ضرور پوچھیں:
* مجھے اصل میں کس چیز میں interest ہے؟
* میں کس subject کو pressure کے بغیر پڑھ سکتا ہوں؟
* میری strength کیا ہے؟
* میں future میں خود کو کہاں دیکھتا ہوں؟
* کیا میں دوسروں کو دیکھ کر فیصلہ کر رہا ہوں؟
اگر ان سوالوں کے جواب honestly دے دیے جائیں تو آدھی confusion خود ختم ہوجاتی ہے۔
اور والدین کے لیے بھی ایک اہم بات…
بچوں کو راستہ دکھائیں…
لیکن ان کی پوری زندگی اپنی مرضی سے مت چلائیں۔
کیونکہ مجبور ہو کر چنا گیا راستہ اکثر انسان کو منزل تک نہیں پہنچاتا۔
Admission season صرف forms بھرنے کا نام نہیں…
یہ مستقبل بنانے کا وقت ہوتا ہے۔
صحیح فیصلہ confidence دیتا ہے…
غلط فیصلہ انسان کو سالوں confuse رکھتا ہے۔
اس لیے میٹرک کے بعد صرف یہ مت سوچیں کہ:
“کون سا گروپ famous ہے”
یہ سوچیں:
“کون سا راستہ آپ کے لیے صحیح ہے”
کیونکہ کئی دفعہ ایک غلط انتخاب…
انسان کی پوری زندگی کا direction بدل دیتا ہے۔
Educational and Career Counselling Office
KIPS College, Mailsi.
Naeem Khan
Syed Javed Iqbal Bokhari
KIPS College Mailsi Campus
14/05/2026
13/05/2026
12/05/2026
11/05/2026
10/05/2026
10/05/2026
09/05/2026
08/05/2026