Chandka Medical College Larkana

Chandka Medical College Larkana A Medical college in centre of Sindh , Larkana CMC admitted its first batch of 150 students in 1973. CMC has since grown to a full-fledged Medical University.

HISTORY OF CHANDKA MEDICAL COLLEGE LARKANA
Prime Minister Zulfikar Ali Bhutto initiated a project to found four different medical colleges in Sindh province; Chandka Medical College was among one. It is located in a building that had formerly housed a Government Polytechnic Institute Larkano, and Professor Ali Mohammad Ansari was assigned as the first Principal of the College. In 1975, as the firs

t batch of students were passing their first certification examination, the school instituted new departments in Pathology and Pharmacology. The new name of CMC is now "Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto Medical University" after the name of slain Benazir Bhutto who remained twice the Prime Minister of Pakistan . Prof. Surgeon Dr. Sikandar Ali Sheikh became his first Vice chancellor on 9 July 2009.

It takes 10 years of life, with more than 12 hours a day of studying, to become a doctor after FSc in Pakistan. Doctors ...
12/05/2026

It takes 10 years of life, with more than 12 hours a day of studying, to become a doctor after FSc in Pakistan. Doctors in Pakistan are overworked and underpaid, and disrespect toward them is also increasing day by day. In 2025 alone, a record 4,000 doctors emigrated from Pakistan, seeking better working conditions and respect abroad.

Estimates from the Pakistan Medical Association suggest there are now more than 600,000 fake doctors operating nationwide. These individuals often practice in unhygienic conditions, reusing equipment and misdiagnosing patients, which eventually floods tertiary care hospitals with ruined cases that could have been easily managed by a proper GP.

The tone the officer used in the video is totally unacceptable. People with zero medical knowledge cannot be allowed to make decisions regarding healthcare. A CT scan is not for entertainment, and no patient without proper need should be subjected to it. It has side effects, and only a doctor knows which patient needs it.

If doctors are not given respect according to the amount of effort and sacrifice needed to become one, the future of healthcare in Pakistan will be bleak.

26/04/2026
I STAND WITH DR  Af Zal Solangi Last night a video circulated on social media in which I saw my batch mate Afzal Solangi...
22/04/2026

I STAND WITH DR Af Zal Solangi

Last night a video circulated on social media in which I saw my batch mate Afzal Solangi being brutally harassed, abused, and assaulted by so called * Social Worker Lady * Masi Shehnaz

Let me tell you about dr Afzal from my personal observation, he has remained extraordinary student in studies as well as in his character. He never involved himself in any dispute or any drama in university life. He is from a very humble family and knows the pain of ordinary people more than anyone else.

The whole drama was created by social worker on the issue of provision of beds and facilities, that is appreciable, but the hands on drs should be replaced by hands on your political representatives and Administrators who own the budgets and sit comfortably in their bungalows watching drama of assaulting of doctors and aggression of poor people.

Believe me doctors die each day and every second of their duty when they see patients being ill treated and die due to lack of facilities.

Our social workers should direct their aggression and accountability not on doctors but on the BIG MACHINES whom they pray, die to take selfies with and respect more than their real fathers.

Massi Shehnaz is a powerful goon lady, she got attention and fame in the whole scenario while dr Afzal has lost his hard earned reputation due to filthy media trial by 6th fail social workers.

Who will be responsible for the loss of reputation, immediate trauma and long term consequences for Dr Afzal? for how long doctors will clean the dirt of corrupt politicians and administrators by getting abuses, trauma, and assault of people?

I hope some educated people and real social workers will understand the situation better and will change the direction of abuses from doctors to powerful politicians.

