GBHS UNRAN

GBHS UNRAN Established in 1935 as primary school
Upgraded as Middle School in 1985
Upgraded as High School in 1

29/10/2025

Morning Assembly Highlights |
Govt. High School Tameer-e-Millat
Rahim Yar Khan

✨ Discipline, confidence, and teamwork — every new day begins with the spirit of learning and respect.
Let’s continue to shine with knowledge and good character. 🌞📚

https://www.facebook.com/share/1MzpzSni8V/
22/03/2025

https://www.facebook.com/share/1MzpzSni8V/

*ایک قطار میں نظر آنے والے تین ستارے*

اگر آپ نے کبھی سردیوں کی راتوں میں آسمان کو غور سے دیکھا ہو تو آپ کو تین روشن ستارے ایک قطار میں نظر آتے ہیں۔ یہ مشہور جھرمٹ اورائن کی بیلٹ کے تین ستارے النیتاک، النیلام اور منتاکا ہیں۔

یہ تینوں ستارے رات کو آسمان میں بہت معمولی سے نقطے لگتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ ہماری کہکشاں کے چند بڑے اور روشن ستاروں میں سے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی بھی ستارے کو ہمارے نظامِ شمسی میں سورج کی جگہ رکھ دیا جائے تو ان کی تیز چمک اور حرارت زمین پر ہر چیز کو بھون کر کباب بنانے کے لئے کافی ہوں گی۔

ان تینوں ستاروں میں درمیان میں موجود النیلام سب سے زیادہ بڑا اور چمکدار ہے جو ہمارے سورج سے تقریباً 375,000 گنا زیادہ روشن ہے۔ بائیں جانب موجود النیتاک کا حجم سورج سے 20 گنا زیادہ ہے اور یہ سورج سے تقریباً 100,000 گنا زیادہ روشن ہے جبکہ دائیں جانب موجود منتاکا ان تینوں میں سب سے چھوٹا ہونے کے باوجود سورج سے 90,000 گنا زیادہ چمکدار ہے۔

اگر ہم ان ستاروں کا اپنے سورج سے موازنہ کریں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارا سورج درحقیقت کائنات کے عظیم ستاروں کے سامنے ایک معمولی سا چراغ ہے۔ یاد رکھیں کہ سورج اتنا بڑا ہے کہ اس میں تیرہ لاکھ زمینیں سما سکتی ہیں۔

تو اگلی بار جب آپ رات کو آسمان میں ان تین ستاروں کو ایک قطار میں چمکتا دیکھیں تو ایک لمحے کے لئے رک کر سوچیں کہ ہم کتنی وسیع، حیرت انگیز اور پراسرار کائنات کا حصہ ہیں۔

(تحریر: ڈاکٹر احمد نعیم)

بسم اللہ الرحمن الرحیم  *گدھا گاڑی سے ہانگ کانگ تک کا سفر* یہ کہانی ہے ڈیرہ غازی خان کے ایک بہت ہی غریب اور محنتی لڑکے ش...
08/04/2024

