Economics Preparation Point

Economics Preparation Point

Share

Welcome to all of you! Congratulations to all of you who are at the right place on this platform you will learn economics. thank you

On this page, you will find all you want such as Ppsc, Fpsc, and other competitive exams-related material as well.

19/11/2021

تحریر: ڈاکٹر عتیق الرحمن

کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف اکنامکس، یونیورسٹی آف آزاد جموں وکشمیر

چند گھنٹے قبل سٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے نئی مانیٹری پالیسی کی منظوری دی، جس کے مطابق شرح سود میں 1.5 فیصد کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی سٹیٹمنٹ کا اردو ورژن آپ کے لئے پیش خدمت ہے۔ ذرا غور سے ملاحظہ فرمائیے

1. پہلی لائن میں تحریر کیا گیا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں 1.5 فیصد اضافہ کر دیا ہے اور اس کی وجہ مہنگائی سے متعلقہ حکومت کے خدشات ہیں۔ چنانچہ یہ جان لیجئے کہ شرح سود میں اضافہ عوام کو مہنگائی سے بچانے کی خاطر کیا گیا ہے۔

2. شرح سود میں اس اضافے سے قلیل مدتی قرض پر سودی ادائیگیوں میں فوری اضافہ ہو جائے گا، جبکہ طویل مدتی قرض کے جو معاملات حالیہ مہینوں میں طے پائیں گے ان کے اوپر آج کی شرح سود کے حساب سے مستقبل کے لمبے عرصے کے لیے سود طے کر دیا جائے گا

3. اس وقت پاکستان کے ذمے کل واجب الادا اندرون ملکی قرض تقریبا 26000 ارب روپے ہے۔ شرح سود میں 1.5 فیصد اضافے سے اس قرض پر سود کی ادائیگی کی مد میں تقریبا 390 ارب روپیہ سالانہ زیادہ صرف کرنا ہوگا۔

3. چند ہفتے پہلے سرکار نے 22 کروڑ عوام کو مہنگائی سے بچانے کے لیے 120 ارب کے ایک پیکج کا اعلان کیا, لیکن یہ اخراجات سرکار کو بہت بھاری محسوس ہوئے اور ان کا ایک بڑا حصہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ کرکے واپس لے لیا گیا۔

4. پھر اسی مہنگائی کے نام پے آج 400 ارب کے اضافی پیکج کا اعلان کیا گیا، جبکہ پہلے ہی 7250 ارب اسی مد کیلئے مختص ہیں۔ اس کے پرائمری بینیفشریز میں 12 بینکوں کا کنسورشیم شامل ہے جو سرکار کو قرض دینے کے مجاز ہیں۔ چونکہ یہ پیسے سے عوام کے لیے نہیں بلکہ بینک کے لیے مختص کیے گئے، اس لیے حکومت کو اس پر ذرا برابر تکلیف نہیں ہونے والی۔ تاہم اگر ادائیگیوں میں دشواری کا سامنا ہوا تو سرکار ایک بار پھر پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں میں اضافہ کرکے عوام کے جیبوں سے پیسے سے نکلوا لے گی جو ان بینکوں کو ادائیگی کے لیے استعمال کال کیے جائیں گے۔

5.سب سے زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ غریب عوام کو مہنگائی سے بچانے کے لیے پیسے بینکوں کو دیے جائیں گے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ یہی چار سو ارب سوشل سیکورٹی پروگراموں پر خرچ کر کے عوام کو مہنگائی سے بچا لیا جائے؟

6. مانیٹری پالیسی سٹیٹمنٹ کے دوسرے صفحہ پر آپ ملاحظہ فرمائیے، افراط زر کی وجوہات میں واضح طور پر توانائی کی قیمتوں کا تذکرہ موجود ہے، اور توانائی کو سپلائی سائیڈ فیکٹر سمجھا جاتا ہے۔ تمام ماہرین معاشیات کا اتفاق ہے کہ سپلائی سائیڈ انفلیشن کو شرح سود بڑھا کر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، اس کے باوجود سٹیٹ بینک سود ہی کی مدد سے انفلیشن کو کنٹرول کرنے کے درپے ہے۔ حالانکہ اسٹیٹ بینک کا یہ ہتھیار ماضی میں کبھی بھی کارگر ثابت نہیں ہوا۔


