سیدابوالاعلی مودودی رحہ کی کتب کامطالعہ کریں

  • Home
  • Pakistan
  • Madeji
  • سیدابوالاعلی مودودی رحہ کی کتب کامطالعہ کریں

سیدابوالاعلی مودودی رحہ کی کتب کامطالعہ کریں قرآن اورسنت کی دعوت لیکر اٹھو اور پوری دنیا پر چھاجاو(س?

ہندستان میں اسلامی تہذیب کا انحطاطدنیائے اسلام کا بیش تر حصہ اُن ممالک پر مشتمل ہے جو صدرِ اول کے مجاہدین کی کوششوں سے ف...
05/07/2021

ہندستان میں اسلامی تہذیب کا انحطاط

دنیائے اسلام کا بیش تر حصہ اُن ممالک پر مشتمل ہے جو صدرِ اول کے مجاہدین کی کوششوں سے فتح ہوئے ہیں۔ ان کو جن لوگوں نے فتح کیا تھاوہ ملک گیری اور حصول غنائم کے لیے نہیں بلکہ خدا کے کلمے کو دنیا میں بلند کرنے کے لیے سروں سے کفن باندھ کر نکلے تھے۔ وہ طلبِ دنیا کے بجائے طلبِ آخرت کے نشے میں سرشار تھا۔ اس لیے انھوں نے اپنے مفتوحین کو مطیع و باج گزار بنانے پر اکتفا نہ کیا، بلکہ انھیں اسلام کے رنگ میں رنگ دیا۔ ان کی پوری آبادی یا اس کے سواد اعظم کو ملتِ حنیفی میں جذب کرلیا۔ علم و عمل کی قوت سے ان میں اسلامی فکر اور اسلامی تہذیب کو اتنا راسخ کر دیا کہ وہ خود تہذیب اسلامی کے علم بردار اور علوم اسلامی کے معلم بن گئے۔ ان کے بعد وہ ممالک ہیں جو اگرچہ صدر اول کے بعد اُس عہد میں فتح ہوئے جب کہ اسلامی جوش سرد ہو چکا تھا اور فاتحین کے دلوں میں خالص جہاد فی سبیل اللہ کی روح سے زیادہ ملک گیری کی ہوس نے جگہ لے لی تھی‘ لیکن اس کے باوجود اسلام وہاں پھیلنے اور جڑ پکڑ لینے میں کامیاب ہوگیا اور اس نے ان ممالک میں کلیتہً ایک قوی مذہب اور قومی تہذیب کی حیثیت حاصل کرلی۔

بدقسمتی سے ہندستان کا معاملہ ان دونوں قسم کے ممالک سے مختلف ہے۔ صدرِ اول میں اس ملک کا بہت تھوڑا حصہ فتح ہوا تھا اور اس تھوڑے سے حصے پر بھی جو کچھ اسلامی تعلیم و تہذیب کے اثرات پڑے تھے‘ ان کو باطنیت کے سیلاب نے ملیا میٹ کر دیا۔ اس کے بعد جب ہندستان میں مسلمانوں کی فتوحات کا اصلی سلسلہ شروع ہوا تو فاتحوں میں صدر اول کے مسلمانوں کی خصوصیات باقی نہیں رہی تھیں۔ انھوں نے یہاں اشاعتِ اسلام کے بجائے توسیعِ مملکت میں اپنی قوتیں صرف کیں اور لوگوں سے اطاعتِ خدا و رسول کے بجائے اپنی اطاعت اور باج گزاری کا مطالبہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صدیوں کی فرماں روائی کے بعد بھی ہندستان کا سوادِ اعظم غیر مسلم رہا۔ یہاں اسلامی تہذیب جڑ نہ پکڑ سکی‘ یہاں کے باشندوں میں سے جنھوں نے اسلام قبول کیا ان کی اسلامی تعلیم و تربیت کا کوئی خاص انتظام نہ کیا گیا‘ نو مسلم جماعتوں میں قدیم ہندوانہ خیالات اور رسم و رواج کم و بیش باقی رہے‘ اور خود باہر کے آئے ہوئے قدیم الاسلام مسلمان بھی اہل ہند کے میل جول سے مشرکانہ طریقوں کے ساتھ رواداری برتنے اور بہت سی جاہلانہ رسوم کا اتباع کرنے لگے۔

اسلامی ہند کی تاریخ اور اس کے موجودہ حالات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جس زمانے میں اس ملک پر مسلمانوں کا سیاسی اقتدار پوری قوت سے چھایا ہوا تھا اُس زمانے میں بھی یہاں اسلام کے اثرات کمزور تھے اور یہاں کا ماحول خالص اسلامی ماحول نہ تھا۔ اگرچہ ہندوؤں کا مذہب اور تمدن بجائے خود ضعیف تھا اور محکوم و مغلوب قوم کا مذہب و تمدن ہونے کی حیثیت سے اور بھی زیادہ ضعیف ہوگیا تھا‘ لیکن پھر بھی مسلمان حکمرانوں کی رواداری اور غفلت کی بدولت وہ ملک کے سواد اعظم پر چھایا ہوا رہا، اور ہندستان کی فضا پر اس کے مستولی ہونے اور خود مسلمانوں کی اسلامی تعلیم و تربیت مکمل نہ ہونے کی وجہ سے، یہاں کے مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ اپنے عقائد اور اپنی تہذیب میں بھی کبھی اتنا صحیح اور پختہ اور کامل مسلمان نہ ہوسکا جتنا وہ خالص اسلامی ماحول میں ہوسکتا تھا۔

اٹھارہویں صدی عیسوی میں وہ سیاسی اقتدار بھی مسلمانوں سے چھن گیا جو ہندستان میں اسلامی تہذیب کا سب سے بڑا سہارا تھا۔ پہلے مسلمانوں کی سلطنت متفرق ہو کر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہوئی، پھر مرہٹوں اور سکھوں اور انگریزوں کے سیلاب نے ایک ایک کرکے اِن ریاستوں میں سے بیش تر کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد قضائے الٰہی نے انگریزوں کے حق میں اس ملک کی حکومت کا فیصلہ صادر کیا اور ایک صدی کا زمانہ نہ گزرا تھا کہ مسلمان اس سر زمین میں مغلوب و محکوم ہوگئے جس پر انھوں نے صدیوں حکومت کی تھی۔ انگریزی سلطنت جتنی جتنی پھیلتی گئی مسلمانوں سے اُن طاقتوں کو چھینتی چلی گئی جن کے بل پر ہندستان میں اسلامی تہذیب کسی حد تک قائم تھی۔ اس نے فارسی اور عربی کے بجائے انگریزی کو ذریعۂ تعلیم بنایا۔ اسلامی قوانین کو منسوخ کیا‘ شرعی عدالتیں توڑ دیں‘ دیوانی اور فوج داری معاملات میں خود اپنے قوانین جاری کیے‘ اسلامی قانون کے نفاذ کو خود مسلمانوں کے حق میں صرف نکاح و طلاق وغیرہ تک محدود کر دیا اوراس محدود نفاذ کے اختیارات بھی قاضیوں کے بجائے عام دیوانی عدالتوں کے سپرد کر دیے جن کے حکام عموماً غیرمسلم ہوتے ہیں‘ اور جن کے ہاتھوں ’محمڈن لا‘ روز بروز مسخ ہوتا چلا جارہا ہے۔ اس پر مزید یہ کہ ابتدا سے انگریزی حکومت کی پالیسی یہ رہی کہ مسلمانوں کو معاشی حیثیت سے پامال کرکے اُن کے اس قومی فخر و ناز کو کچل ڈالے جو ایک حاکم قوم کی حیثیت سے صدیوں تک ان کے دلوں میں پرورش پاتا رہا ہے۔ چنانچہ ایک صدی کے اندر اندر اس پالیسی کی بدولت اس قوم کو مفلس‘ جاہل‘ پست خیال‘ فاسد الاخلاق‘ اور ذلیل و خوار کرکے چھوڑا گیا۔

ڈارون کے نظریۂ ارتقا نے اس نیچریت اور مادیت کو استحکام بخشنے اور ایک مدلل اور منظم علمی نظریے کی حیثیت دینے میں سب سے بڑ...
04/07/2021