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَایک ہی لیکچر سے رب کریم نے کتنے لوگوں کو ہدایت کا روشن راستہ دکھا دیا سبحان اللّٰه ...
23/12/2025

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
ایک ہی لیکچر سے رب کریم نے کتنے لوگوں کو ہدایت کا روشن راستہ دکھا دیا
سبحان اللّٰه ❤️

M***i Shamail Sahib ❤️✨️

کل اس بحث کو کروڑوں لوگوں نے دیکھا. 👀
جاوید اختر :
اگر خدا ہے تو دنیا میں اتنی تکلیفیں کیوں ہیں...؟
مفتی شمائل ندوی :
اگر مصائب خدا کی عدم موجودگی کا ثبوت ہیں,
تو انصاف کا مطالبہ کرنا فضول ہے۔
مصائب اس بات کا ثبوت ہے کہ
انسان کے اندر صحیح اور غلط کا احساس موجود ہے،
اور یہ خدا کی سب سے بڑی نشانی ہے۔

جاوید اختر :
اگر زیادہ تر لوگ کسی چیز کو سچ مان لیتے ہیں تو کیا وہ سچ ہو جاتی ہے...؟
مفتی شمائل ندوی :
سچائی کا تعین اکثریت سے ہو تو تاریخ میں کبھی غلط نہیں ہوا۔
پھر غلامی، نسل پرستی اور جبر کو بھی درست سمجھا جائے گا,
کیونکہ انہیں ایک زمانے میں اکثریت کی حمایت حاصل تھی۔

جاوید اختر :
اگر خدا کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے,
تو ہم اس پر کیوں یقین کریں...؟
مفتی شمائل ندوی :
ہر چیز جو موجود ہے,
اسے لیبارٹری میں دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
عقل، محبت، ضمیر، انصاف، ان کا بھی کوئی ٹیسٹ ٹیوب ثبوت نہیں،
لیکن کوئی بھی ان سے انکار نہیں کرتا۔

جاوید اختر :
مذہب انسانی تخلیق ہے،
اس لیے اس پر سوال اٹھانا ضروری ہے...!
مفتی شمائل ندوی :
سوال کرنا ضروری ہے،
لیکن... پہلے، آئیے فیصلہ کریں :
انسان قانون بناتا ہے یا کائنات...؟
اگر انسان ہی سب کچھ ہوتا...
پھر موت، فطرت اور تقدیر پر اس کا اختیار کیوں نہیں...؟

جاوید اختر :
میں وہی مانتا ہوں,
جو عقل مانتی ہے۔
مفتی شمائل ندوی :
عقل بہت قیمتی ہے،
لیکن عقل خود کہتی ہے کہ وہ سب کچھ نہیں سمجھ سکتی۔
عقل سب کچھ سمجھ جائے تو غرور علم کہلائے گا۔

جاوید اختر :
مذہب لوگوں کو تقسیم کرتا ہے۔
مفتی شمائل ندوی :
مذہب لوگوں کو تقسیم نہیں کرتا۔
لوگ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے مذہب کو تقسیم کرتے ہیں۔
چاقو کھانے اور انسان دونوں کو کاٹتا ہے،
اس لیے قصور چھری کا نہیں...
بلکہ... استعمال کرنے والے کا ہے۔

ان تمام سوالوں کے بعد مفتی شمیل ندوی کے جوابات جذباتی نعرے نہیں تھے,
بلکہ عقل، فطرت اور منطق کی تین جھلکیاں تھیں۔
کوئی اونچی آواز نہیں،
کوئی طنز نہیں،
بس پرسکون سوالات...
جنہوں نے ان کی تردید کرنے والوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔

یہ کوئی بحث نہیں تھی،
یہ منطق کا پوسٹ مارٹم تھا۔
جہاں شور نہیں تھا...
لیکن... الفاظ بھاری تھے۔
جہاں تالیاں نہیں...
بلکہ خاموشی گواہی دے رہی تھی۔

مفتی صاحب نے ثابت کر دیا۔
ایمان توہم پرستی نہیں...
بلکہ ایک عقیدہ ہے۔
جو دلیل کے ہر امتحان پر پورا اترتا ہے۔

