Jamia Masjid Gulzar -e-Habib

Jamia Masjid Gulzar -e-Habib Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jamia Masjid Gulzar -e-Habib, Education, Jamiya Masjid Gulzar-E-Habib, Larkana Lines.

Jamia Masjid established by the Zamindars of the Larkana Division for the offer Prayers on the 17th Day of April 1901, with the building of (Madressah) Government Girls Degree College Larkana.

09/06/2019
13/05/2019

نیک عورتوں کو جنت میں حوروں کے بدلے کیا ملے گا؟

سوال
جنت میں مردوں کےنیک اعمال کے بدلے میں حوروں کا وعدہ ہے، جب کہ کئی خواتین کہتی ہیں کہ ہمیں کیا ملے گا؟

جواب
نیک عورت اگر شادی شدہ ہے تو جنت میں اپنے جنتی شوہر کے ساتھ رہے گی اور شوہر کو ملنے والی حوروں کی سردار ہوگی، اوراللہ تعالیٰ اس عورت کو ان سب سے حسین وجمیل بنائیں گے اور وہ میاں بیوی آپس میں ٹوٹ کر محبت کرنے والے ہوں گے۔

اور اگر دنیا میں عورت کے متعدد شوہر ہوں یعنی عورت نے اپنے شوہر کے انتقال یا اس کے طلاق دینے کے بعد دوسری شادی کرلی ہو یعنی اس عورت نے دو یا اس سے زیادہ شادیاں کی ہوں تو وہ جنت میں اپنے کس شوہر کے ساتھ رہے گی ؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں :

(1) اس عورت کو اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ اس کی زیادہ موافقت ہو اس کو اختیار کرلے۔

(2) وہ عورت آخری شوہر کے ساتھ رہے گی۔حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : عورت کو اس کا آخری شوہر ملے گا۔

(3) عورت اس شوہر کے ساتھ رہے گی جس نے دنیا میں اس کے ساتھ اچھے اخلاق کا برتاؤ کیا ہواور وہ شوہر جس نے عورت پر ظلم کیا ہوگا ، اس کو تنگ کیا ہوگا وہ اس عورت سے محروم رہے گا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ کسی کے دو شوہر ہوں تو وہ جنت میں کس کے ساتھ رہے گی؟آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اختیار دیا جائے گا ، پس وہ اس شوہر کو اختیار کرے گی جس نے دنیا میں اس کے ساتھ اچھے اخلاق کا برتاؤ کیا ہو، اور وہی اس کا جنت میں شوہر ہوگا، اے ام سلمہ! اچھے اخلاق والے دنیا اور آخرت کی بھلائی لے گئے۔

(4) بعض حضرات نے یوں تطبیق دی ہے کہ اگر سب شوہر حسن خلق میں برابر ہوں تو آخری شوہر کو ملے گی ورنہ اسے اختیار دیا جائے گا۔

اور اگر عورت کنواری ہو یعنی اس کا شادی سے پہلے ہی انتقال ہوگیا ہو ، یا شادی شدہ تو ہو ،لیکن اس کا شوہر جنتی نہ ہو تو جنت میں جس مرد کو بھی وہ پسند کرے گی، اس کے ساتھ اس کا نکاح ہوجائے گا، اور اگر موجودہ لوگوں میں کسی کو بھی پسند نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک مرد جنت میں پیدا فرمائیں گے جو اس کے ساتھ نکاح کرے گا۔(فتاویٰ عبدالحی )

باقییہ خواہش کہ ایک عورت بیک وقت کئی مردوں کی بیوی ہو خلافِ فطرت بھی ہے اور جنت میں یہ خواہش پیدا بھی نہیں ہوگی۔
#عالی