ڈارون کے نظریۂ ارتقا نے اس نیچریت اور مادیت کو استحکام بخشنے اور ایک مدلل اور منظم علمی نظریے کی حیثیت دینے میں سب سے بڑھ کر حصہ لیا۔ اس کی کتاب اصل الانواع (Origin of Species) جو ۱۸۵۹ء میں پہلی مرتبہ شائع ہوئی‘ سائنس کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کرنے والی کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اس نے ایک ایسے طریقِ استدلال سے جو انیسویں صدی کے سائنٹیفک دماغوں کے نزدیک استدلال کا محکم ترین طریقہ تھا‘ اس نظریے پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ کائنات کا کاروبار خدا کے بغیر چل سکتا ہے۔ آثار و مظاہرِ فطرت کے لیے خود فطرت کے قوانین کے سوا کسی اور علت کی حاجت نہیں۔زندگی کے ادنیٰ مراتب سے لے کر اعلیٰ مراتب تک موجودات کا ارتقا ایک ایسی فطرت کے تدریجی عمل کا نتیجہ ہے جو عقل و حکمت کے جوہر سے عاری ہے۔ انسان اور دوسری انواع حیوانی کو پیدا کرنے والا کوئی صانع حکیم نہیں ہے بلکہ وہی ایک جان دار مشین جو کبھی کیڑے کی شکل میں رینگا کرتی تھی‘ تنازع للبقا‘ بقائے اصلح اور انتخابِ طبیعی کے نتیجے کے طور پر ذی شعور اور ناطق انسان کی شکل میں نمودار ہوگئی۔

یہی وہ فلسفہ اور سائنس ہے جس نے مغربی تہذیب کو پیدا کیا ہے۔ اس میں نہ کسی علیم و قدیر خدا کے خوف کی گنجائش ہے‘ نہ نبوت اور وحی و الہام کی ہدایت کا کوئی وزن‘ نہ موت کے بعد کسی دوسری زندگی کا تصور‘ نہ حیاتِ دنیا کے اعمال پر محاسبے کا کوئی کھٹکا‘ نہ انسان کی ذاتی ذمہ داری کا کوئی سوال‘ نہ زندگی کے حیوانی مقاصد سے بالاتر کسی مقصد اور کسی نصب العین کا کوئی امکان۔ یہ خالص مادی تہذیب ہے۔ اس کا پورا نظام خدا ترسی‘ راست روی‘ صداقت پسندی‘ حق جوئی‘ اخلاق‘ دیانت‘ امانت‘ نیکی‘ حیا‘ پرہیزگاری اور پاکیزگی کے اُن تصورات سے خالی ہے جن پر اسلامی تہذیب کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس کا نظریہ اسلام کے نظریے کی بالکل ضد ہے۔ اس کا راستہ اُس راستے کی عین مخالف سمت میں ہے جو اسلام نے اختیار کیا ہے۔ اسلام جن چیزوں پر انسانی اخلاق اور تمدن کی بِنا رکھتا ہے ان کو یہ تہذیب بیخ و بن سے اکھاڑ دینا چاہتی ہے اور یہ تہذیب جن بنیادوں پر انفرادی سیرت اور اجتماعی نظام کی عمارت قائم کرتی ہے اُن پر اسلام کی عمارت ایک لمحے کے لیے بھی نہیں ٹھہر سکتی۔ گویا اسلام اور مغربی تہذیب دو ایسی کشتیاں ہیں جو بالکل مخالف سمتوں میں سفرکر رہی ہیں۔ جو شخص ان میں سے کسی ایک کشتی پر سوار ہوگا اسے لامحالہ دوسری کشتی کو چھوڑنا پڑے گا اور جو بیک وقت ان دونوں پر سوار ہوگا اس کے دو ٹکڑے ہو جائیں گے۔

اس کو بدقسمتی کے سوا اور کیا کہیے کہ جس صدی میں یہ نئی تہذیب اپنی مادہ پرستی، الحاد اور دہریت کی انتہا کو پہنچی‘ ٹھیک وہی صدی تھی جس میں مراکش سے لے کر مشرق اقصیٰ تک تمام اسلامی ممالک مغربی قوموں کے سیاسی اقتدار اور حاکمانہ استیلا سے مغلوب ہوئے۔ مسلمانوں پر مغربی تلوار اور قلم دونوں کا حملہ ایک ساتھ ہوا۔ جو دماغ مغربی طاقتوں کے سیاسی غلبے سے مرعوب اور دہشت زدہ ہو چکے تھے اُن کے لیے مشکل ہوگیا کہ مغرب کے فلسفے و سائنس اور ان کی پروَردہ تہذیب کے رعب داب سے محفوظ رہتے۔ خصوصیت کے ساتھ ان مسلمان قوموں کی حالت اور بھی زیادہ نازک تھی جو براہِ راست کسی مغربی سلطنت کے زیر حکم آگئیں تھیں۔ ان کو اپنے دنیوی مفاد کی حفاظت کے لیے مجبوراً مغربی علوم حاصل کرنے پڑتے اور چونکہ یہ تحصیلِ علم خالص تحصیلِ علم کی خاطر نہ تھی اور مزید براں ایک مرعوب ذہنیت کے ساتھ مغربی استادوں کے سامنے زانوئے ادب تہ کیا گیا تھا اس لیے مسلمانوں کی نئی نسلوں نے شدت کے ساتھ مغربی افکار اور سائنٹیفک نظریات کا اثر قبول کیا۔ ان کی ذہنیتیں مغربی سانچے میں ڈھلتی چلی گئیں۔ ان کے دلوں میں مغربی تہذیب کا نفوذ بڑھتا چلا گیا۔ ان میں وہ ناقدانہ نظر پیدا ہی نہیں ہوئی جس سے وہ صحیح اور غلط کو پرکھتے اور صرف صحیح کو اختیار کرتے۔ ان میں یہ صلاحیت ہی پیدا نہ ہوسکی کہ آزادی اور استقلال کے ساتھ غور و فکر کرتے اور اپنے ذاتی اجتہاد سے کوئی رائے قائم کرتے۔ اسی کا نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلامی تہذیب جن بنیادوں پر قائم ہے وہ متزلزل ہوگئی ہیں۔ ذہنیتوں کا وہ سانچہ ہی بگڑ گیا ہے جس سے اسلامی طریق پر سوچا اور سمجھا جاسکتا تھا۔ مغربی طریق پر سوچنے اور مغربی تہذیب کے اصولوں پر اعتقاد رکھنے والے دماغ کی ساخت ہی ایسی ہے کہ اس میں اسلام کے اصول ٹھیک نہیں بیٹھ سکتے اور جب اصول ہی اس میں نہیں سما سکتے تو فروع میں طرح طرح کے شبہات اور نت نئے شکوک پیدا ہونا ہرگز قابلِ تعجب نہیں۔

اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کا سواد اعظم اب بھی اسلام کی صداقت پر ایمان رکھتا ہے اور مسلمان رہنا چاہتا ہے، لیکن دماغ مغربی افکار اور مغربی تہذیب سے متاثر ہو کر اسلام سے منحرف ہو رہے ہیں اور یہ انحراف بڑھتا چلا جارہا ہے۔ سیاسی غلبہ واستیلا سے قطع نظر‘ مغرب کا علمی اور فکری داب و تسلط دنیا کی ذہنی فضا پر چھایا ہوا ہے اور اس نے نگاہوں کے زاویے اس طرح بدل دیے ہیں کہ دیکھنے والوں کے لیے مسلمان کی نظر سے دیکھنا اور سوچنے والوں کے لیے اسلامی طریق پر پوچنا مشکل ہوگیا ہے۔ یہ اشکال اُس وقت تک دور نہ ہوگا جب تک مسلمانوں میں آزاد اہل فکر پیدا نہ ہوں گے۔ اسلام میں ایک نشاۃ جدید (Rennaissance) کی ضرورت ہے۔ پرانے اسلامی مفکرین و محققین کا سرمایہ اب کام نہیں دے سکتا۔ دنیا اب آگے بڑھ چکی ہے۔ اس کو اب الٹے پاؤں ان منازل کی طرف واپس لے جانا ممکن نہیں ہے جن سے وہ چھے سو برس پہلے گزر چکی ہے۔ علم و عمل کے میدان میں رہنمائی وہی کر سکتا ہے جو دنیا کو آگے کی جانب چلائے، نہ کہ پیچھے کی جانب۔ لہٰذا اب اگر اسلام دوبارہ دنیا کا رہنما بن سکتا ہے تو اس کی بس یہی ایک صورت ہے کہ مسلمانوں میں ایسے مفکر اور محقق پیدا ہوں جو فکر و نظر اور تحقیق و اکتشاف کی قوت سے اُن بنیادوں کو ڈھا دیں جن پر مغربی تہذیب کی عمارت قائم ہوئی ہے۔ قرآن کے بتائے ہوئے طریق فکر و نظر پر آثار کے مشاہدے اور حقائق کی جستجو سے ایک نئے نظام فلسفہ کی بِنا رکھیں جو خالص اسلامی فکر کا نتیجہ ہو۔ ایک نئی حکمت طبیعی (Natural Science) کی عمارت اٹھائیں جو قرآن کی ڈالی ہوئی داغ بیل پر اٹھے۔ ملحدانہ نظریے کو توڑ کر الٰہی نظریے پر فکر و تحقیق کی اساس قائم کریں اور اس جدید فکر و تحقیق کی عمارت کو اِس قوت کے ساتھ اٹھائیں کہ وہ تمام دنیا پر چھا جائے اور دنیا میں مغرب کی مادی تہذیب کے بجائے اسلام کی حقانی تہذیب جلوہ گر ہو۔