اسے "جواب" کہنا ایک معمولی بات ہوگی۔

یہ سوچ کی ریڑھ کی ہڈی کو ہلا دینے والی وضاحت تھی۔

اس طرح کی وضاحت کا مقصد دلیل جیتنا نہیں ہے،
بلکہ... حقیقت کو پیش کرنا ہے۔

شور مچانے والے اور وضاحت کرنے والے میں یہی فرق ہے۔
اور آج...
وضاحت کرنے والے نے بغیر کسی ہنگامے کے سب کچھ کہہ دیا۔

16/09/2025

"ویکسین(HPV) سے متعلق عام غلط فہمیاں اور ان کے جوابات"

غلط فہمی 1: یہ ویکسین صرف مغرب والوں کے لیے ہے، پاکستان کو ضرورت نہیں

جواب: پاکستان میں سروائیکل کینسر واقعی ایک مسئلہ ہے۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں پاکستان میں تقریباً 4,700 نئے کیسز اور 3,000 اموات ہوئیں۔ یہ بیماری ہمارے ملک میں بھی ایک سنگین عوامی صحت کا بوجھ ہے، اس لیے ویکسین کی ضرورت مغرب کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی ہے۔

غلط فہمی 2: یہ صرف بے راہ روی کرنے والوں کی بیماری ہے

جواب: HPV وائرس عام طور پر جنسی تعلق سے پھیلتا ہے، مگر یہ صرف غلط راستے پر چلنے والوں تک محدود نہیں۔ ایک شوہر اگر متاثر ہو تو وہ اپنی بیوی کو بھی منتقل کر سکتا ہے۔ یہ وائرس عام آبادی میں بھی پھیل سکتا ہے، اس لیے سب کو بچاؤ کی ضرورت ہے۔

غلط فہمی 3: یہ ویکسین صرف 9 سے 14 سال کی بچیوں کو کیوں دی جاتی ہے

جواب: اس عمر میں ویکسین سب سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے کیونکہ اس وقت تک زیادہ تر بچیاں جنسی زندگی شروع نہیں کرتیں۔ ویکسین جلد دی جائے تو زندگی بھر کے لیے سروائیکل کینسر سے بہتر تحفظ ملتا ہے۔

غلط فہمی 4: یہ ویکسین بانجھ پن کرتی ہے

جواب: دنیا کے بڑے سائنسی جائزے اور عالمی ادارہ صحت نے بارہا وضاحت کی ہے کہ HPV ویکسین اور بانجھ پن کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔ لاکھوں خواتین پر کیے گئے مطالعات میں بھی یہ بات ثابت ہوئی کہ ویکسین لینے سے بانجھ پن نہیں ہوتا۔

غلط فہمی 5: یہ پاکستان میں تجربہ کیا جا رہا ہے

جواب: یہ کوئی تجربہ نہیں بلکہ 2006 سے دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک میں یہ ویکسین دی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا میں اس کے بعد HPV سے جڑی بیماریاں اور کینسر نمایاں حد تک کم ہو گئے ہیں۔ یہ آزمودہ اور کامیاب ویکسین ہے۔

غلط فہمی 6: یہ ویکسین خطرناک ہے اور سنگین سائیڈ ایفیکٹس ہوتے ہیں

جواب: ویکسین کے عام سائیڈ ایفیکٹس بہت ہلکے ہوتے ہیں جیسے بازو میں درد یا ہلکا بخار۔ سنگین ردعمل نہایت ہی نایاب ہیں اور بڑے مطالعات نے ثابت کیا ہے کہ یہ ویکسین محفوظ ہے۔

غلط فہمی 7: پاکستانی ڈاکٹرز نے اس کی حمایت نہیں کی

جواب: پاکستان کے ماہرین امراض نسواں اور صحتِ عامہ کے ادارے اس ویکسین کی حمایت کرتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت، یونیسف اور Gavi کے تعاون سے یہ مہم پاکستان میں شروع کی گئی ہے۔

