05/07/2021
ہندستان میں اسلامی تہذیب کا انحطاط
دنیائے اسلام کا بیش تر حصہ اُن ممالک پر مشتمل ہے جو صدرِ اول کے مجاہدین کی کوششوں سے فتح ہوئے ہیں۔ ان کو جن لوگوں نے فتح کیا تھاوہ ملک گیری اور حصول غنائم کے لیے نہیں بلکہ خدا کے کلمے کو دنیا میں بلند کرنے کے لیے سروں سے کفن باندھ کر نکلے تھے۔ وہ طلبِ دنیا کے بجائے طلبِ آخرت کے نشے میں سرشار تھا۔ اس لیے انھوں نے اپنے مفتوحین کو مطیع و باج گزار بنانے پر اکتفا نہ کیا، بلکہ انھیں اسلام کے رنگ میں رنگ دیا۔ ان کی پوری آبادی یا اس کے سواد اعظم کو ملتِ حنیفی میں جذب کرلیا۔ علم و عمل کی قوت سے ان میں اسلامی فکر اور اسلامی تہذیب کو اتنا راسخ کر دیا کہ وہ خود تہذیب اسلامی کے علم بردار اور علوم اسلامی کے معلم بن گئے۔ ان کے بعد وہ ممالک ہیں جو اگرچہ صدر اول کے بعد اُس عہد میں فتح ہوئے جب کہ اسلامی جوش سرد ہو چکا تھا اور فاتحین کے دلوں میں خالص جہاد فی سبیل اللہ کی روح سے زیادہ ملک گیری کی ہوس نے جگہ لے لی تھی‘ لیکن اس کے باوجود اسلام وہاں پھیلنے اور جڑ پکڑ لینے میں کامیاب ہوگیا اور اس نے ان ممالک میں کلیتہً ایک قوی مذہب اور قومی تہذیب کی حیثیت حاصل کرلی۔
بدقسمتی سے ہندستان کا معاملہ ان دونوں قسم کے ممالک سے مختلف ہے۔ صدرِ اول میں اس ملک کا بہت تھوڑا حصہ فتح ہوا تھا اور اس تھوڑے سے حصے پر بھی جو کچھ اسلامی تعلیم و تہذیب کے اثرات پڑے تھے‘ ان کو باطنیت کے سیلاب نے ملیا میٹ کر دیا۔ اس کے بعد جب ہندستان میں مسلمانوں کی فتوحات کا اصلی سلسلہ شروع ہوا تو فاتحوں میں صدر اول کے مسلمانوں کی خصوصیات باقی نہیں رہی تھیں۔ انھوں نے یہاں اشاعتِ اسلام کے بجائے توسیعِ مملکت میں اپنی قوتیں صرف کیں اور لوگوں سے اطاعتِ خدا و رسول کے بجائے اپنی اطاعت اور باج گزاری کا مطالبہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صدیوں کی فرماں روائی کے بعد بھی ہندستان کا سوادِ اعظم غیر مسلم رہا۔ یہاں اسلامی تہذیب جڑ نہ پکڑ سکی‘ یہاں کے باشندوں میں سے جنھوں نے اسلام قبول کیا ان کی اسلامی تعلیم و تربیت کا کوئی خاص انتظام نہ کیا گیا‘ نو مسلم جماعتوں میں قدیم ہندوانہ خیالات اور رسم و رواج کم و بیش باقی رہے‘ اور خود باہر کے آئے ہوئے قدیم الاسلام مسلمان بھی اہل ہند کے میل جول سے مشرکانہ طریقوں کے ساتھ رواداری برتنے اور بہت سی جاہلانہ رسوم کا اتباع کرنے لگے۔
اسلامی ہند کی تاریخ اور اس کے موجودہ حالات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جس زمانے میں اس ملک پر مسلمانوں کا سیاسی اقتدار پوری قوت سے چھایا ہوا تھا اُس زمانے میں بھی یہاں اسلام کے اثرات کمزور تھے اور یہاں کا ماحول خالص اسلامی ماحول نہ تھا۔ اگرچہ ہندوؤں کا مذہب اور تمدن بجائے خود ضعیف تھا اور محکوم و مغلوب قوم کا مذہب و تمدن ہونے کی حیثیت سے اور بھی زیادہ ضعیف ہوگیا تھا‘ لیکن پھر بھی مسلمان حکمرانوں کی رواداری اور غفلت کی بدولت وہ ملک کے سواد اعظم پر چھایا ہوا رہا، اور ہندستان کی فضا پر اس کے مستولی ہونے اور خود مسلمانوں کی اسلامی تعلیم و تربیت مکمل نہ ہونے کی وجہ سے، یہاں کے مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ اپنے عقائد اور اپنی تہذیب میں بھی کبھی اتنا صحیح اور پختہ اور کامل مسلمان نہ ہوسکا جتنا وہ خالص اسلامی ماحول میں ہوسکتا تھا۔
اٹھارہویں صدی عیسوی میں وہ سیاسی اقتدار بھی مسلمانوں سے چھن گیا جو ہندستان میں اسلامی تہذیب کا سب سے بڑا سہارا تھا۔ پہلے مسلمانوں کی سلطنت متفرق ہو کر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہوئی، پھر مرہٹوں اور سکھوں اور انگریزوں کے سیلاب نے ایک ایک کرکے اِن ریاستوں میں سے بیش تر کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد قضائے الٰہی نے انگریزوں کے حق میں اس ملک کی حکومت کا فیصلہ صادر کیا اور ایک صدی کا زمانہ نہ گزرا تھا کہ مسلمان اس سر زمین میں مغلوب و محکوم ہوگئے جس پر انھوں نے صدیوں حکومت کی تھی۔ انگریزی سلطنت جتنی جتنی پھیلتی گئی مسلمانوں سے اُن طاقتوں کو چھینتی چلی گئی جن کے بل پر ہندستان میں اسلامی تہذیب کسی حد تک قائم تھی۔ اس نے فارسی اور عربی کے بجائے انگریزی کو ذریعۂ تعلیم بنایا۔ اسلامی قوانین کو منسوخ کیا‘ شرعی عدالتیں توڑ دیں‘ دیوانی اور فوج داری معاملات میں خود اپنے قوانین جاری کیے‘ اسلامی قانون کے نفاذ کو خود مسلمانوں کے حق میں صرف نکاح و طلاق وغیرہ تک محدود کر دیا اوراس محدود نفاذ کے اختیارات بھی قاضیوں کے بجائے عام دیوانی عدالتوں کے سپرد کر دیے جن کے حکام عموماً غیرمسلم ہوتے ہیں‘ اور جن کے ہاتھوں ’محمڈن لا‘ روز بروز مسخ ہوتا چلا جارہا ہے۔ اس پر مزید یہ کہ ابتدا سے انگریزی حکومت کی پالیسی یہ رہی کہ مسلمانوں کو معاشی حیثیت سے پامال کرکے اُن کے اس قومی فخر و ناز کو کچل ڈالے جو ایک حاکم قوم کی حیثیت سے صدیوں تک ان کے دلوں میں پرورش پاتا رہا ہے۔ چنانچہ ایک صدی کے اندر اندر اس پالیسی کی بدولت اس قوم کو مفلس‘ جاہل‘ پست خیال‘ فاسد الاخلاق‘ اور ذلیل و خوار کرکے چھوڑا گیا۔