یہ جو کچھ کہا گیا ہے اس کے مقصد و مدّعا کو تمثیل کے پیرائے میں یوں سمجھیے کہ دنیا گویا ایک ریل گاڑی ہے جس کو فکر و تحقیق کا انجن چلا رہا ہے اور مفکرین و محققین اس انجن کے ڈرائیور ہیں۔ یہ گاڑی ہمیشہ اُسی رخ پر سفر کرتی ہے جس رخ پر ڈرائیور اس کو چلاتے ہیں۔ جو لوگ اس میں بیٹھے ہوئے ہیں وہ مجبور ہیں کہ اسی طرف جائیں جس طرف گاڑی جارہی ہے خواہ وہ اس طرف جانا چاہیں یا نہ چاہیں۔ اگر گاڑی میں کوئی ایسا مسافر بیٹھا ہے جو اس رخ پر نہیں جانا چاہتا تو وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتا کہ چلتی گاڑی ہی میں بیٹھے بیٹھے اپنی نشست کا رخ آگے کے بجائے پیچھے یا دائیں یا بائیں پھیر دے، مگر نشست کا رخ بدل دینے سے وہ اپنے سفر کا رخ نہیں بدل سکتا۔ سفر کا رخ بدلنے کی صورت اس کے سوا اور کوئی نہیں کہ انجن پر قبضہ کیا جائے اور اس کی رفتار کو اس جانب پھیر دیا جائے جو مطلوب ہے۔ اس وقت جو لوگ انجن پر قابض ہیں وہ سب خدا سے پھرے ہوئے ہیں اور فکر اسلامی سے بے بہرہ ہیں، اس لیے گاڑی اپنے مسافروں کو لیے ہوئے الحاد اور مادہ پرستی کی طرف دوڑی چلی جارہی ہے اور سب مسافر طوعًا و کرھًا اسلام کی منزل مقصود سے دور، اور دور تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ اب اس رفتار کو بدلنے کے لیے ضرورت ہے کہ خدا پرستوں میں سے کچھ باہمت مرد اٹھیں اور جدوجہد کرکے انجن کو اُن ملحدین کے ہاتھوں سے چھین لیں۔ جب تک یہ نہ ہو گا، گاڑی کا رخ نہ بدلے گا اور ہمارے جھنجھلانے، بگڑنے اور شور مچانے کے باوجود، وہ اسی راہ پر سفر کرتی رہے گی جس پر ناخدا شناس ڈرائیور اس کو چلا رہے ہیں۔

(ترجمان القرآن، جمادی الاخری ۱۳۵۳ھ۔ اگست ۱۹۳۴ء)

۱۔ ڈیکارٹ (Descartes،م ۱۶۵۰ء) جو مغربی فلسفے کا آدم سمجھا جاتا ہے ایک طرف تو خدا کا زبردست قائل ہے‘ اور مادہ کے ساتھ روح...
03/07/2021

۱۔ ڈیکارٹ (Descartes،م ۱۶۵۰ء) جو مغربی فلسفے کا آدم سمجھا جاتا ہے ایک طرف تو خدا کا زبردست قائل ہے‘ اور مادہ کے ساتھ روح کا مستقل وجود بھی مانتا ہے مگر دوسری طرف وہی ہے جس نے عالم طبیعت کے آثار کی توجیہ میکانکی (Mechanical) طریق پر کرنے کی ابتدا کی اور اس طریق فکر کی بنیاد رکھی جو بعد میں سراسر مادہ پرستی (Materialism) بن گیا۔

۲۔ ہابس (Hobbes،م۱۶۷۹ء) اس سے ایک قدم اور آگے بڑھ کر فوق الطبیعت (Super natural)کی کھلم کھلا مخالفت کرتا ہے‘ نظام عالم اور اس کی ہر شے کو میکانکی توجیہہ کے قابل قرار دیتا ہے اور کسی ایسی نفسی یا روحی یا عقلی قوت کا قائل نہیں ہے جو اس مادی دنیا میں تصرف کرنے والی ہو مگر‘ اس کے ساتھ ہی وہ خدا کو بھی مانتا ہے۔ اس حیثیت سے کہ ایسی ایک علت العلل کا ماننا ایک عقلی ضرورت ہے۔

۳۔ اسی زمانے میں سپائنوزا (Spinoza،م۱۶۷۷ء) اٹھا جو سترھویں صدی میں عقلیت (Rationalism) کا سب سے بڑا علم بردار تھا۔ اس نے مادہ اور روح اور خدا کے درمیان کوئی فرق نہ رکھا‘ خدا اور کائنات کو ملا کر ایک کل بنا دیا اور اس کل میں خدا کے اختیار مطلق کو تسلیم نہ کیا۔

۴۔ لائبنیز (Leibnitz،م۱۷۱۶ء) اور لاک (Locke،م ۱۷۰۴ء) خدا کے قائل تھے‘ مگر دونوں کا میلان نیچریت کی جانب تھا۔

یہ سترھویں صدی کا فلسفہ تھا جس میں خدا پرستی اور نیچریت دونوں ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔ اسی طرح سائنس نے بھی سترھویں صدی تک کامل الحاد کا رنگ اختیار نہیں کیا۔ کوپر نیکس (Copernicus)، کپلر (Kepler)، گیلیلو(Galileo)، نیوٹن اور سائنس کے دوسرے علم برداروں میں سے کوئی بھی خدا کا منکر نہ تھا، مگر یہ کائنات کے اسرار کی جستجو میں الٰہی نظریے سے قطع نظر کرکے ان قوتوں کو تلاش کرنا چاہتے تھے جو اس نظام کو چلا رہی ہیں اور ان قوانین کو معلوم کرنے کے خواہش مند تھے جن کے تحت یہ نظام چل رہا ہے۔ یہ الٰہی نقطہ نظر سے قطع نظر کرنا ہی دراصل اس دہریت اور نیچریت کا تخم تھا جو بعد میں حریتِ فکر کے درخت سے پیدا ہوئی، لیکن سترھویں صدی کے حکما کو اس کا شعور نہ تھا۔ وہ نیچریت اور خدا پرستی میں کوئی خطِ امتیاز نہ کھینچ سکے اور یہی سمجھتے رہے کہ یہ دونوں ایک ساتھ نبھ سکتی ہیں۔