غلط فہمی 8: یہ کینسر نایاب ہے، وسائل دوسری بیماریوں پر خرچ کریں

جواب: سروائیکل کینسر ایک قابلِ روک تھام بیماری ہے۔ ویکسین کے ذریعے نہ صرف کینسر روکا جا سکتا ہے بلکہ طویل عرصے میں یہ علاج کے اخراجات کو بھی کم کر دیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ سرمایہ کاری ملک کے لیے فائدہ مند ہے۔

غلط فہمی 9: یہ صرف کمپنیوں کی کمائی کا ذریعہ ہے

جواب: حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جیسے ممالک میں یہ ویکسین Gavi اور دیگر ادارے مفت یا بہت کم قیمت پر فراہم کرتے ہیں۔ اگر یہ صرف کاروبار ہوتا تو غریب ممالک میں مفت نہ دی جاتی۔

غلط فہمی 10: دعا اور ایمان کافی ہیں، ویکسین دین کے خلاف ہے

جواب: اسلام میں علاج کروانا سنت اور جائز ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی علاج کی ترغیب دی۔ ویکسین بھی علاج کی ایک صورت ہے اور دین کے خلاف نہیں بلکہ انسانی جان کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔

غلط فہمی 11: کپڑوں یا واشنگ مشین سے وائرس پھیلتا ہے

جواب: HPV صرف براہِ راست جسمانی تعلق سے پھیلتا ہے۔ کپڑوں یا واشنگ مشین سے اس کے پھیلنے کے شواہد نہیں ہیں۔

غلط فہمی 12: اسلامی ممالک کو اس کی ضرورت نہیں

جواب: سعودی عرب، ملائیشیا اور کئی دیگر مسلم ممالک نے HPV ویکسینیشن شروع کی ہے۔ بیماری مذہب نہیں دیکھتی، اس لیے سب ممالک کو اس سے بچاؤ کی ضرورت ہے۔

غلط فہمی 13: صرف عورتوں کو ویکسین دی جا رہی ہے، مرد بھی متاثر ہو سکتے ہیں

جواب: یہ درست ہے کہ HPV مردوں میں بھی گلے اور مقعد کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ کچھ ممالک میں لڑکوں کو بھی یہ ویکسین دی جاتی ہے، مگر ہمارے ملک میں فی الحال زیادہ خطرہ خواتین کو ہے اس لیے مہم ان پر مرکوز ہے۔

غلط فہمی 14: پردہ کرنے سے خطرہ ختم ہو جاتا ہے

جواب: پردہ اسلامی اقدار کا حصہ ہے مگر یہ بیماری کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر نہیں روکتا۔ اگر گھر کا کوئی فرد متاثر ہو تو وہ شریکِ حیات کو منتقل کر سکتا ہے۔ اس لیے ویکسین لینا پھر بھی ضروری ہے۔

غلط فہمی 15: یہ بیماری بڑھاپے میں ہوتی ہے اس لیے ابھی ویکسین کی ضرورت نہیں

جواب: انفیکشن زیادہ تر نوجوانی میں لگتا ہے، کینسر بعد میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسی لیے ویکسین بچپن یا نو عمری میں زیادہ مؤثر ہے تاکہ زندگی کے اگلے حصے میں بیماری سے بچاؤ ہو سکے۔

غلط فہمی 16: یہ کرونا ویکسین جیسا ڈرامہ ہے

جواب: HPV ویکسین کرونا ویکسین سے مختلف ہے۔ یہ 2006 سے استعمال ہو رہی ہے اور دنیا بھر میں اس کی حفاظت اور اثرات پر طویل عرصے کے اعداد و شمار موجود ہیں۔

غلط فہمی 17: یہ بچی کے کردار پر سوال اٹھانے والی ویکسین ہے

جواب: ویکسین کا مقصد صرف بچاؤ ہے، اس کا تعلق کردار یا طرزِ زندگی سے نہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ہم ٹی بی یا ٹٹنیس کی ویکسین بچوں کو دیتے ہیں۔

