30/08/2026
*ورکرز ویلفیئر سکول لیہ کے طلبہ کا ملتان کا یادگار تعلیمی و تفریحی سفر*
ورکرز ویلفیئر سکول لیہ کے طلبہ کے لیے منعقد کیا گیا ملتان کا تعلیمی و تفریحی دور ایک ناقابلِ فراموش تجربہ ثابت ہوا۔ اس سفر میں علم، تاریخ، روحانیت اور تفریح کے رنگ اس خوبصورتی سے یکجا ہوئے کہ ہر طالبِ علم کے دل پر اس کے نقوش ثبت ہو گئے۔
سفر کا پُرلطف آغاز وقت دوپہر کے طلبہ کے جوش و خروش کے ساتھ بس میں سوار ہونے سے ہوا۔ پرنسپل و اساتذہ کی نگرانی میں نظم و ضبط کا خاص خیال رکھا گیا۔ راستے بھر طلبہ کے قہقہے، ملی نغمے، لوگ گیتوں و گانوں پر روایتی پنجابی بھنگڑے و سرائیکی جھمر ڈانس اور دوستانہ گفتگو فضا کو خوشگوار بناتی رہی۔ کھڑکیوں سے جھانکتے سرسبز کھیت، دیہی مناظر اور و آفتاب کی سنہری کرنیں سفر کو اور بھی دلکش بنا رہی تھیں۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر دل میں ایک نئی امنگ اور ہر آنکھ میں ایک نئی چمک ہو۔ ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد کوٹ سلطان حافظ ہوٹل پہ بریک کی گئی اور چائے بسکٹ سے تازہ دم ہو گئے تو پھر سفر ملتان کی طرف دوبارہ رواں دواں ہوگیا۔
ملتان پہنچ کر سب سے پہلے دی مال آف ملتان کے کی منزل چہارم پہ واقع اعلیٰ وخوبصورت ریسٹورنٹ دھرتی بوفے میں 25 انواع و اقسام کے لذیذ قومی وبین الاقوامی کھانوں سے سٹاف و طلبہ کی تواضع کی گئی۔ طلبہ نے نہایت سلیقے اور نظم کے ساتھ کھانا کھایا اور ملتان کی تاریخ جغرافیا و سرزمین اولیاء کے بارے طلبہ کو تعلیمی سیمینار میں شرکت کرائی گئی۔ جس سے طلبہ کی علمی سطح و روحانی شعور میں اضافہ ہوا۔
چائے پینے کے بعد تازہ دم ہو کر، بعد ازاں طلبہ نے پلینگ ایریا میں ان ڈور گیمز و جھولوں سے لطف اندوز ہوئے۔
اسٹاف و بچوں نے من پسند اشیاء کی مختلف برینڈ کی شاپس سے شاپنگ کی۔
قدرت اور تفریح کے رنگ
بعد ازاں قافلہ DHA Multan کی جانب روانہ ہوا۔ یہاں مختلف اقسام کے وقت کی کمی کے باعث ڈی ایچ اے زو کو سکپ کر کے کشمیر پارک کا رخ کیا گیا۔ جہاں کے سرسبز ماحول اور منظم انتظامات نے سب کو متاثر کیا۔کشمیر پارک ر کے اندر سبزہ زار میں بچوں نے بیت بازی، شاعری، کلاسیکل گائیکی، لوک کھیلیں اور جھولوں سے لطف اندوز ہوئے جسمیں تمام طلبہ اور اساتذہ کی شرکت نے سب کو خوب محظوظ کیا۔
کشمیر پارک ملتان کی سیر میں جھولوں کی رونق، سبزہ زاروں کی تازگی اور ٹھنڈی ہوا نے طلبہ کو بے حد مسرور کیا۔ طلبہ نے جھولوں سے لطف اندوز ہو کر اور گروپ تصاویر بنا کر یادگار لمحات محفوظ کیے۔ ہر طرف ہنسی، خوشی اور شادمانی کا سماں تھا۔
دوستانہ ماحول میں ہونے والی گفتگو اور قہقہوں نے اس لمحے کو اور بھی یادگار بنا دیا۔ واپسی پر بس میں بچوں نے خوب ہلہ گلہ کیا بچے ساؤنڈ سسٹم ساتھ لائے تھے پنجابی سرائیکی گیتوں پر بھنگڑے و جھمر ڈال کر ماحول کو گرماتے رہے، طلبہ کے دو گروپ بنا کر ان کے درمیان بیت بازی اور گیتوں غزلوں کے مقابلے بھی کروائے گئے جس نے بچوں نے بھر پور حصہ لیا۔
یہ تعلیمی و تفریحی سفر طلبہ کے لیے ہمہ جہت تربیت کا ذریعہ ثابت ہوا۔ تاریخ سے آگاہی، اولیائے کرام کی تعلیمات سے روحانی وابستگی، قدرتی مناظر سے لطف اندوزی اور باہمی محبت و یگانگت—سب نے مل کر اس سفر کو ایک سنہرا باب بنا دیا۔
واپسی پر بچوں با حفاظت ان کے گھروں تک پہنچایا گیا۔
بلاشبہ طلبہ کے لیے یہ ٹرپ زندگی بھر کی حسین یاد بن گیا، جس کی خوشبو ان کے دلوں میں مدتوں مہکتی رہے گی۔