7. آپ کو یہ خبر بھی سناتا چلوں کہ سینٹ کی اقتصادی امور سے متعلقہ کمیٹی نے سٹیٹ بینک کے گورنر پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ کمیٹی گزشتہ کئی مہینوں سے گورنر صاحب کا دیدار کرنا چاہ رہی ہے لیکن گورنر صاحب حاکم کل ہیں ان کو پکڑنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے۔ موصوف عوامی نمائندوں کے سامنے اپنے آپ کو جواب دہ نہیں سمجھتے

8. سابق حکومت کے دور میں شرح سود کافی کم تھی اور مہنگائی بھی کم تھی، لیکن متوقع مہنگائی کے خدشات کو بنیاد بنا کر موجودہ حکومت نے شرح سود میں اضافہ کیا، آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں اس کے بعد سے انفلیشن میں اضافہ ہی ہو رہا ہے، مطلب یہ کہ جو چیز دوائی سمجھ کر دی جا رہی ہے وہی دراصل بیماری کا سبب ہے۔

9. اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر ایک بھی ایسا ڈاکومنٹ موجود نہیں ہے جو اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کی افادیت کو ثابت کرتا ہو۔ پاکستان کے بجٹ میں میں سب سے بڑے اخراجات سود کی ادائیگی کی مد میں ہوتے ہیں جن کی مالیت تقریباً 2800 ارب روپے ہے، جو دفاعی بجٹ کے دو گنا سے بھی زیادہ ہے اور آج کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے میں نے اس میں مزید اضافہ کر دیا۔ لیکن اتنے بڑے اخراجات کا کوئی آڈٹ موجود ہی نہیں۔ لیکن غریب عوام پر یہ اخراجات مدتوں سے مسلط کئے ہوئے ہیں

10۔ میرا ایک سادہ سا مطالبہ ہے، مان لیا کہ سٹیٹ بنک میں بیٹھے مہا دماغوں کے مقابلے میں پورے پاکستان میں کسی کا دماغ نہیں، چلیں آپ نے جو لکھا اسے مان لیتے ہیں۔ زرا یہ تو بتائیے کہ آپ کے پاس مانیٹری پالیسی کی کوئی بھی جائزہ رپورٹ موجود ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو کیا اس غریب قوم کا 3000 ارب ضائع کرنے پر سٹیٹ بنک کو جواب دہ نہیں ہونا چاہئے؟

11۔ گورنر صاحب تو گورنر ہیں، اور بقول چوہدری سرور بچپن میں جو کسی کی بات نہیں سنتا تھا، ہم اس کو طنزا کہتے تھے، ’’تو کوئی گورنر دا پتر ایں‘‘۔ اس سینس میں جناب گورنر صاحب گورنر کے پتر بھی ہیں۔ کیا ہم عوامی نمائندگان تک یہ مطالبہ نہیں پہنچا سکتے کہ گورنر صاحب سے دست بستہ گزارش کردی جائے کہ حضور والا، مانیٹری پالیسی کی کوئی آڈٹ رپورٹ تو لائیے
Sir Dr. Ateeq ur rehman

19/11/2021

Economics versus Financial Investment

19/11/2021

السلام علیکم
تمام دوستوں کو ویلکم کیا جاتا ہے۔ تمام دوست اس گروپ میں بہت ساری معلومات سے اشنا ہو نگے۔ اس گروپ میں آپکو معاشی ھالات کے پیش نظر اگاہی دی جا ئے گی۔ روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی۔ اس کی وجوہات کیا ہیں۔

19/11/2021
02/11/2021

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان آسان شکار نمیبیا کو ترنوالہ بنانے کیلیے تیار ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں ناقابل شکست پاکستان ٹیم نے ابھی تک گروپ ٹو میں شامل تینوں بڑے برج الٹائے ہیں،

روایتی حریف بھارت کو چاروں شانے چت کرتے ہوئے اعتماد بلندیوںپر پہنچایا، اس کے بعد نیوزی لینڈ اور افغانستان کو بھی زیر کرکے دھاک بٹھائی۔


اب ٹیم کے پاس منگل کو ابوظبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں نمیبیا جیسے آسان شکار کو ترنوالہ بناکر سیمی فائنل تک رسائی پر مہر تصدیق ثبت کرنے کا موقع ہوگا،گرین شرٹس کو ٹاپ آرڈر میں کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان کی خدمات حاصل ہیں۔

دونوں ایک عرصے سے تسلسل کے ساتھ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں،افغانستان کیخلاف بڑی اننگز نہ کھیل پانے والے محمد رضوان اس بار بھرپور کم بیک کیلیے بے تاب ہوں گے،