اٹھارہویں صدی میں یہ حقیقت نمایاں ہوگئی کہ جو طریق فکر خدا کی ہستی کو نظر انداز کرکے، نظامِ کائنات کی جستجو کرے گا وہ مادیت‘ بے دینی اور الحاد تک پہنچے بغیر نہ رہ سکے گا۔ اس صدی میں جان ٹولینڈ (John Toland)، ڈیوڈہار ٹلے (David Hartley)، جوزف پریسٹلے (Josoph Priestley)،والٹیر (Voltaire)، میٹری (La Mettrie)، ہول باخ (Holbach)، کیبانیس (Cabanis)،ڈینس ڈائیڈیرو (Denis Diderot)،مانٹسیکو (Montisque)، روسو (Rosseau) اور ایسے ہی دوسرے آزاد خیال فلاسفر و حکما پیدا ہوئے جنھوں نے یا تو علانیہ خدا کے وجود سے انکار کیا، یا اگر بعض نے اسے تسلیم کیا بھی تو اس کی حیثیت ایک دستوری فرماں روا (Constitutional Moharch)سے زیادہ نہ سمجھی جو نظامِ کائنات کو ایک مرتبہ حرکت میں لے آنے کے بعد گوشہ نشین ہوگیا ہے اور اب اس نظام کے چلانے میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ یہ لوگ عالم طبیعت‘ اور دنیائے مادہ حرکت کے باہر کسی چیز کے وجود کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے اور اِن کے نزدیک حقیقت صرف انھی چیزوں کی تھی جو ہمارے مشاہدے و تجربے میں آتی ہیں۔ ہیوم (Hume)نے اپنی تجربیت (Empiricism) اور فلسفہ تشکیک (Scepticism)سے اس طریق فکر کی زبردست تائید کی اور معقولات کی صحت کے لیے بھی تجربے ہی کو معیار قرار دینے پر زور دیا۔ برکلے (Berkeley) نے مادیت کی اس بڑھتی ہوئی رَو کا جان توڑ مقابلہ کیا مگر وہ اس کو نہ روک سکا۔ ہیگل (Hegal)نے مادیت کے مقابلے میں تصوریت (Idealism) کو فروغ دینا چاہا مگر ٹھوس مادے کے مقابلے میں لطیف تصور کی پرستش نہ ہوئی۔ کانٹ (Kant) نے بیچ کی یہ راہ نکالی کہ خدا کی ہستی‘ روح کابقا‘ اور ارادے کی آزادی ان چیزوں میں سے نہیں ہیں جو ہمارے علم میں آسکیں۔ یہ چیزیں مانی نہیں جاسکتیں۔ تاہم ان پر ایمان لایا جاسکتا ہے اور حکمت عملی (Practical Wisdom)اس کی مقتضی ہے کہ ان پر ایمان لایا جائے۔ یہ خدا پرستی اور نیچریت کے درمیان مصالحت کی آخری کوشش تھی، لیکن ناکام ہوئی کیونکہ جب عقل و فکر کی گمرہی نے خدا کو محض وہم کی پیداوار یا حد سے حد ایک معطل اور بے اختیار ہستی قرار دے لیا تو محض اخلاق کی حفاظت کے لیے اس کو ماننا‘ اس سے ڈرنا‘ اور اس کی خوشنودی چاہنا سراسر ایک غیر عاقلانہ فعل تھا۔

انیسویں صدی میں مادیت اپنے کمال کو پہنچ گئی‘ فوگت (Vogt)، بوخنر (Buchner)، سولبے (Czolbe)، کومت (Comte)، مولشات (Moleschotte) اور دوسرے حکما و فلاسفہ نے مادہ اور اس کے خواص کے سوا ہر شے کے وجود کو باطل قرار دیا۔ مل (Mill) نے فلسفے میں تجریت اور اخلاق میں افادیت (Utiliterianism) کو فروغ دیا۔ اسپنسر (Spencer) نے فلسفیانہ ارتقائیت اور نظام کائنات کے خود بخود پیدا ہونے اور زندگی کے آپ سے آپ رونما ہو جانے کا نظریہ پوری قوت کے ساتھ پیش کیا۔ حیاتیات (Biology)، عضویات (Physiology)،ارضیات (Geology) اور حیوانیات (Zoology) کے اکتشافات، عملی سائنس کی ترقی اور مادی وسائل کی کثرت نے یہ خیال پوری پختگی کے ساتھ دلوں میں راسخ کر دیا کہ کائنات آپ سے آپ وجود میں آئی ہے‘ کسی نے اس کو پیدا نہیں کیا۔ آپ سے آپ لگے بندھے قوانین کے تحت چل رہی ہے‘ کوئی اس کو چلانے والا نہیں ہے۔ آپ سے آپ ترقی کے منازل طے کرتی رہی ہے‘ کسی فوق الطبیعت ہستی کا ہاتھ اس خود بخود حرکت کرنے والی مشین میں کام نہیں کر رہا ہے۔ بے جان مادے میں جان کسی کے امر سے نہیں پڑتی‘ بلکہ خود مادہ جب اپنے نظم میں ترقی کرتا ہے تو اس میں جان پڑ جاتی ہے۔ نمو‘ حرکتِ ارادی‘ احساس‘ شعور‘ فکر‘ سب اسی ترقی یافتہ مادے کے خواص ہیں۔ حیوان اور انسان سب کے سب مشینیں ہیں جو طبیعی قوانین کے تحت چل رہی ہیں۔ ان مشینوں کے پرزے جس طور سے ترتیب پاتے ہیں اسی طور کے افعال ان سے صادر ہوتے ہیں۔ ان میں کوئی اختیار اور کوئی آزاد ارادہ (Free will) نہیں ہے‘ ان کے نظام کا درہم برہم ہو جانا‘ ان کی انرجی کا خرچ ہو جانا ہی ان کی موت ہے جو فنائے محض کی ہم معنی ہے۔ جب مشین ٹوٹ پھوٹ گئی تو اس کے خواص بھی باطل ہوگئے اب ان کے لیے حشر اور بارِدگر پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

02/07/2021

ذہنی غلبے و استیلا کی بِنا دراصل فکری اجتہاد اور علمی تحقیق پر قائم ہوتی ہے۔ جو قوم اس راہ میں پیش قدمی کرتی ہے وہی دنیا کی رہنما اور قوموں کی امام بن جاتی ہے اور اسی کے افکار دنیا پر چھا جاتے ہیں اور جو قوم اس راہ میں پیچھے رہ جاتی ہے اسے مُقَلِّد و مُتَّبِع بننا پڑتا ہے۔ اُس کے افکار و معتقدات میں یہ قوت باقی نہیں رہتی کہ وہ دماغوں پر اپنا تسلط قائم رکھ سکیں۔ مجتہد و محقق قوم کے طاقت وَرافکار و معتقدات کا سیلاب اُن کو بہا لے جاتا ہے اور اُن میں اتنا بل بوتا نہیں رہتا کہ اپنی جگہ پر ٹھہرے رہ جائیں۔ مسلمان جب تک تحقیق و اجتہاد کے میدان میں آگے بڑھتے رہے تمام دنیا کی قومیں ان کی پَیرو اور مُقَلّد ہیں۔ اسلامی فکر ساری نوعِ انسانی کے افکار پر غالب رہی۔ حسن اور قبح‘ نیکی اور بدی‘ غلط اور صحیح کا جو معیار اسلام نے مقرر کیا وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر تمام دنیا کے نزدیک معیار قرار پایا اور قصدًایا اضطرا رًا دنیا اپنے افکار و اعمال کو اسی معیار کے مطابق ڈھالتی رہی، مگر جب مسلمانوں میں اربابِ فکر اور اصحابِ تحقیق پیدا ہونے بند ہوگئے‘ جب انھوں نے سوچنا اور دریافت کرنا چھوڑ دیا‘ جب وہ اکتسابِ علم اور اجتہادِ فکر کی راہ میں تھک کر بیٹھ گئے تو گویا انھوں نے خود دنیا کی رہنمائی سے استعفیٰ دے دیا۔ دوسری طرف مغربی قومیں اس میں آگے بڑھیں۔ انھوں نے غور و فکر کی قوتوں سے کام لینا شروع کیا‘ کائنات کے راز ٹٹولے اور فطرت کی چھپی ہوئی طاقتوں کے خزانے تلاش کیے‘ اس کا لازمی نتیجہ وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔ مغربی قومیں دنیا کی رہنما بن گئیں اور مسلمانوں کو اسی طرح ان کے اقتدار کے آگے سرتسلیمِ خم کرنا پڑا جس طرح کبھی دنیا نے خود مسلمانوں کے اقتدار کے آگے خم کیا تھا۔