13/05/2019

ﺭﻭﺋﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﻗﺎﺗﻞ ﻗﺎﺑﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﻣﻘﺘﻮﻝﮨﺎﺑﯿﻞ ﮨﮯ ''ﻗﺎﺑﯿﻞ ﻭ ﮨﺎﺑﯿﻞ '' ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯﻓﺮﺯﻧﺪ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﻮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺣﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺣﻤﻞ ﮐﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺣﻤﻞ ﮐﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﯿﺎﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻗﺎﺑﯿﻞﮐﺎ ﻧﮑﺎﺡ '' ﻟﯿﻮﺫﺍ'' ﺳﮯ ﺟﻮ ﮨﺎﺑﯿﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺎ۔
ﻣﮕﺮ ﻗﺎﺑﯿﻞ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻗﻠﯿﻤﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻃﻠﺐ ﮔﺎﺭ ﮨﻮﺍ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻗﻠﯿﻤﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻭﮦ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﮩﻦ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﯿﺮﺍ ﻧﮑﺎﺡﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﻗﺎﺑﯿﻞ ﺍﭘﻨﯽ ﺿﺪ ﭘﺮ ﺍﮌﺍ ﺭﮨﺎ۔ ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯿﺎﮞﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﻗﺪﻭﺱ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﮐﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﻭ۔ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽﻣﻘﺒﻮﻝ ﮨﻮ ﮔﯽ ﻭﮨﯽ ﺍﻗﻠﯿﻤﺎ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺩﺍﺭ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽﮐﯽ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﮐﯽ ﯾﮧ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺁﮒ ﺍﺗﺮ ﮐﺮ ﺍﺱﮐﻮ ﮐﮭﺎﻟﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻗﺎﺑﯿﻞ ﻧﮯ ﮔﯿﮩﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﭽﮫ ﺑﺎﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺑﯿﻞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮑﺮﯼ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ۔ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﺁﮒﻧﮯﮨﺎﺑﯿﻞﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺑﯿﻞ ﮐﮯ ﮔﯿﮩﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﺑﺎﺕﭘﺮ ﻗﺎﺑﯿﻞ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﻐﺾ ﻭ ﺣﺴﺪ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺎﺑﯿﻞﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﭨﮭﺎﻥ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺑﯿﻞ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮫﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﮨﺎﺑﯿﻞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﺎﮐﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﺘﻘﯽ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮨﯽ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺗﻮﻣﺘﻘﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺿﺮﻭﺭ ﺗﯿﺮﯼ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﮨﺎﺑﯿﻞ ﻧﮯﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺘﻞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﮍﮬﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮﻣﯿﮟ ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﺅﮞ ﮔﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﺎﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﯽ ﭘﻠﮯ ﭘﮍﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﺩﻭﺯﺧﯽ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺑﮯ ﺍﻧﺼﺎﻓﻮﮞ ﮐﯽ ﯾﮩﯽ ﺳﺰﺍ ﮨﮯ۔