فخرزمان جارحانہ بیٹنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر ابھی تک کھل کر صلاحیتوں کے جوہر نہیں دکھاپائے،ان کیلیے بھی چھکے چھڑانے کا اچھا موقع ہوگا۔


ابھی تک جدوجہد کرنے والے محمد حفیظ کی جگہ حیدر علی کو آزمانے کا آپشن موجود ہے، تجربہ کار شعیب ملک مڈل آرڈر میں استحکام کی علامت ہوں گے،آصف علی نے گذشتہ دونوں میچز میں مختصر اننگز میں خود کو میچ ونر ثابت کیا ہے۔

شاداب خان اور عماد وسم اسپن کا جادو جگانے کے ساتھ جارحانہ بیٹنگ کا بھی مظاہرہ کرسکتے ہیں،پیسرز شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف زبردست فارم میں ہیں،

کمزور حریف کیخلاف حسن علی کو بھی ردھم میں آنے کا موقع ملے گا،اگر انھیں آرام دینے کا فیصلہ کیا گیا تو وسیم جونیئر کو آزمایا جا سکتا ہے،حتمی فیصلہ میچ سے قبل کیا جائے گا۔

دوسری جانب نمیبیا نے کوالیفائنگ مرحلے میں سری لنکا سے شکست کے بعد نیدر لینڈز اورآئرلینڈ کو زیر کیا، سپر 12مرحلے میں اسکاٹ لینڈ کیخلاف فتح سمیٹی،اتوار کواسے افغانستان نے آؤٹ کلاس کیا،

پاکستان کی بولنگ پاور کو دیکھتے ہوئے نمیبیا کی کمزور ٹاپ آرڈر سے بڑی توقعات وابستہ نہیں کی جا سکتیں،مڈل آرڈر میں گیرہارڈ ایراسمس،زان گرین اور جے جے سمٹ جارحانہ بیٹنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


آل راؤنڈز ڈیوڈ ویزا بیٹ اور بال سے ٹرمپ کارڈ ثابت ہوسکتے ہیں، روبن ٹرمپلمین پیس بولنگ سے مشکلات پیدا کرنے کے اہل ہیں،

جان فریلنک اور جے جے سمٹ بھی ساتھ دینے کیلیے تیار ہوں گے،جان نکول لیگ اسپن سے کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

ابوظبی میں ابھی تک رنز بنانا آسان نہیں رہا، حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں یہاں پہلی اننگز کا اوسط ٹوٹل128رہا ہے،ہدف کا تعاقب کرنے والی 6 ٹیمیں فاتح رہیں،

2بار پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیمیں سرخرو ہوئی ہیں، اسپنرز پچز کا زیادہ فائدہ اٹھاسکتے ہیں،اوس کے پیش نظر ٹاس جیتنی والی ٹیم پہلے بولنگ کو ترجیح دے گی۔


پاکستان ٹیم اپنی تاریخ میں پہلی بار ’’کرکٹ بے بیز‘‘ نمیبیا سے ٹی ٹوئنٹی میچ کھیل رہی ہے۔یاد رہے کہ دونوں ٹیمیں اس سے قبل صرف ایک بار 18سال قبل کسی انٹرنیشنل میچ میں مقابل ہوئی تھیں،گرین شرٹس نے ون ڈے فارمیٹ کے ورلڈکپ 2003میں نمیبیا کو 171رنز سے شکست دی تھی۔

آل راؤنڈر شعیب ملک کا کہنا ہے کہ مسلسل 3میچز جیتنے کے بعد ٹیم کا مورال بلند ہوگیا، مگر نمیبیا سمیت کسی بھی حریف کو آسان نہیں لے سکتے، ہم پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔

انھوں نے کہا کہ تمام کھلاڑی کپتان کو بھرپور سپورٹ کررہے ہیں، ٹیم کا ماحول زبردست بن چکا،کوشش ہوگی کہ فتوحات کا تسلسل برقرار رکھیں، نمبییا سے میچ کیلیے ہم کچھ مختلف نہیں سوچ رہے،

ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کوئی ٹیم آسان نہیں ہوتی، اس لیے کوئی خطرہ مول نہیں لیاجاسکتا، تینوں شعبوں میں عمدہ کارکردگی سے ہی میچز جیتتے جاتے ہیں اورہماری کوشش ہوگی کہ غلطیوں کو نہ دہرائیں اور عمدہ کھیل پیش کریں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Leiah?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Leiah
31450