بسم اللہ الرحمن الرحیم
*گدھا گاڑی سے ہانگ کانگ تک کا سفر*
یہ کہانی ہے ڈیرہ غازی خان کے ایک بہت ہی غریب اور محنتی لڑکے شعیب محمد ولد محمد بخش کی جو ایک انتہائی پسماندہ علاقہ و ایک غریب فیملی سے تعلق رکھتے ہیں ساتھ کم عمری میں یتیم بھی ہو جاتے ہیں لیکن ان تمام تر مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنی تعلیم پر توجہ جاری رکھی ۔۔۔آپ نے *پرائمری* سے لے کر *بی ایس * تک ڈیرہ غازی خان بورڈ سے تعلیم حاصل کی ۔۔۔پھر آپ نے *ایم ایس میتھ* اسلام آباد سے کی۔۔۔
معیشتی مشکلات کی وجہ سے تعلیم کے ساتھ کھیتوں میں مشقت و مزدوری کرتا اور اپنی فیملی کی حتی المقدور مالی مدد کرنے کی کوشش کرتا ۔۔۔
انکی ایک اہم خصوصیت یہ ہے انہوں نے غربت و ناداری کو تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا اور ایم فل کے بعد پی ایچ ڈی کی ہمت باندھتا ہے اور وہ بھی اتنے بڑے ارادہ کے ساتھ کہ کسی باہر ملک سے ہی کرونگا کیونکہ اپنی محنت و خدا پر کامل اعتماد تھا کہ میں کر سکتا ہوں ۔۔۔
پھر 2021 سے انہوں نے باہر ممالک کی اسکالرشپ پر اسٹڈی ویزہ کی ایپلائی کرنا شروع کی ۔۔۔اور بالآخر تین سال بعد 2024 میں انکو *ہانگ کانگ* کی بہترین یونیورسٹی میں ریسرچ ورک جاب مل جاتی ہے اور ساتھ ہی پی ایچ ڈی کرنے کی اسکالرشپ بھی مل جاتی ہے اور اب لاکھوں روپے چائنہ سے لے رہا ہے۔۔۔۔
اس لئے مجبوریوں کو محنت کی راہ میں حائل نہ کریں بس محنت کریں، زندگی کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہے
پس انسان محنت و لگن سے کام کرے تو خدا کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا ۔۔۔۔ہم سب یہ کر سکتے ہیں ۔۔۔
اگر تعلیم سے محبت ہے تو شئیر ضرور کرنا۔۔۔۔
عقیل رضا ۔۔۔۔

https://www.facebook.com/share/p/bbwmkF8ShwtBNPbz/?mibextid=ZbWKwL
20/02/2024

https://www.facebook.com/share/p/bbwmkF8ShwtBNPbz/?mibextid=ZbWKwL

*کھوپڑی کے اندر دماغ کا اصل وزن ڈیڑھ کلو کے قریب ہے*
*مگر اسکے باوجود بھی ہم اپنے سر میں اتنا بڑا وزن محسوس نہیں کرتے۔*
*جسکی وجہ دماغی اسپائنل کا فلوئڈ میں تیرنا ہے۔*
*پانی کے اوپری حصے سے دماغ کا وزن تقریباً 0.18 کلوگرام تک کم ہو جاتا ہے۔*
*اسلیے ہمیں اسکا وزن محسوس نہیں ہوتا۔*
*یہ سیال اچانک اثر یا نقصان کے خلاف ایکشن کے طور پر بھی کام کرتاہے۔*
*برین کو گندگی سے صاف رکھتا ہے۔*
*جس سے اعصابی نظام کو صحیح طریقے سے کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔*
*نماز کی قیمتی حرکتوں میں سے ایک سجدہ ہے*
*جہاں گھٹنے ٹیکنے پر یہ سیال اوپر نیچے حرکت کرتا ہے*
*اور اس سے دماغ کو ایک طرح کا مساج ہوتا ہے،*
*لمبے سجدے کے بعد ذہنی سکون کی یہ ایک وجہ ہے جو دماغ سجدوں کو چھوڑ چکے ہوتے ہیں*
*وہ لوگ اس عظیم حرکت سے محروم رہتے ہیں*
*جس سے یہ دماغ ڈپریشن، انزائٹی، انسومینیا، مائیگرین کا شکار رہتا ہے*
*جسے ختم کرنے کیلئے درد کی گولیاں کھاتےہیں*
*جو اسپائنل کو وقتی طور پر سن تو کر دیتاہے*
*مگر سجدے جیسی حرکت نہیں دے پاتا۔*
*یہ اس عظیم رب کی کاریگری ہے جو ہر چیز کو کامل ترتیب سے بناتا ہے۔*
*"لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ“*

📸 Look at this post on Facebookhttps://www.facebook.com/share/p/YkpX6xzZXw8fRHEP/?mibextid=K8Wfd2
28/11/2023

📸 Look at this post on Facebook
https://www.facebook.com/share/p/YkpX6xzZXw8fRHEP/?mibextid=K8Wfd2