ﺁﺧﺮ ﻗﺎﺑﯿﻞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮨﺎﺑﯿﻞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﺑﻮﻗﺖ ﻗﺘﻞ ﮨﺎﺑﯿﻞﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺑﯿﺲ ﺑﺮﺱ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺘﻞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﻣﯿﮟﺟﺒﻞ ﺛﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﯾﺎ ﺟﺒﻞ ﺣﺮﺍ ﮐﯽ ﮔﮭﺎﭨﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﮐﺎﻗﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺼﺮﮦ ﻣﯿﮟﺟﺲﺟﮕﮧﻣﺴﺠﺪ ِ ﺍﻋﻈﻢ ﺑﻨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﻣﻨﮕﻞﮐﮯ ﺩﻥ ﯾﮧ ﺳﺎﻧﺤﮧﮨﻮﺍ۔
(ﻭﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﻋﻠﻢ )
ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﮨﺎﺑﯿﻞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺳﺎﺕﺩﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟﺯﻟﺰﻟﮧ ﺭﮨﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﻭﺣﻮﺵﻭ ﻃﯿﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻧﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﻄﺮﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﺑﮯﭼﯿﻨﯽ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺑﯿﻞ ﺟﻮ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﮔﻮﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﮭﺎ. ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﺑﮩﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮐﺎﻻ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﺻﻮﺭﺕ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺣﺪ ﺭﻧﺞ ﻭ ﻗﻠﻖ ﮨﻮﺍ۔ ﯾﮩﺎﮞﺗﮏ ﮐﮧ ﮨﺎﺑﯿﻞ ﮐﮯ ﺭﻧﺞ ﻭ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﺑﺮﺱ ﺗﮏ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﻮﮨﻨﺴﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﯾﺎﻧﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮨﺎﺑﯿﻞ ﮐﺎ ﻣﺮﺛﯿﮧ ﮐﮩﺎ
ﺟﺲ ﮐﺎ ﻋﺮﺑﯽ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ؎
ﺗَﻐَﯿَّﺮَﺕِ ﺍﻟْﺒِﻼَﺩُ ﻭَﻣَﻦْ ﻋَﻠَﯿْﮭَﺎ ﻓَﻮَﺟْﮧُ ﺍﻟْﺎَﺭْﺽِ ﻣُﻐْﺒَﺮٌ ﻗَﺒِﯿْﺢ،
ﺗَﻐَﯿَّﺮَ ﮐُﻞُّ ﺫِﯼْ ﻟَﻮْﻥٍ ﻭَﻃَﻌْﻢٍ ﻭَﻗَﻞَّ ﺑَﺸَﺎﺷَۃُ ﺍﻟْﻮَﺟْﮧِ ﺍﻟﺼَّﺒِﯿْﺢ،
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺗﻤﺎﻡ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺷﻨﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻐﯿﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭﺯﻣﯿﻦ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻏﺒﺎﺭ ﺁﻟﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﯿﺢ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﮨﺮ ﺭﻧﮓ ﺍﻭﺭ ﻣﺰﮦ ﻭﺍﻟﯽﭼﯿﺰ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﺭﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺭﻭﻧﻖ ﮐﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔
ﮨﺎﺑﯿﻞ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﺮﺱ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﯿﺚ ﻋﻠﯿﮧﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺷﺮﯾﻒﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﺗﯿﺲ ﺑﺮﺱ ﮐﯽ ﮨﻮﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﮨﻮﻧﮩﺎﺭ ﻓﺮﺯﻧﺪﮐﺎ ﻧﺎﻡ '' ﺷﯿﺚ '' ﺭﮐﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﺳﺮﯾﺎﻧﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ '' ﮬﺒۃ ﺍﻟﻠﮧ '' ﯾﻌﻨﯽ '' ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻋﻄﯿﮧ'' ﮨﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﭘﭽﺎﺱ ﺻﺤﯿﻔﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﭘﺮ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﯿﺚ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻭﺻﯽﻭ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺍﻭﺭ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﺴﻞ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺮ ﻭﺑﺮﮐﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺣﻀﻮﺭ ﺧﺎﺗﻢ ﺍﻟﻨﺒﯿﯿﻦ ﺻﻠﯽﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﻥ ﮨﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﯿﺚ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻣﯿﮟﺳﮯ ﮨﯿﮟ۔
( ﺭﻭﺡ ﺍﻟﺒﯿﺎﻥ،ﺝ۲،ﺹ۳۷۶،ﭖ۶،ﺍﻟﻤﺎﺋﺪۃ : ۳۰ )
#عالی

