03/09/2026
یہ صرف رزلٹ نہیں، خطرے کی گھنٹی ہے.....
نویں جماعت 2026: ہم نے بچوں کو کتاب سے اٹھا کر اسکرین کے حوالے کر دیا؟
آج پنجاب کے تعلیمی منظرنامے پر ایک عجیب خاموشی ہے۔
نتیجہ آ گیا۔
نمبروں کی فہرست آ گئی۔
کچھ گھروں میں مٹھائیاں بٹ رہی ہیں۔
کچھ گھروں میں آنکھیں نم ہیں۔
مگر مجھے لگتا ہے....
ہم نے اصل نتیجہ ابھی دیکھا ہی نہیں۔
اصل نتیجہ مارک شیٹ پر نہیں۔
اصل نتیجہ ہمارے بچوں کے مستقبل پر لکھا جا رہا ہے۔
2 ستمبر 2026 کو پنجاب کے تمام نو تعلیمی بورڈز نے نویں جماعت کے نتائج جاری کیے۔
اور اعداد و شمار چیخ چیخ کر ایک سوال کر رہے ہیں...
ہماری نسل کے ساتھ آخر ہو کیا رہا ہے؟
ذرا اعداد کو دیکھیے…
یہ معمولی ناکامی نہیں۔
لاہور: 2,80,676 امیدوار۔
صرف 46.51 فیصد کامیاب۔
یعنی تقریباً ہر دو میں سے ایک بچہ ناکام۔
گوجرانوالہ: 2,49,352 امیدوار۔
کامیابی صرف 46.51 فیصد۔
سرگودھا: 1,07,782 امیدوار۔
کامیاب صرف 42.61 فیصد۔
ساہیوال: 87,093 امیدوار۔
کامیاب صرف 43.41 فیصد۔
بہاولپور: 1,05,601 امیدوار۔
کامیابی صرف 38.46 فیصد۔
راولپنڈی: 1,21,739 امیدوار۔
کامیابی صرف 37.56 فیصد۔
فیصل آباد: 1,96,656 امیدوار۔
کامیابی 51.21 فیصد۔
ڈی جی خان: 1,06,001 امیدوار۔
کامیابی صرف 48.18 فیصد۔
ملتان: تقریباً 1.41 لاکھ امیدوار۔
کامیابی تقریباً 52.1 فیصد۔
یہ محض اعداد نہیں۔
یہ لاکھوں بچوں کی کہانی ہے۔
مگر اصل زلزلہ ابھی باقی ہے...
نتائج کا سب سے چونکا دینے والا پہلو صرف فیل ہونے والے بچے نہیں۔
لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے۔
راولپنڈی میں...
لڑکے: 27.99 فیصد
لڑکیاں: 46.48 فیصد
یعنی تقریباً 18.5 فیصد پوائنٹس کا فرق۔
بہاولپور میں....
لڑکے: 28.92 فیصد
لڑکیاں: 47.28 فیصد۔
ساہیوال میں...
لڑکے: 35.42 فیصد
لڑکیاں: 50.73 فیصد۔
سرگودھا میں....
لڑکے: 35.57 فیصد
لڑکیاں: 49.98 فیصد۔
ڈی جی خان میں...
لڑکے: 41.22 فیصد
لڑکیاں: 56.19 فیصد۔
اور لاہور میں۔۔۔۔
لڑکے: 37.08 فیصد
لڑکیاں: 54.62 فیصد۔
یہ فرق ہمیں روک رہا ہے۔
ہمیں آئینہ دکھا رہا ہے۔
اور پوچھ رہا ہے..۔۔۔
ہم اپنے بیٹوں کو کہاں لے جا رہے ہیں؟
کیا ہمارا بیٹا کتاب سے دور اور اسکرین کے قریب ہوتا جا رہا ہے؟
یہ سوال اب نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
موبائل ہاتھ میں ہے۔
کتاب میز پر ہے۔
YouTube کھلا ہے۔
TikTok چل رہا ہے۔
Facebook اسکرول ہو رہا ہے۔
Shorts ختم نہیں ہوتے۔
Reels ختم نہیں ہوتیں۔
ایک ویڈیو ختم ہوتی ہے۔
دوسری سامنے آ جاتی ہے۔
پھر تیسری۔
پھر چوتھی۔
اور کتاب کا ایک صفحہ بھی مکمل نہیں ہوتا۔
یہاں مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں۔
مسئلہ بے لگام ٹیکنالوجی ہے۔
مسئلہ موبائل نہیں۔
مسئلہ موبائل کا مالک بننے کے بجائے موبائل کا غلام بن جانا ہے۔
ایک عجیب مگر قابلِ غور حقیقت
ٹیکنالوجی کی دنیا کے بعض بڑے نام اپنے بچوں کے لیے اسکرین کے معاملے میں غیر معمولی احتیاط کرتے رہے ہیں۔
