General knowledge 786".

General knowledge 786".

Share

All kind of English learning grammar general knowledge with current affairs.. please like and share❤️

Photos from General knowledge 786".'s post 12/08/2023
Photos from General knowledge 786".'s post 02/02/2023

Like

01/02/2023

انڈے میں چوزہ سانس کیسے لیتا ہے۔
انڈے کے چھلکے میں موجود چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں جو عام آنکھ سے نظر نہیں آتے۔

انڈے کے چھلکے میں بہت چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں، جن کی تعداد 7000 سے 17000 کے درمیان ہوتی ہے۔ جبکہ ایک سوراخ کا سائز 6 سے 26 مائیکرو میٹر (μm) ہوتا ہے۔

جب انڈا بن جاتا ہے تو اس انڈے کے چھلکے کے نیچے دو جھلیاں (membranes) ہوتی ہیں، جب انڈا تازہ تازہ وجود میں آیا ہوتا ہے تو انڈا گرم ہوتا ہے اور اسکی یہ دونوں membranes ایک ساتھ جڑی ہوتی ہیں، جب انڈا ٹھنڈا ہوجاتا ہے تو یہ membranes ایک دوسرے سے الگ ہوجاتی ہیں جس وجہ سے ان کے درمیان خلا پیدا ہوتا ہے اور اس خلا کو پورا کرنے کے لیے باہر سے ان سوراخوں کے راستے آکسیجن (ہوا) اتی ہے جس سے اندر بن رہا بچہ سانس لیتا ہے، اور انہیں سوراخوں سے کاربن ڈائی آکسائڈ باہر خارج ہوتی ہے۔۔۔

01/02/2023

SIR SYED AHMED KAHN

Sir Syed Ahmed Khan was born on 17 October 1817 in Delhi. He was a
teacher, politician, author and social reformer. He founded the school that
became Aligarh Muslim University. He belonged to the wealthy family
which was well-known and respected in the area. By the age of 18, he was
skilled in Arabic, Persian, medicine and mathematics.
Sir Syed Ahmed Khan started his career as a civil servant. In 1846, he
became a judge in Delhi. When the War of Independence broke out in
1857, Sir Syed was working as a chief judge in Bijnaour. He saved the
lives of many British women and children during the war. In return for his
loyalty, the British Empire offered him an estate with a large income, but
he refused the offer.
Sir Syed Ahmed played a vital role in the educational uplift of the Muslims
in India. He devoted himself to improving the position of the Muslims in
the sub-continent through education. Aligarh became the center of a
“Muslim Renaissance”. In 1859, he opened a Persian school at Muradabad.
In 1864, he founded a scientific society in Ghazipur for the translation of
scientific work written in English to languages that the Muslims can
understand including Arabic, Urdu and Persian. He made a committee to
raise funds for new schools. He also set up Muhammadan Anglo Oriental School in Aligarh on 24 May 1875.
Sir Syed Ahmed was unhappy about the condition of the Muslims. He played a vital role in improving social
and political condition of the Muslims.
He wanted to form a better relationship between Muslims and Hindus, but he soon realized both couldn’t live
together. He was invited to attend and join the Indian National Congress, but he refused the invitation.
Sir Syed Ahmed Khan breathed his last on March 27, 1898. He is buried inside the Aligarh University.

Photos from General knowledge 786".'s post 23/01/2023

سونگ کیا ہے اور یہ کیوں ہوتی ہے۔ اور اس پر کونسے عوامل اثرانداز ہوتے ہیں؟

سونگ دراصل کرکٹ بال کا اپنے متعین راستے سے کچھ خاص عوامل کی بنا پر ہٹ جانا ہے۔ عمومی طور پر سونگ کی دو اقسام ہیں۔