13/05/2019


وہ دونوں کلاس فیلو تھے‘ لڑکی پوری یونیورسٹی میں خوبصورت تھی اور لڑکا تمام لڑکوں میں وجیہہ‘ دونوں ایک دوسرے سے ٹکراتے رہے اور آخر میں دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے‘ معاملہ رومیو جولیٹ جیسا تھا‘ دونوں کے خاندان ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے‘ شادی مشکل تھی‘ دونوں باعزت گھرانوں کے سعادت مند بچے تھے‘ یہ بھاگ کر شادی کیلئے تیار نہیں تھے اور خاندان اپنے اپنے شملے نیچے
نہیں لا رہے تھے لہٰذا معاملہ پھنس گیا‘ لڑکے اور لڑکی نے پوری زندگی شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا‘ یہ دونوں اپنے اپنے گھر میں رہتے رہے‘ پانچ سال دونوں کے درمیان کوئی رابطہ نہ ہوا‘ والدین شادی کی کوشش کرتے مگر یہ انکار کرتے رہے یہاں تک کہ لڑکی کے والدین ہار مان گئے‘ لڑکی نے لڑکے کو فون کیا‘ لڑکے نے فون اٹھایا‘ لڑکی کی صرف ہیلو سنی اور کہا ”مجھے بتاؤ‘ میں نے بارات لے کر کب آنا ہے“ دونوں کے والدین ملے‘ شادی ہوئی اور دونوں نے اپنا گھر آباد کر لیا‘ لڑکے نے کاروبار شروع کیا‘ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور وہ خوش حال ہو گئے‘ یہ شادی بیس سال چلی‘ اس دوران تین بچے ہو گئے‘ خاتون کو اپنے حسن‘ اپنی خوبصورخیار بہت ناز تھا‘ وہ تھی بھی ناز کے قابل‘ وہ 45 سال اور تین بچوں کی ماں ہونے کے باوجود جوان لگتی تھی‘ خاوند بھی روز اول کی طرح اس پر فریفتہ تھا‘ وہ روز جی بھر کر بیوی کی تعریف کرتا تھا لیکن پھر ایک دن وہ ہوگیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا‘ خاتون کی پر چھوٹی سی گلٹی نکلی اور یہ گلٹی پھیلتے پھیلتے ناسور بن گئی‘ ڈاکٹروں کو دکھایا‘ ٹیسٹ ہوئے‘ پتہ چلا خاتون جلد کے کینسر میں مبتلا ہیں‘ خاوند صرف خاوند نہیں تھا وہ اپنی بیوی کا مہینوال تھا‘ وہ اپنی ران چیر کر بیوی کو کباب بنا کر کھلا سکتا تھا‘ وہ بیوی کو لے کر دنیا جہاں کے ڈاکٹروں کے پاس گیا‘ ایک کلینک سے دوسرے کلینک‘ ایک ڈاکٹر سے
دوسرے ڈاکٹر اور ایک ملک سے دوسرے ملک‘ وہ دونوں چلتے رہے یہاں تک کہ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا‘ خاتون کا جسم گلٹیوں سے بھر گیا‘ یہ مصیبت ابھی ختم نہیں ہوئی کہ ایک دن دوسری آفت آن پڑی‘ خاوند کی گاڑی ٹرک سے ٹکرائی اور وہ شدید زخمی ہو گیا‘ وہ ہسپتال پہنچا‘ پتہ چلا وہ بینائی کی نعمت سے محروم ہو چکا ہے‘ آپ اس کے بعد المیہ ملاحظہ کیجئے‘ شہر کا خوبصورت ترین جوڑا‘ بدقسمتی‘ ب جلد کے کینسر کی مریض اور خاوند آنکھوں سے اندھا‘
لوگ انہیں دیکھتے تھے تو کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے لیکن یہ دونوں اس کے باوجود مطمئن تھے‘ یہ روز صبح باغ میں واک بھی کرتے تھے‘ سینما بھی جاتے تھے اور ریستورانوں میں کھانا بھی کھاتے تھے‘ بیوی خاوند کا ہاتھ پکڑ کر ساتھ ساتھ چلتی تھی‘ وہ اسے گائیڈ کرتی تھی اور خاوند بیوی کی گائیڈینس پر چلتا جاتا تھا‘ یہ سلسلہ بھی کئی ماہ تک چلتا رہالیکن پھر بیوی نے خاوند سے ایک عجیب مطالبہ کر دیا‘ وہ اکیلی سوئٹزرلینڈ جانا چاہتی تھی‘ خاوند نے وجہ پوچھی‘ بیوی کا کہنا تھا وہ دس پندرہ دن اکیلی رہنا چاہتی ہے‘