غلط فہمی 18: قدرتی علاج اور جڑی بوٹیاں کافی ہیں

جواب: جڑی بوٹیوں یا گھریلو ٹوٹکوں سے HPV یا سروائیکل کینسر سے بچاؤ کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں۔ صرف ویکسین اور باقاعدہ ٹیسٹ ہی مؤثر روک تھام کا ذریعہ ہیں۔

غلط فہمی 19: ہمارے وسائل محدود ہیں اس لیے یہ ویکسین ترجیح نہیں ہونی چاہیے

جواب: ویکسین لگانا علاج کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستا اور فائدہ مند ہے۔ کینسر کی صورت میں علاج بہت مہنگا پڑتا ہے اور اکثر جان بچانا مشکل ہو جاتا ہے۔

غلط فہمی 20: اس کے طویل المدتی اثرات ابھی معلوم نہیں

جواب: اس ویکسین پر پچھلے 15 سے 20 سال کے اعداد و شمار موجود ہیں۔ دنیا بھر میں اس نے HPV انفیکشن اور کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا ہے اور کوئی سنگین طویل المدتی خطرہ سامنے نہیں آیا۔

صحت کے معاملے پر نیم خواندہ ٹک ٹاکر، مشی خان جیسے انفلوئنسر جن کا میڈیکل سے دور کا واسطہ نہیں یا محلے کی مسجد کے امام صا...
16/09/2025

صحت کے معاملے پر نیم خواندہ ٹک ٹاکر، مشی خان جیسے انفلوئنسر جن کا میڈیکل سے دور کا واسطہ نہیں یا محلے کی مسجد کے امام صاحب سے فتویٰ نا لیں۔

اس کے بارے میں فتویٰ درکار ہے تو وہ بھی کسی بڑے اور مستند عالم سے لیں انہیں سے مشورہ کریں۔

اپنی بچیوں کی سروئیکل کینسر کی وجہ بننے والے وائرس کی ویکسینیشن کے بارے میں مستند ڈاکٹر سے رائے لیں۔

یہ آپ کا حق ہے کہ آپ پہلے اپنا اطمینان کریں بعد میں بچیوں کی ویکسینیشن کروانے یا نا کروانے کا فیصلہ کریں۔
حکومت اسی لیے والدین سے راضی نامہ سائن کروا رہی ہے زبردستی کوئی نہیں ہے۔

بہتر ہے یو ٹیوب پر سرویکل کینسر ویکسنیشن لکھ کر دنیا بھر کے ڈاکٹرز کو سنیں ان سے معلومات اکھٹی کریں صحیح غلط کا اندازہ تبھی ہو جاتا ہے جب لوگ مختلف بات کر رہے ہوں۔

اس کے علاؤہ گوگل کو زحمت دیں
WHO
کی ویب سائٹ پر جا کر پڑھیں

اس کے بعد اپنے شہر کے بڑے ڈاکٹرز سے مشورہ کریں خاص طور سے سرکاری ہسپتالوں میں خدمات سر انجام دینے والے گائنی اور میڈیسن کے ڈاکٹرز آپ کو صحیح صورتحال بھی بتا سکتے ہیں اور صحیح مشورہ دے سکتے ہیں۔
آن لائن سینئیر ڈاکٹرز سے رائے لیں

لیکن مہربانی فرما کر صحت کے معاملے پر نیم خواندہ ٹک ٹاکر، مشی خان جیسے انفلوئنسر جن کا میڈیکل سے دور کا واسطہ نہیں یا محلے کی مسجد کے امام صاحب سے فتویٰ نا لیں۔

ویکسینیشن کروانا جائز ہے یا ناجائز اس کے بارے میں فتویٰ درکار ہے تو وہ بھی کسی بڑے اور مستند عالم سے لیں انہیں سے مشورہ کریں۔

اپنی بچیوں کی زندگی اور صحت کا فیصلہ کرتے ہوئے محتاط رہیں اور زمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

فیصلہ آپ کا۔۔۔۔۔۔۔

جویریہ ساجد
16 ستمبر 2025

14/09/2025

Really good decision by PMDC, we doctors should appreciate these things .