خیال پارے محمد طاہر
😓 سی ایس ایس سے موت تک کا سفر 😓
بلال پاشا جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ علاقہ میں پیدا ہوا۔ والد دیہاڑی دار مزدور تھے۔ مالی حالات اچھے نہ ہونے کی وجہ سے مسجد میں ہی قائم مکتب سے پرائمری پاس کی۔ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کا عالم سب پر عیاں ہے لہذا بلال پاشا نے بھی چھٹی جماعت سے اے بی سی پڑھنا شروع کی۔ انٹر میڈیٹ ایمرسن کالج ملتان اور بیچلر زرعی یو یونیورسٹی فیصل آباد سے کیا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مسجد سے پانچ جماعتیں کرنے والا بچہ کل کو مقابلے کا امتحان پاس کرکے سی ایس پی بن جائے گا۔

بلال پاشا نے کیریئر کا آغاز ایک پرائیویٹ نوکری سے کیا۔ لیکن والد کی خواہش پر گورنمنٹ سروس میں آیا اور پولیس میں سب انسپکٹر بھرتی ہوگیا۔ بعد ازاں مختلف سرکاری اداروں میں سولہویں اور سترہویں سکیل کی ملازمت کرتے ہوئے 2018 ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہوا۔ بلال پاشا نے اپنے بیک گرائونڈ کو چھپانے کی بجائے اپنے سفید داڑھی والے مزدور باپ کے ساتھ کھڑے ہوکر انٹرویو دیا اور پاکستان کے ان نوجوانوں میں امید کی شمع جلائی جو سی ایس ایس پاس کرنے کو صرف ایلیٹ کلاس سے منسوب کرتے تھے۔ سلسلہ چل نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں نوجوان سی ایس ایس کے خواب آنکھوں میں سجائے اس سفر پر گامزن ہونے لگے۔

لیکن عرفان خان نے کیا زبردست جملہ بولا تھا کہ "جب ہم جیسوں کےدن آتے ہیں موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے"۔ بلال پاشا کی زندگی کی شروعات ہوئی تھی اور موت نے آن دبوچ لیا۔ بلال کی موت کی وجہ بس ایک ہی تھی۔۔ سول سروس میں ملنے والا ڈپریشن۔ وہ جس سے بھی بات کرتا یہی کہتا کہ وہ یا تو نوکری چھوڑ دے گا یا خودکشی کرلے گا۔ (سکرین شاٹ کمنٹ میں)۔ میں خود گورنمنٹ سروس میں ہوں تو جانتا ہوں کہ کس قدر آپ کو پریشر برداشت کرنا پڑتا ہے۔

بلال کی موت سے دو باتیں عیاں ہیں، ایک، ڈپریشن جان لیوا بیماری ہے۔ یہ ارب پتی باپ طارق جمیل کے ارب پتی بیٹے کو بھی دبوچ لیتی ہے اور یہ ایک مزدور باپ کے افسر بیٹے بلال پاشا کو بھی نہیں چھوڑتی۔ دوسرا۔۔ ہمیں اپنے خوابوں کے پیچھے اتنا بھی نہیں بھاگنا چاہیے کہ وہ ہمارے لئے Pyrrhic Victory ثابت ہو ( فرانس کا نپولین بوناپارٹ روس کو شکست دینے کے لئے اپنی چھ لاکھ فوجوں کے ساتھ آگے بڑھتا گیا۔ وہ جنگ تو جیت گیا لیکن سرد موسم کی وجہ سے صرف دس ہزار فوجیوں کو بچا کر واپس آیا اور تب تک پیرس کا بھی محاصرہ ہوچکا تھا) ۔ بلال سترہویں سکیل کی عام نوکری پہ رہتا تو شاید کبھی اس Pyrrhic Victory کا شکار نہ ہوتا۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے " جس کی طلب میں تڑپ رہے ہو، وہ مل بھی بھی گیا تو کیا کرو گے"۔ یا پھر چارلس بکوسکی سے نے کہا تھا " ڈھونڈو اسے جس سے تم محبت کرتے ہو تاکہ وہ تمہیں مارسکے"۔ بلال کو بھی سی ایس ایس کرنے نے مار دیا۔ لہذا سی ایس ایس ایسی چیز نہیں ہے جس کی خاطر جان سے بھی ہاتھ دھویا جائے۔ ہر سال 17 فیصد بیوروکریٹ اپنی نیلی بتی اور سبز نمبر پلیٹ کو اللہ حافظ کہتے ہوئے استعفے دے دیتے ہیں۔ بلال بھی یہی کہتا تھا " یہ لوگ بتی اور سبز نمبر پلیٹ دیکھتے ہیں لیکن میرے اندر نہیں دیکھتے"۔ (سکرین شاٹ کمنٹ میں) اب قیامت گزر چکی ہے۔