خاوند نے اس کے ساتھ جانے کی ضد کی لیکن وہ نہ مانی‘ اصرار اور انکار بڑھتا رہا یہاں تک کہ آخر میں وہی ہوا جو ایسے معاملات میں ہوتا ہے‘ خاوند نے بیوی کو اجازت دے دی۔بیوی سوئٹزر لینڈ چلی گئی‘ خاوند نے وہ دس دن بڑی مشکل سے گزارے‘ وہ شادی کے 20 برسوں میں ایک دن کیلئے بھی اکیلے نہیں ہوئے تھے‘ یہ ان کی جدائی کے پہلے دس دن تھے‘ یہ دس دن پہاڑ تھے‘ خاوند اس پہاڑ تلے سسکتا رہا‘ دس دن بعد بیوی نے آنا تھا‘ خاوند ائیرپورٹ پہنچا لیکن بیوی نہ آئی‘
خاوند کو دنیا ڈولتی ہوئی محسوس ہوئی‘ وہ سارا دن بیوی کو فون کرتا رہا‘ بیوی سے رابطہ نہ ہوا لیکن شام کو بیوی کا خط آ گیا‘ وہ خط ان کے بیٹے نے پڑھا‘ وہ خط صرف خط نہیں تھا‘ وہ ایک تحریری قیامت تھی اور پورا خاندان اس تحریری قیامت کا شکار ہوتا چلا گیا‘ میں اس قیامت کی طرف آنے سے قبل آپ کو دنیا کی ایک خوفناک لیکن دلچسپ حقیقت بتاتا چلوں۔دنیا میں ایسے بے شمار سینٹرز ہیں جہاں آپ اپنی مرضی سے مر سکتے ہیں‘ یہ سینٹرزلاعلاج مریضوں کیلئے بنائے گئے ہیں‘
دنیا میں یہ لوگ جب امراض کا بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک جاتے ہیں اور یہ چین کی موت مرنا چاہتے ہیں تو یہ لوگ ان سینٹرز میں جاتے ہیں‘ اپنی میڈیکل رپورٹس دکھاتے ہیں‘ ڈاکٹرز ان کی حالت اور رپورٹ چیک کرتے ہیں‘ ان سے یہ حلف نامہ لیتے ہیں ”ہم اپنی مرضی سے دنیا چھوڑ کر جا رہے ہیں“ ان کی مرضی سے ان کی موت کا دن اور وقت طے کرتے ہیں‘ ان کی آخری خواہش پوری کرتے ہیں اور پھر انہیں زہر کا ٹیکہ لگا کر دنیا سے رخصت کر دیتے ہیں‘ یہ عمل طبی زبان میں یوتھانیزیا(euthanasia)یعنی آسان موت کہلاتا ہے‘یہ دنیا کے 7 ممالک میں قانونی ہے اور اتنے ہی ملکوں میں اس کی اجازت کیلئے بحث چل رہی ہے‘
سوئٹزر لینڈ بھی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں یوتھانیزیا کو قانونی سٹیٹس حاصل ہے‘ زیورخ شہرمیں یوتھانیزیا کا سینٹر بنا ہے‘ یہ سینٹر انتہائی خوبصورت جگہ پر قائم ہے‘ سینٹر کے کمرے پہاڑوں‘ آب شاروں اور جھیلوں کے کنارے بنائے گئے ہیں‘ مریض بیڈ پر لیٹ کر زندگی کی آخری صبحیں اور شامیں دیکھتے ہیں اور آخر میں مہربان ڈاکٹروں اور نرسوں کے ہاتھوں میں زندگی کی سرحد پار کر جاتے ہیں‘ وہ خاتون بھی یوتھانیزیاکیلئے سوئٹزر لینڈ گئی تھی‘ وہ کینسر کا دکھ برداشت نہیں کر پا رہی تھی چنانچہ اس نے آسان موت لینے کا فیصلہ کر لیا‘ وہ زیورخ گئی‘