It is deeply concerning that certain digital platforms are engaging in the ethically questionable sale of medicines, par...
14/08/2025

It is deeply concerning that certain digital platforms are engaging in the ethically questionable sale of medicines, particularly Breeky, a drug used for birth control or the termination of pregnancy. The unregulated availability of such medications poses serious health and safety risks, especially when they are obtained without proper medical guidance. Breeky and similar drugs should only be prescribed after thorough consultation with qualified physicians or gynecologists, as incorrect usage can lead to severe physical complications and emotional distress.

The fact that these drugs are easily accessible online, without any requirement for a valid prescription, undermines established medical protocols and opens the door to potential misuse. This also increases the risk of self-medication, unsafe abortion practices, and long-term reproductive health issues.

Not only this online sell of such sensitive drugs without doctors medical advice is wrong but it is also unjustified for medical stores to dispense these drugs without proper medical consultation.

The greater risk posed by the easy availability of such drugs, especially when accessible to young people, is that it may encourage unethical practices and behavior that conflict with moral and societal values. When potent medications like these can be obtained without medical oversight, there is a heightened likelihood of misuse, reckless decision-making, and exploitation

Health authorities must urgently intervene by setting and strictly enforcing rules for the online sale of prescription medicines. This should include mandatory prescription verification, licensing requirements for online vendors, and penalties for platforms that fail to comply. Public awareness campaigns are also necessary to educate people about the dangers of using such potent drugs without professional supervision.

Dr. Mujeeb Rehman.

Justice for Dr Mujtaba Memon Senior Medical officer BPS 18 RHC, Ranipur, khairpur mirs.Dr Mujtaba Memon is brutally beat...
12/08/2025

Justice for Dr Mujtaba Memon
Senior Medical officer BPS 18
RHC, Ranipur, khairpur mirs.

Dr Mujtaba Memon is brutally beaten up by patients attendants at RHC Ranipur, district khairpur Mirs.

At around 1:40 a.m. on 11 August, at RHC Ranipur, District Khairpur Mirs, Dr. Mujtaba Memon was on duty when a patient ( female) arrived with abdominal pain and loose motion. Dr. Memon examined the patient thoroughly and prescribed the necessary medication, including IV fluids and painkillers. He informed the attendants that administering IV Flagyl would be beneficial; however, it was not available at the facility. He suggested that if they could bring it from outside, it could be given—otherwise, there was no issue.

The patient’s family became annoyed and angry, misbehaving with Dr. Memon. When he told them not to speak in such a manner, one of them said, “You don’t know what I can do.” The attendant then picked up the bottle from a suction machine, smashed it on the floor, took a piece of the broken glass, and struck Dr. Memon on his head, making wide laceration, brutally assaulting him. He started bleeding profusely and lost consciousness.

It has now become very difficult to perform duties in rural areas due to threats and security tensions. Doctors and medical staff require strong security measures and protection. Without safety, they cannot deliver effective healthcare.

Video link of post
Dr mujtaba briefing media
https://www.facebook.com/share/v/1JqL8oXW7H/

.




Here is  the number of graduates from different institutes matched this year22 students from CMC(SMBBMU Larkana) matched...
30/03/2025

Here is the number of graduates from different institutes matched this year
22 students from CMC(SMBBMU Larkana) matched this year.

29/03/2025

Attention Chandka Medical College Alumni,

All alumni who matched in the 2025 N**P Match are requested to send a direct message (DM) or comment with their match details. The university will be featuring your success through official recognition on our website and social media pages to celebrate your remarkable achievement.

Proud moments like these deserve to be shared — congratulations once again!

— Chandka Medical College

Address

Larkana Lines
13100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chandka Medical College Larkana posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Chandka Medical College Larkana:

Shortcuts

Share

Category