مثلاً بل گیٹس نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو 14 سال کی عمر تک موبائل فون نہیں دیا، جبکہ اسٹیو جابز نے بھی اپنے گھر میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو محدود رکھنے کی بات کی تھی۔
یہ بات سوچنے کے لیے کافی ہے۔
جو لوگ ٹیکنالوجی کو ہم سے زیادہ جانتے تھے، وہ اپنے بچوں کے اسکرین ٹائم کے بارے میں اتنے محتاط کیوں تھے؟
اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ثابت ہو گیا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں نے جان بوجھ کر ہمارے بچوں کو "نشے کا عادی" بنایا۔
ایسا دعویٰ ثبوت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن ایک حقیقت ضرور ہمارے سامنے ہے:
ہمیں ٹیکنالوجی استعمال کرنا سکھایا گیا، مگر اپنے بچوں کو ٹیکنالوجی سے بچانا ہم نے نہیں سیکھا۔
اور شاید یہی ہمارا المیہ ہے۔
ہم نے بچے کو کھلونا دیا تھا…
کھلونے نے بچہ ہم سے چھین لیا..۔۔
ہم نے کہا:
بچہ مصروف رہے گا۔
وہ مصروف ہو گیا۔
ہم نے کہا:
کارٹون دیکھ لے۔
وہ دیکھتا رہا۔
ہم نے کہا...
ایک گھنٹہ موبائل لے لو۔
وہ گھنٹوں لینے لگا۔
پھر ایک دن ہم نے دیکھا...
بچہ ہمارے پاس بیٹھا ہے۔
مگر ہمارے ساتھ نہیں ہے۔
آنکھیں ہمارے سامنے ہیں۔
ذہن کہیں اور ہے۔
انگلی اسکرین پر ہے۔
اور مستقبل...
خاموشی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔
یہ صرف والدین کا قصور بھی نہیں
ہمیں انصاف کرنا ہوگا۔
بچے اکیلے ذمہ دار نہیں۔
والدین بھی مکمل ذمہ دار نہیں۔
استاد بھی اکیلا ذمہ دار نہیں۔
سکول بھی اکیلا ذمہ دار نہیں۔
نظام بھی اکیلا ذمہ دار نہیں۔
یہ سب مل کر ایک تصویر بناتے ہیں۔
اگر بچہ روزانہ کئی گھنٹے اسکرین پر گزار رہا ہے، اگر گھر میں مطالعے کا ماحول نہیں، اگر اسکول میں Learning Gap کی بروقت نشاندہی نہیں، اگر تدریسی وقت مختلف تعطیلات اور شیڈول تبدیلیوں سے متاثر ہوتا ہے، اور اگر امتحان کے قریب آ کر اچانک تیاری شروع کی جاتی ہے....
تو پھر نتیجہ صرف بچے کی کمزوری نہیں رہتا۔
یہ پورے معاشرے کا مشترکہ نتیجہ بن جاتا ہے۔
اور ہمیں اپنے بیٹوں کے بارے میں خاص طور پر سوچنا ہوگا
لڑکیاں بہتر کر رہی ہیں۔
یہ خوشی کی بات ہے۔
لیکن اسی وقت یہ ہمارے لیے ایک سوال بھی ہے۔
اگر ہماری بیٹیاں مشکل حالات میں بھی بہتر نتائج دے سکتی ہیں تو:
ہمارے بیٹے کیوں پیچھے جا رہے ہیں؟
کیا ان کے پاس موبائل زیادہ ہے؟
کیا ان کی نگرانی کم ہے؟
کیا ان کے کھیل، دوستوں اور سوشل میڈیا کا توازن بگڑ چکا ہے؟
کیا ہم ان سے تعلیمی سنجیدگی کی توقع کم رکھتے ہیں؟
کیا ہم بیٹے کو یہ سمجھا کر مطمئن ہو جاتے ہیں:
کوئی بات نہیں، لڑکا ہے...
اگر ایسا ہے تو یہ جملہ خطرناک ہے۔
کیونکہ دنیا کسی کو صرف اس لیے کامیابی نہیں دیتی کہ وہ لڑکا ہے۔
دنیا قابلیت مانگتی ہے۔
اب ہمیں کیا کرنا ہے؟
صرف رزلٹ سن کر افسوس نہیں کرنا۔
ایک قومی تعلیمی پوسٹ مارٹم کرنا ہوگا۔
ہمیں معلوم کرنا ہوگا:
بچہ کہاں فیل ہوا؟
کس مضمون میں فیل ہوا؟
کیوں فیل ہوا؟
کتنے گھنٹے پڑھا؟
کتنے گھنٹے اسکرین دیکھی؟
کتنی حاضری تھی؟
کتنے ماہ باقاعدہ تدریس ہوئی؟
کتنے ٹیسٹ ہوئے؟
کتنے بچوں کے Learning Gaps وقت پر پکڑے گئے؟
اور سب سے بڑھ کر...