آج کی رات بلال کے باریش والد کے لئے بہت بھاری ہے۔ آج وہ اپنے ناتواں ہاتھوں سے اپنے لخت جگر کے سونے جیسے جسم کو سپرد خاک کرے گا۔ آج کی رات بہت طویل ہے۔۔ بہت کٹھن۔۔ ہر طرف چیخ و پکار ہوگی۔۔ بلال کی میت کو روکا جائے گا۔۔ لیکن جانے والے کو کوئی روک پایا ہے؟ آج رات تو ہوگی لیکن اس کی سحر نہیں ہوگی۔ جب صبح کا سورج طلوع ہوگا تو اس کا باریش باپ گلیوں گلیوں صدائیں لگاتا ہوا اسی مسجد کے صحن میں جا پہنچے گا جہاں سے بلال نے اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ لیکن۔۔۔ اب کی بار وہ میسر نہیں ہوگا۔ اب کی بار مسجد کے درودیوار سے بس آہ و بکا سنائی دے گی۔۔ وحشت نظر آئے گی۔۔ لیکن بلال کہیں نظر نہیں آئے گا۔۔۔ وہ اس نیلی بتی۔۔۔ سبز نمبر پلیٹ ۔۔۔ اور اس سماج کے خودساختہ معیار سے بہت دور جاچکا ہوگا۔ اب کی بار وہ لوٹ کے نہیں آئے گا۔
۔۔۔۔۔۔اللہ حافظ بلال۔۔۔۔۔
(خیال پارے ❤
محمــــد طـــاھــⷶــⷨـــر
27 نومبر 2023ء)

سال 1945 میں پانچویں جماعت کا سائنس کا پرچہ 1)کیا اج کل کے طلباء یہ پرچہ حل کر پائیں گے؟2)کیا پاکستان میں تعلیمی کا معیا...
27/06/2023

سال 1945 میں پانچویں جماعت کا سائنس کا پرچہ
1)کیا اج کل کے طلباء یہ پرچہ حل کر پائیں گے؟
2)کیا پاکستان میں تعلیمی کا معیار بہتر ہوا ہے یا مزید تنزلی کا شکار ہوا ہے؟
3)اگر پاکستان میں تعلیم تنزلی کا شکار ہوا ہے تو اس کی وجوھات کیا ہو سکتی ہیں؟

17/06/2023

Shout out to newest followers! Excited to have you onboard!

Ijaz Jani, Basharat Ali

A barber was once cutting a man's hair and the barber said: “I do not believe in the existence of God.”The Muslim asked:...
03/05/2023

A barber was once cutting a man's hair and the barber said: “I do not believe in the existence of God.”

The Muslim asked: “Why not?”

The barber said: “There is so much misery and chaos in the world. If God existed, this mess would not exist."

The Muslim said: "I also do not believe in barbers..."

The barber asked confused: “What do you mean?”

The Muslim said to the barber: “Do you see those men outside with long hair?”

The barber said: “Yes.”

The Muslim said: “If barbers existed, people with long and messy hair would not exist.”

The barber said: “We exist, but people do not come to us!“

The Muslim then said: “Exactly. God also exists, but people do not turn to God for guidance. That is why there are so many problems in the world.

21/03/2023

Address

Liaquatpur
64040

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

03027565267

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GBHS UNRAN posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to GBHS UNRAN:

Shortcuts

Share

Category