13/06/2026
🌟 ہمارے قابلِ احترام قائدین کو خراجِ تحسین 🌟
بیکن لائٹ اسکول، فتح پور، لیہ اپنے معزز چیئرمین جناب امتیاز علی صاحب اور وائس چیئرپرسن محترمہ آسیہ امتیاز صاحبہ کی بے لوث خدمات، انتھک محنت اور مثالی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔
جناب امتیاز علی صاحب نے اپنی دور اندیشی، عزم اور تعلیم سے محبت کے ذریعے ادارے کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی قیادت میں بیکن لائٹ اسکول علم، اخلاق اور کامیابی کا روشن مینار بن چکا ہے۔ وہ ہمیشہ طلبہ کی بہترین تعلیم اور کردار سازی کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
محترمہ آسیہ امتیاز صاحبہ نے اپنی خلوصِ نیت، محنت اور شفقت کے ذریعے ایک مثبت اور تعلیمی ماحول کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ طلبہ کی فلاح و بہبود اور معیاری تعلیم کے لیے ان کی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔
✨ ان دونوں عظیم رہنماؤں کی لگن، محنت اور وژن نے بیکن لائٹ اسکول کو کامیابی، وقار اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔
بیکن لائٹ اسکول فیملی ان کی بے مثال خدمات پر دل کی گہرائیوں سے انہیں خراجِ تحسین پیش کرتی ہے اور ان کی مزید کامیابیوں کے لیے دعا گو ہے۔
"عظیم رہنما صرف ادارے نہیں بناتے، بلکہ روشن مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں۔" ✨📚🏫
منجانب:
بیکن لائٹ اسکول فیملی، فتح پور – لیہ 💚🌟
04/06/2026
Notification of religious text books.
11/05/2026
زبردست ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی گجرات
ایسا ہی ماحول پنجاب کے تمام تعلیمی دفاتر میں ہونا چاہیے۔
24/01/2026
سیکھنا بند… تو ترقی بند
تعلیمی ادارہ صرف اینٹ اور گارے سے نہیں بنتا، بلکہ اس وژن سے بنتا ہے جو اس کا سربراہ (Owner/Principal) اپنے دل میں رکھتا ہے۔
آج ہم ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں وقت کی رفتار گولی سے بھی تیز ہے۔
یہاں ٹھہر جانے کا مطلب صرف پیچھے رہ جانا نہیں، بلکہ مٹ جانا ہے۔
جمود موت ہے، حرکت زندگی ہے
ایک بزرگ استاد کا قول ہے:
"جس دن آپ نے سیکھنا چھوڑ دیا، اسی دن آپ نے بوڑھا ہونا شروع کر دیا۔"
یہ بات کسی فرد کے لیے جتنی سچی ہے، ایک تعلیمی ادارے کے لیے اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔
اگر آپ کا ادارہ آج بھی انہی روایتی طریقوں پر چل رہا ہے جو دس سال پہلے تھے، تو یاد رکھیے:
آپ تعلیم نہیں دے رہے، بلکہ ماضی کے قصے سنا رہے ہیں۔
ڈیجیٹل دور: ایک انتخاب نہیں، ایک ضرورت
آج کا دور ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے۔
یہ صرف فیس بک یا واٹس ایپ کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک عالمی زبان ہے۔
کیا آپ کا ادارہ اس زبان کو سمجھتا ہے؟
کیا آپ کے پاس وہ ڈیجیٹل ٹولز ہیں جو بچے کے تخیل کو وسعت دے سکیں؟
کیا آپ نے خود کو اس نئے زمانے کے سانچے میں ڈھالا ہے؟
اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ
"ہمیں ان چیزوں کی ضرورت نہیں"
تو آپ اسی غلط فہمی کا شکار ہیں جس نے نوکیا (Nokia) جیسے بڑے برانڈز کو تاریخ بنا دیا۔
سیکھنا بند… تو ترقی بند۔
ایک جذباتی پکار: آپ کی ذمہ داری
آپ کے پاس وہ بچے آتے ہیں جو کل کی دنیا میں قدم رکھنے والے ہیں۔
اگر آپ خود ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جدید میڈیا اور بدلتے تعلیمی رجحانات سے ناواقف ہیں،
تو آپ ان بچوں کو مستقبل کے لیے کیسے تیار کریں گے؟
"آپ ایک ایسے جہاز کے کپتان ہیں جسے طوفانی سمندر میں راستہ بنانا ہے۔
اگر کپتان کو نیا نقشہ پڑھنا نہیں آتا، تو مسافروں کا انجام کیا ہوگا؟"
کیوں سیکھیں ڈیجیٹل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی؟
رسائی (Reach):
ڈیجیٹل دنیا آپ کے ادارے کی آواز کو گلی محلے سے نکال کر پوری دنیا تک پہنچا سکتی ہے۔
اعتماد (Authority):
والدین آج اسی ادارے پر بھروسہ کرتے ہیں جو ٹیکنالوجی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتا ہو۔
تخلیق (Creativity):
ڈیجیٹل ٹولز تعلیم کو بورنگ کے بجائے دلچسپ اور جادوئی بنا دیتے ہیں۔
اب وقت ہے جاگنے کا!
معزز پرنسپل صاحبان اور مالکان!
اپنی کرسی سے اٹھیں، اپنی ٹیم کے ساتھ بیٹھیں اور خود سے پوچھیں:
"آخری بار میں نے کوئی نئی چیز کب سیکھی تھی؟"
ڈیجیٹل میڈیا سیکھنا مشکل نہیں،
یہ صرف ایک فیصلے کی بات ہے۔
یوٹیوب
سوشل میڈیا
آن لائن کورسز
جدید سافٹ ویئرز
یہ سب آپ کے منتظر ہیں۔
غلطی ہونے سے مت ڈریں،
اس بات سے ڈریں کہ اگر آپ نے آج نہ سیکھا،
تو آنے والی نسلیں آپ کو معاف نہیں کریں گی۔
حاصلِ کلام
ترقی کا راستہ کتابوں کے پرانے صفحات سے نہیں،
بلکہ ذہن کے کھلے دریچوں سے نکلتا ہے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم صرف سکھانے والے نہیں،
بلکہ تاحیات سیکھنے والے (Lifelong Learners) بنیں گے۔
جب آپ سیکھیں گے، تو ادارہ سیکھے گا۔
جب ادارہ سیکھے گا، تو نسلیں سنوریں گی۔
یاد رکھیے:
جس دن آپ نے سیکھنا بند کیا،
آپ کی ترقی کا سفر وہیں ختم ہو گیا۔