لڑکے لڑکیوں سے اتنے پیچھے کیوں جا رہے ہیں؟
جب تک ہم یہ سوال نہیں پوچھیں گے، اگلے سال بھی شاید ہم صرف نئی مارک شیٹس گن رہے ہوں گے۔
والدین کے لیے ایک چھوٹا سا فیصلہ
بچے کو موبائل دینے سے پہلے ایک سوال ضرور کریں:
کیا میں اسے موبائل دے رہا ہوں یا اس کا وقت دے رہا ہوں؟
اور ایک اور سوال:
کیا میں اپنے بچے کی زندگی میں روزانہ اتنا وقت دے رہا ہوں جتنا موبائل دے رہا ہوں؟
اگر جواب "نہیں" ہے....
تو خطرہ موبائل میں نہیں۔
خطرہ ہماری ترجیحات میں ہے۔
اساتذہ کے لیے ایک سوال
ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا:
بچے نے کتنے نمبر لیے؟
ہمیں یہ دیکھنا ہوگا:
وہ کہاں سے گرا؟
کمزور بچہ اگر سال کے آخر میں فیل ہوتا ہے تو یہ صرف اس دن کی ناکامی نہیں۔
یہ مہینوں کی خاموش ناکامی ہے۔
اور بہترین تعلیمی نظام وہ ہے جو بچے کو امتحان سے پہلے نہیں…
فیل ہونے سے پہلے پکڑ لیتا ہے۔
اور حکومت کے لیے ایک سوال
اگر لاکھوں بچے نویں جماعت میں مطلوبہ معیار حاصل نہیں کر پا رہے تو ہمیں صرف نتیجہ جاری نہیں کرنا چاہیے۔
نتیجے کا علاج بھی بتانا چاہیے۔
ہمیں ہر بورڈ کے نتائج کا مضمون وار تجزیہ چاہیے۔
لڑکے اور لڑکیوں کے فرق کا تجزیہ چاہیے۔
علاقائی فرق کا تجزیہ چاہیے۔
Learning Loss کا تجزیہ چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر....
ایک واضح تعلیمی اصلاحی منصوبہ چاہیے
ورنہ یاد رکھیے...
آج نویں جماعت ہے۔
کل دسویں ہوگی۔
پھر کالج۔
پھر یونیورسٹی۔
پھر روزگار۔
پھر ملک کی معیشت۔
آج کا کمزور طالب علم...
کل کا کمزور ماہر ہوگا۔
آج کی بکھری ہوئی توجہ…
کل کی کمزور کارکردگی بنے گی۔
آج کا ضائع ہوا وقت....
کل کا ضائع ہوا مستقبل ہوگا۔
یہ وقت ڈانٹنے کا نہیں۔
یہ وقت جاگنے کا ہے۔
بچے خراب نہیں ہوئے۔
ہم نے ماحول خراب ہونے دیا ہے۔
کتاب بے کار نہیں ہوئی۔
ہم نے کتاب سے زیادہ اسکرین کو اہم بنا دیا ہے۔
بچے ذہین نہیں رہے، ایسا بھی نہیں۔
ہم نے ان کی توجہ ہزار ٹکڑوں میں تقسیم کر دی ہے۔
اور اب نویں جماعت 2026 کے نتائج ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔
ایک ہاتھ میں مارک شیٹ ہے۔
دوسرے ہاتھ میں موبائل۔
اور درمیان میں...
ہماری پوری نسل کھڑی ہے۔
اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔
ہم اپنے بچوں کو الگورتھم کے حوالے کریں گے؟
یا....
کتاب، کھیل، استاد، خاندان اور حقیقی زندگی واپس دیں گے؟
کیونکہ سوال صرف یہ نہیں کہ:
"کتنے بچے فیل ہوئے؟
اصل سوال یہ ہے:
ہم نے کتنی نسل کو فیل ہونے سے پہلے بچانے کی کوشش کی؟
اور اگر آج بھی ہم نہ جاگے...
تو یاد رکھیے:
اگلی بار صرف بچے فیل نہیں ہوں گے۔
ہم فیل ہوں گے۔
والدین فیل ہوں گے۔
اسکول فیل ہوں گے۔
تعلیمی نظام فیل ہوگا۔
اور آخرکار....
ایک قوم اپنے بچوں کے مستقبل کے امتحان میں فیل ہو جائے گی۔