چار پانچ سو سال تک مسلمان اپنے بزرگوں کے بچھائے ہوئے بستر پر آرام سے سوتے رہے اور مغربی قومیں اپنے کام میں مشغول رہیں۔ اس کے بعد دفعتہ مغربی اقتدار کا سیلاب اٹھا اور ایک صدی کے اندر اندر تمام روئے زمین پر چھا گیا۔ نیند کے ماتے آنکھیں ملتے ہوئے اٹھے تو دیکھا کہ مسیحی یورپ قلم اور تلوار دونوں سے مسلح ہے اور دونوں طاقتوں سے دنیا پر حکومت کر رہا ہے۔ ایک چھوٹی سی جماعت نے مدافعت کی کوشش کی مگر نہ قلم کا زور تھا نہ تلوار کا۔ شکست کھاتی چلی گئی۔ رہا قوم کا سواد اعظم تو اس نے اسی سنت پر عمل کیا جو ہمیشہ سے کمزوروں کی سنت رہی ہے۔ تلوار کے زور‘ استدلال کی قوت‘ علمی شواہد کی تائید اور نظر فریب حسن و جمال کے ساتھ جو خیالات‘ نظریات اور اصول مغرب سے آئے‘ آرام طلب دماغوں اور مرعوب ذہنیتوں نے ان کو ایمان کا درجہ دے دیا۔ پرانے مذہبی معتقدات‘ اخلاقی اصول اور تمدنی آئین جو محض روایتی بنیادوں پر قائم رہ گئے تھے‘ اس نئے اور طاقت وَر سیلاب کی رو میں بہتے چلے گئے اور ایک غیر محسوس طریقے سے دلوں میں یہ مفروضہ جاگزیں ہوگیا کہ جو کچھ مغرب سے آتا ہے وہی حق ہے اور وہی صحت و درستی کا معیار ہے۔

مغربی تہذیب کے ساتھ جن قوموں کا تصادم ہوا اُن میں سے بعض تو وہ تھیں جن کی کوئی مستقل تہذیب نہ تھی۔ بعض وہ تھیں جن کے پاس اپنی ایک تہذیب تو تھی مگر ایسی مضبوط نہ تھی کہ کسی دوسری تہذیب کے مقابلے میں وہ اپنے خصائص کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتی۔ بعض وہ تھیں جن کی تہذیب اپنے اصول میں اس آنے والی تہذیب سے کچھ بہت زیادہ مختلف نہ تھی۔ ایسی تمام قومیں تو بہت آسانی سے مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگ گئیں‘ اور کسی شدید تصادم کی نوبت نہ آنے پائی، لیکن مسلمانوں کا معاملہ ان سب سے مختلف ہے۔ یہ ایک مستقل اور مکمل تہذیب کے مالک ہیں۔ ان کی تہذیب اپنا ایک مکمل ضابطہ رکھتی ہے جو فکری اور عملی دونوں حیثیتوں سے زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہے۔ مغربی تہذیب کے اساسی اصول کلیتہً اس تہذیب کے مخالف واقع ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدم قدم پر یہ دونوں تہذیبیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں اور ان کے تصادم سے مسلمانوں کی اعتقادی اور عملی زندگی کے ہر شعبے پر نہایت تباہ کن اثر پڑ رہا ہے۔

مغربی تہذیب نے جس فلسفے اور سائنس کی آغوش میں پرورش پائی ہے وہ پانچ چھے سو سال سے دہریت‘ الحاد‘ لا مذہبی اور مادہ پرستی کی طرف جارہے ہیں۔ وہ جس تاریخ پیدا ہوئی اسی تاریخ سے مذہب کے ساتھ اس کی لڑائی شروع ہوگئی‘ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مذہب کے خلاف عقل و حکمت کی لڑائی ہی نے اس تہذیب کو پیدا کیا۔ اگرچہ کائنات کے آثار کا مشاہدہ‘ اُن کے اسرار کی تحقیق‘ ان کے کلی قوانین کی دریافت‘ ان کے مظاہر پر غور و فکر‘ اور ان کو ترتیب دے کر قیاس و برہان کے ذریعے سے نتائج کا استنباط‘ کوئی چیز بھی مذہب کی ضد نہیں ہے‘ مگر سوئے اتفاق سے نشاۃِ جدید (Rennaissance)کے عہدمیں جب یورپ کی نئی علمی تحریک رونما ہوئی‘ تو اس تحریک کو ان عیسائی پادریوں سے سابقہ پیش آیا جنھوں نے اپنے مذہبی معتقدات کو قدیم یونانی فلسفہ و حکمت کی بنیادوں پر قائم کر رکھا تھا اور جو یہ سمجھتے تھے کہ اگر جدید علمی تحقیقات اور فکری اجتہاد سے ان بنیادوں میں ذرا سا بھی تزلزل واقع ہوا تو اصل مذہب کی عمارت پیوندِ خاک ہو جائے گی۔ اس غلط تخیل کے زیر اثر انھوں نے نئی علمی تحریک کی مخالفت کی اور اس کے روکنے کے لیے قوت سے کام لیا۔ مذہبی عدالتیں (Inquisitions)قائم کی گئیں جن میں اس تحریک کے علم برداروں کو سخت وحشیانہ اور ہولناک سزائیں دی گئیں، لیکن یہ تحریک ایک حقیقی بیداری کا نتیجہ تھی، اس لیے تشدد سے دبنے کے بجائے اور بڑھتی چلی گئی حتیٰ کہ حریتِ فکر کے سیلاب نے مذہبی اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔

ابتدا میں لڑائی حریت فکر کے علم برداروں اور کلیسا کے درمیان تھی مگر چونکہ کلیسا مذہب کے نام پر آزاد خیالوں سے جنگ کر رہا تھا‘ اس لیے بہت جلدی اس لڑائی نے مسیحی مذہب اور آزاد خیالی کے درمیان جنگ کی صورت اختیار کرلی۔ اس کے بعد نفس مذہب (خواہ وہ کوئی مذہب ہو) اس تحریک کا مد مقابل قرار دیا گیا۔ سائنٹفک طریقے پر سوچنے کے معنی یہ قرار پائے کہ یہ طریق فکر مذہبی طریق فکر کی عین ضد ہے۔ جو شخص سائنٹفک طریق سے کائنات کے مسائل پر غور کرے اس پر لازم ہے کہ مذہبی نظریے سے ہٹ کر اپنی راہ نکالے۔ کائنات کے مذہبی نظریے کا بنیادی تخیل یہ ہے کہ عالم طبیعت (Physical World) کے تمام آثار اور جملہ مظاہر کی علت کسی ایسی طاقت کو قرار دیا جائے جو اس عالم سے بالاتر ہو۔ یہ نظریہ چونکہ جدید علمی تحریک کے دشمنوں کا نظریہ تھا اس لیے جدید تحریک کے علم برداروں نے لازم سمجھا کہ خدا یا کسی کو فوق الطبیعت (Super natural)ہستی فرض کیے بغیر کائنات کے معمے کو حل کرنے کی کوشش کریں اور ہر اس طریقے کو خلافِ حکمت (Unscientific)قرار دیں جس میں خدا کا وجود فرض کرکے مسائل کائنات پر نظر کی گئی ہو۔ اس طرح نئے دور کے اہل حکمت و فلسفہ میں خدا اور روح یا روحانیت اورفوق الطبیعت کے خلاف ایک تعصب پیدا ہوگیا جو عقل و استدلال کا نتیجہ نہ تھا بلکہ سراسر جذبات کی برانگیختی کا نتیجہ تھا۔ وہ خدا سے اس لیے تبریٰ نہ کرتے تھے کہ دلائل اور براہین سے اس کا عدمِ وجود اور عدمِ وجوب ثابت ہوگیا تھا‘ بلکہ اس سے اس لیے بیزار تھے کہ وہ ان کے اور ان کی آزادی خیال کے دشمنوں کا معبود تھا۔ بعد کی پانچ صدیوں میں ان کی عقل و فکر اور ان کی علمی جدوجہد نے جتنا کام کیا اس کی بنیاد میں یہی غیر عقلی جذبہ کار فرما رہا۔