روایتی سونگ یعنی سیم موومنٹ

ریورس سونگ

1) روایتی سونگ

روایتی سیم موومنٹ عام طور کرکٹ بال کا ایسا سونگ ہونا ہے جو کہ کرکٹ بال کی سیم(Seam انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کا اردو میں مطلب ہے سلائی۔ یعنی وہ چیز جو کہ سلی ہوئی ہو۔ اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کرکٹ بال کی سلائی کی گئی ہوتی ہے۔ اور اسی کی پوزیشن کی وجہ سے اس کو سیم موومنٹ کہتے ہیں) کی پوزیشن کی وجہ سے ہوتی ہے۔ کرکٹ بال کی سونگ میں فزکس کے کچھ اصول استعمال ہوتے ہیں جو کہ فزکس کی aerodynamics برانچ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک تعریف کے مطابق سونگ دراصل ہوا کے فلو کی باؤنڈری لئیر سیپریشن کے دورانیہ میں دیر کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ باؤنڈری لئیر کسی بھی فلوئیڈ کی وہ سطح ہے جو کہ زمین کی سطح کے ساتھ درجہ حرارت،نمی یا مومینٹم کے تبادلے سے متاثر ہوتی ہے۔ باؤنڈری لئیر کی سیپریشن میں دیر کرکٹ بال کی سیم کی پوزیشن سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر ایک نئی کرکٹ بال کی پوزیشن فرسٹ سلپ فیلڈ کی جانب رکھی جائے تو وہ اپنے راستے سے کچھ یوں رخ بدلے گی کہ بجائے سیدھا جانے کے وہ بیٹسمن سے دور جائے گی۔ اس کو آؤٹ سونگ کہا جاتا ہے۔

جبکہ اگر کرکٹ بال کی سیم کی پوزیشن لیگ فیلڈ کی جانب رکھی جائے تو وہ بال سیدھا جانے کی بجائے بیٹسمن کی جانب مڑے گی اور ایسی بال کو ان سونگ کہا جاتا ہے۔

بال کی پوزیشن کے حساب سے سونگ کا نام بالر کے دائیں ہاتھ یا بائیں ہاتھ کی وجہ سے نہیں دیا جاتا بلکہ اس کو بال کے بیٹسمن کی جانب یا بیٹسمن سے دور جانے کی وجہ سے نام دیا جاتا ہے۔

جب روایتی سونگ کروانے کے لئے بالر سیم کی ایک خاص پوزیشن رکھتا ہے تو اس پوزیشن کی وجہ سے اندر آنے والی ہوا بال کی ایک طرف ٹرپ ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مائیکرو ٹربیولینس پیدا ہوتا ہے۔ٹربیولینس ہوا کی حرکت میں بگاڑ کو کہتے ہیں۔اس مائکرو ٹربیولینس کی وجہ سے ائیر فلو کی سیپریشن میں زیادہ وقت لگتا ہے جس کی وجہ سے یہ ہوا کو بال کی ایک جانب سے دوسری جانب موڑ دیتی ہے اور بال اس دباؤ کی وجہ سے اپنا راستہ تبدیل کر لیتی ہے۔

روایتی سونگ میں کچھ اور عوامل بھی اثر پذیر ہوتے ہیں جیسا کہ پچ میں نمی کا موجود ہونا، بادلوں کا آسمان کو ڈھانپ لینا،دھیمی رفتار میں ہوا کا چلنا، بالر کی ریلیزنگ پوزیشن وغیرہ۔

نمی کا اثر۔Sheffield Hallam Universty کے سپورٹس انجینئرنگ رسرچ سینٹر کے co-author ڈیوڈ جیمز کا کہنا ہے کہ جب نمی والا دن ہوتا ہے تو یہ نمی بال کی سیم کو پھُلا دیتی ہے جس کی وجہ سے ہوا کا فلو متاثر ہوتا ہے اور یہ بال کو سونگ ہونے میں اور زیادہ مدد دیتی ہے۔

بادلوں کا اثر۔ انہی کا مزید کہنا یہ ہے کہ جب گرم دن ہوتا ہے اور زمین گرم ہوتی ہے تو یہ کنویکشن کرنٹ پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے ہوا میں ٹربیولینس پیدا ہوتا ہے۔جو کہ بال کی دونوں جانب ہوا کی رفتار کو متاثر کر دیتا ہے اور سونگ پیدا نہیں ہوتی۔(کنویکشن کرنٹ ہوا کی وہ حرکت ہوتی ہے جو کہ حرارت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔)

جبکہ جس دن بادلوں نے آسمان کو ڈھانپ رکھا ہوتا ہے تو ہوا کی رفتار دھیمی ہوتی ہے اور ہوا ٹھہری ہوئی محسوس ہوتی ہے کیونکہ زمین کی حرارت کی وجہ سے کنویکشن کرنٹ پیدا نہیں ہوتا۔ اس ٹھہری ہوئی ہوا کی وجہ سے بال کی دونوں جانب سے ہوا کی سموتھ اور رف موومنٹ متاثر نہیں ہوتی جس کی وجہ سے بال زیادہ سونگ کرتی ہے۔