زندگی کے آخری دس دن گزارے اور عین اس وقت اپنے لئے موت کا تعین کر لیا جب اس کی فلائیٹ نے وطن کی مٹی کو چھونا تھا‘ ادھر فلائیٹ اتری اور ادھر وہ زندگی کی سرحد پار کر گئی‘ خاتون کا آخری خط بیٹے کے ہاتھ میں تھا‘ وہ سسکیاں لے لے کر خط پڑھ رہا تھا اور خاوند سر جھکا کر اپنی بیگم کا ایک ایک لفظ سن رہاتھا۔بیوی نے اپنی پوری زندگی کا احاطہ کیا‘ اس نے بتایا‘ وہ جب پہلی بار یونیورسٹی میں ملے تھے تو اس نے کیا محسوس کیا تھا‘ وہ یونیورسٹی میں لڑتی کیوں تھی اور وہ کون سا دن تھا جب لڑتے لڑتے اسے اس سے محبت ہو گئی تھی‘ اس نے فراق کے وہ پانچ سال کیسے گزارے تھے اور اس نے شادی کے بعد اپنے بچوں کو ملازموں کے رحم وکرم پر کیوں چھوڑے رکھا تھا ”میں اپنی محبت کو تقسیم نہیں کر سکتی تھی‘ میں تمہارا حصہ اپنے بچوں کو بھی نہیں دے سکتی تھی“
اس نے 20 سال کی ازدواجی زندگی کس مسرت اور سرشاری میں گزاری اور پھر جب اسے پہلی گلٹی نکلی تو اس نے کیا محسوس کیا‘ وہ خود کو روز بروز بدصورت ہوتا ہوا دیکھتی تھی تو اس کے دل پر کیا گزرتی تھی‘ وہ قدرت کا یہ فیصلہ بھی سہتی چلی گئی لیکن پھر عجیب واقعہ ہوا”آپ نے پہلے بچے بورڈنگ سکول میں بھیج دیئے‘ میں جانتی تھی آپ نے یہ فیصلہ کیوں کیا‘ آپ نہیں چاہتے تھے میرے بچے مجھے اس حالت میں دیکھیں اور پھر میں ان کی آنکھوں میں اپنے لئے ترس دیکھوں‘
پھر آپ ملازموں کو رشوت دیتے تھے اور وہ روزانہ کوئی نہ کوئی شیشہ توڑ دیتے تھے‘ میں آپ سے شیشے لگوانے کا کہتی تھی‘ آپ ہنس کر ٹال جاتے تھے یوں آہستہ آہستہ گھر سے سارے آئینے غائب ہو گئے‘ آپ نہیں چاہتے تھے میں اپنی آنکھوں سے اپنی بدصورتی دیکھوں‘ بات اگر یہاں تک رہتی توبھی میں برداشت کر جاتی لیکن آپ نے آخر میں عجیب کام کیا‘ آپ نے ایکسیڈنٹ کیا اور خود کو اندھا ڈکلیئر کر دیا‘ میں جانتی ہوں آپ کی آنکھیں ٹھیک ہیں‘ آپ مسلسل چھ ماہ سے اندھے پن کی ایکٹنگ کر رہے ہیں اور میں یہ بھی جانتی ہوں آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نہیں چاہتے تھے
میرے دل میں ایک لمحے کیلئے بھی یہ خیال آئے میں آپ کو بدصورت دکھائی دے رہی ہوں یا میں آپ کی آنکھوں میں اپنی بدصورتی کو پڑھ لوں چنانچہ آپ اندھے بن گئے‘ آپ کا یہ مصنوعی اندھا پن محبت کی انتہا تھی‘ میں یہ انتہا برداشت نہ کر سکی چنانچہ میں نے دنیا سے رخصت ہونے کا فیصلہ کر لیا‘ میں دنیا سے جا رہی ہوں‘ آپ اب پلیز اندھے پن کی یہ ایکٹنگ بند کر دیں‘ یہ خط پکڑیں اور خود پڑھنا شروع کر دیں“ یہاں پہنچ کر بیٹے کے منہ سے چیخ نکل گئی‘
باپ نے اس کے ہاتھ سے خط لیا اور اونچی آواز میں پڑھنا شروع کر دیا ”آپ پلیز میرے بعد اپنا خیال رکھئے گا‘ سارے تولئے الماری میں رکھے ہیں‘ میں درزی کو پانچ سال کے کپڑے دے آئی ہوں‘ وہ سال میں دس جوڑے سی کر دے جائے گا‘ آپ نے وہ سارے کپڑے پھٹنے گھسنے تک پہننے ہیں‘ دانت چیک کراتے رہا کریں اور صبح کی سیر کبھی نہیں بھولنی اور آخری بات چڑیوں کو روز دانا ڈالنا ہے اور میری بلیوں کا ہمیشہ خیال رکھنا !!..........😢😭😭😭😭