مغربی فلسفہ اور مغربی سائنس دانوں نے جب سفر شروع کیا تو اگرچہ ان کا رخ خدا پرستی کے بالکل مخالف سمت میں تھا، تاہم چونکہ وہ مذہبی ماحول میں گھرے ہوئے تھے اس لیے وہ ابتداءً نیچریت (Naturalism)کو خدا پرستی کے ساتھ ساتھ نباہتے رہے، مگر جوں جوں وہ اپنے سفر میں آگے بڑھتے گئے‘ نیچریت خدا پرستی پر غالب آتی چلی گئی حتیٰ کہ خدا کا تخیل‘ اور خدا کے ساتھ ہر اُس چیز کا تخیل جو عالم طبیعت سے بالاتر ہو‘ اُن سے بالکل غائب ہوگیا اور وہ اس انتہا پر پہنچ گئے کہ مادہ و حرکت کے سوا کوئی شے ان کے نزدیک حقیقی نہ رہی‘ سائنس نیچریت کا ہم معنی قرار پاگیا اور اہل حکمت و فلسفہ کا ایمان اس نظریہ پر قائم ہوگیا کہ ہر چیز جو ناپی اور تولی نہیں جاسکتی اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔مغربی فلسفہ و سائنس کی تاریخ اس بیان کی شاہد ہے

01/07/2021

ہماری ذہنی غلامی اور اس کے اسباب

حکومت و فرماں روائی اور غلبہ و استیلا کی دو قسمیں ہیں

* ایک ذہنی اور اخلاقی غلبہ

* دوسرا سیاسی اور مادی غلبہ

پہلی قسم کا غلبہ یہ ہے کہ ایک قوم اپنی فکری قوتوں میں اتنی ترقی کر جائے کہ دوسری قومیں اسی کے افکار پر ایمان لے آئیں‘ اسی کے تخیلات‘ اسی کے معتقدات‘ اسی کے نظریات دماغوں پر چھا جائیں‘ ذہنیتیں اسی کے سانچے میں ڈھلیں‘ تہذیب اسی کی تہذیب ہو‘ علم اسی کا علم ہو‘ اسی کی تحقیق کو تحقیق سمجھا جائے اور ہر وہ چیز باطل ٹھہرائی جائے جس کو وہ باطل ٹھہرائے۔ دوسری قسم کاغلبہ یہ ہے کہ ایک قوم اپنی مادی طاقتوں کے اعتبار سے اتنی قوی بازو ہو جائے کہ دوسری قومیں اس کے مقابلے میں اپنی سیاسی و معاشی آزادی کو برقرار نہ رکھ سکیں اور کلی طور پر، یا کسی نہ کسی حد تک وہ غیر قوموں کے وسائل ثروت پر قابض اور ان کے نظم مملکت پر حاوی ہو جائے۔

اس کے مقابلے میں مغلوبیت اور محکومیت کی بھی دو قسمیں ہیں

o ایک ذہنی مغلوبیت

o دوسری سیاسی مغلوبیت

ان دونوں قسموں کی صفات کو اُن صفات کا عکس سمجھ لیجیے جو اوپر غلبے کی دو قسموں کے متعلق بیان کی گئی ہیں۔

یہ دونوں قسمیں ایک اعتبار سے الگ الگ ہیں۔ لازم نہیں ہے کہ جہاں ذہنی غلبہ ہو، وہاں سیاسی غلبہ بھی ہو، اور نہ یہ لازم ہے کہ جہاں سیاسی غلبہ ہو، وہاں ذہنی غلبہ بھی ہو، لیکن فطری قانون یہی ہے کہ جو قوم عقل و فکر سے کام لیتی اور تحقیق و اکتشاف کی راہ میں پیش قدمی کرتی ہے‘ اس کو ذہنی ترقی کے ساتھ ساتھ مادی ترقی بھی نصیب ہوتی ہے اور جو قوم تفکر و تدبر کے میدان میں مسابقت کرنا چھوڑ دیتی ہے وہ ذہنی انحطاط کے ساتھ مادی تنزل میں بھی مبتلا ہو جاتی ہے۔ پھر چونکہ غلبہ نتیجہ ہے قوت کا اور مغلوبیت نتیجہ ہے کمزوری کا‘ اس لیے ذہنی و مادی حیثیت سے درماندہ اور ضعیف قومیں اپنی درماندگی اور ضعف میں جس قدر ترقی کرتی جاتی ہیں اُسی قدر وہ غلامی اور محکومیت کے لیے مستعد ہوتی چلی جاتی ہیں اور طاقت وَر ذہنی اور مادی دونوں حیثیتوں سے طاقت وَر قومیں ان کے دماغ اور ان کے جسم دونوں پر حکمراں ہو جاتی ہیں۔

مسلمان آج کل اسی دوہری غلامی میں مبتلا ہیں۔ کہیں دونوں قسم کی غلامیاں پوری طرح مسلط ہیں اور کہیں سیاسی غلامی کم اور ذہنی غلامی زیادہ ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت کوئی اسلامی آبادی ایسی نہیں ہے جو صحیح معنوں میں سیاسی اور ذہنی اعتبار سے پوری طرح آزاد ہو۔ جہاں ان کو سیاسی استقلال اور خود اختیاری حاصل بھی ہے‘ وہاں وہ ذہنی غلامی سے آزاد نہیں ہیں۔ ان کے مدرسے‘ ان کے دفتر‘ ان کے بازار‘ ان کی انجمنیں‘ ان کے گھر‘ حتیٰ کہ ان کے جسم تک اپنی زبانِ حال سے شہادت دے رہے ہیں کہ ان پر مغرب کی تہذیب‘ مغرب کے افکار‘ مغرب کے علوم و فنون حکمران ہیں۔ وہ مغرب کے دماغ سے سوچتے ہیں، مغرب کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، مغرب کی بنائی ہوئی راہوں پر چلتے ہیں، خواہ ان کو اس کا شعور ہو یا نہ ہو‘ بہر صورت یہ مفروضہ اُن کے دماغوں پر مسلط ہے کہ حق وہ ہے جس کو مغرب حق سمجھتا ہے اور باطل وہ ہے جس کو مغرب نے باطل قرار دیا ہے۔ حق‘ صداقت‘ تہذیب‘ اخلاق‘ انسانیت‘ شائستگی‘ ہر ایک کا معیار ان کے نزدیک وہی ہے جو مغرب نے مقرر کر رکھا ہے۔ اپنے دین و ایمان‘ اپنے افکار و تخیلات‘ اپنی تہذیب و شائستگی اپنے اخلاق و آداب‘ سب کو وہ اسی معیار پر جانچتے ہیں۔ جو چیز اس معیار پر پوری اترتی ہے اسے درست سمجھتے ہیں‘ مطمئن ہوتے ہیں‘ فخر کرتے ہیں کہ ہماری فلاں چیز مغرب کے معیار پر پوری اترآئی اور جو چیز اُس معیار پر پوری نہیں اترتی اُسے شعوری یا غیر شعوری طور پر غلط مان لیتے ہیں۔ کوئی علانیہ اس کو ٹھکرا دیتا ہے‘ کوئی دل میں گھٹتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح کھینچ تان کر اُسے مغربی معیار کے مطابق کر دے۔

جب ہماری آزاد قوموں کا حال یہ ہے تو جو مسلمان قومیں مغربی اقوام کی محکوم ہیں اُن کی ذہنی غلامی کا حال کیا پوچھنا۔

اِس غلامی کا سبب کیا ہے؟ اس کی تشریح کے لیے ایک کتاب کی وسعت درکار ہے، مگر مختصًرا اس کو چند لفظوں میں بیان کیا جاسکتا ہے۔

30/06/2021

تنقیحات کامطالعہ شروع کیاجارہاہے
دیباچہ طبع اول
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
اس مجموعے میں وہ چھوٹے چھوٹے مضامین یکجا کر دیے گئے ہیں جو میں نے اسلام اور مغربی تہذیب کے تصادم سے پیدا شدہ مسائل پر مختلف اوقات میں لکھے ہیں۔ ان میں غیر اسلامی اثرات اور مسلمانوں کی کوتاہیوں پر تنقید بھی ہے‘ اور غلط فہمیوں میں الجھے ہوئے حقائق کی تنقیح بھی۔