بالر کی ریلیزنگ پوزیشن۔ اس میں بال کی سیم کا اتنا کردار نہیں ہوتا بلکہ اگر بالر سٹمپس سے دور جا کر بال کو بیٹسمن کی جانب(یعنی اندر کی جانب) پھینکے توبال بالر کے بالنگ ہاتھ کے باہر کی جانب یعنی رائٹ ہینڈ بالر کی دائیں جانب اور اگر سامنے دائیں ہاتھ کا بلے باز ہے تو اس کے اندر کی جانب جائے گی اور اس سے ان سونگ پیدا ہوگی۔ جبکہ اگردائیں ہاتھ کا بالر سٹمپس سے قریب ہو کر بال کو کچھ یوں پھینکے کہ وہ بال بالر کے بالنگ ہاتھ سے نان بالنگ ہاتھ کی جانب جائے تو وہ بال دائیں بلے باز سے دور کی جانب جائے گی اور اس سے آؤٹ سونگ پیدا ہوگی۔

2) ریورس سونگ

ریورس سونگ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ریورس کا معنی الٹا کے ہیں۔

رویتی سونگ میں کرکٹ بال کی شائن چونکہ دونوں طرف ہوتی ہے اس لئے یہ دونوں طرف سونگ ہوتی ہے۔ جبکہ ریورس سونگ ہمیشہ پرانے بال سے ہوتی ہے۔ جب بال کئی اوورز پرانا ہو چکا ہو اور اگر فیلڈرز،کپتان اور بالرز نے بال پر محنت کی ہو تو بال کی ایک طرف شائننگ رہتی ہے اور دوسری سائیڈ لگاتار رگڑ کھا کھا کر رف ہو چکی ہوتی ہے۔ جب ہوا بال سے گزرتی ہے تو سموتھ یعنی شائننگ سائیڈ سے تیزی سے گزر جاتی ہے برنالی کے تھیورم کے مطابق فلوئیڈ کی جب سپیڈ بڑھتی ہے تو اس کا پریشر کم ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے سموتھ سائیڈ سے چونکہ ہوا تیزی سے گزرتی ہے اس لئے اس طرف کا پریشر کم ہو جاتا ہے اور مخالف سمت کا زیادہ پریشر بال کو کم پریشر کی جانب دھکیلتا ہے۔ چونکہ بال سموتھ یعنی شائننگ سائیڈ کی جانب مڑتی ہے۔ریورس سونگ کے دوران عموماً سیم سیدھی رکھی جاتی ہے ایک تو اس سے ہوا کا فلو اچھے سے ہوتا ہے اور دوسرا اس سے بال کی رفنس یا شائن خراب نہیں ہوتی۔

اگر ریورس سونگ میں دائیں ہاتھ کے بیٹسمن کو دائیں ہاتھ کے بالر نے آؤٹ سونگ کروانی ہو تو وہ شائننگ سائیڈ کو باہر کی جانب رکھے گا اور ان سونگ میں اندر کی جانب۔

ریورس سونگ کرواتے وقت بالر بال کو چھپا کر رکھتا ہےاورہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ بیٹسمین کو معلوم نہ ہو کہ شائننگ سائیڈ کس طرف ہے تاکہ ریلیزنگ پوائنٹ تک بیٹسمین کو معلوم نہ ہو کہ بال کس جانب سونگ ہوگی اور بیٹسمین عین وقت دھوکے میں رہے اور ڈبل مائنڈڈ ہو کر غلطی کر دے۔

چونکہ اس میں ہوا کی سپیڈ کا زیادہ عمل دخل ہے اسی لئے ریورس سونگ کے لئے بالر جتنی زیادہ رفتار سے بال کروائے گا اتنی زیادہ سونگ ہوگی۔ جبکہ کنونشنل سونگ کم رفتار پر زیادہ کارآمد ہوتی ہے اسی لئے سونگ کروانے والے بالرز کی رفتار کم ہوتی ہے۔اسی لئے سونگ کے بہترین بالرز میں گلین مکگراہ شامل ہیں۔

نوٹ: چونکہ میں فزکس کا طالب علم نہیں اور فزکس کا علم انٹرمیڈیٹ والا ہی ہے تو اس میں کوئی غلطی کوتاہی ہو تو اس کی تصحیح کر دیجیے گا۔ جبکہ کرکٹ کے متعلق میں نے ذاتی علم،کچھ بالرز اور کوچز کے انٹرویوز،انٹرنیٹ سرفنگ سے تحقیق کر کے لکھا ہے۔ اگر مزید کوئی تصحیح ہو سکتی ہو تو کر دیجیے گا۔

تحریر۔۔۔ محمد مصباح شاہ

Want your school to be the top-listed School/college in Larkana?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Waleed Muhala Larkana
Larkana