💟💔💘
Adhori Mohabbat.

مرکز مصطفی میں نئے تعلیمی سال کا آغاز الشھادة العالمیہ سال اول کے طلباء امیرِ ادارہ کے ساتھ
25/07/2018

مرکز مصطفی میں نئے تعلیمی سال کا آغاز

الشھادة العالمیہ سال اول کے طلباء امیرِ ادارہ کے ساتھ

ہم گیت انہیں کے گاتے ہیںہم صدقہ جن کا کھاتے ہیںلبیک لبیک یارسول اللہﷺ
05/07/2018

ہم گیت انہیں کے گاتے ہیں
ہم صدقہ جن کا کھاتے ہیں
لبیک لبیک یارسول اللہﷺ

معراج میں جبریل سے کہنے لگے شاہ امم ﷺتم نے دیکھے ہیں جہاں بتلاؤ تو کیسے ہیں ہمﷺتو کہنے لگے روح الامیں تیریﷺ قسم اے مہ جب...
13/04/2018

معراج میں جبریل سے کہنے لگے شاہ امم ﷺ
تم نے دیکھے ہیں جہاں بتلاؤ تو کیسے ہیں ہمﷺ
تو کہنے لگے روح الامیں تیریﷺ قسم اے مہ جبیںﷺ

تو شاہ خوباں تو جان جاناں،
ہے چہرہ ام الکتاب تیرا
نہ بن سکے گی نہ بن سکے گا،
مثال تیری جواب تیرا

تو سب سے اول تو سب سے آخر،
ملا ہے حسن دوام تجهکو
ہے عمر لاکهوں برس کی تیری،
مگر ہے تازہ شباب تیرا

خدا کی غیرت نے ڈال رکهے ہیں،
تجھ پہ ستر ہزار پردے
جہاں میں بن جاتے طور لاکهوں،
جو اک بهی اٹهتا حجاب تیرا

بنا ہے تو لا جواب آقا،
کہاں سے لائوں جواب تیرا
ہے کس میں طاقت کہ تجهکو دیکهے،
جو ہو نہ رخ پہ حجاب تیرا

مشک و عنبر کے بوئے جنت،
نظر میں اسکی ہیں بے حقیقت
ملا ہے جس کو ملا ہے جس نے،
پسینہ رشک گلاب تیرا

میں تیرے حسن بیاں کے صدقے،
میں تیری شیریں بیاں کے صدقے
جو رنگ و خوشبو دلوں میں اتری،
ہے کتنا دلکش کلام تیرا

ہے کتنا خلق عظیم تیرا،
ہے کتنا لطف امیم تیرا
ہوا نہ جا کے دشمنوں پہ،
شاہ دو عالم عتاب تیرا

ارے تو شاھد عجیب انساں،
جو روز محشر سے ہے پریشاں
ارے تو جن کی ہے نعت پڑهتا،
وہی تولیں گے حساب تیرا

صلی اللّہ تعالٰی علیہ والہ وبارک وسلم

Address

Jamiya Masjid Gulzar-E-Habib
Larkana Lines

Telephone

923337571461

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Masjid Gulzar -e-Habib posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Jamia Masjid Gulzar -e-Habib:

Shortcuts

Share

Category