جو علمی اور عملی مسائل آج کل شب و روز پیدا ہو رہے ہیں‘ ان کو حل کرنے کے لیے سب سے مقدّم ضرورت یہ ہے کہ لوگ ان کو صحیح روشنی میں دیکھیں اور خود ان کی اپنی بصیرت رنگین نہ رہے‘ اس لیے دارالاسلام کے علمی شعبے کی جانب سے یہ مجموعہ ابتدا ہی میں پیش کیا جارہا ہے تاکہ خیالات کے صاف کرنے میں اس سے مدد لی جائے۔

اس مجموعے کو ایک مسلسل اور مربوط کتاب کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ اس کا ہر مضمون بجائے خود مستقل ہے‘ البتہ ان مختلف مضامین میں ایک مقصدی ربط ضرور پایا جاتا ہے اور اسی ربط کے لحاظ سے انھیں ایک جگہ جمع کیا گیا ہے۔

ابوالاعلیٰ
۸ ربیع الثانی ۱۳۵۸ھ
(۷ جون ۱۹۳۹ء)

21/06/2021

مقدمہ

الٰہؔ ، رَبّؔ ، دینؔ اور عبادتؔ ، یہ چار لفظ قرآن کی اصطلاحی زبان میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ قرآن کی ساری دعوت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا ربّ والٰہ ہے، اس کے سوا نہ کوئی الٰہ ہے نہ رب، اور نہ الوہیت وربوبیت میں کوئی اس کا شریک ہے، لہٰذا اُسی کو اپنا الٰہ اور ربّ تسلیم کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی الٰہیّت وربوبیت سے انکار کر دو، اس کی عبادت اختیار کرو اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اس کے لیے اپنے دین کو خالص کر لو اور ہر دوسرے دین کو رَدّ کر دو۔

وَمَآاَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْٓ اِلَیْہِ اَنَّہٗ لَآاِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِo (الانبیا۔ ۲۵)

’’ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اس کی طرف یہی وحی کی ہے، کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے لہٰذا میری عبادت کرو۔‘‘

وَمَآاُمِرُوْ اِلَّا لِیَعْبُدُوْآ اِلٰھًاوَّاحِدًا ج لَااِلٰہَ اِلَّا ھُوَط سُبْحَانَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَo (التوبہ۔۳۱)

’’اور انھیں کوئی حکم نہیں دیا گیا بجز اس کے کہ ایک ہی الٰہ کی عبادت کریں۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، وہ پاک ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں‘‘۔

اِنَّ ھٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِo (الانبیا۔ ۹۲)

’’یقیناًتمھارا (یعنی تمام انبیاکایہ گروہ ایک ہی گروہ ہے، اور میں تمھارا ربّ ہوں لہٰذا میری عبادت کرو۔‘‘
قُلْ اَغَیْرَاللّٰہِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّھُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْ ءٍ ط (انعام۔۱۶۴)

’’کہو، کیا مَیں اللہ کے سوا کوئی اور ربّ تلاش کروں؟ حالانکہ وہی ہر چیز کا ربّ ہے‘‘

فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَایُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا ۔ (الکہف۔۱۱۰)

’’تو جو کوئی اپنے ربّ کی ملاقات کا امیدوار ہے اُسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اوراپنے ربّ کی عبادت میں کسی اور کی عبادت شریک نہ کرے۔‘‘

وَلَقَدْبَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَج

(النحل۔۳۶

’’ہم نے ہر قوم میں ایک رسول اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرواور طاغوت کی عبادت سے پرہیز کرو۔‘‘

اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ وَلَہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا وَّاِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَo (آلِ عمران۔ ۸۳)

’’تو کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں، حالانکہ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب چار وناچار اُسی کی مطیع ہیں اور اُسی کی طرف انھیں پلٹ کر جانا ہے۔‘‘

قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَo (الزُّمر۔۱۱)

’’اے نبیؐ کہو کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت کروں، اپنے دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌo

(آلِ عمران۔۵۱

’’اللہ ہی میرا ربّ بھی ہے اور تم سب کا بھی۔ لہٰذا اُسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ ‘‘

یہ چند آیات محض نمونہ کے طور پر ہیں۔ ورنہ جو شخص قرآن کو پڑھے گا وہ اوّل نظر میں محسوس کر لے گا کہ قرآن کا سارا بیان انھی چار اصطلاحوں کے گرد گھوم رہا ہے۔ اس کتاب کا مرکزی خیال (Central Ideaیہی ہے کہ

اللہ ربّ اورالٰہ ہے۔

اور ربوبیت والٰہیّت اللہ کے سوا کسی کی نہیں ہے۔

لہٰذا عبادت اُسی کی ہونی چاہیے۔

اور دین خالصًا اُسی کے لیے ہونا چاہیے۔

07/03/2021
22/10/2020

خدا کی کتابوں پر ایمان
تیسری چیز جس پر ایمان لانے کی تعلیم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہم کو دی گئی ہے، وہ اللہ کی کتابیں ہیں جو اس نے اپنی نبیوں پر نازل کیں۔
اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل فرمایا ہے، اسی طرح آپ سے پہلے جو رسول گزرے تھے، ان کے پاس بھی اپنی کتابیں بھیجی تھیں۔ ان میں سے بعض کتابوں کے نام ہم کو بتائے گئے ہیں۔ مثلاً صحفِ ابراہیم جو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اترے، تورات ؔ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی ، زبور جو حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس بھیجی گئی ، اور انجیل جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دی گئی۔ ان کے سوا دوسری مذہبی کتابیں جو رسولوں کے پاس آئی تھیں ان کے نام ہم کو نہیں بتائے گئے۔ اس لیے کسی اورمذہبی کتاب کے متعلق ہم یقین کےساتھ نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے ہے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے ہے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ البتہ ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو کتابیں بھی خدا کی طرف سے آئی تھیں وہ سب برحق تھیں۔
جن کتابوں کے نام ہم کو بتائے گئے ہیں ان میں صحف ابراہیم  تو اب دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ رہیں تورات اور زبور اور انجیل تو وہ البتہ یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس موجود ہیں، مگر قرآن شریف میں ہم کو بتایا گیا ہے کہ ان سب کتابوں میں لوگوں نے خدا کے کلام کو بدل ڈالا ہے اور اپنی طرف سے بہت سی باتیں ان کے اندر ملادی ہیں۔ خود عیسائی اور یہودی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اصل کتابیں ان کے پاس نہیں ہیں، صرف ان کے ترجمے باقی رہ گئے ہیں، جن میں صدیوں سے ترمیم ہوتی رہی ہے اب تک ہوتی چلی جارہی ہے۔ پھر ان کتابوں کے پڑھنے سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو خدا کی طرف سے نہیں ہوسکتیں۔ اس لیے جو کتابیں موجود ہیں وہ ٹھیک
ٹھیک خدا کی کتابیں نہیں ہیں، ان میں خدا کا کلام اور انسان کے کلام کون سا۔ لہذا پچھلی کتابوں پر ایمان کا جو حکم ہو کو دیا گیا ہے وہ صرف اس حیثیت سے ہے کہ خدا نے قرآن سے پہلے بھی دنیا کی ہر قوم کے پاس اپنے احکام اپنے نبیوں کے ذریعہ سے بھیجے تھے۔ اور وہ سب اسی ایک خدا کے احکام تھے جس کی طرف سے قران آیا ہے اور ‌قرآن کوئی نئی اور انوکھی کتاب نہیں ہے، بلکہ اسی کتاب نہیں ہے، بلکہ اسی تعلیم کو زندہ کرنے کے لیے بھیجی گئی ہے جس کو پہلے زمانہ کے لوگوں نے پایا اور کھودیا، یا بدل ڈالا، یا انسانی کلاموں سے خلط ملط کردیا۔
قرآن شریف خدا کی سب سے آخری کتاب ہے۔ اس میں اور پچھلی کتابوں میں کئی حیثیتوں سے فرق ہے:
1. پہلے جو کتابیں آئی تھیں ان میں سے اکثر کے اصلی نسخے دنیا سے گم ہوگئے اور ان کے صرف ترجمے رہ گئے ہیں۔لیکن قرآن جن الفاظ میں اترا تھا، ٹھیک ٹھیک انہی الفاظ میں موجود ہے، اس کے ایک حرف، بلکہ ایک شوشہ میں بھی تغیر نہیں ہوا۔
2. پچھلی کتابوں میں لوگوں نے کلام ِ الٰہی کے ساتھ اپنا کلام ملادیاہے۔ ایک ہی کتاب میں کلام ِ الہٰی بھی ہے، قومی تاریخ بھی ہے، بزرگوں کے حالات بھی ہیں، تفسیر بھی ہے، فقیہوں کے نکالے ہوئے شرعی مسئلے بھی ہیں اور یہ سب چیزیں اس طرح گڈمڈ ہیں کہ خدا کے کلام کو ان میں سے الگ چھانٹ لینا ممکن نہیں ہے۔مگر قرآن میں خالص کلامِ الہیٰ ہمیں ملتا ہے۔ اور اس کے اندر کسی دوسرے کے کلام کی ذرّہ برابر بھی آمیزش نہیں ہے۔ تفسیر، حدیث، فقہ، سیرت رسول، سیرت صحابہ اور تاریخ اسلام پر مسلمانوں نے جو کچھ بھی لکھا ہے وہ سب قرآن سے بالکل الگ دوسری کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ قرآن میں ان کا ایک لفظ بھی ملنے نہیں پایا ہے ۔
3. جتنی مذہبی کتابیں دنیاکی مختلف قوموں کے پاس ہیں، ان میں سے ایک کے متعلق بھی تاریخی سند سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ وہ جس نبی کی طرف منسوب ہے، واقعی اسی نبی کی ہے۔ بلکہ بعض مذہبی کتابیں ایسی بھی ہیں جن کے متعلق سرے سے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کس زمانہ میں کس نبی پر اتری تھیں۔مگر قرآن کے متعلق اتنی زبردست تاریخی شہادتیں موجود ہیں کہ کوئی شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت میں شک کرہی نہیں سکتا۔ اس کی آیتوں تک کے متعلق یہ معلوم ہے کہ کون سی آیت کب اور کہاں نازل ہوئی۔
4. پچھلی کتابیں جن زبانوں میں نازل ہوئی تھیں وہ ایک مدت سے مردہ ہوچکی ہیں۔ اب دنیا میں کہیں بھی ان کے بولنے والے باقی نہیں رہے اور ان کے سمجھنے والے بھی بہت کم پائے جاتے ہیں۔ ایسی کتابیں اگر اصلی اور صحیح حالت میں موجود بھی ہوں تو ان کے احکام کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا اور ان کی پیروی کرنا ممکن نہیں، لیکن قرآن جس زبان مین ہے وہ ایک زندہ زبان ہے، دنیامیں کروڑوں آدمی آج بھی اس کو بولتے ہیں اور کروڑوں آدمی اسے جانتے اور سمجھتے ہیں۔ اس کی تعلیم کا سلسلہ دنیا میں ہر جگہ جارہی ہے۔ ہر شخص اس کو سیکھ سکتا ہے اور جو اس کے سیکھنے کی فرصت نہیں رکھتا اس کو ہر جگہ ایسے لوگ مل سکتے ہیں جو قرآن کے معنی اسے سمجھانے کی قابلیت رکھتے ہوں۔
5. جتنی مذہبی کتابیں دنیا کی مختلف قوموں کے پاس ہیں، ان میں سے ہر کتاب میں کسی خاص قوم کو مخاطب کیا گیا ہے اور ہر کتاب میں ایسے احکام پائے جاتے ہیں جو معلوم ہوتا ہے کہ صرف ایک خاص زمانے کے حالات اور ضروریات کے لیے تھے، مگر اب نہ ان کی ضرورت ہے اور نہ اس پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے یہ بات خود بخود ظاہر ہوجاتی ہے کہ یہ سب کتابیں الگ الگ قوموں کے لیے مخصوص تھیں، ان میں سے کوئی کتاب بھی تمام دنیا کے لیے نہ آئی تھی۔ پھر جن قوموں کے لیے یہ کتابیں آئی تھیں، ان کے لیے بھی یہ ہمیشہ کے واسطے نہ تھیں، بلکہ کسی خاص زمانے کے لیے تھیں۔ اب قرآن کو دیکھو، اس کتاب میں ہر جگہ انسان کو مخاطب کیا گیا
دینیات - Page 38 of 64
ہے اس کے کسی ایک فقرے سے بھی یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ وہ خاص کسی قوم کے لیے ہے۔ نیز اس کتاب میں جتنے احکام دیے گئے ہیں وہ سب ایسے ہیں جن پر ہر زمانے میں ہر جگہ عمل کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ قرآن ساری دنیا کے لیے ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے۔
6. پچھلی کتابوں میں سے ہر ایک میں نیکی اور صداقت کی باتیں بیان کی گئی تھیں، اخلاق اور راست بازی کے اصول سکھائے گئے تھے، خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے طریقےبتائے گئے تھے۔ لیکن کوئی ایک کتاب بھی ایسی نہ تھی جس میں ساری خوبیوں کو ایک جگہ جمع کردیا گیا ہو اور کوئی چیز چھوڑی نہ گئی ہو۔ یہ بات صرف قرآن میں ہے کہ جتنی خوبیاں پچھلی کتابوں میں الگ الگ تھیں وہ سب اس میں جمع کردی گئی ہیں۔ اور جو خوبیاں پچھلی کتابوں سے چھوٹ گئی تھیں وہ بھی اس کتاب میں آگئی ہیں۔
تمام مذہبی کتابوں میں انسان کے دخل درمعقولات سے ایسی باتیں مل گئی ہیں جو حقیقت کے خلاف ہیں، عقل کے خلاف ہیں، ظلم اور بے انصافی پر مبنی ہیں، انسان کے عقیدے اور عمل دونوں کو خراب کرتی ہیں۔ حتّٰی کہ بہت سی کتابوں میں فحش اور بداخلاقی کی باتیں بھی پائی جاتی ہیں۔ قرآن ان سب چیزوں سے پاک ہے۔ اس میں کوئی بات بھی ایسی نہیں جو عقل کے خلاف ہو، یا جس کو دلیل یا تجربے سے غلط ثابت کیا جاسکتا ہو۔اس کے کسی حکم میں بے انصافی نہیں ہے۔ اس کی کوئی بات انسان کو گمراہی میں ڈالنے والی نہیں ہے۔ اس میں فحش اور بداخلاقی کا نام و نشان تک نہیں ہے، اوّل سے لے کر آخر تک سارا قرآن اعلیٰ درجہ کی حکمت و دانائی اور عدل و انصاف کی تعلیم اور راہ راست کی ہدایت اور بہترین احکام اور قوانین سے بھرا ہوا ہے۔
یہی خصوصیات ہیں جن کی بنا پر تمام دنیا کی قوموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ قرآن پر ایمان لائیں اور تمام کتابوں کو چھوڑ کر صرف اسی ایک کتاب کی پیروی کریں، کیونکہ انسان کو خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے جس قدر ہدایات کی ضرورت ہے وہ سب اس میں کے کم و کاست بیان کردی گئی ہیں۔ یہ کتاب آجانے کے بعد کسی دوسری کتاب کی حاجت باقی نہیں رہی۔
جب تم کو معلوم ہوگیا کہ قرآن اور دوسری کتابوں میں کیا فرق ہے تو یہ بات تم خود سمجھ سکتے ہو کہ دوسری کتابوں پر ایمان اور قرآن پر ایمان میں کیا فرق ہونا چاہیے۔ پچھلی کتابوں پر ایمان صرف تصدیق کی حد تک ہے یعنی وہ سب خدا کی طرف سے تھیں اور سچی تھیں اور اسی غرض کے لیے آئی تھیں جس کو پورا کرنے کے لیےقرآن آیا ہے۔ اور قرآن پر ایمان اس حیثیت سے ہے کہ یہ خدا کا خالص کلام ہے، سراسر حق ہے، اس کا ہر لفظ محفوظ ہے، اس کی ہر بات سچی ہے، اس کے ہر حکم کی پیروی فرض ہے اور وہ ہر بات رد کردینے کے قابل ہے جو قرآن کے خلاف ہو۔

Address

Madeji

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923352852613

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سیدابوالاعلی مودودی رحہ کی کتب کامطالعہ کریں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to سیدابوالاعلی مودودی رحہ کی کتب کامطالعہ کریں:

Shortcuts

Share

Category